94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsروح القرآن

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

اے نبی کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کھول نہیں دیا

اَلَمْ نَشْرَحْ لَـکَ صَدْرَکَ ۔ (النشرح : 1) (اے نبی کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کھول نہیں دیا۔ ) شرح صدر کا مفہوم اعلانِ نبوت کے بعد آپ کو تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں جو مشکلات پیش آئیں اس کا سبب ایک تو قریش اور دیگر اہل مکہ کے خیالات کا جمود اور اپنے اعتقادات پر خطرناک حد تک تعصب تھا کہ وہ ان سے مختلف بات سننے کے روادار تک نہ تھے۔ اور دوسری یہ بات کہ مسلسل جہالت اور جاہلیت نے ان کے دل و دماغ کے سانچے ایسے بنا دیئے تھے کہ ان کی کجیوں کو درست کرنا اور ان کے پھرے ہوئے زاویوں کو راست کرنا انتہائی مشکل کام ہوگیا تھا۔ وہ سہل سے سہل بات اور سیدھی سے سیدھی بات بھی آسانی سے قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اور مزید مشکل یہ تھی کہ انھیں یہ بھی برداشت نہ تھا کہ اس معاشرے میں ان کے خیالات اور اعتقادات کیخلاف کوئی بات کہی جائے اور وہ خاموش رہیں، بلکہ وہ تو مشتعل ہو کر ہر ایسی زبان کو خاموش کردینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ ایسا ہمہ جہت قسم کا بگاڑ اور ایسی مشکل قوم کا سدھار چونکہ نہایت تکلیف دہ کام تھا اس لیے آنحضرت ﷺ کی طبیعت پر بہت گراں گزر رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کام کو آسان کرنے کے لیے آپ پر جو احسانات فرمائے ان میں سے پہلا احسان یہ ہے جسے سوالیہ انداز میں آپ سے کہا جارہا ہے کہ کیا ہم نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ سینہ کھول دینا جسے شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے اس کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔ قرآن کریم نے اسے دو طرح سے استعمال کیا ہے جس سے اس کے دو مفہوم متعین ہوجاتے ہیں۔ سورة انعام آیت 125 میں ارشاد فرمایا فَمَنْ یُّرِدِاللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَّـہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلْاِسْلاَمِ ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت بخشنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام جو اعتقادات پیش کرتا ہے، جن بنیادی حقائق پر اصرار کرتا ہے، تمدن و تہذیب کے جن اصولوں کو پیش کرتا ہے اور اخلاق کی جن بنیادوں کو استوار کرتا ہے اور تحلیل و تحریم کے حوالے سے جو احکام دیتا ہے اسلام لانے والے کے دل و دماغ میں ان کی سچائی اور حقانیت اتر جاتی ہے۔ اس کے دل و دماغ میں شک و شبہ کی پرچھائیں تک باقی نہیں رہتی۔ آنحضرت ﷺ کا شرح صدر کرنے کا یہ بھی ایک مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو شریعت آپ کو دی اور آپ نے دین کے جن حقائق کو پیش کیا آپ نے لوگوں کو جن اعتقادات کی دعوت دی، آپ نے معاشرت، معیشت، سیاست، حکومت، اخلاق، تہذیب اور تمدن کے جن اصولوں کو لوگوں کے سامنے پیش کیا ان میں سے ایک ایک چیز کا یقین آپ کے دل و ماغ میں حق القین تک پہنچ گیا۔ ایک مومن کے لیے ان اصولوں پر علم الیقین کافی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول کو صرف ان بنیادی حقائق کی تعلیم ہی دینا نہیں ہوتی بلکہ آپ اس اطمینان کی کیفیت کو بھی ان کے دلوں میں انڈیلنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے اور خشیت الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ایک پیغمبر کے لیے صرف علم الیقین کافی نہیں ہوتا بلکہ وہ عین الیقین سے گزر کر حق الیقین تک پہنچ جاتا ہے۔ شریعت کے مطالبات اس کے نزدیک طبیعت کے مطالبات بن جاتے ہیں اور یہی وہ شرح صدر ہے جس سے آپ کو نوازا گیا تھا۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ اسے ایک اور مفہوم میں بھی پیش کیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے عظیم منصب پر مامور فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ وہ فرعون کے پاس جائیں اور اس کی عظیم سلطنت اور اقتدار کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صاف صاف اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کا دین پیش کریں۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا رَبِّ اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یُّکَذِبُوْنِ وَیَضَیْقُ صَدْرِیْ ” میرے رب میں ڈرتا ہوں کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے اور میرا سینہ تنگ ہورہا ہے۔ “ چناچہ اس کے تدارک کے لیے سورة طہٰ ٰمیں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ ” میرے رب میرا سینہ میرے لیے کھول دے اور میرا کام میرے لیے آسان کردے۔ “ یہاں سینے کی تنگی سے مراد یہ ہے کہ نبوت کا کارعظیم سنبھالنے اور تنِ تنہا کفر کی ایک جابر و قاہر طاقت سے ٹکر لینے کی آدمی کو ہمت نہ پڑ رہی ہو۔ اور شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا حوصلہ بلند ہوجائے اور کسی بڑی سے بڑی مہم پر جانے اور کسی سخت سے تخت کام کو انجام دینے میں اسے تأمل نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ کے سینہ کھول دینے سے یہ دوسرا معنی بھی مراد ہوسکتا ہے کہ آپ کو جن فرعونوں سے واسطہ پڑا ان میں سے ایک ایک شخص اپنی ذات کے پندار میں اس طرح غرق تھا کہ اپنے خیالات سے مختلف بات سننا اسے گوارا نہ تھا۔ طائف کے سرداروں نے آپ کی دعوت کے جواب میں جو کچھ کہا اس کا ایک ایک لفظ اس پر شاہد ہے۔ اشرافِ قریش بھی آنحضرت ﷺ کی دعوت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ آپ کو ہر طرح کی اذیت پہنچائی گئی۔ لیکن آپ کے قتل کی منصوبہ بندی میں اس لیے تاخیر ہوئی کہ وہ جانتے تھے کہ آپ کے قتل کی صورت میں قبائل میں لڑائی چھڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کا اس طرح سے شرح صدر فرمایا کہ ان تمام فرعونوں کو آپ کی نگاہوں میں کٹ پتلیاں بنادیا۔ آپ ان کی ثروت و وجاہت سے مرعوب ہونا تو دور کی بات ہے آپ ان کو خاطر میں لانے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے وہ حوصلہ، وہ ہمت، وہ اولولعزمی اور وہ وسعت قلب عطا فرمائی جو اس منصب عظیم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے درکار تھی۔ آپ تنِ تنہا ان کے مقابلے کے لیے اٹھے پھر آہستہ آہستہ ایک قافلے کی صورت بنتی گئی۔ آخر آپ نے ان تمام جتھوں کو توڑ ڈالا جو اسلام کی راہ میں مزاحم تھے۔ اور اس راستے میں مخالفت کے بڑے بڑے طوفان اٹھے، دشمنی نے نہایت ہولناک صورتیں اختیار کیں۔ لیکن آپ ہر طرح کی مخالفت سے بےنیاز ہو کر نہایت اطمینانِ قلب کے ساتھ اپنے راستے پر آگے بڑھتے گئے۔ اس کا ایک تیسرا مفہوم بھی ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ نفس کو قوت قدسیہ اور انوارِ اِلٰہیہ سے اس طرح منور کردیا جائے کہ وہ معلومات کے قافلوں کے لیے میدان بن جائے، ملکات کے ستاروں کے لیے آسمان بن جائے اور گوناگوں تجلیات کے لیے عرش بن جائے۔ جب کسی کی یہ کیفیت ہوتی ہے تو اس کو ایک حالت دوسری حالت سے مشغول نہیں کرسکتی۔ یہاں صدر کا یہی معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیئے اور لوازمِ نبوت اور فرائضِ رسالت برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا۔ آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی اس آیت کی آئینہ دار ہے۔ آپ نے جس بلند حوصلگی اور اولعزمی سے فرائضِ نبوت کو ادا کیا، جس صبر اور شکر کے ساتھ اس راہ میں آنے والی مشکلات کو برداشت کیا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شرح صدر کے بغیر ممکن نہ تھا۔ پھر آپ نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو اپنے علم کے نور سے منور کیا۔ اس کو بھی شرح صدر کی برکت کے بغیر اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
Ayahs 94:2–3

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

اور ہم نے اتار دیا ہے آپ سے آپ کا بوجھ

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جو آپ کی کمر توڑے ڈال رہا تھا

وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ۔ الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ ۔ (النشرح : 2، 3) (اور ہم نے اتار دیا ہے آپ سے آپ کا بوجھ۔ جو آپ کی کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ ) نبوت اور نزول قرآن نے آپ کے شدید احساس کا بند تالا کھول دیا نبوت سے پہلے اپنی طبع سلیم اور خداداد معصومیت کے باعث نہ صرف کہ کسی ایسے کام کے قریب نہیں جاتے تھے جن کاموں میں آپ کی قوم ملوث تھی، بلکہ آپ ان کاموں سے ایسی گھن محسوس کرتے تھے جس طرح ایک صاف ستھرا اور مہذب آدمی گندگی سے گھن محسوس کرتا ہے۔ آپ دیکھتے تھے کہ بےجان بتوں کو پوجا جارہا ہے، شرک اور مشرکانہ اوہام اور رسوم کا بازار گرم ہے، اخلاق کی گندگی اور بےحیائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، قمار بازی اور شراب نوشی میں اپنی صحت و دولت کو برباد کیا جارہا ہے، غریبوں پر ظلم توڑے جارہے ہیں اور ان کے حقوق کو پامال کیا جارہا ہے، لڑکیاں زندہ دفن کی جارہی ہے، قبیلوں پر قبیلے چھاپے مار رہے ہیں، باہمی جنگ وجدال اور قتل و غارت، اخلاقی پستی، معاشی بدحالی اور سیاسی ابتری کو دیکھ کر حضور کا دل کڑھتا تھا۔ اور آپ کا یہ اضطراب روز بہ روز بڑھتا جارہا تھا۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس صورتحال کو کس طرح بدلا جائے۔ اس بگاڑ کو دور کرنے کی آپ کو کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔ یہی فکر تھی جو آپ کی کمر توڑے ڈال رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا، آپ کو ایک صحیفہ رشد و ہدایت عطا فرمایا، دین اسلام جیسا جامع اور مکمل نظام حیات مرحمت فرمایا اور توحید اور آخرت اور رسالت پر ایمان کی شہ کلید دے کر انسانی زندگی کے ہر بند تالے کو کھولنے کا امکان پیدا کردیا۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگیا کہ اس سے انسانوں کی قسمت بدلی جاسکتی ہے اور پوری نوع انسانی کی ان خرابیوں کو دور کیا جاسکتا ہے جس نے انسانوں کی قسمت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس بوجھ کو ہلکا کردیا جس نے آپ کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور آپ کو گراں بار کردیا تھا۔
Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کردیا

وَرَفَعْنَا لَـکَ ذِکْرَکَ ۔ (النشرح : 4) (اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کردیا۔ ) آپ کے نام اور آپ کے لائے ہوئے دین کا چار دانگ عالم میں چرچاکردیا جس زمانہ میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کوئی شخص سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کبھی ایسا ممکن بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت نبی کریم ﷺ چند ساتھیوں کے ہمراہ چھپ کر نمازیں ادا کررہے تھے۔ آپ کا چرچا اور آپ کا آوازہ وہ بھی مخالفانہ انداز میں مکہ کی حدود تک محدود تھا۔ اہل مکہ کی پوری کوشش تھی کہ باہر سے آنے والا کوئی شخص آپ سے ملنے نہ پائے تاکہ آپ کی دعوت باہر نہ پہنچے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں دشمنوں کو اس کا ذریعہ بنادیا۔ حج کے موقع پر تمام عرب سے لوگ مکہ معظمہ میں جمع ہوتے تھے۔ اس زمانہ میں کفار کے وفود حاجیوں کے ایک ایک ڈیرے پر جاتے اور لوگوں کو خبردار کرتے کہ یہاں ایک خطرناک شخص محمد ﷺ نام کا ہے جو لوگوں پر جادو کردیتا ہے جس کے نتیجے میں ہر گھر میں ایک لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ باپ بیٹے سے الجھتا ہے اور بیٹا باپ سے۔ ماں بیٹی سے الگ ہوجاتی ہے اور بیٹی ماں سے۔ خاندان کا شیرازہ بکھرتا جارہا ہے۔ ہم تو ایک مصیبت میں مبتلا ہیں، تم اس آدمی سے بچ کے رہنا تاکہ اس کا اثر تمہارے قبیلوں تک نہ پہنچ سکے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے گوشے گوشے میں آپ کا نام پہنچ گیا۔ اور تمام قبائل میں آپ کی دعوت کو جاننے کے لیے سرگوشیاں شروع ہوگئیں۔ لوگوں میں یہ خواہش توانا ہونے لگی کہ معلوم تو کیا جائے کہ آخر وہ شخص کیا کہتا ہے۔ اس طرح سے آپ کی دعوت اور آپ کا پیغام دور دراز قبیلوں میں پہنچنا شروع ہوگیا۔ پھر جیسے جیسے لوگوں کو آپ کے اخلاق اور آپ کی سیرت و کردار کا حال معلوم ہوا اور بعض لوگوں نے چھپ چھپ کر آپ کی دعوت کے بارے میں آگاہی حاصل کی، آپ سے قرآن کریم سنا تو وہ ایمان کی دولت لے کر اپنے قبیلوں میں پہنچے۔ پھر ہجرت کے بعد اس دعوت کی اشاعت میں اور تیزی آئی۔ اب کوئی قبیلہ ایسا نہ رہ گیا جس کا کوئی نہ کوئی آدمی اسلام کی دعوت سے متأثر نہ ہوا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک عجیب واقعہ یہ ہوا کہ ہجرت سے پہلے تو صرف مشرکینِ مکہ ہی رسول اللہ ﷺ کو بدنام کرنے میں سرگرم تھے اور اس طرح سے آپ کی شہرت پھیل رہی تھی، لیکن ہجرت کے بعد منافقین اور یہود بھی اس کام میں شریک ہوگئے اور اس طرح سے حضور کے نام کو اور شہرت ملی اور ساتھ ہی ساتھ مدینہ طیبہ کی اسلامی ریاست جو خدا پرستی، خدا ترسی، زہدوتقویٰ ، طہارتِ اخلاق، حُسنِ معاشرت، انسانی مساوات، جودوکرم، غریبوں کی خبر گیری، عہد و پیمان کی پاسداری اور معاملات میں راست بازی کا عملی نمونہ پیش کررہی تھی اس کے اثرات بھی روز بروز پھیلنے لگے اور دلوں کی تسخیر کا کام آگے بڑھنے لگا، جس کا نتیجہ چند ہی سالوں میں یہ نکلا کہ ہر جگہ اسلام غالب آتا گیا، کفر مغلوب ہوتا گیا اور ہر جگہ مسلمانوں نے اپنی درخشاں سیرت و کردار کے نقوش چھوڑے۔ مکہ جیسا مرکزی شہر سرنگوں ہوگیا۔ دس سال کے اندر آنحضرت ﷺ کا نام نامی اور آپ کا پیغامِ گرامی اس طرح عرب بھر میں پھیلا کہ اس کا گوشہ گوشہ اشہدان محمد رسول اللہ کی صدا سے گونج اٹھا۔ اور پھر دینی نقطہ نگاہ سے اللہ تعالیٰ نے اس رفع ذکر کا جو انتظام فرمایا اس سلسلے میں حضرت ابوسعید خدری ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اَتَانِیْ جِبْرَئِیْلُ عَلَیِہِ السَّلاَمُ وَقَالَ اِنَّ رَبَِّک یَقُوْلُ اَتَدْرِیْ کَیْفَ رَفَعْتُ ذِکْرَکَ قُلْتُ اللّٰہُ تَعْالیٰ اَعْلَمُ قَالَ اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِیْ ۔ ” حضرت جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور کہا، آپ کا رب کریم پوچھتا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے ذکر کو کس طرح بلند کیا ہے، میں نے جواب دیا اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کے رفع ذکر کی کیفیت یہ ہے کہ جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں آپ کا بھی میرے ساتھ ذکر کیا جائے گا۔ “ علامہ آلوسی فرماتے ہیں اور اس سے بڑھ کر رفع ذکر کیا ہوسکتا ہے کہ کلمہ شہادت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ اپنے محبوب کا نام ملا دیا، حضور کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا، ملائکہ کے ساتھ آپ پر درود بھیجا اور مومنوں کو درودپاک پڑھنے کا حکم دیا اور جب بھی خطاب کیا معزز القاب سے کیا، پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی آپ کا ذکرخیر فرمایا، تمام انبیاء اور ان کی امتوں سے وعدہ لیا کہ وہ آپ پر ایمان لے آئیں۔ آج دنیا کا کوئی آباد ملک ایسا نہیں جہاں روزوشب میں پانچ بار حضور کی رسالت کا اعلان نہ ہورہا ہو۔ علاوہ ازیں نمازوں میں آپ پر دورد بھیجا جاتا ہے، جمعوں کے خطبوں میں آپ کا ذکر خیر کیا جاتا ہے، پانچ مرتبہ اذان میں باآوازِبلند آپ کی رسالت کا اعلان کیا جاتا ہے اور سال کے بارہ مہینوں میں سے کوئی دن اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے کوئی وقت ایسا نہیں جب روئے زمین میں کسی نہ کسی جگہ حضور کا ذکرمبارک نہ ہورہا ہو۔ حیرت ہوتی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے کوئی شخص اس کا تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ اس شان سے آپ کا ذکر بلند ہوگا۔ حضور کے سوانح پر جتنی کتابیں اپنوں اور بیگانوں نے لکھی ہیں دنیا کے کسی نبی، مصلح، فاتح اور سلطان کے بارے میں نہیں لکھی گئیں۔ حتیٰ کہ دشمنوں نے بھی آپ کی عظمت کو تسلیم کیا۔ جن لوگوں نے آپ کو نبی تسلیم نہیں کیا آپ کے ہمہ گیر اثرات کو محسوس کرتے ہوئے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا آدمی قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بات کو آج جھٹلانے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکتی کہ آپ کے سوا دنیا میں اور کوئی نہیں۔ وہ جس کا ذکر ہوتا ہو زمینوں آسمانوں میں فرشتوں کی دعائوں میں موذن کی اذانوں میں
Ayahs 94:5–6

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

پس یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ (النشرح : 5، 6) (پس یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کا مستقل قانون یہی وہ اصل حقیقت ہے جو اوپر کے بیان کردہ شواہد کی روشنی میں بیان کرنا مقصود ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک مستقل قانون ہے کہ ہر یعسر کا دامن عسر کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یعنی آسانی ظاہر ضرور ہوتی ہے لیکن آزمائش کے دور سے گزرنے کے بعد۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اسے دو مرتبہ دہرایا گیا ہے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں۔ ان کے جلدی بعد اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتی ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہو۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کی بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آرہا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہو کہ یہ عسر اور یسر دونوں اس دنیا میں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک گھاٹی کسی نے پار کرلی تو یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ بس اب کسی نئی گھاٹی سے اس کو سابقہ پیش آنے والا نہیں ہے بلکہ دوسری اور تیسری گھاٹی بھی آسکتی ہے۔ چاہیے کہ ان کو عبور کرنے کا حوصلہ بھی قائم رکھے۔ زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ اس جہان میں ہر مسافر کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آتا ہے اور ان سے گزرنے کے بعد ہی کوئی راہ رو منزل مقصود پر پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ حق کے راستہ پر چلنے والوں کے ساتھ بھی ہے۔ جو لوگ اس راستے پر چلنے کا ارادہ کرتے ہیں ان کے لیے یہ نہیں ہوتا کہ راہ سے تمام عقبات خودبخود دور ہوجائیں بلکہ ان کو دور کرنے کے لیے خود ان کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے یہ ضمانت ضرور ہے کہ اگر وہ راہ کی رکاوٹوں کے علی الرغم ہمت نہیں ہاریں گے تو وہ ان کے لیے ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا کرے گا۔ اور ایک کے بعد دوسری مشکل سے لڑتے اور اس کو سر کرتے ہوئے بالآخر منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے۔ صاحبِ معارف القرآن نے اس آیت کو سلجھاتے ہوئے لکھا : عربی زبان کا قاعدہ یہ ہے کہ جس کلمہ کے شروع میں الف لام ہوتا ہے جس کو اصطلاح میں لام تعریف کہتے ہیں۔ اگر اسی کلمہ کو الف لام ہی کے ساتھ مکرر لایا جائے تو اس کا مصداق و ہی ہوتا ہے جو پہلے کلمہ کا تھا اور اگر بغیر الف لام تعریف کے مکرر لایا جائے تو دونوں کے مصداق الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس آیت میں العسر جب مکرر آیا تو معلوم ہوا کہ اس سے وہ پہلا ہی عسرمراد ہے کوئی نیا نہیں۔ اور لفظ یُسْرًا دونوں جگہ بغیر الف لام کے لایا گیا، اس سے معلوم ہوتا کہ یہ دوسرا یسر پہلے یسر کے علاوہ ہے تو اس آیت میں اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک ہی عسرو مشکل کے لیے دو آسانیوں کا وعدہ ہے اور دو سے مراد بھی خاص دو کا عدد نہیں بلکہ متعدد ہونا مراد ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک عسر یعنی تنگی اور مشکل جو آپ کو پیش آئی یا آئے گی اس کے ساتھ بہت سی آسانیاں آپ کو دی جائیں گی۔ حضرت حسن بصری ( رض) سے مرسلا ًروایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو اس آیت سے بشارت سنائی اور فرمایا لن یّغلب عُسْرٌ یُّسْرَیْنِ یعنی ایک عسر دو یسروں پر (ایک مشکل دو آسانیوں پر) غالب نہیں آسکتی۔ چناچہ تاریخ و سیرت کی سب کتابیں جو اپنوں اور غیروں، مسلم و غیر مسلم نے لکھی ہیں وہ اس پر شاہد ہیں کہ جو کام مشکل سے مشکل بلکہ لوگوں کی نظر میں ناممکن نظر آتے تھے آپ کے لیے وہ سب آسان ہوتے چلے گئے۔ روایتِ مذکورہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس آیت میں العسر کا الف لام عہد کے لیے ہے اور مراد آنحضرت ﷺ اور صحابہ ( رض) کرام کا عسر ہے، یعنی یہ وعدہ کہ ہر مشکل کے ساتھ بہت سی آسانیاں دی جائیں گی آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے لیے ہے جس کو حق تعالیٰ نے ایسا پورا فرمایا کہ دنیا نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اب اگر دنیا میں کسی شخص کو عسر کے بعد یسر نصیب نہ ہو تو وہ اس آیت کے منافی نہیں، البتہ عادۃ اللہ اب بھی یہی ہے کہ جو شخص سختی پر صبر کرے اور سچے دل سے اللہ پر اعتماد رکھے اور ہر طرف سے ٹوٹ کر اسی سے لو لگائے اور اسی کے فضل کا امیدوار رہے اور کامیابی میں دیر ہونے سے آس نہ توڑ بیٹھے تو ضرور اللہ تعالیٰ اس کے حق میں آسانی کردے گا۔ (فوائد عثمانیہ) بعض رویاتِ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
Ayahs 94:7–8

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

اور جب آپ فارغ ہوں تو کمربستہ ہوجائیں

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجائیں

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۔ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ۔ (النشرح : 7، 8) (اور جب آپ فارغ ہوں تو کمربستہ ہوجائیں۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجائیں۔ ) آخری منزل کے لیے جدوجہد فَانْصَبْ ، نَصَبَ سے امر ہے۔ اس کا معنی ہے ایسا کام کرنا جس کے کرنے سے تھکاوٹ ہوجائے۔ اس لیے اس کا ترجمہ جدوجہد اور محنت کیا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب آپ اپنے مشاغل سے فارغ ہوجائیں وہ مشاغل دعوت و تبلیغ سے متعلق ہوں یا مسلمانوں کی تعلیم و تربیت سے، یا ان کا تعلق دنیوی کاموں سے ہو تو اس فراغت میں آپ کا کام سستانا اور آرام کرنا نہیں بلکہ ایک کام سے فارغ ہونے کے بعد اس کے شکر کے طور پر دوسرے کام میں لگ جانا ہے۔ آپ دعوت و تبلیغ سے فارغ ہوتے ہیں تو تعلیم و تربیت کے کام میں لگ جایئے، اس سے فرصت ہوتی ہے تو عبادت میں مصروف ہوجایئے۔ اسی کی تائید میں علامہ ابن جریر طبری نے حضرت ابن عباس ( رض) سے اس کا یہ مفہوم نقل کیا ہے کہ جب آپ نماز ادا کرنے سے فارغ ہوجائیں تو بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگنا شروع کردیں۔ گویا آنحضرت ﷺ کے واسطے سے امت کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تمہاری زندگی جدوجہد اور محنت سے عبارت ہے۔ نہ فضول کاموں میں اشتغال آپ کو زیب دیتا ہے اور نہ فارغ بیٹھ رہنا مومن کی شان ہے۔ اسی لیے حضرت فاروقِ اعظم ( رض) فرمایا کرتے تھے کہ ” میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ میں تمہیں نکما بیٹھے ہوئے دیکھوں کہ نہ تم دنیا کا کام کررہے ہو اور نہ تم اپنی آخرت کو سنوار رہے ہو۔ “ اور کام بھی ایسا ہونا چاہیے فَانْصَبْ کا لفظ جس پر دلالت کر رہا ہے۔ یعنی ایسا کام جو ایک فرد کرے تو اسے تھکا دے اور جماعت کرے تو وہ بھی مشقت کے مراحل سے گزرے۔ ظاہر ہے یہ وہ کام ہیں جو اولولعزمی سے کیے جاتے ہیں۔ اور یہ وہ مہمیں ہیں جو بڑی محنت اور ریاضت سے سر کی جاتی ہیں اور جن کے لیے جگر پاشیوں اور شب بیداریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ تربیت تھی جس نے مسلمانوں کو محنتی، جفاکش اور اولولعزم بنایا تھا اور جس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر ہوا کی طرح پھیل گئے اور بہار بن کے چھا گئے۔ دوسری آیت میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق نہایت اخلاص سے جب آپ اور آپ کے صحابہ محنت و ریاضت اور جدوجہد کے کاموں سے فارغ ہوجائیں یعنی جب وہ مرحلہ آجائے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت بےنقاب ہوجائے، مکہ فتح ہوجائے اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگیں۔ تو پھر آپ آخرت کی تیاری کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ اگرچہ پیغمبر کا کوئی کام آخرت کی تیاری سے غیرمتعلق نہیں ہوتا، لیکن ان کاموں میں بہرحال اللہ تعالیٰ کے بندوں سے واسطہ رہتا ہے اور کبھی لادینی قوتوں سے کشمکش رہتی ہے۔ لیکن یہ کشمکش جب اپنے انجام کو پہنچ جائے یعنی لادینیت گھٹنے ٹیک دے تو پھر اللہ تعالیٰ کے رسول کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب آپ اپنے فرائض کے حوالے سے آخری منزل پر پہنچ گئے ہیں لیکن یہ وقت کمر کھول دینے کا نہیں بلکہ اپنے رب سے ملاقات کی منزل کی طرف تیاری کے لیے مزید اہتمام کا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو سورة النصر میں زیادہ وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمائی گئی ہے۔ وہاں اس کی مزید وضاحت آئے گی، انشاء اللہ تعالیٰ ۔