87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsمظہر القرآن

Ayah 87:1

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

اپنے (ف 1) پروردگار کے نام کی پاکی بیان کرو جو سب سے اعلی ہے

(ف 1) حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے سجدہ میں داخل کرو، اسی لیے کہ سجدہ کی حالت میں سبحان ربی الاعلی کہا جاتا ہے۔
Ayah 87:2

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس (ف 2) نے انسان کو بنا کر ٹھیک کیا

(ف 2) یعنی جو چیز بنائی عین حکمت کے موافق بہت ٹھیک بنائی اور باعتبار خواص صفات ، اور ان فائدوں کے جو اس چیز سے مقصود ہیں اس کی پیدائش کو درجہ کمال تک پہنچایا اور ایسا معتدل مزاج عطا کیا جس سے وہ منافع وفوائد اس پر مرتب ہوسکیں۔
Ayah 87:3

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

اور وہ جس نے1 اندازہ کیا پھر راہ دکھائی

(ف 1) یعنی اس نے ہر چیز کو اندازہ سے بنایا مرد عورت کو بنای اور کفر وایمان اور شر وخیر کی راہ دکھلائی۔
Ayahs 87:4–5

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور جس (ف 2) نے (زمین سے ) چارہ نکالا

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر اسے خشک سیاہ کردیا

(ف 2) یعنی اول نہایت سبز و خوشنما گھاس چارا ، زمین سے پیدا کیا پھر آہستہ آہستہ اس کو خشک سیاہ کرڈالا، تاکہ خشک ہوکر ایک مدت تک جانوروں کے لیے ذخیرہ کیا جاسکے اور خشک کھیتی کٹ کر کام میں آئے، اس تذکرہ میں یہ اشارہ ہے کہ یہ حال دنیا کی تمام چیزوں کا ہے کہ اس کی ہر ایک چیز کا کمال زوال سے خالی نہیں ہے اور جب یہ بات ہے تو دنیا فقط اس لیے نہیں پیدا کی گئی کہ ہے کہ اس کا کمال وزوال بغیر کسی نتیجہ کے ایک تماشہ کے طور پر ہو، بلکہ دنیا کے بعد اس کا ایک بہت بڑا نتیجہ یہی ہے کہ جس کا نام قیامت ہے۔
Ayah 87:6

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

(اے محبوب) اب ہم تمہیں (ف 3 قرآن پڑھائیں گے پس تم نہ بھولو گے

(ف 3) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول کریم کو بشارت ہے کہ آپ کو حفظ قرآن کی نعمت بےمحنت عطا ہوئی اور یہ آپ کا معجزہ ہے کہ اتنی بڑی کتاب عظیم بغیر محنت ومشقت اور بغیر ورد کے آپ کو حفظ ہوگئی۔ (جمل)
Ayah 87:7

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

مگر جو (ف 4) اللہ چاہے بیشک اللہ ہر (ف 5) ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے

(ف 4) مفسرین نے فرمایا کہ یہ استثناء واقع نہ ہوا اور اللہ نے نہ چاہا کہ آپ کچھ بھولیں (خازن) ۔ (ف 5) یعنی وہ تمہارا مخفی استعداد اور ظاہر اعمال واحوال کو جانتا ہے اور وہ جو بالکل پوشیدہ ہے جس کو کسی نے ابھی خیال بھی نہ کیا اس کو بھی جانتا ہے۔
Ayahs 87:8–13

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور (ف 6) ہم تم کو آسان شریعت کی توفیق دیں گے

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

پس تم (اس قرآن سے ) نصیحت فرماؤ ، اگر نصیحت کرنا فائدہ دے

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

جو (اللہ سے) ڈرتا ہے عنقریب اس نصیحت کو مانے گا

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور اس نصیحت سے وہ بڑا بدبخت دور رہے گا

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

جو سب سے بڑی آگ (یعنی دوزخ ) میں جائے گا

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر نہ اسمیں مرے گا اور نہ جئے گا

(ف 6) اے محبوب ﷺ اس وحی کو یاد رکھنا آسان ہوجائے گا اور اللہ کی معرفت اور عبادت اور ملک وملت کی سیاست کے طریقے سب سہل کردیے جائیں گے اور کامیابی کا راستہ سے تمام مشکلات ہٹادی جائیں گی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایسے انعام فرمائے ہیں آپ دوسروں کو فیض پہنچائیں اور اپنے کمال سے دوسروں کی تکمیل کیجئے، ہاں یہ نہ ہوگا کہ سب آدمی نصیحت پالیں اور ایمان لے آئیں بلکہ سمجھانے سے وہی سمجھتا ہے اور نصیحت سے وہ ہی فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں تھوڑا بہت خدا کا ڈر اور اپنے انجام کی فکر ہو اور جس بدقسمت کے نصیب میں دوزخ کی آگ لکھی ہے وہ کہاں سمجھتا ہے اسے خدا کا اور اپنے انجام کا ڈر ہی نہیں جو نصیحت کی طرف متوجہ ہو اور ٹھیک بات سمجھنے کی کوشش کرے اور آخریہ دوزخ میں جائیں گے اور پھر دوزخ میں جانے کے بعد ان پر یہ مصیبت پڑے گی کہ نہ وہاں مریں گے کہ مر کرچھٹکارا ہوجائے ، یعنی نہ موت ہی آئے گی کہ تکلیفوں کا خاتمہ کردے اور نہ آرام کی زندگی ہی نصیب ہوگی ہاں ایسی زندگی ہوگی جس کے مقابلہ میں موت کی تمنا کرے گا۔
Ayahs 87:14–16

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

بیشک (ف 1) فلاح اس نے پائی جو پاک ہوا

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا نام لے کر ( پنجگانہ) نماز

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ تم دنیاوی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دیتے ہو

طہارت و پاکیزگی اور اس کی اقسام (ف 1) نجات اسی شخص کو ہے جو پاکیزگی حاصل کرے، پاکیزگی کئی قسم کی ہوتی ہے، اول تو کفر اور شرک اور عقائد باطلہ اور خلاق ذمیمہ سے دل کو پاک کرنا، دوسری قسم یہ ہے کہ بدن اور کپڑوں کو نجاسات حقیقیہ سے پاک رکھے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ نجاست حکمی سے پاک رہے۔ چوتھی قسم یہ ہے کہ موئے زیرناف اور بغل کے بال اور ناخن اور بدن کی میل علیحدہ کرے ، پس اگر کسی کی ڈاڑھی لمبی ہو یاسر پر بال رکھتا ہو تو اس کے واسطے ہر جمعہ کے دن بالوں کو دھونا اور کنگھے کا کرنا، اور عطر ملنا سنت موکدہ ہے ، پانچویں پاکی یہ ہے کہ مال کی زکوۃ دے اور خیرات کرے اور حرام اور مشتبہ مال سے اپنے مال کو بچائے۔ پس پاکیزگی حاصل کرنے کے بعد اللہ کی یاد اور نماز ضروری ہے تزکیہ کے بعد جو یاد الٰہی ہوگی وہ بھی کچھ اور ہوگی، نماز کا بھی کچھ اور ہی مرتبہ ہوجائے گا دل ذکر شوق سے لبریز ہوگا اور نماز معراج اور مشاہدہ کا ذریعہ بن جائے گی۔
Ayah 87:17

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

اور (ف 2) آخرت (کی زندگی دنیاوی زندگی سے) بہتر اور باقی رہنے والی ہے

(ف 2) فرمایا کہ عقبی کی بھلائی کے کاموں میں اکثر لوگ کوتاہی اس لیے کرتے ہیں دنیا کے مشغلوں کو چھوڑ کر عقبی کے کاموں میں مصروف ہوناان کو شاق گذرتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ دنیا کے مشغلوں کو نہ چھوڑیں ایک دن وہ دنیا کے مشغلے خودان کو چھوڑ دیں گے کیونکہ دنیا اور ان کے مشغلے ان میں کوئی باقی رہنے والی چیز نہیں اور عقبی کے کاموں کو یہ چھوڑ بیٹھے ہیں مگر عقبی ان کو نہیں چھوڑے گی کس لیے کہ وہ باقی رہنے والی چیز ہے۔
Ayahs 87:18–19

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

بیشک (ف 1) یہ بیان اگلے صحیفوں

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

یعنی ابراہم اور موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔

(ف 1) قد افلح من تزکی۔ سے یہاں تک ایسامضمون ہے کہ اس کی ترغیب خدا کی طرف سے ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں اور تورات میں بھی موجود ہے۔