Ayah 88:1ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ ۔ (الغاشیۃ : 1)
(کیا تمہیں چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے۔ )
قیامت اور احوالِ قیامت کی تصویر
یہاں ضمیر واحد سے خطاب آنحضرت ﷺ کو بھی ہوسکتا ہے اور ہر مخاطب کو بھی۔ آنحضرت ﷺ کو اگر خطاب مانا جائے تو تب بھی روئے سخن کفار ہی کی طرف ہے جو قیامت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اور اگر ہر فرد کو اس کا مخاطب سمجھا جائے تو پھر براہ راست منکرینِ قیامت سے خطاب ہے۔ مقصود دونوں صورتوں میں سوال کا جواب طلب کرنا نہیں بلکہ قیامت کی عظمت و شان کا اظہار اور اس کی ہیبت کو نمایاں کرنا ہے۔
غَاشِیَۃ کے معنی ڈھانک لینے والی اور چھا جانے والی کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ غَاشِیَہ کے لفظ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قیامت بپا ہوتے ہی ایک آفت کی طرح سارے جہان پر چھا جائے گی۔ اس میں نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے اور پھر نئے نظام کے بپا ہونے، تمام انسانوں کے دوبارہ اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت سے جزاء و سزا پانے تک تمام مراحل مراد ہیں۔ اس پوری مدت میں انسان اس کے خیال سے فارغ ہو کر کسی اور طرف متوجہ نہیں ہوسکے گا، بلکہ یہ بری طرح انسانی خیالات، تصورات اور گردوپیش کے ماحول پر چھائی ہوئی ہوگی۔
Ayahs 88:2–3وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ عَامَلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ۔ (الغاشیۃ : 2، 3)
(کچھ چہرے اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ سخت مشقت میں نڈھال، تھکے ہارے ہوں گے۔ )
قیامت کے منکرین کا حال
چہروں سے مراد چہروں والے ہیں۔ لیکن انھیں چہروں سے یاد فرما کر درحقیقت اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ان کے چہروں سے ان کے اندر کا خوف اور غم پوری طرح نمایاں ہوگا۔ ویسے بھی انسان کے جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہے۔ اس لیے چہرہ بول کر اس کی پوری شخصیت مراد لی جاتی ہے۔ دنیا میں یہ لوگ قیامت کا نام سننے کے روادار نہ تھے۔ اور آج قیامت آجانے کے بعد ان کے چہروں پر وہ احساسات پڑھے جاسکتے ہیں جو ان پر گزر رہے ہیں۔
Ayahs 88:4–5تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۔ تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ ۔ (الغاشیۃ : 4، 5)
(وہ دہکتی آگ میں پڑیں گے۔ اور کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انھیں پلایا جائے گا۔ )
اوپر جن لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے چہرے بری طرح اداس اور اترے ہوئے ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے چہروں کے بگاڑ کا سبب یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے احوال پر جب غور کریں گے تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ ہمارا انجام جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور پھر انھیں حشر میں پیش آنے والے معاملات سے بھی پوری طرح اس کا اندازہ ہوجائے گا۔ تو اس خوف کی وجہ سے جو ان کی اندرونی کیفیت ہوگی اس کا عکس ان کے چہروں پر پڑ رہا ہوگا۔ چناچہ ان بدنصیبوں کے ذکر کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دہکتی آگ میں پڑیں گے۔ یعنی ان کا احساس جو ان کا اپنے انجام کے بارے میں تھا وہ غلط نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے احساس کے عین مطابق دہکتی آگ میں پڑیں گے اور انتہائی کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انھیں پلایا جائے گا۔
اٰنِیَۃٍ ، عَیْنٍکی صفت ہے۔ اس کا معنی ہے انتہائی کھولتا ہوا، جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔
Ayahs 88:6–7لَیْسَ لَہُمْ طَعَامٌ اِلاَّ مِنْ ضَرِیْعٍ ۔ لاَّیُسْمِنُ وَلاَ یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ ۔ (الغاشیۃ : 6، 7)
(ان کے کھانے کو صرف جھاڑ کانٹے ہوں گے۔ جو نہ موٹا کریں گے اور نہ بھوک ہی کو مٹائیں گے۔ )
ضَرِیْعٍ ، ایک خاردار زہریلی جھاڑی ہے جس کو کوئی جانور نہیں چھوتا۔
اہلِ جہنم کی غذا
ان بدنصیبوں کو پینے کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی ملے گا اور کھانے کو صرف جھاڑ کانٹے ملیں گے۔ اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ قرآن کریم کے بیان میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ سورة دخان میں فرمایا گیا ہے کہ ان شجرۃ الزقوم۔ طعام الاثیم ” بیشک زقوم کی جھاڑی گنہگاروں کی غذا ہوگی۔ “ سورة الحاقہ میں فرمایا گیا ہے ولاطعام الا من غسلین لایاکلہ الا الخاطئون ” اور ان کی غذا زخموں کا دھو ون ہوگی جس کو صرف گنہگار ہی کھا سکیں گے۔ “ یہ تینوں آیتیں بظاہر ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں زقوم کھانے کو دیا جائے گا۔ اور دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ غسلین ان کا کھانا ہوگا۔ اور پیش نظر آیت کریمہ میں ضَرِیْعٍ کو ان کی خوراک بتایا گیا ہے۔ درحقیقت ان میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ جہنم کے مختلف درجات ہوں گے جن میں جرائم کے اعتبار سے مجرم رکھے جائیں گے۔ اور مختلف قسم کی انھیں سزائیں دی جائیں گی۔ ان کی غذائیں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی۔ کہیں زقوم کھانے کو دیا جائے گا اور کہیں غسلین اور کہیں خاردار جھاڑی۔ یہ کہنے کو غذائیں ہوں گی لیکن حقیقت میں اہل جہنم کے سوا کوئی انھیں نگل نہیں سکتا۔ غذا کے اصل فائدے دو ہی ہوتے ہیں کہ وہ توانائی دیتی ہے اور بھوک کی اذیت کو رفع کرتی ہے۔ لیکن ان کی یہ غذائیں صرف چبانے اور نگلنے کی اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نہ ان سے بھوک رفع ہوتی ہے اور نہ جسم میں توانائی آتی ہے۔
Ayahs 88:8–10وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ۔ لِّسَعْیِھَا رَاضِیَۃٌ۔ فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ۔ (الغاشیۃ : 8 تا 10)
(کچھ چہرے اس دن شگفتہ ہوں گے۔ اپنی کارگزاری پر خوش ہوں گے۔ عالی مقام جنت میں ہوں گے۔ )
قیامت کے دن اہل ایمان کا حال
قیامت کے دن دوسرا گروہ اہل ایمان کا ہوگا۔ اب ان کا حال بیان کیا جارہا ہے۔ ان کے چہرے تروتازہ اور شگفتہ ہوں گے۔ وہ جب یہ دیکھیں گے کہ انھوں نے دنیا میں آخرت کا یقین پیدا کرکے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں جس طرح زندگی گزاری اور انھوں نے دنیا میں آخرت کے لیے جو کمائی کی، آج اس کا حاصل ان کے سامنے ہے تو وہ اپنے سعی و عمل کے بہترین نتائج کو دیکھ کر نہایت خوش اور مطمئن ہوں گے۔ اور ان کے چہرے خوشی کی وجہ سے کھل اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایسے خوش نصیبوں کے لیے جنت میں جو مستقر ٹھہرائے گا وہ نہایت بلند درجہ ہوگا۔ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا مستقر ایک بلند باغ میں ہوگا۔ یعنی وہ باغ بلندی پر ہوگا اور اس کے حاشئے پر کھجوروں کے درخت ہوں گے تاکہ وہ دیکھنے کو خوبصورت بھی لگے اور بادسموم اور سیلاب وغیرہ سے محفوظ بھی رکھے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو ایسا بلند مرتبہ دیا جائے گا جو عام اہل جنت میں بھی نہایت نمایاں ہوگا۔
Ayah 88:11لاَّ تَسْمَعُ فِیْھَا لاَ غِیَۃً ۔ (الغاشیۃ : 11)
(جس میں وہ کوئی بےہودہ بات نہیں سنیں گے۔ )
اہلِ جنت کی مجلس نہایت شائستہ ہوگی
اہلِ جہنم کے بارے میں قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے کہ ہم ان کی وجہ سے آج جہنم میں ہیں۔ پیچھے چلنے والے اپنے رہنمائوں کے بارے میں دونے عذاب کا مطالبہ کریں گے اور ان کے لیڈر ان کی ہر بات سے انکار کریں گے۔ اور انھیں خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ لیکن اہل جنت کا حال بالکل برعکس ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ایک دوسرے کا خیرمقدم تحیت وسلام سے کریں گے۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، نہایت گرم جوشی سے ایک دوسرے ساتھ اٹھیں بیٹھیں گے۔ اور ان کی ہر مجلس محبت و اخلاص کا نمونہ ہوگی۔ اور چونکہ وہ نہایت مہذب اور ہر طرح کی اخلاقی کمزوری سے مبرا اور ہر طرح کے جسمانی عارضہ سے پاک ہوں گے۔ اس لیے وہاں کسی لغو اور بےہودہ بات کا گزر نہیں ہوگا۔ معلوم ہوتا ہے صالح ذوق کے لیے جہاں اچھی نعمتوں کی ضرورت ہے وہاں اچھا ماحول اور اچھے ہمنشین اس سے بھی بڑھ کر ضروری ہیں۔
Ayahs 88:12–16فِیْھَا عَیْنٌ جَارِیَۃٌ۔ فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ۔ وَّاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ۔ وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ۔ وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَـۃٌ۔ (الغاشیۃ : 12 تا 16)
(اس میں چشمے رواں ہوں گے۔ اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی۔ آبخورے قرینے سے رکھے ہوں گے۔ اور گائو تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی۔ اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔ )
اہلِ جنت کی آرائش وزیبائش کی تصویر
اہلِ جنت جس طرح کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوں گے اور جیسی لطف و لذت سے بھرپور نعمتوں سے محظوظ ہوں گے ان میں سے چند ایک کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی جو چیز بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایک رواں چشمہ ہوگا، یعنی ایسا چشمہ جو ہر وقت ابلے گا اور بہے گا۔ اور اگر اسے اسم جنس مانا جائے تو پھر مراد یہ ہے کہ جنت کے سرسبز لانوں میں یا اس کے اندر سے گزرتی ہوئی نہروں میں جابجا چشمے ابلتے ہوں گے۔ ممکن ہے اس سے باغ کی سیرابی کا بھی کام لیا جاتا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف منظر کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے جابجا پھیلا دیئے گئے ہوں۔ ہم اس زمین پر بھی خوبصورت باغوں کو دیکھتے ہیں کہ ان کی گزرگاہوں میں چشمے ابلتے اچھلتے دکھائی دیتے ہیں اور یا ان میں ایسے حوض بنائے گئے ہیں جن کے کناروں پر چشمے ابل رہے ہیں اور ان کی وجہ سے منظر کی خوبصورتی میں بیش بہا اضافہ ہوجاتا ہے۔ سورة دہر میں ایک سے زیادہ چشموں کا ذکر ہے۔ پھر ان سے نکلتی ہوئی متعدد شاخوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ اسی کو سمیٹ کر یہاں واحد کے لفظ سے ان کا ذکر کیا جارہا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے ہر چشمہ اپنے اندر ایک انفرادیت رکھتا ہو۔ اس میں سے ابلتے ہوئے پانی کی خصوصیات، اس کا مزہ، اس کی شیرینی ہر ایک کی دوسرے سے مختلف ہو۔ اور شاید اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے پروردگار نے کہیں اسے واحد کے طور پر ذکر فرمایا اور کہیں جمع کے طور پر۔
اس کے بعد اہل جنت کے مساکن اور ان کی رہائش گاہوں میں جو سامانِ آرائش و زیبائش رکھا گیا ہے اس کی کچھ تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ اور یہ تفصیل صرف اسی سورة میں نہیں اور بھی متعدد سورتوں میں مختلف الفاظ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہیں اجمال سے کام لیا گیا ہے اور کہیں تفصیل سے۔ بعض مقامات پر ہم ان عطا کردہ نعمتوں میں کچھ تفاوت بھی پاتے ہیں، لیکن یہ تضاد کی قسم کی چیز نہیں بلکہ اس کا تعلق اہل جنت کے درجات و مراتب سے ہے۔ کیونکہ ایمان و عمل کے اعتبار سے اہل جنت برابر نہیں ہوں گے۔ اور اسی لحاظ سے ان کے جنت میں مدارج بھی ہوں گے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک اعلیٰ درجے کے جنتی کو وہی کچھ دیا جائے جو عام جنتی کو دیا جائے گا۔ البتہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہر جنتی کو جو نعمتیں ملیں گی دنیا میں اس کا تصور بھی محال ہے۔ لیکن باایں ہمہ اہل جنت میں مرتبے اور بخشش کے لحاظ سے یقینا مختلف مدارج کا فرق ہوگا۔ ایک اور بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے وہ یہ کہ جنت اور اس کی نعمتیں عالم غیب کی حقیقتیں ہیں جن کا صحیح ادراک اس دنیا میں ممکن نہیں۔ اس لیے بالعموم انھیں تمثیل کے انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ان کے لیے وہی الفاظ مستعار لیے گئے ہیں جو انھیں قریب الفہم بنا سکتے ہیں۔ حقیقی تعبیر ہمارے الفاظ میں ممکن نہیں۔
اہلِ جنت کے سامانِ آرائش و زیبائش میں سب سے پہلے جس چیز کو بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اہل جنت عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ بلند پایہ لوگوں کی طرح بڑی بلند مسندوں پر فائز ہوں گے۔ اسی کا ترجمہ تخت بھی کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ بادشاہ تخت پر فروکش ہوتے ہیں اور یہ ان کی عظمت کی علامت ہے۔ اس سے مقصود صرف اہل جنت کے عزوشرف کو نمایاں کرنا ہے۔ ورنہ جہاں تک آرائش و زیبائش یا نشست گاہوں کی حیثیت کا تعلق ہے اس کی تشکیل اور اس کی آراستگی ہر جنتی کے اپنے ذوق اور چاہت کے مطابق ہوگی۔
وَاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ … اکواب، کو ب کی جمع ہے۔ آپ اس کا ترجمہ پیالے سے بھی کرسکتے ہیں، آبخورے سے بھی اور جام سے بھی۔ اور مَوْضُوْعَۃٌ کا معنی ہے قرینے سے رکھے ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کے مشروبات مختلف قسموں کے ہوں گے اور ہر مشروب کے ساتھ مناسب جام رکھا جائے گا۔ اس کی ساخت مشروب کے مطابق ہوگی اور وہ مشروب کے اتنا قریب ہوگا کہ کسی جنتی کو اسے حاصل کرنے میں اکتاہٹ نہیں ہوگی۔ اور پھر ان کی ترتیب میں ایسے قرینے سے کام لیا گیا ہوگا جس سے خوبصورتی میں اور اضافہ ہوجائے گا۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے آداب معاشرت کے ایک اہم باب کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ پانی پینے کے برتن پانی کے قریب مقررہ جگہ پر رہنے چاہئیں۔ وہاں سے ادھر ادھر ہوجائیں اور پانی پینے کے وقت تلاش کرنا پڑے یہ تکلیف کی چیز ہے۔ اس لیے ہر شخص کو اس کا اہتمام چاہیے کہ ایسی استعمالی چیزیں جو سب گھر والوں کے کام میں آتی ہیں اور ان کی جگہ مقرر ہوتی ہے۔ استعمال کے بعد انھیں مقرر جگہ پر رکھنا چاہیے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔
وَنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ … نمارق، نمرق کی جمع ہے۔ اس کا اطلاق قالینوں اور غالیچوں پر بھی ہوتا ہے اور گائو تکیوں پر بھی۔ اور مَصْفُوْفَۃٌ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ترتیب اور قرینے کے ساتھ قطاروں میں گائو تکیے لگے ہوئے ہوں گے۔ بیٹھنے والا جہاں بھی بیٹھے وہ اس کے لیے آسائش کا باعث ہوں گے۔ اہل عرب میں چونکہ فرشی نشست ہوتی تھی اس لیے زمین پر قالین اور پشت پر گائو تکیے لگائے جاتے تھے۔ انھیں کے ذوق کے مطابق جنت کی نعمتوں کو تعبیر دی گئی ہے۔ مرورِزمانہ کے ساتھ ساتھ تہذیب اور معاشرت بدلتی رہتی ہے۔ اٹھنے بیٹھنے کے آداب اور طریقے بھی بدل جاتے ہیں۔ آج چونکہ صوفوں کا دور ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان پر گدیاں اور تکیے لگے ہوئے ہوں گے۔
وَزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَـۃٌ … زرابی، زربیۃ کی جمع ہے۔ یہ نہالچوں کو بھی کہتے ہیں اور تکیوں کو بھی۔ اور بعض اہل لغت اس سے مخمل کے نہالچے مراد لیتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اہل جنت کے بیٹھنے اور لیٹنے کے لیے نہایت قیمتی فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔
Ayahs 88:17–20اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ۔ وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ ۔ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ ۔ (الغاشیۃ : 17 تا 20)
(کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بنائے گئے۔ اور آسمان کو نہیں دیکھتے کیسے اٹھایا گیا۔ اور پہاڑوں پر نظر نہیں ڈالتے کہ کیسے جمائے گئے۔ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی۔ )
قیامت پر سامنے کی چیزوں سے استدلال
قیامت کے ذکر کے ضمن میں پہلے اہل جہنم کا تذکرہ کیا گیا اور پھر اہل جنت کا۔ اور دونوں جس طرح جزاء و سزا سے گزریں گے اس کی منظرکشی کی گئی۔ ان باتوں کا تذکرہ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے سامنے کیا گیا جو قیامت کو ماننے سے انکار کرتے تھے۔ اور ان کے انکار کا بنیادی سبب یہ تھا کہ وہ وقوع قیامت کو مستبعدازعقل سمجھتے تھے اور ہر بات کا جواب صرف یہ دیتے تھے کہ تم جو قیامت کا تصور پیش کرتے ہو اور آخرت کے بارے میں جو کچھ کہتے ہو یہ سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے۔ ان میں سے کسی بات کو بھی عقل تسلیم نہیں کرتی۔ ایسے لوگوں کو آفاق کی بعض نہایت نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ انھیں اگر قیامت کی ہر بات خلاف عقل معلوم ہوتی ہے اور وہ بجاطور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی باتوں کا وقوع پذیر ہونا ممکن نہیں، تو سوال یہ ہے کہ جب وہ اپنے گردوپیش میں آفاق کی نشانیاں دیکھتے ہیں اگر وہ ان کے سامنے موجود نہ ہوتیں اور انھیں کہا جاتا کہ ایسا ہوا ہے یا ہوگا تو یہ کبھی اسے تسلیم نہ کرتے۔ لیکن اب جبکہ وہ وجود میں آچکی ہیں تو انھیں ان کے ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر جو چیزیں ان کے تجربے اور مشاہدے میں ابھی نہیں آئی ہیں ان کے بارے میں وہ بےتکلف فیصلہ کردیتے ہیں کہ ان کا ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ ایسی ہی نشانیوں میں سے چار نشانیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جن میں سے سب سے پہلے اونٹ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس کے بعد آسمان کی طرف، پھر پہاڑوں کی طرف اور آخر میں زمین کی طرف۔ سبب ان کی طرف توجہ دلانے کا یہ ہے کہ یہ چار چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تقریباً عرب میں رہنے والے ہر شخص کا سابقہ پڑتا ہے۔ مثلاً اس ماحول میں رہنے والا کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جس کے پاس اپنا اونٹ نہ ہو۔ جب وہ اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا تھا تو سر پر اسے آسمان کی تنی ہوئی چھت دکھائی دیتی تھی۔ اور اپنے چاروں طرف پھیلے ہوئے پہاڑ نظر آتے تھے اور نیچے زمین بچھونے کی طرح بچھی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ چناچہ انھیں باتوں کی طرف جو ہر شخص کا روز کا معمول تھیں توجہ دلاتے ہوئے سب سے پہلے اونٹ کا ذکر فرمایا۔ کہ کیا یہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ اسے کس طرح بنایا گیا اور کیسا بنایا گیا ہے اور کن صفات و خصوصیات کے ساتھ اسے پیدا کیا گیا ہے۔ اونٹ ایک عظیم الجثہ جانور ہے اور طویل قدوقامت رکھتا ہے اور نہایت طاقتور ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی ضروریات کو اس طرح کا بنایا ہے کہ غریب سے غریب آدمی بھی اس کو رکھنے میں دشواری محسوس نہیں کرتا۔ مالک اگر اسے چارہ خرید کر نہیں ڈال سکتا تو وہ اسے چھوڑ دے وہ اپنا پیٹ خود بھر لے گا۔ اونچے درختوں کے پتے توڑنے کی زحمت کرنے کی بھی ضرورت نہیں، یہ خود درختوں کی شاخیں کھا کر گزارا کرلیتا ہے۔ اپنی تمام جسامت اور طاقت کے باوجود اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے جہاں چاہو لے جاؤ، وہ بےچون و چرا اپنے مالک کی اطاعت کرتا ہے۔ اتنا وفادار ساتھی ہے کہ حضر میں، سفر میں اور صحرا میں ہر جگہ اپنے مالک کا ساتھ دیتا اور سفینے کی طرح اس کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ عرب میں پانی بہت کم ہوتا ہے۔ قدرت نے اس کے پیٹ میں ایک ریزرو ٹینکی ایسی لگا دی ہے کہ سات آٹھ روز کا پانی پی کر یہ اس ٹینکی میں محفوظ کرلیتا ہے اور تدریجی رفتار سے وہ اس کی پانی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اتنے اونچے جانور پر سوار ہونے کے لیے سیڑھی نہیں لگانا پڑتی بلکہ قدرت نے اس کے پائوں کو تین تہوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ یعنی ہر پائوں میں دو گھٹنے بنا دیئے ہیں کہ جب وہ تہ کرکے بیٹھ جاتا ہے تو اس پر چڑھنا اترنا آسمان ہوجاتا ہے۔ کسی بڑی سے بڑی مشقت سے بھی انکار نہیں کرتا۔ اس کا گوشت پوست دودھ ہر چیز مالک کے کام آتی ہے۔ یہاں تک کے اس کا بول و براز بھی رائیگاں جانے والی چیز نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنے گوناگوں فوائد اور مصالح کے ساتھ یہ جانور آپ سے آپ پیدا ہوگیا اور انسان نے اس کو اتفاق سے پکڑ کر اپنے لیے سازگار بنا لیا ہے۔ یا رب کریم نے اپنی قدرت یا حکمت سے اس کو پیدا کیا اور اس کو انسان کی خدمت میں لگا دیا۔ ظاہر ہے کہ عقل اس دوسری بات ہی کی گواہی دیتی ہے۔ اور اگر یہ بات صحیح ہے تو کیا انسان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار بن کر زندگی گزارے جس نے اس کے لیے بغیر کسی استحقاق کے زندگی کی یہ آسائشیں فراہم کی ہیں۔ ورنہ ایک دن اپنے رب کے آگے جوابدہی اور اپنے کفرانِ نعمت کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
اس کے بعد آسمان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دیکھو اسے کیسا بلند کیا گیا اور کیسے اٹھایا گیا ہے۔ اس کی بلندی اور اس کی وسعت کا کوئی اور چھور نہیں۔ لیکن اتنی بڑی چھت کے لیے کوئی ستون نظر نہیں آتا۔ پھر اس سے بھی بڑی عجیب بات یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ یہ کب سے قائم ہے۔ ہزار کوشش کے باوجود کوئی ماہر سے ماہر انجینئر بھی اس میں کسی معمولی سے معمولی رخنہ یا خلاء کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ زمین سے انتہائی دور ہونے کے باوجود اس کے سورج، چاند، ستارے اور سیارے زمین کی رونق اور اس کے لیے روشنی، حرارت اور زندگی کا ذریعہ ہیں۔ اسی سے بارش نازل ہوتی ہے، اسی کے سورج سے اہل زمین کے چولہے جلتے ہیں، اسی سے اناج میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور اہل زمین کی روزی کا بہت حد تک اس پر انحصار ہے۔
انسان ذرا غور کرے کہ جس خالق کی قدرت و حکمت کا یہ حال ہے کہ وہ آسمان جیسی حیرت انگیز مخلوق پیدا کرسکتا ہے تو کیا اس کے لیے انسانوں کو ازسرنو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے بعض جگہ براہ راست انسان سے سوال کیا کہ ئَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَائُ ” کیا تمہیں پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا۔ “
اس کے بعد پہاڑوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دیکھو انھیں کیسے گاڑ دیا گیا ہے۔ یہ کس طرح رنگ برنگ کی مٹی اور پتھر اور طرح طرح کی معدنیات لیے ہوئے جمے کھڑے ہیں۔ وہ کس طرح زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں، کس طرح ہَوائوں اور بادلوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ وہ خود پتھر کے ہیں لیکن قدرت نے ان کے اندر سے مخلوق کی سیرابی کے لیے شیریں پانی کے سوتے جاری کر رکھے ہیں۔ وہ اپنے اندر قیمتی خزانے لیے ہوئے امین کا حق ادا کررہے ہیں۔ ان میں ایسے پہاڑ بھی ہیں جو ناقابلِ عبور ہیں لیکن قدرت نے ان کے اندر درے اور راستے نکال دیئے ہیں۔
اس کے بعد زمین کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ زمین کیسے بچھ گئی ہے جس پر انسان رہتا اور بستا ہے، جس کی پیداوار سے اس کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں، جس کے چشموں اور کنوئوں پر اس کی زندگی کا انحصار ہے۔ اس کی مسطح سطح پر انسانوں کی آبادیاں ہیں، میدانوں میں ان کے کھیت اور باغ و چمن ہیں۔ ان کے چوپایوں اور گلوں کے لیے پیٹ بھرنے کے غیرمحدود وسائل موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ کسی قادر مطلق حاذق حکیم کی کاریگری کے بغیر ہوگیا ہے۔ یہ تمام نشانیاں انسان کو یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپناہ ہے۔ اس کی حکمت نے ہر چیز کو کسی نہ کسی مقصد کا پابند کیا ہے۔ اس کی سب سے اشرف مخلوق انسان ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کو بیشمار صلاحیتیں دے کر عقل اور شعور سے نواز کر اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے نیکی اور بدی کے دونوں راستوں کو کھول کر شتر بےمہار کی طرح چھوڑ دے۔ اور کبھی اس کو اپنے حضور میں حاضر کرکے اس کے اعمال کی جواب طلبی نہ کرے۔ نہ اس کی نیکی کی جزاء دے اور نہ اس کی نافرمانی پر سزا دے۔
Ayahs 88:21–22فَذَکِّرْ قف ط اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ ۔ (الغاشیۃ : 21، 22)
(پس آپ نصیحت کیجیے، آپ بس نصیحت ہی کرنے والے ہیں۔ آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔ )
دلائل سے اثباتِ مدعا کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی
بعض دلائلِ آفاق سے اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ربوبیت وقدرت اور اس کی حکمت و عظمت سے استدلال کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ان دلائل کے بعد اصل موضوع کی وضاحت میں کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اس پر بھی کچھ ہٹ دھرم اگر ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ آپ کی تمام تبلیغی کاوشوں کا نہ صرف انکار کررہے بلکہ مذاق اڑا رہے ہیں، تو آپ اس کی بالکل پرواہ نہ کریں۔ آپ جو تذکیر و دعوت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، بس اسے جاری رکھئے۔ کیونکہ آپ کی اصل حیثیت مذکر کی ہے، مصیطر کی نہیں۔ آپ کا کام لوگوں کو نصیحت کرنا ہے اور نصیحت قبول نہ کرنے والوں کو انذار کرنا ہے اور یہ کام بفضلہ تعالیٰ آپ نہایت حسن و خوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اس پر بھی اگر لوگ ماننے کو تیار نہیں تو آپ انھیں زبردستی ایمان دینے کے مکلف نہیں ہیں۔ نہایت نرمی بردباری اور خیرخواہی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت اور برے انجام سے انذار صرف آپ کا فریضہ ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہے وہ آپ کی نصیحت کو ضرور قبول کریں گے۔ سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی ” جو اللہ سے ڈرتا ہے وہی نصیحت قبول کرتا ہے۔ “ اور جن کے دلوں میں مسلسل انکار کی وجہ سے سختی آچکی ہے وہ نہ نشانیوں اور دلائل سے فائدہ اٹھائیں گے اور نہ آپ کی ہمدردی و خیرخواہی ان کے دلوں میں نرمی پیدا کرسکے گی۔ اس لیے آپ ان کے ردوقبول سے بےنیاز ہو کر تذکیر و دعوت کے کام کو جاری رکھیں اور اپنے دل میں کبھی اس فکر کو پیدا نہ ہونے دیں کہ ان ایمان نہ لانے والوں کے بارے میں آپ سے پوچھا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایمان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ ایمان نہ لانے والوں کی پرسش آپ سے ہو۔
Ayahs 88:23–24اِلاَّ مَنْ تَوَلّٰی وَکَفَرَ ۔ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ ۔ (الغاشیۃ : 23، 24)
(رہا وہ شخص جو منہ موڑے اور انکار کرے۔ تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ )
آپ کی تمام تبلیغی مساعی کے باوجود جو شخص حق سے منہ پھیرے گا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اولاً تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں عذاب کا شکار ہوجائے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کی وجہ سے وہ دنیا میں عذاب سے بچا رہا تو آخرت کا عذاب جو عذاب جہنم ہے وہ تو اس کے لیے لازمی ہوگا۔ اس لیے کہ دنیا میں تو بعض دفعہ پروردگار اپنی حکمت کی وجہ سے ڈھیل دیتے رہتے ہیں۔ لیکن آخرت چونکہ دارالجزاء اور دارالعدل ہے۔ وہاں نیک عمل کی جزاء بھی ضرور ہوگی اور برے عمل پر سزا بھی ضرور ہوگی۔ ایمان کا صلہ ملے گا، اور کفر پر سخت عذاب ہوگا۔
الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ سے مراد جہنم کا عذاب ہے۔ اسے عذاب اکبر اس لیے کہا گیا ہے کہ دنیا کا کوئی عذاب بھی اپنی شدت میں جہنم کے عذاب کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اور نہ کوئی عذاب ہمیشگی اور پائیداری میں اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ اس لیے سابق سورة میں اس کی شدت کی طرف اضافہ کرتے ہوئے اسے النَّارُالْـکُبْرٰی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم کے متعدد مقامات پر عذاب اکبر ہی کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ کَذَلِکَ الْعَذَابُ ، وَلَعَذَابُ الْآ خِرَۃِ اَ کْبَرُ ، اس میں دنیا کے عذابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آخرت کے عذاب کو اکبر فرمایا گیا ہے۔ حالانکہ دنیا میں جس قوم پر عذاب آیا ہے اس کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔ بعض دفعہ ان کی دھرتی الٹ دی گئی ہے اور وہ تاریخ میں عبرت بن کر رہ گئے ہیں۔ لیکن ان عذابوں کے مقابلے میں آخرت کے عذاب کو عذاب اکبر قرار دینا ایسا تصور پیدا کرتا ہے جس سے پِتَّہ پانی ہونے لگتا ہے۔
Ayahs 88:25–26اِنَّ اِلَیْنَـآ اِیَابَھُمْ ۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَھُمْ ۔ (الغاشیۃ : 25، 26)
(بیشک ہماری ہی طرف ہے ان کا پلٹنا۔ پھر ہمارے ہی ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔ )
ان دونوں آیتوں میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آج جو لوگ جہنم کے ذکر سے بھی بدمزہ ہوتے ہیں اور انھیں کبھی بھول کر بھی احساس نہیں ہوتا کہ کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری دینے کا وقت بھی آئے گا۔ اور ان کی زندگی کے رویئے کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اپنے یہاں ہمیشہ رہنے کا یقین ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے یہ بچ نہیں سکتے۔ اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہی کی طرف واپسی ہے۔ اس لیے یہ آج کیسی ہی سرکشی کا رویہ اختیار کریں۔ انھیں بہرحال موت کے شکنجے میں پھنسنا ہے اور پھر ان کی روح اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق وہیں جائے گی جہاں اس کا جانا مقدر کردیا گیا ہے۔ اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی ہے کہ جب ہم سب لوگوں کو دوبارہ اٹھائیں گے تو سب سے حساب لیں گے۔ ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزاء و سزا دیں گے۔ اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال اور ایک بےمقصد کارخانہ ہے۔ اور محض اس کے خالق نے بچوں کے گھروندے بنانے کی طرح محض تفریح کی خاطر اسے پیدا کیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی ہو، یا اس سے کسی عبث کام کا صدور ہو۔ اس لیے پروردگار نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے کہ میں اپنے بندوں میں سے ہر ایک کا ایک نہ ایک دن حساب لوں گا۔ اور یہی وہ حساب کا دن ہے جسے یوم الدین اور یوم آخر کہا گیا ہے۔