Ayah 82:1اِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ ۔ (الانفطار : 1)
(جب آسمان پھٹ جائے گا۔ )
انفطار کا معنی پھٹ جانا اور شق ہوجانا ہے۔ سورة الانشقاق میں اِذَاالسَّمَائُ اَنْشَقَّتْ فرمایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انفطار و انشفاق دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔
نفخہ اولٰی کے بعد آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر
اس پھٹ جانے کی کیفیت کیا ہوگی، اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ لیکن اتنی بات واضح ہے کہ وہ گنبدبے در جو ہمارے سروں پر چھایا ہوا ہے اور جسے سقف نیلگوں بھی کہتے ہیں اور جس میں کہیں کوئی شگاف نظر نہیں آتا، قیامت کے روز یہ پھٹ جائے گا اور شق ہوجائے گا۔ اور اس میں جگہ جگہ شگاف دیکھنے والوں کو نظر آئیں گے۔ آج ہمارے علم اور سائنس کے ترازو میں چاہے یہ باتیں تلیں یا نہ تلیں لیکن جب اس کا خالق اسے ایک محکم حقیقت کے طور پر بیان کررہا ہے تو اسے تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ سائنس کے پاس آج تک اپنی بیخبر ی، کوتاہی فکر اور نارسائی کے سوا کچھ نہیں۔ عدمِ علم عدم وجود کو مستلزم نہیں ہوتا۔
آسمان کے پھٹ جانے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے بعد ایک نیا عالم نئے نوامیس و قوانین کے تحت ظہور میں آئے گا۔ اس وجہ سے اس عالم کہن کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس سے قیامت کے وہ منکرین جو اپنے قلعوں پر بےجا ناز کرتے ہوئے نہایت تکبر سے قیامت کا انکار کرتے تھے انھیں تنبیہ کی جارہی ہے کہ جب قیامت کے آنے سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی تو جن قلعوں اور گڑھیوں پر تم اعتماد کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ ان پر کبھی زوال نہیں آئے گا، یہ تمہارے گھروندے بھی باقی نہیں رہیں گے۔
Ayah 82:2وَاِذَا الْـکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ ۔ (الانفطار : 2)
(اور جب ستارے بکھر جائیں گے۔ )
ستاروں کی پراگندگی
انتثار کے معنی بکھر جانے، منتشر اور پراگندہ ہوجانے کے ہیں۔ آسمان کے پھٹ جانے کے بعد وہ شیرازہ بکھر جائے گا جس میں آج یہ ستارے ہمیں پروئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اور سورج کے بےنور ہوجانے اور اس کی بساط لپیٹ دیئے جانے کے بعد نظام شمسی سے ان کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ تو اس کے بعد پراگندگی اور انتشار کے سوا اور کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ جس غیرمرئی قوت سے وہ لٹک رہے تھے وہ بھی ختم ہوجائے گی۔ اور جس نظام شمسی سے ان کو روشنی مل رہی تھی اس سے تعلق ٹوٹ جانے سے وہ بجھ کر رہ جائیں گے۔ اس طرح سے ان کا وجود ختم ہوجائے گا۔
Ayah 82:3وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ۔ (الانفطار : 3)
(اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔ )
سمندروں کا پھٹ جانا
سورة التکویر میں فرمایا گیا ہے وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَت… تسجیرکا معنی جیسا کہ اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے تنور کے اندر آگ دہکانے کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ سمندروں کو پھاڑ دیا جائے گا۔ ان دونوں آیتوں اور سورة ص کی پہلی آیت جس میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کا زلزلہ ایک بہت بڑی شے ہے کو جب ملا کر پڑھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زبردست زلزلہ آئے گا جس سے پوری زمین ہلا دی جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سمندروں کی تہہ پھٹ جائے گی اور ان کا پانی زمین کے اس اندرونی حصے میں اترنے لگے گا جہاں ہر وقت بےانتہاء گرم لاوا کھولتا رہتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال یہ ہے کہ آج سے لاکھوں سال پہلے جب زمین سورج سے الگ ہوئی تھی تو اس کا درجہ ٔ حرارت سورج کے برابر تھا۔ آج بھی یہ حرارت بطن زمین میں موجود ہے۔ اور لاوے کا درجہ حرارت وہی ہے جو آغاز میں زمین کا تھا۔ یعنی بارہ ہزار فارن ہائیٹ۔ جب پانی اس لاوے تک پہنچے گا تو وہ اپنے ان اجزاء کی شکل میں تحلیل ہوجائے گا جن سے وہ مرکب ہے۔ جن میں ایک آکسیجن جلانے والی ہے۔ اور دوسری یعنی ہائیڈروجن بھڑک اٹھنے والی ہے۔ تو یہ دونوں گیسیں چونکہ آتش پذیر ہیں اس لیے پانی کے گیسوں میں تبدیل ہوجانے کے بعد دنیا کے تمام سمندروں میں آگ لگ جائے گی۔ یہ وہ بات ہے جو ان دونوں آیتوں کو ملانے سے قیاس کی جاسکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام باتیں متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں جن کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کو ہے، ہم نے محض ان کا مطلب واضح کرنے کے لیے ایک قیاس سے کام لیا ہے، ضروری نہیں کہ وہ صحیح ہو۔
Ayah 82:4وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ ۔ (الانفطار : 4)
(اور جب قبریں کھول دی جائیں گی۔ )
نفخہ ثانیہ کے بعد قبروں کا کھولا جانا
پہلی تین آیتوں میں قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے۔ جب ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور ہر زندہ چیز پر موت طاری ہوجائے گی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دوسرے مرحلے کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ قبروں کے کھولے جانے سے مراد یہ ہے کہ لوگ زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکلیں گے۔ اور میدانِ حشر میں جمع ہوجائیں گے۔
Ayah 82:5عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاقَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ ۔ (الانفطار : 5)
(اس وقت ہر شخص کو پتہ چل جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا ہے اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔ )
قیامت کے اصل مقصد کا ظہور
قیامت کے برپا کرنے سے جو چیز مقصود ہے وہ اس آیت میں بیان فرما دی گئی ہے۔ یعنی آج جو لوگ قیامت کے وقوع کا انکار کرتے ہیں اور بعض ایسے سرپھرے ہیں جو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ قیامت کی ہولناکی شکست و ریخت اور ہلچل کو دیکھتے ہوئے انھیں اندازہ ہوگا کہ ہم جس چیز کا انکار کرتے رہے ہیں وہ تو اب ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ تب انھیں زندگی کے معمولات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ آج کا دن اگر واقعی جوابدہی کا دن ہے تو کیا ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہم انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرسکیں۔ تو جو کچھ انھوں نے زندگی میں کیا ہوگا وہ ایک ایک کرکے ان کے سامنے آنا شروع ہوجائے گا۔ انھیں وہ اعمال بھی یاد آئیں گے جو انھوں نے زندگی میں انجام دیئے۔ اور ایسی باتیں بھی ان کے ذہنی افق پر روشن ہوں گی جنھیں وہ انجام دینا چاہتے تھے لیکن نہ دے سکے۔ اور اس کی حسرت لیے ہوئے موت کا شکار ہوگئے۔ کیونکہ ہر شخص زندگی میں جو کچھ بھی کرتا ہے وہ اچھا ہو یا برا، ضروری نہیں کہ اپنے ہر عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ جن کاموں کو وہ کر گزرتا ہے انھیں گویا وہ آگے بھیج دیتا ہے۔ اور جنھیں خواہش کے باوجود کر نہ سکا یا پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا تو اس کی حسرت یا خلش لیے ہوئے آخرت کو سدھار جاتا ہے۔ تو یہ وہ عمل ہے جو وہ پیچھے چھوڑ گیا۔ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اس نے کیا وہ عمل کی صورت میں اسے بھی نظر آتا ہے اور اہل دنیا کو بھی۔ اور یہ وہ عمل ہے جو اس نے آگے بھیجا۔ لیکن اس کے اثرات اور اس کے نتائج بعض دفعہ زندگی گزرنے کے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔ جو شخص ایک تعلیمی ادارہ کھولتا ہے اس تعلیمی ادارے سے فائدہ اٹھانے والے اپنے علم و دانش سے اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد نسلاً بعدنسلٍ نہ جانے کب تک اس کے اس عمل کے برگ و بار کو دنیا میں پھیلاتے رہتے ہیں، اس کا اندازہ قیامت کے دن ہوگا۔ اور یہ وہ عمل ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ اس سے مختلف بھی اس کے مفاہیم ہوسکتے ہیں جو سب اپنے اپنے دائرہ کار میں مراد لیے جاسکتے ہیں۔ ان سب کو قیامت کے دن آدمی اپنے سامنے دیکھے گا اور جان لے گا کہ میں کیا کچھ کرچکا ہوں۔
Ayah 82:6یٰٓـاَیُّھَا الْاِنْسَانُ مَاغَرَّ کَ بِرَبِّکَ الْـکَرِیْمُ ۔ (الانفطار : 6)
(اے انسان ! کس چیز نے تجھے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا۔ )
انسان کے بگاڑ کا اصل سبب جواب دہی سے بےنیازی ہے
روئے سخن اگرچہ انھیں کفار و مشرکین کی طرف ہے جو بڑے تکبر سے قیامت کا انکار کرتے تھے۔ لیکن خطاب میں انسان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک دنیا میں نوع انسانی کا وجود ہے اس کے بگاڑ کا سبب ہمیشہ آخرت اور قیامت کا انکار اور جوابدہی سے بےنیازی ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف اہل مکہ کا نہیں بلکہ تمام نوع انسانی کا ہے۔ اور خطاب میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تم نے اپنے رب کو نہایت رحیم و کریم پایا۔ وہ تمہاری سرکشیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا۔ تم نے اس کے ساتھ بیشمار قوتوں کو شریک بنایا، قدم قدم پر تم نے اس کے احکام توڑے، تم نے بےبس اور بےکس انسانوں پر مظالم کی انتہا کردی۔ لیکن اس نے تمہیں کبھی سزا دینے میں جلدی نہیں کی۔ ہمیشہ تمہاری مہلت عمل میں اضافہ کرتا رہا۔ تم اس سے یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ جس طرح آج تک تمہاری کسی بات پر باز پرس نہیں ہوئی، آئندہ چل کر بھی نہیں ہوگی۔ اور تمہیں جو دولت و ثروت حاصل ہے یہ تمہارا پیدائشی حق ہے۔ تو جس کریم نے تمہیں یہاں اس رفاہیت اور عیش و آرام میں رکھا ہے وہ تمہیں قیامت کے بعد بھی (اگر وہ آئی) تو اسی عیش و آرام میں رکھے گا۔ یہ وہ فریب ہے جس نے تیری زندگی برباد کردی ہے۔ بجائے اس کے کہ تو اللہ تعالیٰ کی شان کریمی کا معترف ہوتا اور شکر بجالاتا، تو نے اسے اس کی کمزوری سمجھا، کہ اس نے تیری سرکشیوں اور حدود کی پامالیوں پر تیری گرفت نہیں کی۔ تو تو نے یہ سمجھا کہ یا تو اس کائنات کا کوئی خدا نہیں، اگر ہے تو وہ اس قابل نہیں کہ زمین پر رہنے والوں کو ان کے گناہوں پر پکڑے۔ اور یا پھر یہ حقیقت ہے کہ اس نے زمین پر بسنے والے انسانوں کو چھٹی دے رکھی ہے کہ شتر بےمہار کی طرح زندگی گزارو، تم سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ نہ دنیا میں تمہیں پکڑا جائے گا اور نہ آخرت میں کوئی حساب کتاب ہوگا۔ حالانکہ اس فریب میں پڑنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ لیکن فریبِ نفس ایک ایسا دام ہے جس سے بچ کر نکلنا آسان نہیں۔
Ayahs 82:7–8الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰ کَ فَعَدَلَـکَ ۔ فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّاشَآئَ رَکَّبَکَ ۔ (الانفطار : 7، 8)
(جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے، پھر تجھے متناسب بنایا۔ پھر جس شکل میں چاہا تجھے جوڑ کر یتار کردیا۔ )
اللہ تعالیٰ کا اپنی بعض صفات سے استدلال
اللہ تعالیٰ نے اس غلط فہمی کے تدارک کے لیے اپنی چند صفات کا ذکر فرمایا ہے جس کا تعلق انسان کی خلقت سے ہے۔ کہنا یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی شان کریمی سے جو دھوکا ہوا ہے اور تم نے اسے کمزوری پر محمول کیا ہے۔ اگر تم اپنی خلقت پر غور کرتے اور اپنے وجود کا تجزیہ کرتے تو تمہیں یہ غلط فہمی کبھی نہ ہوتی۔ تمہارا وجود خود بتارہا ہے کہ یہ نہ آپ سے آپ وجود میں آیا ہے، نہ اسے ماں باپ نے تخلیق کیا ہے، نہ چند عناصر کے مل جانے کی وجہ سے اتفاق سے انسان بن گیا ہے۔ بلکہ جس تدریج اور اہتمام کے ساتھ انسان کی تخلیق ہوتی ہے اس کے ایک ایک قدم پر اللہ تعالیٰ کی شانیں ظاہر ہوتی ہیں اور اس کی قدرت کا ظہور ہوتا ہے۔ میاں بیوی کے اتصال سے ماں کے رحم میں پانی کی ایک بوند کا انتقال ہوتا ہے۔ پھر کس حیرت انگیز طریقے سے اللہ تعالیٰ اس کی صورت آرائی فرماتا ہے، پھر کس طرح سے اس کی نوک پلک سنوارتا ہے اور پھر کیسے حیران کردینے والے طریقے سے اس کا تناسب درست کرتا اور اس کی صلاحیت میں اعتدال پیدا کرتا ہے۔ اور پانی کے اس قطرے کو ایک من موہنی اور خوبصورت شکل ہی میں تبدیل نہیں کرتا بلکہ اسے اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ چاہے تو زمین کو اپنی ایجادات سے بھر دے۔ اور چاہے تو انسان کے جذبات و احساسات کو اتنا پاکیزہ کردے کہ اس کے سر پر خلافتِ ارضی کا تاج رکھا جاسکے۔ اور آسمان کی بادشاہی کا اسے سزاوار کہا جاسکے۔ اور مزید حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ وہ صورت آرائی اور کمالات کی عطا و بخشش میں ایسے کمال قدرت کا اظہار فرماتا ہے کہ لاکھوں انسانوں کے اندر سے کوئی دو آدمی ایسے نہیں نکالے جاسکتے جو شکل و صورت میں کامل مشابہت رکھتے ہوں۔ اور نہ دو شخص ایسے تلاش کیے جاسکتے ہیں جو احساس و انفعال اور فکر و ایجاد کی یکساں صلاحیتیں رکھتے ہوں۔ ایسی حیران کن اور بےپناہ قدرتوں کی مالک ذات کے بارے میں تمہیں گمان یہ ہے کہ نہ وہ تمہیں ازسرنو زندہ کرسکتا ہے، نہ تمہیں جواب طلبی کے لیے اپنے حضور حاضر کرسکتا ہے، نہ تمہارے نیکوں اور بروں میں امتیاز پیدا کرسکتا ہے اور نہ وہ زمین کے دور دراز گوشے میں ایک ایک آدمی کا احتساب کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھتے ہوئے ان غلط فہمیوں کا کوئی جواز نہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے انسان کی خلقت میں جو بےپناہ احسانات کیے، ہونا تو یہ چاہیے کہ انسان اس باراحسان سے کبھی سر نہ اٹھا سکے۔ اور ساری زندگی اس کے شکر میں گزارے۔ یہی عقل کا تقاضا اور یہی اخلاق کی پکار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ تمہاری عقل اور تمہاری اخلاقی قوت کبھی ان باتوں کا ادراک نہ کرتی ہو، بلکہ زیادہ امکان یہ ہے کہ اصل میں پانی کہیں اور مرتا ہے۔
Ayah 82:9کَلاَّ بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِ ۔ (الانفطار : 9)
(ہرگز نہیں ! بلکہ تم جزاء کو جھٹلاتے ہو۔ )
مکذبینِ قیامت کو تنبیہ
ہرگز نہیں سے مراد یہ ہے کہ تم نے جن مصنوعی اسباب اور اعذار کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ تصورات قائم کر رکھے ہیں اور جن شبہات و اعتراضات کی بنیاد پر تم قیامت کے آنے سے انکار کرتے ہو، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کا جواب خود انسان کی اپنی ذات اور اپنی تخلیق میں موجود ہے۔ اگر ان پر غور کرے تو وہ کبھی اس فریبِ نفس کا شکار نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری بیماری کچھ اور ہے جسے تم ان مصنوعی باتوں میں چھپانا چاہتے ہو۔ وہ بیماری یہ ہے کہ تم جزاء و سزا کو ماننا نہیں چاہتے۔ یعنی تمہارا اصل انکار قیامت سے نہیں، اور تمہارے اشتباہات دوبارہ جی اٹھنے اور تمام اعمال کی جواب دہی کے بارے میں سراسر ایک دھوکا اور تصنع ہے۔ تمہیں اصل میں یہ بات گوارا نہیں کہ کبھی تم سے تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے، کیونکہ تم خوب جانتے ہو کہ تم نے آج تک کیسے زندگی گزاری ہے اور کیسے مکروہ اعمال کا ارتکاب کرتے رہے ہو۔
Ayahs 82:10–12وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ ۔ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ۔ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ (الانفطار : 10 تا 12)
(حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں۔ معزز کاتب۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔ )
مکذبین کی غلطی کا ازالہ
یعنی تمہارا یہ خیال کہ دنیا کے دارالعمل کے بعد کوئی دارالجزاء نہیں۔ اس لیے ہمیں جزاء و سزا کے بارے میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ تم چاہے کیسے بھی تصورات رکھو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ذمہ دار حیثیت سے دنیا میں بھیجا ہے، تمہیں شتر بےمہار بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہاری اس حیثیت کو جانچنے کے لیے اس نے تم پر کچھ نگران مقرر کر رکھے ہیں۔ قرآن کریم کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد دو ہے جو ہر آدمی کے دونوں کندھوں پر بٹھائے گئے ہیں جو دائیں بائیں دونوں طرف سے نگرانی کرتے ہیں۔ اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں تقسیمِ کار یہ ہے کہ ایک نیکیاں لکھنے پر مامور ہے اور دوسرا بدیاں لکھنے پر۔ اور سورة ق سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جو کچھ زبان سے نکالتا ہے ایک مستعد نگران اس کے پاس موجود ہوتا ہے، یعنی وہ فوراً اسے لکھ لیتا ہے۔ پھر ان کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دونوں فرشتے انتہائی معزز اور بزرگ ہیں۔ یعنی نہ کسی سے ذاتی محبت رکھتے ہیں اور نہ عداوت۔ اس لیے نہ کسی کی بےجا رعایت کرتے ہیں اور نہ کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر قول اور ہر عمل نہایت ذمہ داری سے قلمبند کرتے ہیں۔ کسی کا بڑا یا چھوٹا ہونا ان پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ وہ چونکہ خود بہت معزز ہیں اس لیے ایک بادشاہ بھی ان کے سامنے موثر حیثیت نہیں رکھتا۔ ان کی کرامتِ نفس میں یقینا دیانت و امانت بھی شامل ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ خائن بھی نہیں ہیں۔ اپنی حاضری اور فرض کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔ کسی کی یہ مجال نہیں کہ ان پر اثرانداز ہو کر ریکارڈ میں تبدیلی کر وا سکے۔ مزید فرمایا کہ جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب جانتے ہیں۔ جاننے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت ہر شخص کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ نیکیاں لکھنے والے کی نظر اس کی نیکیوں پر رہتی ہے اور بدیاں لکھنے والا بدیوں پر نگاہ رکھتا ہے۔ انسان تنہائی اور تاریکی میں جب کوئی اسے دیکھنے والا نہ ہو یہ سمجھ کر گناہ کرتا ہے کہ میں ہر طرح محفوظ ہوں۔ لیکن اسے یہ معلوم نہیں کہ اس کے دائیں بائیں دونوں کندوں پر دو نگران موجود ہیں جو ہر وقت اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ چناچہ ان کا مرتب کیا ہوا ریکارڈ ایسا مکمل ریکارڈ ہوگا کہ جس میں کوئی بات بھی درج ہونے سے رہ نہیں جائے گی۔ اس لیے سورة کہف میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب مجرمین کو ان کے نامہ اعمال دیئے جائیں گے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اس نامہ اعمال میں ہر چھوٹی بڑی بات موجود ہے۔ کوئی بات درج ہونے سے رہی نہیں۔ بلکہ جو کچھ انھوں نے کیا ہوگا وہ بالکل ویسے ہی ان کے سامنے موجود ہوگا۔
Ayahs 82:13–14اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ۔ وَّاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ ۔ (الانفطار : 13، 14)
(بیشک نیک لوگ عیش میں ہوں گے۔ اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے۔ )
اللہ تعالیٰ کے نظام احتساب کا نتیجہ
اللہ تعالیٰ نے اعمال کی حفاظت کا جو حیران کن انتظام کر رکھا ہے یہ اس کا نتیجہ ہے کہ جن لوگوں نے شریعت کے احکام کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے نیکوکاری کی زندگی اختیار کی ہوگی وہ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور انھیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی بجائے فسق و فجور میں اپنے آپ کو مبتلا رکھا ہوگا اور شیطان کی پیروی میں زندگی گزاری ہوگی، وہ جہنم میں ہوں گے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت چونکہ دارالجزاء اور عدل کی جگہ ہے اس لیے وہاں اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں فرمائے گا۔ نیکوں کے ساتھ اور سلوک ہوگا اور برے لوگوں کے ساتھ اور۔ اسی سے ان لوگوں کی حماقت بھی واضح ہوجاتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ اور اگر کوئی زندگی ہوئی تو وہ اپنی شفاعت کرنے والوں کے زور سے اچھی زندگی حاصل کرلیں گے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنے رویئے کی اصلاح کریں۔ کیونکہ اس کائنات کا خالق نیکی اور بدی کے معاملے میں غیرجانبدار نہیں کہ وہ سب کے ساتھ ایک ہی طرح کا سلوک کرے۔ وہ عادل ہے اس لیے وہ انصاف سے کام لے گا۔ اس نے اس دنیا کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تو وہ اس کو اندھیرنگری نہیں بننے دے گا۔
Ayahs 82:15–16یَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآئِبِیْنَ ۔ (الانفطار : 15، 16)
(وہ جزاء کے دن اس میں داخل ہوں گے۔ اور پھر اس سے وہ غائب ہونے والے نہیں۔ )
گزشتہ آیت میں فرمایا کہ نیک لوگ عیش میں ہوں گے اور برے لوگ جہنم میں۔ پیش نظر آیت میں دنیا میں عیش کی زندگی گزارنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اصل حقیقت یہی ہے کہ آرام اور عیش نیکی کی جزاء ہے۔ اور سزا بدی کی۔ لیکن یہاں لوگوں نے اسے الٹ سمجھ رکھا ہے۔ جزاء کا دن چونکہ انصاف کا دن ہوگا اس لیے اس دن تمام نابکار اور بدکار جہنم میں داخل ہوں گے۔ اور یہ چونکہ مہلت عمل ختم ہونے کے بعد جزاء کی دنیا ہوگی اس لیے وہاں سے انھیں ایک پل کے لیے بھی ادھر ادھر ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔ اور یہ اس بات کا ازالہ فرمایا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہاں سے نکل بھاگنے کا کوئی موقع ہو۔ اس لیے فرمایا کہ وہ یہ خیال دل سے نکال دیں۔ اس میں داخلے کا راستہ ہے، نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔
Ayahs 82:17–18وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَایَوْمُ الدِّیْنِ ۔ ثُمَّ مَـآ اَدْرٰ کَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ (الانفطار : 17، 18)
(اور تم کیا جانتے ہو کہ جزاء کا دن کیا ہے۔ ہاں تمہیں کیا خبر کہ وہ جزاء کا دن کیا ہے۔ )
چونکہ کفار مکہ جزاء کے دن یعنی قیامت کا انکار کرتے، بلکہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ان کے سامنے اس دن کی عظمت و اہمیت کو واضح کرنے کے لیے ان میں سے ایک ایک شخص کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ آج تو تم اس دن کا مذاق اڑاتے ہو، تم کیا جانو کہ وہ دن کیسا ہے۔ اگر تمہیں اس کی اہمیت اور عظمت کا احساس ہوتا تو تم کبھی اس کا انکار نہ کرسکتے۔ پھر اس کی تکرار نے اس کی ہولناکی اور ہیبت میں مزید اضافہ کردیا اور انھیں جھنجوڑنے کے لیے واحد کے صیغے سے خطاب فرمایا۔
Ayah 82:19یَوْمَ لاَ تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا ط وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍلِّلّٰہِ ۔ (الانفطار : 19)
(اس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے لیے کچھ نہ کرسکے گی، فیصلہ اس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا۔ )
گزشتہ دو آیتوں میں سوال چونکہ جواب کے لیے نہیں بلکہ محض قیامت کی ہولناکی اور ہیبت کو دلوں میں راسخ کرنے کے لیے تھا اس لیے جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی اس کا جواب دیا کہ کافروں نے قیامت کے بارے میں جو گمان کر رکھا ہے کہ اولاً تو اس کے آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اور اگر وہ آہی گئی تو ہم نے جنھیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اور جنھیں ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں اور جن کے ہم دامن گرفتہ ہیں وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے یہاں ہماری سفارش کریں گے اور ہمیں اس کے عذاب سے بچا لیں گے۔ فرمایا وہ دن ایسا نہیں، اس دن کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ دم مار سکے۔ اس دن ہر معاملے اور ہر فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس لیے کوئی اس کے فیصلے میں حائل تو خیر کیا ہوسکے گا کچھ کہنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوگا۔ بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر نظر کرم فرمائے۔