Ayah 89:5سورة الْفَجْر 1
ان آیات کی تفسرین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلافات ہوا ہے حتی کہ " جفت اور طاق " کے بارے میں تو 36 اقوال ملتے ہیں۔ بعض روایات میں ان کی تفسیر رسول اللہ ﷺ کی طرف بھی منسوب کی گئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی تفسیر حضور سے ثابت نہیں ہے، ورنہ ممکن نہ تھا کہ صحابہ اور تابعین اور بعد کے مفسرین میں سے کوئی بھی آپ کی تفسیر کے بعد خود ان آیات کے معنی متعین کرنے کی جرات کرتا۔
انداز بیان پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ پہلے سے کوئی بحث چل رہی تھی جس میں رسول اللہ ﷺ ایک بات پیش فرما رہے تھے اور منکرین اس کا انکار کر رہے تھے۔ اس پر حضور کے قول کا اثبات کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قسم ہے فلاں اور فلاں چیزوں کی۔ مطلب یہ تھا کہ ان چیزوں کی قسم، جو محمد ﷺ کہہ رہے ہیں وہ بر حق ہے۔ پھر بات کو اس سوال پر ختم کردیا گیا کہ کیا کسی صاحب عقل کے لیے اس میں کوئی قسم ہے ؟ یعنی کیا اس حق بات پر شہادت دینے کے لیے اس کے بعد کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ کیا یہ قسم اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ ایک ہوشمند انسان اس بات کو مان لے جسے محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں ؟
اب سوال یہ ہے کہ وہ بحث تھی کیا جس پر ان چار چیزوں کی قسم کھائی گئی۔ اس کے لیے ہمیں اس پورے مضمون پر غور کرنا ہوگا جو بعد کی آیتوں میں " تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا " سے شروع ہو کر سورة کے آخر تک چلتا ہے۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ بحث جزا و سزا کے بارے میں تھی جس کو ماننے سے اہل مکہ انکار کر رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ انہیں اس کا قائل کرنے کے لیے مسلسل تبلیغ و تلقین فرما رہے تھے۔ اس پر فجر، اور دس راتوں اور جفت اور طاق، اور رخصت ہوتی ہوئی رات کی قسم کھا کر فرمایا گیا کہ اس بات کو باور کرنے کے لیے کیا یہ چیزیں کافی نہیں ہیں کہ کسی صاحب عقل آدمی کے سامنے اور کوئی چیز پیش کرنے کی ضرورت ہو ؟
ان قسموں کا یہ موقع و محل متعین ہوجانے کے بعد لا محالہ ہمیں ان میں سے ہر ایک کے وہ معنی لینے ہوں گے جو بعد کے مضمون پر دلالت کرتے ہوں۔ سب سے پہلے فرمایا " فجر کی قسم " فجر پو پھٹنے کو کہتے ہیں، یعنی وہ وقت جب رات کی تاریکی میں سے دن کی ابتدائی روشنی مشرق کی طرف ایک سفید دھاری کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ پھر فرمایا " دس راتوں کی قسم "۔ سلسلہ بیان کو نگاہ میں رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مہینے کی تیس راتوں میں سے ہر دس راتیں ہیں۔ پہلی دس راتیں وہ جن میں چاند ایک باریک ناخن کی شکل سے شروع ہو کر ہر رات کو بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ آدھے سے زیادہ روشن ہوجاتا ہے۔ دوسری دس راتیں وہ جن میں رات کا بڑا حصہ چاند سے روشن رہتا ہے۔ آخری دس راتیں وہ جن میں چاند چھوٹے سے چھوٹا اور رات کا بیشتر حصہ تاریک سے تاریک تر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ مہینے کے خاتمے پر پوری رات تاریک ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا " جفت اور طاق کی قسم "۔ جفت اس عدد کو کہتے ہیں جو دو برابر کے حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، جیسے 2۔ 4۔ 6۔ 8 اور طاق اس عدد کو کہتے ہیں جو تقسیم نہیں ہوتا، جیسے 1۔ 3۔ 5۔ 7۔ عمومی حیثیت سے دیکھا جائے تو اس سے مراد کائنات کی تمام چیزیں ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ ہر چیز یا تو جوڑا جوڑا ہے یا تنہا۔ لیکن چونکہ یہاں بات دن اور رات کی ہو رہی ہے، اس لیے سلسلہ مضمون کی مناسبت سے جفت اور طاقت کا مطلب تغیر ایام ہے کہ مہینے کی تاریخیں ایک سے دو اور دو سے تین ہوتی جاتی ہیں اور ہر تغیر ایک نئی کیفیت لے کر آتا ہے۔ آخر میں فرمایا " رات کی قسم جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو "۔ یعنی وہ تاریکی جو سورج غروب ہونے کے بعد سے دنیا پر چھائی ہوئی تھی، خاتمے پر آ لگی ہو اور پو پھٹنے والی ہو۔
اب ان چاروں چیزوں پر ایک مجموعی نگاہ ڈالیے جن کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ محمد ﷺ جزا و سزا کی جو خبر دے رہے ہیں وہ برحق ہے۔ یہ سب چیزیں اس حقیقت پر دلالت کر رہی ہیں کی ایک رب قدیر اس کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے، اور وہ جو کام بھی کر رہا ہے بےتکا، بےمقصد، بےحکمت، بےمصلحت نہیں کر رہا ہے بلکہ اس کے ہر کام میں صریحاً ایک حکیمانہ منصوبہ کار فرما ہے۔ اس کی دنیا میں تم یہ کبھی نہ دیکھو گے کہ ابھی رات ہے اور یکایک سورج نصف النہار پر آکھڑا ہوا۔ یا ایک روز چاند ہلال کی شکل میں طلوع ہوا اور دوسری روز چودھویں رات کا پورا چاند نمودار ہوجائے۔ یا رات آئی ہو تو کسی طرح اس کے ختم ہونے کی نوبت ہی نہ آئے اور وہ مستقل طور پر ٹھیر کر رہ جائے۔ یا تغیر ایام کا سرے سے کوئی باقاعدہ سلسلہ ہی نہ ہو کہ آدمی تاریخوں کا کوئی حساب رکھ سکے اور یہ جان سکے کہ یہ کونسا مہینہ ہے، اس کی کونسی تاریخ ہے، کس تاریخ سے اس کا کونسا کام شروع اور کب ختم ہونا ہے، گرمی کے موسم کی تاریخیں کونسی ہیں اور برسات یا سردی کے موسم کی تاریخیں کونسی۔ کائنات کی دوسری بیشمار چیزوں کو چھوڑ کر اگر آدمی شب و روز کی اس باقاعدگی ہی کو آنکھیں کھول کر دیکھے اور کچھ دماغ کو سوچنے کی تکلیف بھی دے تو اسے اس امر کی شہادت ملے گی کہ یہ زبردست نظم و ضبط کسی قادر مطلق کا قائم کیا ہوا ہے اور اس کے قیام سے اس مخلوق کی بیشمار مصلحتیں وابستہ ہیں جسے اس نے اس زمین پر پیدا کیا ہے۔ اب اگر ایسے حکیم و دانا اور قادر و توانا خالق کی دنیا میں رہنے والا کوئی شخص آخرت کی جزا و سزا کا انکار کرتا ہے تو وہ دو حماقتوں میں سے کسی ایک حماقت میں لامحالہ مبتلا ہے۔ یا تو وہ اس کی قدرت کا منکر ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کائنات کو ایسے بےنظیر نظم کے ساتھ پیدا کردینے پر تو قادر ہے مگر انسان کو دوبارہ پیدا کر کے اسے جزا و سزا دینے پر قادر نہیں ہے۔ یا وہ اس کی حکمت و دانائی کا منکر ہے اور اس کے بارے میں یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اس نے دنیا میں انسان کو عقل اور اختیارات دے کر پیدا تو کردیا مگر وہ نہ تو اس سے کبھی یہ حساب لے گا کہ اس نے اپنی عقل اور اپنے اختیارات سے کام کیا لیا، اور نہ اچھے کام کی جزا دے گا نہ برے کام کی سزا۔ ان دونوں باتوں میں جس بات کا بھی کوئی شخص قائل ہے وہ پرلے درجے کا احمق ہے۔
Ayah 89:6سورة الْفَجْر 2
جزا و سزا پر شب و روز کے نظام سے استدلال کرنے کے بعد اس کے ایک یقینی حقیقت ہونے پر انسانی تاریخ سے استدلال کیا جا رہا ہے۔ تاریخ کی چند معروف قوموں کے طرز عمل اور ان کے انجام کے ذکر سے مقصود یہ بتانا ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے بہرے قانون فطرت پر نہیں چل رہی ہے بلکہ ایک خدائے حکیم اس کو چلا رہا ہے اور اس خدا کی خدائی میں صرف ایک وہی قانون کار فرما نہیں ہے جسے تم قانون فطرت سمجھتے ہو، بلکہ ایک قانون اخلاق بھی کار فرما ہے جس کا لازمی تقاضا مکافات عمل اور جزا اور سزا ہے۔ اس قانون کی کار فرمائی کے آثار خود اس دنیا میں بھی بار بار ظاہر ہوتے رہے ہیں جو عقل رکھنے والوں کو یہ بتاتے ہیں کہ سلطنت کائنات کا مزاج کیا ہے۔ یہاں جن قوموں نے بھی آخرت سے بےفکر اور خدا کی جزا و سزا سے بےخوف ہو کر اپنی زندگی کا نظام چلایا وہ آخر کار فاسد و مفسد بن کر رہیں، اور جو قوم بھی اس راستے پر چلی اس پر کائنات کے رب نے آخر کار عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ انسانی تاریخ کا یہ مسلسل تجربہ دو باتوں کی واضح شہادت دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آخرت کا انکار ہر قوم کے بگاڑنے اور بالآخر تباہی کے غار میں دھکیل دینے کا موجب ہوا ہے اس لیے آخرت فی الواقع ایک حقیقت ہے جس سے ٹکرانے کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہر حقیقت سے ٹکرانے کا ہوا کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جزائے اعمال کسی وقت مکمل طور پر بھی واقع ہونے والی ہے، کیونکہ فساد کی آخری حد پر پہنچ کر عذاب کا کوڑا جن لوگوں پر برسا ان سے پہلے صدیوں تک بہت سے لوگ اس فساد کے بیج بو کر دنیا سے رخصت ہوچکے تھے اور ان پر کوئی عذاب نہ آیا تھا۔ خدا کے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی وقت ان سب کی باز پرس بھی ہو اور وہ بھی اپنے کیے کی سزا پائیں (قرآن مجید میں آخرت پر یہ تاریخی اور اخلاقی استدلال جگہ جگہ کیا گیا ہے اور ہم نے ہر جگہ اس کی تشریح کی ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 5۔ 6۔ یونس، حاشیہ 12۔ ہود، حواشی 57۔ 105۔ 115۔ ابراہیم، حاشیہ 9۔ جلد سوم، النمل، حواشی، 62۔ 86۔ الروم، حاشیہ 8۔ جلد چہارم، سبا، حاشیہ 25، ص، حواشی 29۔ 30۔ المومن، حاشیہ 80۔ الدخان، حواشی 33۔ 34۔ الجاثیہ، حواشی 27۔ 28۔ جلد پنجم، ق، حاشیہ 17۔ الذرایات، حاشیہ 21)۔
Ayah 89:7سورة الْفَجْر 3
عاد ارم سے مراد وہ قدیم قوم عاد ہے جسے قرآن مجید اور تاریخ عرب میں عاد اولی کا نام دیا گیا ہے۔ سورة نجم میں فرمایا گیا ہے کہ وانہ اھلک عاد الاولی۔ (آیت 50) " اور یہ کہ اس نے قدیم قوم عاد کو ہلاک کیا "، یعنی اس قوم عاد کو جس کی طرف حضرت ہود بھیجے گئے تھے اور جس پر عذاب نازل ہوا تھا۔ اس کے مقابلہ میں تاریخ عرب اس قوم کے ان لوگوں کو جو عذاب سے بچ کر بعد میں پھلے پھولے تھے عاد اخری کے نام سے یاد کرتی ہے۔ قدیم قوم عاد کو عاد ارم اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو ارم بن سام بن نوح ؑ سے چلی تھی۔ اسی شاخ کی کئی دوسری ضمنی شاخیں تاریخ میں مشہور ہیں جن میں سے ایک ثمود ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور دوسرے آرامی (Aramaeans) ہیں جو ابتداءً شام کے شمالی علاقوں میں آباد تھے اور جن کی زبان آرامی (Aramaic) سامی زبانوں میں بڑا اہم مقام رکھتی ہے۔
عاد کے لیے ذات العماد (اونچے ستونوں والے) کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ وہ بڑی بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور دنیا میں اونچے ستونوں پر عمارتیں کھڑی کرنے کا طریقہ سب سے پہلے انہی نے شروع کیا تھا۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ان کی اس خصوصیت کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ حضرت ہود نے ان سے فرمایا)
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آَيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129)
" یہ تمارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے " (الشعراء آیات 128۔ 129)۔
Ayah 89:8سورة الْفَجْر 4
یعنی وہ اپنے زمانے کی ایک بےنظیر قوم تھے، اپنی قوت اور شان و شوکت کے اعتبار سے کوئی قوم اس وقت دنیا میں ان کی ٹکر کی نہ تھی۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر ان کے متعلق فرمایا گیا ہے
وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً
، " تم کو جسمانی ساخت میں خوب تنو مند کیا " (الاعراف، آیت 69)۔
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً
، " رہے عاد تو انہوں نے زمین میں کسی حق کے بغیر اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ زورآور ؟ " (حم السجدہ، آیت 15)۔
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
، " اور تم نے جب کسی پر ہاتھ ڈالا جبار بن کر ڈالا " (الشعراء، آیت 130)۔
Ayah 89:9سورة الْفَجْر 5
وادی سے مراد وادی القریٰ ہے جہاں اس قوم نے پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بنائی تھیں غالباً تاریخ میں وہ پہلی قوم ہے جس نے چٹانوں کے اندر اس کی عمارتیں بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 57۔ 59۔ الحجر، حاشیہ 45۔ جلد سوم، الشعراء حواشی 95۔ 99 مع تصاویر)۔
Ayahs 89:10–13سورة الْفَجْر 6
فرعون کے لیے ذوالاوتاد (میخوں والا) کے الفاظ اس سے پہلے سورة ص آیت 12 میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کی فوجوں کو میخوں سے تشبیہ دی گئی ہو اور میخوں والا کا مطلب فوجوں والا ہو، کیونکہ انہی کی بدولت اس کی سلطنت اس طرح ہوئی تھی جیسے خیمہ میخوں کے ذریعہ سے مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد فوجوں کی کثرت ہو اور مطلب یہ ہو کہ اس کے لشکر جہاں بھی جا کر ٹھیرتے تھے وہاں ہر طرف ان کے خیموں کی میخیں ہی ٹھکی نظر آتی تھیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ میخیں ہوں جن سے ٹھوک کر وہ لوگوں کو عذاب دیتا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اہرام مصر کو میخوں سے تشبیہ دی گئی ہو کیونکہ وہ فراعنہ کی عظمت و شوکت کے وہ آثار ہیں جو صدیوں سے زمین پر جمے کھڑے ہیں۔
Ayah 89:14سورة الْفَجْر 7
ظالموں اور مفسدوں کی حرکات پر نگاہ رکھنے کے لیے گھات لگائے ہونے کے الفاظ تمثیلی استعارے کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ گھاٹ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کے انتظار میں اس غرض کے لیے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ زد پر آئے اسی وقت اس پر حملہ کر دے۔ وہ جس کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی خبر لینے کے لیے کون کہاں چھپا ہوا ہے۔ انجام سے غافل، بےفکری کے ساتھ وہ اس مقام سے گزرتا ہے اور اچانک شکار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت حال اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان ظالموں کی ہے جو دنیا میں فساد کا طوفان برپا کیے رکھتے ہیں۔ انہیں اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ خدا بھی کوئی ہے جو ان کی حرکات کو دیکھ رہا ہے۔ وہ پوری بےخوفی کے ساتھ روز بروز زیادہ سے زیادہ شرارتیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ حد آجاتی ہے جس سے آگے اللہ تعالیٰ انہیں بڑھنے نہیں دینا چاہتا اسی وقت ان پر اچانک اس کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔
Ayah 89:15سورة الْفَجْر 8
اب لوگوں کی عام اخلاقی حالت پر تنقید کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی زندگی میں یہ رویہ جن انسانوں نے اختیار کر رکھا ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ ان سے کبھی باز پرس نہ ہو، اور اس بات کو عقل و اخلاق کا تقاضا کیسے مانا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ کر کے جب انسان دنیا سے رخصت ہوجائے تو اسے کسی جزا اور سزا سے سابقہ پیش نہ آئے۔
Ayah 89:16سورة الْفَجْر 9
یعنی یہ ہے انسان کا مادہ پرستانہ نظریہ حیات۔ اسی دنیا کے مال و دولت اور جاہ و اقتدار کو وہ سب کچھ سمجھتا ہے۔ یہ چیز ملے تو پھول جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا نے مجھے عزت دار بنادیا، اور یہ نہ ملے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھے ذلیل کردیا۔ گویا عزت اور ذلت کا معیار اس کے نزدیک مال و دولت اور جاہ اقتدار کا ملنا یا نہ ملنا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت جسے وہ نہیں سمجھتا یہ ہے کہ اللہ نے جس کو دنیا میں جو کچھ بھی دیا ہے آزمائش کے لیے دیا ہے۔ دولت اور طاقت دی ہے تو امتحان کے لیے دی ہے کہ وہ اسے پا کر شکر گزار بنتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔ مفلس اور تنگ حال بنایا ہے تو اس میں بھی اس کا امتحان ہے کہ صبر اور قناعت کے ساتھ راضی برضا رہتا ہے اور جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے، یا اخلاق و دیانت کی ہر حد کو پھاند جانے پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اپنے خدا کو کو سنے لگتا ہے۔
Ayah 89:17سورة الْفَجْر 10
یعنی عزت اور ذلت کا معیار ہرگز نہیں ہے۔ تم سخت غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ اخلاق کی بھلائی اور برائی کے بجائے تم نے اسے معیار عزت و ذلت بنا رکھا ہے۔
سورة الْفَجْر 11
یعنی جب تک اس کا باپ زندہ رہتا ہے، اس کے ساتھ تمہارا برتاؤ کچھ اور ہوتا ہے اور جب اس کا باپ مرجاتا ہے تو ہمساٍئے اور دور کے رشتہ دار تو درکنار چچا ماموں اور بڑے بھائی تک اس سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔
Ayah 89:18سورة الْفَجْر 12
یعنی تمہارے معاشرے میں غریبوں کو کھانا کھلانے کا کوئی چرچا نہیں ہے۔ نہ کوئی خود کسی بھوکے کو کھانا کھلانے پر آمادہ ہوتا ہے، نہ لوگوں میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ بھوکوں کی بھوک مٹانے کے لیے کوئی فکر کریں اور ایک دوسرے کو اس کا انتظام کرنے پر اکسائیں۔
Ayah 89:19سورة الْفَجْر 13
عرب میں عورتوں اور بچوں کو تو میراث سے ویسے ہی محروم رکھا جاتا تھا اور لوگوں کا نظریہ اس باب میں یہ تھا کہ میراث کا حق صرف ان مردوں کو پہنچتا ہے جو لڑنے اور کنبے کی حفاظت کرنے کے قابل ہوں۔ اس کے علاوہ مرنے والے کے وارثوں میں جو زیادہ طاقتور اور با اثر ہوتا تھا وہ بلا تامل ساری میراث سمیٹ لیتا تھا اور ان سب لوگوں کا حصہ مار کھاتا تھا جو اپنا حصہ حاصل کرنے کا بل بوتا نہ رکھتے ہوں۔ حق اور فرض کی کوئی اہمیت ان کی نگاہ میں نہ تھی کہ ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض سمجھ کر حق دار کو اس کا حق دیں خواہ وہ اسے حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔
Ayah 89:20سورة الْفَجْر 14
یعنی جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی تمہیں کوئی فکر نہیں۔ جس طریقے سے بھی مال حاصل کیا جاسکتا ہو اسے حاصل کرنے میں تمہیں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ اور خواہ کتنا ہی مال مل جائے تمہاری حرص و طمع کی آگ کبھی نہیں بجھتی۔
Ayah 89:21سورة الْفَجْر 15
یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم دنیا میں جیتے جی یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی باز پرس کا وقت کبھی نہ آئے۔ جس جزا و سزا کا انکار کر کے تم نے زندگی کا یہ ہنجار اختیار کر رکھا ہے وہ کوئی انہونی اور خیالی بات نہیں ہے بلکہ وہ پیش آنی ہے اور اس وقت آنی ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 89:22سورة الْفَجْر 16
اصل الفاظ ہیں جاء ربک جن کا لفظی ترجمہ ہے " تیرا رب آئے گا "۔ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، اس لیے لامحالہ اس کو ایک تمثیلی انداز بیان ہی سمجھنا ہوگا جس سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اس کی سلطانی و قہاری کے آثار اس طرح ظاہر ہوں گے جیسے دنیا میں کسی بادشاہ کے تمام لشکروں اور راعیان سلطنت کی مدد سے وہ رعب طاری نہیں ہوتا جو بادشاہ کے بنفس نفیس خود دربار میں آجانے سے طاری ہوتا ہے۔
Ayahs 89:23–26سورة الْفَجْر 17
اصل الفاظ ہیں یومیذ یتذکر الانسان و انی لہ الذکری۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس روز انسان یاد کرے گا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کر کے آیا ہے اور اس پر نادم ہوگا، مگر اس وقت یاد کرنے اور نادم ہونے کا کیا فائدہ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس روز انسان کو ہوش آئے گا، اسے نصیحت حاصل ہوگی، اس کی سمجھ میں یہ بات آئے گی کہ جو کچھ اسے انبیاء نے بتایا تھا وہی صحیح تھا اور ان کی بات نہ مان کر اس نے حماقت کی، مگر اس وقت ہوش میں آنے اور نصیحت پکڑنے اور اپنی غلطی کو سمجھنے کا کیا فائدہ۔
Ayah 89:27سورة الْفَجْر 18
نفس مطمئن سے مراد وہ انسان ہے جس نے کسی شک و شبہ کے بغیر پورے اطمینان اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اللہ وحدہ لا شریک کو اپنا رب اور انبیاء کے لائے ہوئے دین حق کو اپنا دین قرار دیا، جو عقیدہ اور جو حکم بھی اللہ اور اس کے رسول سے ملا اسے سراسر حق مانا، جس چیز سے بھی اللہ کے دین نے منع کیا اس سے بادل ناخواستہ نہیں بلکہ اس یقین کے ساتھ رک گیا کہ فی الواقع وہ بری چیز ہے، جس قربانی کی بھی حق پرستی کی راہ میں ضرورت پیش آئی بےدریغ اسے پیش کردیا، جن مشکلات اور تکالیف اور مصائب سے بھی اس راہ میں سابقہ در پیش ہوا انہیں پورے سکون قلب کے ساتھ برداشت کیا، اور دوسرے راستوں پر چلنے والوں کو دنیا میں جو فوائد اور منافع اور لذائذ حاصل ہوتے نظر آ رہے تھے ان سے محروم رہ جانے پر اسے کوئی حسرت لاحق نہ ہوئی بلکہ وہ اس بات پر پوری طرح مطمئن رہا کہ دین حق کی پیروی نے اسے ان گندگیوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اسی کیفیت کو دوسری جگہ قرآن میں شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے (الانعام، آیت 125)۔
Ayahs 89:28–30سورة الْفَجْر 19
یہ بات اس سے موت کے وقت بھی کہی جائے گی، قیامت کے روز جب وہ دوبارہ اٹھ کر میدان حشر کی طرف چلے گا اس وقت بھی کہی جائے گی، اور جب اللہ کی عدالت میں پیشی کا موقع آئے گا اس وقت بھی کہی جائے گی ہر مرحلے پر اسے اطمینان دلایا جائے گا کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف جا رہا ہے۔