Ayah 83:1وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ۔ (المطففین : 1)
(تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے۔ )
مُطَفِّفِیْنَ کا مفہوم
مُطَفِّفِیْنَ … یہ اسم فاعل ہے اور تطفیف اس سے مصدر ہے۔ طفیف عربی زبان میں چھوٹی اور حقیر چیز کو کہتے ہیں۔ تطفیف چھوٹی موٹی چیزوں میں ہیرا پھیری پر بولا جاتا ہے۔ لیکن اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ چوری چھپے کمی کوئی بڑی مقدار میں نہیں ہوتی بلکہ محض تولتے اور ناپتے ہوئے ہاتھ کی صفائی سے ہر خریدار کے حصے میں تھوڑی سے کمی کرنے پر بولا جاتا ہے۔ اردو زبان میں اسے ڈنڈی مارنا کہتے ہیں۔ یعنی تولنے والا محض ہاتھ کی صفائی سے تولی جانے والی چیز میں کمی کردیتا ہے اور خریدار کو پتہ نہیں چلنے دیتا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص تھوڑی مقدار میں بددیانتی کرتا ہے اسے اگر موقع ملے تو بڑی مقدار میں بددیانتی کرنے پر اور زیادہ دلیر ہوگا۔ جس طرح آگ کا الائو شعلہ ہی سے بھڑکتا ہے اسی طرح چھوٹی بددیانتی بڑی بددیانتی کا باعث ہوتی اور تباہی لاتی ہے۔
Ayahs 83:2–3الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ ۔ وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْوَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ ۔ (المطففین : 2، 3)
(یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو اس میں کمی کرتے ہیں۔ )
ان لوگوں پر لعنت جن کے لینے کے باٹ اور، اور دینے کے باٹ اور ہیں
ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی دناءت اور خست کو نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب یہ دوسرے لوگوں سے کوئی چیز ناپ یا تول کرلیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں، اس میں کوئی کمی نہیں ہونے دیتے۔ لیکن جب دوسروں کو دیتے ہیں تو ہاتھ کی صفائی دکھا جاتے ہیں اور کم کرکے دیتے ہیں۔ لیکن خریدار کو پتہ نہیں چلنے دیتے۔ اور پھر یہ کمی کوئی بڑی مقدار میں نہیں ہوتی، کیونکہ ڈنڈی مارتے ہوئے کوئی بڑا دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ورنہ دیکھنے والا سمجھ جائے گا۔ تھوڑی سی ہی کمی کی جاسکتی ہے اور یہ ہر خریدار سے تھوڑا تھوڑا کم کرکے اپنے لیے بہت زیادہ جمع کرلیتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لوگ بےایمان اور بددیانت ہی نہیں بلکہ کمینے اور خسیس بھی ہیں۔
قرآن کریم نے اور بھی کئی مواقع پر اس برائی کی سخت مذمت کی ہے۔ اور انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپنے اور تولنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اور قوم شعیب کے جس جرم کی وجہ سے عذاب نازل ہوا، اس کو نشان زد کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنے کا عام مرض ان میں پھیلا ہوا تھا۔ اور وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مسلسل نصیحتوں پر بھی کان دھرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ آخر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ البتہ صحابہ کرام ( رض) بالخصوص حضرت عمرفاروق ( رض) کے بعض اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس تطفیف کے عمل کو صرف ناپ تول تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ جو شخص بھی فرائض کی ادائیگی میں کمی کرتا تھا یا کسی کام کو صحیح طریقے سے ادا نہ کرتا وہ اسے تطفیف قرار دیتے تھے اور اسے ایک بڑا گناہ سمجھتے تھے۔ کسی شخص کو حضرت عمرفاروق ( رض) نے جلدی جلدی نماز پڑھتے دیکھا، تو آپ ( رض) نے فرمایا تم نے نماز میں تطفیف کی ہے۔ اس لحاظ سے اس نہایت مہلک جرم میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے جس پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔
Ayahs 83:4–6اَلاَ یَظُنُّ اُوْلٰٓئِکَ اَنَّھُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۔ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ یَّوْمَ یَـقُوُم النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (المطففین : 4 تا 6)
(کیا یہ گمان نہیں رکھتے کہ یہ لوگ اٹھائے جانے والے ہیں۔ ایک عظیم دن کی حاضری کے لیے۔ اس دن لوگ اٹھیں گے رب العالمین کے سامنے حاضری کے لیے۔ )
اس خصلت بد کا سبب
لوگوں کی اس خصلت بد کا سبب یہ ہے کہ وہ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ اٹھائے بھی جائیں گے۔ کیونکہ وہ اسی دنیا کو اصل زندگی سمجھتے ہیں اور موت کو اس زندگی کا مکمل خاتمہ جانتے ہیں، جس کے بعد کسی نئی زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ مرنے کے بعد ہر شخص مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے تو نئی زندگی کا کیا سوال ہے۔ یہی زندگی ہے جس میں انسان کے راحت و غم کی دنیا پھیلی ہوئی ہے۔ جس شخص کو جو بھی حاصل کرنا ہے اسی زندگی میں کرنا ہے۔ اور جس نے جو کچھ کھو دینا ہے اس زندگی کے بعد اس کی تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ یہیں کی خوشیاں حقیقی خوشیاں ہیں اور یہیں کے غم حقیقی غم ہیں۔ اس لیے کسی طرح بھی چاہے وہ طریقہ کتنا بھی غلط کیوں نہ ہو، اگر کوئی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے تو اسے حاصل کرنا زندگی کی ضرورت ہے۔ اور اس سے اجتناب کرنا اپنی محرومیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اخلاق نام کی کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ یہاں تو صرف منفعت کا حصول ہے وہ جیسے بھی میسر آجائے۔ یہ ہے وہ اصل مرض جس نے انھیں بےایمان اور بددیانت بنا رکھا ہے اور اس کے لیے ہر کمینگی ان کے نزدیک گوارا ہے۔
کاش انھیں معلوم ہوتا کہ انھیں ایک عظیم دن کی حاضری کے لیے اٹھایا جانا ہے۔ اور اس کو عظیم دن اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں تمام انسانوں اور جنوں کا حساب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بیک وقت لیا جائے گا۔ وہاں سب حاکم و محکوم، امیر اور غریب اور گورے اور کالے سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔ سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہی کے لیے حاضر ہونا پڑے گا۔ ہر ایک سے ان کے اعمال کی پرسش ہوگی اور پھر اسی کے مطابق وہ جزاء و سزا پائیں گے۔
اگر اس تصور کا کوئی شمہ بھی ان کے اندر موجود ہوتا تو یہ کبھی اس طرح کی حرکتیں نہ کرسکتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آخرت کا استحضار ہی انسان کو راہ راست پر رکھ سکتا ہے۔ جیسے جیسے یہ تصور ماند پڑتا ہے، انسان خواہشِ نفس کا اسیر ہوجاتا ہے۔ مفادات کی ہوس اس کی رہنما بن جاتی ہے اور وہ زندگی کی ہر قدر کو ہوس کی قوت سے پامال کرتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آخرت کا تصور ہی انسان کو یقین دلاتا ہے کہ تم ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہو، تمہارے اعمال لکھے جارہے ہیں، موت تمہارا خاتمہ نہیں کرے گی بلکہ مہلت عمل کو ختم کردے گی پھر تمہیں جوابدہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے جہاں ایک ایک عمل کا حساب ہوگا اور اسی کے مطابق جزاء یا سزا ہوگی۔ یہی وہ تصور ہے جو انسان کے پائوں کی زنجیر بن سکتا ہے ورنہ اس کے سدھار کی اور کوئی شکل نہیں۔
Ayah 83:7کُلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ۔ (المطففین : 7)
(ہرگز نہیں ! یقینا بدکاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔ )
مخاطبوں کے زعم باطل کی تردید
کُلَّآ کا معنی ہے ہرگز نہیں۔ یہ مخاطب کے زعم باطل کی تردید کے لیے آتا ہے۔ اور اس میں ایک طرح کی زجر اور ڈانٹ بھی ہے۔ یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے مخاطبین نے جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ اولاً تو قیامت کے آنے کا کوئی امکان نہیں، اور اگر آہی گئی تو ہمارے لیے فکرمندی کی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح دنیا میں ہمیں دولت و ثروت سے نوازا ہے، اسی طرح ہمیں قیامت کے دن بھی نوازا جائے گا۔ اور اگر کوئی جواب طلبی ہوئی بھی تو ہم اپنے دیوتائوں اور شفاعت کرنے والوں کی مہربانی سے چھوٹ جائیں گے۔ اس لیے ہمیں کسی قسم کی جوابدہی کرنا نہیں پڑے گی۔ ان کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم نے جس قسم کے فضول تصورات کے سہارے اپنی عاقبت برباد کر رکھی ہے تمہیں اس خوش فہمی سے نکلنا چاہیے۔ قیامت جزاء کا دن ہے، اور جزاء کی بنیاد ایمان و عمل پر ہوگی۔ اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہاں صاحب ایمان و عمل لوگ اور کفار و فجار انجام کے اعتبار سے برابر رکھے جائیں۔ اس دن ان دونوں میں غایت درجہ دوری اور امتیاز ہوگا۔ فجار کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔ اور ابرار کے اعمال نامے علیین میں ہوں گے اور اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ جس طرح سجین اور علیین مشرق اور مغرب کی دوری رکھتے ہیں، اسی طرح فجار اور ابرار بھی اس روز الگ الگ انجاموں سے دوچار ہوں گے جن کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
Ayahs 83:8–9وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَا سِجِّیْنٌ۔ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ (المطففین : 8، 9)
(اور تم کیا جانو کہ سجین کیا ہے ؟ وہ ایک لکھا ہوا دفتر ہے۔ )
سجین کی تحقیق
سجین، سجن سے ہے، قیدخانے کو کہتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم نے چونکہ اس کے مفہوم کی خود وضاحت کردی ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس سے لغوی معنی مراد نہیں بلکہ وہ ایک لکھا ہوا دفتر ہے جس میں تمام مجرمین کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر محفوظ کیا جاتا ہے۔ مرقوم سے شاید اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قیامت کو ایک وہم سمجھنے والے یہ مت بھولیں کہ ان کے اعمال کا سارا ریکارڈ ایسی جگہ پر رکھا گیا ہے جو خود یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ اور دوسری یہ بات کہ اسے تحریری شکل میں رکھا گیا ہے جس میں کسی غلطی اور کمی بیشی کا کوئی احتمال نہیں۔ اور قیامت کے دن چونکہ نہایت عدل کے ساتھ فیصلہ ہوگا ہر ایک شخص کے ہاتھ میں اس کا نامہ عمل دے دیا جائے گا جسے دیکھ کر وہ خود اندازہ کرے گا کہ میرے جرائم کی فہرست فرضی نہیں بلکہ حقائق و شواہد پر مبنی ہے۔ اور جب اس کو تفصیل سے دیکھے گا تو اسے حیرانی ہوگی کہ یہ کیسا اعمال نامہ ہے لاَ یُغَادِرُصَغِیْرَۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃً اِلاَّ اَحْصَاھَا ” جس نے نہ کسی بڑی بات کو چھوڑا ہے اور نہ چھوٹی بات کو، ہر ایک چیز کو شمار کرلیا ہے۔ “
یہ بھی خیال رہے کہ سجین کا مفہوم بیان کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے سجین کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ تم کیا جانو، سجین کیا ہے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوبِ بیان سجین کی ہیبت اور اس کے ہول کو ظاہر کرنے کے لیے اختیار فرمایا گیا ہے کہ تم اسے کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ جس کا نام ہی ڈرا دینے کے لیے کافی ہے اس کے حقیقی خوف کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سجین ایک مقام خاص کا نام ہے اور کفار و فجار کی ارواح اسی مقام پہ رکھی جاتی ہیں اور ان کے اعمال ناموں کا مقام بھی یہی ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ مقام کس جگہ ہے، اس کے متعلق حضرت براء بن عازب کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سجین ساتویں زمین کے نچلے طبقہ میں ہے۔ اور علیین ساتویں آسمان میں عرش الٰہی کے نیچے ہے۔ (مظہری) بعض روایاتِ حدیث میں یہ بھی ہے کہ سجین کفار و فجار کی ارواح کا مستقر ہے۔ اور علیین مومنین اور متقین کی ارواح کی جگہ ہے۔
Ayahs 83:10–11وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ (المطففین : 10، 11)
(تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ جو روزجزاء کو جھٹلاتے ہیں۔ )
سابقہ مضمون کو مزید واضح اور محکم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کو ایک وہم سمجھ کر نظرانداز کرنے اور جھٹلانے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آج تو تم نے اسے مذاق سمجھ رکھا ہے لیکن جب اس دن کا ظہور ہوگا تو اندازہ ہوگا کہ اس دن کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو کیسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ تب انھیں معلوم ہوگا کہ ہم جس دن کو جھٹلاتے رہے ہیں وہ درحقیقت جزاء کا دن ہے۔ جس میں اپنے ایک ایک عمل کے بارے میں جوابدہی کرنا ہوگی، اور اسی کے مطابق سزا کا تعین ہوگا۔ اور پھر تا ابد اس سزا میں گرفتار رہنا ہوگا۔ دنیا میں انسان کے لیے آگ کا ایک شعلہ بھی ناقابلِ برداشت ہے، اس روز ان کا کیا حال ہوگا جب وہ اپنے چاروں طرف ایسی آگ دیکھیں گے جسے دنیا کی آگ سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔
Ayah 83:12وَمَا یُکَذِّبُ بِہٖٓ اِلاَّ کُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ (المطففین : 12)
(اور اس روزجزاء کو نہیں جھٹلاتا مگر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا اور حق تلفی کرنے والا ہے۔ )
قیامت کا انکار کرنے والے دو بیماریوں کے مریض ہیں
یوں تو قیامت کا انکار کرنے والے ہر دور میں بہت سے لوگ گزرے ہیں لیکن اس آیت کریمہ میں انگلی رکھ کر بتادیا گیا ہے کہ ان کی تعداد پر نہ جائیے، اصلاً دو بیماریاں ہیں۔ جو لوگ بھی اس کے مریض ہوتے ہیں وہ ہمیشہ روزجزاء کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ وہ اس کا سامنا نہیں کرسکتے۔ انھیں خوف اپنی بداعمالیوں کی جوابدہی کا ہوتا ہے، لیکن اس پر پردہ ڈالنے کے لیے قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اور اپنی بداعمالیوں کا کوئی نہ کوئی جواز تلاش کرلیتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود جانتے ہیں کہ ان کے عذرات میں کوئی جان نہیں۔ سورة القیامہ میں اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ وَّلَوْاَلْقٰی مَعَاذِیْرَہُ ” بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے چاہے وہ کتنے ہی عذرات تراشے۔ “ وہ دو بیماریاں اعتداء اور اثم ہے۔ اعتداء کہتے ہیں حدود کے پامال کرنے اور ہر پابندی کو توڑ کر نکل بھاگنے کو۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام اور حدود کو توڑنا بھی ہے اور بندوں کے حقوق کو پامال کرنا بھی۔ اور اثم، دوسروں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں ان کو دبا بیٹھنے کا نام ہے۔ انسان کی عملی کج روی کی یہی دو علامتیں ہیں جس کی ابتداء ہمیشہ فکری کج روی سے ہوتی ہے۔ جو لوگ ان دو بیماریوں کے مریض ہوتے ہیں وہ چونکہ روزجزاء کا سامنا نہیں کرسکتے اس لیے وہ قیامت کا انکار کرتے ہیں۔
یہ بات یاد رہے کہ جزاء و سزا کا تعلق جس کی بنیاد عدل ہے اس کی شہادت ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص دوسروں کے ساتھ ناپ تول میں زیادتی کرتا ہے وہ کبھی اپنے ساتھ اس زیادتی کو پسند نہیں کرتا۔ ہوسکے تو اسے برداشت کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی فطرت میں یہ بات ہے کہ ناپ تول میں کمی بیشی اسی طرح حقوق کی پامالی چونکہ عدل اور انصاف کے خلاف ہے اس لیے یہ نہیں ہونی چاہیے۔ اور جب یہ زیادتی خود اس کے اپنے ساتھ ہوتی ہے تو اس کا یہی احساس احتجاج بن جاتا ہے۔ لیکن دوسروں کے ساتھ جب وہ خود یہ حرکت کرتا ہے تو مفادات کی ہوس اور حُبِ زر اس کی فطرت کے لیے پردہ پوش بن جاتی ہے۔
Ayah 83:13اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰـتُـنَا قَالَ اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ (المطففین : 13)
(اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔ )
مکذبین کا طریق تکذیب
قیامت اور روزجزاء چونکہ انسانی فطرت کی پکار اور اخلاقیات کا تقاضا ہے۔ اس لیے کوئی شخص بھی جو فطری سلامتی سے محروم نہیں ہوگیا اور اخلاق سے اس کا دامن بالکل خالی نہیں ہوگیا وہ قیامت کا انکار نہیں کرسکتا۔ اس لیے جب بھی قرآن کریم کی وہ آیات جن میں قیامت اور روزجزاء کی خبر دی گئی ہے اور ان پر دلائل بھی دیئے گئے ہیں اور جن امتوں نے اس کا انکار کیا اور نتیجتاً اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مورد بنیں، ان کی تاریخ بیان کی جاتی ہے۔ تو قیامت کے انکار کے لیے چونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اس لیے وہ ایک ہی فقرے میں اس کی تکذیب کردیتے ہیں کہ یہ سب پہلے لوگوں کی باتیں، ان کے قصے اور ان کے افسانے ہیں۔ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کا جواب دینے کی ضرورت ہو۔ ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ بےسروپا اور نامعقول بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس کا جواب دینے کی بجائے جو ان کے انکار کی حقیقی وجہ ہے اگلی آیت میں اس سے پردہ اٹھایا ہے۔
Ayah 83:14کَلاَّ بَلْ سکتۃ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (المطففین : 14)
(ہرگز نہیں ! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ )
تکذیب کا اصل سبب
رَانَ ، رین سے مشتق ہے۔ اس کے معنی زنگ اور میل کے ہیں۔ یعنی ان کے انکارِ قیامت کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس انکار کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود ہے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ حدود کی پامالی، حق شکنی اور حق تلفی پر مبنی جن اعمال کے عادی ہوچکے ہیں اور انھیں چھوڑنے کا تصور بھی ان کے نزدیک تکلیف دہ ہے ان کے ان اعمال کا زنگ اور میل ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب حق کی کوئی بات ان کے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ زنگ ایسا شدید ہے کہ یہ دلوں کے نور کو بجھاتا اور ان کی صلاحیت کو سلب کرلیتا ہے۔ اور انسان برے بھلے کی تمیز سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر اس نے توبہ کرلی اور اس پر نادم ہو کر اپنے عمل کو درست کرلیا تو یہ سیاہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور دل اپنی اصلی حالت پر منور ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس نے توبہ نہ کی بلکہ اپنے گناہوں پر زیادتی کرتا چلا گیا تو یہ سیاہی اس کے سارے قلب پر چھا جاتی ہے۔ اسی کا نام رین ہے جو قرآن کریم کی اس آیت میں مذکور ہے۔
Ayah 83:15کَلَّآ اِنَّھُمْ عَنْ رَّبِّھِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ۔ (المطففین : 15)
(ہرگز نہیں ! بیشک وہ اپنے رب سے اس سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔ )
مکذبین کی بدنصیبی
یعنی ان کا گمان تو یہ ہے کہ قیامت کے وقوع کا کوئی امکان نہیں۔ اور اگر آئی بھی تو ہمارے دیوتا ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔ جبکہ ان کی بدنصیبی کا عالم اس دن یہ ہوگا کہ ان کی خواہش ہوگی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے روبرو جانے کا موقع ملے اور ہم منت سماجت کرکے اور رو دھوکر اپنے جرائم بخشوا لیں۔ لیکن انھیں اللہ تعالیٰ کی دید اور زیارت سے بھی محروم کردیا جائے گا۔ یہ ایسی اوٹ میں رکھے جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ کی نظرعنایت، اس کے افضال و عنایات اور اس کے انواروتجلیات کے مشاہدے سے بالکل محروم رہیں گے۔
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ انسان بگاڑ کا شکار کیسا بھی ہوجائے اس کی فطرت میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور طلب موجود رہتی ہے۔ دنیا کے عوارض اس پر غلبہ پالیتے ہیں تو دنیا میں یہ چاہت مغلوب رہتی ہے۔ لیکن قیامت کے دن جب ہر طرف ہولناکی کا بسیرا ہوگا اور شفقت کی نگاہ اگر کہیں سے میسر آسکتی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہوگی۔ اور یہ لوگ یہ چاہیں گے کہ ہمیں آج اللہ تعالیٰ کی زیارت سے مشرف ہونے کا موقع ملے تو شاید ہم اس ہولناکی سے نکل سکیں۔ لیکن انھیں اس سے بھی محروم کردیا جائے گا۔
Ayahs 83:16–17ثُمَّ اِنَّھُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ ۔ ثُمَّ یُقَالُ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُـکَذِّبُوْنَ ۔ (المطففین : 16، 17)
(پھر وہ جہنم میں جا پڑیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔ )
ان بدنصیبوں کا انجام
یہ ان بدنصیبوں کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ پھر وہ جہنم میں جا پڑیں گے، یعنی انھیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور جب وہ اپنی سزا کی شدت پر چیخ و پکار کریں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب کیوں چیختے ہو، یہی تو وہ چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔ دونوں آیتوں میں ثُمَّ کی تکرار سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ بات بطورخاص ان سے کہی جائے گی تاکہ ان کی سرعام رسوائی کا سامان ہو کہ زندگی میں جس چیز کی مخالفت کرتے رہے ہو اب اسی کو دیکھو اور اس کا مزہ چکھو۔
Ayah 83:18کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ ۔ (المطففین : 18)
(ہرگز نہیں ! بیشک نیک آدمیوں کے نامہ اعمال علیین میں ہوں گے۔ )
ابرار کا مقام
کَلَّا، سے قیامت کا انکار کرنے والوں کے اس خیال کی تردید کرنا مقصود ہے کہ کوئی جزاء و سزا واقع نہیں ہوگی۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ جزاء و سزا کے واقع نہ ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک اور بد یکساں ہوں گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نیک و بد برابر نہیں ہیں بلکہ اوپر ہم پڑھ چکے ہیں کہ فجار کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔ تو ان کے اعمال کے اعتبار سے یہی ان کا اصل مقام ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ابرار کو جس شان اور بلندی سے نوازے گا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے اعمال نامے علیین میں ہوں گے۔ یعنی یہ دونوں کسی موقع پر بھی قیامت کے دن ایک جیسے سلوک کے مستحق نہیں ہوں گے۔ ایک ذلتوں کے حصار میں ہوگا تو دوسرے پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نچھاور ہورہی ہوں گی۔
Ayah 83:19وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاعِلِّـیُّوْنَ ۔ (المطففین : 19)
(اور تم کیا جانو کہ علیین کیا ہے۔ )
علیین کی تحقیق
علیین کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے یہ اسلوبِ بیان اختیار کیا گیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایسی جگہ ہے یا ایسی چیز ہے جس کی عظمت و شان کا اندازہ اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 83:20–21کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ یَّشْھَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ (المطففین : 20، 21)
(ایک لکھا ہوا دفتر۔ مقربوں کی نگرانی میں۔ )
یعنی علیین کا لغوی مفہوم مراد نہیں بلکہ اس کا ایک اصطلاحی مفہوم ہے اور وہ، وہ ہے جس کی اس آیت میں وضاحت کردی گئی ہے کہ وہ ایک دفتر ہے جس کی ہر چیز ضبط تحریر میں آئی ہوئی ہے۔ اور جس کی نگرانی بھی اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ یعنی ان کے مقام و مرتبہ کا عالم یہ ہے کہ ان کا نامہ عمل علیین میں ہے جو نہایت مبارک اور مقدس جگہ ہے۔ اور حدیث کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے ہے۔ اور اس کی نگرانی بھی مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ تمام مومنین کی ارواح کا مستقر بھی یہی ہے۔ اور وہ بعض احادیث سے اس پر استشہاد بھی کرتے ہیں۔ صاحب معارف القرآن نے انسانی روحوں کے مقام کے حوالے سے ایک نوٹ لکھا ہے ہم افادہ عام کے لیے اس کو یہاں نقل کررہے ہیں۔
انسانی روحوں کا مقام کہاں ہے
اس معاملے میں روایاتِ حدیث بظاہر مختلف ہیں، سجین اور علیین کی تفسیر میں جو روایات اوپر مذکور ہوئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ارواحِ کفار سجین میں رہتی ہیں جو ساتویں زمین میں ہے اور ارواح مومنین علیین میں رہتی ہیں جو ساتویں آسمان پر زیرعرش ہے اور مذکور الصدرر روایات میں بعض سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ارواحِ کفار جہنم میں اور ارواحِ مومنین جنت میں رہیں گی اور بعض روایاتِ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مومنین و کفار دونوں کی روحیں ان کی قبروں میں رہتی ہیں جیسا کہ حضرت براء بن عازب کی طویل حدیث میں ہے کہ جب مومن کی روح کو آسمان میں فرشتے لے جاتے ہیں تو حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے اس بندے کا اعمال نامہ علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ اس کو میں نے زمین ہی سے پیدا کیا ہے اور مرنے کے بعد اسی میں لوٹائوں گا اور پھر اسی زمین سے ان کو دوبارہ زندہ کرکے نکالوں گا۔ اس حکم پر فرشتے اس کی روح کو قبر میں لوٹا دیتے ہیں۔ اسی طرح کافر کی روح کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور یہی حکم ہوگا کہ اس کو اس کی قبر میں لوٹا دو ۔ امام ابن عبدالبر نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ سب کی ارواح بعدالموت قبر ہی میں رہتی ہیں۔ ان میں پہلی اور دوسری روایات میں جو یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ بعض سے ارواح مومنین کا … علیین میں رہنا معلوم ہوتا ہے اور بعض سے جنت میں رہنا، غور کیا جائے تو یہ کوئی اختلاف نہیں کیونکہ مقام علیین بھی ساتویں آسمان پر زیرعرش ہے اور جنت کا بھی یہی مقام خود قرآن کریم کی تصریح سے ثابت ہے۔ عند سِدْرۃ المنتھٰی عندھا جنّۃ المأویٰ اس میں تصریح ہے کہ جنت سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے اور سدرہ کا ساتویں آسمان میں ہونا حدیث سے ثابت ہے۔ اس لیے مقام ارواح جب علیین ہوا تو وہ جنت کے متصل ہے اور ان ارواح کو جنت کے باغات کی سیر نصیب ہے اس لیے ان کا مقام جنت بھی کہا جاسکتا ہے۔
اسی طرح کفار کی ارواح سجین میں ہیں اور وہ ساتویں زمین میں ہے اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ جہنم بھی ساتویں زمین میں ہے اور اہل سجین کو جہنم کی تپش اور ایذائیں پہنچتی رہیں گی اس لیے ان کا مقام جہنم میں کہہ دینا بھی صحیح ہے۔ البتہ اوپر جس روایت میں ارواح کا قبروں میں رہنا معلوم ہوتا ہے یہ بظاہر پچھلی دونوں روایتوں سے بہت مختلف ہے۔ اس کی تطبیق بیہقی زمانہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہری میں یہ بیان کی ہے کہ یہ بات کچھ بعید نہیں کہ اصل مستقر ارواح کا علیین اور سجین ہی ہوں مگر ان ارواح کا ایک خاص رابطہ قبروں کے ساتھ بھی قائم ہو۔ اس رابطہ کی حقیقت تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا مگر جس طرح آفتاب ماہتاب آسمان میں ہیں اور ان کی شعاعین زمین پر پڑ کر اس کو روشن بھی کردیتی ہیں گرم بھی۔ اسی طرح علیین و سجین کی ارواح کا کوئی رابطہ معنویہ قبروں سے ہوسکتا ہے اور ان تمام اقوال کی تطبیق میں حضرت قاضی ثناء اللہ کی تحقیق سورة نازعات کی تفسیر میں ابھی گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ روح کی دو قسمیں ہیں ایک جسمِ لطیف ہے جو انسان کے بدن میں حلول کرتا ہے اور وہ مادی اور عنصری جسم ہے مگر لطیف ہے نظر نہیں آتا، اسی کو نفس کہا جاتا ہے۔ دوسری روح جوہر مجرد ہے مادی نہیں، اور وہ روح مجرد ہی روح اول کی حیات ہے، اس لیے اس کو روح الروح کہہ سکتے ہیں، انسان کے جسم سے تعلق تو ان دونوں قسم کی روحوں کا ہے مگر پہلی قسم جسمِ انسانی کے اندر رہتی ہے اس کے نکلنے ہی کا نام موت ہے۔ دوسری روح کا اس پہلی روح سے تعلق قریب تو ہے مگر اس تعلق کی حقیقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ مرنے کے بعد روح اول تو آسمانوں میں لے جائی جاتی ہے پھر قبر میں لوٹا دی جاتی ہے اس کا مستقر قبر ہی ہے اسی پر عذاب وثواب ہوتا ہے اور روح مجرد علیین یا سجین میں رہتی ہے۔ اس طرح اقوال جمع ہوگئے مستقر ارواح کا جنت یا علیین میں یا اس کے بالمقابل جہنم یا سجین میں ہونا روح مجرد کے اعتبار سے ہے اور ان کا مستقر قبر میں ہونا روح کی قسم اول یعنی نفس کے اعتبار سے ہے جو جسمِ لطیف ہے اور مرنے کے بعد قبر میں رہتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 83:22–24اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ۔ عَلَی الْاَرَآئِکِ یَنْظُرُوْنَ ۔ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ ۔ (المطففین : 22 تا 24)
(بیشک نیک لوگ عیش میں ہوں گے۔ اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے۔ تم ان کے چہروں پر آسائش کی بشاشت محسوس کرو گے۔ )
ابرار کی عزت افزائی
اللہ تعالیٰ کے وفادار بندے جنھوں نے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، اس کی نعمتوں کا ادائے شکر اور اس کے دین کی سربلندی میں گزاریں، وہ فجار کے انجام کے بالکل برعکس نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ ان کی نگاہ جدھر بھی اٹھے گی ہر طرف نعمتیں چھائی ہوئی ہوں گی۔ ایک عیش کی زندگی ہوگی جس سے وہ بہرہ اندوز ہوں گے۔
فجار کو تو اللہ تعالیٰ کی دید سے محروم رکھ کر جہنم کے گڑھوں میں پھینک دیا جائے گا۔ لیکن ابرار کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے تختوں اور بلند مسندوں پر بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کی شانیں اور جلوے دیکھیں گے۔ اور قرآن کریم کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی خواہش پر جہنم میں جلتے ہوئے ان کے دشمنوں کو بھی دکھا دیا جائے گا۔ جس سے انھیں اندازہ ہوگا کہ کافروں کے ساتھ وہی حشر ہورہا ہے جس کے بارے میں انھیں تنبیہ کی جاتی رہی ہے۔
نعمتوں سے سرشاری کی کیفیت یہ ہوگی کہ ہر دیکھنے والا ان ابرار کے چہروں پر تازگی اور بشاشت دیکھے گا۔ نضرۃ تازگی اور بشاشت کو کہتے ہیں۔ جب کوئی خوشی اور مسرت آدمی کے نہاں خانہ میں اتر جاتی ہے تو آدمی کا انگ انگ اس کو محسوس کرتا ہے اور چہرے پر وہ بشاشت بن کر جھلکنے لگتی ہے جس سے دوسروں کو اس کی خوشی کا اندازہ ہوتا ہے۔
Ayahs 83:25–28یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ ۔ خِتٰـمُہٗ مِسْکٌ ط وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فِسُوْنَ ۔ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ ۔ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ (المطففین : 25 تا 28)
(انھیں بہترین سربند شراب پلائی جائے گی۔ جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی، جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس میں بازی لے جانے کی کوشش کریں۔ اس شراب میں تسنیم کی ملونی ہوگی۔ یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے۔ )
اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو جن نعمتوں سے نوازا جائے گا اور ان کی مجلسی زندگی جن نعمتوں سے معمور ہوگی ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انھیں شراب خالص اور بہترین شراب کے جام پلائے جائیں گے۔ اور یہ شراب سربمہر ہوگی۔ سب سے پہلے انہی کے لیے کھولی جائے گی۔ اور اس کو سربمہر کرنے کے لیے کسی اور چیز کو نہیں بلکہ مشک اور کستوری کو استعمال کیا جائے گا۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ شراب پینے والے شراب پینے کے بعد اپنے منہ سے کستوری کی خوشبو محسوس کریں گے۔ جبکہ دنیا کی عام شراب صرف مزے میں ہی کڑوی نہیں ہوتی بلکہ اس کی بوتل کھولتے ہی بدبو کے بھپکے نکلتے ہیں۔ لوگ عادت سے مجبور ہو کر یا نشے کی تلاش میں اسے پینے کی خواہش تو پالتے ہیں لیکن یہ وہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ایک بدذائقہ اور بدبودار چیز ہے۔ وقتی طور پر سرور دیتی ہے لیکن بعد میں خمار بدن شکن بھی واقع ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو مجلسی زندگی کے رکھ رکھائو کے لیے جو شراب طہور پلائی جائے گی نہ اس میں بدبو ہوگی نہ وہ بدمزہ ہوگی نہ اس میں خمار ہوگا، پینے والا اپنے منہ سے کستوری کی مہک نکلتے ہوئے محسوس کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کا ایک اجمالی تصور بعض نعمتوں کے ذکر سے دینا مقصود ہے۔ لیکن جنت کی اصل صفات و کیفیات عالم آخرت کا معاملہ ہے اور اس کی لطف و لذت بھی دنیا میں قیاس سے ماورا ہے۔ البتہ یہ کہہ کر ترغیب اور تشویق میں اضافہ کردیا گیا ہے کہ اگر لطف و لذت کی دنیا میں کسی کو محنت کرنے اور جان مارنے کا شوق ہو تو یہ ہیں وہ نعمتیں جن میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا کی حقیر نعمتیں اس قابل نہیں ہیں کہ ایک مومن آخرت کی ان نعمتوں کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کی نعمتوں کے حصول میں وقت ضائع کرتا پھرے۔
شراب ہی کے بارے میں مزید فرمایا کہ شراب پینے والے شراب کے کیف میں اضافہ یا اس میں اعتدال پیدا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی چیز ملاتے ہیں اسے ملونی کہتے ہیں اور قرآن کریم نے اسے مزاج کے نام سے یاد کیا ہے۔ اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ ملونی اور امتزاج تسنیم کے پانی سے لیا جائے گا۔ تسنیم عام طور پر بلندی سے نیچے اترنے والے چشمے کو کہتے ہیں۔ اور جو لوگ پہاڑوں کے قدرتی مناظر کو دیکھنے کا تجربہ رکھتے ہیں وہ ایسے پہاڑی چشمے کی خوبصورتی کا اندازہ کرسکتے ہیں جو بلندی سے نیچے آبشار کی صورت میں گر رہا ہو۔ جس چشمے کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے اس کی صرف خوبصورتی ہی نہیں بلکہ اس کے لطف و لذت اور اس کے اعتدال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اہل جنت اس کا پانی لطف و لذت میں اضافے یا اعتدلال کے لیے شراب میں ملونی کے طور پر استعمال کریں گے۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہے وہ اس چشمے سے سیراب بھی ہوں گے۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آیت اٹھائیس میں بہا کی ” ب “ ظرفیہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مقرب لوگ اس چشمے کے کنارے بیٹھ کر شراب نوشی کا مزہ اٹھائیں گے۔ کیونکہ مے نوشی کا مزہ جو کسی چشمے یا ندی کے کنارے پر بیٹھ کر آتا ہے وہ کسی کمرے میں بیٹھ کر نہیں آسکتا۔ یہ مقربین کی مے نوشی ہے یہ بھی اس چشمے کے کنارے پر ہوگی تاکہ لطف و لذت کے حصول میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
Ayahs 83:29–31اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ ۔ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ ۔ وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓی اَھْلِہِمُ انْقَلَبُوْا فَـکِھِیْنَ ۔ (المطففین : 29 تا 31)
(بیشک جو لوگ مجرم رہے ہیں وہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ اور جب اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے۔ )
اس سے پہلے کی آیات میں فجار اور ابرار کا انجام بیان ہوا ہے۔ اب ایک اور پہلو سے ان دونوں میں تقابل کرتے ہوئے انقلابِ حال کی تصویر کھینچی جارہی ہے کہ یہ فجار وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا میں ایک سے ایک بڑا جرم کیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انھوں نے مجرمانہ زندگی گزاری۔ اخلاق کی کوئی قدر ان کے ہاتھوں پامال ہونے سے بچ نہ سکی۔ اس کے باوجود دولت و ثروت کے نشے میں ان کا حال یہ تھا کہ جو غریب مسلمان ایمان کی دولت سے مالامال ہو کر جرائم کے اندھیروں میں ایمان اور اخلاق کی مشعل روشن کرنا چاہتا تھا تو یہ اس کی غربت کا مذاق اڑاتے۔ اور اپنی فقرہ بازیوں اور پھبتیوں سے اس کا جینا دوبھر کردیتے۔ ان کے نزدیک عزت کا معیار چونکہ صرف دولت تھی یا عہدہ و منصب۔ اس لیے کردار کا اجلاپن اور معاملات میں صفائی ستھرائی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے یہ ہر ممکن طریقے سے ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کرتے تھے۔ اور جب کبھی وہ غریب مسلمان ان کے پاس سے گزرتے یا یہ فراعنہ صفت لوگ ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھوں کے اشاروں سے ان کے دلوں پر چرکے لگاتے۔ اور بظاہر ان کی تذلیل کا سامان کرنے کی کوشش کرتے۔ اور ان کرتوتوں کے بعد جب اپنے گھر لوٹتے تو اپنے اہل خانہ میں بیٹھ کر مزے لے لے کر اپنی حرکتوں کی روداد سناتے کہ آج ہم نے فلاں شخص کو اس طرح پھبتیوں کا نشانہ بنایا، فلاں کے اس طرح لتے لیے، فلاں کے ساتھ اس طرح بدتمیزی کی کہ وہ اپنی شرافت کے ہاتھوں بالکل بےبس ہو کر رہ گیا۔ بس کچھ نہ پوچھو آج تو مزہ ہی آگیا۔ یہ لوگ بھی مدتوں یاد رکھیں گے کہ کس سے واسطہ پڑا تھا۔ وہ دراصل چاہتے یہ تھے کہ جس طرح گھروں سے باہر کی دنیا مسلمانوں کے لیے عذاب بن گئی ہے اور ہر جگہ ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے، ہمارے گھروں میں بھی اگلی پیدا ہونے والی نسل ہمارے رویئے کی نمائندہ ہونی چاہیے۔ جب یہ بچے ہر روز اپنے بڑوں کی نفرت کا اظہار دیکھیں گے تو وہ بھی بڑے ہو کر یہی کچھ غنڈہ گردی کریں گے۔ اس طرح سے مسلمانوں کے لیے زندگی مزید عذاب ہوجائے گی۔
Ayah 83:32وَاِذَا رَاَوْھُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ھٰٓـؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ ۔ (المطففین : 32)
(جب انھیں دیکھتے تو کہتے تھے یہ بالکل گمراہ ہیں۔ )
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کی تمام تر مخالفت کے باوجود مسلمانوں کا حُسنِ کردار اور حُسنِ سلوک دھیرے دھیرے لوگوں پر اثرانداز ہورہا تھا۔ اور بہت سے لوگوں کے ذہن متأثر ہورہے تھے۔ لوگ سوچنے لگے تھے کہ جو شخص بھی ایمان قبول کرلیتا ہے آخر اس کے اندر ایسی حیرت انگیز تبدیلی کیوں آنے لگتی ہے کہ اس کی ہر چیز بدل جاتی ہے۔ وہ باقی لوگوں سے الگ تھلگ خوبصورت کردار کی تصویر بن جاتا اور اس کے قول و عمل کا تضاد ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ تبدیلی یقینا اس دین کی صداقت کی دلیل ہے جس کے یہ لوگ ماننے والے ہیں۔ قریش نے جب اس تأثر کو پھیلتے ہوئے دیکھا اور لوگوں میں پذیرائی نظر آنے لگی تو انھیں فکر ہوئی۔ اور اس کا حل انھوں نے یہ نکالا کہ جب بھی مسلمانوں سے آمنا سامنا ہوتا اور ان کے اپنے ہم خیال لوگ بھی موجود ہوتے تو وہ مسلمانوں کے بارے میں تبصرے شروع کردیتے کہ یہ لوگ انتہائی گمراہ ہیں، انھوں نے اپنے آبائی دین سے انحراف اختیار کیا ہے، یہ ملت ابراہیمی کے دشمن ہیں، ان کی وجہ سے ہمارا قومی شیرازہ بکھر رہا ہے۔ بس ان کے پیغمبر نے انھیں کچھ جنت کی ایسی امیدیں دلائی ہیں کہ انھوں نے دنیا کے بہت سے فائدوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کرلیا ہے۔ اور جہنم سے ایسا ڈرایا ہے کہ ان کے دین کے راستے میں جو مصائب پیش آرہے ہیں انھیں اس خیال سے یہ خندہ پیشانی سے برداشت کررہے ہیں کہ اس کی وجہ سے آخرت میں جہنم سے بچ جائیں گے۔ تو یہ کیسے بہکے ہوئے لوگ ہیں جنھوں نے چند موہوم چیزوں کی خاطر اپنی زندگی کو خوشیوں سے محروم کرلیا ہے۔ اس طرح سے وہ لوگوں کو مسلمانوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔
Ayah 83:33وَمَـآ اُرْسِلُوْا عَلَیْہِمْ حٰفِظِیْنَ ۔ (المطففین : 33)
(حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں۔ )
اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب مسلمان کفار کے غلط عقائد، غلط خیالات اور غلط اعمال پر تنقید کرتے تھے تو کفار جواب میں یہ کہتے کہ ان لوگوں کو ہمارے رویئے پر تنقید کرنے کا کیا حق ہے۔ یہ کون ہوتے ہیں ہمارے خیالات پر تبصرے کرنے والے۔ معاشرتی طور پر یہ لوگ اس قابل نہیں کہ انھیں منہ لگایا جائے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے ہر بات پر صحیح اور غلط ہونے کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ اس لحاظ سے یہ آیت کفار ہی کے قول کا ایک حصہ ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کفار جو مسلمانوں کو ضال اور مضل ٹھہراتے ہیں اور انھیں بہکا ہوا قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ کفار ان پر کوئی نگران یا اتالیق تو مقرر نہیں کیے گئے۔ انجام کے اعتبار سے دونوں معنوں میں کوئی خاص فرق نہیں۔ بتانا تو صرف یہ ہے کہ کفار ہر وقت مسلمانوں کے طرزعمل پر تنقید کرتے اور عام لوگوں کے سامنے انھیں گمراہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ لوگوں کو مسلمانوں کے اثرات سے بچایا جائے۔
Ayah 83:34فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْـکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَ ۔ (المطففین : 34)
(پس آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کفار کے حال پر ہنس رہے ہیں۔ )
دنیا میں کفار کے طرزعمل کی تصویر دکھانے کے بعد یہ بتایا جارہا ہے کہ قیامت کے دن کس طرح صورتحال بدلے گی کہ دنیا میں جو لوگ مسلمانوں پر ہنستے اور مذاق اڑاتے رہے ہیں آج ان پر ہنسا جائے گا۔ جس طرح وہ مسلمانوں کی بےسروسامانی اور بےچارگی کو تضحیک و استہزاء کا موضوع بناتے تھے آج قیامت کے دن مسلمان ان کی بےبسی پر ہنسیں گے۔ اور جائز طور پر ان کے گزشتہ اطوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہیں گے کہ کہاں گیا وہ ٹھاٹ باٹ اور کہاں گیا ان کا وہ فرعون صفت رویہ اور کہاں گیا ان کا وہ نفرت کا اظہار۔ آج کیسے مظلوم بنے ہر ذلت کو برداشت کررہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو جنت میں بیٹھے ہوئے ہی کفار کا حال بھی دکھایا جائے گا۔ انھیں دیکھ کر ہی ان کا سابقہ رویہ یاد آنے پر اور اب ان کے رویئے کو دیکھتے ہوئے ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جائے گی۔
Ayah 83:35عَلَی الْاَرَآئِکِ لا یَنْظُرُوْنَ ۔ (المطففین : 35)
(مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں۔ )
اہلِ ایمان جب کفار کی گت بنتے ہوئے دیکھ کر اور سابقہ رویہ یاد کرکے بےساختہ ہنسیں گے اس وقت ان کے مقام و مرتبہ کا حال یہ ہوگا کہ وہ بڑی عالی شان مسندوں پر بادشاہوں کی طرح براجمان ہوں گے۔ ان کی حیثیت ایسی ہوگی جیسے کسی شاہی مہمان کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان پر نثار ہورہی ہوں گی۔ وہ اپنے اس اعزاز پر خوش و خرم ہوں گے اور ان بدنصیبوں کے برے انجام پر دکھ محسوس کرتے ہوئے ان کے رویئے کو یاد کرکے ہنسیں گے۔
Ayah 83:36ھَلْ ثُوِّبَ الْـکُفَّارُ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ (المطففین : 36)
(کیا مل گیا کفار کو ان کے کیے کا بدلہ جو وہ کیا کرتے تھے۔ )
اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پروردگار کی طرف سے اصحابِ ایمان سے کفار کا منظر دکھا لینے کے بعد پوچھا جائے گا کہ کیا کفار کو ان کی ان تمام حرکتوں کا پورا پورا بدلہ مل گیا ہے جو وہ دنیا میں تمہارے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان آخرت میں جنت میں تختوں پر بیٹھے ہوئے جہنم میں جلنے والے ان کافروں کا حال دیکھیں گے جو دنیا میں کبروغرور کا نمونہ تھے، تو اپنے دلوں میں خیال کریں گے کہ انھیں ان کے اعمال کا خوب ثواب مل گیا ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس فقرے میں ایک گہرا طنز بھی ہے اور مسلمانوں کے لیے تسلی اور اطمینان کا اظہار بھی۔