90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsروح القرآن

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی

لَآ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ ۔ (البلد : 1) (نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ ) قسم سے پہلے ” لا “ کا مفہوم اور قسم کی وضاحت آیت کے آغاز میں ” لا “ قسم کا حصہ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب لوگ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں جس طرح اپنے آپ کو برسرحق قرار دیتے تھے اور اپنے طرزعمل کے صحیح ہونے کی جو توجیہ کرتے تھے اور اپنی مادہ پرستی کی روش کو جس طرح حق بجانب ٹھہراتے تھے اور دولت و رفاہیت کو جس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی سند اور کامیابی کی علامت قرار دے رکھا تھا اور اس کے مقابلے میں آنحضرت ﷺ کی باتوں کا جس طرح مذاق اڑاتے تھے، ان تمام باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم جو کچھ کہتے ہو وہ بالکل غلط ہے۔ بات وہ نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہے بلکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ پھر مختلف قسموں سے اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی قسم اس شہر یعنی مکہ معظمہ کی کھائی گئی۔ مکہ معظمہ کی قسم کھانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اہل مکہ اس شہر کا پس منظر اور اس کی تاریخ سے اچھی طرح واقف تھے۔ انھیں خوب معلوم تھا کہ یہ لق و دق صحرا تھا اور بےآب و گیا وادی تھی جہاں زندگی کے آثار ڈھونڈے سے نہیں ملتے تھے۔ لیکن انھیں سنسان پہاڑوں کے درمیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی ایک بیوی اور شیرخوار بچے کو لا کر بےسہارا چھوڑا۔ اور پھر کس طرح شیرخوار بچے کے پائوں کے نیچے سے زمزم کا سوتا پھوٹا۔ پھر کس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے یہاں اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا اور اس حال میں حج کی منادی کی کہ دور دور تک اس منادی کو کوئی سننے والا نہ تھا۔ پھر کس طرح یہ شہر عرب کا مرکز بنا۔ اور آہستہ آہستہ بہت بڑی آبادی کی صورت اختیار کرگیا۔ اور ایسا حرم قرار پایا کہ صدہا برس تک عرب کی سرزمینِ بےآئین میں اس کے سوا کوئی امن کی جگہ نہ تھی۔ کیا اس شہر کی یہ تاریخ تمہارے طرزعمل کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔
Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اس حال میں کہ آپ کو اس شہر میں حلال کرلیا گیا ہے

وَاَنْتَ حِلٌّ م بِھٰذَا الْبَلَدِ ۔ (البلد : 2) (اس حال میں کہ آپ کو اس شہر میں حلال کرلیا گیا ہے۔ ) آیت کے مختلف مفاہیم اور جوابِ قسم کے مناسب مفہوم مفسرین نے اس کے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں۔ یعنی اس شہر کی تاریخ جاننے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اور دیگر قریش جو یہاں کے رہنے والے ہیں سب جانتے ہیں کہ اس شہر کی تاریخ کیا ہے۔ اس شہر کی تاریخ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اس شہر کی معاشرتی، معاشی اور روحانی حالت کن مراحل سے گزری ہے۔ اور یہاں کے رہنے والے کیسے کیسے حالات سے عہدہ برآ ہوچکے ہیں۔ اس سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ مقسم علیہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ کس قدر صحیح ہے۔ دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ ہے کہ یہ شہر اگرچہ حرم ہے اور حرم میں لڑنا اور کسی کو قتل کرنا یکسر حرام ہے۔ حتیٰ کے باپ کے قاتل کو بھی یہاں پکڑا نہیں جاسکتا۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب کچھ دیر کے لیے یہاں جنگ کرنا اور دشمنانِ دین کو قتل کرنا آپ کے لیے حلال ہوجائے گا۔ اور تیسرا معنی یہ ہے کہ اس شہر کے حرم ہونے کی وجہ سے جنگل کے جانور تک یہاں مامون ہیں۔ کسی جانور کو مارنا اور درختوں تک کو کاٹنا اہل عرب کے نزدیک حرام ہے۔ اور ہر ایک کو یہاں امن میسر ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ اے پیغمبر ! آپ کو یہاں امن نصیب نہیں۔ آپ کو ستانے کی ہر وقت کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ حتیٰ کہ آپ کے قتل کی تدبیریں کی جاتی ہیں۔ گویا آپ کو یہاں حلال کرلیا گیا ہے۔ الفاظ میں اگرچہ ان تینوں معنوں کی گنجائش ہے لیکن جب ہم جوابِ قسم پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں معنی اس سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ اور تیسرا مفہوم قسموں سے مطابقت رکھتا ہے۔
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور قسم ہے باپ کی اور اس کی ذُرِّیت کی

وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ۔ (البلد : 3) (اور قسم ہے باپ کی اور اس کی ذُرِّیت کی۔ ) جوابِ قسم میں چونکہ انسان کا لفظ استعمال ہوا ہے اس لحاظ سے یہ قرینہ ہے اس بات پر کہ یہاں والد سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اور مَاوَلَدَ سے مراد وہ تمام انسان ہیں جو نسل آدم سے پیدا ہوئے۔ جو اس سے پہلے دنیا میں موجود تھے، آج موجود ہیں اور قیامت تک پائے جائیں گے۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ۔ (البلد : 4) (ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ ) یہ جوابِ قسم ہے اس کی وضاحت یہ جوابِ قسم ہے۔ کَبَدٍکا معنی مشقت اور شدت کے ہیں۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے اس دنیا میں انسان کو آرام و آسائش کی زندگی بسر کرنے اور چین کی بنسری بجانے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ ہم نے اسے مشقت میں پیدا کیا ہے۔ یعنی اس کی زندگی کا سفینہ طوفانوں سے نبردآزما ہونے کے لیے بنایا گیا ہے۔ خطرات و مصائب اور اس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ذرا غور کرو کہ جس شہر میں تم رہ رہے ہو اس شہر کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے ایک بندے نے اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کو وادی غیر زی ذرع میں ٹھہرایا۔ پھر کس طرح یہ شہر بسا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر ہوئی۔ جو لوگ یہاں آباد ہوئے ان کی زندگی کیسی خانہ بدوشانہ اور مشقت کی تھی اور معاش کا انحصار غلہ بانی پر تھا۔ نہ یہاں زندگی کے امکانات وافر تھے اور نہ حفاظت کا کوئی انتظام تھا۔ کوئی نظام اور کوئی قانون موجود نہ تھا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ کے دو عظیم پیغمبروں کی محنت سے اللہ تعالیٰ کا یہ گھر مرکز توحید بنا اور ان کی دعائوں کی قبولیت کے ثمرے میں امن بھی ملا، تجارت کی راہیں بھی کھلیں اور ان کی معاشی حالت رفاہیت اور خوشحالی میں تبدیل ہوگئی۔ تو گویا اس گھر کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ انسان کو ناموافق حالات سے لڑنے کے لیے پیدا کیا گیا اور اس کی زندگی مشقت کی زندگی ہے۔ اسی طرح آج تم دیکھ رہے ہو کہ اسی شہر مکہ میں محمد ﷺ کس طرح صعوبتیں اٹھا کر اور مصیبتیں برداشت کرکے لوگوں کو ان کے مقصد زندگی سے آشنا کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ لیکن اس کے جواب میں وہ جس مشقت سے گزر رہے ہیں اسے بھی تم جانتے ہو۔ جنگل کے جانوروں کے لیے یہاں امان ہے مگر ان کے لیے نہیں۔ ان کے مال، ان کے احترام اور ان کی زندگی تک کو خطرات میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسی طرح نسل آدم کے ایک ایک فرد کی زندگی ماں کے پیٹ میں نطفہ قرار پانے سے لے کر موت کی آخری سانس تک اس بات پر گواہ ہے کہ اس کو قدم قدم پر تکلیف، مشقت، محنت، خطرات اور شدائد کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جب تک وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اس کی زندگی ہر وقت خطرات کی زد میں ہوتی ہے۔ زچگی کے وقت اس کی موت اور زندگی کے درمیان بال بھر سے زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔ پیدا ہوتا ہے تو اتنا بےبس کہ کوئی سنبھالنے والا نہ ہو تو سسک سسک کر مرجائے۔ بچپن دوسروں کے سہارے گزرتا ہے، پھر لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے تک ہر تغیر اپنے ساتھ خطرات کی ایک دنیا لے کے آتا ہے۔ عملی زندگی میں چاہے وہ کتنا بڑا آدمی بھی بن جائے اس کی زندگی خطرات سے محفوظ نہیں ہوتی۔ بادشاہ ہے تو سازش کے اندیشوں میں مبتلا رہتا ہے۔ جرنیل ہے تو اپنے ہی سپہ سالاروں کی بغاوت کا دھڑکا لگا رہتا ہے، بڑے سے بڑا دولت مند بھی دولت لٹ جانے اور اس کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ غرضیکہ زندگی کا ہر مرحلہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان کو مشقت میں پیدا کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا انسان جسے قدم قدم پر ناموافق صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کی زندگی کا کارواں کسی وقت بھی لٹ جانے سے مامون نہیں ہوتا کیا اس کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ کسی گھمنڈ میں مبتلا ہو اور یہ سمجھے کہ میں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں مکمل اختیارات رکھتا ہوں۔
Ayah 90:5

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ یہ گمان رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّـقْدِرَ عَلَیْہِ اَحَدٌ۔ (البلد : 5) (کیا وہ یہ گمان رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا۔ ) یعنی جو انسان اس قدر مشقتوں میں گھرا ہوا، اس قدر تغیرات میں محصور اور اس قدر ارادوں کی بجاآوری میں کمزوریوں کا شکار ہے، کیا اسے یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس پر کوئی قادر نہیں ہوسکتا اور کوئی اس کا سر نیچا کرنے والا نہیں۔ حالانکہ وہ قدم قدم پر دیکھ رہا ہے کہ اس کی تقدیر پر کسی اور کی فرمانروائی ہے۔ زلزلے کا ایک جھٹکا، ہوا کا ایک طوفان اور سیلاب کا ایک ریلا اسے یہ بتادینے کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنی سرکشی کے باوجود حقیقت میں کتنا کمزور ہے۔ بڑے سے بڑے حکمران کو حالات کی ایک لہر عرش سے فرش پر گرا دیتی ہے۔ بڑا تنومند انسان ایک حادثے میں اپاہج ہوجاتا ہے، عاد وثمود جیسی ترقی یافتہ قومیں اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے مقابلے میں ڈھیر ہوجاتی ہیں۔ اس نے نہ جانے یہ کیسے سمجھ لیا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہیں پاسکتا۔
Ayah 90:6

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا

یَقُوْلُ اَھْلَـکْتُ مَالاً لُّـبَدًا۔ (البلد : 6) (کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا۔ ) انسان کی مزید کج فہمی جس طرح اس سے پہلے کی آیت کریمہ میں اس کی کج فہمی کو واشگاف کرتے ہوئے فرمایا کہ باوجود اس کے کہ وہ تغیرات اور مصائب میں گھرا ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قادر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اس کی مزید کج فہمی کی دلیل یہ ہے کہ اسے خوب معلوم ہے کہ مال جن اعضاء وجوارح اور جن صلاحیتوں کی مدد سے اور ذہن کی جن توانائیوں کے نتیجے میں کمایا جاتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی دین ہیں۔ ان میں سے کسی چیز کو نہ اس نے پیدا کیا اور نہ اس کا مالک ہے۔ اس کے باوجود برخودغلط ہونے کا حال یہ ہے کہ بجائے اس مال و دولت کو امانت سمجھنے کے اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور اس کو بےدریغ لٹاتا ہے گویا خزف ریزوں کا ڈھیر اس کے ہاتھ آگیا ہے۔ آیت میں جو تعبیر اختیار کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ میرے پاس اس قدر بےپایاں دولت ہے کہ اس کے مقابلے میں جو ڈھیروں مال میں نے خرچ کیا ہے بلکہ اڑایا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور نہ اسے یہ پرواہ ہے کہ جن مصارف میں، میں نے یہ مال خرچ کیا ہے ان مصارف کی حقیقت کیا ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کے پیش نظر دولت کی نمائش اور اپنی بڑائی کے اظہار کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ تعریف کرنے والوں کو بےدریغ نوازنا، شادی اور غمی کی رسموں میں ہزاروں آدمیوں کی دعوت کر ڈالنا، اور مختلف طریقوں سے شان و شوکت کا اظہار کرنا صرف اس لیے ہوتا ہے تاکہ لوگوں میں ان کی تعریفوں کے ڈنکے بجیں اور ہر طرف ان کی شہ خرچیوں کے چرچے ہوں۔
Ayah 90:7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَہٗٓ اَحَدٌ۔ (البلد : 7) (کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ ) شیخی بگھارنے والوں کا محاسبہ ایسے شیخی بگھارنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ کیا یہ شخص گمان کرتا ہے کہ اسے اس طرح مال اڑاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ یعنی اس کا خیال یہ ہے کہ اوپر کوئی خدا نہیں۔ حالانکہ وہ جانتا ہے اور اس کی زندگی کا ہر مرحلہ گواہی دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حصار میں ہے۔ جابجا اس کی قدرتوں کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی دی ہوئی امانت میں کس طرح خیانت کی جارہی ہے اور اس کے عطا کردہ اعضاء وجوارح اور ذہنی رعنائیوں کو کس طرح غلط کاموں میں کھپایا جارہا ہے۔ وہ نیتوں کا حال بھی جانتا ہے اور جن مقاصد کے تحت یہ دولت خرچ کی جارہی ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے گردوپیش میں صدہا غریب و مسکین ضروریاتِ زندگی کے لیے ترستے رہے اور تم اپنے نام و نمود کے لیے دولت کو لٹاتے رہے۔
Ayahs 90:8–10

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھا دیئے

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّـہٗ عَیْنَیْنِ ۔ وَلِسَانًا وَّشَفَتَیْنِ ۔ وَھَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ (البلد : 8 تا 10) (کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں۔ اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے۔ اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھا دیئے۔ ) نعمتوں کا صحیح مصرف یہ کم ظرف لوگ جو مال و دولت پا کر اسی کے ہو کر رہ گئے حالانکہ ہم نے انھیں اس سے بھی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں۔ اگر یہ ان کے قدردان ہوتے تو مال و دولت کی ہوس میں پڑ کر اپنی راہ کھوٹی نہ کرلیتے۔ اگر انھیں ذرا بھی احساس ہوتا تو وہ اسی مال و دولت کے ذریعے سے اپنی آخرت سنوار سکتے تھے۔ فرمایا کہ کیا ہم نے ان کو دو آنکھیں عطا نہیں کیں تاکہ وہ اپنے گردوپیش میں معاشرے کے ضرورتمندوں کو دیکھ سکیں، بےنوا اور بےکس لوگوں کے حالات کا جائزہ لے سکیں اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق سے ان کی مدد کرسکیں۔ لیکن جو شخص ان آنکھوں کو گائے بھینس کی آنکھوں کی طرح سمجھتا ہے جو صرف پانی اور چارے کو دیکھتی ہیں وہ تو یقینا دولت ہی کو ان آنکھوں سے دیکھے گا۔ لیکن جو ان آنکھوں کو علم اور عقل کے ذرائع میں سے اہم ترین ذرائع سمجھتے اور انھیں حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو وہ یقینا ان کے ذریعے سے صحیح اور غلط اور اچھائی اور برائی میں فرق کرسکتے ہیں۔ وہ انھیں آنکھوں سے عبرت نگاہی اور اثرپذیری کا کام لے سکتے اور ان لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے آنکھیں نہیں دیں اور اس طرح سے شکرگزاری کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ ہم نے انسان کو ایک زبان اور دو ہونٹ بھی عنایت فرمائے تاکہ وہ جو کچھ دیکھے اور محسوس کرے اس پر خود بھی عمل پیرا ہو اور اپنی زبان سے دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے۔ کیونکہ انسان کو صرف نیکی کرنے کا مکلف نہیں بنایا گیا بلکہ اس کی یہ ذمہ داری بھی ٹھہرائی گئی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس پر مائل کرنے کی کوشش کرے۔ اور اگر ایسا نہیں کرے گا تو اس کی نیکی ادھوری رہ جائے گی۔ زبان اور ہونٹوں سے جس طرح بولنے کا کام لیا جاتا ہے اسی طرح کھانے اور پینے کی خدمت بھی لی جاتی ہے۔ لیکن یہ ضمنی خدمتیں ہیں زبان کا اصل کام جس نے اس کو سب سے بڑھ کر اہمیت دی ہے وہ اظہارِمافی الضمیر ہے۔ تبلیغ و دعوت اور بھلائی کی اشاعت ہے۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، دِلجوئی اور دلدہی ہے، خیرخواہی اور ہمدردی ہے۔ اس جامعیت کی وجہ سے اسے اللہ تعالیٰ نے دو ہونٹوں کی حفاظت میں رکھا ہے۔ کیونکہ جو چیز جتنی ہی قیمتی، جتنی ہی اثرآفرین اور جتنے ہی گہرے اور دور رس نتائج پیدا کرنے والی ہوتی ہے وہ اتنی ہی احتیاط سے محفوظ کی جاتی ہے۔ اور اس کے استعمال میں نہایت ذمہ داری کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ زبان بھی ایک شمشرجوہردار کی طرح ہے۔ اس لیے قدرت نے اس کو میان میں چھپا کر انسان کو پکڑایا ہے تاکہ وہ اس کو وہیں میان سے باہر نکالے جہاں وہ ضرورت پیش آئے۔ مزید فرمایا کہ ہم نے انسان کو محض عقل و فکر کی طاقتیں عطا کرکے چھوڑ نہیں دیا کہ اپنا راستہ خود تلاش کرے بلکہ مشاہدہ و شعور اور نطق وبیان کی صلاحیت دینے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انسان پر یہ فضل بھی فرمایا کہ اس کو دونوں راستے بھی دکھا دیئے۔ یعنی اس کے سامنے بھلائی اور برائی اور نیکی اور بدی کے دونوں راستے نمایاں کردیئے تاکہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ان میں سے جس کو چاہے اپنی ذمہ داری پر اختیار کرے۔ چناچہ یہی بات سورة الدہر میں ان الفاظ میں فرمائی گئی اِنَّا ہَدَیْنَاہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا ” ہم نے اس کو راہ بھی دکھا دی چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا نا شکرا بنے۔ “ حضرت قتادہ ( رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے : یا ایھا الناس انما ہما النجدان نجدالخیر ونجدالشر فلم تجعل نجدالشر احب الیک من نجدالخیر۔ (قرطبی) ” اے لوگو تمہارے لیے دو راستے ہیں ایک بھلائی کا راستہ، ایک برائی کا راستہ، پس تم کیوں برائی کے راستے کو نیکی کے راستے سے زیادہ پسند کرتے ہو۔ “
Ayahs 90:11–12

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

پس وہ داخل ہی نہیں ہوا عمل خیر کی دشوار گھاٹی میں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور آپ کیا سمجھے کہ وہ گھاٹی کیا ہے

فَلاَ اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۔ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا الْعَقَبَۃُ ۔ (البلد : 11، 12) (پس وہ داخل ہی نہیں ہوا عمل خیر کی دشوار گھاٹی میں۔ اور آپ کیا سمجھے کہ وہ گھاٹی کیا ہے۔ ) اِقْتَحَمَ ، اس کا مصدر ہے اِقْتَحَامَ ۔ اس کا معنی ہے اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقت طلب کام میں ڈالنا۔ چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کو بھی اِقْتِحَامَ کہتے ہیں۔ الْعَقَبَۃَ کے معنی گھاٹی کے بھی ہیں اور اس دشوارگزار راستے کے بھی جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ نعمتوں کی ناقدری پر افسوس کا اظہار آیت کا مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شعور و ادراک نطق وبیان اور ہدایت کی روشنی سے نوازا۔ تو اس کا حق یہ تھا کہ یہ جھوٹی ناموری حاصل کرنے کے لیے اپنی دولت کو یوں نہ لٹاتے، بلکہ جب ان کے سامنے بھلائی اور برائی کے راستے واضح کردیئے گئے تو وہ اس حقیقی راستے پر چلتے جو حقیقی بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ اگرچہ وہ راستہ کٹھن ہے اور اس کو طے کرنا بڑا دشوار ہے۔ لیکن یہ اپنی زرپرستی اور پست ہمتی کے سبب سے یہ حوصلہ نہ کرسکے۔ بلکہ ان کا مال ان کے لیے زنجیرِپا بن گیا۔ کیونکہ مال کی محبت پر قابو پانا اور اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے اور شیطان کی ترغیبات سے لڑ کر چلنا ایک مشکل کام ہے۔ اور نفس کی ترغیبات کے مطابق چلنا ایک آسان راستہ ہے۔ اس لیے لوگوں نے آسان راستہ اختیار کرکے نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ یہ پستیوں کی طرف لڑھکتے چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے بھی اعلیٰ کام ہیں وہ سب ایثار و قربانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے محنت اور کاوش سے کام لینا پڑتا ہے۔ اور نفس کی نقد لذتوں سے منہ موڑ کر بالکل مختلف سمت میں چلنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے وہ بہت شاق گزرتے ہیں۔ اس کے برعکس ادنیٰ کاموں کی لذتیں نقد ہیں۔ اس وجہ سے نفس ان کی طرف فوراً چل پڑتا ہے۔ اس حقیقت کو سیدنا مسیح (علیہ السلام) نے یوں واضح فرمایا ہے کہ ” نیکی کی راہ تنگ اور اس پر چلنے والے تھوڑے، اور بدی کی راہ فراخ اور اس پر چلنے والے بہت ہیں۔ “ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا الْعَقَبَۃُ ” آپ کیا جانیں کہ وہ گھاٹی کیا ہے۔ “ یہ بظاہر سوال ہے لیکن حقیقت میں ایک اسلوب ہے جو کسی چیز کی عظمت کو اجاگر کرنے یا اس کی ہولناکی کو نمایاں کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی مقصد قرآن کریم کے مخاطبوں کو یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے چند رسوم کا ادا کردینا کافی نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے لیے گھاٹیاں سر کرنی پڑتی ہیں، ایثار و قربانی سے کام لینا پڑتا ہے۔ اگر کوئی یہ مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم بتاتے ہیں کہ اس کا طریقہ کیا ہے، اور وہ گھاٹیاں کون سی ہیں جنھیں سر کرنا ضروری ہے۔
Ayahs 90:13–16

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

غلامی سے گردن چھڑانا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا کھانا کھلانا بھوک کے دن میں

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

کسی قریبی یتیم کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا خاک نشین مسکین کو

فَکُّ رَقَـبَۃٍ ۔ اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۔ یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ ۔ اَوْمِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ۔ (البلد : 13 تا 16) (غلامی سے گردن چھڑانا۔ یا کھانا کھلانا بھوک کے دن میں۔ کسی قریبی یتیم کو۔ یا خاک نشین مسکین کو۔ ) چند مشکل الفاظ : مَسْغَبَۃٍ مصدر میمی ہے سَغَبَ سے۔ یہ لفظ عام بھوک پر بھی بولا جاتا ہے لیکن امام راغب نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے ہُوَالْجُوْعُ مِنَ التَّعَبِ بھوک اور تھکن دونوں کے مجموعے کو مَسْغَبَۃٍ کہتے ہیں۔ یعنی ایسے دنوں میں کھانا کھلانا جب ہر طرف قحط کا دور دورہ ہو۔ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ … مَتْرَبَۃٍ بھی مصدر میمی ہے۔ یعنی جب وہ اتنا محتاج ہوجائے کہ مٹی کے ساتھ مل جائے۔ عَقَبَہ کی وضاحت ان آیات میں اس کٹھن راستہ کی تفصیل بتائی گئی ہے جس راستے پر انسان کو چلنا زیب دیتا ہے۔ یہ راستہ اس راستے سے مختلف ہے جس راستے میں دولت لٹائی جاتی ہے۔ ان میں سب سے پہلا مصرف جس میں مال خرچ کرنا انسان کے لیے باعث سعادت ہے۔ لیکن اس میں نفس کے لیے کوئی لذت نہیں بلکہ آدمی کو اس کے لیے اپنے نفس پر جبر کرکے ایثار و قربانی سے کام لینا پڑتا ہے۔ وہ مصرف یہ ہے کہ آدمی اپنی دولت کسی غلام کی آزادی میں صرف کرے۔ یہ سورة چونکہ ان سورتوں میں سے ہے جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں۔ اس وقت دنیا بھر میں غلامی کا چرچا تھا اور غلاموں پر انتہائی مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ اس لیے اسلام نے اپنی دعوت کے بالکل ابتدائی دور ہی میں اس انسانی خدمت اور آزادی کو اپنی سرفہرست نیکیوں میں شامل کرلیا۔ غلام کو آزاد کرنے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ کسی غلام کو خرید کر آزاد کردے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ اگر وہ اپنے آقا سے مکاتبت کرچکا ہے تو وہ اس کی مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا فدیہ ادا کرکے رہائی حاصل کرسکے۔ آج اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ غلامی باقی نہیں رہی۔ لیکن آج بھی کتنے لوگ ہیں جو قرض کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں، کتنے ہاری اور مزارع ہیں جنھیں زمینداروں نے غلام بنا رکھا ہے اور کتنے ایسے بےکس لوگ ہیں جو سودی قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ایسے بےوسیلہ لوگوں کی مدد کرنا یہ بھی اسی میں شامل ہے۔ دوسرا مصرف یہ ہے کہ آدمی بھوک کی حالت میں کسی قریبی یتیم، یعنی رشتہ دار یا پڑوسی یتیم کو کھانا کھلائے۔ یتیم جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اس کی کسی طرح کی بھی مدد کرنا بہت اجروثواب کا باعث ہے۔ یہاں کھانا کھلانے سے مراد صرف روٹی کے چند نوالے نہیں بلکہ ہر طرح کی ضروریات کی کفالت ہے۔ اور اگر عام قحط سالی کا زمانہ ہو اور غذائی اجناس کی نایابی پریشان کن ہو، یا مہنگائی نے کمر توڑ دی ہو تو کھانا کھلانے یا دیگر ضروریات میں کفالت کرنے کا اجروثواب اور بڑھ جاتا ہے۔ اور اگر یہ یتیم قریبی رشتہ دار بھی ہو تو ایسی صورت میں مدد کرنا دہرے ثواب کا باعث ہے۔ اس میں ایک تو یتیم کے حق کی پاسداری ہے اور دوسرا حق قرابت کا لحاظ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس سلسلے میں بہت فضائل بیان فرمائے ہیں۔ یتیم کی طرح مسکین کی مدد کرنا بھی عَقَبَہ میں شامل ہے۔ بالخصوص ایسے مسکین کو کھانا کھلانا جو خاک نشین ہو۔ یعنی اس کی ضرورتوں نے اسے فاقہ کشی تک پہنچا دیا ہو اور اس کے لیے زمین سے اٹھنا مشکل ہو۔ اس سلسلے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرے وہ ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا۔
Ayah 90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر وہ ایمان والوں میں سے ہو جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو رحم کی تلقین کی

ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ ۔ (البلد : 17) (پھر وہ ایمان والوں میں سے ہو جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو رحم کی تلقین کی۔ ) عَقَبَہ سر کرنے والوں کے مزید اوصاف اللہ تعالیٰ جن کی نگاہوں میں عبرت نگاہی اور دلوں میں اثر پذیری پیدا کردیتا ہے ان میں وہ اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں جن کا اوپر کی آیات میں ذکر کیا گیا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ان اوصاف کا اعتبار اللہ تعالیٰ کے یہاں اس وقت ہوتا ہے جب ان کے ساتھ آدمی مومن بھی ہو۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل، عمل صالح نہیں بنتا، اور نہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے جا بجا نیک اعمال کے ساتھ مومن ہونے کی شرط لگائی ہے۔ سورة نحل میں فرمایا مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْاُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیَاۃً طَیِّبَۃً ” جو شخص نیک عمل کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔ “ بغیر ایمان کے عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی قدر و قیمت کا حامل نہیں چاہے وہ عمل کیسا ہی شاندار کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اجروثواب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ملتا ہے اور وہی اس کی اتھارٹی ہے۔ جو شخص اسے تسلیم نہیں کرتا یا اس کے قانون کی اطاعت نہیں کرتا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی ملک کی اتھارٹی اور اس کی حیثیت کو قبول کیے بغیر ملک میں رہ کر اچھے کام بھی انجام دے۔ تو اولاً تو ایسے شخص کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ ملک کی حیثیت کو قبول نہ کرکے شہری حقوق سے محروم ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کسی دشمن نے کوئی اچھا کام کیا ہو۔ اسی طرح ایسے لوگوں کی دو مزید صفات بیان کی گئی ہیں جنھیں اسلامی معاشرے کی خصوصیات کہنا چاہیے۔ جن میں سے ایک صفت یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات اور مصائب کو نہ صرف خود برداشت کرتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس پر صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اور دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ لوگ سنگدل نہیں ہوتے کہ ایک دوسرے کی تکلیفوں سے بےنیاز رہیں۔ بلکہ ان میں سے ہر فرد اپنے آپ کو امت اسلامیہ کا ایک ایسا غیرمنفک حصہ سمجھتا ہے جس طرح جسم کے اعضاء ہوتے ہیں۔ ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو تمام جسم بےچین ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں میں اگر مشرق کے بھائی کے پائوں میں کانٹا چبھتا ہے تو مغرب میں بسنے والا کلمہ گو بیتاب ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ان کا باہمی رشتہ رحمت و شفقت کا ہے۔ گویا یہ لوگ رحمت و شفقت کی ایسی مضبوط لڑی میں پروئے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ ہر نرمی اور سختی میں ایک دوسرے ہم رنگ اور ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ ان کی باہمی ہم آہنگی اور ہم رنگی انھیں ایک ایسی سیسہ پلائی دیوار بنا دیتی ہے جو کبھی شکست نہیں ہوتی۔
Ayahs 90:18–20

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی خوش بخت لوگ ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ کم بختی والے ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی

اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰ یٰـتِنَا ھُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ عَلَیْھِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ۔ (البلد : 18 تا 20) (یہی خوش بخت لوگ ہیں۔ اور جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ کم بختی والے ہیں۔ ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی۔ ) اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ اور اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ میں فرق گزشتہ آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے نفس کی ترغیبات، شیطان کے بہلاو وں اور خواہشات کی پیروی سے منہ موڑ کر عَقَبَۃُ پر چڑھنے کا فیصلہ کرلیا یعنی خیر اور نیکی کے اس راستے پر چل پڑے جو ایثار اور قربانی کا راستہ ہے اور انھوں نے اپنے د لوں کو ایمان کے نور سے منور بھی کرلیا اور اپنے اندر صبر اور ہمدردی جیسی صفات بھی پیدا کرلیں، تو یہ وہ لوگ ہیں جو خوش نصیب ہیں۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ نفس، شیطان اور خواہشات کی پیروی کرتے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کمبختی والے ہیں۔ جن کا بخت سو گیا ہے اور جنھوں نے اپنی قسمت پھوڑ لی۔ قیامت کے دن ان کا حشر یہ ہوگا کہ ان کو آگ کی وادی میں پھینک کر دروازے بند کردیئے جائیں گے۔ مُؤْصَدَۃٌ کا معنی ہے مغلقۃ۔ اوصدالباب کا معنی ہے دروازہ بند کردیا۔ ان پر آگ بند کردی جائے گی۔ یعنی آگ کو روکنے والے دروازے بند کردیئے جائیں۔ یہ روئیں گے اور چیخیں گے، لیکن کوئی ان کی آواز سننے کو تیار نہ ہوگا۔ اور نہ انھیں نکلنے کے لیے کوئی راستہ ملے گا۔ الْمَیْمَنَۃِ … یمین سے بھی ہوسکتا ہے اور یمن سے بھی۔ اگلی آیت میں چونکہ الْمَشْئَمَۃِ آرہا ہے جو شوم سے ہے جس کا معنی ہے نحوست اور بدبختی۔ اس کی مناسبت سے پہلی آیت میں لفظ میمنہ کو یمن سے لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ہم نے ترجمے میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم نے ان خوش قسمت لوگوں کو جنھیں جنت میں بھیجا جانے والا ہوگا اصحاب الیمین قرار دیا ہے۔ اور اہل جہنم کو اصحاب الشمال کہا گیا ہے۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیکوں کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور بروں کے ان کے بائیں ہاتھ میں۔ تو دہنے ہاتھ میں اعمال نامے لینے والے خوش نصیب ہوں گے اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے لینے والے بدبخت اور محروم ہوں گے۔ اس لحاظ سے انجام اور مآل کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔