86. Surah At-Taariq
الطارقThe Morning Star · 17 ayahsتفہیم القرآن
تعارف
نام
پہلی ہی آیت کے لفظ الطارق کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانہ نزول
اس کے مضمون کا انداز بیاں مکۂ معظمہ کی ابتدائی سورتوں سے ملتا جلتا ہے، مگر یہ اس زمانے کی نازل شدہ ہے جب کفار مکہ قرآن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو زک دینے کے لیے ہر طرح کی چالیں چل رہے تھے۔
موضوع اور مضمون
اس میں دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو مرنے کے بعد خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ دوسرے یہ کہ قرآن ایک قول فیصل ہے جسے کفار کی کوئی چال اور تدبیر زک نہیں دے سکتی۔ سب سے پہلے آسمان کے تاروں کو اس بات کی شہادت میں پیش کیا گیا ہے کہ کائنات میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ایک ہستی کی نگہبانی کے بغیر اپنی جگہ قائم اور باقی رہ سکتی ہو۔ پھر انسان کو خود اس کی اپنی ذات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کس طرح نطفے کی ایک بوند سے اس کو وجود میں لایا گیا اور جیتا جاگتا انسان بنادیا گیا۔ اس کے بعد فرمایا گیا کہ جو خدا اس طرح اسے وجود میں لایا ہے وہ یقیناً اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، اور یہ دوبارہ پیدائش اس غرض کے لیے ہوگی کہ انسان کے ان تمام رازوں کی جانچ پڑتال کی جائے جن پر دنیا میں پردہ پڑا رہ گیا تھا۔ اس وقت اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے سے انسان نہ اپنے بل بوتے پر بچ سکے گا اور نہ کوئی اس کی مدد کو آسکے گا۔ خاتمۂ کلام پر ارشاد ہوا ہے کہ جس طرح آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین سے درختوں اور فصلوں کا اگنا کوئی کھیل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ کام ہے، اسی طرح قرآن میں جو حقائق بیان کیے گئے ہیں وہ بھی کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے بلکہ پختہ اور اٹل باتیں ہیں۔ کفار اس غلط فہمی میں ہیں کہ ان کی چالیں اس قرآن کی دعوت کو زک دے دیں گی، مگر انہیں خبر نہیں ہے کہ اللہ بھی ایک تدبیر میں لگا ہوا ہے اور اس کی تدبیر کے آگے کفار کی چالیں سب دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ پھر ایک فقرے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی اور درپردہ کفار کو یہ دھمکی دے کر بات ختم کردی گئی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذرا صبر سے کام لیں اور کچھ مدت کفار کو اپنی سی کرلینے دیں، زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ ان کی چالیں قرآن کو زک دیتی ہیں یا قرآن اسی جگہ غالب آ کر رہتا ہے جہاں یہ اسے زک دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader
قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader
اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟
النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader
چمکتا ہوا تارا
اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader
کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ 1
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader
پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کِس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ 2
خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader
ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے
یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader
جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ 3
اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader
یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ 4
یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader
جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی5
فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader
اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader
قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی 6
وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader
اور (نباتات اگتے وقت) پھٹ جانے والی زمین کی
اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader
یہ ایک جچی تلی بات ہے
وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader
ہنسی مذاق نہیں ہے۔ 7
اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader
یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں 8
وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader
اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔ 9
فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader
پس چھوڑ دو اے نبیؐ ، اِن کافروں کو اِک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو۔ 10