88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ الغاشیۃ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

سورت کا پورا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ بھی ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر یہ وہ زمانہ تھا جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبلیغ عام شروع کرچکے تھے اور مکہ کے لوگ بالعموم اسے سن سن کر نظر انداز کیے جا رہے تھے۔

موضوع اور مضمون

اس کے موضوع کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ زیادہ تر دو ہی باتیں لوگوں کے ذہن نشین کرنے پر مرکوز تھی۔ ایک توحید، دوسرے آخرت اور اہل مکہ ان دونوں باتوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضمون اور انداز بیاں پر غور کیجیے۔ اس میں سب سے پہلے غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانے کے لیے اچانک ان کے سامنے ایک سوال پیش کیا گیا ہے کہ تمہیں اس وقت کی بھی کچھ خبر ہے جب سارے عالم پر چھا جانے والی ایک آفت نازل ہوگی ؟ اس کے بعد فوراً ہی تفصیل بیان کرنی شروع کردی گئی ہے کہ اس وقت سارے انسان دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کردو مختلف انجام دیکھیں گے۔ ایک وہ جو جہنم میں جائیں گے اور انہیں ایسے اور ایسے سخت عذاب جھیلنے ہوں گے۔ دوسرے وہ جو عالی مقام جنت میں جائیں گے اور ان کو ایسی اور ایسی نعمتیں میسر ہوں گی۔ اس طرح لوگوں کو چونکانے کے بعد یکلخت مضمون تبدیل ہوتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو قرآن کی تعلیم توحید اور خبر آخرت کو سن کر ناک بھوں چڑھا رہے ہیں، اپنے سامنے کی ان چیزوں کو نہیں دیکھتے جن سے ہر وقت انہیں سابقہ پیش آتا ہے ؟ عرب کے صحرا میں جن اونٹوں پر ان کی ساری زندگی کا انحصار ہے، کبھی یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ یہ کیسے ٹھیک انہیں خصوصیات کے مطابق بن گئے جیسی خصوصیات کے جانور کی ضرورت ان کی صحرائی زندگی کے لیے تھی ؟ اپنے سفروں میں جب یہ چلتے ہیں تو انہیں یا آسمان نظر آتا ہے، یا پہاڑ، یا زمین۔ انہی تین چیزوں پر یہ غور کریں۔ اوپر یہ آسمان کیسے چھا گیا ؟ سامنے یہ پہاڑ کیسے کھڑے ہوگئے ؟ نیچے یہ زمین کیسے بچھ گئی ؟ کیا یہ سب کچھ کسی قادر مطلق صانع حکیم کی کاریگری کے بغیر ہوگیا ہے ؟ اگر یہ مانتے ہیں کہ ایک خالق نے بڑی حکمت اور بڑی قدرت کے ساتھ ان چیزوں کو بنایا ہے، اور کوئی دوسرا ان کی تخلیق میں شریک نہیں ہے، تو اسی کو اکیلا رب ماننے سے انہیں کیوں انکار ہے ؟ اور اگر یہ مانتے ہیں کہ وہ خدا یہ سب کچھ پیدا کرنے پر قادر تھا، تو آخر کس معقول دلیل سے انہیں یہ ماننے میں تامل ہے کہ وہی خدا قیامت لانے پر بھی قادر ہے ؟ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ؟ جنت اور دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے ؟ اس مختصر اور نہایت معقول استدلال سے بات سمجھانے کے بعد کفار کی طرف سے رخ پھیر کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کیا جاتا ہے اور آپ سے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں، تم ان پر جبار بنا کر تو مسلط کیے نہیں گئے ہو کہ زبردستی ان سے منوا کر ہی چھوڑو۔ تمہارا کام نصیحت کرنا ہے، سو تم نصیحت کیے جاؤ۔ آخرکار انہیں آنا ہمارے ہی پاس ہے۔ اس وقت ہم ان سے پورا پورا حساب لیں گے اور نہ ماننے والوں کو بھاری سزا دیں گے۔

Ayah 88:1

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟ 1

سورة الْغَاشِیَة 1 مراد ہے قیامت، یعنی وہ آفت جو سارے جہاں پر چھا جائے گی۔ اس مقام پر یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہاں بحیثیت مجموعی پورے عالم آخرت کا ذکر ہو رہا ہے جو نظام عالم کے درہم برہم ہونے سے شروع ہو کر تمام انسانوں کے دوبارہ اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت سے جزا و سزا پانے تک تمام مراحل پر حاوی ہے۔
Ayahs 88:2–5

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

کچھ چہرے 2 اُس روز خوف زدہ ہوں گے

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

سخت مشقت کر رہے ہونگے

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

تھکے جاتے ہونگے، شدید آگ میں جھلس رہے ہونگے

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا

سورة الْغَاشِیَة 2 چہروں کا لفظ یہاں اشخاص کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چونکہ انسان کے جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہے جس سے اس کی شخصیت پہچانی جاتی ہے، اور انسان پر اچھی یا بری کیفیات بھی گزرتی ہیں ان کا اظہار اس کے چہرے سے ہی ہوتا ہے، اس لیے " کچھ لوگ " کہنے کے بجائے " کچھ چہرے " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
Ayahs 88:6–8

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

خاردار سُوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لیے نہ ہوگا، 3

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

کچھ چہرے اُس روز با رونق ہوں گے

سورة الْغَاشِیَة 3 قرآن مجید میں کہیں فرمایا گیا ہے کہ جہنم کے لوگوں کو زقوم کھانے کے لیے دیا جائے گا کہیں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے لیے غسلین (زخموں کے دھو ون) کے سوا کوئی کھانا نہ ہوگا، اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ انہیں خاردار سوکھی گھاس کے سوا کچھ کھانے کو نہ ملے گا۔ ان بیانات میں در حقیقت کوئی تضاد نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کے بہت سے درجے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے اور مختلف قسم کے عذاب ان کو دیے جائیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ زقوم کھانے سے بچنا چاہیں گے تو غسلین ان کو ملے گا، اس سے بھی بچنا چاہیں تو خاردار گھاس کے سوا کچھ نہ پائیں گے، غرض کوئی مرغوب غذا بہرحال انہیں نصیب نہ ہوگا۔
Ayahs 88:9–10

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنی کار گزاری پر خوش ہوں گے، 4

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

عالی مقام جنت میں ہوں گے

سورة الْغَاشِیَة 4 یعنی دنیا میں جو سعی و عمل کر کے وہ آئے ہوں گے اس کے بہترین نتائج آخرت میں دیکھ کر خوش ہوجائیں گے۔ انہیں اطمینان ہوجائے گا کہ دنیا میں ایمان اور صلاح وتقوی کی زندگی اختیار کر کے انہوں نے نفس اور اس کی خواہشات کی جو قربانیاں کیں، فرائض کو ادا کرنے میں جو تکلیفیں اٹھائیں، احکام الہی کی اطاعت میں جو زحمتیں برداشت کیں، معصیتوں سے بچنے کی کوشش میں جو نقصانات اٹھائے اور جن فائدوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کرلیا یہ سب کچھ فی الواقع بڑے نفع کا سودا تھا۔
Ayahs 88:11–13

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

کوئی بےہودہ بات وہاں نہ سُنیں گے، 5

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اُس میں چشمے رواں ہونگے

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

اُس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی

سورة الْغَاشِیَة 5 یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن مجید میں جگہ جگہ جنت کی نعمتوں سے ایک بڑی نعمت کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، مریم، حاشیہ 38۔ جلد پنجم، الطور، حاشیہ 18۔ الواقعہ حاشیہ 13۔ جلد ششم، البناء، حاشیہ 21)۔
Ayahs 88:14–19

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

ساغر رکھے ہوئے ہوں گے، 6

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

(یہ لوگ نہیں مانتے) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا؟

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟

سورة الْغَاشِیَة 6 یعنی ساغر بھرے ہوئے ہر وقت ان کے سامنے موجود ہوں گے۔ اس کی حاجت ہی نہ ہوگی کہ وہ طلب کر کے انہیں منگوائیں۔
Ayahs 88:20–21

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟ 7

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو

سورة الْغَاشِیَة 7 یعنی اگر یہ لوگ آخرت کی یہ باتیں سن کر کہتے ہیں کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے تو کیا خود اپنے گرد و پیش کی دنیا میں نظر ڈال کر انہوں نے کبھی نہ سوچا کہ یہ اونٹ کیسے بن گئے ؟ آسمان کیسے بلند ہوگیا ؟ یہ پہاڑ کیسے قائم ہوگئے ؟ یہ زمین کیسے بچھ گئی ؟ یہ ساری چیزیں اگر بن سکتیں تھیں اور بنی ہوئی ان کے سامنے موجود ہیں تو قیامت کیوں نہیں آسکتی ؟ آخرت میں ایک دوسری دنیا کیوں نہیں بن سکتی ؟ دوزخ اور جنت کیوں نہیں ہو سکتیں ؟ یہ تو ایک بےعقل اور بےفکر آدمی کا کام ہے کہ دنیا میں آنکھیں کھولتے ہی جن چیزوں کو اس نے موجود پایا ہے ان کے متعلق تو وہ یہ سمجھ لے کہ ان کا وجود میں آنا تو ممکن ہے کیونکہ یہ وجود میں آئی ہوئی ہیں، مگر جو چیزیں اس کے مشاہدے اور تجربے میں ابھی نہیں آئی ہیں ان کے بارے میں وہ بےتکلف یہ فیصلہ کر دے کہ ان کا ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس کے دماغ میں اگر عقل ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ جو کچھ موجود ہے یہ آخر کیسے و جود میں آ گیا ؟ یہ اونٹ ٹھیک ان خصوصیات کے مطابق کیسے بن گئے جن خصوصیات کے جانور عرب کے صحراء میں رہنے والے انسانوں کو ضرورت تھی ؟ یہ آسمان کیسے بن گیا جس کی فضا میں سانس لینے کے لیے ہوا بھری ہوئی ہے، جس کے بادل بارش لے کر آتے ہیں، جس کا سورج دن کو روشنی اور گرمی فراہم کرتا ہے، جس کے چاند اور تارے رات کو چمکتے ہیں ؟ یہ زمین کیسے بچھ گئی جس پر انسان رہتا اور بستا ہے، جس کی پیداوار سے اس کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں، جس کے چشموں اور کنوؤں پر اس کی زندگی کا انحصار ہے ؟ یہ پہاڑ زمین کی سطح پر کیسے ابھر آئے جو رنگ برنگ کی مٹی اور پتھر اور طرح طرح کی معدنیات لیے ہوئے جمے کھڑے ہیں ؟ کیا یہ سب کچھ کسی قادر مطلق صانع حکیم کی کاریگری کے بغیر ہوگیا ہے ؟ کوئی سوچنے اور سمجھنے والا دماغ اس سوال کا جواب نفی میں نہیں دے سکتا۔ وہ اگر ضدی اور ہٹ دھرم نہیں ہے تو اسے ماننا پڑے گا کہ ان میں سے ہر چیز ناممکن تھی اگر کسی زبردست قدرت اور حکمت والے نے اسے ممکن نہ بنایا ہوتا۔ اور جب ایک قا در کی قدرت سے دنیا کی ان چیزوں کا بننا ممکن ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جن چیزوں کے آئندہ وجود میں آنے کی خبر دی جا رہی ہے ان کو بعید از مکان سمجھا جائے۔
Ayahs 88:22–26

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ 8

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے

سورة الْغَاشِیَة 8 یعنی اگر معقول دلیل سے کوئی شخص بات نہیں مانتا تو نہ مانے، تمہارے سپرد یہ کام تو نہیں کیا گیا ہے کہ نہ ماننے والوں سے زبردستی منواؤ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کو صحیح اور غلط کا فرق بتادو اور غلط راہ پر چلنے کے انجام سے خبردار کردو۔ سو یہ فرض تم انجام دیتے رہو۔