87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 87:1–7

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

اپنے رب کے نام کی جو سب سے اعلیٰ ہے تسبیح کیا کر۔

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

اس کی کہ جس نے انسان کو پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

اور اس کی کہ جس نے انسان کا اندازہ کیا پھر راہ دکھائی

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور اس کی کہ جس نے چارہ نکالا

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر اس کو کالا کوڑا کردیا

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

(اے انسان ! ) تجھے ہم ابھی پڑھاتے ہیں پھر تو نہیں بھولے گا

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

مگر جتنا کہ اللہ چاہے وہ تو کھلی اور چھپی (سب باتوں) کو جانتا ہے۔

ترکیب ¦ الاعلیٰ صفۃ ربک الذین الجملۃ صفۃ اخریٰ للرب والذی صفۃ اخریٰ او معطوف علی الموصول الذی قبلہ قدر قریٔ مخففۃ ومثقلا والذی اخرج صفۃ اخریٰ فجعلہ غثاء فی القاموس الغثاء والقماش والزید والھالک البالی من ورق الشجر قال قتادہ الغثاء الیابس احویٰ اسود ماخوذ من الحوۃ وھی سواد یضرب الی الخضرۃ فے القاموس الحوۃ سواد الی خضرۃ او حمرۃ الی السوا وحوی کر ضی وفی الصحاح الحوۃ بالضم حمرۃ الشفۃ قال ابن عباس غثا ھشیما احوی متغیر افل اتنسی قیل نفی وقیل نھی والالف للاشباع الا استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای لاتنس لیٰ مماک علمک اللہ شیئاً من الاشیاء الاماشاء اللہ ان تنساہ قال الفراء ولم یشاء اللہ ان ینسی نبیہ محمد ﷺ شیئا فھو کقولہ خالدین فیھا مادامت السماوات والارض الا ماشاء ربک انہ یعلم الخ تعلیل لما قبلہ۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں انیس آیات ہیں۔ ابن عباس وابن الزبیر و عائشہ ؓ بھی یہی فرماتے تھے۔ امام احمد و بزار و ابن مردویہ نے حضرت علی کرم اللہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ اس سورة کو بہت محبوب رکھتے تھے (کیونکہ اس میں بہت سے علوم اور خیرات ہیں) امام مسلم و امام احمد و اہل سنن نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین اور جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور ہل اتاک حدیث الغاشیہ پڑھا کرتے تھے اور مسلم وغیرہ نے جابربن سمرہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ ظہر میں سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھتے تھے۔ ابو دائود نسانی و ابن ماجہ نے ابی بن کعب سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور دوسری میں قل یا ایھا الکافرون اور تیسری میں قل ہو اللہ احد پڑھا کرتے تھے۔ مناسبت اس سورة کی سورة طارق سے بہت سے مضامین میں ہے۔ از انجملہ یہ کہ سورة طارق میں انسان اور اس کے بعد دیگر مخلوق کی آفرنیش بیان کی تھی کہ انسان قطرہ منی سے اور نباتات آسمانی پانی سے اس کی قدرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس سورة میں انتہائِ بیان ہے کہ آخرکار مرجھا جاتے اور چورا چورا ہو کر ہوائوں میں اڑتے پھرتے ہیں۔ پائوں میں آتے خاک میں مل جاتے ہیں وجود ناسوتی میں ایک جلوہ دکھا کر چلے گئے۔ شان نزول : شان نزول اس سورة کا مفسرین نے یوں بیان کیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ پر بڑی بڑی سورتیں نازل ہونی شروع ہوئیں اور جانب غیب سے بیشمار علوم و معارف کا فیضان ہونا شروع ہوا تو آپ کے دل میں یہ خیال گزرا کہ میں خود لکھا پڑھا نہیں۔ مبادا ان میں سے کوئی چیز بھول جائوں اس لیے اس سورة میں حق سبحانہ آپ کی تسلی کرتا ہے کہ آپ نہیں بھولیں گے۔ واضح ہو کہ قرآن مجید کی ہر ایک سورة بمنزلہ ایک کتاب کے ہے۔ ہر ایک میں علوم و معارف انسانی سعادت کی رہنمائی کرنے میں کافی و شافی ہیں۔ تکمیل انسان کے لیے ان چند علوم کی اشد ضرورت ہے۔ (1) مبدء و معاد کی کہ ہر عاقل کو یہ غور کرنا چاہیے کہ یہ مخلوق کس نے بنائی اور اس میں کیا کیا کاریگری کی۔ اگر کسی درخت یا جڑی بوٹی کو بغور ملاحظہ کیجئے گا تو اس کو معرفتِ الٰہی کا ایک دفتر پائے گا۔ جب یہ خیال ہوگا کہ اس کی ابتداء کیا تھی ؟ ایک تخم خشک پھر زمین میں جا کر آسمانی پانی نے اس کی ان قوتوں کو جو مبدئِ فیاض نے اس میں ودیعت رکھی تھیں کس طرح سے ابھارا اور پھر اس میں ایک تند نکلا اور نکل کر میدان وجود کو طے کرتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچا۔ پتے ہیں تو ایک سانچے میں ڈھلے ہوئے اور پھول ہیں تو اپنے رنگوں اور صورت میں کس کاریگری کے ساتھ اور پھر ہر شاخ کا نشوونما ہے تو کس انداز کے ساتھ اور پھر اس تدریجی ترقی میں اس کے لیے کیا کیا سامان مہیا کئے جاتے ہیں اور پھر ہر ایک چیز میں ایک جدی خاصیت رکھی گئی ہے اور اس کی غذا حاصل کرنے اور توالد و تناسل کے جو قاعدے مقرر کر رکھے ہیں۔ ان میں غور کرنے سے اور بھی حیرت پیدا ہوتی ہے۔ پھر اگر انسان اپنے حالات میں غور کرے کہ میں کس طرح سے پیدا ہوا اور میری بناوٹ میں کیا کیا خوبصورتی کی شانیں نمایاں کی ہیں اور مجھ میں کیا کیا قوتیں ودیعت رکھی ہیں اور میں بےاختیار کیونکر جسمانی ترقی کرتا جاتا ہوں تو حیران رہ جائے اور بےاختیار کہہ بیٹھے سبحان ربی الاعلیٰ اور جب اس کتاب وجود کے ان اوراق کا مطالعہ کرکے اس کے اخیر باب پر پہنچے کہ اخیر اس کا کیا ہوتا ہے اور کیونکر تدریجاً فنا کے گڑھے میں گر جاتا ہے تو روح انسانی کو ضرور اپنے خالق و مربی کے ساتھ دلبستگی کرنے کا ولولہ اٹھتا 1 ؎ ہے اور یہ تمام دنیاوی زرق برق جس کی ہستی حباب کی بقاء سے مشابہ ہے بیقدر ہوجاتی ہے۔ اس لیے اس دوم (2) علم کی طرف مشتاق ہوتا ہے کہ میں اپنے ایسے خالق ومالک و مربی سے کہ جس کو نہ میری دنیاوی آنکھیں دیکھ سکتی ہیں ‘ نہ ہاتھ ٹٹول سکتے ہیں نہ کان سن سکتے ہیں ‘ نہ زبان چکھ سکتی ہے ‘ نہ ناک سونگھ سکتی ہے کیونکر پہچانوں اور کس طرح سے تقرب حاصل کروں تاکہ میں اس جسم کے لباس چھوڑنے کے بعد اس کے جلال کبریائی میں جگہ پائوں اور اس کی تجلی سے متجلی ہو کر عالم بالا کے لوگوں میں مل جائوں اور یہی انسان کی تکمیل اور یہی اس کی سعادت اور یہی اس کے اس سفر کا نتیجہ ہے۔ حق سبحانہ اس سورة میں ان دونوں علوم کو منکشف کرتا ہے مگر چونکہ دوسرا علم مقصود اصلی ہے اس لیے اول اسی کی رہنمائی کرتا ہے اور بعد میں دوسرے علم کی طرف مشتاق کرتا ہے فقال سبح اسم ربک الاعلٰی کہ اپنے رب بالاتر کے نام کی تسبیح کیا کر یعنی اس تک تیرے تقرب کا یہی ذریعہ ہے اور وہ کون ہے تیرا رب۔ اور رب بھی اعلیٰ یعنی اس ظلمت کدہ اور خاکدان پست میں جو تو نے آنکھ کھول کر ہماری مخلوق ہی کو دیکھا ہے اور اسی کے حالات کا تجھے مشاہدہ ہوا ہے اور ان سے تو نے ہم کو سمجھا ہے کہ آخر ان کو کوئی بنانے والا ہے۔ اس سے تو ہم کو مخلوق پر قیاس نہ کرلینا ہمارے لیے جسم اور توالد و تناسل اور تغذیہ اور خواب اور تدریجاً ترقی اور پھر تنزل اور بیچ میں بیماری وضعف اور اپنی سی شکل و صورت اور اپنے سے اسباب معیشت میں محتاجگی ‘ مکان لباس کھانے پینے وغیرہ امور میں نہ سمجھ ہم ان سب باتوں سے پاک اور منزہ ہیں۔ یہ ہے تسبیح مگر اس سمجھنے پر آمادہ کرنے والا لفظ سبحان اللہ وبحمدہ۔ یا سبحان ربی الاعلیٰ وغیرہ کہنا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تو سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھے تو کہہ سبحان ربی الاعلیٰ (رواہ عبد بن حمید) اور ابو دائود و ابن ماجہ و احمد نے روایت کی ہے کہ جب سبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کو رکوع میں کہا کرو اور جب سبح باسم ربک الاعلٰی نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس کو سجدہ میں کہا کرو یعنی رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرو۔ تسبیح کے معنی ¦ علماء نے فرمایا ہے کہ تسبیح کے معنی ہیں۔ خدا تعالیٰ کو جمیع عیوب اور نقصانوں سے مبرا اور منزہ سمجھنا ‘ اس کی ذات اور صفات اور افعال کو سب نقصانوں سے بری اور پاک جاننا اور منہ سے کہنا تسبیح ہے اور لفظ اسم کے لانے میں یہ حکمت ہے کہ اس کی ذات تک رسائی نہیں صرف اسم تک ہے یعنی آثار وصفات سے اس کو جانتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں لفظ اسم محض عظمت شان کے لیے ہے ورنہ مراد تسبیح اس کی ذات کی ہے۔ بعض فرماتے ہیں اس کے اسم کی تسبیح یہ ہے کہ اس کا نام بےحرمتی سے نہ لے۔ نہ جنابت اور ناپاک جگہ میں پڑھے نہ برے کام پر اور لفظ ربک میں اس بات کا اظہار ہے کہ وہی تسبیح کا مستحق ہے کیونکہ وہ تیری وقتاً فوقتاً پرورش کیا کرتا ہے۔ نطفہ سے لے کر اخیر تک وہی تو تیرا مربی و محسن ہے اور لفظ اعلیٰ میں یہ بات بتلا دی کہ دنیا کے مربی درحقیقت مربی نہیں بلکہ وسائل ہیں جیسا کہ ماں باپ ‘ آقا ‘ بادشاہ ولی النعمۃ کیونکہ یہ اسی کی پیدا کی ہوئی نعمتوں کو دیتے ہیں گو اس لیے وہ بھی قابل شکر گزاری ہیں مگر رب اعلیٰ وہی ہے اور نیز لفظ اعلیٰ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ سب خیالات و توہمات کے احاطہ سے بالاتر ہے۔ اس لیے تسبیح کا مستحق ہے اور یہ بھی کہ وہ سب سے بالادست ہے سب کا حاکم ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر وہی تسبیح و تقدیس کا سزاوار ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تسبیح کرنے سے انسان پر بھی اس تنزیہ و تقدیس کا اثر پڑا کر یہ آلائشِ جسمانی سے پاک و صاف ہو کر اس قابل ہوجاتا ہے کہ عالم بالا میں شامل ہو۔ 1 ؎ یعنی جو معشوق اس پردہ میں یہ کاری گریاں کر کے اپنا جلوہ دکھا رہا ہے اس کا شوق اور اس سے ملنے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ فائدہ : خدا پاک کی ستائش میں صفات حمدیہ کا اثبات ہوتا ہے اور تسبیح میں صفات رذیلہ سے جو اس کی شان کے منافی ہیں تنزیہ اور تبری ہوتی ہے یعنی دور کرنا چونکہ ثابت کرنا جس کو تحمید کہتے ہیں۔ بعد کا مرتبہ ہے اس لیے اول تسبیح کا حکم دیا بعد میں اس کے صفات حمیدہ ذکر کرنے کا اور اسی لیے آنحضرت ﷺ نے دونوں کو ملانے کا ارشاد فرمایا ہے۔ سبحان اللہ بحمدہ کہنا موجب ثواب و اجر عظیم قرار دیا۔ تسبیح کے انوار منعکس ہو کر تسبیح کرنے والے کی روح پر پڑتے ہیں اور پھر اس کی روح میں نورانیت ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اس اول علم کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کو علم مبدء کہتے ہیں کیونکہ جب اس کی ذات وصفات و تقدیس کا علم اور اس کے انوار اس پر تو فگن ہوجاویں گے تو مخلوق کے پیدا کرنے کے اسرارخوب سمجھ سکے گا۔ فقال (1) الذی خلق فسویٰ ۔ اس کی تسبیح و تقدیس کر کہ جس نے مخلوق کو پیدا کیا اور پیدا کرکے یوں ہی اینڈ اور بیکار اور بیڈول نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کو ٹھیک اور درست بھی کیا جس کے لیے جس عضو اور جس قوت اور صورت کی حاجت تھی وہی عطا کی۔ ہر ایک مخلوق میں اگر نظر کیجئے گا انسان سے لے کر حیوانات اور نباتات و جمادات بلکہ علویات تک جس میں چاند اور سورج اور ستارے بھی شامل ہیں تو جلد اقرار کرلیجئے گا کہ اس کی بناوٹ ایسی ہونی چاہیے تھی اور اگر اس میں ذرا بھی فرق ہوتا تو خوبصورتی بگڑ جاتی اور اس کے افعال میں فرق آجاتا۔ پرندوں کو پر دیے ٗدرندوں کو ناخن اور کچلیاں عطا کیں ٗدرختوں کو پوست کا لباس پہنایا۔ پھر ہر ایک کے جسم کی بناوٹ میں ہر ہڈی اور ہر پٹھا کس موقع سے رکھا ہے کہ عقل حیران ہوتی ہے۔ (2) والذی قدر فہدیٰ ۔ اس کی کہ جس نے پیدا اور ٹھیک کرکے اندازہ کیا یعنی اس کے قویٰ اور اس کے افعال اور عمر سب چیزوں کا علم الٰہی نے اندازہ کرلیا تاکہ اس کی حد تک اس کی کسی بات اور بناوٹ میں فرق نہ آوے مثلاً یہ اندازہ کرلیا تھا کہ یہ حیوان تمام عمر میں اس قدر کھائے گا اور اتنے دنوں جئے گا تو اس کے معدہ میں اتنے ہی ایام تک اتنی غذا ہضم کرنے کی قوت عطا کی اور معلوم کرلیا تھا کہ اتنی حرکت کرے گا تو اسکے پائوں میں اسی قدر قوت عطا کی اور اگر یہ اندازہ نہ ہوتا تو بڑی خرابی واقع ہوتی۔ مثلاً چراغ جلانا صبح تک مقصود ہو اور تیل تھوڑا ڈال دیا جاوے تو قبل الوقت گل ہوجائے اور زیادہ ڈال دیا جاوے تو بیکار جاوے اور جس اندازہ کی روشنی درکار تھی اس سے بڑھ جاوے اور نیز اس اندازہ کرنے میں اس کی شان ربوبیت بھی نمایاں ہے۔ بعض قراء نے قدر کو بغیر تشدید کے پڑھا ہے جس کے معنی ہیں کہ اس کو قادر کیا یعنی اس کے مناسب افعال و حرکات کی اس میں قدرت بھی رکھی اور قدرت ہی پر بس نہ کیا بلکہ فہدیٰ اس کو رہنمائی بھی کی۔ انسان کو اس کے معاش کے اسباب حاصل کرنے کے علوم عطا ہوئے۔ پرندوں کو گرمی سردی میں گھر بنانے کی ہدایت کی۔ حشرات الا رض کو زمین کے اندر سوراخوں میں رہنے کی ہدایت کی۔ چیونٹی ایک چھوٹا سا جانور ہے۔ اگر آپ اس کی ہدایتِ الٰہی کو دیکھیں تو حیرت میں رہ جائیں۔ کس ترکیب سے خورش کی چیزیں لاتی ہے اور باہم کس موقع سے قطار باندھ کر چلتی ہیں۔ انسان کو تو وہ وہ چیزیں بتائیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے جس سے ریل گاڑی ‘ تار برقی اور طرح طرح کی کلیں اور کہربائی قوتیں ایجاد کیں اور علوم آخرت بھی ہدایت کئے۔ اس کے لیے حضرات انبیاء (علیہم السلام) بھیجے۔ اس ہدایتِ الٰہی کی شرح کی جائے تو ایک دفتر میں بھی نہ آئے۔ اب یہاں تک تو اس کے وجود اور مایناسبہ کا بیان تھا۔ اب فنا کی بھی سن لیجئے (3) والذی اخرج المرعیٰ فجعلہ غثا احٰوی اس کی تسبیح کر کہ جس نے زمین سے چارہ نکالا یعنی گھانس پھر دیکھئے وہ کیسی لہلہاتی اور دل لبھاتی ہے۔ پھر چند روز کے بعد وہ زرد پڑجاتی ہے اور کٹ کر ٹوٹ جاتی ہے اور کوڑا ہوجاتی ہے اور کوڑے کے بعد سیاہی نما مٹی ہوجاتی ہے یا کہو کوڑے پنے ہی میں اس پر تیرگی آجاتی ہے۔ اس میں مخلوق خصوص حضرت انسان کی انتہا کی طرف کس عمدہ پیرایہ میں اشارہ ہے کہ جس سے غور کرنے والے کے دل پر چوٹ لگتی ہے۔ اب یہاں سے موت اور موت کے بعد کا حال بیان ہوتا ہے۔ فقال سنقرئک 1 ؎ فلا تنسیٰ کہ مرنے کے بعد تیرے نامہ اعمال کو ہم تجھ سے پڑھوائیں گے۔ گو تو اے انسان اب اس کو نہیں پڑھ سکتا۔ جیسا کہ ایک جگہ فرمایا ہے اقرا کتابک کہ ہم کہیں گے پڑھ اپنی کتاب اور اس وقت تو اپنے اعمال نیک و بد میں سے کچھ بھی نہ بھولے گا۔ سب تیرے یاد آجاویں گے۔ الا ماشاء اللہ مگر وہ کہ جن کو اللہ چاہے گا یاد نہ آئیں گے اور وہ نیکوں کے بعض برے کام اور ان کی شرمندگی کے اسباب ہیں جو دنیا میں ان سے سرزد ہوگئے تھے اور پھر انہوں نے توبہ و استغفار ‘ گریہ وزاری کے پانی سے مٹا ڈالے تھے ان کو خدائے پاک وہاں بھی یاد نہ دلائے گا تاکہ ان کی شرمندگی اور رنج کا باعث نہ ہوں۔ خصوصاً حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی لغزشیں یا وہ خفیف باتیں جو انسان سے بمقتضائے بشریت سرزد ہوجاتی ہیں۔ یہ مرنے کے بعد خصوص قیامت میں ایک حضور علمی کا مرتبہ ارواح کو حاصل ہوتا ہے۔ کس لیے کہ سہو و نسیان دنیا میں بسبب جسم کے ہے اور ہم یہ تمام باتیں کیوں یاد دلائیں گے انہ یعلم الجہرو ما یخفٰی اس لیے کہ اللہ کو کھلی اور چھپی بات معلوم ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ اب جو کچھ کرو ہوشیاری سے کرو اور جان لو کہ اس کو ایک روز ہمارا رب ہمیں جتلائے گا اور ہمارے دفتر اعمال کو ہم سے پڑھوائے گا۔ ان آیات سنقرئک الخ کی تفسیر میں بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب جبرئیل وحی لاتے تو آپ اس خوف سے کہ کہیں کچھ بھول نہ جائوں جبرئیل کے ساتھ ساتھ جلد جلد پڑھتے جاتے اور یہ آپ کے لیے بڑی مشقت تھی۔ اس مشقت کے دور کرنے کو یہ آیات نازل فرمائیں کہ آپ بھول جانے کے اندیشہ کو دل سے نکال دیجئے۔ اس کا یاد کرانا ہمارا کام ہے۔ آپ نہیں بھولیں گے۔ الا ماشاء اللہ مگر جس قدر خدا چاہے کہ بشریت سے آپ کو نسیان و سہو ہوجائے نہ یہ کہ بالکل ذہول ہوجاوے۔ 2 ؎ اور ایسا ہوتا تھا۔ چناچہ نماز میں ایک بار آنحضرت ﷺ ایک آیت پڑھنی بھول گئے۔ نماز کے بعد آپ نے پوچھا کیا میں کوئی آیت چھوڑ گیا ؟ ابی بن کعب نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ﷺ ! آپ فلاں آیت چھوڑ گئے۔ بعض فرماتے ہیں الا ما شاء اللہ تبرکاً فرما دیا گیا تاکہ معلوم رہے کہ بھلا دینا حق سبحانہ کے اختیار میں ہے ورنہ بھولا یا آپ کو کچھ بھی نہیں۔ یہ فرا کا قول ہے۔ انہ یعلم الجہر کیونکہ وہ تیرے موجودہ کمالات کو جانتا ہے۔ وما یخفیٰ اور جو تیرے اندر استعداد کامل رکھی ہے اس کو بھی جانتا ہے تو اس قابل ہے کہ حق سبحانہ تیرے ذہن کو عالم غیب کا آئینہ یا خزانہ کر دے۔ چناچہ ایسا ہی کردیا پھر قرآن مجید میں سے ایک حرف بھی آپ نہ بھولے تھے اور آپ کی برکت سے بہت سے صحابہ بھی قرآن مجید کے حافظ تھے اور امتوں کی طرح کتاب آسمانی کا کتابت پر انحصار نہ تھا بلکہ تمام قرآن ان پاک بازوں کے سینوں پر لکھا ہوا نہیں بلکہ کھدا ہوا تھا اور ان کی یہ برکت اب تک امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں مستمر چلی آتی ہے۔ خصوصاً اس گروہ میں جو ان کے قدم بقدم ہے۔ ہر گائوں اور ہر شہر میں حفاظ موجود ہیں یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے لڑکے اور عورتیں بھی تمام قرآن مجید کے حافظ ہیں۔ اگر خدانخواستہ تمام دنیا میں ایک نسخہ بھی قرآن مجید کا باقی نہ رہے تو ایک گائوں میں ایک لڑکا سب قرآن کو لکھوا دے اور ایک لفظ اور حرف بلکہ زیر و زبر کا بھی فرق نہ آنے پاوے فلا تنسٰی کی بشارت کیسی جلوہ گر ہو رہی ہے۔ بھلا کوئی دوسری قوم تو اپنی کتاب کا ایک ہی حافظ دکھا دے نہ کوئی وید کا حافظ سننے میں آیا نہ انجیل کا نہ توریت کا نہ زبور کا۔ 1 ؎ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جو خدا پاک کی تسبیح و تہلیل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح پرانوار قدس فائض ہونے لگتے ہیں تو ملہم غیب اس کے دل کو علوم و معارف کا چشمہ کردیتا ہے۔ اس کو اس حال میں وہی پڑ ھاتا ہے۔ اس صفت میں اول درجہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) ہیں پھر اولیا کرام۔ 12 منہ 2 ؎ اس سے یہ سمجھ لینا کہ پیغمبر (علیہ السلام) قرآن کی بعض آیات بھول گئے تھے یا خدا نے بھلوا دی تھیں ایک غلط خیال ہے جس کی بنا پر اخبار احاد وغیرصحیحہ اور غلط فہمی پر ہے۔ 12 منہ
Ayahs 87:8–13

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور ہم تیرے لیے آسان بات کو سہل کردیں گے۔

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

پس سمجھاتے رہو اگر فائدہ سمجھنانا بخشے

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

جو خدا ترس ہوگا وہ تو جلد سمجھ جاوے گا

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور اس نصیحت سے بدبخت ہی تو (الگ ہی) ہٹا رہے گا۔

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

وہ جو بڑی آگ میں پڑے گا

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا

ترکیب ¦ ونیسرک معطوف علی سنقرئک وقولہ انہ یعلم الجہر وما یخفٰی اعتراض ای سنقرئک فلا تنسٰی ونو فقک للطریقۃ التیھی اسہل والیسران شرطیۃ نفعت الذکریٰ شرط وقولہ فذکر یدل علی الجزاء الذی یصلی الخ صفۃ الاشقیٰ ثم لایموت عطف علی یصلی وذکر عطف علی تزکی وفصلی عطف علی ذکر۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا سبح اسم ربک الاعلیٰ کہ اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح بیان کر اور اب اس تسبیح کے ثمرات بیان فرماتا ہے۔ فقال ونیسرک للیسریٰ کہ ہم تیرے لیے نجات کے رستے کو آسان کردیں گے۔ نجات کو یسریٰ یوں کہا کہ وہ کوئی درحقیقت مشکل اور محال بات نہیں جیسا کہ مذاہب باطلہ میں ہے کہ کوئی بتوں پر اپنی اولاد کی قربانی کو نجات کا سبب جانتا ہے۔ کوئی آگ میں جل مرنے کو ‘ کوئی دریا میں ڈوب مرنے کو ‘ کوئی عمر بھر بھوکا پیاسا مرنے کو ‘ کوئی لنگوٹی باندھ کر فقیر بنے اور بھیک مانگتے پھرنے کو نجات جانتا تھا۔ اس لفظ یسریٰ میں اشارہ کردیا کہ یہ سب خیال باطل ہیں ٗ نجات کچھ مشکل نہیں صرف خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے ہے مگر یہ بھی ہر ایک کے لیے آسان نہیں گو فی نفسہا آسان ہے یہی پنجگانہ نماز ہے کہ جس میں کچھ بھی دقت نہیں۔ وضو نہ کرسکے تو تیمم کرلے ‘ کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے مگر بعض طبائع پر یہ پہاڑ سے زیادہ بھاری ہے۔ زنا سے بچنا کچھ مشکل کام نہیں ٗ ایک عورت دل پسند سے نکاح کرکے قضائے حاجت کرسکتا ہے۔ اگر اس پر بھی بس نہیں تو دو کرلے اور اس پر بھی بس نہیں تو تین اور بہت ہی ضرورت پڑے تو چار سہی پھر جس کی تقدیر کھوٹی ہے وہ سو پر بھی بس نہیں کرتا اور اس کو حلال میں لذت نہیں آتی۔ ایک بدکار عورت یا مرد سے اگر کہا جاوے کہ تم اپنا یہ تعلق قائم رکھو مگر نکاح کرلو تو وہ ہرگز نہیں کریں گے ٗ یوں عمر بھر جھک ماریں گے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ لیکن خدا کی تسبیح و تقدیس کے انوار سے جب روح منور ہوتی ہے تو قوائے بہیمیہ پست ہوجاتے ہیں۔ اس وقت روح کا تقاضا نیک کاموں پر ہوتا ہے اور بڑی آسانی سے کرنے لگتا ہے اور وہ نیک کام اس کے نزدیک ایسے آسان ہوجاتے ہیں جیسا کہ ظلمانی کے نزدیک بدکام آسان ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کل میسر لما خلق لہ امامن کان من اہل السعادۃ فسیسر لعمل السعادۃ واما من کان من اہل الشقاوۃ فسیسر لعمل الشقاوۃ الحدیث (متفق علیہ) کہ جو جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو وہی آسان کردیا جاتا ہے۔ پھر جو اہل سعادت ہے اس کے لیے سعادت کے کام آسان کردیے جاتے ہیں اور جو اہل شقاوۃ ہے اس کے لیے بدبختی کے کام آسان کردیے جاتے ہیں۔ اب اس میں آنحضرت ﷺ کو مژدہ ہے کہ معرفت عبادت ‘ سیاست ‘ حسن اخلاق ‘ صبر وغیرہ کے لیے آپ کے دل کو منبع کردیا جاوے گا۔ اس سے ایک فوارہ جوش کرے گا جس سے یہ سب کام آپ کے نزدیک بہت آسان ہوجاویں گے۔ اس لیے آپ کو کسی معلم اور استاد اور لکھنے پڑھنے کی طرف حاجت نہ پڑے گی اور نہ کوئی مشقت اٹھانی پڑے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر جب آپ خود کامل ہوگئے اور نیک کاموں کا ملکہ راسخہ آپ کے دل میں پیدا ہوگیا تو فذکر لوگوں کو سمجھا اور ان کو سدھار۔ درحقیقت اسی کے وعظ و پند کا اثر بھی ہوتا ہے کہ جس کے دل میں خود ان باتوں کا ملکہ راسخہ ہوتا ہے اور اس کے قلب سے ایک سچا جوش اٹھ کر موج زن ہوتا ہے ورنہ خالی بک بک اور اسپیچ کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی۔ کیا خوب کہا ہے عارف جامی نے ؎ گرز عشقت خبرے ہست بگو اے واعظ ورنہ خاموش کہ ایں شور و فغاں چیزے نیست مگر یہ تذکیر ایک دُرّ ِبے بہا ہے۔ خنزیر اور کتا اس لائق نہیں کہ اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے بلکہ جو اس کا اہل ہو اور جس کو سمجھتے ہو کہ وہ اس سے فائدہ مند ہوگا اس لیے اس کے بعد فرما دیا کہ ان نفعت الذکریٰ کہ اگر آپ یہ سمجھیں کہ ذکر نفع دے گا۔ شبہ ¦ آنحضرت ﷺ پر فرض تھا کہ سب کو نصیحت کریں خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس کو نفع ہو یا نہ ہو کس لیے کہ آپ تمام خلق کے لیے ہادی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ پھر یہ قید کیوں لگائی کہ اگر ذکر نفع دے تو تذکیر کرو ؟ جواب ¦ تبلیغ اور تذکیر میں فرق ہے ٗ تبلیغ عام ہے وہ ایک حکم کا پہنچا دینا ہے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ جو نہ مانے اس پر حجت تمام ہوجاوے گی اور رہی تذکیر جس کے معنی ہیں یاد دلانا یا سمجھانا۔ وہ یہ ہے کہ یہ شخص پہلے جانتا تھا اس کی فطرت میں یہ باتیں تھیں علائق و موانع سے بھول گیا تھا۔ اب اس کو مذکر یاد دلاتا ہے گرچہ حق سبحانہ کو علم ازلی سے معلوم ہے کہ فلاں کو تذکیر فائدہ دے گی۔ یہ ازلی سعادت مند ہے۔ عارضی گمراہی اس پر طاری ہوگئی ہے۔ فلاں کو فائدہ نہ دے گی کس لیے کہ یہ ازلی گمراہ ہے مگر رسول کریم ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ آپ اپنے علم و قرائن سے جس کے لیے تذکیر کو مفید دیکھیں تو تذکیر کریں ورنہ ابلاغ و انذار تو سب ہی کے لیے ہے۔ بعض علماء نے اس شبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ اصلی عبارت یوں ہے ان نفعت الذکریٰ اولم تنفع کہ خواہ فائدہ دے یا نہ دے آپ سمجھاویں گے مگر دوسرے جزء کو حذف کردیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ مقصود اصلی نفع ہی دینا ہے اور بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ کسی شے کو کسی چیز پر معلق کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جب شے کہ جس پر معلق کیا ہے نہ ہو تو یہ بھی نہ ہو ممکن ہے کہ ایک شے کے چند اسباب ہوں۔ ہر ایک کے پائے جانے سے یہ شے پائی جائے اور ان میں سے ایک کے وجود پر معلق کی جائے اور یہ نہیں کہ جب یہ نہ ہو تو یہ شے نہ ہو کس لیے کہ اس وقت دوسرا سبب پایا جاوے۔ بعض نے جواب دیا ہے کہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے کہ کسی کام کو کسی فائدہ سے اور مقصود اعلیٰ سے معلق کردیتے ہیں جب کسی حکیم کو کہا جاوے کہ آپ علاج کیجئے اگر علاج سے شفا ہوتے دیکھیں اور صورت یہ ہے کہ علاج ہر حال میں کر انامقصود ہے۔ اب یہ بیان فرمایا جاتا ہے کہ تذکیر کسی کو نفع دے گی اور کون اس کے اثر سے محروم رہے گا۔ فقال سیذکر من یخشیٰ کہ اس وعظ و تذکیر سے وہ بہت جلد سدھر جاوے کہ جو ڈرتا ہوگا۔ واضح ہو کہ تین قسم کے آدمی ہیں ایک وہ جو دار آخرت اور اعمال کی جزاء و سزا کے قائل ہیں۔ دوم وہ کہ جو نہ قائل ہیں نہ منکر ہیں بلکہ مترددو شکی ہیں۔ یہ دونوں قسم کے لوگ ڈر جاتے ہیں۔ اول قسم کے تو خوب ہی ڈرتے ہیں اور قسم دوم کے بھی جبکہ ان کے سامنے عذاب آخرت کی تصویر کھڑی کردی جاتی ہے تو وہ بھی ڈر جاتے ہیں۔ ان دونوں فرقوں کو اس میں شامل کرلیا گیا۔ تیسرا فریق وہ ہے جو منکر اور سخت معاند ہے ٗ ڈھٹائی کرتا ہے اس کی نسبت یوں فرماتا ہے۔ ویتجنبہا الاشقی کہ اس نصیحت یا نجات سے بدبخت اور بڑا شقی وہ ہے کہ جس کے اعمال خراب ہوں لیکن اعتقاد درست ہو اور اشقی وہ ہے کہ جس کے اعتقادات بھی خراب ہوں۔ پھر اگر یہ کسی رسم و عادت یا کسی کی تقلید سے ہیں تو یہ بھی سمجھانے سے سمجھ جاتا ہے اور اگر حق سے انکار کرنے کی مشاقی کرتے کرتے اور ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کرتے کرتے ایک ملکہ راسخہ پیدا کرلیا ہے تو یہ لا علاج ہے۔ اس کے حق میں آیا ہے لاینفع الایات والنذر اس جگہ اشقیٰ سے یہی مراد ہے۔ اس کا انجام بیان فرماتا ہے الذی یصلی النار الکبرٰی کہ وہ بڑی آگ میں پڑے گا اور دنیا کی آگ صغرٰی اور وہاں کی آگ کبریٰ ہے یعنی سخت سوزش والی اور پھر جہنم میں طبقات ہیں۔ ایک سے ایک بڑا۔ پس جو یہاں اشقٰی یعنی بڑا شقی ہے اس کے لیے وہاں آگ بھی بڑی ہے۔ یہی شقاوت آگ بن جاوے گی العیاذ باللہ پھر دنیا کے مصائب ناقابل برداشت سے موت رستگاری کردیتی ہے۔ اسی لیے ایک سخت مصائب میں لوگ موت کی آرزو کیا کرتے ہیں اور بعض خودکشی بھی کرلیتے ہیں مگر وہاں موت بھی نہیں جیسا کہ خبر دیتا ہے۔ ثم لایموت فیہا کہ پھر اس آگ میں موت بھی اس کو نہ آوے گی اور یہ اس لیے کہ اس عالم میں ارواح کے احکام بدن پر غالب ہوں گے۔ اس لیے جس طرح روح فنا پذیر نہ ہوگی ٗ ابدان بھی نہ ہوں گے۔ وہاں ایک چمڑی جل جانے کے بعد دوسری چمڑی تیار ہوجاوے گی کما قال بدلنا جلود لآیہ۔ ولا یحییٰ اور نہ زندگی ہی اچھی طرح سے ہوگی کس لیے کہ ہر وقت موت سے زیادہ تلخی چکھنی ہوگی اور ایسی بری زندگی کو عرف میں زندگی ہی نہیں کہتے۔ پہلے فرمایا تھا کہ ڈرنے والے اس نصیحت سے جلد سمجھ جاویں گے۔ اب اس سمجھنے کی تشریح اور اس کا نیک نتیجہ بیان فرماتا ہے۔ قدافلح من تزکٰی کہ تحقیق فلاح پائی اس نے کہ جو پاک بن گیا۔ پاکی عام ہے اول جسم کی پاکی نجاسات ظاہرہ گوہ موت وغیرہ سے اور نیز ناپاک کپڑوں سے عام ہے کہ وہ حقیقتاً ناپاک ہوں کہ ان پر نجاستیں لگی ہوں یا حکماً کہ مال حرام یا مشتبہ سے بنائے گئے ہوں یا نامشروع ہوں جیسا کہ مرد کے لیے ریشم اور زری گوٹا یا نیچا دامن اور فساق و بدکاروں کی وضع و تراش ہو اور نیز جسم کو حکمی نجاستوں سے بھی پاک کیا ہو۔ جنابت یا حدث اصغر سے غسل اور وضو کے ساتھ۔ کس لیے کہ جسم کی پاکی کو روح کی پاکیزگی میں بڑا دخل ہے۔ اس کے بعد روح کی پاکیزگی ہے اور یہی مقصد اصلی بھی ہے اور وہ روحانی نجاستیں کیا ہیں۔ اول کفر و شرک اور دیگر عقائدِ باطلہ مثلاً حق سبحانہ کی ذات یا کسی صفات کا انکار یا انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے ارشادات اور کتب سماویہ اور عالم آخرت اور ملائکہ کا انکار یا ان میں کوئی خیال باطل جیسا کہ گمراہ فرقوں کو ہوتا ہے۔ ان سب سے تزکیہ ایمان لانا اور عقائد حقہ کا دل پر نقش کرنا ہے اور یہ روحانی پاکی ہے۔ پھر افعال زشت اور اخلاقِ بد سے پاکی حاصل کرتا ہے۔ زنا ٗ چوری ٗ جھوٹ بولنا ٗ دغازی ٗ کینہ ‘ حسد ٗ طمعِ بےجا ٗ حب شہوات فاسدہ سے پاک کرنا ہے۔ جس کے لیے توبہ و استغفار اور ندامت اور آنکھوں کے آنسو بڑا عمدہ صابن ہیں نہ کسی حوض کا پانی جیسا کہ عیسائی سمجھتے ہیں۔ 1 ؎ اور نہ کسی دریا میں نہانا جیسا کہ ہنود خیال کرتے ہیں اور اتلاف حقوق کی نجاست سے بھی پاکی حاصل کرے۔ عام ہے کہ حقوق اللہ ہوں جیسا کہ اس کے فرائض و واجبات جن میں زکوٰۃِ اموال و صدقات بھی شامل ہیں یا حقوق العباد ہوں مگر ان سب باتوں سے صرف ناپاکی دور ہوتی ہے۔ ابھی تک کوئی نیا رنگ نہیں پیدا ہوتا اس لیے نئے رنگ پیدا کرنے کے لیے ان جملوں میں ارشاد فرماتا ہے وذکر اسم ربہ کہ اپنے رب کا نام لے عام ہے کہ ذکر قلبی ہو یا ذکر لسانی ہو ‘ سر ہو یا جہر بشرطیکہ شرعی اور مسنون طریقوں سے ہو۔ ذکرِ الٰہی سے روح پر ایک ایسی نورانیت پیدا ہوتی ہے جو کسی اور کام سے نہیں ہوتی اسی لیے ایک جگہ فرما دیا اذکروا اللہ ذکر اکثیر العلکم تفلحون۔ اب اس کے بعد ترقی ہوتی ہے۔ فقال فصلیٰ کہ پھر نماز پڑھے کس لیے کہ نماز میں روح اور جسم دونوں ذکر و فکر و مراقبہ میں ہوتے ہیں۔ بعض عرفا نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں تمام منازل سلوک کی طرف اشارہ ہے کس لیے کہ تزکی میں توبہ اور معاصی سے تصفیہ آگیا جو اول منزل ہے وذکر اسم ربہ میں ذکر قلبی و لسانی و روحی و سریٰ آگیا اور فصلّی میں مرتبہ مشاہدہ تک پہنچنا آگیا اور اسی لیے نماز کو معراج المومنین کہتے ہیں۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ تزکٰی میں طہارت کی طرف اور ذکر اسم ربہ میں تکبیر تحریمہ کی طرف اور فصلّٰی میں ادائے نماز کی طرف اشارہ ہے اور اسی لیے امام اعظم (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر کی جگہ الرحمن اعظم یا لا الٰہ الا اللہ یا سبحان اللہ بھی کہہ دے گا تو نماز ہوجاوے گی۔ کس لیے کہ ذکر میں یہ بھی شامل ہے۔ صرف لفظ اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرنے کی کوئی خصوصیت نہیں۔ نیز فصلّٰی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ تکبیر یا ذکر جو افتتاح نماز کے وقت ہو نماز میں داخل نہیں۔ افلح کے لفظ میں تعمیم ہے۔ دنیا کی فلاح اور آخرت کی فلاح سب آگئی۔ جنت اور دیدارِ الٰہی سب کو شامل ہے۔ 1 ؎ عیسائی بپٹسمہ یعنی حوض میں غوطہ لگانے چھڑکا دینے کو پاکی روحانی خیال کرتے ہیں۔ اسی طرح عامۃ ہنود گنگا جمنا دریائوں میں نہانا پاکی سمجھتے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 87:14–19

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

جس نے پاکیزگی حاصل کرلی

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام لیتا رہا (اور) نماز پڑھتا رہا اس نے فلاح پائی۔

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

بلکہ تم تو دنیا کی زندگی پسند کر رہے ہو

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

حالانکہ آخرت کا گھر بہتر اور سدا رہنے والا ہے۔

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

بیشک یہی بات تو اگلے صحیفوں میں بھی ہے۔

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں بھی۔

ترکیب ¦ بل اضراب عن کلام مقدر یدل علیہ السیاق ای انتم لا تفعلون ذلک بل تو ثرون اللذات الفانیۃ العاجلۃ الحاصلۃ فی الدنیا علی الدار الآخرۃ ونعماھا الباقیۃ والآخرۃ مبتداء خیر وابقی خبر والجملۃ حال من فاعل تو ثرون ‘ صحف ابراھیم اللخ بدل من الصحف الاولیٰ ۔ تفسیر ¦ کفار دنیا پرست کہتے تھے کہ ہم کو تزکیہ اور ذکر اور نماز میں کوئی فلاح نہیں معلوم ہوتی کیا ہم عقل و ادراک نہیں رکھتے اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے یا یوں کہو کہ وہ بھی تزکیہ کے مدعی تھے۔ ان کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے تمہیں عقل و ادراک کیا نہیں بل بلکہ تم تؤثرون الحیوۃ الدنیا دنیا کی چند روزہ زندگانی اور اس کے لذات فانیہ کو آخرت اور اس کے لذات باقیہ پر فوقیت دیتے ہو حالانکہ والآخرۃ خیرا ابقٰی وہ جہاں دنیا سے کہیں بہتر ہے کس لیے کہ دنیا کے گھر میں کونسی لذت ہے جس کے اول بھی تلخی نہ ہو۔ اور آخر بھی تلخی نہ ہو کون سی شادمانی ہے جس میں غم کا کانٹا نہ لگا ہو۔ اگر دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں اور دولتمندوں سے پوچھئے گا کہ تمہیں پوری مرادیں مل گئیں اب تو کوئی ارمان و ہوس باقی نہیں تو فوراً کہہ دیں گے ابھی بہت کچھ ارمان دل میں ہیں جو ابھی نہیں نکلے۔ پھر یہ کیسا کانٹا ہے جو ہر وقت کھٹکتا رہتا ہے اور اگر یہ پوچھئے کہ کوئی رنج و غم تو نہیں تو جھٹ بول اٹھیں گے کہ ہزاروں۔ کوئی کہہ اٹھے گا کہ میرا بیٹا مرگیا اور میری زندگی تلخ کر گیا۔ کوئی کہے گا میری محبوبہ مرگئی مجھے اس کی جدائی نے بےچین کردیا۔ کوئی کہے گا مجھے فلاں مرض نے مجبور کر رکھا ہے اور اگر ان سب باتوں میں سے کوئی بھی نہیں تو پھر بقا نہیں چند روزہ عیش و کامرانی کے بعد فنا ہے اور فنا بھی ایسی کہ گویا کبھی آئے ہی نہیں تھے۔ برخلاف آخرت کے کہ وہاں کے عیش بےخار ہیں اور اس پر باقی ہیں فنا ہی نہیں۔ چونکہ یہ مضمون کہ آخرت کو دنیا پر فوقیت ہے (اس لیے دل کو اس فانی اور کمتر چیز پر باقی اور بہتر کے مقابلہ میں نہ لگانا چاہیے) اکثر طبائعِ بنی آدم کے مخالف تھا کیونکہ ان کی جبلت میں دنیا کی محبت اور آخرت سے نفرت اور غفلت ہے۔ اس لیے اس مطلب کے اثبات کے لیے پہلی کتابوں سے سند لائی گئی کہ جو اکثر طوائفِ عالم کے نزدیک بالخصوص عرب کے نزدیک مسلم الثبوت ہیں فقال ان ھذا کہ تحقیق یہ مضمون قد افلح سے لے کر اخیر تک لفی الصحف الاولیٰ پہلی کتابوں میں سے ہرگز منسوخ نہیں ہوا نہ ہوگا۔ بالخصوص صحف ابراھیم و موسیٰ سے۔ حضرت ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں بھی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی خدا پاک نے متعدد صحیفے نازل کئے تھے۔ صحیفہ چھوٹی سی کتاب۔ اب صحیح تعداد تو معلوم نہیں کہ کتنے تھے اور نہ ان میں سے اب کوئی صحیفہ کسی کے پاس باقی ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی تورات کے علاوہ اور صحیفے نازل ہوئے تھے ٗ ان میں بھی یہی مضمون موجود تھا۔