97. Surah Al-Qadr

القدرThe Power, Fate · 5 ayahsروح القرآن

Ayah 97:1

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader

ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے

اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ۔ (القدر : 1) (ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے۔ ) ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے جو کسی کی ذاتی امنگ کا نتیجہ نہیں اَنْزَلْنٰـہُ میں ضمیرمفعول کا مرجع ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ ضمیر کا ذکر مرجع کے ذکر کے بغیر کلام کا عیب ہے۔ اور قرآن کریم چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، یہ ہر عیب سے پاک ہے۔ اس اشتباہ کا جواب یہ ہے کہ مرجع کا ذکر کیے بغیر ضمیر کو لانا اس وقت عیب ہوتا ہے جب مرجع پر کوئی قرینہ دلالت نہ کررہا ہو، جبکہ یہاں ایسا نہیں۔ یہاں دو قرینے موجود ہیں۔ ایک اس سورة کا پہلا لفظ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـہُ ہم نے نازل کیا ہے۔ نزول کا لفظ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہاں ضمیر مفعول کا مرجع قرآن کریم ہے۔ کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جو تیئس سال تک اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر پر نازل فرماتا رہا ہے۔ اور دوسرا قرینہ یہ ہے کہ سورة العلق جو قرآن کریم کی ترتیب میں سورة القدر سے پہلے ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ نزول میں بھی یہی ترتیب ہوگی۔ اس سورة کی پہلی پانچ آیات جو قرآن کریم کا ایک جز ہیں اور جن کے نزول سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا ہے۔ اسی قرآن کریم کو ضمیر کا مرجع بنا کر اس کے نزول کی بات کی جارہی ہے۔ یہ قرینہ بجائے خود ضمیر مفعول کے مرجع کو متعین کردیتا ہے۔ اس سورة کا پہلا لفظ اِنَّآ دو باتوں کی طرف رہنمائی کررہا ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کتاب کو ہم نے نازل کیا ہے یہ کسی کی ذاتی امنگ یا اپچ کا نتیجہ نہیں۔ اس میں کسی شیطانی تحریک یا وسوسہ کا کوئی دخل نہیں۔ اسے چونکہ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا اور اس کا کلام ہے اس لیے اس کی ہر بات حتمی، یقینی اور نارسائی کے عیب سے پاک ہے۔ اور دوسری اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے چونکہ اسے نازل کیا ہے تو اس کے اقرار اور انکار سے پہلے اس کا مراقبہ ضرور کرو کہ ہم کون ہیں ؟ ہماری بات کے انکار کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے ؟ اور ہماری بات کا اقرار کن فوائد و فیوض کا حامل ہے ؟ اب سوال یہ ہے کہ جس رات میں اس قرآن کو نازل کیا گیا جسے لیلۃ القدر فرمایا گیا ہے۔ وہ لیلۃ القدر کیا ہے یعنی اس کی حیثیت کیا ہے اور اس کی عظمت کا کیا عالم ہے، اس کے لیے تو سورة الدخان کی پہلی آیت کا حوالہ کافی ہوگا۔ جس آیت کو یہاں لیلۃ القدر فرمایا گیا ہے وہاں اسے لیلۃ مبارکہ کہا گیا ہے۔ اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ مُّبَارَکَۃٍ اِنَّآ کُنَّا مُنْذِرِیْنَ ۔ فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍحَکِیْمٍ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا اِنَّـآ کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۔ ” ہم نے اس قرآن کو نہایت مبارک رات میں اتارا، بیشک ہم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کرنے والے ہیں، اسی رات میں تمام حکیمانہ امور کی تقسیم کی جاتی ہے، خاص ہمارے حکم سے، بیشک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ “ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ سے متعلق چند باتیں اس آیت کریمہ سے ہمیں لَیْلَۃِ الْقَدْرِ کے بارے میں چند باتیں معلوم ہوتی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ رات کس حیثیت کی حامل ہے۔ پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ قدرومنزلت والی رات سرتاپا برکت ہے۔ اس رات کو پانے والے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مورد بن جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ رات ایسی عظیم القدر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات کو اس کام کے لیے مخصوص فرمایا ہے کہ وہ تمام امور جو اس عالم میں نازل ہونے والے ہوتے ہیں اور جو انسانوں کے لیے بےحد اہمیت کے حامل ہوتے ہیں انھیں اس رات میں ملائکہ کے سپرد کردیا جاتا ہے تاکہ وہ انھیں نافذ کریں۔ اور تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت، قرآن کا نزول اور قریش کو انذار ان اہم امور میں سے ہے جن کی تنفیذ کا کام اس مبارک رات میں فرشتوں کے حوالے ہوا ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اہم سکیموں اور عظیم منصوبوں میں سے ہے۔ اس لحاظ سے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ یہ کامیابی کے آخری مراحل تک پہنچے۔ رہی دوسری بات کہ یہ رات کون سی ہے جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا ہے۔ تو اس حوالے سے ہم سورة البقرۃ میں دیکھتے ہیں کہ یہ فرمایا گیا ہے شَھْرُرَمْضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کو نازل کیا گیا۔ “ اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ جس رات میں پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ کا فرشتہ غارحرا میں نبی کریم ﷺ کے پاس وحی لے کر آیا وہ ماہ رمضان کی ایک رات تھی اور اسی کو شب قدر اور اسی کو لیلۃ مبارکہ کہا گیا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہی وہ رات ہے جس میں پورا قرآن کریم حامل وحی فرشتوں کے حوالے کیا گیا اور پھر وہیں سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حالات و واقعات کے مطابق وقتاً فوقتاً تیئس سال کے دوران میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) لے کر آتے رہے۔ اس لحاظ سے قرآن کریم کے دو نزول ہیں۔ ایک لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر جو رمضان کی ایک ہی رات میں ہوا ہے۔ اور اسی رات میں اسے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) اور حاملینِ وحی کے حوالے کیا گیا ہے۔ اور دوسرا نزول وہ ہے جس کا آغاز غارحرا میں ہوا اور تکمیل تیئس سال میں ہوئی۔ لیکن جب اس کا آغاز ہوا تو وہ رمضان کا مہینہ اور رات کا وقت تھا۔ اور اسی رات کو لَیْلَۃِ الْقَدْرِ کہا گیا ہے۔ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ کون سی رات ہے اب اس سوال کا ایک جز باقی رہتا ہے کہ یہ تو معلوم ہوگیا کہ وہ رات رمضان کی رات تھی، لیکن یہ سوال باقی ہے کہ وہ رات کون سی تھی ؟ اس کا جواب دینا آسان نہیں، اس لیے کہ اس میں اہل علم نے بہت اختلاف کیا ہے۔ لیکن علمائِ امت کی عظیم اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ یہ رات رمضان کی آخری دس تاریخوں میں سے کوئی ایک طاق رات تھی۔ اور ان میں بھی زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ اس معاملہ میں جو معتبر روایات منقول ہوئی ہیں ہم انھیں تفہیم القرآن سے یہاں نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا وہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے۔ (ابودائود طیالسی) دوسری روایت حضرت ابوہریرہ ( رض) سے یہ ہے کہ وہ رمضان کی آخری رات ہے۔ (مسنداحمد) حضرت ابی بن کعب سے زِرّبن حبیش نے شب قدر کے متعلق پوچھا تو انھوں نے حلفاً کہا اور استثناء نہ کیا کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ (احمد، مسلم، ابودائود، ترذمی، نسائی، ابن حبان) حضرت ابوذر سے اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ حضرت عمر، حضرت حذیفہ اور اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے بہت سے لوگوں کو اس میں کوئی شک نہ تھا کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ (ابن ابی شیبہ) حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات ہے۔ اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا انتیسویں یا آخری۔ (مسنداحمد) حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو جب کہ مہینہ ختم ہونے میں نو دن باقی ہوں یا سات دن باقی ہوں یا پانچ دن باقی ہوں (بخاری) اکثر اہل علم نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ حضور ﷺ کی مراد طاق راتوں سے تھی۔ حضرت ابوبکرہ کی روایت ہے کہ نو دن باقی ہوں یا سات دن یا پانچ دن یا تین دن یا آخری رات۔ مراد یہ تھی کہ ان تاریخوں میں لَیْلَۃِ الْقَدْرِ کو تلاش کرو۔ (ترمذی، نسائی) حضرت عائشہ ( رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات میں تلاش کرو۔ (بخاری، مسلم، احمد، ترمذی) حضرت عائشہ ( رض) اور حضرت عبداللہ بن عمر کی یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تازیست رمضان کی آخری دس راتوں میں اعتکاف فرمایا ہے۔ اس معاملہ میں جو روایات حضرت معاویہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس وغیرہ بزرگوں سے مروی ہیں ان کی بنا پر علمائے سلف کی بڑی تعداد ستائیسویں رمضان ہی کو شب قدر سمجھتی ہے۔ غالباً کسی رات کا تعین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ شب قدر کی فضیلت سے فیض اٹھانے کے شوق میں لوگ زیادہ سے زیادہ راتیں عبادت میں گزاریں اور کسی ایک رات پر اکتفا نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہمیشہ کمزوروں پر نظر کرم فرماتے ہیں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی نے اس رات میں عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کی تو اس نے اس رات کی فضیلت کو پا لیا۔ یعنی یوں تو یہ راتیں اپنے مالک و خالق کی محبت میں پگھلنے کی راتیں ہیں ‘ لیکن جو شخص یہ نہیں کرسکتا ‘ اسے کم از کم نماز با جماعت کی پابندی تو کرنا چاہیے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اگر میں اس رات کو پا لوں تو کیا دعا کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ دعا کرنا اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ (اے اللہ تو سراپا معافی ہے ‘ معافی کو پسند کرتا ہے مجھے بھی معاف فرما) غور فرمایئے۔ ایک شخص اپنی بندگی کا سارا اثاثہ اپنے خالق ومالک کے آستانہ پر نچھاور کردیتا ہے۔ رات دن اسی کے عشق میں جلتا اور اسی کی تلاش اور حصول تقرب میں راتوں کو جاگتا ہے تاآنکہ اس کا نصیب یاوری کرتا ہے اور وہ اس رات کو پالیتا ہے۔ اب یہ موقع ہے کہ وہ عشق و مستی کے اس لمحے سے سرشار ہو کر جھوم اٹھے اور اپنے مقدر پر ناز کرے مگر اس موقعہ پر بھی اسے صرف معافی مانگنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یعنی اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ تمہیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ تم ہزار جتن کرو تمہارا عمل کبھی نسیان و خطا سے پاک نہیں ہوسکتا اور تم کبھی اس بارگاہِ عالی کے لائق عمل پیش نہیں کرسکتے۔ اسی لیے اس راستے کے شن اور جتنا آگے بڑھتے ہیں اتنا ہی عاجزی و فروتنی کے پیکر بن جاتے ہیں۔ کیونکہ اس راہ کا اصل سرمایہ یہی ہے۔ اس رات سے متعلق بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اختلاف مطالع کی وجہ سے ہر جگہ رات کا ایک وقت میں ہونا تو ممکن نہیں جب مکہ معظمہ میں رات ہوگی اس وقت دنیا کے بہت سے ممالک میں دن ہوگا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس رات کے فضائل اور اس کی برکتوں سے تمام ممالک کے لوگ یکساں فیض یاب ہو سکیں۔ جہاں رات ہوگی وہاں کے لوگ اس رات کی فضیلت کو پاسکتے ہیں اور جہاں دن ہوگا وہ اس سے محروم رہ جائیں گے۔ اگر غور کیا جائے تو اس کی مختلف توجیہات ممکن ہیں۔ مثلاً رات کی حقیقت کیا ہے ؟ زمین کے کسی حصے کا سورج کے سامنے سے ہٹ جانا۔ کیونکہ جب سورج کی کرنیں زمین کے اس قطعہ تک نہیں پہنچیں گی تو وہاں اندھیرا یعنی رات ہوگی اور دن کی حقیقت کیا ہے ؟ کسی قطعہ زمین کا سورج کے سامنے آ کر سورج کی کرنوں سے منور ہوجانا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ زمین اپنے گرد حرکت کرتی اور گھومتی ہے۔ اس لحاظ سے زمین کا جو حصہ سورج کے سامنے آجاتا ہے وہاں دن طلوع ہوجاتا ہے اور باقی حصوں میں رات ہوتی ہے اور پھر یہ مسلسل گھومنے کی وجہ سے رات پیچھے ہٹتی جاتی ہے اور دن پھیلتا جاتا ہے اور زمین کے یہ روشن حصے جب زمین کی حرکت کی وجہ سے سورج کے سامنے سے ہٹتے جاتے ہیں تو وہاں رات طاری ہوجاتی ہے۔ اس طرح رات اور دن کا یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے ‘ جسے قرآن کریم یُکَوِّرُ اللَّیْلُ عَلَی النَّہَارِ وَ یُکَوِّرُ النَّہَارُ عَلَی اللَّیْلِ سے تعبیر کرتا ہے (یعنی رات دن پر لپٹی آتی ہے اور دن رات پر لپٹا آتا ہے) ۔ اس حقیقت پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مختلف قطعات زمین پر رات کے طاری ہونے میں کہیں انقطاع نہیں ہے۔ کیونکہ زمین کی حرکت ہر دم جاری ہے جیسے جیسے زمین سورج کے سامنے سے ہٹتی جاتی ہے رات میں ڈوبتی جاتی ہے۔ یہ سفر چونکہ مسلسل جاری رہتا ہے اس لیے رات بھی بلا انقطاع مسلسل جاری رہے گی۔ فرض کریں جب لیلۃ القدر مکہ معظمہ میں وارد ہوئی تو یہی لیلۃ القدر زمین کی گردش کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتی جائے گی اور زمین اور اہل زمین کو اپنی برکات بانٹتی جائے گی۔ گویا یہ رات ایک ہی ہے البتہ مختلف ممالک کے لوگ اپنی اپنی باری پر اس سے فیضیاب ہوتے جائیں گے۔ گویا یہ خیر و برکت کی ایک ریل ہے یہ ایک ہی ہے البتہ ہر اسٹیشن پر منتظر لوگ اس کے وہاں پہنچنے پر اس میں سوار ہوجائیں گے۔ ابھی آپ ﷺ نے پڑھا کہ رات دن ایک دوسرے پر لپٹے ہوئے آتے ہیں ایک دوسرے سے بالکلیہ منقطع نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ توجیہہ بھی اہل علم نے کی ہے کہ عربی زبان میں اکثر رات کا لفظ دن اور رات کے مجموعے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے رمضان کی ان تاریخوں میں جو تاریخ بھی دنیا کے کسی حصے میں ہو اس کے دن سے پہلے والی رات وہاں کے لیے شب قدر ہوسکتی ہے۔ اور تیسری بات جو سب سے زیادہ مستحکم ہے وہ یہ ہے کہ ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شب قدر قرار پائے گی اس جگہ اسی رات میں شب قدر کی برکات حاصل ہوں گی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayah 97:2

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے

وَمَآ اَدْرٰ کَ مَالَیْلَۃُ الْقَدْرِ ۔ (القدر : 2) (اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ ) لَیْلَۃِ الْقَدْرِ کی عظمت لَیْلَۃِ الْقَدْرِکی جلالتِ شان کو نمایاں کرنے کے لیے استفہامیہ اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص اسلوب ہے کہ وہ ہیبت یا ہولناکی کے اعتبار سے کسی چیز کی شدت کو بیان کرنا چاہتا ہے تو یہ اسلوب اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح کسی چیز کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتا ہے تو یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ مقصود یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز اتنی عظیم ہے کہ اس کی عظمت کا حقیقی اندازہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ تمہیں اس کا اندازہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ اس کا علم عطا فرمائے گا۔ اور یا اس کے مظاہر کو قیامت کے دن دیکھو گے۔ یہاں بھی یہی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ ایسی باعظمت اور بابرکت رات ہے جس کی عظمتوں اور برکتوں کا کماحقہ اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اور اس کی یہ عظمت و برکت اس وجہ سے ہے کہ جس طرح سورة الدخان میں بیان کیا گیا کہ اس میں اس کائنات سے متعلق بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں۔ جس طرح دنیا کی حکومتیں ان دنوں کو یادگار بنا دیتی ہیں جن دنوں میں کوئی بڑی اہمیت کا فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے یا کوئی بڑا اہم واقعہ پیش آیا ہوتا ہے۔ مثلاً ملک کی آزادی کا دن، کسی جنگ میں کامیابی کا دن۔ یہ رات کائنات کے اہم فیصلوں کے حوالے سے بھی عظیم رات ہے۔ اور اس کی عظمت کا یہ سبب بھی ہے کہ اس میں قرآن کریم آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا۔ اور جن و انس کی فلاح و کامرانی کے لیے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا گیا۔
Ayah 97:3

لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader

شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے

لَیْلَۃُ الْقَدْرِ 5 لا خَیْرٌمِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ۔ (القدر : 3) (شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ) ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا مفہوم جس رات کی عظمت کو پروردگار نے استفہامیہ انداز میں اٹھایا، اس کا جواب چونکہ کسی کے بس میں نہ تھا اس لیے خود ہی اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ وہ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے۔ کتنی افضل ہے دوگنا، چار گنا یا ہزار گنا۔ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تحدید نہیں فرمائی۔ ویسے بھی ہزار کا لفظ عربوں میں ایسے مواقع پر ایک متعین عدد کے لیے نہیں بولا جاتا بلکہ غیرمعمولی کثرت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یعنی وہ رات اپنی فضیلت و شرف میں غیرمعمولی اور بےحد و حساب حیثیت کی حامل ہے۔ اس رات میں کیا ہوا عمل اجروثواب کے اعتبار سے ہمارے اعداد کے پیمانوں میں تو آنے والا نہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح اس مادی دنیا میں فصلوں، موسموں اور اوقات کا اعتبار ہے۔ ہر فصل کے برگ وبار لانے اور اس کی کاشت کا ایک متعین وقت ہوتا ہے۔ وہ اسی میں پوری طرح افزائش و نمو پاتی ہے۔ اور جس طرح ہر موسم اپنے خصوصی تغیرات اور اثرات رکھتا ہے اور جس طرح مختلف اوقات اپنی تأثیروتأثر میں امتیاز کے حامل ہیں، اسی طرح روحانی دنیا میں بھی اوقات اور موسموں کا اعتبار ہے، جس میں اعمال کی افزونی، قبولیت اور اثرونفوذ اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں، یہ رات بھی ایک ایسی ہی رات ہے جس میں کیا جانے والا نیک عمل اپنے اجروثواب، تغیراحوال اور اثر ڈالنے میں بینظیر ہے۔
Ayah 97:4

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader

اس میں فرشتے اور روح القدس اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے، ہر امر کے لیے

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ ج مِنْ کُلِّ اَمْرٍ ۔ (القدر : 4) (اس میں فرشتے اور روح القدس اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے، ہر امر کے لیے۔ ) اس رات کا اصل کام اس سے پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اس رات کے لیلۃ القدر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ رات تقدیرِامور یا تقسیمِ امور کی رات ہے۔ یعنی اس سال میں جتنے اہم کام کائنات کے حوالے سے ہونے والے ہوتے ہیں یا جن و انس کی بھلائی کے لیے جو فیصلے کیے جاتے ہیں ان کی تنفیذ اور بروئے کار لانے کے لیے انھیں فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اس میں ملائکہ اور حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ان تمام معاملات میں جو زمین میں نافذ ہونے والے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی منظوری لے کر اترتے ہیں۔ اسی بات کو کسی قدر تفصیل کے ساتھ سورة الدخان میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس رات میں فرشتے اترتے ہیں اور ان کا ذکر قرینہ ہے اس بات کا کہ یہاں روح سے مراد حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہیں کیونکہ وہ ملائکہ کے سردار اور مطاع ہیں۔ انھیں کی زیرسر کردگی فرشتوں کا ایک جمِ غفیر اترتا ہے۔ اسی سلسلے میں حضرت انس ( رض) سے ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اِذَاکَانَ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ یَنْزِلُ جِبْرَئِیْلُ فِیْ کَبْکَبَۃٍ مِّنَ الْمَلاَ ئِکَۃٍ یُصَلُّوْنَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ اَوْقَاعِدٍ یَذْکُرُاللّٰہَ عَزَوَجَلَ ” لیلۃ القدر کو جبرائیل فرشتوں کے جمِ غفیر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور ملائکہ کا یہ گروہ ہر اس بندے کے لیے دعائے مغفرت اور التجائے رحمت کرتا ہے جو کھڑے ہوئے یا بیٹھے ہوئے اللہ بزرگ و برتر کے ذکر میں مشغول ہوتا ہے۔ “ کتنا خوش نصیب اور بلند اقبال ہے وہ بندہ کہ جو اس رات کو اپنے پروردگار کی یاد میں بسر کرتا ہے۔ جبرائیل اور فرشتے اس کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں اور اس کی مغفرت و بخشش کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ فرشتوں کا یہ نزول ازخود نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اترتے ہیں یا اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور اس کے اطراف میں گھومو، جہاں کہیں میرا کوئی بندہ میرے ذکر کی شمع روشن کرکے بیٹھا ہے اس کے پاس پہنچو اور اسے ہماری طرف سے رحمت کی بشارت دو ۔ اور اس سے مصافحہ کرو اور اس کے لیے مغفرت کی دعائیں مانگو۔
Ayah 97:5

سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader

یہ (رات) سراسر سلامتی ہے، یہ طلوع فجر تک ہے

سَلٰـمٌ قف ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ (القدر : 5) (یہ (رات) سراسر سلامتی ہے، یہ طلوع فجر تک ہے۔ ) یہ رات سر تاپا سلامتی ہے، طلوعِ فجر تک رہتی ہے سَلٰـمٌ، یہ مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ اصل میں یہ ھِیَ سَلاَ مٌ ہے۔ خبر پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے لیے مبتداء کو حذف کردیا گیا ہے۔ اس آخری آیت میں لیلۃ القدر کے محفوظ و مامون ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ یہ امن و سلامتی کی رات ہے۔ اس مبارک رات میں شیاطین پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو پریشان نہیں کرسکتے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے عبادت و ریاضت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستے کھول دیئے جاتے ہیں۔ آدمی خود شیطان بن جائے یا اپنے نفس کو کھلی چھٹی دے دے تو اس کی شرانگیزی سے اللہ تعالیٰ حفاظت کا انتظام نہیں فرماتا۔ لیکن وہ شروروفسادات جو شیطان کی وسوسہ اندازیوں اور ان کی کارگزاریوں سے وجود میں آتے ہیں ان پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ وہ اس اہم رات کے اسرار معلوم کرنے کے لیے کوئی نقل و حرکت نہیں کرسکتے۔ اور نہ اس مبارک شب کی برکتوں میں خلل انداز ہونے کی جرأت کرسکتے ہیں۔