Ayah 85:1وَالسَّمَآئَ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ۔ (البروج : 1)
(قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ )
لفظِ بروج کی تحقیق
بروج، برج کی جمع ہے۔ یہ لفظ محلات پر بھی بولا جاتا ہے اور قلعوں اور گڑھیوں پر بھی۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں اور بعض دیگر ائمہ تفسیر نے اس سے وہ محلات اور مکانات مراد لیے ہیں جو آسمان میں پہرے داروں اور نگران فرشتوں کے لیے مقرر ہیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں بھی یہ لفظ آسمان کی صفت کے طور پر آیا ہے وہاں اس سے مراد آسمان کے وہ قلعے اور دیدبان ہیں جہاں نگران فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معمور کیے گئے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مملکت میں شیاطین کو ایک خاص حد کے آگے داخل نہ ہونے دیں۔ اگر اس حد سے وہ آگے بڑھنے کی جسارت کرتے ہیں تو ان پر اشہب ثاقب کی بارش ہوتی ہے۔ اس طرح کوئی جن یا انسان ملأ اعلیٰ کی حدود میں داخل ہو کر غیب کے اسرار کی سن گن نہیں لے سکتا۔
بعض مفسرین نے قدیم علم ہیئت کے مطابق بروج سے آسمان کے بارہ برج مراد لیے ہیں۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔
Ayahs 85:2–3وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ ۔ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْھُوْدٍ ۔ (البروج : 2، 3)
(اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی۔ )
قیامت کی قیامت پر قسم
یومِ موعود سے مراد روز قیامت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ ترمذی کی مرفوع روایت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اور شاہد اور مشہود کی تفسیر میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ بعض ائمہ تفسیر نے ترمذی کی ایک مرفوع روایت سے استدلال کرتے ہوئے شاہد سے جمعہ کا دن مراد لیا ہے اور مشہود سے روز عرفہ کا۔ یہ حدیث اگر واقعی پایہ ثقاہت اور درجہ استناد کو پہنچتی ہے تو پھر مفسرین کے اقوال میں اختلاف ناقابلِ فہم ہے۔ لیکن یہ اختلاف چونکہ ائمہ تفسیر سے منقول ہے، اس لیے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حدیث میں جس طرح روز جمعہ اور روز عرفہ کو اس کا مدلول ٹھہرایا گیا ہے وہ بھی اس سے مراد ہے۔ لیکن اس کے علاوہ دیگر چیزیں بھی اس سے مراد لی جاسکتی ہیں۔ اس لیے بعض اہل علم نے سیاق وسباق کو دیکھتے ہوئے یہ کہا ہے کہ شاہد سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قیامت کے روز حاضر ہوگا اور مشہود سے مراد خود قیامت ہے جس کے ہولناک احوال کو سب دیکھنے والے دیکھیں گے۔ مجاہد، عکرمہ، ضحاک اور بعض دیگر مفسرین سے یہی تفسیر منقول ہے۔ علاوہ ازیں بعض اہل علم کا خیال ہے کہ نکرہ یہاں تعمیم کے لیے ہے جس سے قیامت اور جزاء و سزا کے ان تمام دلائل و شواہد کی طرف اشارہ ہے جو آفاق کے ہر گوشے میں موجود ہیں۔ اس طرح سے کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز جو اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت اور دوسری اعلیٰ صفات کی گواہی دیتی ہے وہ اس سے مراد لی جاسکتی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ چار قسمیں چار دلیلیں ہیں جو جوابِ قسم کے اثبات کے لیے کھائی گئی ہیں۔ اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ جوابِ قسم یہاں محذوف ہے، جس کی طرف ان قسموں کو دیکھ کر ذہن خودبخود منتقل ہوجاتا ہے۔ وہ جوابِ قسم یہ ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں۔ قیامت کے دن ہر شخص اپنے کیے کا انجام دیکھے گا۔
جن لوگوں کو قیامت کے آنے میں شبہ ہے اور وہ اسے خلاف عقل سمجھتے ہیں ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ ان کی عقل اس بات کو باور نہیں کرتی کہ ایک دن ساری کائنات تباہ ہوجائے اور پھر ایک دن ازسرنو نئی بساط بچھے اور تمام انسانوں کو زندہ کرکے میدانِ حشر میں حساب کتاب کے لیے جمع کرلیا جائے۔ کائنات کی ہمہ گیر تباہی وہ بھی ان کے نزدیک خلاف عقل ہے اور پھر ازسرنو ہر چیز کا زندہ ہونا یہ اس سے بڑھ کر خلاف عقل ہے۔ چناچہ ان کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جو قادر مطلق اس کائنات کو تخلیق کرسکتا ہے اور آسمان جیسی چھت بغیر ستونوں کے ہمارے سروں پر اٹھا سکتا ہے اور پھر آسمان میں بڑے بڑے برج بنا سکتا ہے اور وہاں حفاظت کا ایک حیرت انگیز نظام قائم کرسکتا ہے تو اس کے لیے قیامت کو بپا کردینا کیا مشکل ہے۔
اس کے بعد قیامت کو قیامت پر دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت ایک بدیہی حقیقت ہے جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں اور کوئی عقلمند آدمی اس سے انکار نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی شہادت خود انسان کے اندر موجود ہے۔ تو اس کو ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی شہادت کی کیا ضرورت ہے۔ ہر انسان کی فطرت انصاف کا تقاضا کرتی ہے۔ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر دوسروں پر ظلم کرتا ہے لیکن جب اپنے اوپر ظلم ہوتا ہے تو انصاف اور عدل کی دہائی دیتا ہے کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کی دادرسی ہونی چاہیے۔ یہی وہ فطرت کی پکار ہے جس کا مظہر وسیع سطح پر روز قیامت ہے۔ اس لیے خود اس کی قسم کھا کر اسے قیامت پر دلیل بنایا گیا ہے۔ اور پھر شاہد اور مشہود سے ان دلائلِ آفاق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو کائنات میں جابجا پھیلے ہوئے ہیں اور شاید اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان دنیا میں جو کچھ کررہا ہے وہ قیامت کے دن اس کے سامنے آئے گا اور یہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھے گا۔ اس کے اعضاء وجوارح خود اس کے ہر قول و فعل کی گواہی دیں گے۔ اور قیامت کی ہولناکی مشہود بن کر اس دن ہر شخص کے لیے قیامت پر سب سے بڑی دلیل ہوگی اور لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ یہی ہے وہ حقیقت جس کا ہم انکار کرتے رہے ہیں۔
Ayahs 85:4–7قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ۔ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ ۔ اِذْھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ۔ وَّھُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُھُوْدٌ۔ (البروج : 4 تا 7)
(مارے گئے ایندھن بھری آگ کی گھاٹی والے۔ جبکہ وہ اس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ اہل ایمان کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔ )
قریش کو تنبیہ اور اصحاب الاخدود کی وضاحت
پیشِ نظر آیات کریمہ میں بعض تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قریش کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم سے پہلے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جنھوں نے ایمان والوں پر بےپناہ مظالم کیے حتیٰ کہ ان کو آگ میں جلایا۔ لیکن آخر ان کا انجام ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور جو قیامت میں انھیں عذاب ہونے والا ہے وہ اس سے ناقابلِ بیان حد تک شدید ہوگا۔
گڑھوں میں آگ جلانے والوں اور پھر ان میں ایمان لانے والوں کو پھینکنے اور آگ کی سزا دینے کے حوالے سے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا تھا اس کی ایک تاریخ ہے۔ اور ایسے واقعات متعدد دفعہ وقوع پذیر ہوچکے ہیں۔ اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اس کے نتائج بھی دیکھے ہیں۔ لیکن یہاں ان میں سے کسی واقعہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے اہل تفسیر میں کسی ایک واقعہ پر اتفاق نہیں پایا جاتا۔ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ ایک سے زیادہ مرتبہ ایسے ظالمانہ واقعات ہوئے ہیں تو کسی ایک کا ذکر کرنے کی بجائے ان سب واقعات کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ کیونکہ مقصود نفس مضمون اور اس کے حاصل کی طرف توجہ دلانا ہے، کسی واقعہ کی تاریخ بیان کرنا نہیں۔ البتہ روایات میں جن کا ذکر آیا ہے ہم اس کی تفصیل تفہیم القرآن سے نقل کررہے ہیں۔
ان میں سے ایک واقعہ حضرت صہیب ( رض) رومی نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا۔ اس نے اپنے بڑھاپے میں بادشاہ سے کہا کہ کوئی لڑکا ایسا مامور کردے جو مجھ سے یہ سحر سیکھ لے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا۔ مگر وہ لڑکا ساحر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی (جو غالباً پیروانِ مسیح (علیہ السلام) میں سے تھا) ملنے لگا اور اس کی باتوں سے متأثر ہو کر ایمان لے آیا حتیٰ کہ اس کی تربیت سے صاحب کرامت ہوگیا اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا۔ بادشاہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لڑکا توحید پر ایمان لے آیا ہے تو اس نے پہلے تو راہب کو قتل کیا، پھر اس لڑکے کو قتل کرنا چاہا، مگر کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ اس پر کارگر نہ ہوا۔ آخرکار لڑکے نے کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو مجمعِ عام میں بِاسْمِ رَبِّ الْغُلاَمِ (اس لڑکے کے رب کے نام پر) کہہ کہ مجھے تیر مار میں مرجاؤں گا۔ چناچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مرگیا۔ اس پر لوگ پکار اٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے اس سے کہا کہ یہ تو وہی کچھ ہوگیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے کے دین کو مان گئے۔ بادشاہ یہ حالت دیکھ کر غصے میں بھر گیا۔ اس نے سڑکوں کے کنارے گڑھے کھدوائے، ان میں آگ بھروائی اور جس جس نے ایمان سے پھرنا قبول نہ کیا اس کو آگ میں پھکوا دیا۔
(احمد، مسلم، نسائی، ترمذی، این جریر، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، طبرانی، عبد بن حمید)
دوسراواقعہ حضرت علی ( رض) سے مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایران کے ایک بادشاہ نے شراب پی کر اپنی بہن سے زنا کا ارتکاب کیا اور دونوں کے درمیان ناجائز تعلقات استوار ہوگئے۔ بات کھلی تو بادشاہ نے لوگوں میں اعلان کرایا کہ خدا نے بہن سے نکاح حلال کردیا ہے۔ لوگوں نے اسے قبول نہ کیا تو اس نے طرح طرح کے عذاب دے کر عوام کو یہ بات ماننے پر مجبور کیا، یہاں تک کہ وہ آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں ہر اس شخص کو پھکواتا چلا گیا جس نے اسے ماننے سے انکار کیا۔ حضرت علی ( رض) کا بیان ہے کہ اسی وقت سے مجوسیوں میں محرمات سے نکاح کا طریقہ رائج ہوا ہے۔ (ابنِ جریر)
تیسرا واقعہ ابن عباس ( رض) نے غالباً اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ بابل والوں نے بنی اسرائیل کو دین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پھرجانے پر مجبور کیا تھا۔ یہاں تک کہ انھوں نے آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں ان لوگوں کو پھینک دیا جو اس سے انکار کرتے تھے۔ (ابنِ جریر، عبد بن حمید)
سب سے مشہور واقعہ نجران کا ہے جسے ابن ہشام، طبری، ابن خلدون اور صاحب معجم البلدان وغیرہ اسلامی مؤرخین نے بیان کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیر (یمن) کا بادشاہ تبان اسعد ابوکرب ایک مرتبہ یثرب گیا جہاں یہودیوں سے متأثر ہو کر اس نے دین یہود قبول کرلیا اور بنی قریظہ کے دو یہودی عالموں کو اپنے ساتھ یمن لے گیا۔ وہاں اس نے بڑے پیمانے پر یہودیت کی اشاعت کی۔ اس کا بیٹا ذونواس اس کا جانشین ہوا اور اس نے نجران پر، جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا، حملہ کیا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ کردے اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کرے۔ (ابن ہشام کہتا ہے کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے) ۔ نجران پہنچ کر اس نے لوگوں کو دین یہود قبول کرنے کی دعو دت مگر انھوں نے انکار کیا۔ اس پر اس نے بکثرت لوگوں کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا، یہاں تک کہ مجموعی طور پر بیس ہزار آدمی مارے گئے۔ اہل نجران میں سے ایک شخص دوس ذواثعلبان بھاگ نکلا اور ایک روایت کی رو سے اس نے قیصر روم کے پاس جا کر، اور دوسری روایت کی رو سے حبش کے بادشاہ نجاشی کے ہاں جا کر اس ظلم کی شکایت کی۔ پہلی روایت کی رو سے قیصر نے حبش کے بادشاہ کو لکھا، اور دوسری روایت کی رو سے نجاشی نے قیصر سے بحری بیڑہ فراہم کرنے کی درخواست کی۔ بہرحال آخرکار حبش کی 70 ہزار فوج اریاط نامی ایک جنرل کی قیادت میں یمن پر حملہ آور ہوئی، ذونواس مارا گیا، یہودی حکومت کا خاتمہ ہوگیا، اور یمن حبش کی عیسائی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا۔
اسلامی مؤرخین کے بیانات کی نہ صرف تصدیق دوسرے تاریخی ذرائع سے ہوتی ہے بلکہ ان سے بہت سی مزید تفصیلات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یمن پر سب سے پہلے عیسائی حبشیوں کا قبضہ 340 ء میں ہوا تھا اور 378 ء تک جاری رہا تھا۔ اس زمانے میں عیسائی مشنری یمن میں داخل ہونے شروع ہوئے۔ اسی کے قریب دور میں ایک زاہد و مجاہد اور صاحب کشف و کرامت عیسائی سیاح فیمیون (Paymiyun) نامی نجران پہنچا اور اس نے وہاں کے لوگوں کو بت پرستی کی برائی سمجھائی اور اس کی تبلیغ سے اہل نجران عیسائی ہوگئے۔ ان لوگوں کا نظام تین سردار چلاتے تھے۔ ایک سید، جو قبائلی شیوخ کی طرح بڑا سردار اور خارجی معاملات، معاہدات اور فوجوں کی قیادت کا ذمہ دار تھا۔ دوسرا عاقِب، جو داخلی معاملات کا نگران تھا اور تیسرا اُسقُف (بشپ) جو مذہبی پیشوا ہوتا تھا۔ جنوبی عرب میں نجران کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ یہ ایک بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز تھا۔ ٹَسرَ ، چمڑے اور اسلحہ کی صنعتیں یہاں چل رہی تھیں۔ مشہور حلہ یمانی بھی یہیں تیار ہوتا تھا۔ اسی بنا پر محض مذہبی وجوہ ہی سے نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی وجوہ سے بھی ذونواس نے اس اہم مقام پر حملہ کیا۔ نجران کے سید حارثہ کو جسے سریانی مؤرخین Orethas لکھتے ہیں، قتل کیا، اس کی بیوی رومہ کے سامنے اس کی دو بیٹیوں کو مار ڈالا اور اسے ان کا خون پینے پر مجبور کیا، پھر اسے بھی قتل کردیا۔ اسقف پال (Paul) کی ہڈیاں قبر سے نکال کر جلا دیں۔ اور آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں عورت، مرد، بچے، بوڑھے، پادری، راہب سب کو پھکوا دیا۔ مجموعی طور پر بیس سے چالیس ہزار تک مقتولین کی تعداد بیان کی جاتی ہے۔ یہ واقعہ اکتوبر 523 ء میں پیش آیا تھا۔ آخرکار 525 ء میں حبشیوں نے یمن پر حملہ کرکے ذونواس اور اس کی حمیری سلطنت کا خاتمہ کردیا۔ اس کی تصدیق حصین غراب کے کتبے سے ہوتی ہے جو یمن میں موجود زمانہ کے محققین آثارقدیمہ کو ملا ہے۔
چھٹی صدی عیسوی کی متعدد عیسائی تحریرات میں اصحاب الاخدود کے اس واقعہ کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں جن میں سے بعض عین زمانہ ٔ حادثہ کی لکھی ہوئی ہیں اور عینی شاہدوں سے سن کر لکھی گئی ہے۔ ان میں سے تین کتابوں کے مصنف اس واقعہ کے ہم عصر ہیں۔ ایک پر وکوپیوس، دوسرا کو سم اس انڈیکوپلیوسٹس (Cosmos Indicopleustis) جو نجاشی ایلیسبوعان (Elesboan) کے حکم سے اس زمانے میں بطلیموس کی یونانی کتابوں کا ترجمہ کر رہا تھا اور حبش کے ساحلی شہر ادولیس (Adolis) میں مقیم تھا۔ تیسرا یوحنس ملالا (Johannes Malala) جس سے بعد کے متعدد مؤرخین نے اسی واقعہ کو نقل کیا ہے۔ اس کے بعد یوحنس افسوسی (Johannaes of Ephesus) متوفی 585 ء نے اپنی تاریخ کنیسہ میں نصاریٰ نجران کی عذیب کا قصہ اس واقعہ کے معاصر راوی اسقف مارشمعون (Simeon) کے ایک خط سے نقل کیا ہے جو اس نے دیرجبلہ کے رئیس (Abbot von Gabula) کے نام لکھا تھا، اور مارشمعون نے اپنے خط میں یہ واقعہ ان اہل یمن کے آنکھوں دیکھے بیان سے روایت کیا ہے جو اس موقع پر موجود تھے۔ یہ خط 1881 ء میں روم سے اور 1890 ء میں شہدائے مسیحیت کے حالات کے سلسلے میں شائع ہوا ہے۔ یعقوبی بطریق ڈایونیسیوس (Patriarch Dionysius) اور زکریا مدللی (Zacharia of Mitylene) نے اپنی سریانی تاریخوں میں بھی اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ یعقوب سروجی کی کتاب دربابِ نصاریٰ نجران میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ الرَّھا (Edessa) کے اسقف پولس (Pulus) نے نجران کے ہلاک شدگان کا مرثیہ لکھا جو اب بھی دستیاب ہے۔ سریانی زبان کی تصنیف کتاب الحمیریین کا انگریزی ترجمہ (Book of the Himyarites) 1924 ء میں لندن سے شائع ہوا ہے اور روہ مسلمان مؤرخین کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ برٹش میوزیم میں اس عہد اور اس سے قریبی عہد کے کچھ حبشی مخطوطات بھی موجود ہیں جو اس قصے کی تائید کرتے ہیں۔ فلبی نے اپنے سفرنامے (Arabian Highlands) میں لکھا ہے کہ نجران کے لوگوں میں اب تک وہ جگہ معروف ہے جہاں اصحاب الاخدود کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ام خرق کے پاس ایک جگہ چٹانوں میں کھدی ہوئی کچھ تصویریں بھی پائی جاتی ہیں۔ اور کعبہ نجران جس جگہ واقع تھا اس کو بھی آج کل کے اہل نجران جانتے ہیں۔
حبشی عیسائیوں نے نجران پر قبضہ کرنے کے بعد یہاں کعبہ کی شکل کی ایک عمارت بنائی تھی جسے وہ مکہ کے کعبہ کی جگہ مرکزی حیثیت دینا چاہتے تھے۔ اس کے اساقفہ عمامے باندھتے تھے اور ان کو حرم قرار دیا گیا تھا۔ رومی سلطنت بھی اس کعبہ کے لیے مالی اعانت بھیجتی تھی۔ اسی کعبہ نجران کے پادری اپنے سید اور عاقب اور اسقف کی قیادت میں مناظرے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور مباہلہ کا وہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر سورة آل عمران آیت 61 میں کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 85:8وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّآ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِالْحَمِیْدِ ۔ (البروج : 8)
(اور ان اہل ایمان سے ان لوگوں کی دشمنی صرف اس وجہ سے تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ )
کفار کے نزدیک ایمان باللہ سب سے بڑا جرم ہے
یعنی جن ظالموں نے اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا اور ان پر وحشیانہ ظلم کیا ان سے ان کی کوئی دشمنی نہ تھی، انھوں نے کوئی ایسا جرم نہ کیا تھا جس کی وجہ سے انھیں ایسی سخت سزا دی جاتی۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ خدائے عزیزوحمید پر ایمان لے آئے تھے۔
خونے نہ کردہ ایم و کسے را نہ کشتہ ایم
جرمم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ ایم
حالانکہ ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ان کی فطرت کی آواز تھی۔ کیونکہ انسانی فطرت اگر بگڑ نہ جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ کبھی نہ کبھی اس کے دل سے اللہ تعالیٰ کی یاد ابھرتی ہے چاہے وہ فریاد بن کر ابھرے اور چاہے وہ ضرورت کا اظہار بنے۔ ہاتھ ہمیشہ اسی کے سامنے پھیلتا ہے اور بےنوا ہمیشہ اسی کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ تو ایسی ذات پر ایمان جرم نہیں، خوبی ہے جس کا اعتراف ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہی خوبی ان کا جرم بن گئی۔
اللہ تعالیٰ کی صفات
ایک اور پہلو سے اگر دیکھا جائے تو ایمان درحقیقت کسی ذات کی کبریائی اور اپنی عاجزی اور بندگی کا اعتراف ہے۔ یہ صرف اسی کے سامنے ہوسکتا ہے جس میں دو صفتیں پائی جاتی ہوں۔ ایک یہ کہ وہ عزت، قدرت، شان اور عظمت و جلال میں سب سے بالا ہو۔ اسی کو عزیز کہتے ہیں۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں۔ اسی طرح دوسری صفت یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہو۔ نہ اس کے حسن کا جواب ہو، نہ اس کے کمالات کا۔ اس کی جودو وسخا کا دسترخوان سب کے لیے کھلا ہو، اس کا فیضان سب کو برابر پہنچتا ہو، ایسی ذات کو حمید کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی ایمان کی حقدار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کہ وہ عزیز بھی ہے اور حمید بھی۔ تو کیسا غضب ہے کہ جن لوگوں نے ایک عزیزوحمید ذات کو مانا اور اس پر ایمان لائے بجائے اس کے کہ انھیں حقیقت اور فطرت کا شناسا کہا جاتا انھیں ایک مجرم قرار دے کر انتہائی عذاب دیا گیا۔
Ayah 85:9الَّذِیْ لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (البروج : 9)
(جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی مذکورہ بالا صفات کو مزید نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ وہی ذات ہے جس کے لیے آسمان و زمین کی حکومت اور بادشاہی ہے۔ ہر مخلوق اسی کی مملوک ہے، سب اسی کے فیضان سے زندہ اور قائم ہیں۔ ایسی ذات کے سوا اور کون حقدار ہوسکتا ہے جس پر ایمان لایا جائے۔ تو جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں وہ درحقیقت راہ معرفت سے آشنا ہوجاتے ہیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے ان ظالموں نے ایمان کی سزا کے طور پر جو کچھ ان بےنوائوں کے ساتھ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہے۔ اور جو کچھ قریش مسلمانوں کے ساتھ کررہے ہیں ان سے بھی اللہ تعالیٰ بیخبر نہیں ہے۔ تو جب وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور پھر حکومت بھی اسی کی ہے تو ایسے بدبخت ظالموں کو آخر وہ کب تک گوارا کرے گا۔ اس لحاظ سے ایک تنبیہ ہے جو قریش کو کی جارہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل پر مغرور نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے، وہ وقت دور نہیں جب یہ ڈھیل ختم ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی گرفت آجائے۔ پھر وہ اپنے مظلوم بندوں کا اس طرح انتقام لے کہ ظالموں کے لیے کوئی پناہ گاہ نہ رہے۔
صاحبِ تفہیم القرآن نے جو تفصیل بیان کی ہے۔ ابن کثیر نے بھی نہایت اختصار کے ساتھ اس کے اصل مضمون کی تائید کی ہے۔ وہ ابن ابی حاتم کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آگ کی خندق کا واقعہ دنیا میں ایک ہی نہیں بہت مختلف ملکوں اور زمانوں میں ہوئے ہیں۔ پھر ابن ابی حاتم نے ان واقعات میں سے تین کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے کہ ایک خندق یمن میں تھی جس کا واقعہ آنحضرت ﷺ سے ستر سال پہلے پیش آیا۔ دوسری خندق شام میں اور تیسری فارس میں تھی۔ مگر قرآن کریم نے جس خندق کا ذکر اس سورة میں کیا ہے وہ خندق نجران ملک یمن کی خندق ہے۔ کیونکہ یہی عرب کے ملک میں تھی، اور اسی پر صاحب تفہیم القرآن نے زور دیا ہے۔
ابنِ کثیر نے محمد بن اسحاق کی روایت بیان کی ہے کہ (حضرت صہیب رومی کی روایت میں جس لڑکے کا ذکر ہے اس کا نام عبداللہ ابن قامر تھا) ۔ یہ لڑکا جس جگہ مدفون تھا اتفاقاً کسی ضرورت سے وہ زمین حضرت عمرفاروق ( رض) کے زمانے میں کھودی گئی۔ تو اس میں عبداللہ ابن قامر کی لاش صحیح سالم اسی طرح برآمد ہوئی کہ وہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا ہوا تھا جہاں تیر لگا تھا۔ کسی دیکھنے والے نے ان کا ہاتھ اس جگہ سے ہٹایا تو زخم سے خون جاری ہوگیا۔ پھر ویسے ہی رکھ دیا تو بند ہوگیا۔ ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی تھی جس پر لکھا ہوا تھا، اللہ ربی۔ عاملِ یمن نے اس واقعہ کی اطلاع حضرت فاروق اعظم ( رض) کو دی تو آپ نے جواب میں لکھا کہ ان کو ان کی ہیئت پر انگوٹھی سمیت اسی طرح چھپا دو جیسے پہلے تھی۔ (ابنِ کثیر)
Ayah 85:10اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَھُمْ عَذَابُ جَنَھَّمَ وَلَھُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ۔ (البروج : 10)
(بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں پر ظلم و ستم توڑا، پھر اس سے تائب نہ ہوئے، یقینا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلائے جانے کی سزا ہے۔ )
ظالموں کو وعید
ْٓجن لوگوں نے ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کو آگ کی خندقوں میں پھینک کر نہایت سنگدلی سے جلایا تھا، ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کسی کو ایمان سے پھیرنے کے لیے اذیت دی جائے تاکہ وہ پھر کفر اختیار کرلے، اسی کو فتنہ کہتے ہیں۔ ان ظالموں نے اسی فتنے میں ان بےکس مومنوں کو مبتلا کیا تھا کہ اگر وہ سلامتی چاہتے ہیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کا دین چھوڑ کر شیطان کا دین اختیار کرنا چاہیے جس پر وہ پہلے سے چل رہے تھے۔ اور پھر اس جرم میں شدت مزید دو وجہ سے پیدا ہوئی۔ ایک تو اس لیے کہ انھوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں پر بھی مظالم توڑے۔ اور ممکن ہے عورتوں پر مظالم زیادہ توڑے گئے ہوں اور ان میں زیادہ تر لونڈیاں شامل ہوں۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایمان والوں کو صرف موت کی سزا نہیں دی بلکہ ان کو زندہ جلایا۔ ایسے انتہا درجہ ظالم لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ لوگ اس پر توبہ نہیں کرتے، یعنی اپنے اس فعل پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب نہیں کرتے تو پھر ان کے لیے دو طرح کا عذاب ہے ایک تو جہنم کا عذاب جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور دوسرا آگ کا عذاب ہے۔ حالانکہ جہنم میں بھی آگ ہی کا عذاب ہوگا۔ اس کے باوجود دوبارہ آگ کے عذاب کا ذکر دو مفہوموں کو متضمن ہوسکتا ہے۔ ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ خاص قسم کی آگ ہوگی جس کی تیزی اور تپش جہنم کی آگ سے بھی بڑھ کر اور تکلیف دہ ہوگی۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد دنیا کی آگ ہے۔ یعنی جب ان ظالموں نے ان اصحابِ ایمان کو آگ کی خندق میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں خندق میں گرنے سے پہلے وفات دے دی۔ اس طرح سے وہ آگ میں جلنے سے بچ گئے۔ لیکن خندق کی یہ آگ ان کے گرنے سے بھڑک اٹھی اور خندق کی حدود سے نکل کر شہر میں پھیل گئی اور ان سب لوگوں کو جو مسلمانوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے، اس آگ نے جلا دیا اور ان کی آبادیاں بھی تباہ و برباد ہوگئیں۔ صرف بادشاہ یوسف ذونواس بھاگ نکلا۔ اور آگ سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ (مظہری)
عجیب بات یہ ہے کہ جن ظالموں نے اصحابِ ایمان کو زندہ جلایا وہ یقینا کسی رحم کے مستحق نہیں تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تجویز کرتے ہوئے یہ قید بھی لگا دی ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا یعنی یہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اپنے اس فعل پر نادم ہو کر تائب نہیں ہوئے۔ اس طرح سے ان لوگوں کو توبہ کی طرف دعوت دی گئی۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس جودوکرم کیا کہنا کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو زندہ جلا کر ان کا تماشا دیکھا اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی ان کو توبہ اور مغفرت کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ (ابنِ کثیر)
Ayah 85:11اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ 5 ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْـکَبِیْرُ ۔ (البروج : 11)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی۔ )
ایمان پر ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت
جن لوگوں نے آگ میں کود کر ایمان کی قیمت ادا کی، ان کی پختگی ایمان کا کیا کہنا۔ جو ایمان کو بچانے کے لیے جلنے کا عذاب برداشت کرلیتا ہے اس کے دل میں اللہ تعالیٰ سے محبت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے یہاں ان کے جس ایمان کا ذکر ہورہا ہے وہ یقینا عام ایمان نہیں، بلکہ ایسا ایمان ہے جو ایک مومن کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اور یہی حال ان کے اعمال صالحہ کا بھی ہے۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے باغات رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ لیکن یہ باغات بھی جنت کے عام باغوں جیسے نہیں یقینا اپنی قدر و قیمت میں انفرادی شان رکھتے ہوں گے۔ اس میں اہل ایمان کو جو بشارت سنائی جارہی ہے اس کے اصل مخاطب یقینا وہی ہیں جنھیں آگ کی خندقوں میں پھینکا گیا تھا۔ لیکن ان کے واسطے سے صحابہ کرام ( رض) کو بھی یہ تسلی دی جارہی ہے کہ تم اگرچہ قریش کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہو اور ایک ناقابلِ برداشت صورتحال سے تمہیں گزرنا پڑ رہا ہے لیکن اطمینان رکھو ایک بہت بڑا انعام تمہارے انتظار میں ہے۔
آخر میں فرمایا کہ ایمان و عمل کے بدلے میں جنت کا حصول ایسی بڑی کامیابی ہے کہ اسے ہی اصل کامیابی کہا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّـۃَ فَقَدْ فَازَ ” جو شخص جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ ہوا کامیاب۔ “ دنیا میں چند دنوں کی آزمائش یقینا ایک بڑا امتحان ہے لیکن آخرت میں جنت کا حصول ایسی بڑی کامیابی ہے جسے آخرت کی بادشاہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
Ayahs 85:12–16اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ اِنَّـہٗ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ ۔ وَھُوَالْغَفُوْرُالْوَدُوْدُ ۔ ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۔ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ (البروج : 12 تا 16)
(بیشک آپ کے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور وہ بخشنے والا اور پیار کرنے والا ہے۔ عرشِ بریں کا مالک ہے۔ جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ )
سابقہ صفات کو مؤکد کرنے کے لیے مزید صفات کا تذکرہ
سابقہ آیات میں اہل ایمان پر ظلم ڈھانے والوں کو جو دھمکیاں دی گئیں اور اہل ایمان کو بیش بہا نعمتوں کا جو مژدہ سنایا گیا اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی مزید صفات ذکر فرمائی گئی ہیں۔
سب سے پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ اس میں واحد کا خطاب ہر شخص کو بھی ہوسکتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو بھی۔ اگر آپ کو خطاب مانا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ دشمنوں کو تنبیہ کرتے ہوئے اور اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے یہ باور کرائیں کہ آپ کے رب کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ کافر اپنے آپ کو کچھ بھی سمجھیں اور قیامت کے دن اپنے بچائو کے لیے کیسے ہی شرکاء و شفعاء پر بھروسہ رکھیں، لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہیں۔ قیامت کے دن بڑے بڑے پیغمبر بھی نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے۔ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا خوف پیدا ہوگیا اسی کا ہاتھ ظلم سے رک سکتا ہے اور اس پر ایمان لانے والا اس کی بےپناہ قوت کا سہارا لے سکتا ہے۔
دوسری صفت یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ جن کفار نے اہل ایمان کو زندہ جلایا گزشتہ آیات میں انھیں جہنم کے عذاب اور آگ کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ جبکہ وہ لوگ جہنم کو ماننے سے انکار کرتے تھے۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جہنم محض ایک ڈراوا اور دھمکی معلوم ہوتی ہے اور تم یہ سمجھتے ہو کہ مرنے کے نہ کوئی زندگی ہے اور نہ موت۔ حالانکہ تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اس کائنات کو پیدا کیا اور تمہیں بھی پیدا کیا اور تمہارے آبائواجداد کو بھی۔ تو اب کیا وہ ازسرنو اس کا اعادہ نہیں کرسکتا۔ جب پہلی بار پیدا کرنے میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو دوبارہ کیوں پیش آئے گی۔
تیسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بخشنے والا ہے، محبت کرنے والا ہے۔ یعنی تمہارے کرتوت تو اس قابل ہیں کہ تمہیں ایک لمحہ بھی زندگی کا نہ دی جائے اور خودونوش کی ہر چیز تم سے روک دی جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے پیار کرتا ہے۔ اور اگر وہ بغاوت اور نافرمانی سے توبہ کرلیں تو انھیں معاف بھی کردیتا ہے۔ کیونکہ یہ بھی اس کی محبت کا تقاضا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ چونکہ وہ عادل بھی ہے اور سلطنتِ کائنات کا فرمانروا بھی اور وہی عرش کا مالک اور عظمت والا ہے۔ تو جب کوئی مظلوم اس کی زنجیرعدل کو حرکت دیتا ہے یا کوئی ظالم اپنے مظالم سے اس کے قانون کو توڑتا ہے یا کوئی طاغوت بن کر اس کی کبریائی کو چیلنج کرتا ہے تو پھر اس کی عدالت اور قدرت حرکت میں آتی ہیں۔ وہ جس طرح اپنوں پر رحم کھاتا ہوا انعامات سے نوازتا ہے، اس طرح ظلم کرنے والوں کو ظلم کی سزا دیتا ہے۔ چونکہ وہی حقیقی اقتدار کا مالک ہے اس لیے وہ اپنے ہر ارادے کو بروئے کار لانے میں مکمل بااختیار ہے۔ نہ اسے کوئی رحم کرنے سے روک سکتا ہے، نہ اسے کوئی سزا دینے میں مزاحم ہوسکتا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ کائنات میں کسی کی بھی یہ طاقت نہیں کہ اس کے کسی ارادے میں رکاوٹ بن سکے۔
Ayahs 85:17–18ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ ۔ فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدَ ۔ (البروج : 17، 18)
(کیا تمہارے پاس لشکروں کی خبر پہنچی ہے۔ فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی۔ )
سابقہ حقائق پر تاریخ سے استدلال
اوپر جو حقائق بیان کیے گئے ہیں اس کے اثبات کے لیے تاریخ سے استدلال کیا جارہا ہے۔ پہلے اجمالی انداز میں فرمایا کہ کیا تمہیں لشکروں کی خبر پہنچی ہے، یعنی جو قومیں بڑی بڑی سلطنتیں بنانے میں کامیاب ہوئیں اور ان کے پاس فوجوں کی بڑی تعداد تھی اور وہ اپنی اسی قوت کے بل بوتے پر خیر کی کسی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس طرح آج تمہیں اپنے طاقتور جتھوں کا زعم ہے اور اسی کے بل بوتے پر تم اللہ تعالیٰ کی زمین میں فساد مچا رہے ہو، آخر وہ لوگ کس انجام سے دوچار ہوئے۔ ظاہر ہے کہ تم بھی ایسے انجام سے بچ نہیں سکو گے۔ پھر اس اجمال کو کھولتے ہوئے فرعون اور ثمود کے لشکروں کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ قریش ان دونوں کی قوت سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ مرعوب بھی تھے۔ قوم ثمود بڑی توانا اور ہر لحاظ سے طاقتور قوم تھی۔ اور فرعون اپنے دور کا سب سے طاقتور حکمران سمجھا جاتا تھا اور جس کی فوجوں کی کثرت تعداد کی وجہ سے اسے میخوں والا کہا جاتا تھا، لیکن جب ان قوموں نے اللہ تعالیٰ سے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور جبر و ظلم کو وطیرہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ وہ اپنی تمام تر قوت و شوکت کے باوجود صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ اور کوئی ان کی مدد نہ کرسکا۔
Ayah 85:19بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَـکْذِیْبٍ ۔ (البروج : 19)
(مگر جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی صفات بھی بیان ہوئیں، عقلی دلائل بھی دیئے گئے، کفار کو تنبیہات بھی کی گئیں، تاریخ سے بھی استدلال کیا گیا، تبلیغ و دعوت اور ابلاغ و تفہیم میں کوئی کمی نہیں رہی۔ اس کے باوجود کفار کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں۔ نہ قیامت کو ماننے پر تیار ہیں نہ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 85:20وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآئِہِمْ مُّحِیْطٌ۔ (البروج : 20)
(اور اللہ ان کو آگے پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے۔ )
یعنی ان بیخبروں کو کچھ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو آگے پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے۔ یہ اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ لیکن جس دیدہ دلیری سے یہ تکذیب کررہے ہیں اس تو معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا کوئی خوف نہیں۔ اور ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں ہم اتنی بڑی قوت کے مالک ہیں کہ ہم پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور آخر میں ہماری شفاعت کرنے والے ہمیں بچا لیں گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے ان کی بےبسی ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔
Ayahs 85:21–22بَلْ ھُوَا قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ۔ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۔ (البروج : 12، 22)
(بلکہ یہ بلند پایہ قرآن ہے۔ لوحِ محفوظ کے اندر ہے۔ )
انسانوں کی ہدایت کے لیے آج جو کتاب نازل کی گئی ہے وہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ اور وہ ایک ایسا بزرگ و برتر کلام ہے جسے شاعروں اور کاہنوں کے کلام پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا سرچشمہ لوح محفوظ ہے۔ اس کا ہر حکم اٹل ہے۔ اس کی ہر خبر پوری ہو کر رہنے والی ہے۔ ساری دنیا مل کر بھی اسے باطل نہیں کرسکتی۔ اس لیے تمہیں وہ جس انجام سے آگاہ کررہا ہے اس سے بچنے کی فکر کرو۔