Ayah 87:1سورة الْاَعْلٰی 1
1۔ لفظی ترجمہ ہوگا " اپنے رب برتر کے نام کو پاک کرو "۔ اس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں اور وہ سب ہی مراد ہیں۔
(1) اللہ تعالیٰ کو ان ناموں سے یاد کیا جائے جو اس کے لائق ہیں اور ایسے نام اس کی ذات برتر کے لیے استعمال نہ کیے جائیں جو اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے اس کے لیے موزوں نہیں ہیں، یا جن میں اس کے لیے نقص یا گستاخی یا شرک کا کوئی پہلو نکلتا ہے، یا جن میں اس کی ذات یا صفات یا افعال کے بارے میں کوئی غلط عقیدہ پایا جاتا ہے۔ اس غرض کے لیے محفوظ ترین صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وہی نام استعمال کیے جائیں جو اس نے خود قرآن مجید میں بیان فرمائے ہیں، یا جو دوسری زبان میں ان کا صحیح ترجمہ ہوں۔
(2) اللہ کے لیے مخلوقات کے نام، یا مخلوقات کے لیے اللہ کے ناموں جیسے نام استعمال نہ کیے جائیں۔ اور اگر کچھ صفاتی نام ایسے ہوں جو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص نہیں ہیں بلکہ بندوں کے لیے بھی ان کا استعمال جائز ہے، مثلاً رؤف، رحیم، کریم، سمیع، بصیر وغیرہ، تو ان میں یہ احتیاط ملحوظ رہنی چاہیے کہ بندے کے لیے ان کا استعمال اس طریقے پر نہ ہو جس طرح اللہ کے لیے ہوتا ہے۔
(3) اللہ کا نام ادب اور احترام کے ساتھ لیا جائے، کسی ایسے طریقے پر یا ایسی حالت میں نہ لیا جائے جو اس کے احترام کے منافی ہو، مثلاً ہنسی مذاق میں یا بیت الخلاء میں یا کوئی گناہ کرتے ہوئے اس کا نام لینا، یا ایسے لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کرنا جو اسے سن کر گستاخی پر اتر آئیں، یا ایسی مجلسوں میں اس کا نام لینا جہاں لوگ بیہودگیوں میں مشغول ہوں اور اس کا ذکر سن کر مذاق میں اڑا دیں، یا ایسے موقع پر اس کا نام پاک زبان پر لانا جہاں اندیشہ ہو کہ سننے والا اسے ناگواری کے ساتھ سنے گا۔ امام مالک کے حالات میں منقول ہے کہ جب کوئی سائل ان سے کچھ مانگتا اور وہ اس وقت اسے کچھ نہ دے سکتے تو عام لوگوں کی طرح اللہ دے گا نہ کہتے بلکہ کسی اور طرح معذرت کردیتے تھے۔ لوگوں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ سائل کو جب کچھ نہ دیا جائے اور اس سے معذرت کردی جائے تو لامحالہ اسے ناگوار ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر میں اللہ کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص اسے ناگواری کے ساتھ سنے۔
احادیث میں حضرت عقبہ بن عامر جہنی سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدے میں سجان ربی الاعلی پڑھنے کا حکم اسی آیت کی بنا پر دیا تھا، اور رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھنے کا جو طریقہ حضور نے مقرر فرمایا تھا وہ سورة واقعہ کی آخری آیت فسبخ باسم ربک العظیم۔ پر مبنی تھا (مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم، ابن المنذر)۔
Ayah 87:2سورة الْاَعْلٰی 2
یعنی زمین سے آسمانوں تک کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا، اور جو چیز بھی پیدا کی اسے بالکل راست اور درست بنایا، اس کا توازن اور تناسب ٹھیک ٹھیک قائم کیا، اس کو ایسی صورت پر پیدا کیا کہ اس جیسی چیز کے لیے اس سے بہتر صورت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہی بات ہے جو سورة سجدہ میں یوں فرمائی گئی ہے کہ الذی احسن کل شیء خلقہ (آیت 7)۔ " جس نے ہر چیز جو بنائی خوب بنائی "۔ اس طرح دنیا کی تمام اشیاء کا موزوں اور متناسب پیدا ہونا خود اس امر کی صریح علامت ہے کہ کوئی صانع حکیم ان سب کا خالق ہے۔ کسی اتفاقی حادثے سے، یا بہت سے خالقوں کے عمل سے کائنات کے ان بیشمار اجزاء کی تخلیق میں یہ سلیقہ، اور مجموعی طور پر ان سب اجزاء کے اجتماع سے کائنات میں یہ حسن و جمال پیدا نہ ہوسکتا تھا۔
Ayah 87:3سورة الْاَعْلٰی 3
یعنی ہر چیز کے پیدا کرنے سے پہلے یہ طے کردیا کہ اسے دنیا میں کیا کام کرنا ہے اور اس کام کے لیے اس کی مقدار کیا ہو، اس کی شکل کیا ہو، اس کی صفات کیا ہوں، اس کا مقام کس جگہ ہو، اس کے لیے بقاء اور قیام اور فعل کے لیے کیا مواقع اور ذرائع فراہم کیے جائیں، کس وقت وہ وجود میں آئے، کب تک اپنے حصے کا کام کرے اور کب کس طرح ختم ہوجائے۔ اس پوری اسکیم کا مجموعی نام اس کی " تقدیر " ہے، اور یہ تقدیر اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کے لیے اور مجموعی طور پر پوری کائنات کے لیے بنائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تخلیق کسی پیشگی منصوبے کے بغیر کچھ یونہی الل ٹپ نہیں ہوگئی ہے بلکہ اس کے لیے ایک پورا منصوبہ خالق کے پیش نظر تھا اور سب کچھ اس منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حواشی 13۔ 14۔ جلد سوم، الفرقان، حاشیہ 8۔ جلد پنجم، القمر حاشیہ 25۔ جلد ششم، عبس، حاشیہ 12)۔
سورة الْاَعْلٰی 4
یعنی کسی چیز کو بھی محض پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا، بلکہ جو چیز بھی جس کام کے لیے پیدا کی اسے اس کام کے انجام دینے کا طریقہ بتایا۔ بالفاظ دیگر وہ محض خالق ہی نہیں ہے، ھادی بھی ہے۔ اس نے یہ ذمہ لیا ہے کہ جو چیز جس حیثیت میں اس نے پیدا کی ہے اس کو ویسی ہی ہدایت دے جس کے وہ لائق ہے اور اسی طریقہ سے ہدایت دے جو اس کے لیے موزوں ہے۔ ایک قسم کی ہدایت زمین اور چاند سورج اور تاروں اور سیاروں کے لیے ہے جس پر وہ سب چل رہے ہیں اور اپنے حصے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ایک اور قسم کی ہدایت پانی اور ہوا اور روشنی اور جمادات و معدنیات کے لیے ہے جس کے مطابق وہ ٹھیک ٹھیک وہی خدمات بجا لا رہے ہیں جن کے لیے انہیں پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اور قسم کی ہدایت نباتات کے لیے ہے جس کی پیروی میں وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں نکالتے اور پھیلاتے ہیں، اس کی تہوں سے پھوٹ کر نکلتے ہیں، جہاں جہاں اللہ نے ان کے لیے غذا پیدا کی ہے وہاں سے اس کو حاصل کرتے ہیں، تنے شاخیں، پتیاں، پھل پھول لانے ہیں اور وہ کام پورا کرتے ہیں جو ان میں سے ہر ایک کے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔ ایک اور قسم کی ہدایت خشکی، تری اور ہوا کے حیوانات کی بیشمار انواع اور ان کے ہر فرد کے لیے ہے جس کی حیرت انگیز مظاہر جانوروں کی زندگی اور ان کے کاموں میں علانیہ نظر آتے ہیں، حتی کہ ایک دہریہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ مختلف قسم کے جانوروں کو کوئی ایسا الہامی علم حاصل ہے جو انسان کو اپنے حواس تو درکنار، اپنے آلات کے ذریعہ سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔ پھر انسان کے لیے دو الگ الگ نوعیتوں کی ہدایتیں ہیں جو اس کی دو الگ حیثیتوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ایک وہ ہدایت جو اس کی حیوانی زندگی کے لیے ہے، جس کی بدولت ہر بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینا سیکھ لیتا ہے، جس کے مطابق انسان کی آنکھ، ناک، کان، دماغ، پھیپھڑے، گردے، جگر، معدہ، آنتیں، اعصاب، رگیں اور شریانیں، سب اپنا اپنا کام کیے جا رہے ہیں بغیر اس کے کہ انسان کو اس کا شعور ہو یا اس کے ارادے کا ان اعضاء کے کاموں میں کوئی دخل ہو۔ یہی ہدایت ہے جس کے تحت انسان کے ا ندر بچپن، بلوغ، جوانی، کہولت اور بڑھاپے کے وہ سب جسمانی اور ذہنی تغیرات ہوتے چلے جاتے ہیں جو اس کے ارادے اور مرضی، بلکہ شعور کے بھی محتاج نہیں ہیں۔ دوسری ہدایت انسان کی عقلی اور شعوری زندگی کے لیے ہے جس کی نوعیت غیر شعوری زندگی کی ہدایت سے قطعاً مختلف ہے، کیونکہ اس شعبہ حیات میں انسان کی طرف ایک قسم کا اختیار منتقل کیا گیا ہے جس کے لیے ہدایت کا وہ طریقہ موزوں نہیں ہے جو بےاختیارانہ زندگی کے لیے موزوں ہے۔ انسان اس آخری قسم کی ہدایت سے منہ موڑنے کے لیے خواہ کتنی ہی حجت بازیاں کرے، لیکن یہ بات ماننے کے لائق نہیں ہے کہ جس خالق نے اس ساری کائنات میں ہر چیز کے لیے اس کی ساخت اور حیثیت کے مطابق ہدایت کا انتظام کیا ہے اس نے انسان کے لیے یہ تقدیر تو بنادی ہوگی کہ وہ اس کی دنیا میں اپنے اختیار سے تصرفات کرے مگر اس کو یہ بتانے کا کوئی انتظام نہ کیا ہوگا کہ اس اختیار کے استعمال کی صحیح صورت کیا ہے اور غلط صورت کیا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حواشی 9۔ 10۔ 14۔ 56۔ جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 23۔ جلد پنجم۔ الرحمن، حواشی 2۔ 3۔ جلد ششم، الدھر، حاشیہ 5)۔
Ayah 87:4سورة الْاَعْلٰی 5
اصل میں لفظ مرعیٰ استعمال ہوا ہے جو جانوروں کے چارے کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن سیاق عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں صرف چارہ مراد نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی نباتات مراد ہیں جو زمین سے اگتی ہیں۔
Ayah 87:5سورة الْاَعْلٰی 6
یعنی وہ صرف بہار ہی لانے والا نہیں ہے، خزاں بھی لانے والا ہے۔ تمہاری آنکھیں اس کی قدرت کے دونوں کرشمے دیکھ رہی ہیں۔ ایک طرف وہ ایسی ہری بھری نباتات اگاتا ہے جن کی تازگی و شادابی دیکھ کر دل خوش ہوجاتے ہیں، اور دوسری طرف اسی نباتات کو وہ زرد، خشک اور سیاہ کر کے ایسا کوڑا کرکٹ بنا دیتا ہے جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور سیلاب خس و خاشاک کی صورت میں بہا لے جاتے ہیں۔ اس لیے کسی کو بھی یہاں اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ وہ دنیا میں صرف بہار ہی دیکھے گا، خزاں سے اس کو سابقہ پیش نہیں آئے گا۔ یہی مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دوسرے انداز میں بیان ہوا ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو سورة یونس 24۔ سورة کہف، آیت 45۔ سورة حدید، آیت 20)۔
Ayah 87:6سورة الْاَعْلٰی 7
حاکم نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ مجاہد اور کلبی کہتے ہیں کہ جبریل وحی سنا کر فارغ نہ ہوتے تھے کہ حضور بھول جانے کے اندیشے سے ابتدائی حصہ دہرانے لگتے تھے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپ خاموشی سے سنتے رہیں، ہم آپ کو اسے پڑھوا دیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کو یاد ہوجائے گی، اس بات کا کوئی اندیشہ آپ نہ کریں کہ اس کا کوئی لفظ بھی آپ بھول جائیں گے۔ یہ تیسرا موقع ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کو وحی اخذ کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ اس سے پہلے کے دو مواقع سورة طٰہٰ آیت 114۔ اور سورة قیامہ آیات 16 تا 19 میں گزر چکے ہیں۔ اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن جس طرح معجزے کے طور پر آنحضور ﷺ پر نازل کیا گیا تھا اسی طرح معجزے کے طور پر ہی اس کا لفظ لفظ آپ کے حافظے میں محفوظ بھی کردیا گیا تھا اور اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہنے دیا گیا تھا کہ آپ اس میں سے کوئی چیز بھول جائیں، یا اس کے کسی لفظ کی جگہ کوئی دوسرا ہم معنی لفظ آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوجائے۔
Ayahs 87:7–8سورة الْاَعْلٰی 8
اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پورے قرآن کا لفظ بلفظ آپ کے حافظے میں محفوظ ہوجانا آپ کی اپنی قوت کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہے، ورنہ اللہ چاہے تو اسے بھلا سکتا ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو دوسری جگہ قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ، (بنی اسرائیل، 86) " اگر ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تمہیں عطا کیا ہے "۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی وقتی طور پر آپ کو نسیان لاحق ہوجانا اور آپ کا کسی آیت یا لفظ کو کسی وقت بھول جانا اس وعدے سے مستثنی ہے۔ وعدہ جس بات کا کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ مستقل طور پر قرآن کے کسی لفظ کو نہیں بھول جائیں گے۔ اس مفہوم کی تائید صحیح بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ قرات کے دوران میں ایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد حضرت ابی بن کعب نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے ؟ حضور نے فرمایا نہیں، میں بھول گیا تھا۔
سورة الْاَعْلٰی 9
ویسے تو یہ الفاظ عام ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے خواہ وہ ظاہر یا مخفی۔ لیکن جس سلسلہ کلام میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ جو قرآن کو جبریل ؑ کے ساتھ ساتھ پڑھتے جا رہے ہیں اس کا بھی اللہ کو علم ہے اور بھول جانے کے جس خوف کی بناپ آپ ایسا کر رہے ہیں وہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ اس لیے آپ کو یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ آپ اسے بھولیں گے نہیں۔
Ayah 87:9سورة الْاَعْلٰی 10
عام طور پر مفسرین نے ان دو فقروں کو الگ الگ سمجھا ہے۔ پہلے فقرے کا مطلب انہوں نے یہ لیا ہے کہ ہم تمہیں ایک آسان شریعت دے رہے ہیں جس پر عمل کرنا سہل ہے، اور دوسرے فقرے کا یہ مطلب لیا ہے کہ نصیحت کرو اگر وہ نافع ہو۔ لیکن ہمارے نزدیک فذکر کا لفظ دونوں فقروں کو باہم مربوط کرتا ہے اور بعد کے فقرے کا مضمون پہلے فقرے کے مضمون پر مترتب ہوتا ہے۔ اس لیے ہم اس ارشاد الہی کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اے نبی، ہم تبلیغ دین کے معاملہ میں تم کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے کہ تم بہروں کو سناؤ اور اندھوں کو راہ دکھاؤ، بلکہ ایک آسان طریقہ تمہارے لیے میسر کیے دیتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ نصیحت کرو جہاں تمہیں یہ محسوس ہو کہ کوئی اس سے فائدہ اٹھانے کے تیار ہے۔ اب رہی یہ بات کہ کون اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے اور کون نہیں ہے، تو ظاہر ہے کہ اس کا پتہ تبلیغ عام ہی سے چل سکتا ہے اس لیے عام تبلیغ تو جاری رکھنی چاہیے، مگر اس سے تمہارا مقصود یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے بندوں میں سے ان لوگوں کو تلاش کرو جو اس سے فائدہ اٹھا کر راہ راست اختیار کرلیں۔ یہی لوگ تمہاری نگاہ التفات کے مستحق ہیں اور انہی کی تعلیم و تربیت پر تمہیں توجہ صرف کرنا چاہیے۔ ان کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کے پیچھے پڑنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے جن کے متعلق تجربے سے تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ کوئی نصیحت قبول نہیں کرنا چاہتے۔ یہ قریب قریب وہی مضمون ہے جو سورة عبس میں دوسرے طریقے سے یوں بیان فرمایا گیا ہے کہ " جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو، حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ دا ری ہے ؟ اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے اس سے تم بےرخی برتتے ہو۔ ہرگز نہیں یہ تو ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے " (آیات 5 تا 12)۔
Ayahs 87:10–12سورة الْاَعْلٰی 11
یعنی جس شخص کے دل میں خدا کا خوف اور انجام بد کا اندیشہ ہوگا اسی کو یہ فکر ہوگی کہ کہیں میں غلط راستے پر تو نہیں جا رہا ہوں، اور وہی اللہ کے اس بندے کی نصیحت کو توجہ سے سنے گا جو اسے ہدایت اور گمراہی کا فرق اور فلاح وسعادت کا راستہ بتارہا ہو۔
Ayah 87:13سورة الْاَعْلٰی 12
یعنی نہ اسے موت ہی آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے، اور نہ جینے کی طرح جیے گا کہ زندگی کا کوئی لطف اسے حاصل ہو۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے ہے جو سرے سے اللہ اور اس کے رسول کی نصیحت کو قبول ہی نہ کریں اور مرتے دم تک کفر و شرک یا دہریت پر قائم رہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل میں ایمان رکھتے ہوں مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر جہنم میں ڈالے جائیں تو ان کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ اپنی سزا بھگت لیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں موت دے دے گا، پھر ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی ہوئی لاشیں جنت کی نہروں پر لا کر ڈالی جائیں گی اور اہل جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو اور اس پانی سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے نباتات پانی پڑنے سے اگ آتی ہیں۔ یہ مضمون رسول اللہ ﷺ سے مسلم میں حضرت ابو سعید خدری اور بزار میں حضرت ابوہریرہ کے حوالہ سے منقول ہوا ہے۔
Ayah 87:14سورة الْاَعْلٰی 13
پاکیزگی سے مراد ہے کفر و شرک چھوڑ کر ایمان لانا، برے اخلاق چھوڑ کر اچھے اخلاق اختیار کرنا، اور برے اعمال چھوڑ کر نیک اعمال کرنا، فلاح سے مراد دنیوی خوشخالی نہیں ہے بلکہ حقیقی کامیابی ہے، خواہ دنیا کی خوشحالی اس کے ساتھ میسر ہو یا نہ ہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 32۔ جلد سوم، المومنون، حواشی 1۔ 11۔ 50۔ جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 4)۔
Ayah 87:15سورة الْاَعْلٰی 14
یاد سے مراد دل میں بھی اللہ کو یاد کرنا ہے اور زبان سے بھی اس کا ذکر کرنا ہے۔ دونوں چیزیں ذکر الہی کی تعریف میں آتی ہیں۔
سورة الْاَعْلٰی 15
یعنی صرف یاد کر کے رہ نہیں گیا بلکہ نماز کی پابندی اختیار کر کے اس نے ثابت کردیا کہ جس خدا کو وہ اپنا خدا مان رہا ہے اس کی اطاعت کے لیے وہ عملاً تیار ہے اور اس کو ہمیشہ یاد کرتے رہنے کا اہتمام کر رہا ہے، اس آیت میں علی الترتیب دو باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے اللہ کو یاد کرنا، پھر نماز پڑھنا، اسی کے مطابق یہ طریقہ مقرر کیا گیا ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر نماز کی ابتدا کی جائے۔ یہ من جملہ ان شواہد کے ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا جو طریقہ رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے اس کے تمام اجزاء قرآنی اشارات پر مبنی ہیں۔ مگر اللہ کے رسول کے سوا ان ارشادات کو جمع کر کے کوئی شخص بھی نماز کی یہ ہیئت ترتیب نہیں دے سکتا تھا۔
Ayah 87:16سورة الْاَعْلٰی 16
یعنی تم لوگوں کی ساری فکر بس دنیا اور اس کی راحت و آسائش اور اس کے فائدوں اور لذتوں کے لیے ہے یہاں جو کچھ حاصل ہوجائے تم سمجھتے ہو کہ بس وہی اصل فائدہ ہے جو تمہیں حاصل ہوگیا، اور یہاں جس چیز سے محروم رہے تمہارا خیال ہے کہ بس وہی اصل نقصان ہے جو تمہیں پہنچ گیا۔
Ayahs 87:17–18سورة الْاَعْلٰی 17
یعنی آخرت دو حیثیتوں سے دنیا کے مقابلے میں قابل ترجیح ہے۔ ایک یہ کہ اس کی راحتیں اور لذتیں دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہیں اور دوسرے یہ کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی۔
Ayah 87:19سورة الْاَعْلٰی 18
یہ دوسرا مقام ہے جہاں قرآن میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں کی تعلیم کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے پہلے سورة نجم رکوع 3 میں ایک حوالہ گزر چکا ہے۔