Ayah 91:1وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا۔ (الشمس : 1)
(قسم ہے آفتاب کی اور اس کی دھوپ کی۔ )
قسموں کی وضاحت
ضُحٰی … امام مبرد کے نزدیک اس کی اصل الضِّحُّ ہے۔ اس کا معنی ہے آفتاب کی روشنی۔ دوسری ” حا “ کو ” الف “ سے بدل دیا گیا ہے۔ (قرطبی)
ضحاک نے حضرت ابن عباس ( رض) سے اس کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ اس سے سورج کی روشنی اور حرارت دونوں مراد ہیں۔ اور روشنی کے ساتھ ساتھ حرارت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سورج بلند ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ چاشت کا وقت بھی کیا جاتا ہے۔ اور مزید یہ بات کہ چاشت کے وقت میں روشنی کے ساتھ حرارت اس وقت وجود میں آتی ہے جب دھوپ تیز ہوتی ہے۔ اس لیے بعض اہل علم کے نزدیک اس کا ترجمہ دھوپ سے اگر کیا جائے تو زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 91:2وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰـھَا۔ (الشمس : 2)
(اور چاند کی قسم جبکہ اس کے پیچھے آتا ہے۔ )
تیسری قسم چاند کی کھائی جارہی ہے جب وہ سورج کے غروب ہونے کے بعد طلوع ہوتا ہے۔ قمری مہینہ کے ابتدائی پندرہ دنوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ادھر سورج غروب ہوتا ہے ادھر چاند نمودار ہوجاتا ہے۔ اور آخری نصف میں چاند پہلے طلوع ہوتا ہے اور سورج اس کے بعد نمودار ہوتا ہے۔
Ayah 91:3وَالنَّھَارِ اِذَا جَلّٰھَا۔ (الشمس : 3)
(اور قسم ہے دن کی جب آفتاب کو روشن کردے۔ )
اس ترجمے کے مطابق جَلّٰھَا میں ضمیر کا مرجع آفتاب ہے۔ یعنی جیسے جیسے دن چڑھتا جاتا ہے سورج کی روشنی بھی تیز ہوتی جاتی ہے۔
Ayah 91:4وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰھَا۔ (الشمس : 4)
(اور قسم ہے رات کی جب وہ اسے ڈھانک لے۔ )
رات کی اصل حقیقت یہ ہے کہ سورج افق سے نیچے اتر جاتا ہے۔ چناچہ اس کی روشنی زمین کے جس حصے تک نہیں پہنچ سکتی وہاں رات طاری ہوجاتی ہے۔ اور یہ رات اس وقت تک رہتی ہے جب تک سورج افق سے نمودار نہیں ہوجاتا۔ اسی کو رات کے سورج کو ڈھانک لینے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ قسمیں آفاق کی ایسی نشانیاں ہیں جو زوجین کی نسبت رکھتی ہیں
ان قسموں میں آفاق کی ایسی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو آپس میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یعنی سورج اور چاند ایک دوسرے کا جوڑا ہیں۔ اور دن اور رات ایک دوسرے کے لیے زوج ہیں۔ اس سے قرآن کریم نے کئی جگہ توحید اور آخرت اور جزاء و سزا پر استدلال کیا ہے۔ یعنی اگر دنیا ایک حقیقت ہے تو چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا جوڑا پیدا کیا ہے تو ضروری ہے کہ اس کا جوڑا آخرت بھی کبھی ظہور میں آئے۔ اس کا انکار اللہ تعالیٰ کے اس قانون کا انکار ہے۔ لیکن یہاں ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ سورج اور چاند اور رات اور دن بالکل ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ نہ یہ شکل و صورت میں باہم دگر متشابہ ہیں، نہ ظہور کے طریقے میں یکساں ہیں، نہ ان کا مزاج ایک جیسا ہے، نہ کائنات پر ان کے اثرات ملتے جلتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کائنات اضداد کی رزم گاہ ہے لیکن جب ہم ان میں ہم آہنگی دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ بظاہر ان میں تضاد نظر آتا ہے اور ان کی حقیقت میں تخالف دکھائی دیتا ہے لیکن ان کی کارکردگی میں قدم قدم پر توافق نظر پڑتا ہے۔ ان میں کہیں باہم تصادم نہیں ہوتا۔ یہ اپنے اپنے دائروں میں اپنے اپنے فرض کے مطابق رات دن سرگرم رہتے ہیں۔ نہ سورج چاند کی حدود میں مداخلت کرتا ہے نہ چاند اپنے وقت سے پہلے ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتا ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا گیا :
لاَ الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَہَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ ط وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْن۔
” نہ سورج کے لیے مناسب ہے کہ وہ چاند کو جا لے اور نہ رات ہی دن سے سبقت کرنے والی ہے، تمام اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں۔ “
یہ صورتحال دو چیزوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ایک یہ کہ آفاق کی ان نشانیوں میں باہمی ساز گاری ہی پر ان کی بقاء کا انحصار ہے۔ اگر یہ تعمیلِ ارشاد کی بجائے طغیان و سرکشی کا رویہ اختیار کریں تو چشم زدن میں تباہ و برباد ہوجائیں۔ اور دوسری یہ بات کہ ان کی تخلیق میں توافق اور سازگاری نہیں بلکہ تضاد اور تخالف ہے۔ اس کے باوجود خالق کائنات نے ان کو توافق پر مجبور کر رکھا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ان حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر کر رکھی ہیں۔ ان قسموں کے ذریعے انسان کو ان دونوں باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح آفاق کی مخلوق تکوینی قانون کی پابند ہے اسی طرح تم تشریعی قانون کے پابند ہو۔ جس طرح تکوینی قانون کی مخالفت تباہی کا باعث ہوسکتی ہے اسی طرح تشریعی قانون کی مخالفت اور ان حدود کی پامالی بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا باعث ہوسکتی ہے جو قانون اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نازل فرمایا اور جو حدود تمہارے لیے وضع کی ہیں۔
Ayahs 91:5–6وَالسَّمَآئِ وَمَابَنٰـھَا۔ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰـھَا۔ (الشمس : 5، 6)
(اور قسم ہے آسمان کی اور جیسا کچھ اس کو بنایا۔ اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کچھ اس کو بچھایا۔ )
ان قسموں سے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پر توجہ دلائی گئی ہے
ان قسموں سے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پر توجہ دلائی گئی ہے کہ قسم ہے آسمان کی ذرا اس کی بلندی کو دیکھو اور قسم ہے زمین کی ذرا اس کی فیض بخشی کی طرف توجہ کرو۔ آسمان ایک نیلگوں چھت کی طرح ہم پر تنا ہوا ہے۔ نہ اس میں کوئی ستون نظر آتا ہے اور نہ کہیں کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔ یہ اس کے بنانے کی عظیم قدرت، بےنہایت حکمت اور خوبصورت صنعت پر دلالت کررہا ہے۔ اسی طرح زمین جو ربوبیت کا خزانہ ہے جس کی عاجزی اور فروتنی نے آغوش مادر کا کام کیا ہے اور جو اپنے اندر نہ جانے کیسے قیمتی خزانوں کو چھپائے ہوئے ہے۔ کوئی شخص اس کے بنانے والے کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کا اندازہ کرسکتا ہے جس نے زمین جیسی مخلوق پیدا فرمائی۔ جو ذات ایسی ہمہ گیر قدرتوں کی مالک اور ایسی بےپایاں حکمتوں کی حامل ہو کیا اس کے بارے میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس نے انسان جیسی انمول مخلوق جس کی مخلوقات میں کوئی نظیر نہیں بےمقصد پیدا کی ہوگی اور اسے یہ گوارا ہوگا کہ وہ شتر بےمہار بن کر زمین پر زندگی گزارے اور وہ جو چاہے کرتی پھرے، کبھی اس کے رویئے کے مطابق نہ جزاء ہو نہ سزا۔ اگر اس نے واقعی ایسا کیا ہے تو پھر تو اس کی تمام قدرت و حکمت اور ربوبیت و رحمت بےمعنی اور کائنات کا سارا کارخانہ ایک کارعبث بن کر رہ جائے گا۔
پیشِ نظر آیات میں ” ما “ کے متعلق سوال کیا جاتا ہے کہ یہ مصدریہ ہے یا موصولہ۔ بعض اہل علم نے اسے موصولہ مان کر ” من “ کے معنی میں لیا ہے اور پھر اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد لی ہے، لیکن اس پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ان آیات میں قسمیں خدا کی نہیں بلکہ اس کی آیات قدرت و حکمت کی کھائی گئی ہیں۔ اور اگر ان قسموں میں اللہ تعالیٰ کی ذات کو مراد لیا جائے تو اس سے پہلے کی قسموں سے ان کی نوعیت بالکل مختلف ہوجائے گی۔ یعنی پہلی چار قسمیں اللہ تعالیٰ کی آیات کی گواہی دیں گی اور دوسری قسموں میں اللہ تعالیٰ کو مراد لے کر کس پر گواہی قائم کریں گے۔ لازماً اسے تعظیم و تقدیس کے مفہوم میں لینا پڑے گا جس کا یہاں کوئی محل نہیں۔ اس لیے مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ” ما “ کو موصولہ کی بجائے مصدریہ قرار دیا جائے۔ ہم نے اسی لیے اس کو مصدریہ قرار دے کر اس کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 91:7وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا۔ (الشمس : 7)
( اور قسم ہے نفس کی اور جیسا کچھ اس کو سنوارا۔ )
آفاقی شہادتوں کے بعد نفسیاتی شہادت
آفاقی شہادتوں کے بعد نفسیاتی شہادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نفس انسانی کی قسم کھائی گئی ہے۔ لیکن خاص طور پر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس کو پیدا فرمایا تو اس کا تسویہ بھی فرمایا۔ یعنی اسے ایسا جسم عطا کیا جو اپنے قامت راست اور اپنے ہاتھ پائوں اور اپنے دماغ کے اعتبار سے انسان کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے موزوں ترین تھا۔ اسے حواس کی دولت عطا فرمائی جو اپنے تناسب اور اپنی خصوصیات کی بنا پر علم کا بہترین ذریعہ بن سکتے تھے۔ پھر اسے جوہرِعقل سے نوازا، فکری قوت عطا فرمائی، دل و دماغ کی رعنائیاں بخشیں، قوت ارادی اور اقدامی قوتوں سے بہرہ ور فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ اس کی داخلی صلاحیتوں کو ایسا ہموار کیا کہ جس سے پیدائشی گنہگار ہونے کا تصور یکسر ختم ہو کر رہ گیا۔ نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں اس کی وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت کے سوا کسی اور چیز پر پیدا ہوتا ہو، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے جانور کے پیٹ سے پورے کا پورا صحیح وسالم بچہ پیدا ہوتا ہے کیا تم ان میں کسی کا کان کٹا ہوا پاتے ہو ؟ (بخاری) یعنی یہ مشرکین ہیں جو بعد میں اپنے اوہامِ جاہلیت کی بناء پر جانوروں کے کان کاٹتے ہیں۔
Ayah 91:8فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْـٰوھَا۔ (الشمس : 8)
(پھر اس کے دل میں ڈال دی، اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری۔ )
الہام کی وضاحت
علامہ ابن منظور الہام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں اللّٰھُمَّ : الابتلاع لَہَمَ الشی لَہْمًا وَلَہَمًا وَتَلَہَّمَہ وَالتَہَمَہ ابتلعہ مرۃ ” یک بارگی کسی چیز کو نگل جانا، اسی سے الہام مشتق ہے۔ والالہام : مایلقی فی الروع ” دل میں کسی چیز کو ڈال دینا۔ “
علامہ راغب اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں الالہام : القاء الشی فی الروع ویختص ذلک لما کان من جہۃ اللہ تعالیٰ اومن جہۃ الملاء الاعلیٰ (المفردات) ” یعنی الہام کسی چیز کے دل میں ڈالنے کو کہتے ہیں اور الہام اس خیال کے لیے مخصوص ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو یا ملاء اعلیٰ کی طرف سے۔ “
اہلِ لغت کی ان وضاحتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ الہام دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کسی خیال کو بندے کے دل و دماغ میں اتار دینے کا نام ہے۔ اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی ایک ہی صورت نہیں بلکہ ایک فطری الہام ہے جو اللہ تعالیٰ ہر مخلوق پر اس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کرتا ہے، اسی کو قرآن کریم نے ہدایت سے بھی تعبیر کیا ہے۔ مثلاً مچھلی تیرتی ہے، پرندہ اڑتا ہے، شہد کی مکھی چھتہ بناتی ہے۔ یہ وہ علم ہے جو فطرت کے ذریعے انھیں الہام کیا جاتا ہے۔ انسان چونکہ مختلف حیثیتوں کا جامع ہے اس کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے۔ اسے وجدان کے ذریعے الہام کیا جاتا ہے کہ ماں کے سینے سے کس طرح دودھ چوسنا ہے اور بھوک لگے تو رونا ہے۔ اسی طرح وہ ایک عقلی وجود بھی ہے۔ چناچہ جیسے جیسے وہ عقلی وجود میں آگے بڑھتا ہے ویسے ویسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے الہامی رہنمائی بھی کی جاتی ہے۔ انسان نے جتنے اکتشافات کیے ہیں اور جتنی ایجادات کی ہیں جن کی وجہ سے تمدن کو ترقی ملی ہے ان کے پیچھے کسی غور و فکر کا نہیں، الہام کا ہاتھ ہے۔ نیوٹن کے ذہن میں سیب کو گرتے دیکھ کر کشش ثقل کا تصور عقلی نہیں الہامی ہے۔ سیب کو گرتے اس نے بارہا دیکھا لیکن یہ تصور اس کے ذہن میں اس وقت آیا جب اسے الہام کیا گیا۔ اسی طرح انسان کی ایک اور حیثیت بھی ہے کہ وہ اخلاقی وجود ہے۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اسے فجور اور تقویٰ کا الہام کیا ہے۔ یعنی اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات اور میلانات رکھ دیئے ہیں۔ اور یہ وہ چیز ہے جسے ہر شخص اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کردیئے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی۔ اچھے اخلاق اور اعمال اور برے اور اخلاق و اعمال یکساں نہیں ہیں۔ فجور یعنی بدکرداری ایک بری چیز ہے۔ اور تقویٰ یعنی برائیوں سے اجتناب ایک اچھی چیز ہے۔ یہ برے بھلے کی تمیز پیدائشی طور پر انسان کو عطا کردی گئی ہے۔ اور اسی بات کو سورة البلد میں دو راستوں کی ہدایت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور سورة الدہر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے انسان کو اس کا راستہ دکھا دیا خواہ شاکربن کر رہے یا کافر۔ یہ خیر و شر کا امتیاز ایک ایسی عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصورات سے خالی نہیں رہا۔ ہر زمانے میں اس کا پایا جانا اور ہر تہذیب و تمدن میں اس کا وجود اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے۔ اور اس بات کا بھی کہ ایک خالق حکیم و دانا نے اسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ کیونکہ جن اجزاء سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادی نظام چل رہا ہے ان کے اندر کہیں اخلاق کے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔
ایک بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کا امتیاز اور خیر کے خیر ہونے اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر ودیعت کیا ہے۔ لیکن یہ الہام ایک اجمالی احساس پیدا کرتا ہے کبھی عقل سلیم کے ذریعہ سے اور کبھی فطرتِ صحیحہ کے راستہ سے۔ لیکن یہ احساس ایسا نہیں ہوتا جو خواہشات کی اپیل اور حالات کے دبائو کا مقابلہ کرسکے۔ اس لیے تفصیلی طور پر اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کی زبانی اسے کھول کر بیان فرمایا کہ یہ راستہ بدی کا ہے اور یہ پرہیزگاری کا۔ البتہ اس کے واسطے سے قلب میں جو نیکی کا رجحان یا بدی کا میلان پیدا ہوتا ہے ان دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ نیکی کا القاء فرشتہ کے واسطہ سے ہوتا ہے اور بدی کا القاء شیطان کے واسطہ سے ہوتا ہے۔ پھر یہ رجحان اور میلان کبھی بندہ کے قصدواختیار سے مرتبہ عزم تک پہنچ کر صدورفعل کا ذریعہ بن جاتا ہے جس کا سبب اللہ تعالیٰ اور کا سب بندہ ہے۔ اسی کسب و خیر پر مجازات کا سلسلہ بطریقِ تسبیب قائم ہے۔ (المستفاد من فوائدِ عثمانی)
Ayahs 91:9–10قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا۔ (الشمس : 9، 10)
(یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔ )
یہ جوابِ قسم ہے
یہ ہے جوابِ قسم جس کے لیے ان چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی ہیں۔ ہم گزشتہ آیات کی وضاحت میں یہ عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنی جن نشانیوں کا ذکر کیا ہے ان میں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام چیزیں آپس میں ایک دوسرے کے متضاد اور نسبت تخالف رکھتی ہیں۔ سورج اور چاند اپنے ظہور اور فروغ اور اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے بالکل ایک دوسرے سے متضاد اور ایک دوسرے کے متخالف ہیں۔ رات اور دن دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور دونوں میں انسانوں کے مفادات بالکل ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ آسمان بلندیوں سے عبارت ہے اور زمین پستیوں سے۔ اور دونوں کے کوائف اور دونوں کے فرائض بالکل ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اسی طرح نفس انسانی بھی خیرو شر کے میلانات و رجحانات اور محرکات کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ مجموعہ اضداد بھی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی وسیع تر حکمت نظام کے تحت وہ جس طرح کائنات کے نظام میں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور ایک دوسرے سے معاون ہیں اور کبھی ان میں نہ تخالف ہوتا ہے اور نہ تخلف۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مکمل طور پر فرمانبردار اور وفادار ہیں۔ وہ کبھی اس تکوینی قانون کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتے اور کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑائی نہیں جتاتے۔ اور جس کام پر انھیں لگا دیا گیا ہے اس سے سرمو انحراف نہیں کرتے یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی کامیابی کے اس رشتے کو پکڑ لے تو اسے اس راز کو پالینا چاہیے۔
تزکیہ نفس کا مطلب
اس کے لیے قرآن کریم نے تزکیہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورتحال کے لیے اس سے بہتر لفظ ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ تزکیہ کا معنی ہوتا ہے پاک کرنا، ابھارنا اور نشو و نما دینا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو شخص فلاح کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے افکار کو فکری گمراہیوں سے پاک کرے، اپنے اعمال کو نافرمانیوں کی آلودگی سے بچائے اور اپنے اخلاق کو ہر طرح کی ناپاک خواہشات سے بچا کے رکھے۔ اس طرح سے اس کے اندر بھلائی نشو و نما پائے گی اور آہستہ آہستہ وہ تقویٰ کی سیڑھیوں پر چڑھتا چلا جائے گا۔ اس کی فطرتِ سلیمہ نشو و نما کے مراحل طے کرے گی اور اس کی قوت و توانائی میں اضافہ ہوجائے گا۔ نتیجتاً ایسا شخص اپنے اندر ایسا عزم اور ہمت محسوس کرے گا کہ مشکل سے مشکل کام کرنے کے لیے بھی آمادہ ہوجائے گا۔ اس کے اندر ایثار و قربانی کی مشعلیں جلیں گی، اس کی روحانی قوتیں بیدار ہوتی چلی جائیں گی۔ آخر وہ ایسی منزل پر جا پہنچے گا کہ شریعت کے تقاضے اس کے طبعی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا عشق اور دین کی وارفتگی اس کی طبیعتِ ثانیہ بن جائے گی۔
اس کے برعکس وہ شخص ناکام و نامراد ہوگا جو اپنے نفس کے اندر پائے جانے والے نیکی کے رجحانات کو ابھارنے اور نشو و نما دینے کی بجائے اس کو فسق و فجور کے ڈھیر کے نیچے دبا دے گا۔ نفس کے غلط میلانات کو بڑھا کر ناشکری کی انتہا تک پہنچ جائے گا۔ ایسے شخص کی ناکامی میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ اہل لغت کہتے ہیں کہ دَسّٰھَا اصل میں دَسَّسَھَا ہے۔ یہ تدسیس سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا۔ اس کے آخری سین کو یا سے بدل دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بندہ صرف تقویٰ اور تزکیہ کی خواہش ہی کرسکتا ہے اور اس کے لیے محنت کرتا ہے۔ لیکن اس کا نصیب بن جانا یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق پر منحصر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ زبردستی کسی نفس کو آلودہ نہیں کرتا، مگر بندہ جب اس کا تہیہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے تقویٰ اور تزکیہ کی توفیق سے محروم کردیتا ہے اور وہ اسے شیطانوں کے لیے چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اس کو اپنی سواری بنائے پھریں۔
Ayahs 91:11–15کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْـٰوھَـآ۔ اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰـھَا۔ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰـھَا۔ فَـکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْھَا 5 ص لا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّھُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰھَا۔ وَلاَ یَخَافُ عُقْبٰـھَا۔ (الشمس : 11 تا 15)
(ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا۔ جبکہ اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے زیادہ بدبخت۔ تو اللہ کے رسول نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار۔ مگر انھوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کی پاداش میں ان پر ایسی آفت توڑی کہ ان کا ستھرائو کردیا۔ اور وہ نہیں ڈرتا ان کے تباہ کن انجام سے۔ )
ایک تاریخی شہادت
آفاقی و انفسی شواہد کے بعد ایک تاریخی شہادت اس دعوے کے ثبوت کے لیے پیش کی گئی ہے جس کا اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ جو قوم نیکی کے رجحانات کو ترقی دے کر برائی کے محرکات پر غالب نہیں کرتی اور تقویٰ کے ذریعے برائی کے سوتوں پر بند نہیں باندھتی، وہ بالعموم ایسی صورتحال سے دوچار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت بھی انھیں بدلنے سے عاجز رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اتمامِ حجت کے لیے مہلت عطا فرماتا ہے لیکن بالآخر وہ قوم تباہ کردی جاتی ہے۔ قوم ثمود کو اسی حقیقت کے طور پر یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ثمود کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ تباہ شدہ قوموں میں جس قوم کا علاقہ اہل مکہ کے قریب ترین تھا وہ یہی قوم تھی۔ شمالی حجاز میں اس کے تاریخی آثار موجود تھے جن سے اہل مکہ شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں ہمیشہ گزرتے رہتے تھے۔ چناچہ اس آگاہی کی وجہ سے جب قرآن کریم نے اس سورة کے اشارات میں ثمود کا ذکر فرمایا تو قریش کے سامنے ان کی پوری تاریخ نکھر کر آگئی۔ یہ عرب بائدہ میں سے ہیں جن کی روایات وراثت میں اہل عرب تک پہنچیں۔ ان سے متعلق بہت سی امثال اور تلمیحات اہل عرب کے ادب کا حصہ بنیں۔ ان کے شعراء اور خطباء بڑی بےتکلفی سے ان کا ذکر کرتے تھے۔ اور وہ ان کے بڑے بڑے لیڈروں سے بھی واقف تھے اس لیے اپنے اشعار میں ان کا تذکرہ بھی کرتے تھے۔
پہلی آیت میں ان کی اصل بیماری کا ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں تباہ و برباد کیا۔ اس بیماری کو طغویٰ کے نام سے یاد فرمایا گیا ہے۔ اس کا معنی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے کھلم کھلا بغاوت ہے۔ خاص طور پر وہ سرکشی جس کی مرتکب کوئی قوم اس وقت ہوتی ہے جبکہ حق اس پر اچھی طرح واضح ہوچکا ہو۔ قریش کو ان کی سرکشی کے حوالے سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ تم آج جس سرکشی میں مبتلا ہو ثمود ایسی ہی کیفیت سے دوچار تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں کسی قوم کی سرکشی کو پسند نہیں کرتا۔ وہ ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد لازماً اسے تباہی کا نشانہ بناتا ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے نزول کے وقت قریش کی سرکشی بھی اس حد کو پہنچ چکی تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے لگے تھے۔ اس لیے ان حالات میں خاص طور پر اس واقعہ کو ذکر فرمایا کہ جب انھوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے ایک اونٹنی کی فرمائش کی تھی جو بطور معجزہ ان کے سامنے ظاہر ہو تو آپ نے ایک اونٹنی معجزانہ طور پر ان کے سامنے لا پیش کی اور ان سے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے یہ زمین میں جہاں چاہے گی چرتی پھرے گی۔ ایک دن کنویں سے سارا قبیلہ پانی پیئے گا اور دوسرا دن اس اونٹنی کے لیے مخصوص ہوگا۔ خبردار اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچاوئے، ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہیں تہس نہس کرکے رکھ دے گا۔ اس پر وہ کچھ مدت تک ڈرتے رہے، پھر انھوں نے اپنے سب سے زیادہ شریر اور سرکش سردار کو جس کا نام قدار بن سالف تھا کو پکارا کہ وہ اونٹنی کا قصہ تمام کردے۔ وہ اس کا کام تمام کرنے کا ذمہ لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔ یعنی وہ بپھر کے اٹھا کہ اسے ساری قوم کی تائید حاصل تھی اور اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں جس سے وہ اونٹنی مرگئی۔ سورة الاعراف میں ہے کہ اونٹنی کو مارنے کے بعد ثمود کے لوگوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا اب لے آئو وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے تھے۔ اور سورة ہود میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انھیں تین دن اپنے گھروں میں اور مزے کرلینے کو کہا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ یہ ایسی تنبیہ ہے جس کے غلط ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ان پر ایسا عذاب آیا جس نے اس کو نیست و نابود کردیا اور ان کا نام و نشان بھی باقی نہ چھوڑا۔
فَدَمْدَمَ … علامہ قرطبی اس کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں الدَمْدَمَۃ اہلاک باستیصال فدمدم علیہ ای اہلکھم فجعلھم تحت التراب ” کسی کی جڑ اکھاڑ کر تباہ کردینا کہ اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے یعنی ان کو نیست و نابود کردیا گیا ان کا نام و نشان تک بھی باقی نہ رہا۔ “
آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو تباہ کرتا ہے تو اپنے اسی قانون کے مطابق کرتا ہے جو اس نے غلط کار قوموں کے لیے ٹھہرا رکھا ہے۔ اسے اس بات کا اندیشہ نہیں ہوتا کہ نتیجہ کے اعتبار سے اس کے اس فیصلہ میں کوئی غلطی ہوسکتی ہے۔ اور نہ اسے یہ خوف ہوتا ہے کہ کوئی اس کو چیلنج کرسکتا ہے۔ اس کی قدرت بےپناہ اور اس کے فیصلے ہر طرح کے چیلنج سے بالا ہیں۔ وہ نہ کسی کے آگے مسؤل ہے اور نہ کوئی زور دے کر اس سے اپنی بات منوا سکتا ہے۔