89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsروح القرآن

Ayahs 89:1–5

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

قسم ہے فجر کی

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت اور طاق کی

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیا اس میں کوئی قسم ہے کسی عقل والے کے لیے

وَالْفَجْرِ ۔ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۔ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۔ ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ ۔ (الفجر : 1 تا 5) (قسم ہے فجر کی۔ اور دس راتوں کی۔ اور جفت اور طاق کی۔ اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ کیا اس میں کوئی قسم ہے کسی عقل والے کے لیے۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم اور جوابِ قسم کا تعین اور مفہوم ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قسم عموماً قرآن کریم میں کسی دعویٰ کی گواہی یا دلیل کے طور پر آتی ہے جس سے اس دعویٰ کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اور دعویٰ جسے مقسم علیہ کہا جاتا ہے قسم کے بعد آتا ہے تاکہ قسم کے ذریعے پہلے دل و دماغ کی زمین ہموار کی جائے اور اس کے بعد دعویٰ کی تخم ریزی کی جائے۔ ان آیات میں پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کا مقسم علیہ یعنی دعویٰ کیا ہے جسے قسموں کے بعد محذوف رکھا گیا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ان ربک لبالمرصاددعویٰ اور جوابِ قسم ہے۔ جو آگے چل کر مذکور ہے اور یہاں اسے اس کی نسبت سے محذوف کہا جاسکتا ہے۔ لیکن دیگر حضراتِ مفسرین دعویٰ کے تعین میں باہمدگر اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کی نظر بعد میں آنے والی پوری سورة پر ہے۔ اس کے مجموعی مضمون سے جو تأثر ذہن میں پیدا ہوتا ہے اسے اگر سمیٹ کر کہا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ جزاء و سزا اور قیامت کا اثبات ہے۔ کیونکہ اس سورة کے نزول کے وقت آنحضرت ﷺ کی دعوت کے دو بنیادی موضوع تھے جس پر آپ سب سے زیادہ زور دے رہے تھے۔ ایک توحید اور دوسرا قیامت۔ اور قیامت کے تصور کو قبول کرنا اہل مکہ کے لیے سب سے زیادہ دشوار ہورہا تھا۔ وہ اس پر قسم قسم کے اعتراضات کررہے تھے اور اسے خلاف عقل قرار دے رہے تھے۔ چناچہ اسی کے اثبات کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ لیکن جب تدبر کی نگاہ سے اس سورة کو پڑھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی موضوع تو یقینا آخرت اور قیامت ہی ہے لیکن اس کے اثبات کے لیے اللہ تعالیٰ کی جن صفات پر ایمان لانا ضروری ہے اور جن کا منطقی نتیجہ آخرت کا یقین ہے ان قسموں سے ان پر بھی دلیل قائم کی گئی ہے۔ یعنی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اس کی باگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی چیز کا ظہور اور نمود اور کسی چیز کا اوجھل ہوجانا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت سے ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ساری کائنات پر فرمانروائی کررہا ہے۔ اس کا کوئی کام بےتکا، بےمقصد، بےحکمت اور بےمصلحت نہیں ہوتا۔ یہاں ہمیں ہر طرف تغیر کارفرما دکھائی دیتا ہے لیکن ہر تغیر کے پیچھے اس کی قدرت اور حکمت کام کررہی ہے۔ یہاں اس کا فطری قانون بھی کارفرما ہے اور اس کا اخلاقی قانون بھی۔ اس کے اخلاقی قانون کے تحت افراد اور قوموں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ وہ جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ قسمیں اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات پر ایسے دلائل فراہم کررہی ہیں جنھیں سمجھ لینے کے بعد کوئی عقلمند آدمی آخرت اور قیامت کا انکار نہیں کرسکتا۔ جوابِ قسم متعین ہوجانے کے بعد اب سوال یہ ہے کہ ان قسموں کا مفہوم کیا ہے۔ اور ان سے مراد کیا ہے۔ مفسرین نے اس بارے میں بہت اختلاف کیا ہے۔ اور ہر چیز کے بارے میں ان کے بہت سے اقوال ہیں۔ یہ اختلاف بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ سے ان آیات کی کوئی تفسیر ثقہ روایات سے ہم تک پہنچی ہوتی تو پھر اختلاف کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ اس لیے ہر مفسر نے اپنے فہم اور ذوق کے مطابق اس کی تفسیر کی ہے۔ اور یہ اختلاف عہد صحابہ ؓ سے شروع ہوگیا تھا کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ کے اقوال حضرت علی ؓ کے قول سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ اس سلسلے میں دو مرفوع حدیثیں بھی روایت کی جاتی ہیں۔ ایک حضرت جابر ؓ کی اور دوسرا عمران بن حصین ؓ کی۔ لیکن ان کے بارے میں حافظ ابن کثیر کی رائے یہ ہے کہ ” وھذا اسناد رجالہ لاباس بہم وعندی ان المتن فی رفعہ نکارۃ “ اور دوسری کی نسبت فرماتے ہیں ” وعندی ان وقفہ علی عمران ابن حصین اشبہ “ واللہ علم۔ اب ہم ایک ایک قسم پر غور کرتے ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا، فجر کی قسم۔ فجر پو پھٹنے کو کہتے ہیں۔ جب تاریکی کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے اور عالم ایک نیا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ رات کی تاریکی میں سے دن کی ابتدائی روشنی مشرق کی طرف ایک سفید دھاری کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑے تغیر کا پیغام ہوتا ہے کہ رات کی تاریکی کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا کہ تاریکی کی تنی ہوئی چادر کبھی ہٹے گی بھی یا نہیں۔ اب چونکہ انسان اس تجربے کے عادی ہوگئے ہیں اس لیے انھیں اس میں کوئی اچنبھا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کسی شخص کو رات کے وقت دنیا میں اتار دیا جائے اور تاریکی ایسی گہری ہو کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا ہو، اندازہ کیجیے اس کی کیا کیفیت ہوگی۔ اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں وہ روشنی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اور کوئی اگر اسے یہ کہے کہ اسی تاریکی سے روشنی کی لہر پھوٹے گی تو وہ کبھی ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔ اس لیے فجر کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ کی بےپایاں فرمانروائی کا تصور دیا گیا۔ پھر فجر کے طلوع ہونے سے اس کی قدرت کا ایک ہلکا سا نمونہ دکھایا گیا۔ اور اس تمثیل میں قیامت کا منظر دکھاتے ہوئے واضح کیا گیا کہ قیامت بھی اسی طرح ایک دن ظہورپذیر ہوگی۔ یہ دنیا رات کی مانند ہے جس کی تاریکی صبح قیامت کو ڈھانکے ہوئے ہے۔ جس طرح رات کے بعد فجر ایک متعین نظام الاوقات کے تحت نمودار ہوتی ہے، اسی طرح ایک وقت آئے گا جب قیامت اچانک وارد ہوجائے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے مطالبے پر قیامت کا ظہور ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت نے جس طرح فجر کے طلوع کا ایک وقت مقرر کیا ہے اور وہ اسی وقت وقوع پذیر ہوتی ہے، اسی طرح قیامت بھی اپنے وقت پر آئے گی۔ اور اس کا آنا اسی طرح اٹل ہے جیسے فجر کا طلوع ہونا۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ انسان ہر روز فجر کی تمثیل میں قیامت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ رات کو سوتا ہے اور صبح کو آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے۔ اسی طرح مرجانے کے بعد جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت کی صبح طلوع ہوگی تو قبروں میں سونے والے آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھیں گے اور ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ من بعثنا من مرقدنا ” کس نے ہمیں ہمارے مرقد سے اٹھایا۔ “ مرقد نیند کو بھی کہتے ہیں اور سونے کی جگہ یعنی بستر کو بھی۔ اقبال نے اسی طرح طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ہے اگر آئینِ ہستی کہ ہو یہاں ہر شام صبح مرقدِ ہستی کا آخر کیوں نہ ہو انجام صبح وَلَیَالٍ عَشْرٍ … دس راتوں کی قسم۔ سورة کے عمود اور مرکزی مضمون کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد مہینے کی تیس راتوں میں سے ہر دس راتیں ہیں۔ پہلی دس راتوں میں چاند ایک باریک ناخن کی شکل سے شروع ہو کر ہر رات کو بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ آدھے سے زیادہ روشن ہوجاتا ہے۔ دوسری دس راتوں میں رات کا بڑا حصہ چاند سے روشن رہتا ہے۔ آخری دس راتوں میں چاند چھوٹے سے چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے اور رات کا بیشتر حصہ تاریک سے تاریک تر ہوتا جاتا ہے۔ چاند ایک کُرَّہ ہے جو اپنے طلوع و غروب اور اپنے عروج وزوال میں اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ صدیوں پہ صدیاں گزر گئیں لیکن اس کی روش میں کبھی تبدیلی نہ آئی۔ لوگ عید کے چاند کے لیے کیسی کچھ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک دن پہلے نظر آجائے لیکن چاند ایک لگے بندھے نظام کا پابند ہے، اسے لوگوں کے شوق و اضطراب کی پرواہ نہیں۔ اور پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ چاند مسلسل تغیر پذیر ہوتا ہے۔ ہر آنے والا دن اس کی حالت کو پہلے دن سے مختلف دکھاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس طرح اپنے طلوع و غروب اور عروج وزوال میں اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند ہے، اسی طرح اس کے اندر تغیرات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام سے ہوتے ہیں اور ان میں قدرت نے ایک تدریج رکھی ہے جس سے وہ نہ کبھی آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ پیچھے رہ سکتا ہے۔ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ … اور جفت اور طاق کی قسم۔ جفت اس عدد کو کہتے ہیں جو دو برابر کے حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ جیسے دو ، چار، چھ، آٹھ وغیرہ۔ اور طاق اس عدد کو کہتے ہیں جو تقسیم نہیں ہوتا۔ جیسے ایک، تین، پانچ، سات وغیرہ۔ بعض اہل علم نے تو جفت سے مراد ساری مخلوق لی ہے اور طاق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات لی ہے۔ کیونکہ اس کا کوئی جوڑا نہیں، باقی ہر مخلوق کا کوئی نہ کوئی جوڑا ہے۔ لیکن سلسلہ بیان کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد تغیرایام ہے، کہ مہینے کی تاریخیں ایک سے دو اور دو سے تین ہوتی جاتی ہیں اور ہر تغیر ایک نئی کیفیت لے کے آتا ہے۔ اور یہی وہ تغیر ہے جو انسانی حساب کی بنیاد ہے۔ اسی سے مہینے وجود میں آتے ہیں، اسی سے سال بنتے ہیں، اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ کون سا کام کب شروع ہوا اور کب ختم ہوگا۔ موسموں کے تغیرات کا تعین بھی اسی سے ہوتا ہے۔ یہ دنوں کا پھیر اور شب و روز کی باقاعدگی کیا یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ یہ زبردست نظم و ضبط کسی قادر مطلق کا قائم کیا ہوا ہے۔ اور اس کے قیام سے اس مخلوق کی بیشمار مصلحتیں وابستہ ہیں جسے اس نے زمین پر پیدا کیا ہے۔ دس راتوں کے بعد جفت اور طاق کا ذکر درحقیقت یہ بتانے کے لیے ہے کہ ہر چیز کی باگ ڈور اللہ وحدہ لاشریک کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے کہ بعض مہینوں میں یہ راتیں جفت ہوتی ہیں، بعض میں طاق۔ لیکن کسی کے امکان میں نہیں کہ وہ جفت کو طاق یا طاق کو جفت بنا دے خواہ اس کی کتنی ہی تمنا رکھتا ہو۔ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ … اور رات کی قسم جب وہ چل پڑے۔ یعنی وہ تاریکی جو سورج غروب ہونے کے بعد سے دنیا پر چھائی ہوئی تھی، قریب الاختتام ہو۔ اور طلوع سحر ہونے والی ہے۔ جو لوگ حقیقت کا علم نہیں رکھتے وہ رات کے آخری حصے میں تھکی ہوئی نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہ رات کبھی ختم نہیں ہوگی۔ انھیں کوئی ہزار سمجھائے کہ تغیر اس دنیا کی ایک حقیقت ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت نے تغیر کے ظہور کو ایک تدریج کا پابند ٹھہرایا ہے۔ اس قانون کے تحت یہ رات بھی ختم ہوگی اور دن کا اجالا پھیلے گا۔ اس سے درحقیقت اس بات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ تمہارے شب و روز کے معمولات اور تمہاری خواہشات کی بھرمار اور تمہارے افکار کا فساد اور زندگی کے بارے میں تمہارے غلط تصورات تاریک رات کی مانند تم پر چھائے ہوئے ہیں جو تمہیں صبح قیامت کے طلوع پر یقین پیدا نہیں ہونے دیتے۔ حالانکہ یہ ایسی چلتی ہوئی رات ہے جسے بہرحال ایک منزل پر پہنچنا ہے اور وہ منزل قیامت ہے جس میں ہر شخص کو نیکی کی جزاء اور برائی کی سزا ملے گی۔ یہ چار قسمیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت، اس کی کائنات پر فرمانروائی اور ایسی ہی دوسری متعدد صفات پر استدلال کیا گیا ہے۔ اور اس کے منطقی نتیجے کو اثباتِ قیامت کی دلیل ٹھہرایا ہے۔ اور آخر میں فرمایا کہ کیا اتنی واضح شہادات اور دلائل کے بعد بھی کسی عقل والے کے لیے کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ حِجر اور عقل دونوں کا لغوی مفہوم قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان دونوں ہی کے اندر روکنے اور باندھنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ عقل انسان کو ان چیزوں سے باز رکھنے کے لیے ایک باطنی لگام ہے جو اس کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس کو حجر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن جو عقل خواہشات کی اسیر ہوجاتی ہے وہ اپنی عملی استعداد کھو دیتی ہے۔ وہ کسی چیز کا اقرار یا انکار خواہشات کے تابع رہ کر کرتی ہے جس میں فیصلہ اس کا اپنا نہیں ہوتا بلکہ خواہشات کا ہوتا ہے۔ اس لیے ہدایت کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم کو شرط قرار دیا ہے جس سے عقل سلیم مراد ہے جو خواہشات کے اثرات سے محفوظ ہو۔ ایسی عقل کا حامل شخص یقینا ان قسموں کو اپنے لیے مکمل رہنما سمجھے گا۔ اور اس کو کسی اور رہنمائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
Ayahs 89:6–8

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے رب نے کیا برتائو کیا عاد کے ساتھ

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

ستونوں والے ارم کے ساتھ

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

ان جیسی کوئی قوم ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی

اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلاَدِ ۔ (الفجر : 6 تا 8) (کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے رب نے کیا برتائو کیا عاد کے ساتھ۔ ستونوں والے ارم کے ساتھ۔ ان جیسی کوئی قوم ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی۔ ) آفاق کی شہادت کے بعد تاریخ سے استدلال گزشتہ آیات میں قسموں کی صورت میں آفاق کی نشانیوں کی شہادت کے بعد قوموں کی تاریخ سے استدلال کیا جارہا ہے، کیونکہ انسانوں کی فکری کوتاہی یہ ہے کہ وہ آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ لیکن تاریخی شواہد اور وہ بھی اپنے جیسے انسانوں کے براہ راست انسانوں پر اثر کرتے ہیں اور بالعموم ان کو نظرانداز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر اب چند ایسی قوموں کے انجام کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے عرب جن کے بارے میں خوب باخبر تھے۔ سینہ بہ سینہ پوری قوم تک ان کے حالات پہنچ چکے تھے۔ ان کے طرزعمل اور ان کے انجام کے ذکر سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اس دنیا کا خالق اس میں ابھرنے والی قوموں کے رویئے سے بیخبر نہیں رہتا، برابر اس کی نگاہ ان کے تعاقب میں رہتی ہے۔ جب وہ سرکشی کا رویہ اختیار کرتیں اور زمین میں فساد مچانے لگتی ہیں تو ایک خاص مدت تک ان کو مہلت ضرور دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرلیں، لیکن اگر وہ اصلاح کی بجائے سرکشی میں آگے ہی بڑھتی چلی جاتی ہیں تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ان کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا ان پر برس جاتا ہے۔ لوگ بالعموم یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں صرف قانونِ فطرت کام کررہا ہے اور وہ ایک ایسا اندھا بہرہ قانون ہے جسے لوگوں کی اخلاقی کیفیت سے کوئی سروکار نہیں۔ ان شواہد سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے بہرے قانونِ فطرت کے تحت نہیں چل رہی بلکہ خدائے حکیم اس کو چلا رہا ہے اور اس کی خدائی میں صرف وہی ایک قانون کارفرما نہیں جسے تم قانونِ فطرت سمجھتے ہو بلکہ ایک قانونِ اخلاق بھی کارفرما ہے جس کا لازمی تقاضا مکافاتِ عمل اور جزاء و سزا ہے۔ اس قانون کا اصل اظہار تو قیامت کی صورت میں ہوگا لیکن اس کی کارفرمائی کے آثار خود اس دنیا میں بھی بار بار ظاہر ہو کر اصحابِ عقل کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا جو نظام چلا رہا ہے اس نظام کا مزاج کیا ہے۔ اس میں تدبر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جن قوموں نے آخرت سے بےفکر ہو کر اور جزاء و سزا سے بےخوف ہو کر اپنی زندگی کا نظام چلایا وہ آخر کار فاسد و مفسد بن کر رہیں اور ایسی قوموں کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ جو شخص بھی اس حقیقت پر غور کرے گا اسے یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں ہوگا کہ اگر اس زمین کو فساد سے بچانا ہے اور انسانوں کو جامہ انسانیت میں رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور کرنا ہے تو پھر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ انسانوں کے اندر آخرت کا عقیدہ راسخ کیا جائے۔ کیونکہ آخرت کا انکار ہمیشہ انسانوں کے بگاڑ کی صورت میں نکلا ہے۔ اور اسی طرح یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ دنیا میں ہمیشہ قوموں کی سرکشی اور حد سے بڑھے ہوئے فساد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔ اور اس عذاب سے پہلے بار بار انسانوں کو ڈھیل دی جاتی ہے لیکن جب ان کا پیمانہ بھر جاتا ہے تو پھر عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔ لیکن یہ فساد اور بگاڑ کی آخری حد ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے یہ اچانک کبھی نہیں آتا، اس سے پہلے کئی نسلیں اس فساد کے اضافے میں شریک رہ چکی ہوتی ہیں لیکن اس کی انتہا تک پہنچتے پہنچتے یہ دنیا سے چلی جاتی ہیں۔ اس طرح عذاب سے بچ جاتی ہیں اور صرف وہ نسل عذاب کا شکار ہوتی ہے جو فساد کو آخری حد پر پہنچانے والی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے صدیوں تک اس کی تخم ریزی کی، اس کی آبیاری کی، مسلسل اپنی عملی خرابیوں سے اس کو تقویت دیتے رہے۔ ان کی بداعمالیوں کی سزا ملنا بھی تو ضروری ہے۔ لیکن انھیں دنیا میں ایسی کوئی سزا نہیں ملی اور وہ موت کی آغوش میں چلے گئے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے جب یہ سب لوگ اپنی بداعمالیوں اور اپنی سرکشیوں کی سزا پائیں۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ یہاں فطری قانون کے ساتھ ساتھ ایک قانونِ اخلاق بھی ہے جس کا لازمی تقاضا مکافاتِ عمل اور جزاء و سزا ہے۔ پہلی شہادت قوم عاد کے حالات سے تاریخی شواہد کے سلسلے میں سب سے پہلی شہادت قوم عاد کے حالات سے پیش کی جارہی ہے۔ قوم عاد دو ناموں سے پکاری جاتی ہے ایک کو عاد ارم یا عاد اولیٰ کا نام دیا گیا ہے۔ اور دوسری کو عاد اخریٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عادِ ارم یا عاد اولیٰ سے مراد وہ قدیم قوم عاد ہے جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا۔ یہ قوم چونکہ ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد تھی، اس لیے ارم کی طرف اسے منسوب کیا جاتا تھا۔ اسی شاخ کی کئی دوسری ضمنی شاخیں تاریخ میں مشہور ہیں جن میں سے ثمود کا ذکر اس کے بعد آرہا ہے۔ ہم اس سے پہلے بتا چکے ہیں کہ ان کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ ان کی قوم نے ان کی تکذیب کی اور تکذیب پر اڑے رہے تو آخر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو تباہ و برباد کردیا۔ اور جو لوگ انھیں کی نسل سے ہونے کے باوجود ایمان لانے کے باعث یا کسی اور علاقے میں قیام کی وجہ سے عذاب سے بچ گئے اور بعد میں پھلے پھولے انھیں عاد اخریٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عاد کو ذات العماد کہا گیا ہے جس کا معنی ہے ستونوں والے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پہلی قوم ہے کہ جنھوں نے بڑی بڑی عمارتیں بڑے اونچے ستونوں پر اٹھائیں۔ اور یہ طریقہ سب سے پہلے انھوں نے ایجاد کیا۔ اس لیے انھیں ذات العماد کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ان کی تعمیری ترقیات کی تعبیر کے لیے ایک کنایہ ہو۔ اور انھیں بلند عمارتیں اور بلند جگہوں پر یادگاریں اٹھانے کا چونکہ غیرمعمولی شوق تھا اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو۔ قرآن کریم نے سورة الشعراء میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی زبان سے ان کی اس روش پر تنقید بھی نقل کی ہے۔ حضرت ہود نے فرمایا : اَتَبْنُوْنَ بِکِْلِ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّـکُمْ تَخْلُدُوْنَ ” کیا تم ہر اونچے مقام پر لاحاصل ایک یادرگار عمارت بنا ڈالتے ہو اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو۔ گویا تمہیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔ مزید فرمایا کہ تعبیری ترقیوں کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اپنے قد و قامت اور زور و قوت کے لحاظ سے بھی نہایت نمایاں تھے۔ اس وقت کوئی قوم دنیا میں ان کی ٹکر کی نہ تھی۔ سورة الاعراف میں ارشاد فرمایا گیا : فَاَمَّا عَادٌ فَاَسْتَکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَّدَّ مِنَّا قُوَّۃً ۔ ” رہے عاد تو انھوں نے زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر اور گھمنڈ کیا اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ زورآور۔ “
Ayah 89:9

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ جنھوں نے وادی میں چٹانیں تراشیں

وَثَمُوْدَالَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ۔ (الفجر : 9) (اور ثمود کے ساتھ جنھوں نے وادی میں چٹانیں تراشیں۔ ) دوسری شہادت قوم ثمود کے حالات سے ثمود بھی سامی نسل کی ایک شاخ ہے۔ یہ لوگ عاد ہی کے بقایا میں سے ہیں۔ اور انھیں بھی اپنے پیشروئوں کی طرح بلند وبالا عمارتیں اٹھانے کا بہت شوق تھا۔ یہاں وادی سے مراد القریٰ ہے، یہ وادی ان کا مسکن تھی۔ انھوں نے اس وادی میں چٹانیں تراش تراش کر اپنے لیے وسیع عمارتیں بنائی تھیں اور غالباً تاریخ میں یہ پہلی قوم ہے جس نے چٹانوں کے اندر اس طرح کی عمارتیں بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اور آج بھی ان کے بعض آثار موجود ہیں۔
Ayah 89:10

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ

وَفِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ ۔ (الفجر : 10) (اور میخوں والے فرعون کے ساتھ۔ ) تیسری شہادت فرعون سے قومِ عاد اور قوم ثمود کی تباہی کے بعد فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کا ذکر فرمایا۔ ذوالاوتاد کا معنی ہے میخوں والا۔ سورة ص میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ لیکن یہاں اوتاد کنایہ کے طور پر فرعون کی فوجوں کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ کیونکہ جس دور میں فرعون ہوا ہے اس دور میں اور اس کے بعد بھی صدیوں تک مستقل فوجیں رکھنے کا رواج نہ تھا۔ حملہ یا دفاع کی ضرورت کے لیے قبیلوں اور خاندانوں کے نوجوان اپنی خدمات پیش کرتے تھے اور ضرورت پوری ہوجانے کے بعد منتشر ہوجاتے تھے۔ لیکن تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ملک کی حفاظت کے لیے مستقل فوج قائم کی جو ملک کے مختلف حصوں میں رکھی جاتی۔ ان جگہوں کو آج کی چھائونیاں سمجھ لیجیے۔ اور عمال حکومت کو بھی پابند کیا جاتا تھا کہ وہ ایک خاص تعداد میں فوج تیار رکھیں اور ضرورت پڑنے پر حکومت کو فراہم کریں۔ شاید اسی وجہ سے فرعون کو ذوالاتاد کہا گیا ہے۔ بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ فراعنہ کی عظمت و شوکت کے وہ آثار جو آج بھی زمین پر جمے کھڑے ہیں وہ اہرامِ مصر ہیں۔ ممکن ہے ذوالاوتاد سے ان کی طرف اشارہ ہو۔
Ayahs 89:11–13

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

انھوں نے ملکوں میں سرکشی کی

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں بہت فساد مچایا

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

تب آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلاَدِ ۔ فَاَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ ۔ فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ ۔ (الفجر : 11 تا 13) (انھوں نے ملکوں میں سرکشی کی۔ اور ان میں بہت فساد مچایا۔ تب آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ ) قومِ عاد اور قوم ثمود جیسی طاقتور قومیں اور فرعون جیسا صاحب جبروت حکمران یہ سب اپنے اپنے وقت میں قوت و طاقت ہیبت و جبروت اور دولت و ثروت میں بےمثال تھے۔ لیکن انھوں نے اپنی قوت اور وسائل کو اللہ تعالیٰ کی عطا اور نعمت جاننے کی بجائے اپنی ذاتی کاوش کا نتیجہ سمجھا۔ اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہوئے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے یہ ہماری ذاتی قابلیت اور کارکردگی کا کرشمہ ہے، کسی کا احسان نہیں۔ اور یہ سب کچھ ہمیشہ ہمارے پاس رہے گا، اسے کبھی زوال نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر طرح کی جوابدہی اور مسؤلیت سے بالا سمجھا۔ اور حدود بندگی سے نکل کر خدائی کا صور پھونکنے لگے۔ اور اس سرکشی میں یہاں تک بڑھے کہ زمین کو فساد سے بھر دیا۔ ہر طرف ظلم کا دور دورہ ہوگیا۔ کتنی کمزور قومیں تھیں جن کو انھوں نے اپنا غلام بنا لیا۔ جس کو اپنے سے کمزور جانا اس پر اس طرح ہاتھ ڈالا جس طرح ظالم ہاتھ ڈالتے ہیں۔ قرآن کریم نے نہایت اختصار کے ساتھ ان کی تصویرکشی کرتے ہوئے فرمایا وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ” اور تم نے جب کسی پر ہاتھ ڈالا جبار بن کر ڈالا۔ “ اور فرعون کے ظلم کا حال یہ تھا کہ وہ جب کسی کو سزا دیتا تو اس کے ہاتھ اور پائوں میں میخیں ٹھونک دیتا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی سرکشی کوئی چند دنوں کی بات نہ تھی نہ جانے قدرت انھیں کتنے عرصے تک مہلت دیتی رہی۔ آخر جب ان کا پیمانہ بھر گیا اور مہلت عمل ختم ہوگئی اور وہ حد آگئی جس کے آگے اللہ تعالیٰ انھیں بڑھنے نہیں دینا چاہتا تھا تو پھر ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسا۔ اس کی تفصیل دوسری آیات میں موجود ہے۔
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب گھات میں رہتا ہے

اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ ۔ (الفجر : 14) (بیشک آپ کا رب گھات میں رہتا ہے۔ ) خلاصہ بحث گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کے انتظار میں اس غرض کے لیے چھپا ہوا ہو کہ جب وہ زد پر آئے تو اس پر حملہ کردے۔ لیکن جس کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہے اسے کچھ خبر نہیں کہ کوئی اس کے لیے انتظار میں ہے۔ وہ انجام سے بیخبر اور بےفکری کے ساتھ اس مقام کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور اچانک شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کو نظر نہیں آتی۔ اس کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں لیکن لوگ ان کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ لیکن وہ سب کو دیکھتا ہے اور ان کے اعمال کا جائزہ لیتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے کے بعد کسی گوشے میں بیٹھ گیا ہے اب ہم اپنی من مرضی کرنے میں آزاد ہیں اس لیے وہ نہایت اطمینان اور بےفکری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے وسائل کو اپنی کاوشوں کا نتیجہ سمجھ کر اور ہر طرح کی مسؤلیت سے بےنیاز ہو کر زمین میں ظلم بھی کرتے ہیں اور ہر طرح کی خباثتوں سے زمین کو بھر دیتے ہیں۔ چونکہ ہر چیز کی باگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس لیے وہ لوگوں کو سمجھانے بجھانے اور تنبیہ کرنے کے لیے مصلحین کو بھی بھیجتا ہے اور حالات کے ذریعے بھی متوجہ کرتا ہے لیکن پکڑنے میں کبھی جلدی نہیں کرتا۔ کیونکہ اسے یہ اندیشہ نہیں کہ یہ لوگ بچ کے نکل جائیں گے۔ وہ مہلت پہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے لیکن جب وہ مقرر حد آجاتی ہے جسے لانگنے کی وہ اجازت نہیں دیتا تو قوم جب اسے لانگنا چاہتی ہے تو وہ فوراً اس کی گرفت میں آجاتی ہے۔ اور پھر کسی میں یہ طاقت نہیں کی اس کی گرفت سے بچ کے نکل سکے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں بلکہ ایک حکیم و قدیر کا بنایا ہوا کارخانہ ہے جس نے اس کا ایک مقصد رکھا ہے ایک غایت رکھی ہے۔ اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ ایک روز جزاء و سزا ظہور میں آئے اور اس دن ہر شخص جس نے اپنی زندگی اپنے رب کے احکام کے تحت گزاری ہے اپنے رب کی خوشنودی سے نوازا جائے۔ اور جس نے اس کو ایک بازیچہ اطفال سمجھ کر اس میں فساد مچایا وہ اپنے کیے کی سزا بھگتے۔
Ayahs 89:15–16

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کو عزت و نعمت بخشتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے میری شان بڑھائی ہے

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر ڈالا

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰـہُ رَبُّـہٗ فَاَکْرَمَہٗ وَنَعَّمَہٗ 5 لا فَیَقُوْلُ رَبِّــٓیْ اَکْرَمَن۔ وَاَمَّـآ اِذَا مَاابْتَلٰـہُ فَقَدَ رَعَلَیْہِ رِزْقَـہٗ 5 لا فَیَقُوْلُ رَبِّــٓیْ اَھَانَنِ ۔ (الفجر : 15، 16) (لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کو عزت و نعمت بخشتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے میری شان بڑھائی ہے۔ اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر ڈالا۔ ) انسان کی فکری کجی گزشتہ آیات میں قوم عاد، قوم ثمود اور فرعون کی سرکشی اور فساد اور پھر ان کے انجام کے ذکر کرنے کے بعد اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ انسان عزت اور نعمت پا کر سرکش کیوں ہوجاتا ہے۔ اور اگر یہی عزت اور نعمت اس سے چھن جاتی ہے تو وہ مایوسی و نامرادی کا شکار کیوں ہوجاتا ہے کیونکہ متذکرہ بالا آیات میں جن قوموں کا ذکر کیا گیا ہے اور آج بھی ہم جب دنیا کی بیشتر قوموں کا مطالعہ کرتے ہیں تو دو کردار ہمارے سامنے آتے ہیں کہ کچھ لوگ ہیں جو اقتدار کی مسندوں پر فائز ہیں اور دولت و حشمت ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ وہ جاہ و اقتدار اور دولت و حشمت کو اگر اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں، تو اس کی رضا کی علامت سمجھتے ہیں اور انھیں گمان یہ ہوتا ہے کہ ہم یہ جو کچھ کررہے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہے۔ اگر وہ ہمارے طوراطوار سے خوش نہ ہوتا تو نہ ہمیں جاہ و اقتدار میسر آتا اور نہ ہم دولت و حشمت کے مالک ہوتے۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو ان دونوں چیزوں سے محروم ہیں۔ نہ انھیں دولت میسر ہے اور نہ اقتدار کی کوئی کرسی۔ وہ اس صورتحال کو اپنے لیے محرومی کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ ان کو دنیا کی ذلتیں جھیلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنی حالت بدلنے کے لیے کچھ کرنے کی بجائے مایوسی اور نامرادی کا شکار ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان پر ظلم ہوتا ہے، وہ تو اسے اپنی قسمت سمجھ کر خاموش رہتے ہیں۔ صحیح زندگی اختیار کرنے کے لیے جس حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے تہی دامن ہوجاتے ہیں۔ اور اگر ان میں کچھ لوگ قسمت آزمائی کرنے کی ہمت کرتے ہیں تو وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور ظلم کے مقابلے میں ظلم کی راہیں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ چناچہ ان دونوں غلط رویوں نے اللہ تعالیٰ کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے۔ ظالم کا ظلم بڑھتا جارہا ہے اور مظلوموں کی بےحسی انھیں اور حوصلہ دلاتی جارہی ہے۔ ان آیات میں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جاہ و اقتدار یا دولت و حشمت اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا معیار نہیں۔ اور دولت و حشمت اور جاہ واقتدار سے محرومی ذلت کی علامت نہیں۔ یہ دونوں چیزیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو دنیا میں کچھ دیا ہے آزمائش کے لیے دیا ہے کہ وہ دولت اور طاقت پا کر اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بنتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔ اور جسے مفلس اور تنگ حال بنایا ہے۔ اس کا بھی امتحان ہے کہ وہ صبر اور قناعت کے ساتھ راضی برضا رہتا ہے اور حالات کے مقابلے کے لیے مضبوط اور استوار اور اپنے کردار میں پختہ اور پائیدار ثابت ہوتا ہے یا حوصلہ ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ انسان کے صبر و شکر کی پختگی ہی پر اس کے تمام دین کی پختگی کا انحصار ہے۔ ایک جیسی حالت کبھی نہیں رہتی۔ اس لیے ان دونوں چیزوں کا مختلف وقتوں میں امتحان ہوتا رہتا ہے۔ جس نے یہ دونوں صفات اپنے اندر پیدا کرلیں وہ ہر طرح کے حالات میں وہ زندگی اختیار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ اور جس نے ان دونوں میں یا کسی ایک میں کمزوری دکھائی تو وہ غیرمتوازن زندگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ چناچہ ایسا شخص جو خوشحالی میں شکرگزار ہو اور بدحالی میں صابر اور حالات کا مقابلہ کرنے والا، اسی کو نفس مطمئنہ کی دولت گراں مایہ حاصل ہوتی ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
Ayahs 89:17–20

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے۔

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو اکساتے ہو

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر ہڑپ کر جاتے ہو

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو

کَلاَّ بَلْ لاَّتُـکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ۔ وَلاَ تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلاً لَّمًّا۔ وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔ (الفجر : 17 تا 20) (ہرگز نہیں ! بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے۔ اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو اکساتے ہو۔ اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر ہڑپ کر جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔ ) فکری کجی کا ازالہ کَلاَّ … ہرگز نہیں۔ یہ دراصل کفار کے ان خیالات کی تردید ہے جس کا ذکر سابقہ دو آیتوں میں گزرا۔ وہ مال و دولت کو عزت اور ذلت کا معیار سمجھتے تھے۔ انھیں کسی کے سیرت و کردار سے کوئی غرض نہ تھی۔ جس کے پاس دولت زیادہ ہے یا وہ بڑی طاقت رکھتا ہے وہ ان کے نزدیک عزت والا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے اہم مناصب پر فائز کیا جائے۔ اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ دولت یا جاہ و اقتدار یہ عزت یا ذلت کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے کہ تم عزت اور اقتدار ملنے پر شکر ادا کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ اور غربت اور محکومیت میں تم صبر کرتے ہو یا حوصلہ ہار دیتے ہو۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم دولت مند ضرور ہو اور اپنی قبائلی ریاست میں تم جاہ و اقتدار بھی رکھتے ہو۔ لیکن جہاں تک اس کردار کا تعلق ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل اعتبار اور اجروثواب کے لائق ہے اس سے تم بالکل محروم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دولت اور عہدہ و منصب بطور آزمائش کے دیا تھا تم اس میں بالکل ناکام ہوگئے ہو۔ دولت پر شکر کا تقاضا یہ تھا کہ تم یتیموں کا اکرام کرتے اور غریبوں اور مسکینوں کی ضروریات پر اپنی دولت خرچ کرتے۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم نے دولت کو اپنی کلغی سجانے اور سر اونچا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ پھلدار شاخ ہمیشہ جھکتی ہے لیکن تم ایسے پھلدار ہو کہ جن کے پھل کڑوے ہوچکے ہیں اور جن کے پھلوں میں کسی غریب کا کوئی حصہ نہیں۔ یتیم کے اکرام کا مفہوم یہ ہے کہ یتیم کے حقوق کا صرف یہی تقاضا نہیں کہ اس کے پیٹ کی آگ بجھنے کا انتظام کیا جائے بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس سوسائٹی میں اس کو عزت کا مقام ملے، لوگ اسے احترام سے دیکھیں، لوگ اس کی غربت پر نہیں اس کے کردار پر نظر رکھیں، اگر وہ صاحب کردار آدمی ہے تو یتیمی اس کے راستے میں حائل نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن تمہاری خست کا عالم یہ ہے کہ تم یتیموں اور مسکینوں کو حقوق کیا دو گے اور ان کا اکرام کیا کرو گے تم تو نہ انھیں خود کچھ دینے کو تیار ہو اور نہ کسی اور کو اس پر اکساتے ہو۔ بلکہ تمہاری خواہش یہ ہے کہ کوئی اور بھی کسی یتیم اور مسکین کی ضرورت پوری نہ کرے تاکہ تمہارے بخل پر پردہ پڑا رہے۔ اسلام صرف اسلامی معاشرے کے افراد سے صرف اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ خود یتیموں اور مسکینوں کی ضروریات کو سمجھیں اور ادا کریں، بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ افرادِ معاشرہ میں ایک ایسا احساس پیدا ہوجانا چاہیے جو انھیں ایک دوسرے کو یتیم اور مسکین کی مدد کرنے پر اکسانے پر مجبور کرے۔ جس طرح بیٹا بھوکا ہو یا بیوی فاقے سے ہو تو بیٹے کے باپ اور بیوی کے شوہر کو چین نہیں آتا۔ وہ ادھر ادھر کوشش کرے گا کہ ان کی ضروریات کا کسی حد تک مداوا ہوسکے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں میں اسی طرح کی فکرمندی پیدا کردی تھی۔ جب لوگ فجر کی نماز پڑھ کر گھروں کی طرف آتے تھے تو کوئی نہ کوئی آدمی اپنی چھت پر چڑھ کر بلند آواز سے اعلان کرتا تھا کہ لوگو ! اپنے گردوپیش میں غور سے دیکھو کہیں رات کوئی بھوکا تو نہیں سویا۔ اگر ایسا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نازل ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ بلکہ لوگوں کے تصورات میں اس حد تک تبدیلی آگئی تھی کہ جو شخص غریب لوگوں کی مدد کے احساس سے تہی دامن تھا لوگ اسے آدمی نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک آدمیت کا تقاضا ہے کہ دوسرے آدمی سے حُسنِ سلوک سے پیش آنا اور امکانی حد تک دوسروں کی مدد کرنا ہے۔ سعدی نے بجا کہا : توکز محنت دیگراں بےغمی نہ شاید کہ نامت نہند آدمی اور جگر مرادآبادی نے اس کے نتائج کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بالکل ٹھیک کہا : جب تک کہ غمِ انساں سے جگر انسان کا دل معمور نہیں جنت ہی سہی دنیا لیکن جنت سے جہنم دور نہیں مزید فرمایا کہ سیم و زر اور درہم و دینار سے تمہاری محبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جب کوئی شخص مرجاتا ہے اور اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جاتا ہے تو تم میں جو طاقتور لوگ ہیں وہ اس مرحوم کی وراثت اور چھوڑا ہوا مال سمیٹ کر ہڑپ کر جاتے ہیں۔ ” لَمٌ“ کے معنی جمع کرنے اور سمیٹنے کے ہیں۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ تم مرحوم کے مال میں دست درازی کرتے ہو بلکہ تم مرحوم کا سارا ترکہ جمع کرکے اور سمیٹ کر اس طرح ہڑپ کر جاتے ہو کہ کسی کے لیے کچھ نہیں چھوڑتے۔ حالانکہ مرنے والا تمہارا کوئی عزیز ہے اور اس کی اولاد تمہارے قریبی عزیز کی اولاد ہے اور تم رشتوں میں ان کے چچا، ماموں اور بڑے بھائی جیسے محترم رشتوں سے منسوب ہو۔ باایں ہمہ دولت کی محبت نے تمہیں ایسا اندھا کر رکھا ہے کہ تمہیں سارے رشتے بھول جاتے ہیں اور دولت کی ہوس تم پر غالب آجاتی ہے۔ ویسے بھی دورجاہلیت میں وراثت کا ضابطہ جیسا بھی ہو لیکن ان کی روایت یہ تھی کہ وہ وراثت میں صرف اس بیٹے کو حصہ دیتے تھے جو کمانے، لڑنے اور کنبے کی حفاظت کرنے کے قابل ہوچکا ہوتا۔ لڑکیوں کو وراثت کے قابل نہ سمجھا جاتا تھا۔ ان سے مرنے والے کی وراثت میں حصہ صرف وہ لے سکتا تھا جو زور و اثر رکھتا ہو، ورنہ ہرگز نہیں۔ اور اس ساری خرابی کی بنیاد یہ تھی کہ تم مال سے بےانتہاء محبت رکھتے تھے۔ انسانیت، شرافت، عدل اور رحم جیسی جتنی اقدار بھی ہیں وہ سب اس کے نیچے دب کر دم توڑ چکی تھیں۔
Ayahs 89:21–24

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی، اس دن انسان سوچے گا مگر اس وقت اس کے سوچنے کا کیا حاصل ؟

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

وہ کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا

کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا۔ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا۔ وَّجِایْٓ ئَ یَوْمَئِذٍ م بِجَھَنَّمَ 5 لا یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُالْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَـہُ الذِّکْرٰی۔ یَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ ۔ (الفجر : 21 تا 24) (ہرگز نہیں ! جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی، اس دن انسان سوچے گا مگر اس وقت اس کے سوچنے کا کیا حاصل ؟ وہ کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔ ) مال کے پرستاروں کو تنبیہ مال ہی کو سب کچھ سمجھنے والوں، اور اسے زندگی کا حاصل سمجھنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپنی زندگی کے جو طوراطوار اختیار کر رکھے ہیں اور تم جس طرح شب و روز لہو و لعب اور منکرات میں زندگی گزار رہے ہو اور جزاء و سزا سے غافل ہو کر تم نے زندگی کو جس ڈگر پر ڈال رکھا ہے یہ سب کچھ ہمیشہ نہیں رہے گا، یہ تمہاری خیالی جنت ایک دن فنا ہوجائے گی۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہر چیز نیست و نابود کردی جائے گی۔ جس زمین پر تم درانہ وار چل پھر رہے ہو اسے توڑ پھوڑ کر اس کے تمام نشیب و فراز اور اونچ نیچ برابر کردیئے جائیں گے۔ میدانِ حشر برپا ہوگا، عدالت قائم ہوگی۔ اب تک پروردگار نے پس پردہ بیٹھ کر انسانوں کے معاملات دیکھے اور محفوظ کیے تھے۔ اب وہ اپنے فرشتوں کے جلَو میں نہایت شان و شوکت کے ساتھ نمودار ہوگا۔ آج جو لوگ آخرت کا انکار کررہے ہیں اس دن انھیں بھی سمجھ آجائے گی کہ ہم ایک حقیقت کا انکار کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب اس اعتراف اور نصیحت حاصل کرنے سے کیا فائدہ ہوگا۔ اس دن ہر شخص نہایت حسرت اور ندامت کے ساتھ یہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ اچھے اعمال کا ذخیرہ کر رکھا ہوتا تو آج میرے کام آتا۔ لیکن یہ سب باتیں اس دن حسرت و ندامت کا باعث بننے کے سوا اور کسی کام نہ آئیں گی۔ کیونکہ عمل کی مہلت ختم ہوچکی، دارالعمل سے دارالجزاء کا دور شروع ہوگیا اب کسی چیز کی تلافی ممکن نہیں۔ یہ جو فرمایا گیا کہ پروردگار اس دن فرشتوں کے جلَو میں نہایت شان و شوکت کے ساتھ جلوہ افروز ہوگا اور جہنم کو قریب لایا جائے گا۔ ان تمام باتوں کا تعلق احوالِ آخرت سے ہے جس کی تفصیلات متشابہات میں داخل ہیں۔ جن کی تأویل کو جاننے کے درپے ہونا فتنہ میں پڑنا ہے۔ لیکن ان پر اجمالی ایمان لانا ضروری ہے۔
Ayahs 89:25–26

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پھر اس دن نہ اس کا سا کوئی عذاب دے سکتا ہے

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ اس کا سا باندھنا کوئی باندھ سکتا ہے

فَیَوْمَئِذٍ لاَّ یُعَذِّبُ عَذَابَـہٗٓ اَحَدٌ۔ وَّلاَ یُوْثِقُ وَثَاقَـہٗٓ اَحَدٌ۔ (الفجر : 25، 26) (پھر اس دن نہ اس کا سا کوئی عذاب دے سکتا ہے۔ اور نہ اس کا سا باندھنا کوئی باندھ سکتا ہے۔ ) گزشتہ آیات میں آخرت کے جس دن کا ذکر کیا گیا ہے پیش نظر آیات میں اس دن کے عذاب کی شدت اور بےپناہی کا بیان ہے۔ انسانوں کے ذہنوں میں یقینا ہر چیز کا وہی تصور ہوتا ہے جو اس کے تجربے نے دکھایا یا جسے اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تو دنیا میں انسان جس طرح کی تکلیفیں دیکھتا ہے اور جس طرح کی سزائوں کا تصور رکھتا ہے اس کے بارے میں اسے یہ یقین ہے کہ وہ سزائیں فانی ہوتی ہیں، ابدی نہیں ہوتیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوجاتی ہیں۔ ان کی شدت میں بھی کمی آجاتی ہے۔ اور اگر کوئی سزا زندگی بھر کے لیے ہے تو موت کا ایک حملہ اسے ختم کردیتا ہے۔ لیکن آخرت کی سزائیں ان سے بالکل مختلف ہوں گی۔ نہ مرورایام کا ان پر اثر پڑے گا، نہ کبھی ان پر کہنگی کی گرد جمے گی اور نہ ان کی شدت میں کمی آئے گی، عذاب میں مبتلا شخص موت مانگے گا، اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔ پروردگار اس طرح کا باندھنا باندھے گا کہ جس میں صرف بیرونی دنیا سے تعلق ہی منقطع نہیں ہوگا بلکہ خیالات اور تصورات اور احساسات تک سے علاقہ ٹوٹ جائے گا۔ کاش دنیا میں آدمی ایسے ہولناک تصور کا یقین پیدا کرلے تو وہ اس طرح کی زندگی گزارنے سے بچ سکتا ہے جو اسے اس عذاب میں مبتلا کرسکتی ہے۔
Ayahs 89:27–30

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

نفسِ مطمئن

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

شامل ہوجا میرے بندوں میں

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور داخل ہوجا میری بہشت میں

یٰٓـاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۔ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ (الفجر : 27 تا 30) (اے نفس مطمئن !۔ چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ شامل ہوجا میرے بندوں میں۔ اور داخل ہوجا میری بہشت میں۔ ) اللہ تعالیٰ کے دین پر مکمل ایمان اور تقویٰ رکھنے والوں کو براہ راست بشارت اس سے پہلے کی آیات میں ان کفار کا حال بیان ہوا ہے کہ وہ اس قدر تنگ ظرف اور تھڑدلے واقع ہوئے ہیں کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے نعمت عطا فرمائی وہ بہک گئے اور اترانے اور فخر کرنے لگے۔ اور جب ذرا تنگی آئی تو دل شکستہ ہو کر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کرنے لگے۔ ان کا انجام جہنم ہے جسے بیان کیا گیا۔ اب ان کے بالکل مقابل ان لوگوں کا حال بیان کیا جارہا ہے جو کسی شک و شبہ کے بغیر پورے اطمینان اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اپنے رب پر ایمان لائے۔ انبیاء کے لائے ہوئے دین حق کو اپنا دین قرار دیا۔ حالات کیسے بھی رہے ہوں وہ جادہ حق سے کبھی برگشتہ نہ ہوئے۔ جو عقیدہ اور جو حکم بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے ملا اسے سراسر حق مانا، نعمت ملی تو اس کا شکر ادا کیا، تنگی اور ترشی سے واسطہ پڑا تو صبر کی تصویر بن گئے، اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کی، ہر طرح کے عسرویسر اور نرمی اور سختی میں اپنے رب سے رازی اور مطمئن اور صابر اور شاکر رہ کر زندگی گزاری۔ یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے ہر شخص کا نفس، نفس مطمئنہ ہے۔ یعنی جو ہرحال میں اپنے رب سے راضی اور مطمئن ہے۔ جب موت کا وقت آئے گا تو روح قبض کرنے والے فرشتے، اور اسی طرح جب وہ میدانِ حشر میں آئیں گے تو حشر میں استقبال کرنے والے فرشتے، اور جب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی عدالت کے ذمہ دار فرشتے ان کا آگے بڑھ کر استقبال کریں گے اور انھیں اطمینان دلاتے ہوئے کہیں گے کہ اے نفس مطمئن اپنے رب کی طرف چل، کہ تو زندگی بھر اس سے راضی رہا، آج اس کا انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہونے کی نوید سنا رہا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی کہ اے میرے بندے اب تو میرے خاص بندوں کے زمرے میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔