95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsروح القرآن

Ayah 95:1

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی

وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ ۔ (التین : 1) (قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ ) چار قسموں کی وضاحت ہم متعدد مواقع پر یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم میں قسموں کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے۔ اور عام معنوں میں اسے دعویٰ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ اور قسم اور جوابِ قسم میں رشتہ دلیل اور دعویٰ کا ہوتا ہے۔ یعنی جن چیزوں کی قسم کھائی جاتی ہے وہ درحقیقت اپنے دعوے کے اثبات کی دلیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لحاظ سے قسم اور جوابِ قسم میں کسی ایسی مناسبت کا ہونا ضروری ہے جس سے معلوم ہوسکے کہ قسم کس حیثیت سے جوابِ قسم کو ثابت کررہی ہے۔ چناچہ یہی وہ مناسبت ہے جس سے قسموں کے مفہوم اور مدلول کے تعین میں مدد ملتی ہے۔ اس سورة مبارکہ میں چار چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے، پھر اس کے بعد جوابِ قسم کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان چاروں قسموں کا مفہوم متعین کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کو دیکھیں کہ کیا جوابِ قسم اور قسموں میں دلیل کی مطابقت بھی پائی جاتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ یہی وہ اصول ہے جس سے الفاظِ قسم کا معنی متعین کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ تین کا معنی انجیر کیا گیا ہے جسے پھل کے طور پر اور مختلف فوائد کے حصول کے لیے لوگ بڑے شوق سے استعمال کرتے ہیں۔ اور زیتون کا ترجمہ زیتون کا تیل بھی کیا گیا ہے اور زیتون کا درخت بھی۔ اور متعدد مفسرین نے اسی معنی کو اختیار کیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کا ایک قول بھی اس کی تائید میں ہے۔ انھوں نے ان دونوں پھلوں کے خواص اور فوائد بھی بیان کیے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ ان ہی خوبیوں کی وجہ سے ان دونوں پھلوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کے بعد جو دو قسمیں کھائی گئی ہیں ان میں اور ان میں کوئی مناسبت نظر نہیں آتی۔ اور مزید یہ کہ اس کے بعد جو جوابِ قسم آرہا ہے یہ قسمیں دلیل کے طور پر اس کا اثبات نہیں کرتیں۔ بعض دیگر مفسرین جن میں بعض سلف بھی شامل ہیں اور حضرت ابن عباس ( رض) کا ایک قول بھی اس کی تائید میں ہے وہ تین سے ایک خاص پہاڑ مراد لیتے ہیں جس میں انجیر کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ پہاڑ اس نام سے موسوم ہوگیا ہے۔ تین سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی مسجد بھی مراد لی جاتی ہے اور جو انھوں نے جودی پہاڑ پر بنائی تھی۔ اور زیتون سے جبلِ زیتون مراد ہے جو حضرت مسیح کی دعوت اور عبادت کے مرکز کی حیثیت سے معروف ہے۔ یہاں زیتون کی پیداوار بہت زیادہ ہوتی تھی اس وجہ سے عربوں نے اپنی روایت کے مطابق اسے زیتون کے نام سے موسوم کردیا تھا۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ جو پھل کسی علاقے میں کثرت سے پیدا ہوتا تھا اس علاقے کو وہ بسا اوقات اس پھل کے نام سے موسوم کردیتے تھے۔ اس لحاظ سے تین اور زیتون کے الفاظ کا مطلب ان کے نزدیک وہ علاقہ ہے جہاں تین اور زیتون کی پیداوار بکثرت ہوتی ہے۔ اور وہ شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ کیونکہ نزول قرآن کے وقت اہل عرب میں یہی علاقہ انجیر اور زیتون کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔ دوسرے اور تیسرے قول سے یہ بات تو مستفاد ہوتی ہے کہ تین اور زیتون سے پہاڑ مراد لیے جائیں یا شام و فلسطین۔ مقصود دونوں سے وہ علاقہ ہے جہاں تین اور زیتون کی پیداوار بکثرت ہوتی ہے اور ان علاقوں کے ذکر سے اشارہ ان انسانوں کی طرف ہے جن کی پیدائش، جن کی تبلیغ و دعوت یا جن کی تدفین کی وجہ سے یہ علاقے معروف ہوئے۔
Ayahs 95:2–3

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور قسم ہے طورسینین کی

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس پرامن سرزمین (مکہ) کی

وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ ۔ وَھٰذَا الْبَلَدِالْاَمِیْنِ ۔ (التین : 2، 3) (اور قسم ہے طورسینین کی۔ اور اس پرامن سرزمین (مکہ) کی۔ ) طُوْرِ سِیْنِیْنَ … سِیْنِیْنَ ، جزیرہ نما سینا کا دوسرا نام ہے۔ اس کو سینا اور سینا بھی کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی سورة المومنون میں طُوْرِسَیْنَائَ مونث کی صورت میں آیا ہے۔ اور یہاں جمع سالم کی شکل میں۔ اور بَلَدِالْاَمِیْنِ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ طورِسِینین کی شہرت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ہے۔ اور بلدالامین کی پہچان بیت اللہ، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل (علیہم السلام) اور آنحضرت ﷺ ہیں۔
Ayah 95:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔ (التین : 4) (ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ ) تقویم کا مفہوم تقویم کا لغوی معنی تو کسی چیز کو سیدھا کرنا ہے۔ مثلاً قَوَّمْتُ الرُّمْحَ فَاسْتَقَامَ ” میں نے نیزے کو سیدھا کیا تو وہ سیدھا ہوگیا۔ “ پھر اسی مفہوم سے ترقی کرکے یہ لفظ کسی چیز کو اس کے مقصدتخلیق، اس کے فرائض اور اس کے مزاج کے مطابق اور موزوں بنانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ امامِ قرطبی ابن عربی کا قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے ان عظیم صفات سے متصف فرمایا۔ یعنی حی، عالم، بااختیار، باارادہ، متکلم، شنوا، مدبر اور حکیم۔ ان کی ساخت اور اس کی صلاحیتوں پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صوری اور معنوی حسن و کمال میں کوئی چیز بھی انسان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ اس کو وہ اعلیٰ درجہ کا جسم عطا کیا گیا ہے جو کسی جاندار مخلوق کو عطا نہیں کیا گیا۔ اور اسے فکر و فہم اور علم و عقل کی وہ بلند پایہ قابلیتیں بخشی گئی ہیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں بخشی گئیں۔ بڑے سے بڑا جسیم، طاقتور، قوی اور پرہیبت جانور بھی اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیتا ہے۔ نوامیسِ فطرت کو وہ اپنی علمی قوت سے مسخر کرکے ان سے اپنی چاکری کرا رہا ہے۔ اپنے فکرونظر اور قوت ایجاد و اختراع سے اس نے دنیا کو مالا مال کردیا ہے۔ اس کے علم و عرفان کی رفعتوں کا حال یہ ہے کہ ملائکہ بھی اس کی اطاعت بجا لاتے ہیں۔ اس نے اپنے سفلی جذبات، نفسانی خواہشات اور طبعی مفادات کو قابو میں رکھ کر ایثار کی ایسی شمعیں روشن کی ہیں جسے دیکھ کر عقل انگشت بدنداں ہے۔ انسان درحقیقت اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے حُسنِ تخلیق کا شاہکار ہے۔ علامہ قرطبی نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے کہ عیسیٰ بن موسیٰ ہاشمی کی اپنی بیوی کے ساتھ شدید محبت تھی۔ ایک دن اس نے اس سے کہا انت طالق ثلاثا ان لم تکونی احسن من القمر ” اگر تو چاند سے زیادہ خوبصورت نہ ہو تو تجھے تین طلاقیں۔ “ بیوی نے جب اپنے خاوند کی بات سنی تو اٹھ کر پردے میں چلی گئی اور کہا کہ آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اب ہمارا ازدواجی تعلق منقطع ہوگیا ہے۔ عیسیٰ نے بڑی مشکل سے رات بسر کی، صبح سویرے خلیفہ منصور کے پاس پہنچا۔ اسے اس واقعہ کی اطلاع دی اور بڑی گھبراہٹ اور ندامت کا اظہار کیا۔ خلیفہ نے فقہاء کو اپنے دربار میں بلایا اور ان سے فتویٰ پوچھا۔ سب نے کہا کہ طلاق واقع ہوگئی ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے شاگردوں میں سے ایک صاحب خاموش بیٹھے رہے۔ منصور نے پوچھا آپ کیوں چپ ہیں، کیوں کوئی بات نہیں کرتے۔ انھوں نے سورة التین کی ابتدائی پانچ آیات پڑھیں۔ اور کہا اے امیرالمومنین اس ارشادِالٰہی کے مطابق انسان سب چیزوں سے حسین ہے۔ منصور نے عیسیٰ بن موسیٰ سے کہا کہ اس شخص نے جو کچھ کہا ہے، درست کہا ہے تم اپنی بیوی کے ساتھ رہ سکتے ہو، اور اس کی بیوی کو بھی کہلا بھیجا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ انسان کے بہترین ساخت پر پیدا ہونے کی سب سے بڑی شہادت اور سب سے بڑی دلیل کیا ہے ؟ کیونکہ عام انسانوں کو دیکھ کر تو اتنی بڑی شہادت قائم کرنا آسان نہیں۔ اقبال نے تو اس پر عجیب تبصرہ کیا : یہی انساں ہے سلطاں بحر و بر کا کہوں کیا ماجرا اس بےبصر کا نہ خود بیں نے خدا بیں نے جہاں بیں یہی شاہکار ہے تیرے ہنر کا یہ جوابِ قسم ہے اس کی وضاحت لیکن انسانوں کی ایک نوع ایسی ہے جسے بےجھجک انسان کے احسن تقویم ہونے پر بطور شاہد اور دلیل کے پیش کیا جاسکتا ہے۔ وہ نوع انسانیت کی معراج اور فضل و کمال کا سب سے زیادہ بلند نمونہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ جو صورت و سیرت، فضل و کمال، علم و دانش، قربِ الٰہی، قناعت و استقامت، بےغرضی اور بےلوثی، حکمت و تدبر اور رحمت و مؤدت میں بےمثال و بینظیر ہیں۔ چناچہ پروردگار نے ان کے احسن تقویم ہونے کی شہادت میں ان مقامات کی قسم کھائی ہے جو اس کے پیغمبروں سے نسبت رکھتے ہیں۔ شام و فلسطین میں متعدد جلیل القدر پیغمبر تشریف لائے۔ اور کتنے عظیم رسول وہاں مدفون ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی فلسطین کے علاقہ میں مبعوث ہوئے اور کوہ طور وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی۔ رہا مکہ معظمہ تو اس کی بناء ہی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے ہاتھوں پڑی۔ انہیں کی بدولت وہ عرب کا مقدس ترین مرکزی شہر بنا۔ اس شہر کے پرامن ہونے کی دعا بھی آپ ہی نے مانگی۔ اس دعا کی قبولیت کا یہ عالم تھا کہ جس وقت سارا جزیرہ عرب غارت گری، خونریزی اور لوٹ مار کا میدان بنا ہوا تھا اس وقت بھی مکہ مکرمہ فتنہ و فساد کی آگ سے محفوظ تھا۔ کسی کے باپ کا قاتل بھی اگر حرم میں پناہ لیتا تو کوئی اس سے تعرض نہ کرسکتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس خطہ پر مزید کرم یہ فرمایا کہ اسے اپنے محبوب ﷺ کی جائے ولادت بنایا اور آپ ﷺ کی نبوت کا اعلان بھی یہیں سے ہوا اور یہ وہ شرف ہے جس کے باعث مکہ کی عظمت کو چار چاند لگ گئے اور یہ وہ شہادت ہے جو ان چار قسموں کے ذریعے انسان کی حیثیت و عظمت پر قائم کی گئی ہے۔
Ayah 95:5

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا

ثُمَّ رَدَدْنٰـہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ ۔ (التین : 5) (پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا۔ ) دین سے انحراف آدمی کو پست ترین حالت میں پہنچا دیتا ہے جو چیز جتنی بلندی سے گرتی ہے اتنی ہی زیادہ شکست و ہلاکت کا شکار ہوتی ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی صلاحیتوں اور خصوصیتوں سے نوازا۔ اسے ایسے ملکات دیئے گئے جن کے سامنے تمام مخلوقات جھک گئیں، اسے ایسی بلند عزمی عطا کی گئی کہ بلندیاں اس کے سامنے ہیچ ہوگئیں، اس کے عشق کی آگ نے ہر آگ کو سرد کردیا، اس کے قلب و دماغ کی وسعتوں کے سامنے سمندروں کی وسعتیں سمٹ گئیں۔ چناچہ جب تک وہ اپنی ان صلاحیتوں سے صحیح کام لیتا رہا اللہ تعالیٰ نے فضل و کمال کا ہر دروازہ اس کے سامنے کھول دیا۔ لیکن جب اس نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی ناقدری کی اور اپنی عدیم النظیر صلاحیتوں کا غلط استعمال کیا اور ہَوائے نفس کی پیروی میں اندھا ہوگیا، اپنے خالق و رازق کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیا اور اس کے رسول کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آیا۔ فضل و کمال کے سارے دروازے اس کے سامنے بند کردیئے گئے، انسانیت کی تمام عظمتیں اس سے چھین لی گئیں، نیچے لڑھکتا ہوا حیوانوں سے بھی بدتر ہوگیا۔ اس سے ان حرکتوں کا صدور ہوا جو کسی حیوان سے بھی کبھی نہ بن پڑیں، اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کیا، اپنے بھائیوں کا گلا کاٹا۔ حرص، طمع، خودغرضی، شہوت پرستی، نشہ بازی، کمینہ پن، غیظ و غضب اور ایسی ہی دوسری بری خصلتوں کا شکار ہوگیا۔ درندے صرف اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے درندگی کرتے ہیں، اس درندے نے محض شوق کی تسکین کے لیے بستیاں اجاڑیں، اپنے ہم جنسوں کا قتل عام کیا، حیوان اپنے پنجوں اور دانتوں سے کام لیتا ہے، اس نے ہلاکت کے وہ اسباب اور ہتھیار بنائے کہ جس کا تصور ہی کپکپی پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ عزت و عفت کے ایسے چراغ گل کیے اور ہوس کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کے بارے میں حیوان کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس طرح سے وہ بدترینِ خلائق بنتا چلا گیا۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے خود اللہ تعالیٰ کے قانون کو حرکت دی۔
Ayah 95:6

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے

اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُمَمْنُوْنٍ ۔ (التین : 6) (بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ ) یہ لوگ احسن تقویم کے مصداق ہیں اللہ تعالیٰ کے عظیم رسولوں کا نمونہ سامنے رکھ دینے کے بعد یہ واضح فرما دیا کہ جو اشخاص اور جو گروہ بھی ان نفوسِ قدسیہ کے پیش کردہ حقائق سے منہ موڑتے ہیں اور ان کے کھولے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے سے انکار کردیتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کو اپنا چلن بنا لیتے ہیں اور دنیا ہی کو زندگی اور حاصل زندگی سمجھ کر زندگی گزارتے ہیں وہ بالآخر بدترینِ خلائق بنے بغیر نہیں رہتے۔ لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی پیروی کو اپنا شعار بناتے، انسانیت کی لاج رکھتے اور ان کے دامن شرف پر کوئی داغ نہیں لگنے دیتے وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے اپنے دلوں کو بیدار رکھتے اور ایمان و عمل کی شمع سے اپنے راستے کو روشن کرتے ہیں اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ زندگی اصل زندگی نہیں بلکہ یہ تو دارالعمل اور آخرت کی تیاری کا موقع ہے، اصل زندگی تو دوسری زندگی ہے اور وہ اسی کی تیاری میں لگے رہتے ہیں۔ اور وہ اپنے حسن تقویم کے شرف پر کبھی آنچ نہیں آنے دیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ایسے اجر سے نوازے گا جو کبھی ختم نہ ہونے والا ہوگا۔ جب تک وہ اس دنیا میں زندہ رہیں گے ان پر ان کے رب کی رحمت نازل ہوتی رہے گی۔ اور جب یہاں سے رخت سفر باندھنے لگیں گے تو انہیں غیب سے رضائے خداوندی کی نوید سنائی دے گی اور جب قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے تو فرشتے ہجوم در ہجوم ان کا استقبال کریں گے۔ اور جب انہیں دخول جنت کی عزت بخشی جائے گی تو سَلاَمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمِ سے ان کا استقبال کیا جائے گا۔
Ayah 95:7

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

پس، (اے پیغمبر) آپ کو کون جھٹلا سکتا ہے اس کے بعد جزاء و سزا کے معاملہ میں

فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ ۔ (التین : 7) پس، ( اے پیغمبر) آپ کو کون جھٹلا سکتا ہے اس کے بعد جزاء و سزا کے معاملہ میں۔ ) متذکرہ بالا حقیقت کے قبول کرلینے کے بعد روزجزا کی تکذیب کا کیا موقع ہے امامِ قرطبی نے اس آیت کا ایک مفہوم قتادہ اور فراء سے نقل کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ قیامت کے برپا ہونے اور اس روزنیک و بد کو جزاء و سزا کا جو نظریہ آپ نے پیش کیا ہے، کون عقل مند اس کی تکذیب کرسکتا ہے۔ یعنی جب ہر دیکھنے والی نگاہ دیکھ رہی ہے اور ہر سوچنے والا دماغ اندازہ کررہا ہے کہ نوع انسانی میں سے جس گروہ نے بھی انبیائے کرام کے طریقے کو چھوڑ کر خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کو اپنا وطیرہ بنایا۔ اور رب العالمین کی بندگی سے اعراض کرکے غیر اللہ اور طاغوت کی بندگی کو اپنا چلن بنایا۔ تو وہ سیرت و کردار کے اعتبار سے حیوانوں سے بھی نیچے گرتا چلا گیا۔ اس نے انسانیت کی ہر قدر کو پامال کر کے رکھ دیا۔ لیکن اس کے برعکس جس شخص اور جس گروہ نے بھی ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا، تقویٰ کی زندگی اختیار کی، صراط مستقیم پر چلنے کو اپنے لیے سعادت سمجھا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کو ہمیشہ یاد رکھا اس کی زندگی کامیابی اور کامرانی کی ضمانت بن گئی۔ اس نے سیرت و کردار کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ وہ جب تک زندہ رہا دوسروں کے لیے بھلائی کا عنوان بنا رہا۔ اور انسانیت ہمیشہ اس پر فخر کرتی رہی۔ زندگی کے یہ دو طریقے اور انسانوں کے یہ دو گروہ کیا برابر ہیں اور کیا انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں کو برابر سمجھا جائے جو اسفل السافلین میں گر چکا ہے اسے کوئی سزا نہ دی جائے اور جس نے نہایت پاکیزہ زندگی گزاری اسے کسی انعام کا مستحق نہ سمجھا جائے۔ سورة الجاثیہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اَمْ حَسِبَ الذَّیِنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ اَنْ نَجْعَلَھُمْ کَالذِّیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصَّالِحَاتِ سَوَائٌ مَّحْیَاھُمْ وَمَمَاتَھُمْ سَائَ مَایَحْکُمُوْنَ ۔ ” کیا برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، دونوں کی زندگی اور موت یکساں ہو، بہت برا حکم ہے جو لوگ لگاتے ہیں۔ “
Ayah 95:8

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ ۔ (التین : 8) (کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے۔ ) اس سوال کے جواب میں ہدایت مضمر ہے ہر احساس اور عقل رکھنے والا شخص دنیا میں چھوٹے سے چھوٹے حاکم سے بھی یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی حکومت میں عدل و انصاف سے کام لے۔ وہ اچھے کام کرنے والوں کو صلہ دے اور برے کام کرنے والوں کو سزا دے۔ جو قانون توڑے اس پر قانون شکنی کا مقدمہ قائم ہو اور اس کے جرم کی اسے سزا دی جائے۔ اور جو قانون کا احترام اور اطاعت کرے اسے اس کی جزاء ملے۔ تو اگر یہ توقع اور یہ مطالبہ چھوٹے سے چھوٹے حاکم سے حق اور عقل کا مطالبہ ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ سب سے بڑا حاکم نہیں، کیا اس کی مملکت سے بڑھ کر بھی کسی کی مملکت اور حکومت ہے۔ اگر چھوٹے سے چھوٹے حاکم سے بھی تم عدل کی توقع رکھتے ہو تو اللہ تعالیٰ سے تم نے کیسے امید باندھ رکھی ہے کہ وہ ظالم کو ظلم کی سزا نہ دے اور مظلوم کو کبھی اس کی مظلومیت کا صلہ نہ دے۔ لوگ اس کے عدل کو پکارتے رہیں اور وہ کبھی مظلوم کی دادرسی نہ کرے۔ تو پھر اس کی حکومت اور مملکت کا کیا فائدہ ؟ اور اس کی حاکمیت سے اس کی مخلوق کو کیا فائدہ پہنچا ؟۔ اور اگر وہ سب سے بڑا حکمران ہونے کے باوجود دنیا کو انصاف نہ دے سکا تو پھر دنیا کو انصاف کہاں سے ملے گا۔ اگر بدترین افعال کرنے والے اور اس کی خاطر قربانیاں دینے والے بلکہ جانیں قربان کرنے والے سب برابر ہوں تو اس سے بڑھ کر بےانصافی اور کیا ہوگی۔ اور کیا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی حاکم بھی ہے جس سے اس بےانصافی کی فریاد کی جاسکے۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اس سورة کی تلاوت ختم کرو تو کہو بَلیٰ وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الشَّاہِدِیْنَ ” ہاں، اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں۔ “ بعض روایات میں سے ہے کہ حضور ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے سُبْحَانَک فَبَلٰی (روح المعانی)