90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 90:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

مجھے (ف 1) اس شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

کہ (اے محبوب) تم اس شہر میں تشریف فرما ہو

محبوب کریم کے شہر مکہ کی قسم۔ (ف 1) فرمایا اے محبوب ﷺ یہ شہر قسم کھانے کے قابل ہوا جب سے آپ اس شہر مکہ مکرمہ میں تشریف فرما ہوئے کیونکہ آپ کی عظمت کی وجہ سے یہ شہر معظم ہوا ، شرف المکان بالمکین، مشہور فقرہ ہے یعنی مکان کو شرافت رہنے والے کی وجہ سے ہوتی ہے چونکہ ہمارے حضور خداوند جل وعلا احکم الحاکمین کے محبوب خاص ہوئے اس لیے آپ کا شہر کا بھی اللہ کو محبوب ہوا اور اس کے قابل ہوا کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور (ف 2) قسم ہے جننے والے کی اور جو جنا گیا ہے

(ف 2) اور قسم ہے آدم (علیہ السلام) اور ان کی ذریت کی چونکہ آپ اولاد آدم (علیہ السلام) ہوئے اس لیے اولاد آدم اور خود آدم (علیہ السلام) کی عظمت ہوئی محبوب کے تمام جنس محبوب ہوتے ہیں (تفسیر حقانی) ۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

بیشک3 ہم نے انسان کو مشقت میں رہتا پیدا کیا

(ف 3) اب جس بات کو قسم کا کھاکر اللہ نے فرمایا وہ یہ ہے کہ انسان ایک محنت اور مشقت کی حالت میں ہمیشہ ہے ، علماء نے لکھا ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ماں کے پیٹ سے لے کر مرتے دم تک کوئی وقت انسان کا محنت اور سختی سے خالی نہیں ہے بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ماں کے سونے اور لیٹنے کے وقت ایک فرشتہ اس بچہ کا سراونچا کردیتا ہے تاکہ ماں کے لیٹنے کے وقت ماں کے سارے جسم میں خون جو دوڑتا ہے وہ خود بچہ کی ناک اور منہ میں بھر کر بچہ مر نہ جائے۔ پھر پیدا ہونے کے وقت جو سختی ماں اور بچہ پر گذرتی ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسی طرح پیدا ہونے کے بعد بچپنے میں جوانی میں بڑھاپے میں دکھ درد طرح طرح کا رنج وغم ہر ایک کے پیچھے لگا ہوا ہے۔
Ayahs 90:5–20

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا4 آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

وہ کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال (نبی کی عداوت میں) فنا کردیا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے (خرچ کرتے) کسی نے نہیں دیکھا

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دونوں ہونٹ

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور اسے ہم نے دوابھری چیزوں کی راہ بتائی

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

پھر بھی وہ ان نعمتوں کے شکر میں) گھاٹی میں نہ کو دا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم نے کیا جانا کہ گھاتی کیا ہے ؟

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی بندے کی گردن کا (غلامی یا قرض کے پھندے سے ) چھڑانا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یابھوک کے دن میں

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

کسی رشتہ دار یتیم کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یاخاکسار فقیر کو کھانا کھلانا

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر (سب سے بڑھ کر یہ کہ ) ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے اور جو آپس میں صبر کی وصیتیں کرتے ہیں اور آپس میں مہربانی کرنے کی وصیتیں کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ (آخرت میں) ذاہنی طرف والے ہیں (یعنی خوش نصیب)

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف (یعنی بدبخت ) ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی جائے گی

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی بےت کے پن سے مال خرچ کرنے کو ہنر سمجھتا ہے پھر اسے بڑھاچڑھا کر فخر سے کہتا ہے کہ میں اتنا مال خرچ کرچکا ہوں کیا اس کے بعد بھی کوئی میرا مقابلہ میں کامیاب ہوسکتا ہے فرمایا، کیا اس کافر کو یہ گمان ہے کہ اسے اللہ نے نہیں دیکھا اور اللہ اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس نے یہ مال کہاں سے حاصل کیا کس کام میں خرچ کیا۔ جسم انسانی اللہ کریم کی قدرت کا شاہکار اور اس کا تقاضا۔ اس کے بعد اللہ اپنی نعمتوں کا ذکر فرماتا ہے تاکہ اس کو عبرت حاصل کرنے کا موقع ملے فرمایا کیا ہم نے اس کو دوآنکھیں نہیں دیں کہ ان سے دیکھے اور زبان نہیں دی کہ اس سے بولتا ہے اور اپنے دل کی بات بیان میں لاتا ہے اور دوہونٹ نہیں دیے جن سے منہ کو بند کرتا ہے اور جب چاہتا ہے کھولتا ہے اور بات کرنے اور کھانے اور پینے اور بھونکنے میں ان سے کام لیتا ہی یہ۔ اور کیا ہم نے اس کو جب پیدا ہوا تو دودھ پینے کے لیے دونوں پستان نہیں بتادیا، یعنی ہم نے یہ نعمتیں دیں مگر یہ ناشکری کرتا ہے اب آگے فرمایا کہ یہ کافر جو غرور کرتا ہے قوت کا گھمنڈ رکھتا ہے تو کیا عقبہ یعنی گھاٹی سے یہ گذر گیا ہے نہیں ہرگز نہیں گذرا، وہ عقبہ صراط ہے جو دوزخ جنت کے درمیان میں رکھا ہوا ہے جب اس سے گزارا ہوجائے تو آدمی کو فخر زیبا ہے فرمایا کیا تم جانتے وہ وہ عقبہ کیا ہے بڑا عقبہ ہے دشوار گزار اس کے پاراترانے کا علاج اور اسباب کارخیر ہیں غلام کا آزاد کرنا بھوک اور سختی کے دنوں میں قحط کے موسم میں یتیموں کو، بن باپوں کے بچوں کو اور خاص کر وہ یتیم جو قرابت دار ہوں ان کو کھانا کھلانا، اور مسکین جس کے پاس کچھ نہ ہو اور پریشانی وحیرانی کے سبب خاک میں مل گیا ہو اور قرض دار کی گرد قرآن سے چھڑوانا یہ موقع ہیں مال خرچ کرنے کے۔ پس جو آدمی ایسا ہوگا پھر بعد اس کے ظاہر ظہور ان لوگوں سے ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے قرآن پاک پر ایمان لائے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو صبر کی وصیت ، ادائے فرض وترک مناہی پر اور فقیروں مسکینوں پر رحم کرنے کو کرتے ہیں، تو اسی صف کے لوگ بروز قیامت سیدھی طرف والے ہون گے یعنی جنتی ان کے سیدھے ہاتھوں میں نامہ اعمال دیاجائے گا، یہ لوگ بڑے خوش نصیب میمون ومبارک ہیں آگے فرمایا جو لوگ ہماری آیتوں کو نہیں مانتے کافر ہیں وہ بائیں طرف والے ہیں دوزخی ان کے الٹے ہاتھوں میں نامہ اعمال ہوں گے یہ لوگ بڑے بدنصیب منحوس شامت زدہ ہیں، ان دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال کر سب دروازے بند کردیے جائیں گے کہ نہ نکل سکیں۔