86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsروح القرآن

Ayahs 86:1–3

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

قسم ہے آسمان کی اور رات میں نمودار ہونے والے کی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

چمکتا ہوا ستارہ

وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ ۔ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَاالطَّارِقُ ۔ النَّجْمُ الثَّاقِبُ ۔ (الطارق : 1 تا 3) (قسم ہے آسمان کی اور رات میں نمودار ہونے والے کی۔ اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے۔ چمکتا ہوا ستارہ۔ ) آسمان اور ستاروں کی قسم جس طرح گزشتہ سورة میں برجوں والے آسمان کی قسم کھائی تھی اسی طرح اس سورة میں چمکتے اور دمکتے ہوئے ستاروں کی قسم کھائی گئی ہے۔ اور ہم اس کی ایک سے زیادہ مرتبہ وضاحت کرچکے ہیں کہ قسم مقسم علیہ کے لیے شہادت اور دلیل ہوتی ہے۔ البتہ قرآن کریم کا اسلوب ہمارے اسلوب سے جدا ہے کہ ہم دعویٰ پہلے کرتے ہیں اور اس کے ثبوت کے لیے شہادت یا دلیل بعد میں پیش کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم قسم کی صورت میں دلیل پہلے دیتا ہے اور مقسم علیہ یعنی دعویٰ کو بعد میں پیش کرتا ہے۔ یہ طریقہ زمین کی تیاری اور تخم ریزی کے مشابہ ہے۔ زمین سے پیداوار لینے کے لیے زمین تیار پہلے کی جاتی ہے اور تخم بعد میں بویا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح انسانی دل و دماغ کو ہموار کرنے کے لیے دلیل پہلے پیش کی جاتی ہے تاکہ آمادگی پیدا ہوسکے۔ اور دعویٰ تخم پاشی کی طرح بعد میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ تیار زمین اس کو قبول کرلے۔ اس آیت میں طارق کی قسم کھائی گئی ہے۔ طارق کا لغوی معنی شب میں آنے والے کے ہیں۔ رات کو جو مہمان آتا ہے اسے اہل عرب طارق کہتے ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد رات کو نمودار ہونے والے وہ ستارے ہیں جن کی روشنی خودبخود ہم تک پہنچتی ہے اور انھیں دیکھنے کے لیے دوربینوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اگلی آیت میں اس کا مفہوم متعین کردیا ہے کہ اس سے مراد النَّجْمُ الثَّاقِبُہے یعنی چمکنے والا ستارہ، جو دوسرے ستاروں سے نسبتاً تیز روشنی رکھتا ہے۔ یہ لفظ میں اگرچہ واحد ہے لیکن حقیقت میں اسم جنس ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کوئی خاص ستارہ نہیں بلکہ ہر چمکنے والا ستارہ اس سے مراد ہے اور اسے جمع کی صورت میں بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت ستاروں کی تعداد کا کوئی اندازہ نہیں۔ جتنے ستارے ہمیں نظر آتے ہیں اس سے کہیں زیادہ وہ ستارے ہیں جن کی روشنی ہم تک نہیں پہنچتی اور وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔ کہنا یہ ہے کہ وہ ستارے جو چمکتے اور دمکتے ہیں اور جن کی روشنی ہمیں فرحت و انبساط بخشتی ہے اور جو آسمان پر مشعلوں کی مانند روشن ہیں۔ اور بعض ایسے بھی ہیں جن کی روشنی سے آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ علاوہ ازیں کتنے اور ستارے ہیں جو ہماری نگاہوں کی رسائی سے باہر ہیں۔
Ayah 86:4

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

کوئی جان ایسی نہیں جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو

اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ۔ (الطارق : 4) (کوئی جان ایسی نہیں جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ ) اس آیت کے آغاز میں حرف ” اِنْ “ نافیہ ہے۔ اور حرف ” لَمَّا “ اِلاَّ کے معنی میں ہے۔ جو قبیلہ ہذیل کی لغت میں استثناء کا معنی دیتا ہے۔ یہ ہے مقسم علیہ اور دعویٰ ۔ اسے ثابت کرنے کے لیے متذکرہ بالا قسم کھائی گئی۔ یہ مقسم علیہ ہے اور قسم اس پر دلیل ہے دعویٰ یہ ہے کہ کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ اصل نگہبان تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کررہی ہے۔ اس نے ہر مخلوق کو زندگی بخشی ہے تو زندگی کی بقاء کے امکانات بھی بخشے ہیں۔ اور جو چیزیں زندگی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ان سے اس کی حفاظت بھی کی ہے۔ وہ جس طرح ہر مخلوق کی چھوٹی بڑی ضرورتوں کو جانتا ہے اور عہد بعہد اس میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح وہ لوگوں کے اعمال کو بھی جانتا ہے۔ کوئی کہاں پیدا ہوا، کہاں مرا اور اس کی خاک کہاں بکھر گئی، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ستاروں کو دیکھو، ان کی ان گنت آنکھیں رات بھر جاگتی اور ٹکٹکی لگائے زمین والوں کو گھورتی رہتی ہیں۔ ہر ستارے کی روشنی تہ بہ تہ فضائوں کو چیرتی ہوئی زمین تک پہنچ جاتی ہے۔ انسان ہر شب اپنے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ شان دیکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس رب کی شان یہ ہے اس کے بارے میں یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ کوئی چیز اس سے اوجھل رہ سکتی ہے۔ اور کون اس کے بارے میں یہ بدگمانی کرسکتا ہے کہ جس نے یہ بیشماریہ قندیلیں بغیر کسی سہارے کے آویزاں کر رکھی ہیں، وہ قیامت لانے سے عاجز ہے۔
Ayahs 86:5–8

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

پس انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو نکلتا ہے ریڑھ اور پسلیوں کے بیچ سے

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بیشک وہ اس کے لوٹا سکنے پر پوری طرح قادر ہے

فَلْیَنْظُرِالْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۔ خُلِقَ مِنْ مَّـآئٍ دَافِقٍ ۔ یَّخْرُجُ مِنْ م بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ ۔ اِنَّـہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ۔ (الطارق : 5 تا 8) (پس انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔ جو نکلتا ہے ریڑھ اور پسلیوں کے بیچ سے۔ بیشک وہ اس کے لوٹا سکنے پر پوری طرح قادر ہے۔ ) دوسری زندگی پر انسان کے وجود سے استدلال عالمِ بالا میں اپنی قدرت کی شانوں کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ خود اپنی ہستی پر غور کرے تاکہ اسے اندازہ ہو جس ذات کے بارے میں اسے یہ بدگمانی ہے کہ وہ اس عالم کو دوبارہ بسانے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر وہ اپنی تخلیق کے بارے میں غور کرے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور اس کی صنعت گری کی ایسی شانیں ظاہر ہوں گی کہ اگر اس کی فطرت میں ذراسی بھی سلامتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی سے تائب ہوجائے گا۔ سب سے پہلے انسان کی تخلیق کے حوالے سے اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اسے دیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔ پانی کی ایک حقیر بوند سے اس کی تخلیق کی ابتداء ہوئی ہے۔ میاں بیوی کا جب اتصال ہوتا ہے تو باپ کے جسم سے جو پانی کی ایک بوند اچھل کے نکلتی ہے اس میں اربوں جرثو میں ہوتے ہیں اور ماں کے جسم سے نکلنے والے بکثرت بیضوں میں سے ایک بیضے کا انتخاب کرکے ان اربوں جرثوموں میں سے ایک جرثومے کے ساتھ اسے جوڑ دیا جاتا ہے اور اس سے استقرارِحمل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کون کرتا ہے۔ کیا کسی انسان کے بس میں یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اربوں جرثوموں میں سے ایک جرثومے کا انتخاب کرے اور بکثرت بیضوں میں سے ایک بیضے کے ساتھ اس کا جوڑ ملا دے۔ اور اس طرح سے استقرارِحمل ہوجائے۔ پھر اس حمل کے بعد ماں کے پیٹ میں اسے نشوونمادی جاتی ہے۔ پہلے یہ گاڑھے خون کی شکل اختیار کرتا ہے، پھر گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے، پھر اس کی ہڈیاں وجود میں آتی ہیں، پھر اس پر کھال چڑھتی ہے، پھر اس کا نک سک درست ہوتا ہے، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے، پھر ناف کے ذریعے سے اسے غذا بہم پہنچائی جاتی ہے، پھر وہ اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ وہ ایک بچے کی شکل میں دنیا میں آسکے۔ سوال یہ ہے کہ رحم مادر میں یہ ساری تبدیلیاں کون کرتا ہے ؟ کون اس کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں میں تناسب پیدا کرتا ہے ؟ اور پھر پیدائش سے موت تک کون اس کی مسلسل نگہبانی کرتا ہے ؟ مزید فرمایا کہ انسان کو اس اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یعنی اس پانی کا اخراج جسم کے اعضائے رئیسہ سے ہوتا ہے اور وہ سب آدمی کے دھڑ میں واقع ہیں۔ اور جو صلب اور پسلیوں کے درمیان ہیں۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ پانی جس سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے وہ کوئی جو ہرنایاب نہیں، اور نہ وہ کسی ایسی ولایت سے آتا ہے جو خدا کی خدائی کی حدود سے باہر ہو۔ بلکہ انسان ہی کی ریڑھ اور اس کی چھاتیوں کے بیچ سے اچھلتا ہے۔ پھر اس عام سے پانی سے اسے وہ شکل و صورت دی جاتی ہے جو مخلوقات میں سب سے بہتر شکل و صورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو پروردگار انسان کو وجود میں لاتا اور استقرارِحمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی نگہبانی کرتا ہے اور اس کی ضروریات پوری کرتا ہے، کیا اس کے بارے میں یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ دوبارہ انسان کو وجود نہیں دے سکتا۔ اگر وہ پہلی دفعہ انسان کو پیدا کرسکتا ہے تو آخر اب اس کی کیا معقول دلیل ہے کہ دوسری دفعہ اس پر قادر نہیں رہا۔
Ayah 86:9

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

اس روز ساری چھپی باتوں کی جانچ پڑتال ہوگی

یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ ۔ (الطارق : 9) (اس روز ساری چھپی باتوں کی جانچ پڑتال ہوگی۔ ) قیامت کے پس پردہ محرکات کا بھی حساب ہوگا یعنی قیامت کے دن جس طرح ہر شخص کے اعمال کا حساب لیا جائے گا اسی طرح اس کے اعمال کے پس پردہ جو محرکات رہے، جو اغراض اور خواہشات کام کرتی رہیں اور جن نیتوں کے ساتھ وہ کام کیے گئے سب کا حساب ہوگا۔ جانچ پڑتال صرف اس بات کی نہیں ہوگی کہ کس شخص نے کیا کچھ کیا، بلکہ اس بات کی بھی ہوگی کس وجہ سے کیا، کس غرض، کس نیت اور کس مقصد سے کیا۔ اور ایک ایسی بات کی بھی جانچ پڑتال ہوگی جسے کرنے والا بھی نہیں جانتا۔ وہ یہ کہ کرنے والے نے جو فعل کیا اس کے دنیا میں کیا اثرات ہوئے، وہ کہاں کہاں پہنچے اور کتنی مدت تک چلتے رہے۔ کسی شخص نے اگر کوئی نیکی کاشت کی تو اس کی فصل کس کس شکل میں کہاں کہاں پھیلی۔ اور کسی نے اگر برائی کاشت کی تو اس کے اثرات کتنی نسلوں تک رہے اور کہاں کہاں انھوں نے فساد برپا کیا۔ ہر چیز کا حساب ہوگا اور ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی۔ قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
Ayah 86:10

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

اس وقت انسان کے پاس نہ کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی مددگار

فَمَالَـہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلاَ نَاصِرٍ ۔ (الطارق : 10) (اس وقت انسان کے پاس نہ کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ ) جب انسان کے ہر عمل کی جانچ پڑتال ہوگی تو نہ اس کے پاس کوئی ذاتی قوت ہوگی جس سے وہ مدافعت کرسکے اور نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا، نہ کوئی شفاعت کرنے والا جو اس کی حمایت کے لیے اٹھے۔ انسان بےدست و پا اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہوگا اور صرف اس کے افکار و اعمال کے حوالے سے ایک بےلاگ فیصلہ ہوگا جسے بےچون و چرا قبول کرنا ہوگا۔
Ayahs 86:11–14

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

اور پھٹ جانے والی زمین کی

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

کہ یہ دوٹوک بات ہے۔

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں

وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۔ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۔ وَّمَا ھُوَبِالْھَزْلِ ۔ (الطارق : 11 تا 14) (قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی۔ اور پھٹ جانے والی زمین کی۔ کہ یہ دوٹوک بات ہے۔ یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں۔ ) قرآن کے قول فیصل ہونے پر آفاقی شہادت رَجْعٌ … اس کے لغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں، لیکن مجازاً اس لفظ کا استعمال المطربعدالمطر کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی ایسی بارش جو پے درپے ہو، کہ ایک مرتبہ بارش ہو کر ختم ہوجائے اور پھر لوٹے۔ اس لیے اس میں رجع کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ صَدْعٌ … اس کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے بیج کاشت کرنے کے ایک دو روز بعد زمین پھٹتی اور اس میں دراڑیں پڑتی ہیں۔ یہ دو قسمیں ہیں اور اگلی آیت جوابِ قسم ہے۔ کہنا یہ ہے کہ یہ قرآن کریم ایک دوٹوک، جچی تلی اور فیصلہ کن بات ہے۔ اس کی ہر بات اٹل اور اس کا ہر فیصلہ محکم ہے۔ اس کی کسی بات میں ترمیم یا تحریف ممکن نہیں۔ اس کے محرمات اور محللات قطعی اور ابدی ہیں۔ اس میں انسانوں کی کامیابی اور ان کی ناکامی کے جو اصول دیئے ہیں ان میں کسی تبدیلی یا کسی خطا کا کوئی امکان نہیں۔ اس جوابِ قسم یا دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے دو قسمیں کھائی گئی ہیں۔ ایک بارشوں والے آسمان کی اور دوسری پھٹنے والی زمین کی۔ زمین جب موسم کی حدت سے جل اٹھتی ہے یا سردیوں کی برودت سے ہر چیز پر خزاں طاری ہوجاتی ہے اور زمین میں ہر طرف دھول اٹھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور آسمان اور زمین کے درمیان غبار ہی غبار نظر آتا ہے۔ ایسے حال میں امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں، جانور بھوک اور پیاس سے مرنے لگتے ہیں، انسانوں کے پاس اشیائے خوردونوش کی کمی کے باعث ہر طرف موت کے سائے گہرے ہونے لگتے اور ہر طرف زندگی کے امکانات ڈھلتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے حال میں آسمان سے بارانِ رحمت برستی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے زمین کا سینہ نرم ہوتا، اس کے مسام کھلتے اور اس کے اندر سے سبزہ ابلنے لگتا ہے اور زمین لہلہا اٹھتی ہے۔ ایسے موقعوں پر زندگی سے مایوس لوگ بےتابانہ پانی کی طرف لپکتے ہیں، جوہڑوں کی منڈیریں درست ہوتی ہیں، کھیتوں کو سیراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، زمین کی نمی سے فائدہ اٹھا کر غلے کی کاشت کی جاتی ہے اور جانور پانی کے جوہڑوں پر پیاس بجھاتے اور ہر طرف پھیلے ہوئے سبزے سے شکم سیری کا سامان کرتے ہیں۔ لیکن جو شخص اس بارش کو ایک مذاق سمجھے اور زمین سے ابلتی ہوئی زندگی کو تمسخر کا نشانہ بنائے اس کی حماقت میں دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ بالکل اسی طرح لادینیت کی حدت میں جلتی ہوئی آبادیوں پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی صورت میں رحمت کی بارش فرمائی۔ جن جن زمینوں میں قبولیت کی استعداد تھی یا اس بارش کے لیے ان میں طلب پائی جاتی تھی وہ زمینیں لہلہا اٹھیں۔ لیکن جن لوگوں نے اس قرآن کو بارانِ رحمت سمجھنے کی بجائے مذاق اور تمسخر کا نشانہ بنایا، انھوں نے بالکل بیوقوف کاشتکار کی طرح اپنی زندگی کے سروسامان سے محرومی کا فیصلہ کرلیا۔ قرآن کریم ان کو توجہ دلارہا ہے کہ نادانو ! بارشوں والے آسمان کی مہربانی دیکھو اور پھٹتی ہوئی زمین کو لہلہاتی ہوئی فصل میں تبدیل ہوتا ہوا دیکھو۔ یہ تمہاری زندگی ہے۔ اور اچھا کاشتکار وہی ہے جو اس بارش سے فائدہ اٹھائے اور اپنی فصل کاشت کرے۔ سچ کہا اقبال نے : موسم اچھا پانی وافر مٹی بھی زرخیز جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان
Ayahs 86:15–16

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

وہ چل رہے ہیں ایک چال

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور میں بھی ایک دائو چل رہا ہوں

اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا۔ وَّاَکِیْدُکَیْدًا۔ (الطارق : 15، 16) (وہ چل رہے ہیں ایک چال۔ اور میں بھی ایک دائو چل رہا ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی ان آیات کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت کے مخالفین اور اللہ تعالیٰ کے دین کا انکار کرنے والے آپ ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے مختلف قسم کی چالیں چل رہے ہیں۔ کہیں لوگوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں تاکہ وہ سراسیمہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے دین کو چھوڑ دیں اور جاہلیت کی طرف پلٹ جائیں۔ اور کہیں لوگوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شبہات پیدا کیے جارہے ہیں۔ ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر کبھی آپ ﷺ پر لگایا جارہا ہے اور کبھی آپ ﷺ کے ساتھیوں پر۔ وسائلِ رزق پر پابندیاں لگا کر مسلمانوں کے لیے زندگی دشوار کی جارہی ہے تاکہ وہ پیٹ کی بھوک سے تنگ آکر پرانے دور کی طرف لوٹ جائیں۔ غرضیکہ جو ان کے بس میں ہے وہ آپ ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے اور اسلام کی راہ کو روکنے میں صرف کررہے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ اس کی پرواہ نہ کریں، میں ان کی ہر تدبیر کو ناکام کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا دائو چلنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے کسی دائو اور کسی چال کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ وہ وقتی طور پر ایسی صورتحال پیدا کردے گا کہ مخالفین یہ سمجھیں گے کہ ان کی تدبیریں اور ان کے فریب کامیاب ہورہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کا فریبِ نظر ہوگا۔ اسلام کی دعوت چاروں طرف انھیں اپنے گھیرے میں لے رہی ہوگی لیکن وہ اپنی مسندوں پر براجمان اور اپنے دائرہ کار میں رسوخ کے مالک ہونے کی وجہ سے یہی سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم اپنی تدبیروں میں کامیاب ہورہے ہیں۔ یہ درحقیقت استدراج کا ایک پھندا ہے جو انھیں اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ جتنی ان کی رسی دراز ہوتی جارہی ہے اتنی ہی اس کی گرفت مضبوط ہورہی ہے۔ لیکن ایک دن آئے گا جب اسلام کا سورج پوری طرح اس سرزمین پر روشن ہوگا اور ان لوگوں کی ہر تدبیر ناکام ہوچکی ہوگی۔
Ayah 86:17

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

پس اے پیغمبر ! ان کافروں کو مہلت دے دیجیے اور ذرا سی ذرا ان کو چھوڑ دیجیے

فَمَھِّلِ الْـکٰفِرِیْنَ اَمْھِلْہُمْ رُوَیْدًا۔ (الطارق : 17) (پس اے پیغمبر ! ان کافروں کو مہلت دے دیجیے اور ذرا سی ذرا ان کو چھوڑ دیجیے۔ ) چونکہ یہ لوگ ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے گھیرے میں آچکے ہیں۔ ان کو جتنی بھی مہلت دی جائے یہ اس گھیرے سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ وہ ہزار سمجھتے رہیں کہ ہم اپنی کارروائیوں میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم نے اسلام کا ناطقہ بند کردیا ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ تو جب صورتحال یہ ہے کہ تو آپ ﷺ کافروں کو ڈھیل دے دیجیے۔ یعنی وہ آپ ﷺ کو طعنے دیں، مطالبات سے پریشان کریں، اذیت رسانی سے مسلمانوں کا جینا مشکل کردیں، آپ ﷺ کسی بات سے متأثر ہو کر اللہ تعالیٰ سے عذاب نازل کرنے کی دعا نہ کریں۔ یہ بجھتے ہوئے دیئے کی آخری لو ہے اور یہ اسے اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ اور مزید یہ فرمایا کہ ہم جو مہلت اور ڈھیل دینے کی سفارش کررہے ہیں تو یہ سفارش کسی غیرمحدود مدت کے لیے نہیں، بس ذرا سی ان کی رسی دراز کردی جائے تاکہ یہ جو کھل کھیلنا چاہتے ہیں وہ کھیل لیں، بہت جلد ان کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ اس آخری آیت میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ پروردگار نبی کریم ﷺ کو ہدایت کررہے ہیں کہ آپ ﷺ انھیں تھوڑی سی اور مہلت دے دیجیے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب ان کی قسمت کی باگ درحقیقت آپ ﷺ کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔ کیونکہ عموماً یہ ہوتا رہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا رسول مخاطب قوم کی طرف سے دعوت کی قبولیت کے حوالے سے مایوس ہوجاتا ہے اور دشمن قوم اللہ تعالیٰ کے رسول کو مزید برداشت کرنے سے انکار کردیتی ہے تو رسول ان پر عذاب بھیجنے کی درخواست کرتا ہے، جو قبول کرلی جاتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا اس پر شاہد ہے۔ ویسے بھی جس قوم میں اللہ تعالیٰ کا رسول مبعوث ہوتا ہے اس قوم کی زندگی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔ اسی اصول کے تحت ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے رسول پر آٹھہرا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت کی ہے کہ آپ ﷺ ان کو تھوڑی سی ڈھیل اور دے دیں۔