Ayah 96:1اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ (العلق : 1)
(اے پیغمبر، پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ )
شانِ نزول اور آیت کا مفہوم
آنحضرت ﷺ غارِ حرا کی تنہائی میں اہل دنیا سے بالکل کٹ کر اللہ تعالیٰ سے لو لگائے گہرے تفکر میں مستغرق تھے کہ اچانک فرشتہ آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہا، اقرأ ” پڑھیے “ آپ نے فرمایا مَااَنَابِقَارِیٍٔ ” میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ “ کیونکہ فرشتے کے کہنے سے آپ پر یہ بات واضح نہ ہوسکی کہ وہ کیا چیز پڑھنے کے لیے آپ سے کہہ رہا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ لکھی ہوئی آیات آپ کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔ لیکن ان روایات کی سند پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی۔ اس پر فرشتے نے آپ کو اپنی آغوش میں لے کر زور سے بھینچا اور پھر کہا کہ پڑھیے۔ آپ نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تین دفعہ کی تکرار کے بعد فرشتے نے زور دے کر آپ کو پڑھنے کے لیے کہا اور یہ پہلی آیت آپ کے سامنے پڑھی۔ اس کا ایک مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے آپ کو یہ تأثر دیا کہ آپ کو اپنے امی ہونے کا احساس ہے اور اس احساسِ اُمیت کی وجہ سے آپ پڑھنے سے عذر کررہے ہیں۔ لیکن آپ کو خوب معلوم ہے کہ بچپن سے لے کر آج تک اللہ تعالیٰ نے جس طرح غیرمعمولی طریقے سے آپ کی تربیت کا سامان کیا اور ناموافق حالات میں آپ کو حُسنِ کردار کا نمونہ بنایا اور بگڑے ہوئے ماحول میں آپ انسانی صفات کا قابل فخر پیکر بنے۔ اور آپ ایک غیرمعمولی شخصیت کی صورت میں ہر دل و دماغ میں اتر گئے۔ اس طرح سے آپ کی زندگی کا ایک ایک دور اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے کوئی غیرمعمولی کام لینا چاہتا ہے۔ اُمی ہونے کے باوجود محض اس کی تربیت اور قدرت سے آپ کا سینہ علوم و معارف کا مخزن بن جائے گا۔ اس لیے آپ اسی کے نام سے پڑھیے جو آپ کا رب ہے اور جس نے غیرمعمولی طریقے سے آپ کی آج تک تربیت کی ہے، اب بھی اسی تربیت کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ پر علوم و معارف کا دروازہ کھولے گا۔
اشارۃً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس وحی کے نزول سے پہلے اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے بھی تھے اور جانتے بھی تھے۔ اسی لیے آپ کو رب کا تعارف نہیں کرایا گیا بلکہ رب کے نام سے پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اگر آپ کو رب کی معرفت نہ ہوتی اور آپ کا اس پر ایمان نہ ہوتا تو یقینا سب سے پہلے رب کی حقیقت آپ کے سامنے واضح کی جاتی۔ مزید اس بات کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ادب سکھایا جارہا ہے کہ آپ جب بھی قرآن کریم کو پڑھیں جس کا نزول آپ پر شروع ہوگیا ہے تو اللہ کے نام سے، یعنی بسم اللہ کہہ کر پڑھیں۔ اور جب بھی کوئی جائز کام کریں تو اسے بھی اللہ کے نام سے کریں۔
اس آیت کریمہ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور بعض اہل علم نے یہی مطلب مراد لیا ہے کہ اِقْرَأ کا لفظ صرف پڑھنے کے مفہوم ہی میں نہیں آتا بلکہ دوسروں کو پڑھ کے سنانے یا دعوت دینے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا گیا وَاِذَا قَرَأتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَـکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔ ” اور جب آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک مخفی پردہ کھڑا کردیتے ہیں۔ “ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں قَرَأتَ کا معنی پڑھ کے سنانا ہے، صرف پڑھنا نہیں۔ کیونکہ آگے کفار کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ اس وقت ہوتی تھی جب آنحضرت ﷺ انھیں قرآن کریم پڑھ کر سناتے تھے، اس کے احکام سے آگاہ کرتے تھے اور اس کے بیان کردہ عقائد کو واضح فرماتے تھے۔
اس معنی کے لحاظ سے اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ اس قرآن کریم کو اپنے اس رب کے نام سے پڑھ کر سنائیں جس نے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ یہاں خَلَقَ کا مفعول محذوف ہے اور وہ یقینا کُلَّ شَیْ ئٍہے۔ یعنی آپ کا وہ رب جس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور جس کا فرمان واجب الاذعان ہے، جس کے احکام سے سرتابی دنیا و آخرت کا خسران ہے۔ یہ میرا کلام نہیں بلکہ میرے رب کا کلام ہے۔ اس کا انکار محض کسی نصیحت کا انکار نہیں بلکہ ربِّ کائنات کے حکم کا انکار ہے۔ اور ربِّ کائنات کے حکم کی مخالفت سے جس طرح آخرت تباہ ہوتی ہے اسی طرح دنیا میں عذاب بھی آسکتا ہے۔
Ayah 96:2خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ (العلق : 2)
(پیدا کیا انسان کو خون کے ایک لوتھڑے سے۔ )
انسان کی تخلیق سے اس کے مقصد زندگی کی یاددہانی
پہلی آیت میں کائنات کی عام تخلیق کا ذکر فرمانے کے بعد خاص طور پر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ انسان ہی اس کائنات کا گل سرسبد ہے۔ خلافتِ ارضی کا تاج اسی کے سر پر رکھا گیا ہے۔ اسی کے ذریعے سے زمین پر اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ اور تنفیذ ہوتی ہے۔ اور اسی کی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول بھیجا اور یہ کتاب نازل کی جارہی ہے۔ لیکن اس کی بےبصری کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر غیر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ وہ عناصرِکائنات اور وہ مظاہرِقدرت جو اس کی خدمت اور ضروریات کی فراہمی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں انھیں مختلف ناموں سے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا اور ان کی بندگی بجا لاتا ہے۔ اگر یہ اپنے مادہ تخلیق پر غور کرے کہ وہ پانی کے ایک حقیر قطرے سے جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرتا ہے اور یہ وہ ابتدائی حالت ہے جو استقرارِحمل کے بعد پہلے چند دنوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر وہ گوشت کی شکل اختیار کرتی ہے اور پھر اس کے بعد بتدریج اس میں انسانی صورت بننے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اور آخر ایک وقت آتا ہے جب وہ ایک خوبصورت انسانی بچے کی شکل میں تخلیق کے مراحل سے گزرتے ہوئے ماں کی آغوش میں آتا ہے۔ اور پھر بچپن، لڑکپن اور جوانی کے مراحل سے گزرتے ہوئے ایک سمیع وبصیر اور علیم و فعیل انسان کی شکل میں دنیا میں اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی کی ابتداء اور بتدریج عہد بعہد ہونے والی تبدیلیوں اور مراحل پر غور کرے تو اسے کبھی اس میں اشتباہ پیدا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اسے دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ وہ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کی حکمت وقدرت کا مراقبہ کرے گا تو اس کے دل و دماغ میں یہ بات مستحضر ہوتی جائے گی کہ میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کس قدر ذلیل اور حقیر حیثیت کا حامل ہوں اور وہ ذات کس قدر عظیم ہے جس نے مجھے ایک حقیر قطرے سے تخلیق فرمایا اور کائنات کا گل سرسبد بنادیا۔ تو کیا اس ذات کے سامنے سرکشی مجھے زیب دیتی ہے۔ کبریائی صرف اس کی شان ہے، میری شان تو بندگی ہے۔ تو میں آخر اپنی حدود سے تجاوز کیوں کرتا ہوں۔
اسی طرح اس آیت سے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ جما ہوا خون جس میں نہ سمع ہے نہ بصر اور نہ روح نہ احساس۔ وہ ایک جمادِلایعقل ہے۔ اس سے اگر اللہ تعالیٰ ایک انسانِ عاقل پیدا کرسکتا ہے تو اس کی قدرت سے کیا بعید ہے کہ وہ ایک ایسا کامل پیدا کرے جو امی ہوتے ہوئے اولین و آخرین کے علوم و معارف کا جامع ہو۔
Ayahs 96:3–4اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ (العلق : 3، 4)
(پڑھیے، اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔ )
سابقہ مضمون کی تاکید اور اللہ تعالیٰ کے ایک احسان کا تذکرہ
یہ اقرأ سابق اقرأ سے بدل کے طور پر آیا ہے اور یہ اسی حکم کی تاکید ہے جو اوپر دیا گیا ہے۔ البتہ اس میں اظہارِاحسان کا پہلو غالب ہے۔ خطاب چونکہ آنحضرت ﷺ کو ہے اس لیے براہ راست آپ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کا یہ کلام لوگوں کو پڑھ کر سنایئے اور ساتھ ہی اس بات کا احساس توانا رکھئے کہ جس طرح پروردگار نے آپ کی غیرمعمولی تربیت کے ذریعے آپ کے اندر بےپناہ صلاحیتوں کا خزانہ رکھ دیا ہے اور تمام نفسانی آلائشوں سے پاک کرکے روحانی اور الٰہی ملکات سے آپ کے دل کو سیراب کردیا ہے۔ اسی طرح آپ کے رب نے جودوکرم کا خزانہ لٹاتے ہوئے آپ کے بےپایاں علم کو صرف علم سے نہیں بلکہ قلم سے بھی وسعت دی ہے۔ پہلی کسی امت کو یہ اعزاز نہیں بخشا گیا۔ تورات کے احکامِ عشرہ کے علاوہ باقی سب تاریخی روایات کی تدوین ہے جس میں کلام خداوندی کا پہچاننا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر یہ احسان فرمایا ہے کہ آپ پر اترنے والی وحی قلم کے ذریعے محفوظ کردی جائے گی۔ اور نسلاً بعد نسلاً قیامت تک انسان اس سے فیض یاب ہوتے رہیں گے۔ اگرچہ امت کے علماء و صلحاء کے سینے بھی اس سے معمور رہیں گے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اہل عرب جو امی کہلاتے ہیں انھیں کے ہاتھوں کتابوں کا ایک خزانہ وجود میں آئے گا۔ اور سلف کے تمام علوم خلف تک نہایت محفوظ حالت میں پہنچیں گے۔ اور آنحضرت ﷺ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور آپ کی ذات سے صادر ہونے والا ہر عمل کلام خداوندی کی تفصیل و تشریح یا عمل بنا کر قلم کے ذریعے محفوظ کردیا جائے گا۔
Ayah 96:5عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ۔ (العلق : 5)
(انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ )
مزید ایک احسان کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے مزید ایک احسان کا ذکر فرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انسان کی ایک غلط فہمی کو بھی دور کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا احسان یہ ہے کہ انسان درحقیقت جب دنیا میں آیا تو وہ کچھ نہ جانتا تھا۔ حتیٰ کہ جن ماں باپ کے اتصال سے اس کی تخلیق ہوئی وہ انھیں پہچانتا تک نہ تھا، وہ اپنی غذا کے سرچشمے سے بیخبر تھا، اسے رونے اور بھوک کے احساس کے علاوہ کسی چیز کا ہوش نہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے آہستہ آہستہ حواس عطا فرمائے۔ پھر آگے چل کر عقل سے نوازا۔ تو پھر وہ یہ سمجھنے لگا کہ میری زندگی کا ہر شعبہ شاید عقل کی حدود میں شامل ہے اس لیے اسی کی رہنمائی میرے لیے کفایت کرتی ہے۔ چناچہ جب بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اسے ایسی باتوں کی خبر دی جن کا دائرہ محسوسات اور معقولات سے ماوراء تھا تو اس میں وہ الجھ کر رہ گیا۔ اور اپنی عقل کو چونکہ علم کا سرچشمہ سمجھ چکا تھا اس لیے پیغمبروں کے علوم کو بھی عقل کے ترازو میں تولنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسان جتلاتے ہوئے انسان کو یہ آگاہی دے رہا ہے کہ انسان کو جو کچھ بھی اطلاع اور آگاہی ہوئی ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ حواس بھی اسی نے دیئے اور جوہرِعقل سے بھی اسی نے نوازا۔ لیکن جب اخلاقی اقدار کو جاننے، عالم غیب کو پہچاننے، اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک کرنے اور اس کی رضا اور ناراضی کو سمجھنے کا مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ تو اس طرح سے انسان کو جس علم کی ضرورت تھی اور جس سے ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی مل سکتی تھی اس کی تکمیل فرما دی۔ اور یہ اس نے اس لیے کیا کہ وہ نہایت کریم اور بندوں پر نہایت مہربان ہے۔
آیتِ کریمہ میں ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان نے ایجادات و اکتشافات کی صورت میں جتنی بھی ترقی کی ہے اسے وہ اپنی ذات کا کرشمہ اور احسان سمجھتا ہے جبکہ اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ انسان نے اس حوالے سے بھی جتنا سفر کیا ہے اس کا ہر دروازہ اللہ تعالیٰ نے کھولا ہے۔ اور اپنی جس علمی دریافت کو انسان اپنا کارنامہ سمجھتا ہے اس کا سراغ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے۔ نیوٹن نے سیب کے باغ میں بارہا سیبوں کو گرتے ہوئے دیکھا، لیکن اس کے دماغ نے کبھی یہ سوال نہ اٹھایا کہ ٹہنی سے ٹوٹنے والا سیب زمین ہی کی طرف کیوں آتا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو اس کے ذہن میں یہ خیال آیا اور بجلی کی کو ندے کی طرح کشش ثقل کا چراغ اس کے دماغ میں جل اٹھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی علوم کے حوالے سے بھی انسان نے جتنا سرمایہ جمع کیا ہے اس کی کلید ہمیشہ قدرت نے اس کے ہاتھ میں دی ہے۔
یہ پانچ آیات وہ ہیں جو پہلی وحی کی صورت میں میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ایک طویل وقفہ رہا جسے فترت الوحی کہا جاتا ہے۔ اس کا دورانیہ کتنا تھا۔ اہل علم میں اختلاف کی وجہ سے حتمی رائے دینا مشکل ہے۔ آگے آنے والی آیات اس وقفہ کے اختتام پر نازل ہوئیں۔
Ayahs 96:6–7کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓے۔ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰے۔ (العلق : 6، 7)
(ہرگز نہیں، بیشک انسان سرکشی کرتا ہے۔ اس بناء پر کہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز دیکھتا ہے۔ )
احسانات کے جواب میں قریش کا رویہ اور اس کا سبب
ان آیات میں اشرافِ قریش کے اس رویئے کا بیان ہے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کے بدلے میں اختیار کیا جو آیات بالا میں مذکور ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والی وحی اہل عرب کے لیے خصوصاً اور پوری نوع انسانی کے لیے عموماً اللہ تعالیٰ کی نعمت غیرمترقبہ تھی۔ ان نعمتوں کا مورد چونکہ براہ راست قریش اور ان کا شہر بنا، اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ سب سے پہلے اس پر ایمان لانے والے اور سب سے زیادہ شکرگزار ہوتے۔ لیکن انھوں نے جس طرح آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کیا اور پھر جس طرح اس کا تمسخر اڑایا اور اس کو ہلکا کرنے کے لیے جیسی کچھ سخن سازیاں کیں اس کا جواب صرف ایک لفظ ” کَلاَّ “ سے دیا گیا ہے کہ تمہارا یہ رویہ اور تمہاری یہ سخن سازیاں ہرگز کوئی استحقاق نہیں رکھتیں۔ کوئی شریف آدمی اس کی توقع بھی نہیں کرسکتا کہ ان نعمتوں اور انعامات کا جواب اس طرح دیا جاسکتا ہے۔ لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ تم جو کچھ اس سلسلے میں کہہ رہے ہو، وہ حقیقت کا اظہار نہیں، بلکہ تمہارا اصل مرض اور ہے۔ وہ مرض یہ ہے کہ اشرافِ قریش کو عام اہل عرب سے زیادہ محض بیت اللہ کی وجہ سے جو تجارتی مراعات حاصل ہیں اور جس کے نتیجے میں انھیں دوسروں سے زیادہ مال و دولت میسر آگیا ہے اس نے انھیں برخودغلط بنادیا ہے۔ دولت کی فراوانی نے ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بےنیازی پیدا کردی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے انھیں ملنا تھا وہ مل چکا ہے، اب وہ کسی چیز کے لیے اس کے محتاج نہیں۔ اس لیے دنیا اور دولت دنیا ان کا ہدف بن کے رہ گئی ہے۔ یہی ان کی منزل ہے اور یہی ان کا محبوب ہے۔ وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ایک دن ہر چیز تباہ ہوجائے گی، ہمیں ازسرنو زندہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ اسی غلط فہمی نے انھیں دولت اور اپنی قوت کے پندار میں مبتلا کردیا ہے۔
Ayah 96:8اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی۔ (العلق : 8)
(بیشک آپ کے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ )
رُجْعٰی … بشریٰ کے وزن پر مصدر ہے۔ اس کا معنی رجوع کرنا اور لوٹنا ہے۔
قریش کی نادانی پر تنبیہ
کاش پندارِدولت کے ان مریضوں کو اس بات کا احساس ہوتا کہ لوٹنا تو انھیں بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔ موت سے کسے رستگاری ہے۔ سب اکڑی ہوئی گردنیں فرشتہ اجل کے سامنے ٹوٹ جائیں گی۔ شاہجہاں اور جہانگیر کہلانے والے بھی موت کے ہاتھ سے بےبس ہوں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری ہوگی تو وہاں ایمان و عمل کے سوا کوئی سہارا نہ ہوگا۔ تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ان کی سرکشی ان کے لیے کتنی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ اور آج جن قوتوں کے سہارے آخرت سے بےنیاز بنے ہوئے ہیں اور جن مزعومہ شرکاء کی شفاعت کے وہم میں مبتلا ہیں ان کی حقیقت بھی اس دن کھل جائے گی، اس دن پادشاہی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہوگی اور اس کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔
Ayahs 96:9–10اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یَنْھٰی۔ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۔ (العلق : 9، 10)
(ذرا دیکھو تو اس کو جو روکتا ہے۔ ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ )
قریش کے رویئے کی ایک مثال
اَرَئَ یْتَ … یہ گفتگو کا ایک اسلوب ہے۔ اس اسلوب میں بات اس وقت کی جاتی ہے جب کسی شخص کی نہایت نامناسب حرکت پر لوگوں کو توجہ دلانا یا اس پر نکیر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جیسے ہم اپنی زبان میں کسی شخص کی نہایت مکروہ حرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ذرا اس کو تو دیکھو، تم نے ذرا اس کا حال دیکھا۔ اسی طرح یہاں بھی اشرافِ قریش میں سے کسی کی نہایت نازیبا حرکت پر اظہارِنفرین کیا جارہا ہے اور دوسرے لوگوں کو اس پر توجہ دلائی جارہی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حرکت کے کرنے والے ایک سے زیادہ ہوں اور اس کا بھی امکان قوی ہے کہ یہ حرکت ابوجہل لعین نے کی ہو۔ کیونکہ حضرت ابوہریرہ ( رض) سے ایک روایت ہے کہ ابوجہل نے لات و عزیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ اگر اس نے پھر محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو (العیاذباللہ) وہ آپ کی گردن کو روند دے گا اور آپ کے منہ کو خاک آلود کردے گا۔ ایک دن اس نے حضور کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آگے بڑھا تاکہ اپنی قسم پوری کرے۔ جب وہ آپ کے قریب پہنچا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ تیزی سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنے ہاتھوں سے کسی چیز کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کیا ہوا، کیوں پیچھے ہٹے ہو ؟ کہنے لگا جب میں نزدیک ہوا تو مجھے ان کے اور اپنے درمیان ایک خندق دکھائی دی جو آگ سے بھری ہوئی ہے اور اس سے شعلے امڈ رہے ہیں۔ حضور نے ارشاد فرمایا اگر وہ میرے نزدیک آنے کی جرأت کرتا تو فرشتے اس کے چیتھڑے اڑا دیتے۔ اس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
قرآن کریم نے ابوجہل کی جس حرکت پر اظہارِنفرت کرتے ہوئے تعجب کا اظہار بھی کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے سے روک رہا تھا جبکہ نماز اللہ تعالیٰ کی بندگی کا سب سے پہلا اظہار ہے۔ اور کسی مذہب نے اس سے انکار نہیں کیا۔ عمل میں کو تاہیاں ہوئیں لیکن اس کی اہمیت سے کبھی صرف نظر نہیں کیا گیا۔ ادائیگی کے طریقے بھی مختلف رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونا ہر مذہب کا شعار سمجھا گیا۔ لیکن ابوجہل کے بگاڑ کا اندازہ کیجیے اور اس کے ہم جلیس دوسرے اشراف کا حال دیکھئے کہ انھیں سب سے زیادہ آنحضرت ﷺ کی نماز پر غصہ ہے۔ اور جب حضور زمین پر سر رکھتے ہیں تو انھیں آگ سی لگ جاتی ہے۔ چناچہ ان کی انسانیت سے گری ہوئی اس حرکت پر اس آیت کریمہ میں توجہ دلائی گئی ہے۔
عہد سے مراد
اس پر بھی غور کیجیے کہ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کے لیے عبد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ نماز پڑھنے والے عبد سے یہاں آپ ہی مراد ہیں۔ بات درحقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں غیر خدا کی عبدیت یعنی غلامی سب سے بڑی لعنت ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عبد ہونا، سب سے بڑا اعزاز ہے۔ مختلف انبیائے کرائے کو جو اعزازات بخشے گئے ہیں ان میں سے کوئی اعزاز اس سے بڑھ کر نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندے، تمام اولیاء اور تمام انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے عبد ہیں۔ لیکن اس عبدیت میں بےانتہا مراتب ہیں جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اس لیے جب وہ کسی کو سب سے بڑے اعزاز سے یاد کرتا ہے تو اسے عبدہ کہہ کر یاد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلمہ ٔ شہادت میں آپ کو رسول سے پہلے عبدہ قرار دیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اسی لفظ سے آپ کو نوازا گیا ہے۔ حسی معجزات میں سب سے بڑا معجزہ معراج ہے۔ اس میں بطورخاص آپ کو عبدہ فرمایا گیا ہے۔ تو یہ چونکہ آپ کے سب سے بڑے اعزاز کا حوالہ ہے اس لیے نکرہ ہونے کے باوجود آپ کے سوا اس سے کوئی اور مراد نہیں ہوسکتا۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
عبد دیگر عبدہ چیزے دگر
Ayahs 96:11–12اَرَئَ یْتَ اِنْ کَانَ عَلَی الْھُدٰٓی۔ اَوْاَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ (العلق : 11، 12)
(بھلا دیکھو تو اگر وہ (عبد) ہدایت پر ہوا۔ یا نیکی کا حکم دینے والا ہوا۔ )
امکانات پر غور کی ترغیب
اوپر کی آیت میں جس شخص کی احمقانہ حرکت پر اظہارِنفرت کیا گیا اور لوگوں کو اس کی شناعت پر توجہ بھی دلائی گئی، اسی کے حوالے سے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جس شخص نے یہ حرکت کی اور جن لوگوں نے اس پر اظہارِتحسین یا رضامندی کا اظہار کیا، انھیں ایک لمحہ کے لیے اس پر سوچ لینا چاہیے تھا کہ آخر امکان تو اس بات کا بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ ہدایت پر ہو۔ یا وہ تبلیغ و دعوت کے ذریعے لوگوں کو تقویٰ کی راہ دکھا رہا ہو۔ تو پھر اس شخص نے اسے نماز سے روک کر جو کچھ کیا ہے اس کے پاس اس کا جواز کیا ہے۔ یعنی اس کے اپنے برحق ہونے کی اس کے پاس دلیل کیا ہے۔
Ayah 96:13اَرَئَ یْتَ اِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ (العلق : 13)
(تمھارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو۔ )
کوئی ہوش و خرد رکھنے والا تعصب سے دور اور غیرجانبدار شخص اس صورتحال پر غور کرے اور پھر بتائے کہ جو شخص ایسی عظیم شخصیت کو جو تقویٰ کا حکم دیتی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے کو روکتا اور سجدے سے منع کرتا ہے اگر خود اس کا اپنا یہ حال ہو کہ وہ حق کی تکذیب کرتا اور حق سے منہ موڑنے والا ہو تو ایسے شخص کا انجام کیا ہونا چاہیے۔ یقینا ایسا شخص اس قابل ہے کہ اسے جہنم کا ایندھن بنایا جائے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے عظیم بندے کو نماز سے روکا اور خود تکذیب کا راستہ اختیار کرکے اپنے ہی ہاتھوں جہنم کا دروازہ کھولا ہے۔ یہاں الفاظ میں جوابِ شرط محذوف ہے۔ لیکن جو شخص بھی معنی پر غور کرے گا تو اسے اندازہ ہوجائے گا کہ یہاں جوابِ شرط کا محذوف ہونا درحقیقت اس شخص کے انجام کی سنگینی کو نمایاں کررہا ہے۔ اور قرآن کریم نے بعض جگہ اس جواب کو کھول کر اس پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے۔ سورة اللیل میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ لاَ یَصْلٰھَا اِلاَّالاَشْقٰی۔ الَّذِیْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی ” جہنم میں وہی بدبخت پڑے گا جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ “ اس آیت کریمہ میں جھٹلانے اور منہ موڑنے والے کا انجام واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے۔
Ayah 96:14اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی۔ (العلق : 14)
(کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ )
بدتمیزی کرنے والے کے عقیدہ کے حوالے سے اسے خود فیصلہ کرنے کی دعوت
ایسے شخص کی بدنصیبی کی کیا انتہاء ہے کہ وہ خوب جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر شخص کی حرکات و سکنات کو دیکھتا اور جانتا ہے۔ لیکن اس کی بدنصیبی نے اس کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا ہے اور دماغ کو ایسا مائوف کردیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم بندے کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے اور حق کے معاملے میں جیسا کچھ اس کا رویہ ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں نہیں جانتا کہ وہ جانتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیر آگاہی اشرافِ قریش کے عقیدے میں پہلے سے شامل تھی۔ اس لیے اسے بیخبر ی کا فائدہ نہیں دیا جاسکتا۔ یقینا اس کی بدنصیبی ہے جس نے اسے یہاں تک پہنچا دیا ہے۔
Ayahs 96:15–18کَلاَّ لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ 5 لا لَنَسْفَعًا م بِالنَّاصِیَۃِ ۔ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ۔ فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ۔ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ ۔ (العلق : 15 تا 18)
(ہرگز نہیں ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کو گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بالوں سے۔ جھوٹی گنہگار پیشانی۔ پس وہ بلالے اپنے ہمنشینوں کو۔ ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلائیں گے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
لَنَسْفَعًا، اصل میں لَنَسْفَعَنْ ہے۔ یہ فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ اس کے آخر میں ” ن “ تاکید خفیفہ ہے۔ لیکن قرآن کریم کے رسم الخط کا اتباع کرتے ہوئے اسے لَنَسْفَعًاکی صورت میں لکھا گیا ہے۔ یہ سفع سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو مٹھی میں پکڑ کر کھینچنا اور گھسیٹنا۔
نَاصِیَۃِ … پیشانی اور پیشانی پر بکھرے ہوئے بالوں کو کہتے ہیں۔ چہرہ اور پیشانی آدمی کی ذات کے سب سے اشرف حصے ہیں۔ اس وجہ سے ان سے بعض اوقات پوری شخصیت مراد لی جاتی ہے۔
نَادِیَہٗ … ہمنشین، اہل مجلس اور پارٹی پر اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔
زَبَانِیَۃَ … بعض اہل لغت کے نزدیک یہ اسم جمع ہے۔ جیسے ابابیل اور عبادید۔ لیکن اکثر اہل لغت اسے جمع قرار دیتے ہیں لیکن پھر اس کے واحد کے بارے میں کئی اقوال ہیں۔ ابوعبیدہ کے نزدیک اس کا واحد زِبْنِیَۃٌ ہے۔ اس کے اصل معنی تو دفاع کرنے والے کے ہیں۔ اس لیے اس پولیس پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جو افسروں کی اعانت پر مقرر ہوتی ہے۔ یہاں یہ ملائکہ عذاب کے معنی میں ہے۔
ان آیات کا شان نزول
ان آیات کے شان نزول کے حوالے سے حضرت ابن عباس ( رض) سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ ایک روز مقام ابراہیم پر نماز ادا کررہے تھے کہ ابوجہل کا وہاں سے گزر ہوا اور گستاخانہ لہجے میں کہنے لگا، کیا میں نے تمہیں نماز پڑھنے سے روکا نہیں، تم پھر وہی کام کررہے ہو۔ آپ ﷺ نے اسے سختی سے جھڑک دیا۔ اس پر ابوجہل بولا اے محمد ﷺ تم مجھ سے دھمکی آمیز لہجے میں بات کیسے کرسکتے ہو، کیونکہ اعوان و انصار کی جتنی جمعیت میرے پاس ہے بطحا کی ساری وادی میں کسی رئیس کے پاس نہیں۔ ایک آواز دوں تو ساری وادی میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہ رہے۔ اس وقت حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) یہ آیات لے کر نازل ہوئے۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور سرکشوں کو دھمکی
ان آیات میں سب سے پہلے کَلاَّ کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ اس ناہنجار کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کریں۔ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے یہ اس پر عمل نہیں کرسکے گا اور آپ ﷺ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اور ساتھ ہی اسے تنبہہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ نابکار اپنی گستاخیوں سے باز نہ آیا تو ہم اسے پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹیں گے۔ وہ اپنے تئیں کیسی ہی غلط فہمی میں مبتلا کیوں نہ ہو اور لوگ اسے چاہے کچھ بھی سمجھتے ہوں لیکن اس کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ اس کی پیشانی ایک خطاکار پیشانی ہے اور جھوٹی پیشانی ہے۔ یعنی وہ ایک خطاکار اور جھوٹا آدمی ہے۔ ایسے شخص کی پیشانی اس قابل ہے کہ اسے مٹی میں رگڑا جائے اور اسے ذلت کی تصویر بنادیا جائے۔ وہ آپ کو اپنے حمایتیوں اور مددگاروں سے ڈراتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہمنشینوں، ہم مجلسوں، ہم خیالوں اور اعوان و انصار کو بلا لے۔ ہم بھی دوزخ کے سزا دینے والے فرشتوں کو بلاتے ہیں۔ تب معلوم ہوجائے گا کہ جس قوت پر اسے ناز ہے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اس کی حقیقت کیا ہے۔ چناچہ ابوجہل اور دیگر اشرافِ قریش اپنی بہت بڑی جمعیت لے کر نہایت تکبر کے ساتھ قوت کا اظہار کرتے ہوئے میدانِ بدر میں پہنچے۔ اور پیش نظر یہ تھا کہ آج ہم مسلمانوں کو بتادیں گے کہ ہماری قوت کا عالم کیا ہے۔ اور پورا عرب بھی جو پہلے ہی ہماری عظمت کو تسلیم کرتا ہے ہماری قوت سے مزید مرعوب ہوجائے گا۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کے بلائے ہوئے عذاب کے فرشتوں اور سرہنگوں سے واسطہ پڑا تو قریش کی پوری جمعیت ان کے سامنے غبار بن کر اڑ گئی۔
Ayah 96:19کَلاَّ ط لاَ تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ۔ (العلق : 19)
(ہرگز نہیں ! آپ اس کی بات نہ مانیں اور سجدہ کریں اور اپنے رب کا قرب حاصل کریں۔ )
آنحضرت ﷺ کو ہدایت
یہ جھوٹا اور خطاکار شخص جو آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے اور سجدہ سے منع کرتا ہے، آپ ﷺ ہرگز اس کی بات کی پرواہ نہ کریں اور اس کی حرکت کو خاطر میں نہ لائیں۔ آپ کو جب بھی موقع ملے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی جناب میں ہمیشہ سجدہ کرتے رہیں اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیں۔ حضرت ثوبان ( رض) فرماتے ہیں کہ مجھے سرورعالم ﷺ نے نصیحت فرمائی علیک بکثرۃ السجود فانہ لاتسجد للہ تعالیٰ سجدۃ الارفعک اللہ بھا درجۃ وحط عنک بھاخطیئۃ ” اے ثوبان ! کثرت سے سجدہ کیا کرو، کیونکہ جب تو اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ ہر سجدے کے ساتھ تیرا ایک درجہ بلند کردے گا اور تیری ایک خطا معاف کردے گا۔ “ اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ بندہ اپنے رب کے نزدیک سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ کررہا ہوتا ہے۔ اور یہ روایت بھی صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ( رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو سجدہ تلاوت ادا فرماتے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ سجدہ سے نماز مراد لی جائے۔ کیونکہ نماز ہی کو صبروعزیمت اور فتح باب نصرت کی کلید بتایا گیا ہے۔ اور سجدہ نماز کا سب سے اعلیٰ رکن ہے۔ اور یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ کسی کی مجال نہیں کہ آپ ﷺ کو اس چیز سے روک دے جو آپ کی زندگی کی غائت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کا واحد وسیلہ ہے۔