91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلے ہی لفظ الشمس کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

مضمون اور انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ مگر اس کا نزول اس زمانے میں ہوا جب مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع نیکی اور بدی کا فرق سمجھانا اور ان لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہے جو اس فرق کو سمجھنے سے انکار اور بدی کی راہ چلنے پر اصرار کرتے ہیں۔ مضمون کے لحاظ سے یہ سورت دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ سورت کے آغاز سے شروع ہو کر آیت 10 پر ختم ہوتا ہے، اور دوسرا حصہ آیت 11 سے آخر تک چلتا ہے۔ پہلے حصہ میں تین باتیں سمجھائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح سورج اور چاند، دن اور رات، زمین اور آسمان ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں، اسی طرح نیکی اور بدی بھی ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں۔ یہ دونوں نہ اپنی شکل میں یکساں ہیں اور نہ ان کے نتائج یکساں ہو سکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو جسم، حواس اور ذہن کی قوتیں دے کر دنیا میں بالکل بیخبر نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ ایک فطری الہام کے ذریعہ سے اس کے لاشعور میں نیکی اور بدی کا فرق، بھلے اور برے کا امتیاز، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس اتار دیا ہے۔ تیسرے یہ کہ انسان کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے اندر تمیز، ارادے اور فیصلے کی جو قوتیں اللہ نے رکھ دی ہیں ان کو استعمال کر کے وہ اپنے نفس کے اچھے اور برے رجحانات میں سے کس کو ابھارتا ہے اور کس کو دباتا ہے۔ اگر وہ اچھے رجحانات کو ابھارے اور برے رجحانات سے اپنے نفس کو پاک کرے تو فلاح پائے گا۔ اور اس کے برعکس اگر وہ نفس کی اچھائی کو دبائے اور برائی کو ابھارے تو نامراد ہوگا۔ دوسرے حصے میں قوم ثمود کی تاریخی نظیر کو پیش کرتے ہوئے رسالت کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔ رسول دنیا میں اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ بھلائی اور برائی کا جو الہامی علم اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے وہ بجائے خود انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اس کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان خیر و شر کے غلط فلسفے اور معیار تجویز کر کر کے گمراہ ہوتا رہا ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس فطری الہام کی مدد کے لیے انبیاء (علیہم السلام) پر واضح اور صاف صاف وحی نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کھول کر بتائیں کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا۔ ایسے ہی ایک نبی، حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کی طرف بھیجے گئے تھے۔ مگر وہ اپنے نفس کی برائی میں غرق ہو کر اتنی سرکش ہوگئی تھی کہ اس نے ان کو جھٹلا دیا، اور اس کا منہ مانگا معجزہ جب انہوں نے ایک اونٹنی کی شکل میں پیش کیا تو ان کی تنبیہ کے باوجود اس قوم کے ایک شریر ترین آدمی نے ساری قوم کی خواہش اور طلب کے مطابق اسے بھی قتل کردیا۔ اس کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ پوری قوم تباہ کر کے رکھ دی گئی۔ ثمود کا یہ قصہ پیش کرتے ہوئے پوری سورت میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اے قوم قریش، اگر تم ثمود کی طرح اپنے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلاؤ گے تو وہی انجام دیکھو گے جو ثمود نے دیکھا ہے۔ مکہ میں اس وقت حالات وہی موجود تھے جو صالح (علیہ السلام) کے مقابلے میں قوم ثمود کے اشرار نے پیدا کر رکھے تھے۔ اس لیے ان حالات میں یہ قصہ سنا دینا بجائے خود اہل مکہ کو یہ سمجھا دینے کے لیے کافی تھا کہ ثمود کی یہ تاریخی نظیر ان پر کس طرح چسپاں ہو رہی ہے۔

Ayahs 91:1–3

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

سُورج اور اُس کی دُھوپ 1 کی قسم

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور چاند کی قسم جبکہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہے

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور دن کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) نمایاں کر دیتا ہے

سورة الشَّمْس 1 اصل میں لفظ ضحی استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی اور اس کی حرارت، دونوں پر دلالت کرتا ہے۔ اگرچہ عربی زبان میں اس کے معروف معنی چاشت کے وقت کے ہیں جبکہ سورج طلوع ہونے کے بعد خاصا بلند ہوجاتا ہے۔ لیکن جب سورج چڑھتا ہے تو صرف روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ گرمی بھی دیتا ہے، اس لیے ضحی کا لفظ جب سورج کی طرف منسوب ہو تو اس کا پورا مفہوم اس کی روشنی، یا اس کی بدولت نکلنے والے دن کے بجائے اس کی دھوپ ہی سے زیادہ صحیح طور پر ادا ہوتا ہے۔
Ayah 91:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور رات کی قسم جبکہ وہ (سُورج کو) ڈھانک لیتی ہے، 2

سورة الشَّمْس 2 یعنی رات کی آمد پر سورج چھپ جاتا ہے اور اس کی روشنی رات بھر غائب رہتی ہے۔ اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ رات سورج کو ڈھانک لیتی ہے، کیونکہ رات کی اصل حقیقت سورج کا افق سے نیچے اتر جانا ہے، جس کی وجہ سے اس کی روشنی زمین کے اس حصے تک نہیں پہنچ سکتی جہاں رات طاری ہوگئی ہو۔
Ayahs 91:5–6

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور آسمان کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیا، 3

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایا

سورة الشَّمْس 3 یعنی چھت کی طرح اسے زمین پر اٹھا کھڑا کیا۔ اس آیت اور اس کے بعد کی دو آیتوں میں ما کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی " مَا بَنَاهَا "، اور " مَا طَحَاهَا " اور " مَا سَوَّاهَا " اس لفظ ما کو مفسرین کے ایک گروہ نے مصدری معنوں میں لیا ہے اور وہ ان آیتوں کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آسمان اور اس کے قائم کیے جانے کی قسم، زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم، اور نفس اور اس کے ہموار کیے جانے کی قسم۔ لیکن یہ معنی اس لیے درست نہیں ہیں کہ ان تین فقروں کے بعد یہ فقرہ کہ " پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی " اس سلسلہ کلام کے ساتھ ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ دوسرے مفسرین نے یہاں ما کو من یا الذی کے معنی میں لیا ہے، اور وہ ان فقروں کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ جس نے آسمان کو قائم کیا، جس نے زمین کو بچھایا اور جس نے نفس کو ہموار کیا۔ یہی دوسرا مطلب ہمارے نزدیک صحیح ہے، اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ ما عربی زبان میں بےجان اشیاء اور بےعقل مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خود قرآن میں اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ ما کو من کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً " وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ " (اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں)۔ " فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ " (پس عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرلو)۔ " وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ " (اور جن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرو)۔
Ayah 91:7

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور نفسِ انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا 4

سورة الشَّمْس 4 ہموار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ایسا جسم عطا کیا جو اپنے قامت راست اور اپنے ہاتھ پاؤں اور اپنے دماغ کے اعتبار سے انسان کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے موزوں ترین تھا۔ اس کو دیکھنے، سننے، چھونے، چکھنے اور سونگھنے کے ایسے حواس عطا کیے جو اپنے تناسب اور اپنی خصوصیات کی بنا پر اس کے لیے بہترین ذریعہ علم بن سکتے تھے۔ اس کو قوت عقل و فکر، قوت استدلال و استنباط، قوت خیال، قوت حافظہ، قوت تمیز، قوت فیصلہ، قوت ارادی اور دوسری ایسی ذہنی قوتیں عطا کیں جن کی بدولت وہ دنیا میں اس کام کے قابل ہوا جو انسان کے کرنے کا ہے۔ اس کے علاوہ ہموار کرنے میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اسے پیدائشی گناہ گار اور جبلی بدمعاش بنا کر نہیں بلکہ راست اور سیدھی فطرت پر پیدا کیا اور اسکی ساخت میں کوئی خلقی کجی نہیں رکھ دی کہ وہ سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے بھی تو نہ کرسکے۔ یہی بات ہے جسے سورة روم میں بایں الفاظ بیان کیا گیا ہے کہ " فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا "، قائم ہوجاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا، (آیت 30)۔ اور اس بات کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے کہ " کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت کے سوا کسی اور چیز پر پیدا ہوتا ہو، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے جانور کے پیٹ سے پورا کا پورا صحیح وسالم بچہ پیدا ہوتا ہے کیا تم ان میں کسی کا کان کٹا ہوا پاتے ہو ؟ " (بخاری و مسلم)۔ یعنی یہ مشرکین ہیں جو بعد میں اپنے اوہام جاہلیت کی بنا پر جانوروں کے کان کاٹتے ہیں، ورنہ خدا کسی جانور کو ماں کے پیٹ سے کٹے ہوئے کان لے کر پیدا نہیں کرتا۔ ایک اور حدیث میں حضور کا ارشاد ہے " میرا رب فرماتا ہے کہ میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (صحیح الفطرت) پیدا کیا تھا، پھر شیاطین نے آ کر ان کو ان کے دین (یعنی ان کے فطری دین) سے گمراہ کردیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان کو شریک کریں جن کے شریک ہونے پر میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی "۔ (مسند احمد، مسلم نے بھی اس سے ملتے جلتے الفاظ میں حضور کا یہ ارشاد نقل کیا ہے)۔
Ayahs 91:8–9

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر اُس کی بدی اوراُس کی پرہیزگاری اس پر الہام کر دی، 5

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا

سورة الشَّمْس 5 الہام کا لفظ " لَہْمَ " سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ " لَھَمَ الْشَّیََٔ وَ الْتَھَمَہٗ " کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور " اَلْھَمْتُہُ الْشَّیََٔ " کے معنی ہیں میں نے فلاں چیز اس کو نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتار دی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کس خیال کو غیر شعوری طور پر بندے کے دل و دماغ میں اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیزگاری الہام کردینے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات و میلات رکھ دیے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کردیے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی، اچھے اخلاق و اعمال اور برے اخلاق و اعمال یکساں نہیں ہیں، فجور (بد کرداری) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ (برائیوں سے اجتناب) ایک اچھی چیز۔ یہ تصورات انسان کے لیے اجنبی نہیں ہیں بلکہ اس کی فطرت ان سے آشنا ہے اور خالق نے برے اور بھلے کی تمیز پیدائشی طور پر اس کو عطا کردی ہے۔ یہی بات سورة بلد میں فرمائی گئی ہے کہ " وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ " " اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں نمایاں راستے دکھا دیے " (آیت 10)۔ اسی کو سورة دھر میں یوں بیان کیا گیا ہے " إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا " " ہم نے اس کو راستہ دکھایا خواہ شاکر بن کر رہے یا کافر " (آیت 3)۔ اور اسی بات کو سورة قیامہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر ایک نفس لوامہ (ضمیر) موجود ہے جو برائی کرنے پر اسے ملامت کرتا ہے (آیت 2) اور ہر انسان خواہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے مگر وہ اپنے آپ کو خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہے (آیات 14۔ 15)۔ اس جگہ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فطری الہام اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق پر اس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے، جیسا کہ سورة طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ " الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ " " جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی پھر راہ دکھائی "۔ (آیت 50) مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا، پرندے کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتہ بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آجاتا ہے۔ انسان کو بھی اس کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دیے گئے ہیں۔ انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے اور اس حیثیت سے جو الہامی علم اس کو دیا گیا ہے اس کی ایک نمایاں ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ چوسنا ہے جس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اسے نہ دی ہوتی تو کوئی اسے یہ فن نہ سکھا سکتا تھا۔ اس کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک عقلی وجود ہے۔ اس حیثیت سے خدا نے انسان کی آفرینش کے آغاز سے مسلسل اس کو الہامی رہنمائی دی ہے جس کی بدولت وہ پے در پے اکتشافات اور ایجادات کر کے تمدن میں ترقی کرتا رہا ہے۔ ان ایجادات و اکتشافات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ محسوس کرے گا کہ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسی جو محض انسانی فکر و کاوش کا نتیجہ ہو، ورنہ ہر ایک کی ابتدا اسی طرح ہوئی ہے کہ یکایک کسی شخص کے ذہن میں ایک بات آگئی اور اس کی بدولت اس نے کسی چیز کا اکتشاف کیا یا کوئی چیز ایجاد کرلی۔ ان دونوں حیثیتوں کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے، اور اس حیثیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کا امتیاز، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطا کیا ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصورات سے خالی نہیں رہا ہے، اور کوئی ایسا معاشرہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے نہ اب پایا جاتا ہے جس کے نظام میں بھلائی اور برائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو۔ اس چیز کا ہر زمانے ہر جگہ اور ہر مرحلہ تہذیب و تمدن میں پایا جانا اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے اور مزید براں یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک خالق حکیم و دانا نے اسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے، کیونکہ جن اجزاء سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادی نظام چل رہا ہے ان کے اندر کہیں اخلاق کے ماخذ کی نشاندی نہیں کی جاسکتی۔
Ayah 91:10

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔ 6

سورة الشَّمْس 6 یہ ہے وہ بات جس پر ان چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی ہیں۔ اب غور کیجئے کہ وہ چیزیں اس پر کس طرح دلالت کرتی ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جن حقائق کو وہ انسان کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہے، ان کی شہادت میں وہ سامنے کی چند ایسی نمایاں ترین چیزوں کو پیش کرتا ہے جو ہر آدمی کو اپنے گردوپیش کی دنیا میں، یا خود اپنے وجود میں نظر آتی ہیں۔ اسی قاعدے کے مطابق یہاں دو چیزوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں اس لیے ان کے آثار اور نتائج بھی یکساں نہیں ہیں بلکہ لازماً ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک طرف سورج ہے اور دوسری طرف چاند۔ سورج کی روشنی نہایت تیز ہے اور اس میں گرمی بھی ہے۔ اس کے مقابلہ میں چاند اپنی کوئی روشنی نہیں رکھتا۔ سورج کی موجودگی میں وہ آسمان پر موجود بھی ہو تو بےنور ہوتا ہے۔ وہ اس وقت چمکتا ہے جب سورج چھپ جائے، اور اس وقت بھی اس کی روشنی نہ اتنی تیز ہوتی ہے کہ رات کو دن بنا دے، نہ اس میں کوئی گرمی ہوتی ہے کہ وہ کام کرسکے جو سورج کی گرمی کرتی ہے۔ لیکن اس کے اپنے کچھ اثرات ہیں جو سورج کے اثرات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک طرف دن ہے اور دوسری طرف رات۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دونوں کے اثرات اور نتائج باہم اس قدر مختلف ہیں کہ کوئی ان کو یکساں نہیں کہہ سکتا حتی کہ ایک بیوقوف سے بیوقوف آدمی کے لیے بھی یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ رات ہوئی تو کیا اور دن ہوا تو کیا، کسی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح ایک طرف آسمان ہے جسے خالق نے بلند اٹھایا ہے اور دوسری طرف زمین ہے جسے پیدا کرنے والے نے آسمان کے نیچے فرش کی طرح بچھا دیا ہے۔ دونوں اگرچہ ایک ہی کائنات اور اس کے نظام اور اس کی مصلحتوں کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن دونوں کے کام اور ان کے اثرات و نتائج میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان آفاقی شہادتوں کو پیش کرنے کے بعد خود انسان کے اپنے نفس کو لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اسے اعضا اور حواس اور ذہنی قوتوں کے متناسب امتزاج سے ہموار کر کے خالق نے اس کے اندر بھلائی اور برائی، دونوں کے میلانات، رجحانات اور محرکات رکھ دیے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں اور الہامی طور پر اسے ان دونوں کا فرق سمجھا دیا ہے کہ ایک فجور ہے اور وہ بری چز ہے، اور دوسرا تقوی ہے، اور وہ اچھی چیز۔ اب اگر سورج اور چاند، دن اور رات، زمین اور آسمان یکساں نہیں ہیں بلکہ انکے اثرات اور نتائج ایک دوسرے سے لازماً مختلف ہیں، تو نفس کا فجور اور تقوی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود یکساں کیسے ہو سکتے ہیں۔ انسان خود اس دنیا میں بھی نیکی اور بدی کو یکساں نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا۔ خواہ اس نے اپنے بنائے ہوئے فلسفوں کی رو سے خیر و شر کے کچھ بھی معیار تجویز کرلیے ہوں، بہرحال جس چیز کو بھی وہ نیکی سمجھتا ہے اس کے متعلق وہ یہ رائے رکھتا ہے کہ وہ قابل قدر ہے، تعریف اور صلے اور انعام کی مستحق ہے۔ بخلاف اس کے جس چیز کو بھی وہ بدی سمجھتا ہے اس کے بارے میں اس کی اپنی بےلاگ رائے یہ ہے کہ وہ مذمت اور سزا کی مستحق ہے۔ لیکن اصل فیصلہ انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اس خالق کے ہاتھ میں ہے جس نے انسان کا فجور اور تقوی اس پر الہام کیا ہے۔ فجور وہی ہے جو خالق کے نزدیک فجور ہے اور تقوی وہی ہے جو اس کے نزدیک تقوی ہے۔ اور خالق کے ہاں ان دونوں کے دو الگ نتائج ہیں۔ ایک کا نتیجہ یہ ہے کہ جو اپنے نفس کا تزکیہ کرے وہ فلاح پائے، اور دوسرے کا نتیجہ یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو دبا دے وہ نامراد ہو۔ تزکیہ کے معنی ہیں پاک کرنا، ابھارنا اور نشو ونما دینا۔ سیاق وسباق سے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو فجور سے پاک کرے، اس کو ابھار کر تقوی کی بلندی پر لے جائے اور اس کے اندر بھلائی کو نشوونما دے وہ فلاح پائے گا۔ اس کے مقابلہ میں " دَسَّاهَا " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا مصدر تدسیہ ہے۔ تدسیہ کے معنی دبانے، چھپانے، اغوا کرنے اور گمراہ کردینے کے ہیں۔ سیاق وسباق سے اس کا مطلب بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ شخص نامراد ہوگا جو اپنے نفس کے اندر پائے جانے والے نیکی کے رجحانات کو ابھارنے اور نشو ونما دینے کے بجائے ان کو دبا دے، اس کو بہکا کر برائی کے رجحانات کی طرف لے جائے، اور فجور کو اس پر اتنا غالب کر دے کہ تقوی اس کے نیچے اس طرح چھپ کر رہ جائے جیسے ایک لاش قبر پر مٹی ڈال دینے کے بعد چھپ جاتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ " قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکَّی اللہُ نَفْسَہٗ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسَّی اللہُ نَفْسَہٗ "، یعنی فلاح پا گیا وہ جس کے نفس کو اللہ نے پاک کردیا، اور نامراد ہوا وہ جس کے نفس کو اللہ نے دبا دیا۔ لیکن یہ تفسیر اول تو زبان کے لحاظ سے قرآن کے طرز بیان کے خلاف ہے، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کو یہی بات کہنی مقصود ہوتی تو وہ یوں فرماتا کہ " قَدْ اَفْلَحَتْ مَنْ زَکّٰھَا اللہُ وَقَدْ خَابَتْ مَنْ دَسّٰھَا اللہُ " (فلاح پا گیا وہ نفس جس کو اللہ نے پاک کردیا اور نامراد ہوگیا وہ نفس جس کو اللہ نے دبا دیا)۔ دوسرے یہ تفسیر اسی موضوع پر قرآن کے دوسرے بیانات سے ٹکراتی ہے۔ سورة اعلی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے " قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ "، " فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی " (آیت 14)۔ سورة عبس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا " وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ "، " اور تم پر کیا ذمہ داری ہے اگر وہ پاکیزگی نہ اختیار کرے "۔ ان دونوں آیتوں میں پاکیزگی اختیار کرنا بندے کا فعل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں جگہ جگہ یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اس دنیا میں انسان کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ مثلاً سورة دہر میں فرمایا " ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کی آزمائش کریں اسی لیے اسے ہم نے سمیع وبصیر بنایا "۔ (آیت 2)۔ اور سورة ملک میں فرمایا " جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تمہیں آزمائے کون تم میں بہتر عمل کرنے والا ہے "۔ (آیت 2)۔ اب یہ ظاہر ہے کہ امتحان سرے سے ہی بےمعنی ہوجاتا ہے اگر امتحان لینے والا پہلے ہی ایک امیدوار کو ابھار دے اور دوسرے کو دبا دے۔ اس لیے صحیح تفسیر وہی ہے جو قتادہ، عکرمہ، مجاہد اور سعید بن جبیر نے بیان کی ہے کہ " زَكَّاهَا " اور " دَسَّاهَا " کا فاعل بندہ ہے نہ کہ خدا۔ رہی وہ حدیث جو ابن ابی حاتم نے عن جویبر بن سعید عن الضحاک عن ابن عباس کی سند سے نقل کی ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ " اَفْلَحَتْ نَفْسٌٌ نَکَّاھَا اللہُ عَزَّوَ جَلْ " (فلاح پا گیا وہ نفس جس کو اللہ عزو جل نے پاک کردیا) ، تو یہ ارشاد درحقیقت حضور سے ثابت نہیں ہے کیونکہ اس کی سند میں جو یبر متروک الحدیث ہے اور ابن عباس سے ضحاک کی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ البتہ وہ حدیث صحیح ہے جو امام احمد، مسلم، نسائی اور ابن ابی شیبہ نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ حضور یہ دعا مانگا کرتے تھے " اَلّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا وَ زَکَّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ ذَکَّاھَا، اَنْتَ وَ لِیُّھَا وَ مَوْلَاھَا " " خدایا میرے نفس کو اس کا تقوی عطا کر اور اس کو پاکیزہ کر، تو ہی وہ بہتر ہستی ہے جو اس کو پاکیزہ کرے، تو ہی اس کا سرپرست اور مولی ہے "۔ اسی سے ملتے جلتے الفاظ میں حضور کی یہ دعا حضرت عبداللہ بن عباس سے طبرانی، ابن مردویہ اور ابن المندر نے اور حضرت عائشہ سے امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ بندہ تو صرف تقوی اور تزکیہ کی خواہش اور طلب ہی کرسکتا ہے، رہا اس کا نصیب ہوجانا، تو بہرحال اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے۔ اور یہی حال تدسیہ کا بھی ہے کہ اللہ زبردستی کسی کے نفس کو نہیں دباتا، مگر جب بندہ اس پر تل جائے تو اللہ تعالیٰ اسے تقوی اور تزکیہ کی توفیق سے محروم کردیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے کہ اپنے نفس کو جس گندگی کے ڈھیر میں دبانا چاہے دبا دے۔
Ayahs 91:11–13

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

7 ثمُود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھُٹلایا۔ 8

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جب اُس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بپھر کر اٹھا

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

تو اللہ کے رسُول نے اُن لوگوں سے کہا کہ خبردار، اللہ کی اُونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اور اُس کے پانی پینے (میں مانع نہ ہونا)۔ 9

سورة الشَّمْس 7 اوپر آیات میں جن باتوں کو اصولاً بیان کیا گیا ہے اب انہی کی وضاحت ایک تاریخی نظیر سے کی جا رہی ہے۔ یہ کس بات کی نظیر ہے اور اوپر کے بیان سے اس کا کیا تعلق ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کے دوسرے بیانات کی روشنی میں ان دو بنیادی حقیقتوں پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے جو آیات 7 تا 10 میں بیان کی گئی ہیں۔ اولاً ان میں فرمایا گیا ہے کہ نفس انسانی کو ایک ہموار و مستقیم فطرت پر پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کا فجور اور اس کا تقوی اس پر الہام کردیا۔ قرآن اس حقیقت کو بیان کرنے کے ساتھ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ فجور وتقوی کا یہ الہامی علم اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ ہر شخص خود اس سے تفصیلی ہدایت حاصل کرلے۔ بلکہ اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے انبیاء (علیہم السلام) کو مفصل ہدایت دی جس میں وضاحت کے ساتھ یہ بتادیا گیا کہ فجور کا اطلاق کن کن چیزوں پر ہوتا ہے جن سے بچنا چاہیے اور تقوی کس چیز کا نام ہے اور وہ کیسے حاصل ہوتا ہے۔ اگر انسان وحی کے ذریعہ سے آنے والی اس واضح ہدایت کو قبول نہ کرے تو وہ نہ فجور سے بچ سکتا ہے نہ تقوی کا راستہ پاسکتا ہے۔ ثایناً ان آیات میں فرمایا گیا ہے کہ جزا اور سزا وہ لازمی نتائج ہیں جو فجور اور تقوی میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے پر مترتب ہوتے ہیں۔ نفس کو فجور سے پاک کرنے اور تقوی سے ترقی دینے کا نتیجہ فلاح ہے، اور اس کے اچھے رجحانات کو دبا کر فجور میں غرق کردینے کا نتیجہ نامرادی اور ہلاکت و بربادی۔ اسی بات کو سمجھانے کے لیے ایک تا ریخی نظیر پیش کی جا رہی ہے اور اس کے لیے ثمود کی قوم کو بطور نمونہ لیا گیا ہے، کیونکہ پچھلی تباہ شدہ قوموں میں سے جس قوم کا علاقہ اہل مکہ سے قریب ترین تھا وہ یہی تھی۔ شمالی حجاز میں اس کے تاریخی آثار موجود تھے جن سے اہل مکہ شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں ہمیشہ گزرتے رہتے تھے، اور جاہلیت کے اشعار میں جس طرح اس قوم کا ذکر کثرت سے آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب میں اس کی تباہی کا چرچا عام تھا۔ سورة الشَّمْس 8 یعنی حضرت صالح ؑ کی نبوت کو جھٹلا دیا جو ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے اور اس جھٹلانے کی وجہ ان کی یہ سرکشی تھی کہ وہ اس فجور کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے جس میں وہ مبتلا ہوچکے تھے اور اس تقوی کو قبول کرنا انہیں گوارا نہ تھا جس کی طرف حضرت صالح انہیں دعوت دے رہے تھے۔ اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الا اعراف، آیات 73 تا 76۔ ہود، آیات 61۔ 62۔ الشعراء، آیات 141 تا 153۔ النمل، آیات 45 تا 49۔ القمر، آیات 23 تا 25۔
Ayah 91:14

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

مگر انہوں نے اُس کی بات کو جھُوٹا قرار دیا ااور اُونٹنی کو مار ڈالا۔ 10 آخر کار اُن کے گناہ کی پاداش میں ان کے ربّ نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندِ خاک کر دیا

سورة الشَّمْس 9 قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ثمود کے لوگوں نے حضرت صالح کو چلینج دیا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی (معجزہ) پیش کرو۔ اس پر حضرت صالح نے ایک اونٹنی کو معجزے کے طور پر ان کے سامنے حاضر کردیا اور ان سے کہا کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے، یہ زمین میں جہاں چاہے گی چرتی پھرے گی، ایک دن سارا پانی اس کے لیے مخصوص ہوگا اور دوسرا دن تم سب کے لیے اور تمہارے جانوروں کے لیے رہے گا، اگر تم نے اس کو ہاتھ لگایا تو یاد رکھو کہ تم پر سخت عذاب نازل ہوجائے گا۔ اس پر کچھ مدت تک ڈرتے رہے۔ پھر انہوں نے اپنے سب سے زیادہ شریر اور سرکش سردار کو پکارا کہ اس اونٹنی کا قصہ تمام کر دے اور وہ اس کام کا ذمہ لے کر اٹھ کھڑا ہوا (الا اعراف، آیت 73۔ الشعراء آیات 154 تا 156۔ القمر، آیت 29۔ سورة الشَّمْس 10 سورة اعراف میں ہے کہ اونٹنی کو مارنے کے بعد ثمود کے لوگوں نے حضرت صالح سے کہا کہ اب لے آؤ وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے تھے۔ (آیت 77) اور سورة ہود میں ہے کہ حضرت صالح نے ان سے کہا تین دن اپنے گھروں میں اور مزے کرلو، اس کے بعد عذاب آجائے گا اور یہ ایسی تنبیہ ہے جو جھوٹی ثابت نہ ہوگی (آیت 65)۔
Ayah 91:15

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور اسے (اپنے اس فعل کے) کسی بُرے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے۔ 11

سورة الشَّمْس 11 یعنی اللہ دنیا کے بادشاہوں اور یہاں کی حکومتوں کے فرمانرواؤں کی طرح نہیں ہے کہ وہ کسی قوم کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اس اقدام کے نتائج کیا ہوں گے۔ اس کا اقتدار سب سے بالا تر ہے اسے اس امر کا کوئی اندیشہ نہیں تھا کہ ثمود کی حامی کوئی ایسی طاقت ہے جو اس سے بدلہ لینے کے لیے آئے گی۔