Ayah 90:1سورة الْبَلَد 1
اس سے پہلے ہم سورة قیامہ میں 1 میں اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ کلام کا آغاز " نہیں " سے کرنا اور پھر قسم کھا کر آگے بات شروع کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ لوگ کوئی غلط بات کہہ رہے تھے جس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نہیں، بات وہ نہیں ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ میں فلاں فلاں چیزوں کی قسم کھاتا ہوں کہ اصل بات یہ ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ وہ بات کیا تھی جس کی تردید میں یہ کلام نازل ہوا، تو اس پر بعد کا مضمون خود دلالت کر رہا ہے۔ کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ ہم جس طرز زندگی پر چل رہے ہیں اس میں کوئی خرابی نہیں ہے، دنیا کی زندگی بس یہی کچھ ہے کہ کھاؤ پیو، مزے اڑاؤ، اور جب وقت آئے تو مر جاؤ۔ محمد ﷺ خواہ مخواہ ہمارے اس طرز زندگی کو غلط ٹھیرا رہے ہیں اور ہمیں ڈرا رہے ہیں کہ اس پر کبھی ہم سے باز پرس ہوگی اور ہمیں جزا و سزا سے سابقہ پیش آئے گا۔
سورة الْبَلَد 2
یعنی شہر مکہ کی۔ اس مقام پر یہ بات کھولنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس شہر کی قسم کیوں کھائی جا رہی ہے۔ اہل مکہ اپنے شہر کا پس منظر خود جانتے تھے کہ کس طرح ایک بےآب وگیاہ وادی میں سنسان پہاڑوں کے درمیان حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی اور ایک شیر خوار بچے کو یہاں لا کر بےسہارا چھوڑا، کس طرح یہاں ایک گھر بنا کر ایسی حالت میں حج کی منادی کی جب کہ دور دور تک کوئی اس منادی کا سننے والا نہ تھا، اور پھر کس طرح یہ شہر آخر کار تمام عرب کا مرکز بنا اور ایسا حرم قرار پایا کہ صدہا برس تک عرب کی سرزمین بےآئین میں اس کے سوا امن کا کوئی مقام نہ تھا۔
Ayah 90:2سورة الْبَلَد 3
اصل الفاظ ہیں " أَنْتَ حِلٌّ بِهَـٰذَا الْبَلَدِ " اسکے تین معنی مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں اور آپ کے مقیم ہونے سے اس کی عظمت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگرچہ یہ شہر حرم ہے مگر ایک وقت آئے گا جب کچھ دیر کے لیے یہاں جنگ کرنا اور دشمنان دین کو قتل کرنا آپ کے لیے حلال ہوجائے گا۔ تیسرے یہ کہ اس شہر میں جنگل کے جانوروں تک کو مارنا اور درختوں تک کو کاٹنا اہل عرب کے نزدیک حرام ہے اور ہر ایک کو یہاں امن میسر ہے، لیکن حال یہ ہوگیا ہے کہ اے نبی، تمہیں یہاں کوئی امن نصیب نہیں تمہیں ستانا اور تمہارے قتل کی تدبیریں کرنا حلال کرلیا گیا ہے۔ اگرچہ الفاظ میں تینوں معنوں کی گنجائش ہے، لیکن جب ہم آگے کے مضمون پر غور کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پہلے دو معنی اس سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے اور تیسرا مفہوم ہی اس سے میل کھاتا ہے۔
Ayah 90:3سورة الْبَلَد 4
چونکہ مطلقاً باپ اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور آگے انسان کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے باپ سے مراد آدم ؑ ہی ہو سکتے ہیں۔ اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد سے مراد وہ تمام انسان ہیں جو دنیا میں پائے گئے ہیں، اب پائے جاتے ہیں اور آئندہ پائے جائیں گے۔
Ayah 90:4سورة الْبَلَد 5
یہ ہے وہ بات جس پر وہ قسمیں کھائی گئی ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ انسان کے مشقت میں پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں مزے کرنے اور چین کی بنسری بجانے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کے لیے یہ دنیا محنت اور مشقت اور سختیاں جھیلنے کی جگہ ہے اور کوئی انسان بھی اس حالت سے گزرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ شہر مکہ گواہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے اپنی جان کھپائی تھی تب یہ بسا اور عرب کا مرکز بنا۔ اس شہر مکہ میں محمد ﷺ کی حالت گواہ ہے کہ وہ ایک مقصد کے لیے طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں، حتی کہ یہاں جنگل کے جانوروں کے لیے امان ہے مگر ان کے لیے نہیں ہے۔ اور ہر انسان کی زندگی ماں کے پیٹ میں نطفہ قرار پانے سے لے کر موت کے آخری سانس تک اس بات پر گواہ ہے کہ اس کو قدم قدم پر تکلیف، مشقت، محنت، خطرات اور شدائد کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس کو تم بڑی سے بڑی قابل رشک حالت میں دیکھتے ہو وہ بھی جب ماں کے پیٹ میں تھا تو ہر وقت اس خطرے میں مبتلا تھا کہ اندر ہی مرجائے یا اس کا اسقاط ہوجائے۔ زچگی کے وقت اس کی موت اور زندگی کے درمیان بال بھر سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ پیدا ہوا تو اتنا بےبس کہ کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہوتا تو پڑے پڑے ہی سسک سسک کر مر جاتا۔ چلنے کے قابل ہوا تو قدم قدم پر گرا پڑتا تھا بچپن سے جوانی اور بڑھاپے تک ایسے ایسے جسمانی تغیرات سے اس کو گزرنا پڑا کہ کوئی تغیر بھی اگر غلط سمت میں ہوجاتا تو اس کی جان کے لالے پڑجاتے۔ وہ اگر بادشاہ یا ڈکٹیٹر بھی ہے تو کسی وقت اس اندیشے سے اس کو چین نصیب نہیں ہے کہ کہیں اس کے خلاف سازش سے کوئی بغاوت نہ کر بیٹھے۔ وہ اگر اپنے وقت کا قارون بھی ہے تو اس فکر میں ہر وقت غلطاں و پیچاں ہے کہ اپنی دولت کیسے بڑھائے اور کس طرح اس کی حفاظت کرے۔ غرض کوئی شخص بھی بےغل و غش چین کی نعمت سے بہرہ مند نہیں ہے، کیونکہ انسان پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 90:5سورة الْبَلَد 6
یعنی کیا یہ انسان جو ان حالات میں گھرا ہوا ہے، اس غرے میں مبتلا ہے کہ وہ دنیا میں جو کچھ چاہے کرے، کوئی بالاتر اقتدار اس کو پکڑنے اور اس کا سر نیچے کردینے والا نہیں ہے ؟ حالانکہ آخرت سے پہلے خود اس دنیا میں بھی ہر آن وہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی تقدیر پر کسی اور کی فرمانروائی قائم ہے جس کے فیصلوں کے آگے اس کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ زلزلے کا ایک جھٹکا، ہوا کا ایک طوفان، دریاؤں اور سمندروں کی ایک طغیانی اسے یہ بتادینے کے لیے کافی ہے کہ خدائی طاقتوں کے مقابلے میں وہ کتنا بل بوتا رکھتا ہے۔ ایک اچانک حادثہ اچھے خاصے بھلے چنگے انسان کو اپاہج بنا کر رکھ دیتا ہے۔ تقدیر کا ایک پلٹا بڑے سے بڑے با اقتدار آدمی کو عرش سے فرش پر لا گراتا ہے۔ عروج کے آسمان پر پہنچی ہوئی قوموں کی قسمتیں جب بدلتی ہیں تو وہ اسی دنیا میں ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتی ہیں جہاں کوئی ان سے آنکھ ملانے کی ہمت نہ رکھتا تھا۔ اس انسان کے دماغ میں آخر کہاں سے یہ ہوا بھر گئی کہ کسی کا اس پر بس نہیں چل سکتا ؟
Ayah 90:6سورة الْبَلَد 7
" أَنْفَقْتُ مَالًا لُّبَدًا " " میں نے ڈھیر سا مال خرچ کردیا " نہیں کہا بلکہ " أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا " کہا جس کے لفظی معنی ہیں " میں نے ڈھیر سا مال ہلاک کردیا "، یعنی لٹا دیا یا اڑا دیا۔ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ کہنے والے کو اپنی مال داری پر کتنا فخر تھا کہ جو ڈھیر سا مال اس نے خرچ کیا وہ اس کی مجموعی دولت کے مقابلے میں اتنا ہیچ تھا کہ اس کے لٹا دینے یا اڑا دینے کی اسے کوئی پروا نہ تھی۔ اور یہ مال اڑا دینا تھا کس مد میں ؟ کسی حقیقی نیکی کے کام میں نہیں، جیسا کہ آگے کی آیات سے خود بخود مترشح ہوتا ہے، بلکہ اپنی دولت مندی کی نمائش اور اپنے فخر اور اپنی بڑائی کے اظہار میں۔ قصیدہ گو شاعروں کو بھاری انعامات دینا۔ شادی اور غمی کی رسموں میں سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کی دعوت کر ڈالنا۔ جوے میں ڈھیروں دولت ہار دینا۔ جوا جیت جانے پر اونٹ پر اونٹ کاٹنا اور خوب یار دوستوں کو کھلانا۔ میلوں میں بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ جانا اور دوسرے سرداروں سے بڑھ کر شان و شوکت کا مظاہرہ کرنا۔ تقریبات میں بےتحاشا کھانے پکوانا اور اذن عام دے دینا کہ جس کا جی چاہے آئے اور کھائے، یا اپنے ڈیرے پر کھلا لنگر جاری رکھنا کہ دور دور تک یہ شہرت ہوجائے کہ فلاں رئیس کا دسترخواں بڑا وسیع ہے۔ یہ اور ایسے ہی دوسرے نمائشی اخراجات تھے جنہیں جاہلیت میں آدمی کی فیاضی اور فراخ دلی کی علامت اور اس کی بڑائی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ انہی پر ان کی تعریفوں کے ڈنکے بجتے تھے۔ انہی پر ان کی مدح کے قصیدے پڑھے جاتے تھے۔ اور وہ خود بھی ان پر دوسروں کے مقابلے میں اپنا فخر جتاتے تھے۔
Ayahs 90:7–8سورة الْبَلَد 8
یعنی کیا یہ فخر جتانے والا یہ نہیں سمجھتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو دیکھ رہا ہے کہ کن ذرائع سے اس نے یہ دولت حاصل کی، کن کاموں میں اسے کھپایا، اور کس نیت، کن اغراض اور کن مقاصد کے لیے اس نے یہ سارے کام کیے ؟ کیا وہ سمجھتا ہے کہ خدا کے ہاں اس فضول خرچی، اس شہرت طلبی اور اس تفاخر کی کوئی قدر ہوگی ؟ کیا اس کا خیال ہے کہ دنیا کی طرح خدا بھی اس سے دھوکا کھا جائے گا ؟
Ayah 90:9سورة الْبَلَد 9
مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے اسے علم اور عقل کے ذرائع نہیں دیے ؟ دو آنکھوں سے مراد گائے بھینس کی آنکھیں نہیں بلکہ وہ انسانی آنکھیں ہیں جنہیں کھول کر آدمی دیکھے تو اسے ہر طرف وہ نشانات نظر آئیں جو حقیقت کا پتہ دیتے ہیں اور صحیح و غلط کا فرق سمجھاتے ہیں۔ زبان اور ہونٹوں سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں ہیں بلکہ نفس ناطقہ ہے جو ان آلات کی پشت پر سوچنے سمجھنے کا کام کرتا ہے اور پھر ان سے اظہار مافی الضمیر کا کام لیتا ہے۔
Ayah 90:10سورة الْبَلَد 10
یعنی ہم نے محض عقل و فکر کی طاقتیں عطا کر کے اسے چھوڑ نہیں دیا کہ اپنا راستہ خود تلاش کرے، بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی اور اس کے سامنے بھلائی اور برائی، نیکی اور بدی کے دونوں راستے نمایاں کر کے رکھ دیے تاکہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ان میں سے جس کو چاہے اپنی ذمہ داری پر اختیار کرلے۔ یہ وہی بات ہے جو سورة دھر میں فرمائی گئی ہے کہ " ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا "۔ (آیات 2۔ 3) تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، الدھر، حواشی 3 تا 5۔
Ayahs 90:11–15سورة الْبَلَد 11
اصل الفاظ ہیں " فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ " اقتحام کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقت طلب کام میں ڈالنا۔ اور عقبہ اس دشوار گزار راستے کو کہتے ہیں جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دو راستے جو ہم نے اسے دکھائے ان میں سے ایک بلندی کی طرف جاتا ہے مگر مشقت طلب اور دشوار گزار ہے۔ اس میں آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے اور شیطان کی ترغیبات سے لڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ اور دوسرا آسان راستہ ہے جو کھڑوں میں اترتا ہے، مگر اس سے پستی کی طرف جانے کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ بس اپنے نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دینا کافی ہے، پھر آدمی خود نشیب کی طرف لڑھکتا چلا جاتا ہے۔ اب یہ آدمی جس کو ہم نے دونوں راستے دکھا دیے تھے، اس نے ان میں سے پستی کی جانب جانے والے راستے کو اختیار کرلیا اور اس مشقت طلب راستے کو چھوڑ دیا جو بلندی کی طرف جانے والا ہے۔
Ayah 90:16سورة الْبَلَد 12
اوپر چونکہ اس کی فضول خرچیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ اپنی بڑائی کی نمائش اور لوگوں پر اپنا فخر جتانے کے لیے کرتا ہے، اس لیے اب اس کے مقابلے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کونسا خرچ اور مال کا کونسا مصرف ہے جو اخلاق کی پستیوں میں گرانے کے بجائے آدمی کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے، مگر اس میں نفس کی کوئی لذت نہیں ہے بلکہ آدمی کو اس کے لیے اپنے نفس پر جبر کر کے ایثار اور قربانی سے کام لینا پڑتا ہے۔ وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی کسی غلام کو خود آزاد کرے، یا اس کی مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کرلے، یا کسی غریب کی گردن قرض کے جال سے نکالے، یا کوئی بےوسیلہ آدمی اگر کسی تاوان کے بوجھ سے لد گیا ہو تو اس کی جان اس سے چھڑائے۔ اسی طرح وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی بھوک کی حالت میں کسی قریبی یتیم (یعنی رشتہ دار یا پڑوسی یتیم) اور کسی ایسے بےکس محتاج کو کھانا کھلائے جسے غربت و افلاس کی شدت نے خاک میں ملا دیا ہو اور جس کس کی دستگیری کرنے والا کوئی نہ ہو۔ ایسے لوگوں کی مدد سے آدمی کی شہرت کے ڈنکے تو نہیں بجتے اور نہ ان کو کھلا کر آدمی دولت مندی اور دریا دلی کے وہ چرچے ہوتے ہیں جو ہزاروں کھاتے پیتے لوگوں کی شاندار دعوتیں کرنے سے ہوا کرتے ہیں، مگر اخلاق کی بلندیوں کی طرف جانے کا راستہ اسی دشوار گزار گھاٹی سے ہو کر گزرتا ہے۔
ان آیات میں نیکی کے جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے بڑے فضائل رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں۔ مثلاً " فَكُّ رَقَبَةٍ " (گردن چھڑانے) کے بارے میں حضور کی بکثرت احادیث روایات میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے ایک حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت ہے کہ حضور نے فرمایا جس شخص نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے شخص کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچا لے گا، ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ، پاؤں کے بدلے میں پاؤں، شرمگاہ کے بدلے میں شرمگاہ (مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی)۔ حضرت علی بن حسین (امام زین العابدین) نے اس حدیث کے راوی سعد بن مرجانہ سے پوچھا کیا تم نے ابوہریرہ سے یہ حدیث خود سنی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس پر امام زین العابدین نے اپنے سب سے زیادہ قیمتی غلام کو بلایا اور اسی وقت اسے آزاد کردیا۔ مسلم میں بیان کیا گیا ہے کہ اس غلام کے لیے ان کو دس ہزار درہم قیمت مل رہی تھی۔ امام ابوحنیفہ اور امام شعبی نے اسی آیت کی بنا پر کہا ہے کہ غلام آزاد کرنا صدقے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صدقے پر مقدم رکھا ہے۔
مساکین کی مدد کے فضائل بھی حضور نے بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث ہے کہ حضور نے فرمایا " الساعی علی الارملۃ و المسکین کالساعی فی سبیل اللہ و احسبہ قال کالقائم لا یفترو کالصائم لا یفطر " " بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا۔ (اور حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ) مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضور نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا رہے اور آرام نہ لے اور وہ جو پے درپے روزے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے " (بخاری و مسلم)
یتامی کے بارے میں حضور کے بیشمار ارشادات ہیں۔ حضرت سہل بن سعد کی روایت ہے کہ " رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور وہ شخص جو کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار یتیم کی کفالت کرے، جنت میں اس طرح ہوں گے یہ فرما کر آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو اٹھا کر دکھایا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا " (بخاری)۔ حضرت ابوہریرہ حضور کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ " مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے نیک سلوک ہو رہا ہو اور بد ترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے برا سلوک ہو رہا ہو " (ابن ماجہ۔ بخاری فی الادب المفرد)۔ حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا " جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور محض اللہ کی خاطر پھیرا اس بچے کے ہر بال کے بدلے جس پر اس شخص کا ہاتھ گزرا اس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے کسی یتیم لڑکے یا لڑکی کے ساتھ نیک برتاؤ کیا وہ اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے "۔ اور یہ فرما کر حضور نے اپنی دو انگلیاں ملا کر بتائیں (مسند احمد، ترمذی)۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ سرکار رسالت ماب نے ارشاد فرمایا " جس نے کسی یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں شامل کیا اللہ نے اس کے لیے جنت واجب کردی الا یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کر بیٹھا ہو جو معاف نہیں کیا جاسکتا " (شرح السنہ)۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میرا دل سخت ہے۔ حضور نے فرمایا " یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا " (مسند احمد)۔
Ayahs 90:17–18سورة الْبَلَد 13
یعنی ان اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن ہو، کیونکہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل صالح ہے اور نہ اللہ کے ہاتھ وہ مقبول ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کی تصریح کی گئی ہے کہ نیکی وہی قابل قدر اور ذریعہ نجات ہے جو ایمان کے ساتھ ہو۔ مثلاً سورة نساء میں فرمایا " جو نیک اعمال کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے " (آیت 124)۔ سورة نحل میں فرمایا " جو نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ایسے لوگوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے " (آ یت 97)۔ سورة مومن میں فرمایا " اور جو نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، وہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائے گا " (آیت 40)۔ قرآن پاک کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ یہ دیکھے گا کہ اس کتاب میں جہاں بھی عمل صالح کے اجر اور اس کی جزائے خیر کا ذکر کیا گیا ہے وہاں لازماً اس کے ساتھ ایمان کی شرط لگی ہوئی ہے۔ عمل بلا ایمان کو کہیں بھی خدا کے ہاں مقبول نہیں قرار دیا گیا ہے اور نہ اس پر کسی اجر کی امید دلائی گئی ہے۔
اس مقام پر یہ اہم نکتہ بھی نگاہ سے مخفی نہ رہنا چاہیے کہ آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ " پھر وہ ایمان لایا " بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ " پھر وہ ان لوگوں میں شامل ہوا جو ایمان لائے "۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ محض ایک فرد کی حیثیت سے اپنی جگہ ایمان لا کر رہ جانا مطلوب نہیں ہے، بلکہ مطلوب یہ ہے کہ ہر ایمان لانے والا ان دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جائے جو ایمان لائے ہیں تاکہ اس اہل ایمان کی ایک جماعت بنے، ایک مومن معاشرہ وجود میں آئے، اور اجتماعی طور پر ان بھلائیوں کو قائم کیا جائے جن کا قائم کرنا، اور ان برائیوں کو مٹایا جائے جن کا مٹانا ایمان کا تقاضا ہے۔
سورة الْبَلَد 14
یہ مومن معاشرے کی دو اہم خصوصیات ہیں جن کو دو مختصر فقروں میں بیان کردیا گیا ہے۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں۔ اور دوسری یہ کہ وہ ایک دوسرے کو رحم کی تلقین کریں۔
جہاں تک صبر کا تعلق ہے، ہم اس سے پہلے بارہا اس امر کی وضاحت کرچکے ہیں کہ قرآن مجید جس وسیع مفہوم میں اس لفظ کو استعمال کرتا ہے اس کے لحاظ سے مومن کی پوری زندگی صبر کی زندگی ہے، اور ایمان کے راستے میں قدم رکھتے ہی آدمی کے صبر کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ خدا کی فرض کردہ عبادتوں کے انجام دینے میں صبر درکار ہے۔ خدا کے احکام کی اطاعت و پیروی میں صبر کی ضرورت ہے۔ خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اخلاق کی برائیوں کو چھوڑنا اور پاکیزہ اخلاق اختیار کرنا صبر چاہتا ہے۔ قدم قدم پر گناہوں کی ترغیبات سامنے آتی ہیں جن کا مقابلہ صبر ہی سے ہوسکتا ہے۔ بیشمار مواقع زندگی میں ایسے پیش آتے ہیں جن میں خدا کے قانون کی پیروی کی جائے تو نقصانات، تکالیف، مصائب، اور محرومیوں سے سابقہ پڑتا ہے اور اس کے برعکس نافرمانی کی راہ اختیار کی جائے تو فائدے اور لذتیں حاصل ہوتی نظر آتی ہیں۔ صبر کے بغیر ان مواقع سے کوئی مومن بخریت نہیں گزر سکتا۔ پھر ایمان کی راہ اختیار کرتے ہی آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشات سے لے کر اپنے اہل و عیال، اپنے خاندان، معاشرے، اپنے ملک و قوم، اور دنیا بھر کے شیاطین جن و انس کی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتی کہ راہ خدا میں ہجرت اور جہاد کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان سب حالات میں صبر ہی کی صفت آدمی کو ثابت قدم رکھ سکتی ہے۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ ایک ایک مومن اکیلا اکیلا اس شدید امتحان میں پڑجائے تو ہر وقت شکست کھا جانے کے خطرے سے دوچار ہوگا اور مشکل ہی سے کامیاب ہو سکے گا۔ بخلاف اس کے اگر ایک مومن معاشرہ ایسا موجود ہو جس کا ہر فرد خود بھی صابر ہو اور جس کے سارے افراد ایک دوسرے کو صبر کے اس ہمہ گیر امتحان میں سہارا بھی دے رہے ہوں تو کامرانیاں اس معاشرے کے قدم چومیں گی۔ بدی کے مقابلے میں ایک بےپناہ طاقت پیدا ہوجائے گی۔ انسانی معاشرے کو بھلائی کے راستے پر لانے کے لیے ایک زبردست لشکر تیار ہوجائے گا۔
رہا رحم، تو اہل ایمان کے معاشرے کی امتیازی شان یہی ہے کہ وہ ایک سنگدل، بےرحم اور ظالم معاشرہ نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کے لیے رحیم و شفیق اور آپس میں ایک دوسرے کا ہمدرد و غمخوار معاشرہ ہوتا ہے۔ فرد کی حیثیت سے بھی ایک مومن اللہ کی شان رحیمی کا مظہر ہے، اور جماعت کی حیثیت سے بھی مومنوں کا گروہ خدا کے اس رسول کا نمائندہ ہے جس کی تعریف میں فرمایا گیا ہے کہ " وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ " (الانبیاء۔ 106) آنحضور نے سب سے بڑھ کر جس بلند اخلاقی صفت کو اپنی امت میں فروغ دینے کی کوشش فرمائی ہے وہ یہی رحم کی صفت ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے حسب ذیل ارشادات ملاحظہ ہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی نگاہ میں اس کی کیا اہمیت تھی۔ حضرت جریر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لا یرحم اللہ من لا یرحم الناس (بخاری۔ مسلم)
اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا
الراحمون یرحمھم الرحمن۔ ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء (ابو داؤد۔ ترمذی)
رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرتا ہے۔ زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
حضرت ابو سعید خدری حضور کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں
من لا یرحم لا یرحم (بخاری فی الادب المفرد)۔
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنا (ترمذی)
وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے، اور ہمارے بڑے کی توقیر نہ کرے۔
ابو داؤد نے حضور کے اس ارشاد کو حضرت عبداللہ بن عمرو کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے
من لم یرحم صغیرنا و یعرف حق کبیرنا فلیس منا۔
جس نے ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھایا اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم صادق و مصدوق ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے
لا تنزع الرحمۃ الا من شقی (مسند احمد۔ ترمذی)
بد بخت آدمی کے دل ہی سے رحم سلب کرلیا جاتا ہے۔
حضرت عیاض بن حمار کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا تین قسم کے آدمی جنتی ہیں۔ ان میں سے ایک
رجل رحیم رقیق القلب لکل ذی قربی و مسلم۔ (مسلم)
وہ شخص ہے جو ہر رشتہ دار اور ہر مسلمان کے لیے رحیم اور رقیق القلب ہو۔
حضرت نعمان بن بشیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
تری المومنین و تراحمھم و تو ادھم و تعاطفھم کمثل الجسد اذا اشتکی عضوا تداعی لہ سائر الجسد بالسھر و الحمی۔ (بخاری و مسلم)
تم مومنوں کو آپس کے رحم اور محبت اور ہمدری کے معاملہ میں ایک جسم کی طرح پاؤ گے کہ اگر ایک عضور میں کوئی تکلیف ہو تو سارا جسم اس کی خاطر بےخوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا
المومن للمومن کالبنیان یشد بعضہ بعضاً
مومن دوسرے مومن کے لیے اس دیوار کی طرح ہے جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر حضور کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں
المسلم اخو المسلم لا یظلمہ و لا یسلمہ و من کان فی حاجۃ اخیہ کان اللہ فی حاجتہ و من فرج عن مسلم کر بۃ فرج اللہ عنہ کر بۃ من کر بات یوم القیامۃ و من ستر مسلما سترہ اللہ یوم القیامۃ۔ (بخاری و مسلم)
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اس کی مدد سے باز رہتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی کسی حاجت کو پورا کرنے میں لگا ہوگا اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگ جائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو کسی مصیبت سے نکالے گا اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت کی مصیبتوں میں سے کسی مصیبت سے نکال دے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا اللہ قیامت کے روز اس کی عیب پوشی کرے گا۔
ان ارشادات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ نیک اعمال کرنے والوں کو ایمان لانے کے بعد اہل ایمان کے گروہ میں شامل ہونے کی جو ہدایت قرآن مجید کی اس آیت میں دی گئی ہے اس سے کس قسم کا معاشرہ بنانا مقصود ہے۔
Ayah 90:19سورة الْبَلَد 15
دائیں بازو اور بائیں بازو کی تشریح ہم سورة واقعہ کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الواقعہ، حواشی 5۔ 6۔
Ayah 90:20سورة الْبَلَد 16
یعنی آگ اس طرح ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوگی کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔