Ayahs 93:1–2وَالضُّحٰی۔ وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ (الضحیٰ : 1، 2)
(قسم ہے روز روشن کی۔ اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔ )
ضُحٰی اور سَجٰی کا مفہوم
ضُحٰی چاشت کے وقت کو کہتے ہیں کیونکہ اس وقت سورج پوری آب و تاب سے چمکنے لگتا ہے۔ لیکن جب اس کا استعمال رات کے مقابلہ میں کیا جائے تو اس وقت اس سے مراد صرف چاشت کا وقت نہیں بلکہ سارا دن ہوتا ہے۔ اہل لغت بھی اور اکثر آئمہ ٔ تفسیر بھی اسی کی تائید میں ہیں۔ اور قرآن کریم نے بھی سورة الاعراف میں اسی معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔ ارشاد ہے اَفَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰی اَنْ یَّاتِیَھُمْ بَاسُنَا بَیَاتًا وَّھُمْ نَائِمُوْنَ اَوَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰی اَنْ یَّاتِیَھُمْ بُاسُنَا ضُحًی وَّ ھُمْ یَلَعْبُوْنَ ” کیا بستی کے باشندے اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آئے جب وہ سو رہے ہوں، کیا بستی کے باشندے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن کے وقت آئے جبکہ وہ کھیل رہے ہوں۔ “ اس آیت میں ضحی سے چاشت کا وقت نہیں بلکہ سارا دن مراد ہے۔
دوسری آیت میں الَّیْلِ کے بعد سَجٰی کا لفظ آیا ہے۔ اس کا معنی صرف تاریکی کا چھا جانا نہیں بلکہ ہر سو آرام و سکون کا پھیل جانا ہے۔ علامہ ابن منظور کی یہی رائے ہے اور فراء بھی اسی کی تائید میں ہے۔ ان دونوں آیتوں میں دن کی اور رات کی جب وہ پوری طرح پرسکون ہوجائے قسم کھائی گئی ہے۔ اور اس کے بعد آنے والی آیت جوابِ قسم ہے۔ اور ان قسموں سے اس جوابِ قسم کے مضمون پر استدلال کیا گیا ہے۔
Ayah 93:3مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قُلٰی۔ (الضحیٰ : 3)
(نہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ )
یہ جوابِ قسم ہے اس کی وضاحت
ان آیات کے شان نزول میں روایات کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ اختلاف حقیقت میں نہیں، تعبیر میں ہے۔ مقصود دونوں سے نزول وحی کے انقطاع سے پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔ شیخین کی روایت تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ علالتِ طبع کے باعث دو تین روز سحری کے وقت بیدار ہو کر مصروفِ عبادت نہ ہوئے۔ ابولہب کی بیوی ام جمیل جس کا مکان حضور ﷺ کے پڑوس میں تھا اور وہ آپ کی چچی بھی لگتی تھی۔ وہ آئی اور کہنے لگی ما اریٰ شیطانک الا قد ترکک لم ارہ قربک منذلیلتین اوثلاث ” میں دیکھتی ہوں کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے، دو تین رات سے میں نے اس کو تمہارے نزدیک آتے ہوئے نہیں دیکھا۔ “
دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک رسول ﷺ پر وحی کا نزول بند رہا۔ مختلف روایات میں یہ مدت مختلف بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس پر سخت غمگین ہوئے۔ وہ کان جو کلام الٰہی سننے کے عادی ہوچکے تھے، وہ دل جو ارشادِ ربانی کا خوگر ہوچکا تھا اس کے لیے وحی کی بندش ناقابلِ برداشت تھی۔ آنحضرت ﷺ کا معمول تھا کہ آپ پر جو نئی سورة نازل ہوتی تھی اسے آپ لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ لیکن جب کئی روز تک کوئی نئی وحی آپ نے لوگوں کو نہیں سنائی تو مخالفین نے طعنہ زنی شروع کردی کہ محمد ﷺ کو ان کے خدا نے چھوڑ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوگیا ہے۔ قتادہ اور ضحاک کی مرسل روایات میں بھی قریب قریب یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو اس سے یہ گمان گزرا کہ شاید مجھ سے کوئی ایسی کوتاہی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے میرے محبوب کی طرف سے عدم التفات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور اس وقت دشمنوں کی شماتت نے آپ کے غم میں اور اضافہ کیا۔ اس صورتحال کی وضاحت اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں جس میں روشن دن اور پرسکون رات سے استدلال کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس طرح دن کا روشن ہونا اور رات کا خاموش اور پرسکون ہونا اس بنا پر نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ دن کے وقت لوگوں سے خوش اور رات کے وقت ان سے ناراض ہوجاتا ہے۔ بلکہ دن کی روشنی اور رات کی پرسکون تاریکی دونوں کارجہاں چلانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اور یہ دونوں حالتیں اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے تحت طاری ہوتی ہیں۔ اسی طرح آپ پر بھی کبھی وحی کا نزول اور کبھی اس کا انقطاع اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کی بنا پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشی یا ناراضگی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دن کی روشنی اگر طویل ہوجائے تو وہ انسان کے اعصاب کو تھکا دے بلکہ اعصاب ٹوٹ کر رہ جائیں۔ اس لیے انسانی اعمال و اشغال اور کائنات کی ہما ہمی کو باقی رکھنے کے لیے روشن دن کو بھی لایا جاتا ہے اور اس کے بعد رات بھی طاری کی جاتی ہے تاکہ انسانی اعصاب کو سکون ملے۔ اسی طرح وحی کی روشنی اگر مسلسل آپ پر پڑتی رہتی تو آپ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر پاتے۔ اس لیے وحی کا نزول جس طرح دینی اور روحانی زندگی کی ضرورت ہے اسی طرح وقتاً فوقتاً اس کا رک جانا یہ بھی آپ کی قوت کارکردگی کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح سے وحی کا نزول روزروشن کی مانند ہے۔ اور زمانہ انقطاع سکون شب کی مانند ہے۔ اور یہ دونوں ہی انسانوں کی اصلاح اور تبلیغ و دعوت کے لیے ضروری ہیں۔
Ayah 93:4وَلَـلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌلَّـکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ (الضحیٰ : 4)
(اور یقیناآنے والی گھڑی آپ کے لیے پہلی سے بہتر ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور بشارت
یعنی دشمن یہ طعنہ دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھوڑ دیا ہے لیکن ہم آپ کو خوشخبری سناتے ہیں کہ ہر آنے والی گھڑی آپ کی گزشتہ گھڑیوں سے بہتر ہوگی۔ ہر آنے والی ساعت گزری ہوئی ساعت سے بہتر پیغام لے کر آئے گی۔ یہ خوشخبری ایسے وقت میں دی جارہی ہے جب گنتی کے چند افراد نے اللہ تعالیٰ کا دین قبول کیا تھا۔ باقی تمام اہل مکہ آپ کے خون کے پیاسے تھے۔ وہ یہ تہیہ کرچکے تھے کہ توحید کے چراغ کو بجھا کے دم لیں گے۔ اس وقت کوئی شخص یہ خیال بھی نہ کرسکتا تھا کہ یہ دین چند سالوں میں اس ملک کی تاریخ بدل دے گا اور اس کی وجہ سے ہر گھر میں روشنی پہنچے گی۔ اور آج جو لوگ آپ کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں کل یہی لوگ آپ کے اشارہ ابرو پر جانیں قربان کرنا سعادت سمجھیں گے۔ لیکن حالات نے ثابت کردیا کہ اس کے بعد ہر آنے والا دور پہلے دور سے بہتر ثابت ہوا۔ آپ کی قوت، آپ کی عزت و شوکت، آپ کی قدرومنزلت اور آپ کی محبوبیت بڑھتی چلی گئی۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس خوشخبری میں صرف دنیوی سرافرازیاں ہی شامل نہیں بلکہ آخرت میں جو مقام و مرتبہ آپ کو ملنے والا تھا وہ بھی شامل ہے۔ اور دنیا میں بھی فتوحات کا جو سلسلہ شروع ہونے والا تھا ابن عباس کی روایت کے مطابق وہ سب کی سب فتوحات نبی کریم ﷺ کو دکھائی گئیں جسے دیکھ کر آنحضرت ﷺ بہت مسرور ہوئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے۔
Ayah 93:5وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ (الضحیٰ : 5)
(اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔ )
سابقہ مضمون کی مزید وضاحت
اس سے پہلے کی آیت میں تو فرمایا کہ آپ کی آنے والی ہر گھڑی پہلی گھڑی سے بہتر ہوگی اور اب اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آنے والا دور آپ کے لیے اس قدر امید افزاء اور فرحت بخش ہوگا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے انعامات پر شاداں وفرحاں ہوجائیں گے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اسے وقوع پذیر ہونے میں ایک وقت لگے گا لیکن ” سوف “ نے یہ بات متعین کردی کہ یہ وقت طویل نہیں ہوگا، چند سالوں میں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا ہوگا۔ ممکن ہے کوئی یہ خیال کرے کہ یہاں وعدہ صرف آپ کو خوش کرنے کا کیا گیا ہے لیکن یہ بڑی کوتاہ فکری ہوگی اگر یہ سمجھا جائے کہ آپ کی خوشی آپ کی ذات تک محدود ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے مبعوث فرمایا یعنی آپ دین حق کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کرنے کے لیے تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے نام اور پیغام کو عام کرنا آپ کے پیش نظر تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ اس مقصد کو پورا کیے بغیر آپ کی خوشیاں تمام ہوجائیں۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ چند ہی سالوں میں سارا ملک عرب جنوبی سواحل سے لے کر شمال میں سلطنتِ روم کی شامی اور سلطنتِ فارس کی عراقی سرحدوں تک اور مشرق میں خلیجِ فارس سے لے کر مغرب میں بحراحمر تک آپ کے زیرنگیں ہوگیا۔ عرب میں بسنے والی قوم تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قانون اور ضابطے کی پابند ٹھہری۔ آپ کی تعلیم و تربیت نے ایک ایسی مضبوط جماعت تیار کی جو آپ کے مقصد اور پیغام کی خاطر ہر قوت سے ٹکرا گئی اور جس کلمے کو حضور لے کے آئے تھے اس سے پورا ملک گونج اٹھا۔ مشرکین اور طاغوتی قوتوں نے ہرچند زور لگایا کہ آپ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، لیکن جو طاقت بھی آپ سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہوگئی۔ آپ کے سامنے صرف سر ہی نہیں جھکے بلکہ دل بھی مسخر ہوگئے۔ اور عقائد اخلاق اور اعمال میں ایک انقلابِ عظیم برپا ہوگیا۔ علامہ آلوسی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کریمانہ وعدہ ہے جو ان تمام عطیات کو شامل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے حضور کو دنیا میں سرفراز فرمایا۔ یعنی کمال نفس، اولین و آخرین کے علوم، اسلام کا غلبہ، دین کی سربلندی، فتوحات جو عہد رسالت میں ہوئیں اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئیں یا دوسرے مسلمان بادشاہوں نے حاصل کیں اور اسلام کا دنیا کے مشارق و مغارب میں پھیل جانا، نیز یہ وعدہ ان عنایات اور عزت افزائیوں کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم کے لیے آخرت کے لیے محفوظ رکھی ہیں جن کی حقیقت اور نہایت کو اللہ تعالیٰ کے بغیر اور کوئی نہیں جان سکتا۔
Ayah 93:6اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ (الضحیٰ : 6)
(کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانہ فراہم کیا۔ )
آنحضرت ﷺ کی زندگی کے بعض حالات سے استدلال
دشمن یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور وہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے، کیا انھیں معلوم نہیں کہ ہمارا آج تک آنحضرت ﷺ کے ساتھ کیسا محبت کا تعلق رہا ہے۔ آپ شکم مادر میں تھے کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، پیدا ہوئے تو آپ یتیم تھے۔ والد ماجد نے کوئی ایسی میراث نہ چھوڑی تھی جو آپ کی پرورش کا ذریعہ بن سکتی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک دن بھی آپ کو بےسہارا نہ چھوڑا۔ چھ سال کی عمر تک والدہ ماجدہ نے آپ کی پرورش کی۔ ان کی شفقت سے محروم ہوئے تو آٹھ سال کی عمر تک جدِامجد کی غیرمعمولی شفقت کے سائے میں پروان چڑھے۔ دادا کو نہ صرف آپ سے بےانتہا پیار تھا بلکہ انھیں آپ پر فخر بھی تھا۔ وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک دن دنیا میں بڑا نام پیدا کرے گا۔ جب وہ بھی داغ مفارقت دے گئے تو آپ کے حقیقی چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت اپنے ذمہ لی۔ انھوں نے تادم واپسی اس خدمت کو اس حسن و خوبی سے انجام دیا کہ اس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ حتیٰ کے نبوت کے بعد جب ساری قوم آپ کی دشمن ہوگئی تھی اس وقت بھی دس سال تک وہی آپ کی حمایت میں سینہ سپر رہے۔
Ayah 93:7وَوَجَدَکَ ضَآلاًّ فَھَدٰی۔ (الضحیٰ : 7)
(اور آپ کو بیخبر پایا اور پھر ہدایت بخشی۔ )
گزشتہ مضمون کی وضاحت اور ضَآلْ کا مفہوم
ضَآلاًّ … ضلالت سے اسم فاعل ہے۔ عام طور پر ضلالت کا جو مفہوم سمجھا جاتا ہے وہ ہے راہ راست سے بھٹک جانا، گمراہ ہوجانا، عقیدہ و عمل میں غلط راستہ اختیار کرنا، لیکن قرآن و سنت اور تاریخ و سیرت سے آنحضرت ﷺ کے جو حالات ثقہ ذرائع سے ہم تک پہنچے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے عقیدہ و عمل میں ضلالت کا شائبہ تک نہ تھا۔ آپ اعلانِ نبوت سے پہلے بھی عقیدہ و عمل کی ہر کجی سے پاک تھے۔ آپ کبھی بت پرستی، شرک یا دہریت میں مبتلا نہیں ہوئے۔ زمانہ ٔ جاہلیت کی لغویات سے آپ کا دامن ہمیشہ محفوظ رہا۔ اس لیے قرآن کریم نے آپ کی قبل از نبوت کی زندگی کو آپ کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
وَقَدْلَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔
” میں نے اپنی عمر اس سے پہلے تمہارے درمیان گزاری ہے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ “
ضلالت کا لفظ اور بھی کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ گمراہی کے معنی میں جیسا کہ عرض کیا گیا ہے آنحضرت ﷺ کے لیے استعمال کرنا خلاف واقعہ بھی ہے اور خلاف عقل بھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرے معنوں میں سے کون سا معنی ایسا ہے جو اس آیت کے سیاق وسباق اور آنحضرت ﷺ کی زندگی سے مطابقت رکھتا ہے۔ علامہ قرطبی نے آیت کی وضاحت کرتے ہوئے جو معنی مراد لیے ہیں وہ آیت کے مفہوم سے عین مطابقت رکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ضلالت کا لفظ غفلت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لاَ یَضِّلُ رَبِّی وَلاَ یَنْسیٰ ” میرا رب نہ کسی چیز سے غافل ہوتا ہے اور نہ کسی چیز کو فراموش کرتا ہے۔ مذکورہ آیت میں ضآلاًّ غافل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی آپ قرآن اور احکامِ شرعیہ کو پہلے نہیں جانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کا علم بھی بخشا اور احکامِ شرعیہ کی تفصیلات سے بھی آگاہ فرمایا۔
تفسیرِکبیر کے مصنف فرماتے ہیں کہ ضَّالٌّ ایسے درخت کو کہتے ہیں جو کسی وسیع صحرا میں تنہا کھڑا ہو اور مسافر اس کے ذریعے اپنی منزل کا سراغ لگائیں۔ اس مفہوم کے اعتبار سے آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جزیرہ عرب ایک سنسان ریگستان تھا جس میں کوئی ایسا درخت نہ تھا جس پر ایمان و عرفان کا پھل لگا ہو۔ صرف آپ کی ذات جہالت کے اس صحرا میں ایک پھلدار درخت کی مانند تھی۔ پس ہم نے آپ کے ذریعہ سے مخلوق کو ہدایت بخشی۔
بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ جویائے راہ کیا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ آپ نے رسوم و روایات اور خاندان کے بزرگوں سے دین کی جو وراثت پائی تھی آپ کی فطرتِ سلیمہ ایک لمحہ کے لیے اس پر مطمئن نہ ہوسکی۔ اور عرب معاشرے کی حالت اور ان کا بڑھتا ہوا بگاڑ بجائے خود اس بےاطمینانی میں اضافے کا سبب بن رہا تھا۔ مذاہب کے دعویدار کوئی ایسی راہ نہ دکھا رہے تھے جس سے حق کے متلاشی کو سکون اور اطمینان ملتا۔ آپ اپنی فطرتِ سلیم کے باعث فطرت کی بدیہیات پر پوری طرح عامل تھے۔ عقائد و اعمال کی وہ باتیں جو فطرت کی راہ سے ملتی ہیں آپ کی زندگی میں روشن تھیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے چونکہ آپ کو معصوم پیدا فرمایا تھا اس لیے عقیدہ و عمل کی کوئی خرابی آپ کے اندر راہ نہیں بنا سکی۔ باایں ہمہ آپ اس بات پر مضطرب تھے کہ میں جس اللہ کو مانتا ہوں اس کی صفات اور ان صفات کے تقاضے اور مطالبے کیا ہیں، اس کے کیا حقوق بندے پر عائد ہوتے ہیں اور انھیں کس طرح ادا کرنا ہے، زندگی کی ایسی ضابطہ بندی کس طرح کی جائے کہ زندگی کا ہر گوشہ اللہ تعالیٰ کی پسند میں ڈھلتا چلا جائے۔ ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے کے لیے آپ خلوت و جلوت کے ہر گوشے میں فکروجستجو کی ہر صلاحیت کو صرف کررہے تھے۔ حتیٰ کہ غار حرا کی تنہائیوں میں اسی فکر میں مستغرق تھے کہ وحی الٰہی کے نور نے ان تاریکیوں کو روشن کردیا۔
Ayah 93:8وَوَجَدَکَ عَآئِلاً فَاَغْنٰی۔
(اس نے آپ کو نادار پایا تو غنی کردیا۔ 8)
مزید وضاحت
عَآئِلْ کا لفظ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ 1 تنگدست، 2 اہل و عیال والا۔ آپ دونوں معنوں میں عَآئِلْ تھے۔ کیونکہ آپ کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ اس طرح آپ کی زندگی کی ابتداء افلاس کی حالت میں ہوئی۔ دادا کی زندگی میں تو آپ کے لیے کوئی مالی پریشانی نہ تھی، لیکن ان کی رحلت کے بعد جب آپ کی کفالت کی ذمہ داری حضرت ابوطالب نے قبول کی تو بلاشبہ انھوں نے آپ کی حفاظت و صیانت اور آپ کی مدد اور دستگیری میں کوئی کمی نہیں کی۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ تاریخ کی گواہی ان کے بارے میں یہ ہے کہ ہو قلیل المال وکثیرالعیال ” کہ وہ تنگدست اور کثیرالعیال تھے۔ “ اسی وجہ سے ان کے ایک بچے عقیل کی پرورش حضرت عباس ( رض) نے کی۔ اور حضرت علی ( رض) نبی کریم ﷺ کے زیرکفالت رہے۔ اس لیے آپ نے لڑکپن میں بکریاں چرائیں اور اپنی ضروریات کا بوجھ خود اٹھایا۔ لیکن شعور کی عمر کو پہنچتے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے راہ تجارت کو آسان کردیا۔ آپ پہلے اپنے محترم چچا کے ساتھ اور پھر تنہا تجارت کے لیے نکلے۔ آپ کی کامیابی کی خبر سن کر حضرت خدیجۃ الکبریٰ ( رض) نے جو مکہ کی نہایت مالدار خاتون تھیں اپنا تجارتی قافلہ لے جانے کی پیشکش کی۔ اس طرح سے آپ ان کی تجارت میں شریک ہوگئے۔ ان کو جیسے ہی آپ کی ذاتی خوبیوں کا اندازہ ہوا تو انھوں نے بڑوں کے واسطے سے آپ کے ساتھ شادی کرلی۔ اس طرح سے ان کا تمام تجارتی کاروبار آپ نے سنبھال لیا۔ اور آپ نہ صرف مالدار ہوگئے بلکہ رشک کی نگاہوں سے دیکھے جانے لگے۔ لیکن یہ تو وہ غنا اور مالداری ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسباب و وسائل کی دنیا میں آپ کو عطا فرمائی۔ لیکن فقروغنا کا تعلق صرف ظاہری اسباب ہی سے نہیں قلب کے احوال سے بھی ہے۔ آدمی کا سینہ ایمان سے خالی ہو تو وہ محتاج ہوتا ہے اگرچہ اس کے پاس قارون کا خزانہ ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر اس کا سینہ ایمان اور اللہ تعالیٰ کی محبت و عشق سے مامور ہو تو وہ غنی ہے اگرچہ وہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی طرح کمبل کی پوشاک پہنتا اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں پر گزارا کرتا ہو۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ یہاں جس غنا کا ذکر ہے اور جس سے آنحضرت ﷺ کو مالامال کیا گیا اس کا تعلق صرف مال و دولت سے نہیں بلکہ یہ وہ دولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے میں اتاری اور اس سے آپ کو وہ آسودگی اور استغناء نصیب ہوا جو سیم و زر کی فراوانی سے کبھی نہیں ہوتا۔
Ayah 93:9فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلاَ تَقْھَرْ ۔ (الضحیٰ : 9)
(پس کسی یتیم پر سختی نہ کیجیے۔ )
اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے پہلے احسان کا حق
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر جو احسانات کیے جن کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوا ہے پیش نظر آیت اور بعد کی آیات میں ان انعامات و احسانات کا حق بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ آپ یتیم تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کفالت و شفقت کا غیرمعمولی انتظام فرمایا۔ اس انعام کا حق یہ ہے کہ آپ کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔ آپ کی بےپایاں شفقت و محبت کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ چناچہ اسی ہدایت کا نتیجہ ہے کہ آپ کی ذات ہر یتیم و مسکین کے لیے سرتاپا شفقت و رحمت تھی۔ حتیٰ کہ غیرمسلموں نے بھی اسے تسلیم کیا۔ ہری چند اختر کا شعر ہے :
جس کی حکمت نے یتیموں کو کیا دُرِّ یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کردیا
آپ نے اپنی امت کے ہر صاحب حیثیت شخص کو یتیموں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم دیا اور اس کے اس حد تک فضائل بیان کیے کہ صاحب حیثیت لوگوں کے گھر یتیموں کے اپنے گھر بن گئے۔ اور آپ نے اس گھر کے بارے میں جس میں کوئی یتیم پرورش نہ پاتا ہو، ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ فضیلت کے حوالے سے بخاری شریف کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انا وکافل الیتیم فی الجنۃ کہا تین واشار بالسبابۃ والوسطی ” میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں ساتھ ساتھ ہوں گے، پھر اپنی انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ “ حضرت ابن عمر ( رض) فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جب یتیم روتا ہے تو خداوندِ رحمن کا عرش لرزنے لگتا ہے۔
Ayah 93:10وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلاَ تَنْھَرْ ۔ (الضحیٰ : 10)
(اور سائل کو مت جھڑکیے۔ )
دوسرے احسان کا حق
سائل کے دو معنی ہیں 1 مدد مانگنے والے حاجت مند کو کہتے ہیں، 2 دین کی کوئی بات پوچھنے والا یا شریعت کا کوئی حکم معلوم کرنے والا۔ یہاں دونوں ہی مراد ہیں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جو حاجت مند آپ کے دروازے پر مدد مانگنے کے لیے آئے آپ اس کی مدد کرسکتے ہیں تو کر دیجئے۔ اور اگر حالات ایسے ہیں کہ آپ اس کی مدد نہیں کرسکتے تو نرمی کے ساتھ معذرت کردیجیے۔ مگر کسی حال میں بھی اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کیجیے اور جھڑک کر دور نہ ہٹایئے۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے شکر کے طور پر ہے کہ آپ نادار تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالدار کردیا۔ چناچہ اس ہدایت کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ نے زندگی بھر کبھی کسی سائل کو خالی نہیں لوٹایا۔ پاس ہوا تو عطا کردیا اور نہ ہوا تو فرمایا کہ میرے نام پر قرض لے لو، میں ادا کردوں گا۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ اپنی چادر دے دی یا قمیض اتار کر نذر کردی۔ ” لا “ آپ کی زبان پر کبھی نہ آیا۔ جب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو ڈھیروں مال آپ کی خدمت میں پہنچنے لگا لیکن آپ کا حال ہمیشہ یہ رہا :
قدموں میں ڈھیر اشرفیوں کا لگا ہوا
اور تین دن سے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا
ہیں دوسروں کے واسطے سیم و زر و گہر
اور اپنا یہ حال کہ ہے چولھا بجھا ہوا
ترمذی شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ بحرین سے نوے ہزار درہم آئے۔ آپ نے مسجد میں ایک چٹائی بچھا کر ان کا ڈھیر لگا دیا۔ نماز فجر ادا کرنے کے بعد ان کو بانٹنا شروع کیا اور ظہر تک ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔ جب سب درہم بانٹ دیئے گئے تو اتفاقاً ایک سائل آگیا۔ آپ نے فرمایا کہ اب تو کوئی چیز باقی نہیں رہی، البتہ تم کسی دکاندار کے پاس چلے جاؤ، تمہیں جس چیز کی ضرورت ہے اس سے لے لو اور اسے کہو کہ وہ میرے نام لکھ دے میں اس کی قیمت ادا کردوں گا۔
دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ جو شخص کوئی حکم شریعت معلوم کرنے آئے وہ کیسا ہی جاہل اور اجڈ ہو اور کیسی ہی نامعقولیت سے سوال کرے آپ بہرحال شفقت کے ساتھ اسے جواب دیجئے۔ اور یہ اس احسان کا حق ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ آپ راہ سے بیخبر تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت بخشی۔ چناچہ اس احسان پر شکر کا نتیجہ تھا کہ اجڈ سے اجڈ بدو نہایت اکھڑپن سے آپ سے سوال کرتے لیکن آپ مسکراتے ہوئے انھیں جواب دیتے۔ حتیٰ کہ ایک بدو نے آپ کے سامنے مسجد میں پیشاب کردیا، آپ نے اسے ڈانٹنے کی بجائے پاس بلا کر سمجھایا۔ اور وہ زندگی بھر لوگوں سے یہ کہتا رہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے بڑھ کر کوئی شفیق معلم اور مربی نہیں دیکھا۔
Ayah 93:11وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ۔ (الضحیٰ : 11)
(اور اپنے رب کی نعمت کو کھول کر بیان کیجیے۔ )
نعمت کی وضاحت
آیتِ کریمہ میں جس نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے سوال یہ ہے کہ وہ نعمت کونسی ہے۔ روح المعانی میں علامہ آلوسی فرماتے ہیں اس نعمت سے مراد وہ گوناگوں نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پاک ﷺ پر فرمائیں۔ جن میں سے چند وہ ہیں جن کا ذکر ابھی اوپر ہوچکا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو بیشمار احسانات کیے اور جن بےپایاں نعمتوں سے نوازا وہ بھی مراد ہیں اور وہ نعمتیں بھی مراد ہیں جن سے قیامت کے دن آپ کو نوازا جائے گا۔ دنیا کی نعمتوں کو تو لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن اخروی نعمتوں کا ذکر حضور ﷺ خود فرماتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیتے تھے کہ یہ میرے اللہ کی دین ہیں اور اس کی عطا ہے۔ حضرت ابوسعید کہتے ہیں اور اسے مشکوٰۃ شریف اور ترمذی میں روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا۔ میں یہ بات فخریہ نہیں کہہ رہا بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔ اس روز پرچم میرے ہاتھ میں ہوگا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا۔ اس دن تمام نبیوں کو میرے پرچم کے نیچے پناہ ملے گی اور قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے میں باہر آئوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں آپ کو بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے اس میں سب سے بڑی نعمت حکمت اور شریعت کی دولت ہے جس کے بارے میں قرآن کریم خود کہتا ہے وَمَنْ یُّوْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا ” اور جس کو حکمت دے دی گئی اس کو خیرکثیر کا خزانہ بخشا گیا۔ “ یہی حکمت کی نعمت ہے جو حدیث اور سنت کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اور آپ کا وہ اسوہ جس نے عملی شکل میں انسانوں کو انسانیت کا درس دیا اور وہ قرب الٰہی کی کیفیات جنھیں کبھی صرف محسوس کیا جاسکتا تھا عملی شکل میں صحابہ کے سامنے آئیں اور زندگی کے ہر میدان میں جس نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کے احکام کو حالات کے تناظر اور رضائے خداوندی کی روشنی میں تنفیذ و تشکیل کے مراحل سے گزارا۔ ان تمام نعمتوں کے ذکر کا آپ کو حکم دیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور ادائے شکر کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ انھیں لوگوں کے سامنے بیان فرمائیں اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کا اعلان بھی فرمائیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے ورنہ کوئی چیز بھی میرے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں ہے۔ اور مزید یہ کہ آپ نے ہر نعمت کا شکر اس طرح ادا کیا کہ اس نعمت کے حوالے سے جو آپ پر حق عائد ہوتا تھا وہ ادا فرمایا۔ نعمتِ نبوت کا حق تبلیغ و دعوت کی صورت میں ادا کیا۔ نعمتِ قرآن کا حق آپ نے اس طرح ادا فرمایا کہ اس کے الفاظ و معنی اور اس کے مفہوم و مدلول کو لوگوں کے ذہنوں میں بھی اتارا اور اس کی عملی تشکیل بھی فرمائی۔ نعمتِ ہدایت کا حق ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس راہ میں آنے والی تلخیوں اور ترشیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ غرضیکہ اس مختصر سی آیت میں اپنی نعمتوں کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی دی گئی اور ساتھ ہی ساتھ ان کے ذکر و اظہار کا حکم بھی دیا گیا تاکہ اہل دنیا کو اندازہ ہوسکے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ اور آپ نے اپنی عملی زندگی سے اس کے ذکر و اظہار کی صورتیں بھی متعین فرما دیں۔