Ayahs 84:1–5اِذَا السَّمَـآئُ انْشَقَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۔ وَاَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ (الانشقاق : 1 تا 5)
(جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا، اور اس کے لیے یہی زیبا ہے۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور باہر پھینک دے گی جو کچھ اس کے اندر ہے، اور فارغ ہوجائے گی۔ اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی، اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے۔ )
وقوعِ قیامت سے بپا ہونے والی ہلچل
قیامت نام ہی ایک ہمہ گیر انقلاب کا ہے جس میں پہلا جہان مٹ جائے گا اور جہانِ نو وجود میں آئے گا۔ پہلے قوانین کو ختم کرکے نئے نوامیس و قوانین کو رائج کیا جائے گا۔ کائنات کی سب سے بڑی اور مضبوط مخلوق آسمان ہے اس لیے سب سے پہلے اس کی تباہی کا ذکر فرمایا ہے۔ اہل دنیا میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ کبھی اتنا بڑا حادثہ بھی پیش آسکتا ہے۔ جو لوگ اپنے قلعوں اور محلوں پر مطمئن اور نازاں ہیں وہ کیسے یہ تصور کرسکتے ہیں کہ کبھی آسمان کی چھت بھی ہمارے سروں پر نہیں ہوگی۔ انھیں یہ تصور دیا جارہا ہے کہ وہ دن کس قدر ہولناک ہوگا جب آسمان کی چھت بھی پھٹ جائے گی تو قلعوں اور گڑھیوں کے نام سے تم نے جو گھروندے بنا رکھے ہیں وہ کہاں باقی رہیں گے۔
دوسری آیت میں فرمایا کہ آسمان اپنے پھٹنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرے گا۔ اور اسے یہی بات زیب دیتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرے۔ اَذِنَ لَـہُکے معنی ہیں اس نے اس کی بات مان لی، اس کے حکم کی تعمیل کی، اس کے آگے سر جھکا دیا۔
حُقَّ لَـہُکا معنی ہے کہ اس کے لیے واجب ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اور اسے یہی بات زیب دیتی ہے کہ وہ یہ کام کرے۔ اس سے بتلانا مقصود یہ ہے کہ جب آسمان جیسی بلند، عظیم اور مضبوط چیز کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے بےبس ہے تو اے دنیا کے فراعنہ صفت لوگو ! تم کس برتے پر اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کررہے ہو۔ تمہاری حیثیت تو ایک ذرہ بےمقدار کی ہے۔ تو تم نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے ذرا سوچو اس کا کیا جواز ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں زمین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ پھیلانے کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں جو بہت سی شکنیں اور سلوٹیں ہیں، نشیب و فراز ہیں، وادیاں اور کہسار ہیں، دریا اور سمندر ہیں سب پاٹ دیئے جائیں گے۔ سب کی اونچ نیچ برابر کردی جائے گی۔ اور زمین کی تہوں میں جو بیشمار چیزیں چھپی ہوئی ہیں جب اس کی سلوٹیں برابر کردی جائیں گی اور اس کو ایک چادر کی طرح تان دیا جائے گا تو یہ ساری چیزیں باہر نکل جائیں گی۔ اور ان چیزوں کو باہر نکال کر وہ اس طرح فارغ ہوجائے گی جیسے ایک حاملہ وضع حمل کے بعد راحت اور فراغت محسوس کرتی ہے۔ اسی کیفیت کو سورة طٰہٰ میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو ایک چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پائو گے۔ حاکم نے مستدرک میں حضرت جابر بن عبداللہ ( رض) کے حوالہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’ ’ قیامت کے روز زمین ایک دسترخوان کی طرح پھیلا کر بچھا دی جائے گی۔ پھر انسانوں کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی۔ “ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جتنے انسان روزآفرینش سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے بیک وقت زندہ کرکے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ اتنی بڑی تعداد کے لیے موجودہ زمین تو یقینا بہت چھوٹی ہوگی، اس لیے ضروری ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل، گھاٹیاں اور پست و بلند علاقے سب کے سب ہموار کرکے پورے کُرّہ ٔ زمین کو ایک میدان بنادیا جائے تاکہ اس پر ساری نوع انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پاسکیں۔
اس سے پہلے جو بات آسمان کے بارے میں فرمائی گئی ہے وہی بات زمین کے حوالے سے کہی جارہی ہے کہ جس طرح آسمان میں تمام تبدیلیاں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں آئی ہیں، اسی طرح زمین بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرے گی اور یہ اطاعت ہی اس کے لیے زیبا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اپنے خالق کی اطاعت سے انحراف نہیں کرسکتی۔ لیکن تف ہے انسان پر کہ زمین اور آسمان تو جب تک قائم ہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اور جب انھیں نئے سرے سے نئی تبدیلیوں کے ساتھ وجود دیا جائے گا تو اس وقت بھی یہ ہر طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کریں گے۔ لیکن انسان ان دونوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوئے بھی نافرمانی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت تو درکنار اس کی بغاوت پر تلا ہوا ہے۔ اسے سوچنا چاہیے کہ اس کا یہ رویہ کہاں تک صحیح ہے۔
Ayah 84:6یٰٓـاَیُّـھَا الْاِنْسَانُ اِنَّـکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰـقِیْہِ ۔ (الانشقاق : 6)
(اے انسان ! تو کشاں کشاں اپنے رب ہی کی طرف چلا جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے۔ )
دنیا کے فریب خوردگان کو تنبیہ
کائنات کی سب سے بڑی دو مخلوقات کی کامل اطاعت وانقیاد اور ان کے حیرت انگیز انجام کو ذکر کرنے کے بعد انسان سے فرمایا جارہا ہے کہ اے انسان ! جس طرح زمین و آسمان کو دیکھتے ہوئے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ دونوں اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور آخر ایک روز شکست و ریخت کا شکار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں نئی خدمت تفویض کردے گا۔ لیکن تم نے دیکھا کہ وہ دنوں اپنے انجام سے دوچار ہوئے اور قدرت نے ان سے نئی تبدیلیوں کے ساتھ نیا کام لیا۔ اور ہر قدم پر ان دونوں نے کامل انقیاد کا ثبوت دیا۔ اسی طرح اے انسان ! تم بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہو گے۔ تمہاری یہ قوت و سطوت اور دولت و ثروت کے مظاہر اسی طرح ایک روز تباہی کی نذر ہوں گے۔ تم بھی باقی مخلوقات کی طرح ایک انجام کی طرف بڑھ رہے ہو۔ لیکن اپنی دنیوی زندگی کے جھمیلوں اور مسلسل دنیوی کامیابیوں میں مصروف رہنے کی وجہ سے تمہیں کبھی اپنا انجام یاد نہیں آتا۔ ایک مصروفیت کے بعد دوسری مصروفیت، ایک کامیابی کے بعد دوسری کامیابی اور فتوحات کا مسلسل سفر تمہیں یہ سوچنے کی فرصت نہیں دیتا کہ آخر اس سفر کی کوئی منزل بھی ہے۔ تم خواہی نخواہی اسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہو۔ ظاہر ہے کہ وہ منزل دنیا تو نہیں ہوسکتی کیونکہ دنیا کی صف بھی ایک دن لپیٹ دی جائے گی۔ تمہاری زندگی بھی نہیں ہوسکتی کیونکہ زندگی کا بھی ایک دن خاتمہ ہوجائے گا۔ وہ منزل یقینا آخرت ہے جب تمہیں ازسرنو زندہ کرکے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جوابدہی کے لیے کھڑا کردیا جائے گا۔ تم اس منزل کے مسافر ہو اور یہ سفر پیدا ہونے کے فوراً بعد شروع ہوجاتا ہے۔ بچپن، لڑکپن، جوانی، پڑھاپا، یہ سفر کے مختلف پڑائو ہیں۔ یہ سفر کسی توقف کے بغیر جاری رہتا ہے۔ موسم کیسا بھی ہو، حالات کیسے بھی ہوں اس سفر میں انقطاع نہیں۔ انسان قانونِ قدرت کی زنجیروں میں ایسا جکڑا ہوا ہے کہ وہ اس راہ میں نہ بھی چلنا چاہے، جب بھی چلنے پر مجبور ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ کائنات کے سیاروں اور بڑے بڑے کُرّوں کو اپنی منزل کا علم اور اس کی فکر ہے۔ لیکن انسان اس سے بالکل غافل ہے۔ اسی غفلت سے نکالنے کے لیے بار بار اس کو تنبہات کی جارہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کی کتابیں بار بار اسے جھنجھوڑتی ہیں کہ تمہیں بہرحال ایک دن اللہ تعالیٰ ہی سے ملنا ہے۔ اسی سے ملاقات، اسی کے حضور حاضری اور اسی کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی یہی تمہاری منزل اور یہی تمہاری زندگی کا مقصد ہے۔ اور اسی جوابدہی پر تمہارے اچھے یا برے انجام کا دارومدار ہے۔
Ayahs 84:7–9فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰـبَہٗ بِیَمِیْـنِہٖ ۔ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ وَّیَنْقَلِبُ اِلٰٓی اَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا۔ (الانشقاق : 7 تا 9)
(پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا۔ اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے لوگوں کی طرف نہایت شادمند لوٹے گا۔ )
قیامت کے روز اصحاب الیمین کا انجام
اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس کے قبول یا عدم قبول کے حوالے سے دو طرح کے لوگ وجود میں آتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو دارالعمل سمجھا اور قیامت کو دارالجزاء جان کر اس کے لیے تیاری کی۔ اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہی کے لیے تیار کیا۔ اور زندگی اس طرح گزاری جس سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی آسان ہوجائے۔ ایسے گروہ کا انجام ان آیتوں میں بیان فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ انھوں نے زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں گزاری، اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کیے اور بندوں کے بھی، اور فرائض میں بھی حتی المقدور کوتاہی نہیں کی۔ ان کے نامہ عمل میں چونکہ نیکیوں کا غلبہ ہوگا اور برائیوں مغلوب ہوں گی تو ان کا نہایت آسان حساب لیا جائے گا۔ آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ دیکھا جائے گا کہ ان کے نیک اعمال کا وزن زیادہ ہے تو پھر ان کی معمولی غلطیوں سے درگزر کی جائے گی۔ ان کے ایک ایک عمل کے بارے میں ان سے سوال نہیں ہوگا۔ سورة احقاف آیت سولہ میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہتر اعمال قبول کرلیں گے۔ اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی جو تشریح فرمائی ہے اکثر حدیث کی کتابوں میں مختلف الفاظ میں اسے حضرت عائشہ ( رض) سے نقل کیا گیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس سے حساب لیا گیا، وہ مارا گیا۔ حضرت عائشہ ( رض) نے عرض کیا، یارسول اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جس کا نامہ عمل اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔ حضور ﷺ نے جواب دیا وہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے، لیکن جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ مارا گیا۔
دہنے ہاتھ میں نامہ عمل کا دیا جانا چونکہ نجات کی علامت ہے اس لیے جس کسی کو دہنے ہاتھ میں نامہ عمل دیا جائے گا وہ نہایت خوش خوش اپنے اہل و عیال میں لوٹے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے اہل و عیال، رشتہ دار اور احباب وہ ہوں گے جو اسی طرح معاف کیے جا چکے ہوں گے۔ اب وہ اس کے انتظار میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اس پر بھی اپنی مہربانی فرمائے، چناچہ جیسے ہی اسے یہ خوشی میسر آئے گی تو فوراً اپنے اہل کی طرف لوٹے گا۔
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے اہل و عیال کی تربیت میں محنت کی اور حتی الامکان انھیں نیکی کے راستے پر چلانے کی کوشش کی تو قیامت کے دن اگر ان کے اعمالِ صالحہ کی مطلوب تعداد میں کسی حد تک کمی بھی رہ گئی تو اللہ تعالیٰ ان کے والدین کی خوشیوں کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی نیکیوں میں اضافہ فرما دے گا۔ اور اگر والدین اور اولاد کے مراتب میں فرق ہوگا تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ان کے مراتب میں یکسانی پیدا فرما دے گا تاکہ وہ جنت کے ایک ہی درجہ میں اکٹھے رہ سکیں۔ اور ایک دوسرے کی محبت و ہم نشینی سے محظوظ ہوں۔ لیکن اس کے لیے کسی کے مقام و مرتبہ میں کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayahs 84:10–12وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰـبَہٗ وَرَآئَ ظَہْرِہٖ ۔ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُـبُوْرًا۔ وَّیَصْلٰے سَعِیْرًا۔ (الانشقاق : 10 تا 12)
(رہا وہ شخص جس کا اعمال نامہ اس کے پیچھے ہی سے پکڑا دیا جائے گا۔ تو وہ موت کو پکارے گا۔ اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا۔ )
آخرت سے بےنیاز لوگوں کا انجام
اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونے والے انسانوں میں دوسری قسم کے لوگ وہ ہوں گے جنھوں نے آخرت سے بالکل بےنیاز رہ کر زندگی گزاری۔ ان کی بدنصیبی کی علامت کے طور پر اور ان کے انجام کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے نامہ اعمال انھیں پیچھے سے پکڑا دیئے جائیں گے۔ اگرچہ اس آیت میں صراحۃً مذکور نہیں کہ پیچھے سے کس ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ لیکن دو باتوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ ایک تو اس بات سے کہ جب پہلے گروہ کے بارے میں یہ فرمایا گیا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے تو ان سے متضاد رویہ رکھنے والے انسانوں کو یقینا ان کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے تاکہ جس طرح دائیں ہاتھ میں اعمال نامے لینے والے اعمال نامے لیتے ہی خوشی خوشی اپنے اہل و عیال میں جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا مقدر سنوار دیا۔ گویا دائیں ہاتھ میں اعمال ناموں کا ملنا مبارک ہونے کی دلیل ہے۔ اسی طرح ان کے مقابل گروہ کو بائیں ہاتھ میں اس لیے اعمال نامے دیئے جائیں گے تاکہ اس برتائو ہی سے ان کی بدنصیبی ان پر واضح ہوجائے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ سورة الحاقہ آیت 25 میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَـہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتَابِیَہٗ ” رہاوہ جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا اے کاش ! مجھے اعمال نامہ دیا ہی نہ گیا ہوتا۔ “ رہی یہ بات کہ اس آیت میں بائیں ہاتھ کی بجائے پیچھے سے اعمال نامے دینے کا ذکر ہے۔ تو اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان بدنصیبوں کے ہاتھ عدالت میں مجرموں کی طرح پیچھے بندھے ہوئے ہوں گے۔ وہ اس قابل نہیں ہوں گے ہاتھ بڑھا کر اپنا نامہ عمل لے سکیں۔ اس لیے اسی حالت میں پیچھے سے ان کے بائیں ہاتھ میں نامہ عمل تھما دیا جائے گا۔
دائیں ہاتھ میں نامہ عمل لینے والے خوش نصیبوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ جیسے ہی ان کو ان کا اعمال نامہ ملے گا وہ خوشی خوشی اپنے اہل کی طرف پلٹیں گے۔ لیکن دوسرے گروہ کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ان کے پاس کسی کو کچھ بتانے یا کسی کی طرف پلٹنے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ تو اعمال نامہ پکڑتے ہی جان لیں گے کہ ہماری قسمت پھوٹ گئی۔ اب ہمیں ناقابلِ بیان صورتحال سے واسطہ پڑنے والا ہے۔ اس لیے اپنے انجام کو دیکھتے ہوئے وہ موت اور ہلاکت کی دہائی دینے لگیں گے۔ کیونکہ اس عذاب سے بچنے یا رہائی پانے کی کوئی صورت اس کے سوا ممکن نہیں ہوگی کہ موت انھیں اپنی آغوش میں لے لے۔ لیکن اب کسی کی فریاد یا دہائی سے موت نہیں آئے گی، موت کا زمانہ گزر گیا۔ اب تو ہمیشہ کی زندگی ہے جو نیک لوگوں کی جنت میں گزرے گی اور برے لوگوں کی جہنم میں۔ چناچہ ان کی آہ وزاری کرنے سے بجائے اس کے کہ انھیں موت آئے انھیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اور ایک ایسی سزا شروع ہوجائے گی جس کا کوئی اختتام نہیں۔
Ayahs 84:13–14اِنَّـہٗ کَانَ فِیْٓ اَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا۔ اِنَّـہٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ ۔ (الانشقاق : 13، 14)
(وہ اپنے گھر والوں میں مگن رہا۔ اس نے گمان کر رکھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں۔ )
اصحاب الشمال کی بدبختی کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے
اصحاب الشمال یہ بدبختوں کا گروہ ہے جو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ انھوں نے دہرے جرم کا ارتکاب کیا۔ نہ اپنی فکر کی اور نہ اپنے اہل کی۔ اپنی ذات میں مگن اور اپنی دنیا میں گم یہ سمجھتے رہے کہ دنیا ہی ہماری منزل ہے اور موت آکر اس سفر کو ختم کردے گی۔ کوئی آخرت نہیں جس کی طرف ہمیں پلٹنا ہو۔ اور یہی تصور انھوں نے اپنے اہل و عیال میں پیدا کیا۔ انھیں بھی دنیوی لذتوں کا رسیا بنایا۔ ان کی دنیوی ضرورتوں کو پورا کیا۔ چاہے اس کے لیے کیسے ہی حرام ذرائع اختیار کرنے پڑے۔ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی عاقبت سے بےنیاز ہو کر اپنی اور اپنے اہل و عیال کی خوشیوں میں مگن رہ کر زندگی گزاری۔ اس لیے خود بھی اور اس کے اہل بھی جہنم کا ایندھن بنے۔
Ayah 84:15بَلٰٓی ج اِنَّ رَبَّـہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیْرًا۔ (الانشقاق : 15)
(ہاں ! کیوں نہیں، بیشک اس کا رب اس کو اچھی طرح دیکھ رہا تھا۔ )
اصحاب الشمال کی حماقت
بائیں ہاتھ میں نامہ عمل لینے والے کی اصل بھول یہ تھی کہ اسے کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنا نہیں۔ یہ دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے اس کے خاتمے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ اس پر استدراک کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیسے پلٹنا نہیں، یہ تصور ہی تو ان کی تمام خرابیوں کی جڑ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا رب ہر وقت انھیں دیکھ رہا تھا۔ ان کا کوئی عمل اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھا۔ اس کے مقرر کردہ فرشتے برابر ان کا روزنامچہ تیار کررہے تھے۔ ان کا نامہ اعمال مرتب ہورہا تھا۔ تو یہ سب کچھ کیا اس لیے تھا کہ انھیں شتر بےمہار کی طرح چھوڑ دیا جاتا یا ایک خودرو پودے کی طرح انھیں بےمقصد انجام کے حوالے کردیا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میں کوئی صفت عدالت نہیں۔ نہ اس میں حکمت ہے اور نہ رحمت۔ کیونکہ یہ طرزعمل یقینا اس کی ان صفات کے خلاف ہوتا۔ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قیامت کا آنا عقل کی بھی دلیل ہے اور اخلاق کا تقاضا بھی۔
Ayahs 84:16–19فَـلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۔ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ ۔ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ۔ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ۔ (الانشقاق : 16 تا 19)
(پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔ اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اور چاند کی جبکہ وہ ماہ کامل ہوجاتا ہے۔ تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھنا ہے۔ )
قیامت پر تین شواہد
اس سے پہلے قیامت پر جو دلیل پیش کی گئی ہے اس پر یہ تین شواہد پیش کیے گئے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات اور اس کے قانون میں ایک نظام تدریج کام کررہا ہے۔ ایک چیز وجود میں آتی ہے پھر وہ رفتہ رفتہ ارتقاء پذیر ہوتی ہے۔ پھر وہ اپنی منزل کو پہنچتی ہے اور اپنے نتائج کا اظہار کرتی ہے۔ انسان کی زندگی میں بھی یہی تدریج کارفرما ہے کیونکہ انسان بھی کائنات کا ایک حصہ ہے۔ شواہد کے طور پر تین چیزوں کو پیش کیا گیا ہے اور مؤکد کرنے کے لیے ان کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ اور یہ بات اس سے پہلے واضح کی جا چکی ہے کہ قسم کے بعد آنے والا جملہ جسے مقسم علیہ کہا جاتا ہے اس کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسم اس پر دلیل ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تین قسمیں دراصل تین شواہد یا تین دلیلیں ہیں اس دعوے کی جو اس کے بعد آرہا ہے۔ اور قسموں سے پہلے جو ” لا “ کا لفظ آیا ہے اس کی بھی اس سے پہلے وضاحت ہوچکی ہے۔ یہ نہ تو زائد ہے اور نہ اس کا تعلق اس فعل سے ہے جو اس کے بعد آرہا ہے بلکہ اس کا تعلق مخاطب کے رویئے سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم جو یہ سمجھتے ہو کہ دنیا ہی تمہاری منزل ہے اور تمہیں کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنا نہیں ہے جہاں تمہیں اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی پڑے، یہ خیال بالکل غلط ہے۔ یعنی متکلم کے نزدیک اس خیال کا بطلان اس قدر اضح اور اس قدر ضروری ہے کہ متکلم نے دلیل کا بھی انتظار نہیں کیا بلکہ پہلے ہی اسے رد کردیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔ اور رات کی اور ان چیزوں کی جو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ یعنی غور کیجیے کہ غروب آفتاب کے بعد رات کا آغاز شفق کی سرخی سے ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ دن کا اجالا یکلخت اندھیرے میں ڈوب جائے اور پوری طرح فضا پہ رات چھا جائے، بلکہ پہلے شفق کی سرخی ظاہر ہوتی ہے پھر آہستہ آہستہ تاریکی ابھرنے لگتی ہے اور ایک تدریج کے ساتھ رات غالب آجاتی ہے۔ اور کائنات کی وہ چیزیں جو زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں جن میں حیوانات اور چرند پرند بھی ہیں اور آسمان کے ستارے اور سیارے بھی۔ وہ بھی آہستہ آہستہ رات کی تاریکی میں گم ہوجاتے ہیں۔ اکثر مفسرین نے اجرامِ فلکی کے علاوہ زمین پر چلنے پھرنے والے جانور اور دیگر اشیاء مراد لی ہیں۔ اور اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ جس طرح رات ایک تدریج کے ساتھ آتی ہے، اسی طرح یہ تمام جانور بھی آہستہ آہستہ رات کے سکون میں گم ہوجاتے ہیں۔ اور ان کا یہ عمل بھی تدریج کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن بعض اہل علم نے اس سے مراد آسمان کے ستارے اور سیارے لیے ہیں اور انھیں دلیل کا ایک جز قرار دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ستارے بھی آہستہ آہستہ روشن ہوتے اور پھر ایک وقت تک اپنی روشنی بکھیرتے اور آہستہ آہستہ طلوع سحر سے پہلے ہی ماند پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ تو یہ بجائے خود تدریج کی ایک دلیل ہے۔ اس کے بعد چاند کو بطور شاہد پیش کیا گیا۔ حالانکہ چاند آسمان کے ستاروں میں ایک اہم ستارہ ہے۔ لیکن جیسے عربی میں عام طور پر عام کے بعد خاص کے ذکر کا ایک اسلوب پایا جاتا ہے، یہاں بھی عام ستاروں کا ذکر کرنے کے بعد بطورخاص چاند کا اس کی اہمیت اور خصوصیات کے باعث خاص طور پر ذکر کیا جارہا ہے کہ چاند کو دیکھو کس طرح ہلال بن کر نکلتا ہے، پھر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے حتیٰ کہ ماہ کامل ہوجاتا ہے۔ پھر اس میں زول شروع ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے۔ یہ تمام شواہد اس بات کی دلیل ہیں کہ کائنات کے عروج وزوال میں تدریج کا عمل بہت گہرا ہے۔ چناچہ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح تم کائنات میں ایک تدریج دیکھ رہے ہو، اسی طرح تمہاری اپنی زندگی میں بھی ایک تدریج ہے۔ تم بھی درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھ رہے ہو۔ بچپن کے بعد لڑکپن، لڑکپن کے بعد جوانی اور جوانی کے بعد بڑھاپا اور پھر بڑھاپے کے بعد موت، یہ ایک مسلسل سفر ہے جس کے یہ مختلف پڑائو ہیں۔ تمہیں غلطی یہ لگی ہے کہ تم موت کو سفر کی انتہا یا منزل سمجھ بیٹھے ہو۔ حالانکہ اس سے تو سفر کا انقطاع لازم آتا ہے۔ سفر یہاں رکتا نہیں بلکہ اس کی اگلی منزل برزخ ہے اور اس کے بعد آخرت۔ آخرت کے بعد کوئی منزل نہیں، کیونکہ یہاں سے ابدی زندگی شروع ہوجائے گی۔ البتہ جس مقصد کے لیے یہ زندگی عطا کی گئی تھی آخرت میں اس کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ تم موت پر رک کر سفر کو نامکمل چھوڑ دیتے ہو حالانکہ یہ سفر آخرت پر ختم ہوتا ہے اور وہاں اس زندگی کا حساب ہوتا ہے جس کے لیے اس سفر کو جاری کیا گیا ہے۔ لیکن تم اس کا انکار کرکے زندگی کے پورے سفر کو بےمعنی کرکے رکھ دیتے ہو۔ حالانکہ اس سفر کا منطقی نتیجہ آخرت ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا تقاضا بھی آخرت ہے اور کائنات کی مسلسل روایت جسے ہم نظام تدریج میں دیکھ چکے ہیں اس کی انتہا بھی آخرت ہے۔ اور انسان کی اخلاقی زندگی میں جب ہم تدبر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ بھی آخرت ہے۔ لیکن کس قدر تعجب کی بات ہے کہ تم آخرت سے انکار کردیتے ہو۔
Ayahs 84:20–22فَمَا لَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ وَاِذَا قُرِیَٔ عَلَیْہِمُ الْقُرْاٰنُ لاَ یَسْجُدُوْنَ ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُکَذِّبُوْنَ ۔ (الانشقاق : 20 تا 22)
(تو پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے۔ اور جب انھیں قرآن سنایا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔ بلکہ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلا رہے ہیں۔ )
مخالفین کے ایمان نہ لانے پر تعجب کا اظہار
ان شواہد کے ذکر کے بعد اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آخرت میں جزاء و سزا کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جبکہ ان کے واضح ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ اور جس قرآن نے ایسے اہم حقائق کو نہایت سادہ دلائل کے ساتھ قریب الفہم بنایا اور واضح کیا ہے اس کی عظمت کے اعتراف اور اس کی بیان کردہ حقیقت کی تصدیق کے لیے بطورشکر اپنے رب کے آگے سجدہ میں نہیں گرتے۔ سجدہ میں گرنا ایک تو عظمت کے اعتراف کے لیے ہوتا ہے اور دوسرا اظہارِتشکر کے لیے۔ عرب اور اہل مصر کی یہ روایت تھی کہ جب کسی بات کی عظمت کے سامنے ان کے دل جھک جاتے اور وہ سچے دل کے ساتھ اس کے اعتراف پر مجبور ہوجاتے تو عموماً اسے دیکھتے یا سنتے ہی سجدہ ریز ہوجاتے تھے۔ جس طرح ساحرانِ مصر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت کو سمجھ جانے کے بعد سجدہ ریز ہوگئے۔ اور مشہور شاعر لبید کے قصیدے کے ایک شعر پر وقت کے مشہور شعراء عرب نے سجدہ کیا۔ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت تو ان چیزوں سے بدرجہا بلند ہے اور اس نے جن حقائق کا اظہار کیا اور زندگی کی اصلاح کے لیے جن نصیحتوں سے نوازا اور ایک مکمل نظام اخلاق اور ضابطہ حیات دیا اس کے اعتراف کے طور پر تو یقینا ہر طرف سر جھک جانے چاہئیں تھے۔ لیکن مخالفین کی بدنصیبی کا عجیب حال ہے کہ وہ جھکنے کی بجائے اور اکڑتے اور مذاق اڑاتے ہیں۔ اور جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ قرآن کریم کی مزید تکذیب کررہے ہیں۔
Ayah 84:23وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ ۔ (الانشقاق : 23)
(اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ جمع کررہے ہیں۔ )
مخالفین کے معیارِفکر کی خرابی کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ جن چیزوں کو ہیروں اور جواہر کی طرح قیمتی سمجھ کر جمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور جلبِ زر کے حریص ہو کر جس طرح دمڑی دمڑی پر جان دے رہے ہیں اور جس طرح دولت و ثروت میں اضافے کے لیے ہر ذلت اٹھانے کو تیار ہیں اسے دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے نزدیک اصل قیمت کس چیز کی ہے۔ لیکن انھیں معلوم نہیں کہ آخرت میں یہ جن چیزوں کو ہیرے سمجھ رہے ہیں وہ خزف ریزے ثابت ہوں گے۔ اور جن کامیابیوں پر فخر کررہے ہیں وہ ان کی ذلتوں کا سبب بنیں گے۔ جب ان کا اندوختہ اصل صورت میں سامنے آئے گا تب انھیں اندازہ ہوگا کہ انھوں نے کس چیز کو پھینکا اور کس چیز کے انبار جمع کیے۔
Ayahs 84:24–25فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُمَمْنُوْنٍ ۔ (الانشقاق : 24، 25)
(تو ان کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے۔ البتہ جو ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ )
انھوں نے جس طرح اپنی فکر اور زندگی کے معیار کو بگاڑا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ انھیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں۔ کیونکہ ان کی زندگی جس نہج پر جارہی ہے اور انھوں نے اپنے اعمال کی صورت میں جو کچھ بویا ہے اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ انھیں عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ البتہ اس عذاب سے وہ لوگ بچیں گے جو ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کریں جس کی دعوت قرآن کریم نے دی ہے۔ ایمان اور عمل صالح ایک ایسا سکہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہے اور اس کے نتیجے میں جو اجر وثواب ملنے والا ہے وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
آیت 21 پر سجدہ تلاوت نبی کریم ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔ امام مالک، مسلم اور نسانی نے حضرت ابوہریرہ ( رض) سے یہ روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے نماز میں یہ سورة پڑھ کر اس آیت پر سجدہ کیا۔ اور کہا رسول اللہ ﷺ نے یہاں سجدہ کیا ہے۔