86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 86:1–4

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

قسم (ف 1) ہے آسمان کی اور اس چیز کی جو رات کے وقت ظاہر ہوتی ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور کچھ تم نے جانا کہ وہ رات کو ظاہر ہونے والی کیا چیز ہے

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

خوب چمکتا ستارا ہے

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

کوئی شخص نہیں کہ جس پر (اعمال کالکھنے والا) فرشتہ نگہبان نہ ہو

(ف 1) شان نزول : ایک شب نبی ﷺ کی خدمت مین ابوطالب کچھ ہدیہ لائے، حضور ﷺ اس کو تناول فرما رہے تھے اس درمیان میں ایک تاراٹوٹا اور تمام فضا آگ سے بھرگئی، ابوطالب گھبرا کر کہنے لگے، یہ کیا ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا یہ ستارہ ہے جس سے شیاطین کو مارا جاتا ہے اور یہ قدرت الٰہی کی نشانیوں میں سے ہے، ابوطالب کو اس سے تعجب ہوا اور یہ سورت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے انسان تو کیا جانے کہ اس تارے کی کیا کیفیت ہے وہ ایسا تارا ہے کہ شیطان کی آنکھوں میں اس تارے سے چکاچوندی ہوجاتی ہے بعض اوقات اس تارے میں ایک شعلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ شیاطین کو جلادتیا ہے اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر شخص کے لیے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں، صحیح بخاری مسلم کے حوالہ ابوہریرہ کی یہ حدیث ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں ، صبح کو نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو تعینات رہنے والے فرشتے چوکی (ڈیوٹی) بدلوادیتے ہیں۔ اور ہر وقت انسان کے تمام جسم کی ہر طرح کی آفت سے اس وقت تک آدمی کی حفاظت کرتے ہیں جب تک تقدیری کوئی آفت پیش نہ آئے۔
Ayahs 86:5–8

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

پس (ف 1) چاہیے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے پیدا ہوا ہے

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

پیدا کیا گیا ہے اچھلتے پانی سے

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کی ہڈیوں سے نکلتا ہے

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بیشک اللہ آدمی کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے

انسان کی پیدائش کا ذکر۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو غور کرے کہ وہ کس شے سے پیدا کیا گیا ہے پھر خود بتلادیا کہ وہ پانی یعنی منی سے پیدا کیا گیا ہیی جو مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کی ہڈیوں سے نکلتا ہے ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہک عورت کے سینہ کے اس مقام سے جہاں ہار پہناجاتا ہے اور انہیں سے منقول ہے کہ عورت کی دونوں چھاتیوں کے درمیان سے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان کے تمام اعضا سے برآمد ہوتی ہے اور اس کا زیادہ حصہ دماغ سے مرد کی پشت پر آتا ہے اور عورت کے بدن کے اگلے حصہ میں بہت سی رگوں میں جو سینہ کے مقام پر ہیں نازل ہوتا ہے اسی لیے ان دونوں مقاموں کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔ جس اللہ نے پہلی دفعہ انسان کو پانی جیسی پتلی چیز سے دنیا میں سب کی آنکھوں کے سامنے پیدا کیا ہے وہ جانے کہ اس کا پیدا کرنے والا اس کو بعد موت جزا کے لیے حشر کے دن مٹی سے اسی انسان کا پیدا کرنا ، بھی اس کی قدرت میں ہے۔ منکرین حشر کی عقل ناقص ہے ورنہ عقل کا یہ کام نہی ہے کہ پانی جیسی پتلی چیز سے انسان کے پتلے کے بن جانے کو دیکھ کرمٹی جیسی چیز سے اس پتلے کے بن جانے کا انکار کرے۔
Ayah 86:9

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

جس (ف 2) دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی

(ف 2) چھی باتوں سے مراد عقائد اور نیتیں ہیں اور وہ اعمال ہیں جن کو آدمی چھپاتا ہے روز قیامت اللہ ان سب کو ظاہر کردے گا۔
Ayah 86:10

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

پس (قیامت ) آدمی کے پاس پاس نہ کچھ زور ہوگا،3، اور نہ کوئی اس کا مددگار ہوگا

(ف 3) یعنی اس وقت مجرم نہ اپنے زور قوت سے مدافت کرسکے گانہ کوئی ایسا مددگار ہوگا جو اسے عذاب سے بچاسکے۔
Ayahs 86:11–17

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

قسم4 ہے آسمان کی جس سے مینہ اترتا ہے

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

اور زمین کی کہ جس میں سے بوٹیاں پھوٹ کر نکلتی ہیں

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن (حق و باطل میں) ایک فیصلہ کردینے والا کام ہے

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

اور کوئی ہنسی کی بات نہیں

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

بیشک کافر اپنا ساداؤں چلتے ہیں

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور میں (ان کی ناکامی کے لیے ) اپنی خفیہ تدبیر کرتا ہوں

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

تو تم کافروں کو ڈھیل دو اور انہیں کچھ مہلت دو

(ف 4) ان سب کی قسم کہ قرآن قول فیصل وحکم الٰہی ہیے یہ قران باطل و خرافات نہیں یہ قرآن دنیا میں نیک راستہ بتلانے اور بدی سے روکنے اور عقبی میں جزا وسزا کی خبر سنانے کا ایک فیصلہ قطعی ہے اگر یہ لوگ قرآن کو جھٹلائیں تو تھوڑے دنوں تک ان سے درگزر کی جائے کوئی مکروفریب تو ان لوگوں کو قرآن سے روکنے میں اللہ کی تدبیر کے آگے نہیں چل سکتا بلکہ تھوڑے دنوں کے بعد اللہ کی تدبیرکا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، چناچہ نبی ﷺ کی حیات میں ہی کچھ قرآن کے مخالف لوگ ذلت و خواری سے ہلاک ہوگئے اور اکثر قرآن کے حامی بن گئے۔