Ayah 89:1(ف 1) مراد اس سے یکم محرم کی صبح ہے جس سے سال شروع ہوتا ہے یا یکم ذی الحجہ کی جس دس راتیں ملی ہوئی ہیں یا عیدالاضحی کی صبح اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ مراد اس سے ہر دن کی صبح ہے کیونکہ وہ رات کے گذرنے اور روشنی کے ظاہر ہونے اور تمام جانداروں کے طلب رزق کے لیے منتشر ہونے کا وقت ہے اور یہ مردوں کے قبروں سے اٹھنے کے وقت کے ساتھ مشابہت ومناسبت رکھتا ہے۔
Ayah 89:2(ف 2) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ مراد ان سے ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ زمانہ اعمال حج میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے اور حدیث شریف میں اس عشرہ کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اور یہ بھی مروی ہے کہ رمضان کے عشرہ آخیر کی راتیں مراد ہیں یامحرم کے پہلے عشرہ کی۔
Ayah 89:3(ف 3) طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشائ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جفت سے مراد خلق اور طاق سے مراد اللہ تعالیٰ ہے ۔
Ayah 89:4(ف 4) یہ پانچویں قسم ہے عام رات کی اس سے پہلے دس خاص راتوں کی قسم ذکر فرمائی گئی بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے خاص شب مزدلفہ مراد ہے جس میں بندگان خدا اطاعت الٰہی کے لیے جمع ہوتے ہیں ایک قول یہ کہ اس سے شب قدر مراد ہے جس میں رحمت کا نزول ہوتا ہے اور جو کثرت ثواب کے لیے مخصوص ہے۔
Ayah 89:5(ف 5) یعنی یہ ارباب عقل کے نزدیک ایسی عظمت رکھتے ہیں کہ خبروں کو ان کے ساتھ موکد کرنا شایاں ہے کیونکہ یہ ایسے عجائب و دلائل پر مشتمل ہیں جو اللہ کی توحید اور اس کی ربوبیت پر دلالت کرتی ہے اور جواب قسم یہ ہے کہ کافر ضرور عذاب کیے جائیں گے اس جواب پر اگلی آیتیں دلالت کرتی ہیں۔
Ayahs 89:6–14صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔
(ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں جاری کی گئیں، قسم قسم کے درخت حسن تزئین کے ساتھ لگائے گئے جب یہ شہر مکمل ہوگیا تو شداد بادشاہ اپنے اعیان سلطنت کے ساتھ اس کی طرف روانہ ہوا جب ایک منزل فاصلہ باقی رہا تو آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کر یا، اب آگے ثمود کا قصہ فرمایا ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے یہ لوگ سنگ تراشی کے بڑے ماہر تھے پتھروں کو کاٹ کر مکان بناتے تھے اور وادی القری میں پہاڑوں کو تراش تراش کے انہوں نے بہت سی عمارتیں بنائیں آگے فرمایا کہ فرعون بڑے لاؤ لشکر والا جس کو فوجی ضرورت کے لیے بہت کثیر مقدار میں میخیں رکھناپڑتی تھیں اور وہ چومیخوں والا تھا کہ اس نے چار میخیں گاڑی تھیں جس پر غصہ ہوتا ان میخوں میں اس کو ٹانگتا اور ایذا دے کرمارڈالتا جیسا کہ اپنی بیوی آسیہ بنت مزاحم کے ساتھ کیا وہ فرعون جس نے مصر میں طغیان وکفر پھیلایا لوگوں کو قتل کیا بت پوجے۔ فرمایا کہ جب ان قوموں نے عیش و دولت اور زورقوت کے نشہ مین مست ہوکر ملکون میں خوب اودھم مچایا۔ بڑی بڑی شرارتیں کیں اور ایسا سراٹھایا گویا ان کے سروں پر کوئی حاکم ہی نہیں ، ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے کبھی اس ظلم وشرارت کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا، آخر جب ان کے کفر وتکبر اور جوروستم کاپیمانہ لبریز ہوگیا اور مہلت درگذر کا کوئی موقع باقی نہ رہا، دفعتا خدا وند قہار نے سخت آندھی سے عاد اور سخت آواز سے ثمود کو غارت کیا اور فرعون مع اپنے لشکر کے ڈوب کر مرا، ان پر اپنے عذاب کو کوڑا برسادیا ان کی سب قوت اور برائی خاک میں مل گئی اور وہ سازوسامان کچھ کام نہ آیا، ان عذابوں کو کوڑا اس لیے فرمایا کہ گویا بہ نسبت عذاب آخرت کے یہ عذاب ایسے ہیں جس طرح کسی کو چند کوڑے ماردیے اوپر کی قسموں کے بعد جو کچھ فرمایا اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کا عمل اللہ کی نگاہ میں ہے جس طرح ان پچھلی قوموں کی سرکشی ان کے آگے آئی جن کی عمریں بہت زیادہ اور قدر بہت طویل اور نہایت قوی و توانا تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا تو یہ کافر اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اور عذاب الٰہی سے کیوں بےخوف ہیں اگر قریش اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کے آگے آنے والا ہے۔
Ayahs 89:15–20(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کو فقط دنیا کی زندگی پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے، بس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت ذلت کا معیار سمجھتے ہیں نہیں جانتے کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے، نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر ورضا کو جانچا جارہا ہے نہ یہاں کا عارضی عیش و آرام اللہ کے ہاں مقبول معزز ہونے کی دلیل ہے نہ محض تنگی اور سختی ذلیل ہونے کی علامت ہے مگر انسان اپنے افعال و اعمال پر نظر نہیں کرتا، اپنی بےعقلی یا بےحیائی سے رب پر الزام رکھتا ہے اور آگے فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ تم بلاوجہ ذلت دیے جاتے ہو بلکہ تمہارا قصور یہ بھی ہے کہ تم یتیم کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے، اور عزت نہیں کرتے ایک دوسرے کو اس بات کی ترغیب نہیں دیا کرتے اور تقید نہیں کرتے کہ غریبوں کو کھانا کھلایاجائے۔
ایصال ثواب کی ترغیب اور حکمت۔
اس آیت قرآنی کے مطابق ایصال ثواب کی ترغیب دلائی جاتی ہے اور عوام الناس کو ایصال ثواب کا مقید بنانے کے لیے تیجے اور دسویں اور بیسویں چالیسویں سہ ماہی چھ ماہی اور برسی کے قاعدے مقرر کیے گئے ہیں کیونکہ بلاتعین اور تقید کے عوام الناس اس فعل سے محروم رہتے ہیں، چناچہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ان باتوں کے معتقد نہیں ان کو ایصال ثواب بہت کم نصیب ہوتا ہے اور جو لوگ اس کے قائل ہیں ان کے یہاں سے غریبوں کو بہت کچھ مل جاتا ہے جمعرات کو بھی روٹی جاتی ہے اور موقعوں پر بھی غریب کا پیٹ بھراجاتا ہے ہمیشہ اس بات کا تجربہ سب کو ہوتا ہے جس کام کا کوئی وقت مقرر نہیں کیا جاتا، اس کی پابندی نہیں ہوسکتی، ہاں یہ بات ضرور قابل لحاظ ہے کہ عمل خیرکونام نمود کی نیت سے نہ کیا جائے۔ ورنہ کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا گناہ ہے اگر نماز جیسی عمدہ عبادت میں بھی ریا کو داخل کیا جائے توبیکار بلکہ وبال جان ہوجائے الغرض ہر کام اللہ کی رضامندی کی طلب سے کیا جائے اور عبادت کو رسم نہ بنادیاجائے اگر حلال پیسہ میسر ہو تو ایصال ثواب کیا جائے ورنہ قرض کرنا اور رسم سمجھنا کیا ضرور ہے۔ عبادت کو عبادت ہی کے طریقہ سے ادا کرنا چاہیے اور کسی مصلحت سے وقت مقر کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں، دیکھو ملاقات کا وقت نکاح کا وقت دنیوی کاموں کے لیے علیحدہ علیحدہ وقت ہر کوئی مقرر کرتا ہے اسی طرح آج کل مصلحت سے نمازوں کے وقت بھی مقرر ہیں کہیں ظہر کی نماز دو بجے ہوتی ہے کہیں ڈیڑھ بجے علی ہذا القیاس۔
اور امور میں بھی وقت معین کیے جاتے ہیں اور کوئی ان کو ناجائز نہیں سمجھا، پھر مردوں نے کیا قصور کیا ہے کہ ان کا ثواب پہنچانے کے لیے دن مقرر کرنا حرام ہوگیا، ہاں اگر کوئی یوں سمجھے کہ آج ہی ثواب پہنچائیں گے تو پہنچے گا اور دوسرے دن نہیں پہنچ سکتا، یہ عقیدہ بیشک برا ہے دنیا میں کوئی عالم بھی اس کا قائل نہیں اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ مردوں کی ارواح کو ثواب پہنچانے سے بہت فائد ہوتا ہے اور ان کو بہت فرحت حاصل ہوتی ہے فاتحہ نہ دینے والے گوزبان قال سے نہیں کہتے مگر زبان حال سے اپنے مردوں کو کہہ رہے ہیں کہ مرگئے مردود جن کی فاتحہ نہ درود، پس اس مقام پر قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ تم لوگ غریبوں کو کھانا کھلانے کی تاکید نہیں کرتے اور تم میں یہ بھی عیب ہے کہ میراث کو حق تلفی کے ساتھ کھاتے ہو اور مال کی محبت حد سے زیادہ رکھتے ہو، (تفسیر حقانی) ۔
Ayahs 89:21–30قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔
(ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ ہوگی، بلکہ پہاڑوں ٹیلوں اور عمارات ان سب بلندی کی چیزوں کو کوٹ کر پاش پاش کردیاجائے گا، جس سے کل زمین پست ہوجائے گی اور اس سرے سے اس سرے تک ایک میدان نکل آئے گا، محشر کے طرح طرح کے انتظام کے لیے فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر اوپر کسی جگہ گذرچکا ہے جس وقت تمام دنیا کے لوگ میدان محشر کی گرمی اور پسینے سے گھبرائیں گے اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ تک سب انبیاء کے پاس شفاعت بارگاہ الٰہی میں پیش کرنے کی خواہش ان انبیاء کے پاس شفاعت بارگاہ الٰہی میں پیش کرنے کی خواہش ان انبیاء سے کریں گے اور سب انبیاء اس شفاعت سے انکار کریں گے آخر خاتم النبین حضرت محمد ﷺ اس شفاعت کا اقرار اہل محشر سے کریں گے اور اپنے اس اقرار کے موافق بارگاہ الٰہی میں شفاعت فرمائیں گے یہ بھی حدیث شریف میں ہے کہ اس روز سب نفسی نفسی کہتے ہوں گے سوائے حضور پرنور حبیب خدا سیدناانبیاء کے کہ حضور یارب امتی امتی فرماتے ہوں گے جہنم حضور سے عرض کرے گی کہ اسے سید عالم محمد ﷺ آپ کا میرا کیا واسطہ اللہ نے آپ کو مجھ پر حرام کیا ہے ، میدان محشر میں دوزخ کے لائے جانے کا ذکر اوپر گذرچکا ہے اور یہ بھی گذرچکا ہے کہ اس وقت انسان اپنے کیے پر پچھتائے گا لیکن اس وقت کا پچھتانا اس کو کچھ فائدہ نہ دے گا، اس وقت تو اسی قدر فیصلہ ہوجائے گا کہ جو لوگ عقبی کی باتوں پر یقین اور اطمینان رکھتے تھے جس یقین اور اطمینان کے سبب سے انہوں نے جہاں تک ہوسکا اپنی عقبی سنواری ، ان کو جنت اور جو ان کے خلاف تھے ان کو دوزخ کا حکم ہوجائے گا پس جن کے دلوں کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے چین اور آرام سے ملتا ہے ، ان سے محشر میں کہا جائے گا کہ اے نفس آرمیدہ بحق جس محبوب حقیقی سے تولولگائے ہوئے تھا اب ہر قسم کے جھگڑوں اور خرخشوں سے یکسو ہوکرراضی و خوشی اس کے مقام قرب کی طرف چل ، اور اس کے مخصوص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو، اس کی عالیشان جنت میں قیام کر، بعض اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو موت کے وقت بھی یہ بشارت سنائی جاتی ہے بلکہ عارفین کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں ایسیے نفوس مطمئنہ اس طرح کی بشارات کافی الجملہ حظ اٹھاتے ہیں۔ اللھم انی اسئلک نفسا بل مطمئنہ تئو من بلقائک وترضی بلقائک وتنفع بعطائک۔