Ayah 98:1لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ الْبَیِّنَۃُ ۔ (البینۃ : 1)
(نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، یعنی اہل کتاب اور مشرکین، جب تک کہ ان کے پاس ایک روشن دلیل نہ آجائے۔ )
اہلِ کتاب اور مشرکین کا جمود اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کی دلیل
نبی کریم ﷺ کی بعثت طیبہ سے پہلے انسان کا ہمہ جہتی بگاڑ اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگوں کی کرتوتوں کے باعث ہر سطح کا فساد بروبحر میں پھیل گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی شدت کا یہ عالم تھا کہ اصلاح کی کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔ پوری دنیائے انسانیت کے لوگ بالعموم اور جزیرہ عرب کے لوگ بالخصوص دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک گروہ وہ تھا جنھیں اہل کتاب کہا جاتا تھا۔ اس سے مراد وہ تمام افراد تھے جو کسی نہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور انھیں اپنے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب رکھنے کا دعویٰ تھا۔ حالانکہ ان میں سے کسی کے پاس بھی اللہ تعالیٰ کی محفوظ کتاب نہ تھی۔ کوئی تحریف کی نذر ہوچکی تھی اور کسی کی حقیقت جا و بیجا ترمیموں کے ذریعے بگاڑ دی گئی تھی۔ انھیں اگرچہ توحید کے پرستار ہونے کا دعویٰ تھا اور وہ اصل دین توحید ہی کو مانتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود شرک کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جو ان میں نہ پائی جاتی تھی۔ باایں ہمہ انھیں مشرک کہلانے سے انکار تھا۔ لیکن دوسرا گروہ وہ تھا جو توحید کو اصل دین ماننے کو تیار نہ تھا۔ وہ اصل دین شرک ہی کو قرار دیتے تھے۔ اس لیے پہلے گروہ کو اہل کتاب کے نام سے یاد کیا گیا اور دوسرا گروہ بطور اصطلاح مشرک کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ان دونوں گروہوں میں یہ فرق صرف اصطلاح ہی میں نہیں بلکہ شریعت کے احکام میں بھی ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال کیا گیا ہے، اگر وہ صحیح طریقے سے جانور کو ذبح کریں۔ اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس مشرکین کا ذبیحہ حرام ہے اور ان کی عورتوں سے نکاح کی بھی اجازت نہیں۔ دونوں میں اس اصطلاحی فرق کے باوجود دونوں کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اسلام دونوں کو کافر قرار دیتا ہے اور ان پر کفر کے احکام جاری کرتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت طیبہ سے پہلے کفر کی یہ تاریکی اس قدر مہیب ہوچکی تھی اور کفر کا رویہ اس قدر راسخ ہوچکا تھا کہ کہیں سے بھی اس کے اندر روشنی کی کوئی کرن پھوٹنے کی امید نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اصلاح کی ہمیشہ دو ہی صورتیں رہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ انسانی قلوب میں قبولیتِ حق کی استعداد باقی رہے۔ خیر و شر کا امتیاز بالکل ختم ہو کر نہ رہ جائے، اچھائی اور برائی اپنی پہچان نہ کھو دے۔ تو امید کی جاسکتی ہے کہ کوئی اچھی نصیحت، کوئی دل ہلا دینے والا واقعہ، کوئی ارضی و سماوی آفت اور کوئی بڑی آزمائش اصلاح کا سبب بن سکتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے گردوپیش میں ایسی نشانیاں رکھی ہیں جو انسان کو بار بار اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اور انسان اگر قبولیتِ حق سے بالکل محروم نہ ہوگیا ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ لیکن اگر اس کے دل کا فانوس بجھ چکا ہے اور قبولیتِ حق کی صلاحیت سلب ہوگئی ہے تو پھر بڑے سے بڑا محرک بھی بیکار ثابت ہوتا ہے۔ ٹھیک کہا شاعر نے :
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
اصلاح کی دوسری صورت یہ ہے کہ مذہب حق اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ زندہ اور کارفرما ہو۔ اس کے مبلغ و مناد اخلاص اور تنومندی کے ساتھ اسے لوگوں کے دل و دماغ میں اتارنے کی محنت کررہے ہوں۔ اور لوگوں کی عقلیں اس قدر بانجھ نہ ہوئی ہوں کہ وہ حق سے دشمنی پر اتر آئیں۔ تب امید کی جاسکتی ہے کہ شاید انسانی اصلاح کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے انسانوں کے دلوں کے گھروندے مسمار ہوچکے تھے۔ عقلیں مسموم ہوچکی تھیں اور دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہ تھا جس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہو۔ اور جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اپنی صحیح حالت میں موجود ہو۔ اور علم اور مشیخیت کے دعویدار انسانی اصلاح کی فکر رکھتے ہوں۔ اس صورتحال کے پیش نظر فرمایا گیا ہے کہ لوگوں کے بگاڑ میں اصلاح کی کوئی صورت پیدا ہونے کی امید نہ تھی۔ اور ان کے اس حالت کفر سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہ تھی، بجز اس کے کہ ایک روشن دلیل آکر انھیں کفر کی ہر صورت کا غلط اور خلاف حق ہونا واضح کردے۔ جن تاریکیوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا تھا کوئی معمولی روشنی اس محاصرہ کو توڑ نہیں سکتی تھی۔ اس تاریکی کا طلسم توڑنے کے لیے ایک قوی اور تابندہ دلیل کی ضرورت تھی جس کی کرنیں تاریکیوں کا سینہ چاک کرکے رکھ دیتیں، اور شکوک و شبہات کے غبار کو یکسر ناپید کر دیتیں۔ جس طرح طلوع آفتاب سے زمین کا گوشہ گوشہ چمکنے لگتا ہے، ضرورت تھی کہ ہدایت کا کوئی ایسا آفتاب طلوع ہو جو ان کے قلب و اذہان کے کونے کونے میں اجالا بکھیر دے۔
Ayahs 98:2–3رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً ۔ فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ۔ (البینۃ : 2، 3)
(یعنی اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔ جس میں لکھی ہوں سچی اور درست تحریریں۔ )
رَسُوْلٌ، الْبَیِّنَۃُ سے بدل ہے۔
الْبَیِّنَـۃُکی وضاحت
انسانی ہدایت کے لیے جس الْبَیِّنَـۃُیعنی روشن دلیل کی ضرورت تھی وہ روشن دلیل نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اور آپ ﷺ کی ذات کو ہدایت کی روشن دلیل اور بلند مینار دو چیزوں نے بنایا ہے۔ ایک آپ کی نبوت سے پہلے کی زندگی اور آپ کا حُسنِ کردار۔ اور دوسرا آپ کا امی ہونے کے باوجود ایک ایسی کتاب کو پیش کرنا جو اپنے اندر ہمہ جہتی اعجاز رکھتی ہے۔ جس کے الفاظ، جس کی تراکیب، جس کے جملے، جس کے محاورے، جس کی ضرب الامثال اور جس کی تلمیحات اس وقت بھی لاجواب تھیں اور آج بھی پہلے کی طرح شاداب اور لاجواب ہیں۔ جس کی مضمون آفرینی، جس کی معنوی چستی، جس کی دلیل کی گرفت، جس کی مثالوں کا انطباق، جس کی اخبار، جس کے محاکمے، جس کے معقول عقائد، جس کی نہایت موثر عبادات، جس کا اخلاقی نظام اور انسانی زندگی کے لیے جس کے بہترین اصول و احکام کی تعلیم اور جس کا منضبط ضابطہ حیات ایک ایسی روشن اور حیرت انگیز دلیل ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی زندگیوں میں ایک صالح انقلاب اس کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہی صفات کی حامل کتاب کو یہاں صُحُفًا مُّطَھَّرَۃًسے تعبیر کیا گیا ہے۔ صحف، صحیفہ کی جمع ہے۔ لغت کے اعتبار سے لکھے ہوئے اوراق کو کہا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں انبیائے کرام پر نازل ہونے والی کتابوں کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اور مطہرۃ کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کتاب میں کسی قسم کے باطل، کسی طرح کی گمراہی اور ضلالت اور اخلاق سے گری ہوئی کسی بات کی آمیزش نہیں۔ اور اس کی مزید وضاحت یہ کہہ کر کی گئی ہے کہ ان صحیفوں میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہیں۔ ہم نے کتب کا ترجمہ تحریریں کیا ہے۔ لیکن علامہ قرطبی نے کتب سے مراد احکام لیے ہیں اور قَـیِّمَۃٌسے مراد ہے راست، درست اور مستحکم۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا کوئی حکم، اس کی کوئی نصیحت اور اس کی کوئی بات حق و صداقت اور عقل سلیم کے خلاف ہے اور نہ اخلاقی اعتبار سے کمزور ہے۔ قرآن کریم کے ان اوصاف کی قدر آدمی کو اس وقت ہوتی ہے جب آدمی بائیبل اور دوسرے مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اور ان کتابوں میں جابجا اسے ایسی باتیں دکھائی دیتی ہیں جو نہ صرف عقل سلیم کیخلاف ہیں۔ اور حق و صداقت کے پیمانوں میں تلنے سے قاصر ہیں۔ بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی بہت گری ہوئی ہیں۔ تب اسے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم کتنی پاک اور مطہر کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے۔
Ayah 98:4وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْھُمُ الْبَیِّنَۃُ ۔ (البینۃ : 4)
(اور نہیں تفرقہ برپا ہوا ان لوگوں میں جن کو کتاب دی گئی تھی، مگر اس کے بعد کہ آگئی ان لوگوں کے پاس روشن دلیل۔ )
اہلِ کتاب کی تاریخ سے ان کی بدنصیبی پر استشہاد
پیشِ نظر آیت کریمہ میں اہل کتاب کو ایک طرح کی تنبیہ کی گئی ہے کہ بلاشبہ انسان میں خیروصلاح کی صورت پیدا نہیں ہوتی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی روشن دلیل نازل نہیں کی جاتی۔ یعنی کوئی رسول نہیں آتا اور اس پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوتی۔ لیکن اہل کتاب کی بدنصیبی یہ ہے کہ ان کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، ان کی طرف کتابیں نازل کی گئیں۔ بجائے اس کے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بَیِّنَۃِکی قدر کرتے، ان کتابوں کو ضابطہ حیات بناتے اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی سنت کو زندگی کا وظیفہ بناتے، یہ قبائلی عصبیت، مال و جاہ کی محبت اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی وجہ سے مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لیا۔ تحریف و ترمیم سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ ڈالا۔ اور اس طرح سے ان پر یہ حجت تمام ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک روشن دلیل اتاری تھی لیکن انھوں نے اس کی روشنی میں چلنے کی بجائے اپنی لیے تاریکیاں پسند کیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو بگاڑ ڈالا۔ اس طرح سے اپنی گمراہی کے خود ذمہ دار بنے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ اور کرم فرمایا ہے اور ان کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور قرآن کریم روشن دلیل کی حیثیت سے آچکے ہیں اور ٹھیک ٹھیک تعلیمات ان تک پہنچ چکی ہیں، اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ پھر ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ تفرقے کا شکار رہے اور فرقوں میں بٹے رہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کو اپنا رہنما بنانے سے انکار کردیا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کی پیروی کی بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کی تو اس گمراہی کی ذمہ داری خود انہی پر ہوگی۔ اور قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی حجت پیش نہ کرسکیں گے۔
Ayah 98:5وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ 5 لا حُنَفَـآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ ۔ (البینۃ : 5)
(حالانکہ انھیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں، اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے بالکل یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے۔ )
اہل کتاب میں تفرقہ کا سبب
اہلِ کتاب میں جو تفرقہ پیدا ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے دین کی بنیادی چیزوں کو چھوڑ دیا۔ ان میں کوئی چیز ایسی باقی نہ رہی جس پر یہ اپنے آپ کو قائم اور استوار رکھ سکیں۔ انھیں بھی اور دنیا کی دوسری قوموں کو بھی ہمیشہ دو ہی باتوں کی تلقین کی گئی۔ اور انہی دونوں باتوں کی پابندی کا حکم دیا گیا۔ پہلی بات یہ کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کریں، اس کی عظمت کے گن گائیں، اسی کی اطاعت اور اسی کی پرستش کریں۔ تحلیل و تحریم صرف اسی کا حق سمجھیں۔ اپنے جسم و جان، اپنے علائق اور اپنے مال و دولت کو اسی کی امانت سمجھیں۔ اور اسی پر قیام و ثبات کے لیے عبادات کو اپنا وظیفہ بنائیں۔ نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ کو اپنا چلن بنائیں۔ لیکن انھوں نے دین کی یہ بنیادی تعلیم برباد کردی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں عجل پرستی کے مرتکب ہوئے۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ بنا لیا اور اپنے علماء و فقہاء کو اَرْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰہ قرار دیا۔ جادو اور اعمالِ سفلیہ ان کی دلچسپی کا مرکز بن گئے۔ اسی طرح نماز اور زکوٰۃ کے احکام بھی بگاڑ دیئے۔ نماز تو بالکل ضائع کردی۔ یہاں تک کہ تورات میں اب اس کا ذکر بھی باقی نہ رہا۔ زکوٰۃ کسی حد تک رسمی طور پر باقی رہی، لیکن اس کے اصلی حقدار غرباء و فقراء کی جگہ بنی لاوی کے علماء و فقہاء بن گئے۔ اس طرح سے انھوں نے پورا دین تباہ کرڈالا۔ حالانکہ اصلاحِ عقائد اور اصلاحِ اعمال کا یہی وہ جامع نظام تھا جسے یہاں دِیْنُ الْقَیِّمَۃِفرمایا گیا ہے۔ اسے انھوں نے غارت کردیا۔ الْقَیِّمَۃِکے بارے میں کئی اقوال ہیں الْقَیِّمَۃِصفت ہے۔ اس کا موصوف اَلْمِلَّۃِ مقدر ہے۔ عبارت یوں ہے ذَلِکَ دِیْنُ الْمِلَّۃِ الْقَیِّمَۃِ یعنی ” یہ ایک راست رو ملت کا دین ہے۔ “ دوسرا قول یہ ہے جو زیادہ واضح اور پسندیدہ ہے۔ الْقَیِّمَۃِ کے آخر میں ” تا “ تانیث کی نہیں بلکہ مبالغہ کی ہے۔ جیسے علّامۃ فھّامۃ اور دین جو موصوف ہے اس کو صفت کی طرف مضاف کردیا گیا ہے۔
Ayah 98:6اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ فِیْ نَارِجَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمْ شَرُّالْبَرِیَّۃ۔ (البینۃ : 6)
(بیشک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنھوں نے کفر کیا وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہی لوگ بدترینِ خلائق ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کی مخالفت کا نتیجہ
آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد جو لوگ آپ کی اور قرآن کریم کی تکذیب پر اڑے رہے اور برابر آپ کی مخالفت کرتے رہے چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، یہ دونوں نام بطور عَلَم کے استعمال ہوئے ہیں، یعنی ان کا تعلق چاہے اہل کتاب سے ہو یا مشرکین سے وہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرکے کفر کے مرتکب ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اس جرم کے باعث جہنم میں جائیں گے، وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ وہ اپنے اس جرم کے باعث بدترینِ خلائق ہیں۔ کیونکہ جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور قوت امتیاز نہیں دی۔ اس لیے وہ تکلیفِ شرعی کے مکلف نہیں اور یہ عقل رکھتے ہوئے بھی جب اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا انکار کرتے ہیں تو اس لحاظ سے یقینا تمام مخلوقات سے بدتر ہیں۔
Ayah 98:7اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا اُوْلٰٓئِکَ ھُمْ خَیْرُالْبَرِیَّۃِ ۔ (البینۃ : 7)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے وہ ساری مخلوق سے بہتر ہیں۔ )
ایمان لانے والوں کا اعزاز
یوں تو ایمان اور عمل صالح، یہی ایک انسان کا حقیقی سرمایہ ہے، اسی سے اسے عرفانِ ذات کی دولت ملتی ہے اور اسی سے اسے اللہ تعالیٰ کا معرفت نصیب ہوتی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو اس کی زندگی میں خوش اطواری پیدا کرتی اور ایک مومن کی زندگی کے طوراطوار ابھارتی ہے۔ اس سے پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا تذکرہ ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور ان تمام حقائق کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئے ہیں۔ انسانوں کی یہی تقسیم حقیقی تقسیم ہے۔ کفر انسان کو اس کے حقیقی مرتبے سے گرا کر اسفلِ السافلین میں پہنچا دیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ شخص تمام مخلوقات سے بدترین ٹھہرتا ہے۔ اور ایمان و عمل صالح انسان کو وہ مرتبہ عطا کرتا ہے جس سے برتر کوئی مرتبہ نہیں۔ اور انسان تمام مخلوق سے افضل اور برتر ٹھہرتا ہے۔ یہ انسان کی گراوٹ کی انتہاء ہے اور وہ انسان کے رفعت کی انتہاء ہے۔ جگر نے ٹھیک کہا :
گھٹے اگر تو بس ایک مشت خاک ہے انساں
بڑھے تو وسعت کونین میں سما نہ سکے
یہ تو ایک مومن کی عام حالت کا بیان ہے، لیکن آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے جنھیں ہم صحابہ کرام ( رض) کے نام سے یاد کرتے ہیں ان کی عظمت و رفعت کا تو اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ کیونکہ اس وقت ایمان کا تصور بھی کپکپی پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ جو لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے انھوں نے جان و تن کا سودا کیا۔ اور زندگی کی صعوبتوں اور اذیتوں کو دعوت دی۔ اور اس کی برداشت اور مقابلے کے لیے استقامت کا پیکر بن کر کھڑے ہوگئے۔ اور پھر اس راستے میں جو بھی قربانی دینا پڑی انھوں نے اس سے دریغ نہیں کیا۔ تو ان کی عظمتوں کا شمار کس سے ممکن ہے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ قرآن کریم میں اس طرح کی آیات کا نزول ان وفاشعار مسلمانوں کے حق میں جو اذیتوں کے ساتھ ساتھ اشرافِ قریش کی توہین آمیز باتوں کے چرکے بھی برداشت کرتے تھے، کس قدر حوصلہ افزا اور کس قدر ان کی سربلندی کا باعث ہوتا ہوگا۔ یہ لوگ یقینا بہترینِ خلائق تھے اور انھوں نے اپنے ایمان و عمل سے اپنے آپ کو اس قابل ثابت کیا۔ اور اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کہ یہ پاکیزہ لوگ فرشتوں سے بھی افضل تھے۔ کیونکہ فرشتے نافرمانی کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ بندگی کا جتنا بڑا حق بھی ادا کریں وہ ان کی مجبوری ہے۔ لیکن انسان نافرمانی کا اختیار رکھنے کے باوجود جب فرمانبرداری کرتا ہے بلکہ اس کی بڑی سے بڑی قیمت بھی ادا کرتا ہے تو پھر اس کے سب سے اشرف و اعلیٰ ہونے میں کیا کلام ہوسکتا ہے۔
Ayah 98:8جَزَآؤُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ رَضُوْا عَنْہُ ط ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ ۔ (البینۃ : 8)
(ان کا صلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، وہ ان میں تا ابد رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ صلہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرا۔ )
اصحابِ ایمان کا صلہ اور انعام
ایسے وفاداروں اور جانثاروں کا صلہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سدا بہار باغات ہیں جن کے نیچے ندیاں رواں ہوں گی۔ جہاں کا ہر پھول، ہر کلی ان کی محبت کے رنگ میں رنگی ہوگی۔ لیکن ان سے بھی بڑا اعزاز اور بڑی نعمت ان کے لیے یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوجائے گا۔ اور وہ نیازمند اپنے کریم رب کی بےپایاں عنایات سے بہرور ہو کر اس سے راضی ہوجائیں گے۔ حضرت ابوسعید خدری ( رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کو پکاریں گے۔ وہ جواب میں عرض کریں گے، اے ہمارے پروردگار، ہم حاضر ہیں۔ ساری سعادتیں اور بھلائیاں تیرے دست قدرت میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ دریافت کریں گے کہ اب تم راضی ہو، وہ عرض کریں گے، اے ہمارے رب ! ہم تجھ پر راضی کیوں نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں ایسی نعمتوں سے سرفراز کیا ہے جو کسی مخلوق کو نصیب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں اس سے ایک اعلیٰ انعام عطا نہ کروں۔ وہ کہیں گے الٰہی ! اس سے افضل اور کیا چیز ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ میں تمہیں اپنی رضا اور خوشنودی سے اس طرح سرفراز کردوں کہ اس کے بعد میری ناراضگی کا تمہیں کوئی اندیشہ نہ رہے۔
آخر میں فرمایا کہ یہ اعزاز اور مقام بلند ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا، یہ شرف ان سعادتمندوں کا حصہ ہے جو زندگی بھر اس خیال سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں کہ ہم کبھی کوئی ایسا کام نہ کر گزیں جس سے ہمارا مالک ہم سے ناراض ہوجائے۔ وہ کبھی حکم عدولی کی جرأت نہیں کرتے۔ ہاں اگر بھولے سے کوئی لغزش ہوجائے تو اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے سامنے روتے اور استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک دل میں قبولیت کی ٹھنڈک اتر نہیں جاتی۔
اس دل پہ خدا کی رحمت ہو جس دل کی یہ حالت ہوتی ہے
اک بار خطا ہوجاتی ہے سو بار ندامت ہوتی ہے