Ayahs 92:1–4وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی۔ وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلّٰی۔ وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی۔ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ (الیل : 1 تا 4)
(اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے۔ اور قسم ہے دن کی جبکہ وہ چمک اٹھے۔ اور قسم ہے نر و مادہ کی آفرینش کی۔ بیشک تمہاری کوششیں مختلف نوعیت کی ہیں۔ )
تخالف اور تضاد کے باوجود ان میں قدر مشترک سے استدلال
ہم کئی دفعہ یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قسم بالعموم قرآن کریم میں دلیل اور گواہ کے طور پر آتی ہے اور اس کے بعد کا جملہ جوابِ قسم اور دعویٰ ہوتا ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس سورة میں بھی پروردگار نے تین قسمیں کھائی ہیں۔ رات کی جب وہ چھا جائے اور دن کی جب وہ چمک اٹھے اور نر و مادہ کی آفرینش کی۔ ان تینوں میں جو حقائق مضمر ہیں ان کا استقصاء تو انسانی دل و دماغ کے لیے ممکن نہیں۔ لیکن معمولی تدبر سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان تینوں قسموں میں جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنی شکل و صورت، اپنے اشغال و اعمال، اپنے اثرات و نتائج اور اپنی خصوصیات میں یکساں نہیں، بلکہ ان میں سے ہر ایک دوسری سے تضاد کی نسبت رکھتی ہے۔ البتہ ایک چیز ان میں قدرمشترک ہے وہ یہ کہ یہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع اور اس کے مفوضہ امور کو سرانجام دینے میں شب و روز مصروف رہتے ہیں۔ چناچہ اسی سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی یہ مخلوقات ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے متضاد اور نتائج کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسی طرح اے انسانو ! تم بھی اپنے فکر و عمل اور طوراطوار میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہو۔ تم زندگی کی مختلف راہوں کے مسافر ہو، تمہاری زندگیوں کے مقاصد ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ تمہارے فکری اختلاف نے دنیا کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے، تمہاری تہذیبیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں، تمہاری نام نہاد وحدتیں ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ اگر تمہارے اختلافات اور تمہارے تضادات کو سمیٹا جائے تو انھیں دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جنھیں اگلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا الناس غادیان، فمبتاع نفسہ فمعتقھا وبائع نفسہ وموبقھا ” لوگ جب صبح کرتے ہیں تو ان کی دو قسمیں ہوتی ہیں، کچھ لوگ اپنے نفس کو خرید کر اس کو آزاد کردیتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے نفس کو فروخت کرکے اس کو ہلاک کردیتے ہیں۔ “
چوتھی آیت میں شَتّٰی کا لفظ آیا ہے یہ شَتِیْتٌ کی جمع ہے یعنی متفرق اور منتشر۔ نحو کے اعتبار سے شَتّٰی کی بجائے شَتِیْتٌآنا چاہیے تھا کیونکہ سعیواحد ہے اور وہ اِنَّ کا اسم ہے۔ اور یہ اِنَّ کی خبر ہے۔ لیکن شتی میں معنی کی رعایت کی گئی ہے۔ کیونکہ سعی مسلسل جدوجہد کو کہتے ہیں جو متعدد اعمال و افعال پر مشتمل ہوتی ہے۔
Ayahs 92:5–6فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ (الیل : 5، 6)
(تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کیا۔ اور اس نے بھلائی کی تصدیق کی۔ )
نیکوں کی صفات
اوپر جن دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے پہلے گروہ کی مساعی اور جدوجہد کی تفصیلات کو سمیٹتے ہوئے تین چیزوں کا ذکر فرمایا گیا اور یہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو تمام خوبیوں کی جامع ہیں۔ جن میں پہلی چیز یہ ہے کہ حُبِ مال اور زرپرستی جو انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے یہ لوگ اس میں مبتلا ہونے کی بجائے کھلے دل سے اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں، بھلائی کے کاموں میں اور خلق خدا کی خدمت میں ان کا ہاتھ ہمیشہ آگے رہتا ہے، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے وہ اسے اپنی ملکیت سمجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھتے ہیں اور اس کا حق ادا کرنے میں کبھی پس و پیش نہیں کرتے۔ اور دوسری خوبی ان کی یہ ہے کہ ان کا دل ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے دھڑکتا ہے، وہ ہر کام کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اپنے اعمال و اخلاق میں شریعت کی حدود سے کبھی تجاوز نہیں کرتے، ایک فکرمند اور محتاط آدمی کی طرح زندگی کے سفر میں بچ بچ کر چلتے ہیں۔ اور تیسری خوبی ان کی یہ ہے کہ وہ بھلائی کی ہر بات کی تصدیق کرتے ہیں یعنی ان کے دل میں خواہشات کی فصل نہیں اگتی، بلکہ بھلائیوں کا ذخیرہ رہتا ہے۔ ان کا طبعی میلان بھلی باتوں کی طرف ہوتا ہے۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ بھلائی ایک وسیع المعنی لفظ ہے جس میں عقیدہ، اخلاق اور اعمال تینوں شامل ہیں۔ عقیدے میں بھلائی کی تصدیق یہ ہے کہ آدمی شرک اور دہریت اور کفر کو چھوڑ کر توحید، آخرت اور رسالت کو برحق مانے۔ اور اخلاق و اعمال میں بھلائی کی تصدیق یہ ہے کہ ان کے ہر عمل کے پیچھے حُسنِ نیت اور ہر اخلاقی قدر کے پیچھے اللہ تعالیٰ کے رسول کا اسوہ موجود ہو۔ یہ درحقیقت ان خوبیوں کا نچوڑ ہے جو اسلام اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 92:7فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی۔ (الیل : 7)
(تو ہم اس کو آسان کردیں گے یُسْرٰی کے لیے۔ )
علامہ آلوسی نے فَسَنُیَسِّرُہٗ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیسیر یسر سے باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اس کا اصل معنی آسانی اور سہولت ہے۔ لیکن یہاں اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کام کے لیے کسی کو مستعد اور تیار کردینا۔ عرب جب گھوڑے پر زین ڈال کر اور اس کے منہ میں لگام دے کر سواری کے لیے بالکل تیار کردیتے ہیں تو کہتے ہیں :
یَسَّرَالْفَرَسَ لِلرُّکُوْبِ اِذَا اَسْرَجَہَا وَالْجَمَھَا۔
یُسْرٰی … آسان راستے کو بھی کہتے ہیں اور جنت پر بھی بولا جاتا ہے۔ چونکہ یہ مونث ہے اس لیے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کا موصوف مقدر ہے۔ وہ اعمالِ صالحہ، اخلاقِ حَسنہ، رضائے الٰہی اور دخول جنت سب اس کے موصوف ہوسکتے ہیں۔
نیکیوں کا انعام
یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہے جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا اور اس سے ایک بڑا پیچیدہ نفسیاتی مسئلہ بھی سلجھ جاتا ہے۔ وہ انعام یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اور اس کے احکام کی اطاعت کے جذبے سے نیکی کے کاموں میں جُت جاتا ہے تو وہ مراحل جنھیں قرآن کریم نے عقبہ سے تعبیر کیا ہے وہ آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اسے توفیق سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی توفیق دیتا چلا جاتا ہے۔ دل کی کیفیت نیکی کی طرف میلان کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ پھر یہی میلان چاہت اور محبت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اور آخری مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ شرعی تقاضے طبعی تقاضے معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ اعمال جو کبھی انسانی طیبعت پر بہت گراں گزرتے ہیں نہ صرف آسان ہوجاتے ہیں بلکہ انسان کی طلب بن جاتے ہیں اور شریعت کا وہ راستہ جس پر چلنا مشکل معلوم ہوتا تھا وہ آسان ہوجاتا ہے۔ اور اگر یُسْرٰیکا ترجمہ جنت کیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنت جو آزمائشوں میں گھری ہوئی ہے اور جس کا حاصل کرنا آسان نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اس جنت کا حصول آسان بنا دیتے ہیں۔ اس لیے جن اہل علم نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ ہم سہج سہج اسے یُسْرٰیتک پہنچا دیتے ہیں وہ بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 92:8–9وَاَمَّا مَنْ م بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی۔ وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۔ (الیل : 8، 9)
(اور جس نے بخل کیا اور بےنیاز بنا رہا۔ اور بھلائی کو جھٹلایا۔ )
بروں یعنی اہل شقاوت کی خصوصیات
اس سے پہلے کی آیات میں انسانی مساعی کی پہلی قسم کو بیان فرمایا گیا ہے جو درحقیقت اہل سعادت کی خصوصیات ہیں۔ اور اب اس کے مقابل اور اس کے بالکل برعکس انسانی مساعی کی دوسری قسم بیان کی گئی ہے جو درحقیقت اہل شقاوت کی خصوصیات یا ان کی قبیح عادات ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مال و دولت کو اپنی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ اور اپنی ملکیت سمجھنے کی وجہ سے کسی ایسی جگہ خرچ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے جہاں ان کے نزدیک کسی منفعت یا کسی بدلے کے ملنے کی امید نہ ہو۔ ان کے بخل کا یہ مفہوم نہیں کہ وہ ایک ایک پیسہ سینت سینت کر رکھتے ہیں اور اسے خرچ کرنے کی ان میں ہمت نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح وہ پیسے سے پیسہ کمانے کے عادی ہیں اور سرمائے کے ذریعے سے سرمایہ بڑھاتے ہیں، اسی طرح وہ شہرت، نام و نمود، حکام رسی یا اور کسی قسم کی منفعت پیش نظر ہو تو وہ پانی کی طرح پیسہ بہانے سے دریغ نہیں کرتے۔ وہ اپنے پیسے کے بدلے میں نفع عاجل اور محسوس منفعت پر یقین رکھتے ہیں جہاں انھیں نفع آجل کا یقین دلایا جائے اور آخرت میں بدلے کی امید دلائی جائے۔ یہ ان کے سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ یا ان سے یہ کہا جائے کہ تم غریبوں، مسکینوں اور بیوائوں کی مدد کرو اور اس طرح خرچ کرو کہ بائیں ہاتھ تک کو خبر نہ ہو۔ اسے وہ پاگل پن سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح سے ایک دھیلا خرچ کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ میت کی تکفین و تدفین کے لیے بھی ان سے قرض مانگا جائے تو وہ اس پر بھی سود کا مطالبہ کریں گے۔ کیونکہ حُبِ مال اور زرپرستی یہ درحقیقت ان کے بخل کے اسباب ہیں۔ ان کی موجودگی میں فی سبیل اللہ انفاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہی وہ بخل ہے جو ان کی اہم ترین خصلت ہے۔
دوسری خصلت ان کی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے حصول، بےغرض خدمت اور بےلوث انفاق سے بالکل مستغنی ہیں۔ وہ چونکہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اس لیے دنیوی مفادات، دنیوی مناصب اور شہرت و ناموری کے سوا کسی اور چیز کے درپے ہونے کو وہ ضیاع وقت سمجھتے ہیں۔ وہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا سے بےنیاز ہیں اسی طرح انھیں اپنے انجام کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔ زیادہ سے زیادہ دولت یہ وہ گوہرمقصود ہے جس کے حصول کی ہر وقت ان کے دماغ میں فکر رہتی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ ہر چیز سے بےنیاز ہیں۔
تیسری خصلت ان کی یہ ہے کہ بھلائی کی ہر بات سے انھیں تنفر اور اسے قبول کرنے سے انکار ہے۔ جس طرح کتے کا کاٹا پانی سے ڈرتا ہے اور تپِ محرقہ میں مبتلا منہ کے ذائقے سے محروم ہوجاتا ہے اور اسے شہد بھی کڑوا لگتا ہے اسی طرح یہ دنیا کے باولے اور ہر روحانی اور معنوی احساس سے محروم کسی اچھائی اور کسی بھلائی کی بات کو قبول کرنا تو درکنار سننے کے بھی روادار نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی کی دلآویز شخصیت، اس کی زبان فیض ترجمان سے معجزانہ کلام کی تلاوت بھی ان پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ ایسی عادات اور خصلتوں کے حامل اور ایسی خصوصیات سے متصف لوگ یقینا اپنے انجام کے اعتبار سے ان لوگوں سے مختلف صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں جن کا ذکر پہلی آیات میں کیا گیا ہے۔
Ayah 92:10فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ (الیل : 10)
(پس ہم آسان کردیں گے اس کو عُسْرٰی کے لیے۔ )
برے اعمال کی سزا
عُسْرٰی سے مراد بعض اہل علم کے نزدیک جہنم ہے۔ اور نحوی اعتبار سے یہ صفت مونث ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے جو اعمالِ سیئہ، اخلاقِ قبیحہ یا جہنم سب اس کے موصوف ہوسکتے ہیں۔ ویسے اس کا معنی لغوی طور پر ” مشکل “ ہوتا ہے۔ برے اعمال و افعال اور برے اخلاق کو عُسْرٰی اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کرتوتوں کو کرتے ہوئے آدمی کو اپنی فطرت اور اپنے مزاج سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ بار بار اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے۔ اس کا نفس لوامہ ہر بری بات پر ٹوکتا ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کی وجہ سے ان گناہوں کا ارتکاب ایک خاص وقت تک مشکل ہوتا ہے۔ اور جہنم تو ہے ہی مشکلات کی جگہ۔ لیکن یہی اعمالِ بد ہیں جو انسان کو جہنم میں لے جاتے ہیں اور ان کے نتیجے میں جہنم اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔
جہاں تک تیسیر کا تعلق ہے ایک تو اس کا معنی آسان کردینا ہے۔ تو اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہمارا قانون یہ ہے کہ جب کوئی شخص نیکی کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اس کے سامنے نیکی کے امکانات کھول دیتے ہیں اور نیکی کے راستے پر چلنے کے لیے آسانیاں پیدا کردیتے ہیں۔ لیکن جو شخص برائی کے راستے پر چلنا چاہتا ہے اس کی فطرت اس سے ابا کرتی ہے، اس کا ضمیر اسے روکتا ہے۔ لیکن وہ مسلسل زور لگاتا ہے کہ مجھے اسی راستے پر چلنا ہے۔ تو پھر ہم آہستہ آہستہ اس سے نیکی کا ذوق اور خیر کا جذبہ سلب کرلیتے ہیں۔ اسے نیکی پر چلنے کی توفیق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ برائی کے دروازے اس پر کھول دیئے جاتے ہیں اور اس کے اسباب و وسائل اس کے لیے فراہم کردیئے جاتے ہیں۔ بلکہ اس پر ایک شیطان مسلط کردیا جاتا ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اس طرح اسے برائی محبوب ہوجاتی ہے اور نیکی اجنبی بن جاتی ہے۔ جس طرح گدھ عقاب کی طرح بلندی پر اڑتا ہے لیکن اسے شکار سے کوئی رغبت نہیں، وہ جب بھی اترتا ہے مردار پر اترتا ہے، گندگی کا کیڑا ہمیشہ گندگی میں جیتا ہے۔ یہی حال برائی کے راستے پر چلنے والے کا ہوتا ہے کہ وہ برائی سے پیار کرتا ہے اور برائی ہی کو اپنی منزل سمجھتا ہے۔ اور یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں برے شخص کے لیے ایک سزا ہے جو بالآخر اسے جہنم تک پہنچا دیتی ہے۔ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کو واشگاف فرمایا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے
فَمَنْ یَّرِدِاللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَـہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّـہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّـقًاحَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَائِ ۔
” جس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس بدنصیب کے لیے ارادہ فرماتا ہے کہ اسے گمراہ کرے تو اس کے سینے کو بہت تنگ کردیتا ہے، گویا وہ زبردستی آسمان کی طرف چڑھ رہا ہے۔ “
Ayah 92:11وَمَا یُغْنِیْ عَنْہُ مَالُـہٗٓ اِذَا تَرَدّٰی۔ (الیل : 11)
(کیا کام آئے گا اس کے اس کا مال جبکہ وہ ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا۔ )
حُبِ مال اور بخل کا انجام
گزشتہ آیات میں وہ بدبخت جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے باعث نیکی کے جذبے سے محروم کردیئے جاتے ہیں، ان کا دیگر جرائم کے ساتھ سب سے بڑا جرم یہ بتایا گیا ہے کہ وہ مال و دولت کی محبت میں اتنے اندھے ہوجاتے ہیں کہ جائز اور ناجائز اور حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے کا ذوق ان سے چھین لیا جاتا ہے۔ وہ مال ہی کو اپنا معبود سمجھتے ہیں اور اس کے اسیر ہو کر اخلاق کی ہر قدر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ پیش نظر آیت میں ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ آخر ایک روز موت کا شکار انھیں بھی ہونا ہے اور قبر کا گڑھا ان کا بھی مدفن بننے والا ہے۔ اور آخرت میں انجام ان کا یہ ہوگا کہ یہ جہنم کے گڑھے میں گرا دیئے جائیں گے۔ تو جس شخص کا انجام یہ ہو اسے مال کی محبت سے کیا ملے گا اور یہ مال اس کے کس کام آئے گا۔ دنیا کی کوئی چیز قبر میں ساتھ لے کے نہیں جاسکیں گے۔ اور آخرت میں عذاب سے بچنے کے لیے اپنی دولت کو معاوضے کے طور پر بھی نہیں دے سکیں گے۔ تو پھر ایسی دولت سے ان کی محبت آخر ان کے کس کام آئے گی۔ دنیا میں بھی دولت مندوں پر جب زوال آتا ہے تو کوئی ان کی مدد کو نہیں پہنچتا اور آخرت میں بھی ان کی سب فریادیں صدابصحرا ثابت ہوں گی۔
Ayahs 92:12–13اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی۔ وَاِنَّ لَنَا لِلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی۔ (الیل : 12، 13)
(بیشک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے۔ اور یقینا آخرت اور دنیا کے ہم ہی مالک ہیں۔ )
انسانوں کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے
ہم چونکہ جن و انس کے خالق ہیں تو جس طرح تخلیق کے بعد ہم نے ان کی جسمانی ضرورتوں کو اپنی ذمہ داری بنا لیا ہے اور ہماری ربوبیت کا فیضان اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ ان کو سیراب کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح ان کی معنوی اور روحانی ضرورتوں کے لیے ہم نے ان کی رہنمائی کو اپنی حکمت، اپنے عدل اور اپنی رحمت کی بنا پر اپنی ذمہ داری بنا لیا ہے۔ جن چیزوں کی رہنمائی حواس اور عقل سے ممکن نہیں وحی کے ذریعے سے ہم نے مہیا فرمائی ہے۔ ہر شعبہ زندگی کی رہنمائی کے لیے کتابی صورت میں اصول و ضوابط دیئے ہیں اور اس کی عملی تشکیل اور اجمال کی وضاحت کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ اس طرح سے ہم نے اپنی رہنمائی کا حق ادا کیا ہے اور اب اپنے آخری رسول اور اپنی آخری کتاب کے ذریعے قریش اور دیگر لوگوں پر اتمامِ حجت بھی کیا ہے اور رہنمائی بھی عطا فرمائی ہے۔ کیونکہ یہ ہماری رحمت اور عدل کا تقاضا تھا۔ اب رہی یہ بات کہ کوئی اسے مانتا ہے یا نہیں مانتا اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے یا نہیں، یہ کام بندوں کا ہے، پروردگار کا نہیں۔ اور اسی حوالے سے وہ قیامت کے دن جواب طلبی بھی کرے گا۔ اور ساتھ ہی ایک بات کو مزید واضح فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ حیات دنیا اور دولت دنیا میں مستغرق ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ اپنے دست وبازو اور اپنے مال و دولت سے ہوسکتا ہے۔ انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کے مالک بھی ہم ہیں اور آخرت کے مالک بھی ہم ہیں۔ دنیا کی ہر چیز ہماری گرفت میں ہے اور آخرت میں بھی ہماری ہی حکومت ہوگی۔ تمہیں جو کچھ مل سکتا ہے دنیا اور آخرت میں وہ اللہ تعالیٰ ہی سے مل سکتا ہے، اپنی کاوشوں سے نہیں۔ تمہاری اپنی ساری قوتیں بھی اللہ تعالیٰ کی دین ہیں۔ اس قارونی فکر نے ہمیشہ انسان کو تباہ کیا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ میری اپنی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ قارون سے بھی جب کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر اور اپنی دولت سے اللہ تعالیٰ کا اور بندوں کا حق ادا کر۔ تو اس نے جواب میں کہا تھا اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ۔ انھیں بھی اسی فکر نے گمراہ کیا۔
Ayah 92:14فَاَنْذَرْتُـکُمْ نَارًا تَلَظّٰی۔ (الیل : 14)
(پس میں نے خبردار کردیا ہے تمہیں بھڑکتی آگ سے۔ )
قریش کو تنبیہ
معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں براہ راست خطاب قریش سے ہے۔ ان سے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہدایت کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنی آخری کتاب نازل کردی ہے اور اپنا آخری رسول مبعوث کردیا ہے۔ اس طرح سے تم پر اتمامِ حجت کردی گئی ہے۔ اب تم میں سے جو شخص بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے تکذیب کرتا اور منہ پھیرتا ہے وہ نہایت خطرناک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس لیے میں نے تمہیں بروقت خبردار کردیا ہے کہ ایسے شخص کا انجام ایک بھڑکتی ہوئی آگ ہے جس کی شدت اور ہلاکت کا اندازہ دنیا کی آگ سے نہیں کیا جاسکتا جبکہ دنیا کی آگ بھی انسان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ اس کا ایک شعلہ بھی قیامت برپا کردیتا ہے چہ جائیکہ اس کی بھڑکتی آگ کا سامنا کیا جائے۔ تو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے جانے کا تصور ہی پِتّہ پانی کردینے کے لیے کافی ہے۔
Ayahs 92:15–16لاَ یَصْلٰـھَـآ اِلَّا الْاَشْقَی۔ الَّذِیْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ (الیل : 15، 16)
(اس میں نہیں جلے گا مگر وہ انتہائی بدبخت۔ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی۔ )
قریش اور دیگر آنحضرت ﷺ کے مخالفین بدترین انجام سے دوچار ہوں گے
قریش اور آنحضرت ﷺ کے دیگر مخاطبین کو چونکہ بروقت خبردار کردیا گیا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہیں لائو گے اور اس کی تکذیب کرو گے تو تمہیں ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے واسطہ پڑے گا۔ اور آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کی وجہ سے ان پر اتمامِ حجت بھی کردیا گیا ہے، تو اب ان کی حیثیت عام کافروں جیسی نہ رہی بلکہ معاند اور بدترین کافروں جیسی ہوگئی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کو دیکھنے والا اور انتہائی نامساعد حالات میں ایمان لانے والامقربین کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے اور بعد کے آنے والے لوگ اس کے برابر نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کے رسول کی تبلیغ و دعوت کے باوجود تکذیب کرتا اور روگردانی کرتا ہے وہ صرف شقی نہیں بلکہ اشقیٰ ہوجاتا ہے۔ اس لیے یہاں اشقیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے آنحضرت ﷺ کی براہ راست دعوت پر ایمان لانے کی بجائے آپ کی تکذیب کی اور انتہائی شقاوت کا شکار ہوگئے۔ اس طرح سے یہ اشقیٰ اسم تفضیل کے معنی میں نہیں کہ یہ بحث اٹھائی جائے کہ اس سے کم درجہ کافر لوگ بھی جہنم میں جائیں گے یا نہیں۔ اور یا وہ لوگ جنھوں نے تکذیب تو نہیں کی، البتہ اپنی بدعملی کے باعث جہنم میں جانے کے سزاوار ٹھہرے۔ کیونکہ مقصود اس میں دوسروں سے تقابل کرنا نہیں بلکہ ان کی شقاوت کو واضح کرنا ہے جنھوں نے آنحضرت ﷺ جیسی دلآویز شخصیت کو دیکھا، آپ کی زبان مبارک سے براہ راست قرآن کریم سنا اور آپ کے حُسنِ کردار کو خود دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے وہ اپنی شقاوت میں بڑھتے چلے گئے حتیٰ کہ بدترین شقی ثابت ہوئے۔ کیونکہ دوسری آیت کریمہ میں جو ان کا جرم ذکر کیا گیا ہے کہ یہ شقی وہ شخص ہے جس نے تکذیب کی اور روگردانی کی تو یہ وہ جرم ہے جس کا ارتکاب ہر کافر نے کیا ہے۔ تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سوال اس جرم کا نہیں بلکہ سوال اس بات کا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو دیکھا، ان کی زبان سے دعوت کو سنا، ان کے معجزات کو دیکھا، قدم قدم پر ان کی سچائی کے حوالے دیکھے اور پھر بھی اپنے رویئے میں تبدیلی پیدا نہ کی تو اس درجے کا بدبخت اور کون ہوسکتا ہے۔
اگر بالفرض یہ سوال اٹھا ہی لیا جائے کہ اس آیت کے اسلوب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف کافر ہی جہنم میں جائے گا حالانکہ قرآن و حدیث کی بیشمار نصوص اس پر شاہد ہیں کہ مومن بھی اگر اپنے کبائر کے ارتکاب پر توبہ نہیں کرتا تو وہ بھی جہنم میں جائے گا۔ البتہ اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا اور پھر اپنے ایمان کی برکت سے جنت میں داخل ہوجائے گا۔ تو اس طرح اس آیت اور نصوص میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ تو اس کی توجیہ کرتے ہوئے بعض اہل علم نے یہ بات کہی ہے کہ یہاں دخول جہنم سے مراد وہ دخول ہے جو ہمیشہ کے لیے ہو۔ اور ایسا دخول صرف کافر کے ساتھ مخصوص ہے، مومن ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں جائے گا۔
Ayahs 92:17–18وَسَیُجَنَّـبُھَا الْاَتْقَی۔ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَـہٗ یَتَزَکّٰی۔ (الیل : 17، 18)
(اور اس آگ سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیزگار۔ جو اپنا مال دیتا ہے اپنے دل کو پاک کرنے کے لیے۔ )
کفار سے برعکس صفات رکھنے والا جنت کا مستحق ہوگا
آنحضرت ﷺ کو نبوت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے سلسلے میں جس طرح ان اشقیاء سے واسطہ پڑا جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا ہے۔ اسی طرح اس زمانے میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے انتہائی نامساعد حالات اور ناقابلِ برداشت اذیتوں میں اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کیا۔ جنھوں نے تقویٰ کے اعلیٰ ترین مقام کو اپنی منزل بنایا اور دعوت حق کو کامیاب کرنے کے لیے بصدمسرت و افتخار اپنا مال و متاع قربان کرنے کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ اور اپنا مال و دولت انھوں نے کسی نام و نمود کے لیے نہیں بلکہ صرف اس لیے خرچ کیا تاکہ وہ اپنے دل کو گناہوں کی ہر آلودگی سے پاک کردیں۔ ان میں سے ہر شخص کو اتقیٰ قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ جن حالات سے انھیں واسطہ پڑا تھا ان حالات میں ایمان لانا اور پھر اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے سب کچھ کر گزرنا یہ عام درجہ کے لوگوں کا کام نہیں۔ اس سیرت و کردار کے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ سے بچائے گا۔
Ayahs 92:19–20وَمَا لِاَحَدٍعِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی۔ اِلاَّ ابْتِغَـآئَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی۔ (الیل : 19، 20)
(اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں جس کا بدلہ اسے دینا ہو۔ بجز اس کے کہ وہ اپنے پروردگار کی خوشنودی کا طلبگار ہے۔ )
سابقہ آیت کی وضاحت
یہ سابقہ آیت کی وضاحت ہے کہ یہ اقلیمِ تقویٰ کا تاجدار اپنا مال اس لیے خرچ نہیں کررہا کہ وہ کسی کا احسان اتارنے کی فکر میں ہے یا وہ کسی کے حُسنِ سلوک کا معاوضہ دینا چاہتا ہے بلکہ اس کا یہ ایثار اور سخاوت ہر طرح کی آلائشوں سے پاک، ہر طرح کی کمزوریوں سے بالا ہے۔ اس کے پیش نظر صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ اپنے بزرگ و برتر رب کی خوشنودی کو حاصل کرسکے۔
شانِ نزول کے مطابق اس آیت کا مصداق حضرت صدیق اکبر ( رض) ہیں
آیت کے الفاظ تو عام ہیں۔ جو شخص بھی ایمان کے ساتھ رضائے خداوندی کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے اس کے لیے یہی بشارت ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے اصحاب سب انھیں صفات سے متصف تھے۔ لیکن شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظِ اتقیٰسے حضرت صدیق اکبر ( رض) مراد ہیں۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عروہ سے روایت کیا ہے کہ سات مسلمان ایسے تھے جو مکہ کے بعض کفار کے غلام تھے۔ جب وہ مسلمان ہوگئے تو ان کو طرح طرح کی اذیتیں دی جانے لگیں۔ حضرت صدیق اکبر ( رض) نے اپنا بڑا مال خرچ کرکے ان کو کفار سے خرید کر آزاد کردیا۔ حضرت ابن عباس ( رض) سے یہ قول مروی ہے کہ جب حضرت بلال نے اسلام قبول کرلیا تو ان کے مالک امیہ بن خلف نے ان کو طرح طرح سے ستانا شروع کردیا۔ ایک روز وہ آپ کو اذیت دے رہا تھا، آپ بار بار غش کھا رہے تھے، لیکن آپ کی زبان سے احد احد کی آواز آرہی تھی۔ اس اثناء میں رحمت عالم ﷺ کا گزر ہوا۔ فرمایا اَحَدٌیُنْجِیْکَ ” جس احد کا تم نام لے رہے ہو، وہی تمہیں اس ظلم سے نجات دے گا۔ “ آنحضرت ﷺ نے صدیق اکبر ( رض) سے بلال کی یہ کیفیت بیان کی۔ رازدانِ نبوت آنحضرت ﷺ کے اشارے کو سمجھ گئے۔ اسی وقت گھر آئے نصف سیر سونا لے کر امیہ بن خلف کے پاس پہنچے اور پوچھا کیا تو بلال کو بیچنا چاہتا ہے۔ اس کے اقرار کرنے پر آپ نے منہ مانگی قیمت دے کر حضرت بلال ( رض) کو خریدا اور آزاد کردیا۔ اس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
آپ کے والد ابوقحافہ کو جب علم ہوا کہ ان کا بیٹا ابوبکر کمزور اور نحیف غلاموں اور باندیوں کو خرید کر آزاد کررہا ہے، تو انھوں نے کہا میرے بیٹے تم ضعیف اور کمزور لوگوں کو آزاد کرتے ہو، اگر تم طاقتور اور بہادر غلاموں کو خرید کر آزاد کرتے تو وہ کسی مشکل کے وقت تمہارے کام آتے۔ آپ نے فرمایا :
ای ابت انما ارید ماعنداللہ (ابنِ کثیر)
” ابا جان میرا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ “
Ayah 92:21وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ (الیل : 21)
(وہ ضرور اس سے خوش ہوگا۔ )
یَرْضٰیکا فاعل اللہ تعالیٰ اور صدیق اکبر دونوں ہوسکتے ہیں۔ اگر فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر پر راضی ہوجائے گا۔ اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جس طرح اس نے اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے اس کی رضا اس کو حاصل ہوجائے گی۔ اور اگر فاعل ابوبکر صدیق ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کی ایسی بارش فرمائیں گے کہ ابوبکر اپنے رب کریم کے لطف و کرم اور جودوعطاء کو دیکھ کر نہال ہوجائیں گے۔