Ayah 87:1سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی۔ (الاَعلٰی : 1)
(اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کیجیے۔ )
اللہ تعالیٰ کی یاد کی اہمیت
تسبیح کا معنی پاک کرنا ہوتا ہے۔ اس لفظ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے۔ یعنی اس کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے پاک اور برتر قرار دیا جائے جو اس کی اعلیٰ شان کے منافی ہیں۔ یعنی اسے ایسے ناموں سے نہ پکارا جائے جو اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے اس کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ یعنی ان میں کوئی نقص، گستاخی یا شرک کا پہلو نکلتا ہے۔ اس کے لیے وہی نام استعمال کیے جائیں جو اس کی شان کے لائق ہوں۔ اور بہتر یہ ہے کہ جنھیں خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے یا دوسری زبان میں ان کا صحیح ترجمہ ہوں۔ صاحب معارف القرآن نے بعض احادیث کی روشنی میں اور قرطبی سے استفادہ کرتے ہوئے چند مسائل تحریر فرمائے ہیں ہم انھیں یہاں نقل کررہے ہیں۔
مسئلہ : علماء نے فرمایا ہے کہ قاری جب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی کی تلاوت کرے تو مستحب ہے کہ یہ کہے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، صحابہ کرام حضرت عبداللہ بن عباس، ابن عمر، ابن زبیر، ابوموسیٰ اور عبداللہ بن مسعود ؓ اجمعین کا یہی معمول تھا کہ جب یہ سورة شروع کرتے تو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا کرتے تھے۔ (قرطبی) یعنی نماز کے سوا جب تلاوت کریں تو ایسا کہنا مستحب ہے۔
مسئلہ : حضرت عقبہ بن عامر جہنی ( رض) سے روایت ہے کہ جب سورة سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَینازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اجعلوھا فی سجودکم یعنی یہ کلمہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیاپنے سجدہ میں کہا کرو۔ تسبیح کے معنی پاک رکھنے اور پاکی بیان کرنے کے ہیں۔ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّک کے معنی یہ ہیں کہ اپنے رب کے نام کو پاک رکھیے۔ مراد یہ ہے کہ رب کے نام کی تعظیم و تکریم کیجیے اور جب اللہ کا نام لیں تو خشوع و خضوع اور ادب کا لحاظ رکھیے اور ہر ایسی چیز سے اس کے نام کو پاک رکھئے جو اس کے شایان نہیں، اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان ناموں سے پکاریئے جو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بیان فرمائے ہیں یا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بتلائے ہیں ان کے سوا کسی اور نام سے اس کو پکارنا جائز نہیں۔
مسئلہ : اسی طرح اس حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ جو نام اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے وہ کسی مخلوق کے لیے استعمال کرنا اس کی تنزیہہ و تقدیس کے خلاف ہے اس لیے جائز نہیں۔ (قرطبی) جیسے رحمن، رزاق، غفار، قدوس وغیرہ۔ آج کل اس معاملے میں غفلت بڑھتی جارہی ہے، لوگوں کو ناموں کے اختصار کا شوق ہے۔ عبدالرحمن کو رحمن، عبدالرزاق کو رزاق، عبدالغفار کو غفار بےتکلف کہتے رہتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس کا کہنے والا اور سننے والا دونوں گنہگار ہوتے ہیں اور یہ گناہ بےلذت رات دن بلاوجہ ہوتا رہتا ہے اور بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ اسم سے مراد خود مسمّٰی کی ذات مراد لی ہے اور عربی زبان کے اعتبار سے اس کی گنجائش بھی ہے اور قرآن کریم میں بھی اس معنی کے لیے استعمال ہوا ہے اور حدیث میں جو رسول اللہ ﷺ نے اس کلمہ کو نماز کے سجدے میں پڑھنے کا حکم دیا ہے اس کی تعمیل میں جو کلمہ اختیار کیا گیا وہ سُبْحَانَ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی نہیں بلکہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسم اس جگہ مقصود نہیں خود مسمّٰی مراد ہے۔ (قرطبی) واللہ اعلم۔
Ayahs 87:2–3الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی۔ وَالَّذِیْ قَدَّرَفَھَدٰی۔ (الاَعلٰی : 2، 3)
(جس نے پیدا کیا اور پھر اس کا تناسب قائم کیا۔ اور جس نے تقدیر بنائی پھر اس نے ہدایت بخشی۔ )
تکوینِ وجود کے چار مراتب
خالق کائنات نے ان آیات میں تکوینِ وجود کے چار مراتب بیان فرمائے ہیں۔ خلق، تسویہ، تقدیر اور ہدایت۔ کائنات کی ہر مخلوق کا عدم سے وجود میں آنا اس کی صفت خلق کا اظہار ہے۔ مگر ہر مخلوق کا اس طرح پیدا کیا جانا جس طرح اسے ہونا چاہیے تھا اور اس کے نک سک کا درست ہونا اور اس میں انتہا درجہ کا تناسب پایا جانا اور ہر طرح سے اپنے ماحول سے اس کا مناسبت رکھنا اور ماحول کا اس کے ساتھ مناسب ہونا یہ وہ چیز ہے جس کو تسویہ کہا گیا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات کی ہر مخلوق اپنے وجود کے اعتبار سے اس طرح واقع ہوئی ہے کہ اس کا جسم اور اس کا ماحول باہم دگر ایک دوسرے کے لیے معاون و مددگار بن گئے ہیں۔ پرندے ہوا میں اڑتے ہیں انھیں پَر عطا کیے گئے ہیں۔ مچھلیاں پانی میں پیدا ہوتی ہیں تو انھیں تیرنا سکھایا گیا ہے۔ حشرات الارض کوڑا کرکٹ میں پیدا ہوتے ہیں تو انھیں رینگنا سکھایا گیا۔ مچھلی خشکی میں پیدا نہیں کی گئی۔ پرندے پانی میں پیدا نہیں کیے گئے اس لیے کہ ان کا جسمانی تناسب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں بلکہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہر مخلوق کے لیے یہ پہلے سے طے کردیا گیا کہ اسے کس طرح کا کام انجام دینا ہے ؟ اس کی حدود کار کیا ہوں گی ؟ اس کی قوت عمل کس طرح کی ہوگی ؟ اسے کب تک کس حال میں رہنا ہے ؟ اور کس حد تک اپنے کام کو انجام دینا ہے ؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ اور اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے اسے کون سی صلاحیت درکار ہے ؟ یہ وہ چیز ہے جسے قرآن کریم میں تقدیر کا نام دیا گیا ہے۔ چناچہ سورج کو پیدا کیا گیا تو اس کا مقصد وجود مقرر کردیا گیا۔ چاند کو پیدا کیا گیا تو اس کے عمل کا ایک دائرہ ٹھہرا دیا گیا۔ ستارے بنائے گئے تو انھیں ان کی ڈیوٹیاں سمجھا دی گئیں۔ نباتات سے لے کر آسمان کی ہر مخلوق تک ہر ایک کے لیے ایک تقدیر بنادی گئی۔ چناچہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سورج اپنے دائرہ کار سے باہر نکل جائے اپنے مقصد وجود یعنی کائنات کو روشنی دینے اور گرمی پہنچانے سے رک جائے۔ یہ ممکن نہیں کہ چاند اپنی حلاوت سے اہل زمین کو محروم کردے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ستارے جھلملانا چھوڑ دیں۔ یہ ناممکن ہے کہ پھول خوشبو دینے اور پانی پیاس بجھانے سے انکار کردے۔ ہر ایک اپنے اپنے کام پر لگا ہوا ہے اور انھیں اپنا مقصود وجود اور دائرہ کار اچھی طرح معلوم ہے اور اگر شعور کی آنکھ سے مزید کام لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ تمام مخلوقات کو یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ تمہیں اپنے اپنے فرائض کس طرح انجام دینا ہیں۔ مچھلی کو اگر پانی میں تیرنے کا حکم دیا گیا تو ایسا نہیں کہ اسے تیرنا نہ سکھایا گیا ہو۔ پرند کے لیے ہوا میں اڑنا مقدر کیا گیا تو ایسا نہیں ہے کہ اسے اڑنے کی تعلیم نہ دی گئی ہو۔ سورج، چاند اور ستاروں کو جس کام پر لگا دیا گیا ہے ایسا نہیں ہے کہ انھیں اس کی ہدایت نہ دی گئی ہو۔ قرآن کریم کہتا ہے :
لاَالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَوَلاَالَّیْلَ سَابِقُ النَّہَارِ ۔ (یٰسین۔ 40۔ 36)
” سورج کی مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور رات کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ دن سے آگے بڑھ جائے، ہر ایک کا اپنا دائرہ کار ہے اور اپنے دائرے میں مصروفِ عمل ہے۔ “
اس کی ہدایت کی ہمہ گیری کا عالم یہ ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ایسی دکھائی نہیں دیتی کہ اسے وجود ملا ہو اور وہ غایت وجود سے بیخبر ہو اور پھر اس کو روبعمل لانے سے بےبہرہ ہو۔ اس نے کلیوں کو پیدا کیا تو انھیں چٹکنا بھی سکھایا۔ اس نے پھول کو پیدا کیا تو اس کو مہکنا بھی سکھایا۔ اس نے درختوں کو پیدا کیا تو انھیں لہکنا بھی سکھایا۔ اس نے ستاروں کو پیدا کیا تو انھیں جھلملانا اور ٹمٹمانا بھی سکھایا ہے۔ اس نے بادل کو پیدا کیا تو اسے کڑکنا بھی سکھایا۔ اس نے رعد کو گرجنا اور بجلی کو کوندنا بھی سکھایا۔ اس نے پرندے کو چہکنا اور ہوا کو لہکنا بھی سکھایا۔ اس نے آگ کو جلانا اور پانی کو بہنا سکھایا۔ اس نے حسن کو مچلنا اور عشق کو پگھلنا سکھایا۔ غرضیکہ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جسے اس نے تقدیر کے ساتھ ساتھ ہدایت سے نہ نوازا ہو۔
البتہ جس طرح مخلوقات کی کئی قسمیں ہیں اور ہر ایک کی معیشت کی راہ دوسرے سے مختلف ہے اور ہر ایک کی زندگی کے تقاضے دوسری مخلوقات سے جدا ہیں۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو اصولی طور پر ہدایت سے تو نوازا لیکن ہدایت کا طریقہ ان کی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ مختلف ہوتا رہا۔ لیکن انسان ان تمام مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی برترین قسم ہے۔ اس کی زندگی دو حیثیتوں پر مشتمل ہے۔ ایک تو یہ کہ اپنے اندر حیوانیت رکھتا ہے اور حیوانیت کے تقاضوں سے اس کی ہدایت کی وہی ضرورت ہے جو حیوانات کی ہے۔ چناچہ حیوانی ہدایت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اسے جبلی رہنمائی بھی دی گئی ہے، اس کے اندر وجدان کی قوت بھی رکھی ہے اور اسے حواس بھی عطا کیے گئے ہیں۔ اور اس کی زندگی کی دوسری حیثیت وہ ہے جسے انسانیت کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے اسے جوہرِعقل سے نوازا گیا ہے، اسے شعور کی دولت عطا کی گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے تکلیفِ شرعی سے مکلف کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی ضرورت نہ حیوانی ہدایت سے پوری ہوتی ہے اور نہ انسانی ہدایت سے۔ اسے نہ صرف تکوینی ہدایت کفایت کرتی ہے، نہ جبلی ہدایت، نہ عقل کی رہنمائی اس کے لیے کافی ہے اور نہ تجربہ اس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اسے اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے میری زندگی کا مقصد عبادت قرار دیا ہے اس عبادت کی حدود کیا ہیں ؟ میرا آقا کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں ؟ میری بندگی کا طریقہ کیا ہے ؟ اور بندگی کا حق ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے کون سی شریعت اور کون سا قانون دیا ہے ؟ وہ کون سی کتاب ہے جس میں میرے لیے اصول ہدایت واضح کیے گئے ہیں اور میری زندگی کا آئیڈیل اور رہنما کون ہے جس کی پیروی میرے مقصد حیات کے لیے رہنما ہوسکتی ہے۔ یہ وہ تشریعی ہدایت ہے جسے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ کے زمانے تک ہر دور میں ہر پیغمبر پر اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے انسانوں کی رہنمائی کے لیے نازل کیا ہے۔ چناچہ آیت کریمہ میں ہدایت کی ان تمام اقسام کی طرف اشارہ ہے اور ہم اسے سورة فاتحہ میں تفصیل سے عرض کرچکے ہیں۔
Ayahs 87:4–5وَالَّذِیْ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی۔ فَجَعَلَـہٗ غُثَـآئً اَحْوٰی۔ (الاَعلٰی : 4، 5)
(جس نے نباتات اگائیں۔ پھر کر ڈالا اس کو کوڑا سیاہ۔ )
مَرْعٰی … چارے کو بھی کہتے ہیں اور چراگاہ کو بھی۔ لیکن سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف چارہ نہیں ہر قسم کی نباتات مراد ہیں جو زمین سے اگتی ہیں۔
غُثَـآئً … اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو پانی کے سیلاب میں اوپر آجاتا ہے۔ مکھن کے جھاگ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔
اَحْوٰی، حُوَّۃٌ سے مشتق ہے۔ گہری سبزی میں جو ایک قسم کی سیاہی آجاتی ہے اس کو حَوَّۃٌ کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلیل
یعنی اس اللہ کی تسبیح کرو جس نے زمین سے نباتات کو اگایا، جس کی ابتداء نازک سی سوئی سے ہوئی۔ پھر آہستہ آہستہ اس کو تنے اور پودے میں تبدیل کردیا، اور کہیں بیلوں کی شکل میں بچھا دیا، کہیں قدآور درختوں کی شکل میں اٹھا دیا۔ یعنی نباتات کی جتنی قسمیں ہیں ان کی تازگی اور شادابی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جنھیں دیکھ کر انسان خوش ہوتا ہے اور زمین پر بہار کا منظر دیکھتا ہے۔ لیکن یہ سرسبزی اور شادابی دیر تک نہیں رہتی۔ موسم بدلتے ہی پروردگار اسے زردخشک اور سیاہ کرکے ایسا کوڑا کرکٹ بنا دیتا ہے جسے ہَوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور سیلاب خس و خاشاک کی صورت میں بہا لے جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کسی بےجان علت یا لگے بندھے قانون کی کارفرمائی نہیں بلکہ قادرمطلق کی قدرت کا اظہار ہے۔ وہ جب چاہتا ہے زمین پر بہار لے آتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے خزاں میں بدل دیتا ہے۔ اس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ انسانوں کو اپنی جوانیوں، خوشحالیوں اور کامیابیوں پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی کی یہ بہار پائیدار نہیں۔ کچھ پتہ نہیں کب خزاں کا حملہ ہوجائے اور سب کچھ جاتا رہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ عطا بھی کرتا ہے اور چھین بھی لیتا ہے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس نے کائنات کی بساط بچھائی ہے اور آج ہر طرف ہمیں وجود کی کارفرمائی اور عمل کی ہما ہمی دکھائی دے رہی ہے اس کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں کہ ایک دن کائنات کی بساط لپیٹ دے۔ اور سب کچھ ختم کرنے کے بعد پھر دوبارہ نئی زندگی لائے اور انسانوں کو ان کے مرقدوں سے نکال کر حشر کے میدان میں لاکھڑا کرے۔
بعض اہل علم کو اصرار ہے کہ اَحْوٰی ہرگز اس سیاہی کے لیے نہیں آتا جو کسی شے میں اس کی کہنگی، بوسیدگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ اس سیاہی مائل سرخی یا سبزی کے لیے آتا ہے جو کسی شے پر اس کی تازگی، شادابی، زرخیزی اور جوشِ نمو کے سبب سے نمایاں ہوتی ہے۔ اسی طرح غُثَـآئً صرف کوڑا کرکٹ اور خس و خاشاک کے لیے ہی نہیں بولا جاتا بلکہ اس سبزے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جو زمین کی زرخیزی کے سبب سے اچھی طرح گھنا اور سیاہی مائل ہوگیا ہو۔ اس لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس اللہ کی پاکیزگی بیان کرو جو نباتات کو زمین سے نازک سوئیوں کی شکل میں نکالتا ہے، پھر ان کو گھنی اور سیاہی مائل سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے۔ ناچیز کا خیال یہ ہے کہ الفاظ میں دونوں معنوں کے لیے گنجائش ہے، کسی ایک پر اصرار مناسب نہیں۔ اور مفہوم کے اعتبار سے پہلے معنی کے اعتبار سے انسان کی بےثباتی اور قیامت کے وجود پر دلیل معلوم ہوتی ہے اور دوسرے مفہوم کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بےپایاں قدرت کا ظہور ہے۔
Ayahs 87:6–7سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰٓی۔ اِلاَّ مَاشَآئَ اللّٰہُ ط اِنَّـہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفٰی۔ (الاَعلٰی : 6، 7)
(ہم آپ کو پڑھائیں گے تو پھر آپ نہیں بھولیں گے۔ سوائے اس کے جو اللہ چاہے، وہ علانیہ کو بھی جانتا ہے اور اس کو بھی جو چھپا ہوتا ہے۔ )
وحی کے بارے میں ایک وضاحت
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار اور اس کی عنایات کا بیان ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے وحی کا نزول اور آپ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اور اس کی قدرت کا ظہور ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وحی کے نزول کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہار نہ فرمائے اور اپنے اس احسان کی حفاظت اور تکمیل کے لیے آپ کو کسی پریشانی میں مبتلا ہونے دے۔ اس لیے ہم نے یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے کہ ہم آپ پر جب وحی نازل کریں گے اور ہمارا فرشتہ آپ کے سامنے جب وحی کے الفاظ پڑھے گا تو ہم اسے اس طرح آپ کے قلب اطہر میں پیوست کردیں گے کہ آپ اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ہمیشہ اس بات کی فکر رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا کوئی لفظ میرے حافظے سے محو ہوجائے یا میں اسے ٹھیک طرح سے اخذ نہ کرسکوں۔ حاکم نے حضرت سعد بن ابی وقاص ( رض) سے اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ مجاہد اور کلبی کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی سنا کر فارغ نہ ہوتے تھے کہ حضور ﷺ بھول جانے کے اندیشے سے ابتدائی حصہ دہرانے لگتے تھے۔ اس بناء پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ اطمینان دلایا کہ جس پروردگار نے یہ عظیم احسان فرمایا ہے اس نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے بس وحی کے نزول کے وقت آپ خاموشی سے سنتے رہیں، اس کا کوئی لفظ آپ کے حافظے میں محفوظ ہونے سے رہ نہیں سکے گا۔ آپ کو اس کے بھول جانے کا کبھی اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن کریم میں سورة طٰہٰ آیت 114 اور سورة قیامۃ آیت 16 تا 19 میں بھی آپ کو وحی اخذ کرنے کا طریقہ سکھایا گیا اور اطمینان دلایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح قرآن کریم معجزے کے طور پر آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسی طرح معجزے کے طور پر ہی اس کا لفظ لفظ آپ کے حافظے میں محفوظ بھی کردیا گیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض سورتیں جو بہت طویل بھی ہیں اور ایک ہی نشست میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی ہیں اور آپ نے نزول وحی کی کیفیت ختم ہوتے ہی انھیں ازاول تا آخر لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا، اور پھر کاتبانِ وحی کو لکھوایا۔ اور نمازوں میں ان کی تلاوت بھی فرمائی۔ سورة یوسف جیسی طویل سورة ایک ہی نشست پر آپ پر نازل ہوئی، اور آپ نے اسے اسی وقت لوگوں کے سامنے اسے پیش بھی فرمادیا۔ ایک ہی دفعہ سن کر ایسی طویل سورة کو محفوظ حالت میں لوگوں کے سامنے پیش کردینا انسانی حافظے کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان۔
دوسری آیت میں فرمایا کہ ہاں جو اللہ چاہے۔ یعنی آپ قرآن کی کوئی چیز بھولیں گے نہیں۔ بجز اس کے کہ کسی چیز کو اللہ تعالیٰ ہی اپنی حکمت اور مصلحت کی بنا پر آپ کے ذہن سے محو کردے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے منسوخ کردے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی مصلحت اور حکمت کی بناء پر عارضی طور پر کوئی آیت آپ کے ذہن سے بھلا دے اور پھر آپ کو یاد آجائے یعنی آپ مستقل نہ بھولنے پائیں۔ اس مفہوم کی تائید صحیح بخاری کی ایک روایت سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے آپ قرأت کے دوران ایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد حضرت ابی ابن کعب نے پوچھا کہ کیا یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں، میں بھول گیا تھا۔ تو اس استثناء کا مطلب یہ ہے کہ وقتی اور عارضی طور پر تو کسی آیت کو آپ بھول سکتے ہیں، لیکن مستقل آپ کبھی نہیں بھولیں گے۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اسی تسلی اور اطمینان کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں مخالفین کی طرف سے جس طرح کے حالات سے دوچار ہیں آپ کا رب ان سے بیخبر نہیں ہے بلکہ وہ تو ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو ظاہر ہیں اور ان باتوں سے بھی آگاہ ہے جو پوشیدہ ہیں۔ اس لیے جو پریشانیاں کبھی آپ کی زبان پر نہیں آئیں، اللہ تعالیٰ ان سے بھی آگاہ ہے اور جو دعائوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگئیں، اللہ تعالیٰ ان سے بھی واقف ہے۔ دشمن جو کھلی ہوئی شرارتیں کررہا ہے اور جو مخفی سازشیں کررہا ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ تو جب وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت اور اختیار بھی رکھتا ہے تو آپ اطمینان رکھیں ہر ضرورت کے مطابق آپ کی رہنمائی بھی کرے گا اور آپ کو نصرت و تائید سے بھی نوازے گا۔
سیاقِ کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کو قرآن پڑھ کر سناتے ہیں اور آپ ان کے ساتھ ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اور بھول جانے کے جس خوف سے آپ ایسا کررہے ہیں وہ احساس بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اور وہی بےپایاں علم کا مالک آپ کو تسلی دے رہا ہے کہ آپ نازل ہونے والی وحی میں سے کبھی کچھ نہیں بھولیں گے۔
Ayahs 87:8–9وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی۔ فَذَکِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی۔ (الاَعلٰی : 8، 9)
(ہم آپ کو آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں۔ پس آپ نصیحت کریں اگر نصیحت نفع پہنچائے۔ )
آنحضرت ﷺ کو یُسْر کی بشارت
آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے سلسلے میں جس مشکل صورتحال سے دوچار تھے، سیرت و تاریخ کا ہر طالب علم اور قرآن کریم کا ہر قاری اسے اچھی طرح جانتا ہے۔ آپ ایسے ایسے جانگسل مراحل سے گزرے ہیں کہ ان کی تفصیل پڑھ کر پِتّہ پانی ہوتا ہے۔ چناچہ پروردگار اس صورتحال سے کامیابی و کامرانی سے نکلنے کی آپ کو بشارت دے رہا ہے۔ اور ساتھ ہی آپ کے حدودکار کو متعین فرما کر آپ کے لیے آسانی پیدا فرما رہا ہے۔ جہاں تک آپ کی کامیابی و کامرانی کا تعلق ہے اس میں غیرمتوقع طور پر پروردگار نے جس طرح آپ کو نوازا وہ تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ دنیا کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک ایسا ہمہ گیر انقلاب جس نے نہ صرف جغرافیہ بدلا اور حکومتیں تبدیل کیں بلکہ انسانی عقائد بدلے۔ انسانی سیرت و کردار میں حیرت انگیز تبدیلیاں کیں۔ انسانی اہداف یکسر بدل گئے۔ قبائل میں بٹی ہوئی انسانوں کی بھیڑ ایک منضبط اور مستحکم امت میں تبدیل ہوگئی۔ عہدہ و منصب کا تصور بدل گیا۔ دنیا طلبی کی بجائے آخرت طلبی زندگی کا مقصد بن گئی اور چند ہی سالوں میں بارہ لاکھ مربع میل علاقے پر اس دین کا پرچم لہرانے لگا کہ جس کا نام سننے کے بھی عرب کے لوگ روادار نہ تھے۔ اور جہاں تک آپ کے فریضہ منصبی کے حدودکار کا تعلق ہے اس سلسلے میں فرمایا کہ ہم نے تبلیغ و دعوت کا جو بارعظیم آپ پر ڈالا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہروں کو سنائیں اور اندھوں کو راہ دکھائیں۔ اور جو لوگ آپ کی بات سننے کے روادار نہ ہوں آپ ہر ممکن طریق سے ان تک اپنی بات پہنچائیں۔ بلکہ ہم نے اس میں یہ آسانی پیدا کی ہے کہ آپ کا کام نصیحت کرنا ہے۔ جہاں آپ نصیحت کو نافع ہوتا دیکھیں وہاں نصیحت کریں۔ اور جہاں آپ محسوس کریں کہ کوئی اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں اور لوگوں نے اپنے کان اور دل اس کے لیے بند کرلیے ہیں تو آپ بھی ان کے درپے نہ ہوں۔ آپ مسلسل تبلیغ جاری رکھیں لیکن اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو تلاش کریں جو اس سے فائدہ اٹھانے کے متمنی ہوں۔ اور ان لوگوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں جو آپ کی نگاہ التفات کے مستحق ہوں۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو سورة عبس کی ابتدائی آیات میں کہی گئی ہے۔
Ayah 87:10سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی۔ (الاَعلٰی : 10)
(نصیحت قبول کرے گا وہ شخص جو ڈرتا ہے۔ )
ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی
یعنی تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں آپ کو تجربہ ہوجائے گا کہ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے وہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔ اور جنھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میری زندگی کا کوئی مقصد ہے یا نہیں۔ ہر چیز کا ایک انجام ہے تو کیا میری زندگی کا کوئی انجام نہیں۔ اگر واقعی آخرت ہوئی تو میں نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے۔ ایسے شخص سے کسی بہتری کی امید رکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے آپ بھی اس پر جان نہ ماریں۔ لیکن جس دل میں سنجیدگی ہو اور جس دماغ میں سلامتی ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی سے ڈرتا ہو اور جسے اپنے انجام کی فکر ہو، یہ وہ شخص ہے جو آپ کی نصیحت کا مستحق ہے اور آپ کی نصیحت اسے فائدہ دے سکتی ہے۔
Ayahs 87:11–13وَیَتَجَنَّـبُـھَا الْاَشْقٰی۔ الَّذِیْ یَصْلَی النَّارَالْــکُبْرٰی۔ ثُمَّ لاَ یَمُوْتُ فِیْھَا وَلاَ یَحْیٰی۔ (الاَعلٰی : 11 تا 13)
(اور گریز کرے گا وہ جو بدبخت ہوگا۔ وہ پڑے گا بڑی آگ میں۔ پھر نہ اس میں مرے گا، نہ جئے گا۔ )
آپ کی تمام تر مساعی کے باوجود جو لوگ آپ کی تبلیغ و دعوت سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ہر ممکن طریقے سے آپ کی دعوت کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی دعوت میں کوئی کجی ہے یا آپ کے طریق دعوت میں کوئی کمزوری ہے، یا آپ کے اندر اخلاص و دردمندی کی کمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دراصل انتہائی محروم القسمت لوگ ہیں۔ انھوں نے اپنی قسمت پھوڑ لی ہے۔ یہ لوگ ہیں جو آپ کی دعوت قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا مقدر یہ ہے کہ یہ ایک بڑی آگ میں پڑیں گے یعنی انھیں جہنم کا سخت ترین عذاب ہوگا۔ اور ان بدنصیبوں کا حال یہ ہوگا کہ نہ انھیں موت آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائیں اور نہ یہ زندوں کی طرح زندہ رہیں گے کہ زندگی کے لطف سے فائدہ اٹھائیں۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص دل میں ایمان رکھتا ہے لیکن اعمال کی خرابی کے باعث جہنم میں ڈالا گیا۔ وہ اپنی بداعمالیوں کی سزا بھگتنے کے بعد موت کا شکار ہوجائے گا۔ اور پھر شفاعت سے اس کی لاش کو باہر نکال کر جنت کی نہروں میں کسی نہر کے کنارے ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت سے کہا جائے گا کہ تم اس لاش پر پانی ڈالو، تو وہ پانی پڑنے سے اس طرح اگنا شروع ہوگی جیسے برسات کے موسم میں دانے اگتے ہیں۔ لیکن جو لوگ دین دشمنی اور ایمان سے محرومی کے باعث جہنم میں جائیں گے وہ سخت ترین عذاب کے باعث موت کی تمنا کریں گے، لیکن موت نہیں آئے گی۔ ان کی کھالیں جل کر جھڑیں گی تو نئی کھالیں پہنا دی جائیں گی تاکہ وہ نئے عذاب کا مزہ چکھیں۔ بظاہر یہ لوگ زندہ ہوں گے لیکن حقیقی زندگی سے محروم ہوں گے۔
Ayahs 87:14–15قَدْاَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۔ وَذَکَرَاسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ (الاَعلٰی : 14، 15)
(کامیاب ہوا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔ )
فلاح کے مستحق کون ہیں اور اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟
تَزَکّٰی … زکوٰۃ سے مشتق ہے۔ اس کے اصل معنی پاک کردینے کے ہیں۔ مال کی زکوٰۃ کو بھی اس لیے زکوٰۃ کہتے ہیں کہ وہ باقی مال کو انسان کے لیے پاک کردیتی ہے۔ یہاں لفظ تَزَکّٰی کا مفہوم عام ہے جس میں ایمانی اور اخلاقی تزکیہ اور طہارت بھی داخل ہے اور مال کی زکوٰۃ بھی۔ اور سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی تبلیغ و دعوت اور تذکیر سے فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلودگی سے پاک کرلیا۔ اور ہر اس گندگی سے بچے جس کا تعلق عقیدے سے تھا یا عمل سے۔ اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم و تربیت نے اس سے بچنے کی ترغیب دی تھی تو ایسے لوگ دنیا میں بھی فلاح سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی اپنے رب کی رحمت سے نوازے جائیں گے۔
اپنے آپ کو پاک و صاف کرنے کا طریقہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسا شخص اپنے رب کا نام لیتا اور اس کو یاد کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نام لینا تزکیہ کے لیے اس لیے ضروری ہے کہ تمام علم کا سرچشمہ درحقیقت اسمائے الٰہی ہیں۔ ان ہی سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے رب کی صفات کیا ہیں۔ پھر انھیں سے عقائد کا علم حاصل ہوتا ہے اور یہیں سے حقوق و فرائض کی روشنی ملتی ہے۔ اور مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کا نام اور اس کی ذات وصفات کا یقین صفائیِ قلب کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ کیونکہ دل تمام تصورات، خیالات اور عقائد کا مرکز ہے۔ اور تمام اعمال اسی کے تابع ہیں۔ جیسا عقیدہ دل میں بیٹھ جاتا ہے ویسے اعمال ظہورپذیر ہوتے ہیں۔ اگر دل میں برے تصورات جگہ بنالیں تو دل نہ صرف گندا ہوجاتا ہے بلکہ برے اعمال کو پیدا بھی کرتا ہے۔ اسی لیے لادینی قوتوں اور شیطانی طاقتوں کا اصل حملہ ہمیشہ دل کے خیالات کی تبدیلی اور ان کو بگاڑ کے راستے پر ڈالنے کے لیے ہوتا ہے۔ جب ایک دفعہ فکر بگڑتی، ذوق میں تبدیلی آتی اور نہج پراگندہ ہوتی ہے تو ساری زندگی منتشر ہو کے رہ جاتی ہے اور شخصیت کا تاروپود بکھر جاتا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کی بنیاد پر پروردگار نے فلاح و کامرانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے اسماء کے ذکر کو اساس ٹھہرایا ہے۔ اور پھر اس کی علامت کے طور پر نماز کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ جب ایک شخص اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اور غلاموں کی طرح ہاتھ باندھ کر اللہ تعالیٰ کی تحمید کرتا، اسی سے استعانت کرتا اور اسی سے صراط مستقیم کی دعا کرتا ہے تو وہ گویا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ جس اللہ کی ذات پر وہ ایمان لایا ہے وہ اس کی اطاعت اور اس کی بندگی کے لیے عملاً تیار ہے اور نماز کے ذریعے اس کو ہمیشہ یاد کرنے کا اہتمام کررہا ہے۔ اور یہ پانچ وقتوں کی یاددہانی اسے اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی اطاعت و بندگی سے اس طرح وابستہ کردیتی ہے کہ تمام شیطانی وساوس اس کے سامنے دم توڑ جاتے ہیں۔ اس کا دل تمام شیطانی خیالات اور برے تصورات سے پاک ہوجاتا ہے اور وہ ہر آلودگی سے لاتعلق ہو کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کے ساتھ یکسو ہوجاتا ہے۔
Ayahs 87:16–17بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌوَّاَبْقٰی۔ (الاَعلٰی : 16، 17)
(مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ )
مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب
اس آیت کریمہ میں مخالفین کے بڑے بڑے لیڈروں کی مخالفت کا اصل سبب منکشف فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ لوگ جو قیامت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور آنحضرت ﷺ کی دعوت ان کے نزدیک قابل قبول نہیں تو اس کا سبب یہ نہیں کہ اس مخالفت کے لیے ان کے پاس کوئی معقول دلیل موجود ہے بلکہ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ ان کی فکر پوری طرح حب دنیا میں ڈوب چکی ہے۔ وہ اس عقیدے کو قبول کرکے ناجائز دنیوی مفادات کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کی زندگی کا ہدف راحت و آسائش اور دنیا کی لذتیں حاصل کرنا ہے۔ دنیا میں ترقی اور دولت دنیا کی فراوانی اور عہدہ و منصب میں بلندی اور زیادہ سے زیادہ خوشیوں کا حصول، یہ چیزیں ان کے لیے حاصل زندگی ہیں۔ جس شخص نے زیادہ سے زیادہ انھیں حاصل کرلیا اس نے کامیاب زندگی گزاری۔ اور جو انھیں حاصل کرنے میں ناکام رہا اس کی زندگی ناکامیوں کی نذر ہوگئی۔ اور یہ وہ شخص ہے جو اصل نقصان اور خسران کا شکار ہوا۔ ان تصورات نے ان لوگوں کو آخرت سے دور رکھا ہے اور وہ کسی طرح بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت میں یہاں کیے ہوئے ہر عمل کا جواب دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ فریبِ نظر کا شکار تھے۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کسی اعتبار سے بھی قابل ذکر نہیں۔ چہ جائیکہ اسے آخرت پر ترجیح دی جائے۔ کیونکہ آخرت میں ملنے والی راحتیں اور لذتیں دنیا کی راحتوں اور لذتوں سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔ اور دوسری یہ بات کہ دنیا فانی ہے یہاں کسی کو قرار نہیں۔ ہر شخص کم و بیش چند سال لے کر آتا ہے اور اسی میں اس کی زندگی تمام ہوجاتی ہے جبکہ آخرت فانی نہیں، باقی ہے۔ اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس کی نعمتیں پائیدار اور اس کی خوشیاں کبھی نہ ختم ہونے والی ہیں۔ تو آخر اس میں کیا معقولیت ہے کہ ایک فانی اور ناپائیدار چیز کو باقی اور ابدی نعمت پر ترجیح دی جائے۔
Ayahs 87:18–19اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔ صُحُفِ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی۔ (الاَعلٰی : 18، 19)
(بیشک یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی ہے۔ (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔ )
ایک ہی حقیقت کی سب کو تلقین کی گئی
یعنی آنحضرت ﷺ قریش اور دیگر مخالفین کو جن حقائق سے آگاہ فرما رہے ہیں وہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ کیونکہ عام طور پر نئی باتیں جلدی قبول نہیں کی جاتیں، بلکہ یہ تو وہ حقائق ہیں جو ان صحیفوں میں بھی نازل کیے گئے تھے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیے گئے اور آج بھی اسفارِتورات میں موجود ہیں۔ یہ دوسرا مقام ہے جہاں قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے پہلے سورة نجم رکوع تین میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔