Ayah 81:1اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ۔ (التکویر : 1)
(جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ )
وقوعِ قیامت کے وقت سورج کا حال
تکویرکا معنی کسی شے کو لپیٹ دینا ہے۔ کَوَّرَالْعِمَامَۃُ عَلٰی رَاسِہٖ ” اس نے عمامہ اپنے سر پر لپیٹ لیا۔ “ لپیٹ لینا بےنور کردیئے جانے کا استعارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز سورج کو بےنور کردیا جائے گا۔ سورج کائنات کی سب سے عظیم اور بینظیر مخلوق ہے۔ حادثہ ٔ قیامت کی وسعت اور اہمیت کا اندازہ اسی سے ہوتا ہے کہ کائنات کی سب سے عظیم چیز کی بساط کو لپیٹ دیا جائے گا۔ یعنی جس طرح عمامہ لپیٹے جانے سے پہلے پھیلا ہوا ہوتا ہے اور پھر سر کے گرد لپیٹے جانے سے اس کا پھیلائو ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سورج کی روشنی جو سورج سے نکل کر سارے نظام شمسی پر پھیلتی ہے اسے عمامہ سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا۔ یعنی اس کی روشنی پھیلنا بند ہوجائے گی اور سورج بےنور ہوجائے گا اور سارا عالم تیرہ و تار ہوجائے گا۔
Ayah 81:2وَاِذَا النُّجُوْمُ انْـکَدَرَت۔ (التکویر : 2)
(اور جب ستارے بکھر جائیں گے یا بےنور ہوجائیں گے۔ )
ستاروں کا حال
انکدارکا معنی منتشر ہوجانا بھی ہے اور تاریک ہوجانا بھی۔ اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت کے برپا ہونے سے جب نظام کی ہر بندش ڈھیلی پڑجائے گی اور ہر بندھن ٹوٹ جائے گا تو ستارے اپنے اپنے مدار اور مقام پر جس بندش میں بندھے ہوئے ہوں گے وہ کھل جائے گی۔ اور اس طرح سب ستارے اور سیارے کائنات میں منتشر ہوجائیں گے۔ اور بےنور ہوجانے کا مفہوم یہ ہے کہ جب سورج ہی کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو جتنے بلب اور قمقمے اس کے نظام سے وابستہ ہیں وہ سب آپ سے آپ بےنور ہوجائیں گے۔
Ayah 81:3وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ ۔ (التکویر : 3)
(اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ )
پہاڑوں کا حال
جس طرح آسمان کی نمایاں اور شاندار مخلوقات سورج اور ستارے ہیں۔ اسی طرح زمین کی سب سے نمایاں شاندار اور پرہیبت مخلوق پہاڑ ہیں۔ یہ چونکہ زمین میں بہت مضبوطی سے گڑے ہوئے ہیں اس لیے عرب انھیں غیرفانی اور اٹل سمجھتے تھے۔ چناچہ جب انھیں قیامت کی تفصیلات بتائی جاتیں تو وہ حیران ہو کر پوچھتے کہ کیا قیامت آنے سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیں گے۔ اور جب انھیں اثبات میں جواب دیا جاتا تو وہ اسے خلاف عقل سمجھتے ہوئے مذاق اڑاتے۔ اس لیے زمین کی اس نمایاں مخلوق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ وقوع قیامت سے جب زمین کی کشش ختم ہوجائے گی جس کی بدولت پہاڑ جمے ہوئے ہیں تو وہ بھی اکھڑ جائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں تو یہ فرمایا کہ وہ چلا دیئے جائیں گے۔ لیکن سورة القارعہ میں فرمایا گیا ہے کہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ اپنا وزن بالکل کھو دیں گے تو کہیں وہ اس طرح چلتے ہوئے دکھائی دیں گے جیسے فضاء میں بادل چلتے ہیں۔ اور کہیں وہ ریزہ ریزہ ہو کر روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ کیونکہ پہاڑوں کا ہر پتھر دوسرے پتھر سے اور ہر ذرہ دوسرے ذرے سے الگ ہوجائے گا۔
Ayah 81:4وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۔ (التکویر : 4)
(جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی۔ )
الْعِشَارُ ، عُشَرَائُکی جمع ہے۔ اس اونٹنی پر بولا جاتا ہے جو دس ماہ کی گابھن ہو، یعنی بچہ جننے کے بالکل قریب ہو۔
محبوب چیزوں سے غفلت
جس طرح کائنات کی عظیم اور مضبوط مخلوقات اپنا وزن کھو دیں گی اور اپنے مدار سے نکل جائیں گی اسی طرح اس دن قیامت کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ انسان اپنی محبوب سے محبوب چیزوں سے بھی غافل ہوجائے گا اور اس کے دل سے ان کی وقعت نکل جائے گی۔ کیونکہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب اس کی اپنی جان کے لالے پڑتے ہیں تو وہ قیمتی متاع سے بھی لاپرواہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ اسی فطری اصول کے تحت اہل عرب کے مذاق طبیعت کا لحاظ کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ اہل عرب کے یہاں چونکہ سب سے قیمتی چیز اونٹ ہیں، خاص طور پر وہ اونٹنیاں انھیں نہایت عزیز اور محبوب ہوتی ہیں جن کے حمل پر دس ماہ گزر چکے ہوں۔ ایسی اونٹنیوں کا ان کے مالک بہت دھیان رکھتے اور ان کی نگہداشت کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے مستقبل کی بہت سی آرزوئوں کا ان پر انحصار ہوتا تھا۔ لیکن قیامت کی ہولناکی ملاحظہ ہو کہ عرب اپنی ایسی قیمتی متاع سے بھی غافل ہوجائیں گے۔ اس میں ایک طرح سے دنیا کی محبت میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بھی متوجہ کرنا ہے کہ جس مال و دولت پر تم اس قدر بھروسہ کرچکے ہو، قیامت کے پہلے ہی مرحلے میں تم اس سے بالکل بےنیاز ہوجاؤ گے۔ کیونکہ تمہیں جس ہولناکی سے واسطہ پڑے گا وہ تمہیں اپنی ذات کے سوا کسی اور طرف متوجہ ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔
Ayah 81:5وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ۔ (التکویر : 5)
(جب وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے۔ )
وحشی جانوروں کا حال
انسانوں میں رنج و غم کو محسوس کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ اس لیے وہ ایسے ہر موقع پر شدید تأثر کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ لیکن قیامت کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ صرف انسان ہی نہیں، وحشی اور جنگلی جانور بھی بری طرح اس کی گرفت میں ہوں گے۔ وحشی جانوروں کی سرشت یہ ہے کہ وہ کبھی اپنی وحشت اور درندگی سے باز نہیں آتے۔ بچھو کو ڈوبتے ہوئے نکال کر ہتھیلی پر رکھ لیا جائے تو وہ اس حال میں بھی ڈنک مارنے سے باز نہیں آتا۔ اور جن درندوں کی گزربسر گوشت خوری پر ہے وہ کبھی اپنے شکار کو دیکھ کر صبر نہیں کرسکتے۔ لیکن جب خطرہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو درندے بھی اپنی سرشت بھول جاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہوئے بھی کسی پناہ کی جگہ میں اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب کا پانی پھیل جائے تو جنگلی جانور سراسیمگی کی حالت میں جس ٹیلے اور ٹیکرے پر انھیں پناہ ملنے کی توقع ہو وہاں اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ شیر کے ساتھ ہرن کھڑا ہوتا ہے لیکن شیر اس پر حملہ نہیں کرتا۔ بھیڑیا بےضرر ہو کر کے رہ جاتا ہے۔ یہی حال قیامت کے دن ہوگا کہ سب جنگلی اور وحشی جانور جہاں انھیں جگہ ملے گی اکٹھے ہوجائیں گے کہ شاید اس طرح اس ہولناکی کا سامنا کرسکیں۔
Ayah 81:6وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ۔ (التکویر : 6)
( اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے۔ )
سمندر بھڑک اٹھیں گے
تَسْجِیْر، سُجِّرَتْ سے ماضی مجہول ہے۔ تَسْجِیْر عربی زبان میں تنور کو ایندھن سے بھر کر آگ دہکانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ سمندر اگرچہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جس میں آگ لگنے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا اور پانی تو ویسے بھی آگ بجھانے کے لیے ہے، آگ قبول کرنے کے لیے نہیں۔ لیکن جب ہم اس حالت کو دیکھتے ہیں جو قیامت میں پیدا ہوگی تو پھر یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں، کیونکہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن جیسی دو گیسوں سے ایک تناسب کے ساتھ مل کر بنا ہے جبکہ یہ دونوں گیسوں میں سے ایک آگ کو بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حیران کن قوت ہے جس نے ان دونوں کی ترکیب سے پانی جیسا مادہ پیدا کیا جو آگ بجھانے والا ہے۔ قیامت کے دن چونکہ ہر مرکب اجزاء میں بدل جائے گا تو پانی کے اجزاء بھی الگ الگ ہوجائیں گے۔ چناچہ پانی کے گیسوں میں بدل جانے کے بعد آگ بن کر بھڑک اٹھنا ان گیسوں کے طبعی خواص کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس لحاظ سے سمندروں کا بھڑکا دیا جانا قیامت کے حالات کی صحیح ترجمانی ہے۔
Ayah 81:7وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۔ (التکویر : 7)
(جبکہ نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی۔ )
ظہورِ قیامت کے بعد کے احوال
بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ کیا ہے ” اور جب جانیں جسموں سے جوڑ دی جائیں گی۔ “ اس ترجمے کے لحاظ سے مفہوم بالکل واضح ہے کہ انسان ازسرنو اسی طرح زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ دنیا میں مرنے سے پہلے جسم و روح کے ساتھ زندہ تھے۔ لیکن ہم نے اوپر جو ترجمہ کیا ہے اس کے لحاظ سے اس کا مفہوم کچھ مختلف ہے۔ اور دونوں ترجموں میں یہ بات تو واضح ہے کہ یہاں سے وہ باتیں شروع ہورہی ہیں جن کا تعلق ظہورقیامت کے بعد کے احوال سے ہے جن میں نفوس کی تزویج بھی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کی اعمال و عقائد کے اعتبار سے الگ الگ گروہ بندی کی جائے گی۔ یعنی دنیا میں میں تو نیک و بد دونوں ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں، لیکن جس طرح نیکی اور برائی یکساں نہیں اور دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں، اسی طرح نیک اور بد بھی ہمیشہ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ ایک ایسا دن آنے والا ہے جب لوگوں کی درجہ بندی ان کے ایمان و اخلاق پر ہوگی۔ صاحب معارف القرآن نے ایک حدیث بیان کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح یہ گروہ بندی خود مومنوں کے اندر اعمال و اخلاق کے اعتبار سے بھی ہوگی اسی طرح اعمال ہی کے لحاظ سے کفار میں بھی مختلف قسم کے گروہ ہوجائیں گے۔ انھوں نے بیہقی سے بروایت حضرت نعمان بن بشیر ( رض) حضرت عمر بن خطاب ( رض) سے روایت کیا ہے کہ جو لوگ ایک جیسے اعمال کرتے ہوں گے وہ ایک جگہ کردیئے جائیں گے۔ اعمالِ حسنہ ہوں یا سیئہ۔ مثلاً اچھے مسلمانوں میں علم دین کی خدمت کرنے والوں میں علماء ایک جگہ، عباد اور زہاد ایک جگہ۔ جہاد کرنے والے غازی ایک جگہ، صدقہ و خیرات میں خصوصیت رکھنے والے ایک جگہ۔ اسی طرح بداعمال لوگوں میں چور ڈاکو ایک جگہ۔ زنا کار فحاش ایک جگہ۔ دوسرے خاص خاص گناہوں میں باہم شریک رہنے والے ایک جگہ ہوجائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محشر میں ہر شخص اپنی قوم کے ساتھ ہوگا۔ مگر یہ قومیت نسبی یا وطنی نہیں بلکہ عمل و عقیدہ کے اعتبار سے ہوگی۔ نیک عمل کرنے والے ایک جگہ اور بدعمل والے دوسری جگہ ہوں گے۔ اور اس پر آیت قرآنی سے استشہاد فرمایا وَکُنْتُمْ اَزْوَجًا ثَلاَ ثَۃیعنی محشر میں لوگوں کے بڑے گروہ تین ہوں گے۔ جیسا کہ سورة واقعہ کی آیت میں اس کی تفصیل یہ آئی ہے کہ ایک گروہ سابقین اولین کا ہوگا، دوسرا اصحاب الیمین کا۔ یہ دونوں گروہ نجات پانے والے ہوں گے۔ تیسرا گروہ اصحاب الشمال کا ہوگا جو کفار اور فجار پر مشتمل ہوگا۔
Ayahs 81:8–9وَاِذَا الْمَوْئٗ دَۃُ سُئِلَتْ ۔ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ۔ (التکویر : 8، 9)
(اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی۔ )
مظلوم بچیوں کی دادرسی
ان دونوں آیتوں کے اسلوب میں جو غضب پنہاں ہے وہ ان الفاظ کے ایک ایک حرف سے ظاہر ہورہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پروردگار نہایت جلال میں ہے۔ چاروں طرف سناٹا اور پروردگار کے جلال کی ہیبت برس رہی ہے کہ اچانک ان معصوم بچیوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جن کو ان کے سنگدل باپوں نے زندہ درگور کردیا تھا۔ ان کا گناہ صرف یہ تھا کہ وہ مونث کیوں پیدا ہوئیں۔ کیونکہ عرب کے بعض نہایت اجڈ قبیلوں میں جہالت نے جو مختلف نتائج پیدا کیے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ عرب میں قحط سالی کے باعث معاش کا حصول ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ بنابریں کثرت عیال تنگدستی میں ایک مصیبت بن جاتی تھی۔ لڑکے کی پیدائش پر یہ سوچا جاتا کہ لڑکا بڑا ہو کر حصول معشیت میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس کا وجود اہل خانہ کے لیے ایک رحمت ہے۔ لیکن لڑکی ایک بوجھ کے سوا اور کچھ نہیں۔ چناچہ پہلے ہی دن یا جب بھی موقع ملتا اس بوجھ سے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی۔
ایک خیال یہ بھی تھا کہ بیٹا تو اپنے گھر اور قبیلے کے لیے جوان ہو کر قوت اور دفاع کا سامان بنتا ہے۔ لیکن بیٹیاں دفاع میں معاون تو کیا ہوں گی، البتہ خود انھیں سنبھالنا پڑتا ہے۔ اور عرب جیسے ملک میں جس میں قبائلی لڑائیاں آئے دن کا معمول تھیں۔ ان میں بیٹیوں کو پالتے رہنا بجائے خود کوئی عقل کی بات نہ تھی۔ اس لیے ان سے بچپن ہی میں پیچھا چھڑا لیا جاتا تھا۔
یہ خیال بھی تھا کہ جب ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر شبخون مارتا ہے تو جو لڑکیاں بھی ان کے ہاتھ لگتی ہیں انھیں لے جا کر یا تو لونڈیاں بنا لیا جاتا ہے اور یا ان سے پیشہ کرایا جاتا ہے۔ یہ دونوں باتیں چونکہ غیرت کیخلاف تھیں اس لیے بیٹی کے وجود ہی کو غیرت کے لیے چیلنج سمجھ کر ختم کرنے میں عافیت سمجھی جاتی تھی۔
اس آیت کریمہ میں نہایت برہمی سے ظلم کرنے والے باپوں سے نہیں بلکہ مظلومیت کی تصویر بیٹیوں کو بلاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔ اس طرح سے قیامت کا مزاج واضح کیا جارہا ہے کہ دنیا میں جن مظلوموں کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ کوئی ان کی طرف سے انصاف طلب کرنے والا نہ تھا اور باپوں کے وسیع اختیارات کی وجہ سے کسی کو زبان کھولنے کا یارا بھی نہ تھا۔ سب سے پہلے ایسے مظلوموں کی فریاد رسی کی جائے گی۔ اور اسی سے قیامت کے وجود کے یقینی ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر عدل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور دنیا میں پوری طرح اس کا بروئے کار آنا ممکن نہیں اور ظالم کو ظلم کی سزا اور مظلوم کو انصاف بھی پوری طرح دنیا میں ملنے کا کوئی سوال نہیں۔ بنابریں ضروری ہے کہ قیامت کا دن آئے تاکہ کوئی مظلوم انصاف کے بغیر نہ رہ جائے۔
اس آیت کریمہ نے نہایت تیکھے انداز میں ان ظالم باپوں کو سوچنے پر مجبور کردیا جو یہ سمجھتے تھے کہ اس ظلم کا ہم سے کبھی سوال نہیں ہوگا۔ پھر جیسے جیسے اخلاقی تعلیم و تربیت اسلام کے حوالے سے آگے بڑھتی گئی اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات نے اولاد کے حقوق کے حوالے سے بیٹیوں کے حقوق پر زور دیا اور ان کے حُسنِ تعلیم و تربیت کو آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ ٹھہرا یا تو نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ جیسے جیسے لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے گئے، ویسے ویسے عورت کی عزت میں اور ان کے حقوق کے تحفظ میں نہ صرف اضافہ ہوتا گیا بلکہ اس کا احساس بھی بڑھتا گیا اور قانونی طور پر اس کو تحفظ بھی دیا گیا۔ اخلاقی طور پر اسے گناہ کبیرہ اور ظلم عظیم ٹھہرایا گیا۔ اور فقہی طور پر یہ بات واضح کردی گئی کہ جب حمل چار ماہ کا ہوجائے اس وقت اسے بالقصد ضائع کرنا بھی اسی حکم میں ہے۔ کیونکہ چوتھے مہینے میں حمل میں روح پڑجاتی ہے اور وہ زندہ انسان کے حکم میں ہوتا ہے۔ اسی طرح جو شخص کسی حاملہ عورت کے پیٹ پر ضرب لگائے اور اس سے بچہ ساقط ہوجائے تو باجماعِ امت مارنے والے پر اس کی دیت میں غرہ واجب ہے۔ اور اگر بطن سے باہر آنے کے وقت وہ زندہ تھا پھر مرگیا تو پوری دیت واجب ہوگی۔ اور چار ماہ سے پہلے اسقاطِ حمل بھی اضطراری حالات کے بغیر حرام ہے۔
Ayah 81:10وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ۔ (التکویر : 10)
(اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے۔ )
اعمال نامے سب کے سامنے
صُحُفُسے مراد لوگوں کے اعمال نامے ہیں۔ ان کے کھولے جانے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان نے جو کچھ دنیا میں اعمال کی صورت میں کیا ہے اسے ایک نظم کے تحت ضبط تحریر میں لایا جاتا رہا ہے۔ اور یہی تحریری روزنامچہ نامہ عمل کہلاتا ہے اور اسے قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے لا کر کھول دیا جائے گا۔ اور اسے یہ کہا جائے گا کہ اسے پڑھ کر دیکھو کہ تم دنیا میں کیا کچھ کرکے آئے ہو۔ وہ جب اسے دیکھے گا تو چیخ اٹھے گا کہ ہائے یہ کیسا اعمال نامہ ہے جس میں کوئی چھوٹی یا بڑی بات چھوٹنے نہیں پائی۔ میری زندگی کا ہر عمل اس میں محفوظ کرلیا گیا ہے اور آج مجھے ہر عمل کے بارے میں جوابدہی کرنی ہے۔
Ayah 81:11وَاِذَا السَّمَآئُ کُشِطَتْ ۔ (التکویر : 11)
(اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ )
آسمان کی کیفیت
کَشْطٌ… کے اصل معنی کسی بھی چیز کے اوپر کے حصے کو اتار لینے کے ہیں جس نے اسے ڈھانپ رکھا ہو۔ اسی مناسبت سے ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ اونٹ کی کھال کھینچ لینے کے معنی میں تو یہ شائع و ذائع ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ آسمان کائنات کے لیے کھال اور پوست کی مانند ہے۔ جب آسمان کو ہٹا دیا جائے گا تو یوں سمجھئے کہ کائنات کا پردہ اتر جائے گا۔ جو کچھ اب تک نگاہوں سے پوشیدہ تھا وہ سب عیاں ہوجائے گا۔ اس وقت تو ہمیں صرف خلاء نظر آتا ہے یا چاند، سورج اور ستارے، لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ کی سلطنت اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سب کے سامنے کھل کر آجائے گی۔
Ayah 81:12وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ ۔ (التکویر : 12)
(اور جب جہنم بھڑکا دی جائے گی۔ )
جہنم کا بھڑک اٹھنا
تسعیر کے معنی بھڑکانے اور دہکانے کے ہیں۔ جہنم تیار تو پہلے سے ہی ہوگی لیکن جب مجرموں کے اس میں ڈالنے کا وقت آئے گا تو اس وقت اسے خاص طور پر بھڑکا دیا جائے گا۔ قرآن کریم کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم مجرموں کو پہچانے گی اور دور سے ہی انھیں دیکھ کر دھاڑے گی۔ اسی طرح یہ بھی قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اور پتھر جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ چناچہ جیسے ہی اس میں انسان ڈالے جائیں گے تو ایندھن مل جانے سے اور بھڑکے گی۔ یہ چیزیں چونکہ متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے کوئی حتمی بات تو کہنا مشکل ہے لیکن کبھی خیال آتا ہے کہ جس طرح ایک کمرہ گیس سے بھرا ہوا ہو تو دیکھنے والے کو بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ اس میں آگ ہے۔ لیکن دیاسلائی دکھانے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ بھک سے بھڑک اٹھتا ہے۔ ممکن ہے جہنم کی بھی کوئی ایسی کیفیت ہو۔ واللہ اعلم۔
Ayah 81:13وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ ۔ (التکویر : 13)
(اور جب جنت قریب لائی جائے گی۔ )
جنت کا قرب
جنت تو پہلے سے موجود ہوگی۔ البتہ جب لوگوں کی ایمان و عمل کے اعتبار سے درجہ بندی ہوجائے گی تو تب وہ ان کے قریب لائی جائے گی یعنی اس کی نقاب کشائی ہوگی۔ اور قریب لانے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ کہیں دور ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے سے قریب ہوگی لیکن اب اسے اور قریب لایا جائے گا اور یہ اہل جنت کا اعزاز ہوگا۔ کیونکہ قرآن کریم میں سورة ق میں ارشاد فرمایا گیا ہے :
وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَبَعِیْدٍ ۔
” اور جنت خدا ترسوں کے لیے قریب لائی جائے گی درآنحالیکہ وہ کچھ دور بھی نہ ہوگی۔ “
Ayah 81:14عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّـآ اَحْضَرَتْ ۔ (التکویر : 14)
(اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔ )
ہر نفس کا احساسِ ماحضر
گزشتہ آیات میں وقوع قیامت کے بعد جن احوال کے ظہور پذیر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے ان احوال کو دیکھ لینے کے بعد ہر شخص جان لے گا کہ واقعی قیامت آگئی، اور میں جن باتوں کو محض ایک واہمہ یا مذاق سمجھتا تھا وہ حقیقت بن کر میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میرا نامہ عمل میرے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ جنت بھی موجود ہے اور جہنم بھی۔ اب کوئی چیز صیغہ راز میں نہیں رہی۔ نامہ عمل دیکھ کر میں جان گیا ہوں کہ میں اپنے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے کیا لے کر آیا ہوں۔ اچھے اعمال کا انجام بھی سامنے ہے اور برے اعمال کا بھی۔ اب جیسے کچھ اعمال میں اپنے ساتھ لایا ہوں اس کے مطابق انجام سے دوچار کیا جاؤں گا۔
Ayahs 81:15–19فَـلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ ۔ وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ (التکویر : 15 تا 19)
(پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والے ستاروں کی۔ سیدھے چلنے والوں اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ اور رات کی جب وہ جانے لگے۔ اور صبح کی جب وہ سانس لے۔ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ )
خُنَّسِ جمع ہے خَانِسٌ کی۔ اس کا معنی ہے آگے بڑھ کر پیچھے ہٹ جانے والے۔ یعنی ظاہر ہو کر غائب ہوجانے والے اور نمایاں ہو کر روپوش ہوجانے والے۔
الْجَوَارِالْـکُنَّسِ جواری کے معنی چلنے والے کے ہیں۔ اور کُنَسُّ جمع ہے کَانِسٌ کی۔ اس کا معنی ہے چھپ جانے والے۔ یعنی ستارے اپنے مدار میں چلے اور چل کر اپنے ٹھکانے میں روپوش ہوگئے۔
اشرافِ قریش کے پروپیگنڈے کا جواب
یہ درحقیقت اشرافِ قریش کے پروپیگنڈے کا جواب اور ان کے ایک وہم کی تردید ہے۔ ان کا گمان یہ تھا اور وہ اسی کو لوگوں کے ورغلانے کے لیے استعمال کررہے تھے کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں، بلکہ یہ ہمارے کاہنوں کی طرح کے ایک کاہن ہیں۔ جس طرح کاہنوں کا تعلق جنات سے ہوتا ہے جو ان پر غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کا رابطہ بھی نعوذباللہ من ذلک کسی شیطان سے ہے جو ان پر اپنی باتیں القاء کرتا ہے اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کی وحی کے نام سے ہمارے سامنے پیش کرتے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے رسول بتاتے ہیں تاکہ ہم ان کی اطاعت کرنے پر مجبور ہوجائیں اور قرآن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سمجھ کر اس کے سامنے سر جھکا دیں۔ یہ محض ایک فریب ہے جو ہمیں دیا جارہا ہے۔ اور پھر بار بار عذاب کے ذکر سے اور آخرت کا ڈراوا دے کر ہمیں ماننے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ قرآن کریم نے نہایت محکم انداز میں اس کی تردید کی ہے۔ اسی لیے اس کا آغاز ہی ” فَـلَآ “ سے کیا ہے۔ اس کا تعلق ” اُقْسِمْ “ سے نہیں۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں قسم نہیں کھاتا۔ بلکہ اس کا تعلق مخاطب کے زعم اور وہم سے ہے۔ یعنی تم جو کچھ سمجھتے ہو، میں اس سے انکار کرتا ہوں اور اس کی نہایت محکم انداز میں تردید قسم کی صورت میں کررہا ہوں۔ اس کے بعد ستاروں کی قسمیں کھائی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ستاروں کی قسموں سے کس چیز کی تردید کرنا مقصود ہے۔ میں اس سے پہلے واضح کرچکا ہوں کہ کفار آنحضرت ﷺ کو رسول کی بجائے ایک کاہن قرار دے رہے تھے۔ چناچہ قسموں کے ذریعے اسی کی تردید کی جارہی ہے۔ لیکن اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ کہانت سے متعلق چند باتیں ذہن نشین کرلی جائیں۔ کاہنوں کے مزعومہ علم غیب کی بنیاد دو چیزوں پر تھی۔ ایک ان ستاروں کے موثر بالذات ہونے کے تصور پر۔ اور دوسرے اس وہم باطل پر کہ آسمانوں کے اندر ایسے ٹھکانے ہیں جن میں بیٹھ کر جنات غیب کی باتیں سنتے اور پھر ان کو پہنچاتے ہیں۔ قرآن کریم نے ستاروں کی مذکورہ صفات کے حوالے سے قسمیں کھا کر ان دونوں باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ یہ سمجھنا کہ ستارے مؤثربالذات ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں یہ سراسر ایک وہم باطل ہے۔ اس لیے کہ ستارے اللہ تعالیٰ کے حکم سے طلوع ہوتے، اسی کے حکم سے غروب ہوتے، اسی کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق فرائض بجا لاتے۔ اور پھر اس طلوع و غریب اور ایاب و ذہاب میں اوقات کی ایسی پابندی کے پابند ہیں کہ منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق پیدا نہیں کرسکتے۔ اور یہ ایسی بات ہے کہ جو شخص بھی علم نجوم سے کچھ بھی تعلق رکھتا ہے وہ اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور یہ اس بات کی واضح شہادت ہے کہ وہ اس کائنات کے نظام میں موثر بالذات عناصر کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ایک بالاتر حکیم و قدیر کے ہاتھوں میں مسخر ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
جو خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوں
دوسرے وہم کی تردید کے لیے قرآن کریم نے جابجا ایک حقیقت کو واشگاف کیا ہے کہ جہلائے عرب میں یہ بات جو مشہور ہوگئی ہے اور اس نے ان کے عقیدے کی حیثیت اختیار کرلی ہے کہ کاہنوں کا تعلق جنات سے ہے اور جنات آسمان پر جا کر گھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ جب ان کے کانوں میں کسی فیصلے کی بھنک پڑتی ہے یا وہ چوری چھپے فرشتوں کی باتیں سن لیتے ہیں تو آکر کاہنوں کو مبالغوں کے ساتھ خبر دیتے ہیں اور کاہن آگے اپنی غیب دانی کی دکان چلاتے ہیں۔ قرآن کریم نے بتایا کہ آسمان کے قرب و جوار میں ایسے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں جہاں سے استراقِ سماع اور تجسسِ غیب کی کوشش کی جاسکے۔ بلکہ ایسی برجیاں اور دیدبان بنے ہوئے ہیں جہاں سے ان جنات اور شیاطین پر شہاب ثاقب برستے ہیں۔ اور جو قریب جانے کی کوشش کرتا ہے وہ اس کا نشانہ بن جاتا ہے۔ ان قسموں میں اس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ستارے شیاطین کے تعاقب میں آگے بڑھتے ہیں اور پھر ایک برق خاطف کی طرح لپکتے ہیں اور ہدف کو بھسم کرکے پھر اپنے ٹھکانے میں پہنچ جاتے ہیں۔
ان دونوں باتوں کی تردید کرکے گویا اس بات کو ثابت کیا ہے کہ کاہنوں کا تمام تر کاروبار دو بنیادوں پر کھڑا ہے اور یہ دونوں اپنی کوئی اصل نہیں رکھتیں۔ محمد ﷺ کاہن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ان کا تعلق کسی جن یا شیطان سے نہیں، جو ان کے ذہن میں خرافات القاء کرتا ہو۔ بلکہ ان پر جو کتاب اترتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ ایک معزز فرستادہ کی معرفت آپ ﷺ پر نازل کیا جاتا ہے۔ اور وہ فرستادہ اور پیغامبر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نہایت مقرب و مکرم ہے اور پھر اس کے بعد ان کی چند صفات بیان کی گئی ہیں۔
بعض دیگر اہل علم نے ان قسموں کا مفہوم نہایت سہل انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اہل مکہ آنحضرت ﷺ کو چونکہ نبی ماننے سے انکاری تھے اور وہ کسی طرح بھی اس کا اعتراف کرنے کو تیار نہ تھے کہ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کا کلام اترتا اور آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اس لیے جب وہ لوگوں کو دیکھتے کہ وہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت سے متأثر ہورہے ہیں تو انھیں مطمئن کرنے کے لیے اس طرح کی باتیں کہتے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں بلکہ آپ ﷺ کو جنون کا دورہ پڑتا ہے اور اس کیفیت میں آپ جو محسوس کرتے ہیں اسے وحی گمان کرلیا جاتا ہے۔ اور یا کوئی شیطان ہے جو آپ کے دماغ میں اس طرح کی باتیں القاء کرتا ہے۔ چناچہ اس کی تردید میں یہ قسمیں کھا کر فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن نہ کسی دیوانے کی بڑ ہے اور نہ کوئی شیطانی وسوسہ ہے اور نہ آپ کو کسی بات کا وہم ہوا ہے۔ بلکہ یہ آپ کا مشاہدہ ہے، ایسے حال میں کہ جب تارے چھپ گئے تھے، رات رخصت ہوگئی تھی اور صبح روشن ہوگئی تھی۔ اس وقت کھلے آسمان پر آپ نے اللہ تعالیٰ کے فرشتے کو دیکھا ہے جن کا نام جبرائیل ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم فرشتے اور پیغام لانے والے ہیں۔ تو آپ نے اس پیغام کو بیداری اور پورے ہوش میں سنا اور لانے والے کو کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ اور پھر اس کے بعد اس پیغامبر کی اللہ تعالیٰ نے چند صفات بیان فرمائیں تاکہ اشرافِ قریش کو اندازہ ہو کہ قرآن کریم کس اہتمام سے نازل ہورہا ہے اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول ہیں۔
یاد رہے کہ پیش نظر آیت میں قرآن کریم کو اس بزرگ پیغامبر کا قول قرار دیا گیا ہے۔ اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ قرآن کریم اس پیغامبر یعنی فرشتے کا اپنا کلام ہے۔ کیونکہ پیغامبر کا لفظ ہی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ کلام اس کا ہے جس کا وہ پیغامبر ہے۔ یعنی یہ کلام دراصل اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے۔ سورة الحاقۃ میں قرآن مجید کو نبی کریم ﷺ کا قول کہا گیا ہے۔ دونوں جگہوں میں مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کی زبان سے آنحضرت ﷺ تک پہنچتا تھا، اس لیے اسے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا قول قرار دیا گیا۔ اور لوگوں تک یہ کلام آنحضرت ﷺ کی زبان سے ادا ہوتا تھا، اس لیے اسے آپ ﷺ کا قول قرار دیا گیا۔ کیونکہ قول اسے کہتے ہیں جو زبان سے نکلتا ہے، چاہے وہ کسی اور کا کلام ہو۔ اس لیے یہاں اس اشتباہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا کلام ہے۔
Ayahs 81:20–21ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۔ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ۔ (التکویر : 20، 21)
(جو بڑی قوت والا ہے اور عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ نہایت امین بھی ہے۔ )
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی پہلی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ بڑی قوت والے ہیں۔ سورة نجم میں آپ کو شدیدالقویٰ کہا گیا ہے۔ اس کا مفہوم بھی یہی ہے۔ بتانا یہ ہے کہ وہ فرشتہ جو اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر اترتا ہے وہ نہایت زور اور قوت والا ہے۔ شیطانی قوتوں کی یہ مجال نہیں کہ وہ اس کو مرعوب یا مغلوب یا متأثر کرسکیں۔ اور جب وہ کلام ِ خداوندی کو لے کر اترتے ہیں اس میں سے کسی چیز کو اچک لیں۔
دوسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے۔ نہایت تقرب اور رسوخ رکھنے والا ہے اسے بارگاہِ حق میں براہ راست رسائی حاصل ہے۔ کوئی فرشتہ اس کے احکام سے سرِ مو انحراف نہیں کرسکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو پورے اختیار اور اقتدار کے ساتھ نافذ کرتا ہے۔
ثَمَّ اَمِیْنٍ … ثَمَّ ، کسی جگہ کی طرف خاص طور پر اشارہ کے لیے بھی آتا ہے اور کسی صفت کے ذکر سے پہلے اس پر زور دینے کے لیے بھی آتا ہے۔ اور یہاں اسی مقصد کے لیے لایا گیا ہے۔ یہاں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفت امین سے پہلے ثَمَّ کو ذکر کرکے اس صفت کی طرف خاص توجہ دلانا مقصود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صفت ہی درحقیقت اس امر کی ضمانت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے پاس جو کچھ لاتے ہیں اس میں نہ کسی ملاوٹ کا کوئی شائبہ ہوتا ہے، نہ کسی کمی بیشی کا کوئی اندیشہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد اپنی اصل شان و شوکت اور واقعیت کے ساتھ آنحضرت ﷺ تک پہنچتا ہے۔
Ayah 81:22وَمَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْن۔ (التکویر : 22)
(اور تمہارا صاحب مجنون نہیں ہے۔ )
قریش کو تنبیہ
آیت میں صَاحِبُکُمْ کے لفظ پر خاص زور ہے۔ کہنا دراصل یہ ہے کہ محمد ﷺ تمہارے صاحب، تمہارے رفیق اور تمہارے ساتھی رہے ہیں۔ انھوں نے نبوت سے پہلے چالیس سال تمہارے اندر گھل مل کے گزارے۔ وہ تم میں کوئی اجنبی شخص نہیں، بلکہ ان کا رشتہ تمہاری قوم اور قبیلے کے ساتھ جانا پہچانا ہے۔ شہر کا ہر چھوٹا بڑا جانتا ہے کہ آپ کس قدر دانا اور ہوش مند انسان ہیں۔ ان کے بےعیب سیرت و کردار کی ہر شخص گواہی دیتا ہے۔ ایسے شخص کو مجنون قرار دیتے ہوئے کیا تمہیں حجاب مانع نہیں ہوتا۔ اشرافِ قریش غلط بات کہنا اپنے لیے باعث عیب سمجھتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اپنے مذہبی تعصب میں بنیادی اقدار تک کو بھول گئے۔
Ayah 81:23وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ ۔ (التکویر : 23)
(اور اس نے اس کو کھلے افق پر دیکھا ہے۔ )
گزشتہ آیت کے مضمون کا حاصل یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے صاحب یعنی محمد ﷺ کس اخلاق و دانش کے پیکر ہیں۔ اس لیے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کھلے افق پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا ہے تو یقینا اس میں کوئی جھوٹ یا فریبِ نفس نہیں، بلکہ بیان حقیقت ہے۔ افقِ مبین سے مراد فضائے آسمانی کا وہ حصہ ہے جو نظر کے بالکل سامنے ہوتا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس فضاء میں اپنی اصلی شکل میں ظاہر ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے انھیں دیکھا۔ اور سورة نجم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دوسری دفعہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا جس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب پہلی مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو افق پر دیکھا تو آپ حیرت زدہ رہ گئے۔ ان کی وجاہت اور ان کی جسامت اور ان کے پروں کی کثرت سے پورا افق ڈھکا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے جس رسول کے مشاہدات کا یہ عالم ہو، تم اس پر جنون کی تہمت رکھتے ہو اور کبھی اسے کاہنوں سے تشبیہ دیتے ہو۔ کیا دنیا میں عقل اور انصاف بھی کوئی چیز ہیں یا نہیں ؟
Ayah 81:24وَمَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ ۔ (التکویر : 24)
(وہ غیب کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کا رسول غیب کا حریص نہیں
یعنی آنحضرت ﷺ پر جو کچھ نازل ہوتا ہے وہ شریعت کے احکام ہوں یا عالم غیب کے حقائق، اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا بیان ہو یا فرشتوں کی تفصیلات یا زندگی بعدالموت، قیامت اور آخرت اور جنت اور دوزخ کے بارے میں انکشافات ہوں یا گزشتہ قوموں کے حالات یا آنے والے حالات کے بارے میں پیشگوئیاں، آپ ان میں سے کسی بات کو چھپا کر نہیں رکھتے۔ ہر چیز بےکم وکاست بیان کردیتے ہیں۔ کیونکہ آپ ایسی باتوں پر جو ہم سے غیب ہیں یعنی ہم انھیں نہیں جانتے ان پر بخیل نہیں ہیں کہ اپنے تک محدود رکھیں۔
ضَنِیْنَ … کا معنی جس طرح بخیل ہوتا ہے اسی طرح حریص بھی ہوتا ہے۔ ویسے بھی بخل اور حرص دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اس لیے بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ حریص کیا ہے۔ اس سورة میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کاہنوں کی طرح غیب کے علم پر حریص نہیں۔ جس طرح کاہن ایسی باتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جنھیں عام لوگ نہ جانتے ہوں وہ اسے غیب قرار دے کر اپنی غیب دانی کا کاروبار چلاتے ہیں۔ اور اس طرح سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا رسول غیب کی کسی بات پر اس طرح حریص نہیں ہوتا۔ ان پر جو وحی اترتی ہے وہ اضطراری طور پر آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچانے کا مکلف ہوتا ہے۔ کیونکہ تبلیغ و دعوت اس کے فرائض میں شامل ہے۔ اپنے اس فرض کی ادائیگی کے لیے نبی کریم ﷺ تمہارے سامنے ان حقائق کو بیان کرنے کے بھی پابند ہیں جو تمہیں بیشک ناگوار ہوں لیکن تمہاری زندگی کی صلاح وبقاء کے لیے ضروری ہیں۔
Ayah 81:25وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ۔ (التکویر : 25)
(یہ کسی شیطانِ مردود کا قول نہیں ہے۔ )
قریش کے پروپیگنڈے کا مزید جواب
مشرکینِ مکہ لوگوں کو بہکانے کے لیے یہ بھی کہتے تھے کہ محمد ﷺ پر کوئی فرشتہ نہیں اترتا بلکہ کوئی شیطان ہے جو انھیں بعض باتیں القاء کرتا ہے۔ چناچہ پہلے یہ بات فرمائی گئی کہ یہ رسول کریم کا قول ہے۔ یعنی ایک معزز فرشتہ اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اب اسی بات کو منفی انداز میں بیان فرمایا گیا۔ اور اس کے پیچھے ایک سوچنے کی دعوت بھی کارفرما ہے وہ یہ کہ شیطان کا کام انسان کو شرک میں ملوث کرنا اور بت پرستی کی تعلیم دینا ہے۔ وہ انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ شتر بےمہار بن کر زندگی گزارے۔ وہ ہر ظلم اور بداخلاقی کو مزین کرکے لوگوں کے دلوں میں اتارتا ہے۔ ایسی ہی باتیں ہیں جن کو شیطنت یا شیطان کے کام کہا جاتا ہے جبکہ آنحضرت ﷺ جو تعلیم لے کر آئے ہیں ان میں شرک اور بت پرستی کی بجائے توحید کی تعلیم ہے۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ہر ظلم اور ہر بداخلاقی سے نفرت پیدا کی جاتی ہے اور عدل اور تقویٰ اور اخلاقِ فاضلہ کی طرف رہنمائی کی جاتی ہے۔ تو کیا یہ کام اور یہ تعلیم شیطانِ رجیم کی تعلیم سے میل کھاتی ہے ؟ تو جس آدمی میں عقل کی کچھ بھی رمق باقی ہے اسے سوچنا چاہیے کہ آخر اس الزام میں کتنی حقیقت ہے۔
Ayah 81:26فَاَیْنَ تَذْھَبُوْنَ ۔ (التکویر : 26)
(تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو۔ )
یعنی کہاں قرآن کریم کی یہ تعلیم اور کہاں تمہاری خرافات دونوں میں آخر کیا نسبت ہے۔ تو تم اپنے مذہبی تعصبات کا شکار ہو کر آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کرکے، آخر کدھر جارہے ہو۔
Ayahs 81:27–28اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌلِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ لِمَنْ شَآئَ مِنْـکُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَ ۔ (التکویر : 27، 28)
(یہ تو سارے جہاں والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے۔ )
آخر میں بحث کو سمیٹتے ہوئے نہایت موثر انداز میں آخری بات فرمائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت بن کر آیا ہے۔ اس میں عرب و عجم اور گورے اور کالے سب برابر ہیں۔ لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر اس کا احساس، اس کی چاہت اور اس کی امنگ پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے اپنی کتاب اتار کر ہمارے لیے راستہ کھول دیا ہے۔ لیکن اس کے لیے دل کھولنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ اور دماغی کاوشوں کو استعمال کرنے کا بار ہم پر ڈالا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس کو لوگوں کے دلوں میں اتارے۔ جو سیدھی راہ چلنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے گا۔ اور جو کج روی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کے انجام کے حوالے کردے گا۔
Ayah 81:29وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (التکویر : 29)
(اور تم نہیں چاہو گے مگر یہ کہ اللہ چاہے گا جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ )
ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ کا قانون
ہدایت و ضلالت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا جو قانون ہے یہاں اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ وہ ہدایت کی توفیق ان لوگوں کو بخشتا ہے جو اس کے طالب بنتے، اپنے صلاحیتیں اس کے لیے صرف کرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اندھے بہرے بن کر زندگی گزارتے ہیں اور اتباعِ نفس ان کا طرز عمل بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو ان کی پسندیدہ راہ پر چلنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ اور بجائے انھیں روکنے کے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ یہاں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہے۔ یعنی جب تک تم اس سے وہ توفیق نہ مانگو اور وہ توفیق تمہیں عطا نہ کردے اس وقت تک تم ہدایت نہیں پاسکتے۔