88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsمظہر القرآن

Ayah 88:1

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

کیا (ف 1) تمہارے پاس قیامت کی خبر آئی ہے

(ف 1) اے محبوب ﷺ قیامت کے دن نیک وبد پر جو کچھ حالت گذرے گی اس کا حال تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اور اس دن طرح طرح سے خوار ہوں گے۔ اور اہل جنت طرح طرح کی عزت اور راحت پائیں گے۔
Ayahs 88:2–4

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس دن کتنے منہ ذلیل ہوں گے (ف 2) ۔

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

کام کرنے والے مشقت جھیلنے والے

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

دہکتی آگ میں داخل ہوں گے (جودین اسلام پر نہ تھے)

نیک کام کرنے کی دشواری اور اس کی فضیلت۔ (ف 2) فرمایا کہ کتنے لوگ ہیں جو دنیا میں محنتیں کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی سب محنتیں طریق حق پر نہ ہونے کی وجہ سے سب اکارت ہیں یہاں بھی تکلیفیں اٹھائیں اور وہاں بھی مصیبت میں رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین اسلام پر نہ تھے بت پرست تھے یاکتابی کافر مثل راہبوں اور پجاریوں کے انہوں نے محنتیں بھی اٹھائیں مشقتیں بھی جھیلیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ جہنم میں گئے۔
Ayahs 88:5–6

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

ایک (ف 1) نہایت کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پلائے جائیں گے

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

ان کے لیے (وہاں) کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے

(ف 1) جب دوزخ کی گرمی ان کے باطن میں سخت تشنگی پیدا کرے گی بےاختیار پیاس پیاس پکاریں گے کہ شاید پانی پینے سے یہ تشنگی دور ہو، اس وقت ایک گرم کھولتے ہوئے چشمہ کا پانی دیاجائے، اور جب وہ پانی پلایاجائے گا انتڑیاں کٹ کر گرپڑیں گی اور وہی پانی ان کے سرپرڈالا جائے گا جس سے جسم کے اندر تک حرارت پہنچ کر دل اور جگر سب نکل پڑے گا پھر ہر دوزخی کو اصلی حال پر لایاجائے گا اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں گرفتار رہیں گے، اور جب دوزخی بھوک کے عذاب سے جلائیں گے تو یہ کانٹوں دار گھانس ان کو نگلائی جائے گی جو تلخی میں ایلوئے سے زیادہ اور بدبو میں مردار سے بدتر اور گرمی میں آگ سے بڑھ کر ہے جب ان کے حلق میں پھنس جائے گی اس کو حلق سے اتارنے کے لیے جب وہ پانی مانگیں گے تو یہی گرم پانی پلایاجائے گا اور یہ گھاس کچھ پیٹ میں اترے گی تو اس سے پیٹ نہ بھرے گا۔
Ayah 88:7

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نہ (ف 2) (کھانے والے کو) فربہ کرے اور نہ بھوک کو دفع کرے

(ف 2) شان نزول : جب اوپر کی آیت نازل ہوئی کہ دوزخیوں کی خوراک ضریع کانٹوں دار گھانس ہوگی تو مشرکین کہنے لگے ضریع تو اچھی چیز ہے اس سے تو ہمارے اونٹ موٹے ہوجاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتوں کا ٹکڑا نازل فرمایا کہ اس گھاس سے نہ کسی کا پیٹ بھرے گا اور نہ کوئی موٹا ہوگا بلکہ وہ شدید عذاب ہے۔
Ayahs 88:8–16

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

کتنے ہی منہ (ف 3) اس دن تروتازہ ہوں گے

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنے نیک کاموں کی بدولت

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

بہشت اعلی میں خوش ہورہے ہوں گے

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

کہ اس میں کوئی بےہودہ بات نہ سنیں گے

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں بہتا ہوا چشمہ ہوگا

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

اس میں اونچے تخت ہوں گے

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور چنے ہوئے کو زے

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور گاؤ تکئے ایک قطار میں لگے ہوں گے

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور عمدہ قالین پھیلے ہوئے ہوں گے

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 3) اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنا سے سات سو تک اور بعض نیکوں کا اس سے بھی زیادہ اجرپائیں گے تو اپنے نیک عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپرگذرچکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا، لیکن دوزخ کے مقابلے میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے ، اس لیے فی جنۃ عالیہ۔ فرمایا سورة بقرہ میں آیت ، اذ تبرالذین اتبعوا من الذین انتبعواگذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغوباتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہین گے اور نہ کوئی ایسی لغو یات کسی دوسرے سے سنیں گے پھر فرمایا وہاں طرح طرح کی نہریں جاری ہوں گی ان نہروں کے کناروں پر کو زے رکھے ہوں گے جن کے دیکھنے سے لذت حاصل ہو اور جب پینا چاہیں تو وہ بھرے ملیں گے اور تحت بچھے ہوں گے ان تختوں پر جابجا طرح طرح کے بچھونے اورت کیے ہوں گے جہاں جو کوئی چاہے بیٹھے لیٹے غرض جنت کی نعمتیں وہ ہیں کہ نہ کسی بادشاہ و امیر نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا تصور معلوم ہوگی اب دنیا کی کسی زبان یاقلم میں وہ طاقت کہاں کہ ان نعمتوں کی تفصیل بیان کرسکے۔
Ayahs 88:17–26

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

پس1 (جنت کی یہ نعمتین سن کر کفار نے تعجب کیا اور جھٹلایا تو اللہ ارشاد فرماتا ہے) کیا اونٹ کو نہیں دیکھا کہ کیسا پیدا کیا گیا

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان کی طرف کہ کیسابلند کیا گیا

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے قائم کیے گئے

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

پس اے محبوب) تم (انہیں) نصیحت سناؤ تم تو صرف نصیحت سنانے والے ہو

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

تم کچھ ان پر مسلط نہیں

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

لیکن جو کوئی منہ پھیرے اور کفر کرے

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بیشک ہمارے ہی طرف ان کا پھرنا ہے

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر بیشک ہماری ہی طرف ان کا حساب ہے

اونٹ کا قدرت الٰہی کانمونہ ۔ (ف 1) شان نزول۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانو پیدا کیا کہ کانٹے کھاکر اپنی گذر کرتا اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک اس کو پانی کی خواہش نہیں ہوتی، غریب ایسا کہ ایک بچہ بھی نکیل پکڑ لیوے تو جہاں چاہے لے جائے کسی جانور کی یہ عادت نہیں کہ اس کو بٹھلا کر اس کی پیٹھ پر بوجھ لاداجائے اور پھر بوجھ پیٹھ پر لے کر وہ جانور کھڑا ہوجائے ۔ برخلاف اور جانوروں کے یہ اونٹ کی ہی عادت ہے کہ اس کو بٹھلاکر اس کی پیٹھ پر بوجھ لادا جاتا ہے اور پھر وہ اسی بوجھ کو سرپرلے کر کھڑا ہوجاتا ہے اسی طرح جس طرح اللہ تعالیٰ نے خلاف عقل آسمان کو بغیرستون کے اس طرح قائم کردیا، اور زمین کو پانی پر بچھادیا اور زمین میں پہاروں کی کیلیں ٹھونک دیں اس طرح کے ہزارہا کروڑ عجائبات قدرت الٰہی کو یہ لوگ نظر غور سے دیکھیں گے تو ان کو ہرگز یہ تعجب نہ ہوگا، کہ دوزخ یا جنت میں کسی خلاف عقل چیز کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے دنیا میں انسان کی چند روزہ زندگی کے لیے یہ کچھ عجائبات پیدا کیے ہیں جہاں انسان کا ہمیشہ کا رہنا اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے وہاں جس قدر عجائبات ہوں کچھ عقل سے دور نہیں ہیں غرض جو چیز عقل میں نہ آئے اس کو قدرت الٰہی کے باہرجاننا کسی عقل مندی کا کام نہیں ، خود اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا ہے پھر عقل میں یہ جرات کیونکرہوسکتی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی قدرت کا انکار کرسکے، غرض اسی عقلی غلطی کے سبب یہ کفار لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں ، ان لوگوں کی یہ غلطی بھی عجائبات قدرت پر غور کرنے سے رفع دفع ہوسکتی ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ جب یہ لوگ باوجود قیام دلائل واضحہ غور نہیں کرتے تو آپ بھی ان کی فکر میں زیادہ نہ پڑے۔ بلکہ صرف نصیحت کردیاکیجئے، اگر یہ نہیں سمجھتے تو آپ ان پر مسلط نہیں کیے گئے کہ زبردستی منواکرچھوڑیں اور ان کے دلون کو بدل ڈالیں یہ کام مقلب ہی کا ہے اور فرمایا کہ جس نے اللہ کی اطاعت سے روگردانی کی اور ان آیتوں کا انکار کیا وہ آخرت کے بڑ عذاب اور اللہ کی سخت ترین سزا بچ نہیں سکتا، یقینا ان کو ایک روز ہماری طرف سے لوٹ کر آنا ہے اور ہم کو ان سے رتی رتی کا حساب لینا ہے غرض آپ اپنافرض ادا کردیجئے اور ان کا مستقبل ہمارے سپرد کیجئے۔