Ayahs 80:1–4عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ اَنْ جَآئَ ہُ الْاَعْمٰی۔ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّـہٗ یَزَّکّٰـٓی۔ اَوْیَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ ۔ (عبس : 1 تا 4)
(تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔ اس بات پر کہ آیا اس کے پاس ایک اندھا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ اپنی اصلاح کرے۔ یا نصیحت سنے تو نصیحت اس کو نفع پہنچائے۔ )
پہلی دو آیتوں میں آنحضرت ﷺ سے خطاب نہ کرنے کی وجہ
پہلی آیت میں دونوں فعلوں کا فاعل مذکور نہیں۔ البتہ تیسری آیت میں آنحضرت ﷺ سے براہ راست خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے فاعل آنحضرت ﷺ ہیں، لیکن کلام کے ابتداء میں براہ راست آنحضرت ﷺ سے خطاب نہ کرنا دو باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے بلند اخلاق آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائے ہیں اور جیسی عالی ظرفی اور رواداری آپ ﷺ کی طبیعت کا حصہ ہے اس سے یہ بات میل نہیں کھاتی، بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رویئے کی مرتکب ہونے والی شخصیت آپ نہیں کوئی اور ہے۔ اس طرح سے نہایت لطیف طریقے سے آپ کو اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ بظاہر اس طرز بیان میں ایک ناگواری اور عتاب کا اظہار ہے۔ اگر آپ کو خطاب فرما کر یہ عتاب کیا جاتا تو یقینا آنحضرت ﷺ کے لیے تکلیف کا باعث ہوتا۔ اس لیے کہ جس بارگاہ سے ہمیشہ رحمت کی پھوار برستی ہو وہاں سے ہوا کا ایک گرم جھونکا بھی ناگوار گزرتا ہے۔ اس سے اشارہ شاید اس بات کی طرف ہے کہ عتاب آپ پر نہیں بلکہ ان لوگوں پر ہے جن کی وجہ سے آپ ایسا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
آیت کا شان نزول
آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اشرافِ قریش میں سے چند نمایاں لوگ اسلام کی حقیقت جاننے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہوئے تھے۔ مختلف روایات سے جن ناموں کی صراحت ہوتی ہے ان میں عتبہ، شیبہ، ابوجہل، امیہ بن خلف اور ابی ابن خلف جیسے دشمنانِ اسلام کے نام ملتے ہیں۔ آپ انتہائی دلسوزی سے انھیں اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش فرما رہے تھے کہ اسی اثناء میں عبداللہ ابن امِ مکتوم جو حضرت خدیجہ ( رض) کے پھوپھی زاد بھائی تھے وہ اسلام کے حوالے سے کوئی بات پوچھنے کے لیے حاضر ہوئے۔ وہ چونکہ نابینا تھے اس لیے وہ یہ جان نہیں سکے کہ آپ کے پاس کون لوگ بیٹھے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہوگا کہ مختلف مسلمان آپ سے مختلف باتیں پوچھ رہے ہیں۔ اس لیے بےتکلفی سے آگے بڑھتے گئے اور قریب پہنچ کر جو بات وہ جاننا چاہتے تھے اس کے بارے میں سوال کردیا۔ سوال کے الفاظ مختلف روایات میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ لیکن اس کے پیچھے جو تڑپ نظر آتی ہے وہ دین کے بارے میں علم سیکھنے کی ہے۔ اس کا حوالہ کچھ بھی ہوسکتا ہے، عقیدہ بھی اور احکام بھی۔ لیکن نبی کریم ﷺ کو اس خیال سے کہ ہوسکتا ہے کہ میری خصوصی توجہ سے قریش کے ان سرداروں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دیتا۔ اس لیے عبداللہ کو اس وقت میرے پاس نہیں آنا چاہیے تھا۔ چناچہ آپ کے چہرے پر بل پڑے اور آپ نے ان سے رخ پھیرلیا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ سمجھا ہے کہ عبداللہ کوئی نادار آدمی تھے ان کی ناداری کی وجہ سے حضور ﷺ کو ان کا آنا برا لگا۔ لیکن یہ بات قرین قیاس نہیں۔ اس لیے کہ جیسے میں عرض کرچکا ہوں کہ عبداللہ حضرت خدیجہ ( رض) کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور آپ کی والدہ حضرت خدیجہ ( رض) کے والد کی بہن تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا خاندان کوئی چھوٹا خاندان نہ تھا اور وہ ایک کھاتے پیتے گھر کے فرد تھے۔ اور اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ وہ ایک بااثر آدمی تھے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے بعض دفعہ اپنی غیرموجودگی میں انھیں مدینے کا امام بنایا۔ اور قرآن کریم نے بھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھیں اعمیٰ سے تعبیر کیا جس سے ان کی طبعی معذوری کا اظہار ہوتا ہے، ان کی ناداری کا نہیں۔
آنخضرت ﷺ کا امرائے قریش کو الگ سے وقت دینا ان کی امارت کے سبب سے نہ تھا بلکہ یہ ایک فطری عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے دلوں میں لوگوں کے ایمان لانے کی جو شدید خواہش ہوتی ہے اس کی وجہ سے وہ ہر طریقہ اختیار کرتے ہیں جس سے اسلام کی توسیع و اشاعت میں مدد ملتی ہے تاکہ ان کے قبولیتِ ایمان سے دوسرے لوگوں میں اسلام کا چرچا ہو اور اس طرح اسلام کی اشاعت اور قبولیت کا راستہ کھلے۔ یہ ایک ایسی فطری خواہش ہے جس پر نکیر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن اس سے بالعموم نقصان یہ ہوتا ہے کہ طبقہ امراء میں ایسی خواہش کو کمزوری جان کر ان کے تمرد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور ان کی رعونت اور سرکشی اور بڑھ جاتی ہے۔ اور مزید یہ کہ ان پر زیادہ توجہ دینے کی وجہ سے ان غریب مسلمانوں کی حق تلفی ہوتی ہے جو ایمان لاچکے ہیں اور اپنی تعلیم و تربیت کے لیے زیادہ سے زیادہ آنحضرت ﷺ کی توجہ چاہتے ہیں۔ پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو چونکہ مینارہ نور اور ہر معاملے میں اسوہ بنایا تھا۔ اس لیے اس شدید خواہش کو جو تبلیغ و دعوت کے تقاضوں کی حدود سے تجاوز کرتی جارہی تھی اس سے روک کر آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیا کہ ایسی امت جس کا سرمایہ اسلامی تعلیم، اسلامی اخلاق، اللہ تعالیٰ پر بےپناہ توکل اور بھروسہ ہو اس کی اصل قوت اور سرمایہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے اپنے اندر بےپناہ تڑپ اور احساس رکھتے ہیں۔ چاہے وہ نابینا ہی کیوں نہ ہوں۔ اور چاہے مال و دولت کے اعتبار سے ان کا ہاتھ تنگ کیوں نہ ہو۔ اور وہ لوگ جو اسلام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسلامی تبلیغ کو مناسب وزن دینے کے لیے تیار نہ ہوں اسلام کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسلام ان کا محتاج نہیں بلکہ وہ اسلام کے محتاج ہیں۔
طالبِ حق کی دو صفتیں
تیسری اور چوتھی آیت میں بظاہر عبداللہ ابن امِ مکتوم کی لیکن حقیقت میں ہر طالب حق کی دو صفتیں بیان فرمائی ہیں جو حصول ہدایت کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول بلکہ ہر مصلح کو ایسے ہی وابستگانِ حق اور ایسی ہی صفات کے حاملین کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا چاہیے۔ جن میں پہلی صفت یہ ہے کہ ایسے وابستگانِ حق اپنی اصلاح و تربیت کو اپنے وقت کا اصل مصرف اور اپنی مساعی کا اصل ہدف سمجھتے ہیں۔ انھیں جب اس سلسلے میں کوئی سوال درپیش ہوتا ہے تو وہ رہنمائی کے لیے بےتابانہ سرچشمہ ہدایت کی طرف لپکتے ہیں، ان کے سامنے اپنی الجھنیں بیان کرتے ہیں اور اپنے درد کا مرہم چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ وہ تزکیہ نفس کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اور دوسری صفت ان لوگوں میں یہ ہوتی ہے کہ وہ سرچشمہ علم و ہدایت کی صحبت میں زیادہ سے زیادہ بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ ان کے سامنے کسی سوال کا جواب لینا مقصود ہو یا نہیں۔ بلکہ جب دوسرے لوگ جو مجلس میں حاضر ہوتے ہیں وہ کوئی سوال کرتے ہیں یا خودبخود کوئی ضرورت پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے رسول اس کے حوالے سے کچھ ارشاد فرماتے ہیں۔ تو یہ اس کو نہایت توجہ سے سنتے، اپنے دل میں جگہ دیتے اور اپنے عمل کا حصہ بنا لیتے۔ یہ وہ چیز ہے جسے چوتھی آیت میں بیان کیا گیا۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول کے التفات کے حقیقی مستحق ہیں اور انھیں کی طرف آپ کو اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) سے ان کے مقام بلند سے فروتر کسی چیز کا صدور ہوتا ہے تو اس کا سبب نفس کی خواہشوں کی پاسداری نہیں ہوتی بلکہ وہ بعض دفعہ اپنے رب کی رضا طلبی کے جوش میں اس حد سے آگے نکل جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہوتی ہے۔ یہاں جس بات پر نبی کریم ﷺ کو توجہ دلائی جارہی ہے وہ اسی قسم کی بات ہے جس کا تعلق آپ کی کسی خواہش سے نہیں بلکہ اسلام کی بالادستی سے تھا۔ اس سے اسلام کا وقار بھی بلند ہوتا ہے اور نبی کریم ﷺ کو ایک تسلی بھی ہوتی ہے اور آپ کے بعد آپ کے راستوں پر چلنے والوں کو ایک گائیڈ لائن مل جاتی ہے جو ان کی تبلیغ و دعوت کی حدود طے کردیتی ہے۔
Ayahs 80:5–10اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی۔ فَاَنْتَ لَـہٗ تَصَدّٰی۔ وَمَا عَلَیْکَ اَلاَّ یَزَّکّٰی۔ وَاَمَّا مَنْ جَآئَ کَ یَسْعٰی۔ وَھُوَیَخْشٰی۔ فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَھّٰی۔ (عبس : 5 تا 10)
(رہا وہ شخص جو بےپروائی برتتا ہے۔ تو آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں اگر وہ اپنی اصلاح نہ کرے۔ اور رہا وہ شخص جو آپ کے پاس آتا ہے دوڑتا ہوا۔ اور وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔ تو آپ اس سے بےپروائی برتتے ہیں۔ )
اصل تنبیہ
یہ ہے وہ اصل تنبیہ جو آنحضرت ﷺ کو فرمائی گئی ہے۔ اور یہ ہے تبلیغِ دین کا وہ اصل نکتہ جس کی طرف آنحضرت ﷺ کو توجہ دلائی گئی ہے۔ اس میں دو شخصوں کا نقشہ کھینچ کر بتایا گیا ہے کہ ایک وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ کے دین کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ دنیا کے عیش و عشرت میں ایسا غرق ہوچکا ہے کہ اسے بھول کر بھی کبھی آخرت کا خیال نہیں آتا۔ مال و دولت میں اضافہ اس کی زندگی کا مقصد بن چکا ہے۔ اسے ہر صورت میں اپنی بھلائی، اپنا عیش و عشرت، اپنا اثرورسوخ اور اپنی ذات عزیز ہے۔ اسے اس سے کچھ غرض نہیں کہ انسانیت کیا ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں، انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ انسان کا کوئی اِلٰہ ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے تو اس کی صفات اور حقوق کیا ہیں۔ دوسرے بندوں سے میرا رشتہ کیا ہے۔ اور اس رشتے کے آداب کیا ہیں۔ گویا کہ وہ ایک بےنیاز آدمی ہے جس نے ہر رشتے اور زندگی کے ہر تقاضے سے تعلق توڑ لیا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جسے آخرت کی فکر نے آپکڑا ہے۔ وہ زندگی کی ناپائیداری اور آخرت میں جوابدہی کا یقین پیدا کرچکا ہے۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے کہ میں اس کی نافرمانی کی پاداش میں نہ پکڑا جاؤں اور پھر اس کے اندر خیر کا زوردار جذبہ پیدا ہوچکا ہے جس کی وجہ سے وہ دوڑتا ہوا آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے۔ یہ دو طرح کے افراد آپ کے سامنے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ پہلی قسم سے تعلق رکھنے والا شخص چونکہ بااثر، مالدار اور وسیع حلقہ تعارف کا مالک ہے اور اس کی پسندوناپسند کا اثر دوسرے قبول کرتے ہیں۔ تو آپ محض اسلام کی بالادستی اور تبلیغ و دعوت کی قبولیت کے لیے ایسے آدمی کے درپے ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ توجہ اس کی طرف مبذول کرتے ہیں۔ حالانکہ اس کی ظاہری حالت صاف بتارہی ہے کہ اسے حق طلبی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اور آپ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کا کوئی اثر قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہیں۔ اس کے مقابلے میں دوسرا آدمی جو حق کا طالب، اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور نہایت بےتابانہ طلب لے کر براہ راست علم کے حصول کے لیے آپ کے پاس پہنچتا ہے۔ وہ غریب اور نادار ضرور ہے اور ہوسکتا ہے جسمانی عوارض کا بھی شکار ہو۔ تو آپ اس خیال سے اس سے پہلو تہی کرتے ہیں تاکہ دوسری طرح کے لوگوں کو آپ زیادہ سے زیادہ وقت دے سکیں اور ان کو اسلام کی طرف مائل کرسکیں۔ حالانکہ اگر کوئی شخص آپ کی کوششوں کے باوجود اسلام کی طرف آنے سے انکار کردیتا ہے تو آپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ آپ بہر صورت اسے اسلام کی طرف لائیں۔ کیونکہ آپ کا فرض تبلیغ و دعوت ہے اور حق کو پہنچا دینا ہے، کسی کو مومن بنانا نہیں۔ البتہ جو شخص آپ کے پاس ایمان لانے اور حق کی طلب کے لیے پہنچتا ہے اس کا تزکیہ کرنا اور اسے ایمان کی دولت سے مالامال کرنا اور اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
تَصَدّٰی … یہ دراصل تَتَصَدَّدُ ہے۔ اس کا مادہ صَدَدَ ہے۔ یہ تعلیل کے بعد تَصَدّٰیہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اسلام سے بےنیازی برتتے ہیں اور آپ کی تبلیغ و دعوت کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں آپ ان پر زیادہ توجہ صرف کرتے اور ان کے درپے ہوتے ہیں۔ یقینا اس کے پس منظر میں ان کے ساتھ خیرخواہی اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی ہے۔ اور آپ ہر صورت میں امکانی حد تک انھیں اسلام کی آغوش میں لانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا فرض ہے جو آپ نے خود اپنے سر پر اٹھا لیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا مکلف نہیں کیا۔ آپ کی اصل ذمہ داری انذار و ابلاغ کی ہے۔ اس کے ادا کر چکنے کے بعد آپ بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ مومن اور مسلم بنانا آپ کی ہرگز ذمہ داری نہیں۔ لیکن جو شخص ذوق و شوق اور کوشش سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوا آپ کے پاس آتا ہے وہ یقینا آپ کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اس پر زیادہ سے زیادہ توجہ صرف کرنا آپ کے فرائض کا حصہ ہے۔ اور ایسے ہی لوگ ہیں جو آپ کے قافلے کی اصل قوت ہیں۔ ان پتھروں میں جونک لگانے کی بجائے ان ہیروں میں آب و تاب پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
Ayahs 80:11–12کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ۔ فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہٗ ۔ (عبس : 11، 12)
(ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے۔ پس جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ )
پیغمبر کی اصل ذمہ داری
ہرگز نہیں، سے مراد یہ ہے کہ آپ جس طرح اللہ تعالیٰ کے دین سے بےنیاز لوگوں اور آپ کی تبلیغ و دعوت سے منہ پھیرنے والوں کو محض ان کی خیرخواہی اور اسلام کی توسیع و اشاعت کے لیے اہمیت دے رہے ہیں اور آپ کے اندر یہ خواہش کروٹیں لے رہی ہے کہ کاش یہ لوگ اسلام کے دست وبازو بنیں، اس کی کشتی کے کھینے والے ہوں اور اس شمع کو دنیا میں عام کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اس خواہش کے نیک اور خوبصورت ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ لیکن یہ لوگ ایسے بدمست ہیں کہ یہ آپ کی دردمندی اور سوز و گداز سے بھرپور کاوشوں کو ایک کمزوری سمجھتے ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ ہم شاید ایسے کوئی غیرمعمولی لوگ ہیں کہ اگر ہم نے اسلام قبول نہ کیا تو اسلام کی کھیتی اجڑ جائے گی۔ آپ ایسے خودسروں کو اہمیت دینا چھوڑ دیں۔ نہ اسلام کی تعلیم ایسی چیز ہے کہ جو اس سے منہ موڑے اس کے سامنے اسے نہایت نیاز مندی سے پیش کیا جائے اور نہ آپ کے بلند مرتبے سے یہ بات میل کھاتی ہے کہ آپ ان کو اسلام سے قریب لانے کے لیے اپنی بلند سطح سے نیچے اتریں۔ یہ اگر حق سے بےنیازی کا اظہار کرتے ہیں تو حق بھی ان سے اتنا ہی بےنیاز ہے جتنے یہ حق سے بےنیاز ہیں۔
مزید فرمایا کہ یہ تو ایک نصیحت اور یاددہانی ہے جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جس کا جی نہ چاہے وہ اپنے برے انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار ہوجائے۔ ” اِنَّھَا “ میں ضمیر کا مرجع ذکریٰ ہے جس کا ذکر آیت چار میں ہوا۔ اس لیے ضمیر کو مونث لایا گیا ہے۔ اور ” ذَکَرَہ “ میں بھی ضمیر کا مرجع وہی ذکریٰ ہے۔ لیکن یہاں ضمیر مذکر لا کر معنی کا لحاظ کیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم اور عربی زبان میں یہ اسلوب عام ہے کہ ضمیر میں کہیں لفظ کا لحاظ ہوتا ہے اور کہیں معنی کا۔ سورة کے آغاز میں ہم نے جس عتاب کا ذکر پڑھا ہے جس کے مخاطب آنحضرت ﷺ ہیں اس آیت کریمہ نے اس کی اصل حقیقت واضح کردی ہے۔ اس آیت کو غور سے پڑھنے کے بعد صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ عام عتاب نہیں بلکہ اس کی نوعیت عتاب محبت کی ہے۔ کہ نہایت پیار سے آپ سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ یہ قرآن کریم تو ایک نصیحت اور یاددہانی ہے۔ اس سے جو شخص فائدہ اٹھانا چاہے تو اٹھا سکتا ہے۔ لیکن جو شخص بہرہ بنا رہے وہ خود اپنی قسمت پھوڑ لیتا ہے، آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کیونکہ آپ کے ذمہ صرف نصیحت کرنا ہے، سننے والوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنا نہیں۔ جب آپ نے تبلیغ و انذار کا حق ادا کردیا تو آپ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوگئے۔ قطع نظر اس سے کہ سننے والوں نے اسے قبول کیا ہے یا نہیں۔ تو اے پیارے رسول ! جب آپ کی ذمہ داری صرف انذار و ابلاغ ہے تو آپ کو کیا ضرورت پڑی کہ آپ ان کندہ ناتراش لوگوں کی باتیں سنیں اور ان کی نازبرداری کریں۔
Ayahs 80:13–16فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ۔ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ م۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ ۔ (عبس : 13 تا 16)
(یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو لائقِ تعظیم ہیں۔ بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں۔ ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جو معزز اور باوقار ہیں۔ )
گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت
اوپر جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے یہ شایانِ شان نہیں کہ آپ ان بددماغ اشرافِ قریش کے سامنے اس طرح بات کریں جیسا چھوٹا بڑوں کے سامنے کوئی درخواست پیش کرتا ہے۔ آپ خالق کائنات کے سفیر ہیں۔ ان اشراف سے بات کرتے ہوئے آپ کی عظمت کا اظہار ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح آپ جو قرآن کریم ان کے سامنے پیش کررہے ہیں اور جسے سننا انھیں گوارا نہیں، وہ بھی کوئی ایسی چیز نہیں جو نہایت لجاجت اور عاجزی کے ساتھ ان متمردین کے سامنے پیش کی جائے۔ جس طرح آپ کی ذات اللہ تعالیٰ کی سفیر ہے اسی طرح قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور کلام متکلم کی صفت ہوتا ہے۔ تو جیسا متکلم عظیم ہوگا، ویسا ہی کلام بھی عظیم ہوگا۔ چونکہ خالق کائنات کی ہمسری اور برابری مخلوق کے لیے ممکن نہیں، بلکہ ایسا تصور کرنا بھی انتہائی گری ہوئی حرکت ہے۔ اسی طرح خالق کائنات کے کلام کو ان متکبرین کے سامنے برابری کی سطح پر پیش کرنا بھی کلام خداوندی کی قدر کو کم کرنا ہے۔ اس لیے ان آیات میں قرآن کریم کی چند صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے جس سے اس کی رفعت و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آیت کے پہلے لفظ فِیْ صُحُفٍسے پہلے ہُوَ محذوف ہے جو مبتداء ہے۔ صُحُفٍ ، صَحِیْفَـۃٌ کی جمع ہے۔ لکھے ہوئے ورق کو کہتے ہیں لیکن عموماً چھوٹی کتاب کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہاں اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ وہ اگرچہ ایک ہی ہے لیکن اس کو بصیغہ جمع شاید اس لیے لایا گیا ہے کہ اس میں سب صحائفِ آسمانی لکھے ہوئے ہیں۔ اور یا اس لیے کہ فرشتے اپنے صحیفے اس سے نقل کرتے ہیں۔ مُّکَرَّمَۃٍسے مراد یہ ہے کہ وہ ایک عزیز، گراں مایہ اور قیمتی خزانہ ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے فرشتے نہایت اہتمام کے ساتھ کررہے ہیں۔
مَرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ … یعنی وہ صحیفے اپنے مقام اور معنی کے لحاظ سے انتہائی بلند واقع ہوئے ہیں۔ اور ہر قسم کی آمیزشوں سے پاک ہیں۔ شیاطین اور ارواحِ خبیثہ کی دسترس سے بالکل محفوظ ہیں۔ جس طرح قرآن کریم میں سورة الواقعہ میں فرمایا گیا ہے فِیْ کِتَابٍ مَّـکْنُوْنٍ ۔ لاَّ یَمَسْہٗ اِلاَّالْمُطَھَّرُوْنَ ” وہ ایک محفوظ کتاب میں ہے جس تک صرف پاکیزہ ہاتھوں ہی کی رسائی ہے۔ “ یعنی کسی نوعیت کے باطل اور فاسد افکار و نظریات ان میں راہ نہیں پاسکتے۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ ۔ سَفَرَۃٍ ، سَافِرَکی جمع بھی ہوسکتی ہے جس کا معنی کاتب کے ہیں۔ اس صورت میں اس سے مراد فرشتے یا انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی وحی کو لکھنے والے حضرات ہوں گے۔ اور یہ سفیر کی جمع بھی ہوسکتی ہے، جس کے معنی قاصد ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اس سے مراد رسل، ملائکہ اور انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کی کتابت کرنے والے حضرات صحابہ کرام ہوں گے۔ اور علماء امت بھی اس میں داخل ہیں کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان سفیر اور قاصد ہیں۔ بَرَرَۃٍ جمع ہے بَارٌ کی فرمانبردار، باوفا اور اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک ادا کرنے والے کو کہتے ہیں۔ ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو قرآن کریم کے صحیفوں کو اللہ تعالیٰ کی براہ راست ہدایت کے مطابق لکھ رہے تھے اور ان کی حفاظت کررہے تھے اور رسول اللہ ﷺ تک انھیں جوں کا توں پہنچا رہے تھے۔ وہ اس قدر امانت دار اور امانت کا حق ادا کرنے والے ہیں کہ اس میں خیانت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ قرآن کریم جیسی عظیم کتاب اس اہتمام کے ساتھ لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں فرشتے لکھتے ہیں اور پھر وہی معزز ملائکہ اس کی حفاظت پر مامور ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول تک پہنچانا بھی ان کی ذمہ داری میں داخل ہے۔ قرآن اور اس کے محافظین کی ان صفات کے ذکر سے آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے جسے متمردین کے سامنے لجاجت کے ساتھ پیش کیا جائے۔ بلکہ جس عظمت و شان کا وہ کلام ہے اسی وقار اور خودداری کے ساتھ اس کی دعوت دی جائے۔ اور جس طرح باوقار ملائکہ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اور اس کو نازل کرنے پر مامور فرمایا ہے اس کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان کے ساتھی اس کی دعوت و تبلیغ میں اسی وقار اور تمکنت اور گہری دلسوزی کا اظہار کریں۔
ان آیات سے اشارۃً یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب اتنے عظیم فرشتے اس قدر دیانت و امانت اور اہتمام اور انصرام کے ساتھ اس کتاب کی حفاظت کرتے اور آنحضرت ﷺ تک پہنچاتے ہیں تو یقینا اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کے عظیم صحابہ جنھوں نے اس کتاب کی حفاظت اور کتابت اور اس کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے اور پھر نہایت محنت اور دیانت کے ساتھ لوگوں کے دلوں اور حافظوں میں اتارنے کا فرض انجام دیا ہے وہ بھی یقینا انھیں بلند صفات اور اسی قدر دیانت و امانت کے حامل ہوں گے جیسے آسمانوں پر اس کی حفاظت کرنے والے تھے۔ کیونکہ وہ کتاب جو اللہ تعالیٰ کی صفت اور دنیا میں انسانوں کے لیے آخری اللہ تعالیٰ کا پیغام اور رحمت بن کر آئی ہے جس اہتمام کے ساتھ اسے لوح محفوظ سے لے کر آنحضرت ﷺ کے قلب اطہر تک پہنچانے میں اہتمام ملحوظ رکھا گیا ہے دنیا میں اس کی حفاظت و صیانت اور لوگوں تک پہنچانے میں یقینا اس سے کم اہتمام اور ان سے کم پاکیزہ لوگوں کا انتخاب نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیونکہ دنیا میں اس کی حفاظت اور اس کی تبلیغ و دعوت یقینا بہت بڑی ذمہ داری اور بہت نازک کام تھا۔
Ayah 80:17قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَـآ اَکْفَرَہٗ ۔ (عبس : 17)
(ہلاک ہو انسان یہ کتنا ناشکرا ہے۔ )
کفار پر براہ راست عتاب
اس سے پہلے کی آیات میں خطاب نبی کریم ﷺ سے تھا لیکن عتاب درپردہ کفار پر تھا۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا تھا کہ آپ ان لوگوں پر توجہ دے رہے ہیں جو درحقیقت اس قابل نہیں ہیں۔ وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انسان کی عظمت کھو چکے ہیں۔ اب وہ اس قابل ہرگز نہیں رہے کہ آپ اپنا قیمتی وقت اور قرآن کریم جیسی عظیم کتاب ان کے سامنے پیش کریں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں عتاب ان کفار پر براہ راست ہورہا ہے۔ اور عتاب کے تیور اتنے تیکھے ہیں کہ پہلے جملے ہی سے ان پر لعنت کی جارہی ہے اور غضب کا اظہار فرمایا جارہا ہے۔ آیت میں مذکور ” انسان “ کا لفظ اگرچہ عام ہے، لیکن مراد اس سے نوع انسانی کا ہر فرد نہیں۔ بلکہ روئے سخن ان متکبرین کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ کیونکہ مقصود کسی انسان پر غضب کا اظہار کرنا نہیں بلکہ ان کی ناپسندیدہ صفات کی مذمت کرنا ہے۔ اور مقصود یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی یہ صفات پائی جائیں گی جن کا ذکر سابقہ آیات میں ہوچکا ہے تو ایسی صفات کے موصوف انسان ایسی ہی مذمت کے مستحق ہوں گے۔ ویسے بھی قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ بعض دفعہ وہ کفار کے کسی گروہ کو مستحقِ خطاب نہیں سمجھتا۔ اور دوسرے سے خطاب کے ضمن میں ان سے منہ پھیر کر، لیکن انھیں سمجھانے کے لیے بات کہتا ہے۔ علاوہ ازیں قرآن و سنت میں جو ہمیں حکمت خطاب نظر آتی ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مخصوص لوگوں کو تعین کے ساتھ ملامت نہ کی جائے تاکہ ان میں ضد پیدا نہ ہو۔ عام انداز میں بات اس طرح کہی جائے کہ وہ اپنی برائی کو سمجھ لیں۔ لیکن براہ راست خطاب نہ ہونے کی وجہ سے انھیں برہم ہونے کا موقع بھی نہ ملے۔
انسان کی ناشکری پر اظہارِتعجب
مَـآ اَکْفَرَہٗ … پروردگار اظہارِتعجب کرتا ہوا فرما رہا ہے کہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ انسان کتنا ناشکرا بن کر رہ گیا ہے۔ اور کس قدر بددماغ ہوگیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اور اللہ تعالیٰ کا کلام اور پیغام سننے کا روادار نہیں ہوتا۔
اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ آخر انسان کس بل بوتے پر اللہ تعالیٰ سے کفر کرتا اور اس کے احکام کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ حالانکہ وہ دیکھتا ہے کہ میرے گردوپیش میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا منکر اور اس کا ناشکرا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا محسن ہے اور وہ احسانات کی ناشکری کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کا خالق ومالک ہے اور وہ اس کے سامنے باغیانہ روش اختیار کرتا ہے۔
Ayahs 80:18–22مِنْ اَیِّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ ۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ ط خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۔ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۔ ثُمَّ اَمَاتَـہٗ فَاَقْبَرَہٗ ۔ ثُمَّ اِذَا شَـآئَ اَنْشَرَہٗ ۔ (عبس : 18 تا 22)
اسے ( اللہ نے) کس چیز سے پیدا کیا ؟ پانی کی ایک بوند سے، اللہ نے اسے پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔ پھر اس کے لیے راہ آسان کردی۔ پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ )
انسان پر احسانات سے استدلال
یہ کفار جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے سامنے تکبر کا اظہار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سامنے سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کاش انھیں کبھی ان باتوں پر غور کرنے کا موقع ملے کہ ان کے ایک ایک فرد کو اللہ تعالیٰ نے کس چیز سے پیدا کیا ہے ؟ پھر جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی فرمایا کہ حقیر پانی کی ایک بوند سے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلام کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا ہے آخر وہ یہ تو بتائے کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ کیونکہ تکبر وہ اختیار کرتا ہے جو اپنی ذات میں بہت بڑی چیز ہو اور کسی بہت بڑے حوالے سے اس کی ابتدا ہوئی ہو۔ اس کے دماغ میں جو ہوا بھری ہے کہ اپنے خالق کو بھی خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں، آخر اس کا سبب کیا ہے ؟ اس کی اصل اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس کو حقیر پانی کی ایک بوند سے اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا ہے جس پانی سے ہر شخص نفرت کرتا ہے، جس کپڑے کو لگ جائے وہ ناپاک ہوجاتا ہے، جسم کو لگ جائے تو اس کا دھونا ضروری ہوجاتا ہے۔ لیکن انسان عجیب واقع ہوا ہے کہ ایسی مکروہ اصل سے وجود پانے کے باوصف اپنے خالق ہی کے سامنے اکڑنے لگتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اس کی اصل تو ایک ایسی چیز ہے جو سراسر قابل نفرت ہے۔ البتہ جس ذات نے اس قابل نفرت چیز سے ایک باعظمت انسان کو پیدا کیا ہے اور پھر پیدا کرکے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ بطن مادر ہی میں اس کی تقدیر بھی طے کردی جس سے اللہ تعالیٰ کے بےپایاں احسانات کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ ہمارے بعض مفسرین اس تقدیر کی وضاحت آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے کرتے ہیں جو اس آیت کی تفسیر میں تو آپ نے نہیں فرمایا لیکن اس سے اس پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔ وہ ارشاد یہ ہے کہ انسان جس وقت بطن مادر میں زیرتخلیق ہوتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ اس کی چار چیزوں کی مقدار لکھ دیتے ہیں۔
1 وہ کیا اور کیسے عمل کرے گا 2 اس کی عمر کتنی ہوگی 3 اس کو رزق کتنا ملے گا 4 اور وہ انجام کار سعید اور نیک بخت ہوگا یا شقی بدبخت۔ (کما فی حدیث ابن مسعود ( رض) عندالشیخین)
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس سے اشارہ ان منازل و مراحل کی طرف ہے جو انسان کی تدریجی تشکیل میں نمایاں ہیں۔ البتہ ہر مفسر نے اپنے ذوق کے مطابق ان کو شمار کیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی ایسی بات نہیں، اس لیے کہ بعض دفعہ اجمال سے کام لیا جاتا ہے اور بعض دفعہ تفصیل سے۔ اور پھر ہر اہل علم کی قوت مشاہدہ میں بھی تنوع ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں تقدیر سے مراد یہ ہے کہ یہ بات طے کردی گئی ہے کہ دنیا میں آنے والے بچے کی جنس کیا ہوگی، اس کا رنگ کیا ہوگا، اس کا قد کتنا ہوگا، اس کے بچپن کی کیفیت کیا ہوگی، لڑکپن کیسے گزرے گا، جوانی کی کیا کیفیات ہوں گی، اس کے اعضاء کس حد تک صحیح وسالم اور کس حد تک ناقص ہوں گے، اس کی شکل و صورت اور آواز کیسی ہوگی، اس کے جسم کی طاقت کتنی ہوگی، اس کے ذہن کی صلاحیت کیا ہوگی، کس سرزمین، کس خاندان، کن حالات اور کس ماحول میں پیدا ہوگا، اس کی شخصیت کی تعمیر میں موروثی اثرات، ماحول کے اثرات اور اس کی اپنی خوبی کا کیا اور کتنا اثر ہوگا، اس کی موت کہاں واقع ہوگی اور خیر و شر کے حوالے سے وہ کیا کردار انجام دے گا۔ ایسی ہی مزید تفصیلات جو انسانی زندگی کی حقیقت، اس کے خواص، اس کے عوارض اور اس کے اثرات میں داخل ہیں، ان سب چیزوں کا فیصلہ ماں کے پیٹ ہی میں کردیا جاتا ہے۔ انسان چاہے بھی تو ان سے بال برابر ہٹ نہیں سکتا۔ نہ اس میں ذرہ برابر کوئی ردوبدل کرسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ایک نظام کے تحت دنیا میں آتا اور تکوینی معاملات میں اس نظام کی پابندی کرنے پر مجبور ہے لیکن کس قدر تعجب کی بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کفر کرتا اور اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔
مزید فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آنے والے کے لیے تیسیر یعنی آسانی سے کام لیا۔ بطنِ مادر میں انسان کس آسانی سے مختلف مراحل طے کرتا ہے اسے اگرچہ اس کا اندازہ نہیں، لیکن ماں کسی حد تک احساس رکھتی ہے اور میڈیکل سائنس میں درک رکھنے والے لوگ کسی نہ کسی حد تک اس سے آگاہی رکھتے ہیں۔ پھر جب اس کا دنیا میں آنا منظور ہوتا ہے تو بطن مادر سے برآمد ہونے کے لیے ماں کے نظام جسم اور بچے کے نظام حجم میں جو تبدیلیاں ودیعت کی جاتی ہیں اور عین تخلیق کے وقت ان کا اظہار ہوتا ہے وہ بجائے خود ایسی آسانی کا عمل ہے جو سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی رحمت پر دلالت کرتا ہے۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ اگر پروردگار کی جانب سے یہ قدرتی انتظام نہ ہوتا تو کوئی انسانی تدبیر اس کی متبادل نہیں ہوسکتی تھی۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ زچہ اور بچہ دونوں ہلاک ہوجاتے۔ اور پھر یہ تیسیر کا عمل پوری زندگی پر چھایا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ مہد سے لحد تک قدرت کی اسی کارفرمائی سے انسان زندگی کے تمام نشیب و فراز سے کامیابی سے گزرتا ہے۔ انسان کا بچہ سب حیوانات کے بچوں سے زیادہ بےبس ہوتا ہے لیکن اس کی زندگی کی بقاء کے لیے اللہ تعالیٰ اسے بھوک کا احساس بخشتا ہے، اس کی ماں کی چھاتیوں میں اس کی غذا پیدا کردی جاتی ہے اور پھر اس غذا کو چوس کر چھاتیوں سے حاصل کرنے کی رہنمائی جبلی طور پر اس کے اندر ودیعت کردی جاتی ہے۔ ماں کے اندر جس طرح مامتا پیدا کی جاتی ہے اسی طرح باپ کے اندر شفقت کا ایک چشمہ رواں کردیا جاتا ہے۔ پھر بچہ بڑا ہو کر جب عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو وہ خدا ہی کے بخشے ہوئے اعضاء، توانائی، دماغی صلاحیت اور عقل کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں اس کے اندر اخلاق کی حس پیدا کی جاتی ہے، خیر و شر کا شعور دیا جاتا ہے، فجور اور تقویٰ کا الہام کیا جاتا ہے، قدم قدم پر آسانی کے چراغ ہیں جو اس کے راستے کو روشن کرتے ہیں اور تیسیر کا ایک نور ہے جو اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
مزید فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ اس کو موت دیتا ہے اور قبر میں پہنچا دیتا ہے۔ یہ زندگی کے آخری مرحلہ کی طرف اشارہ ہے کہ آخر وہ وقت آتا ہے کہ انسان زندگی کیسی بھی گزارے اسے بہرحال موت کا شکار ہونا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نظام میں ایسا جکڑا ہوا ہے کہ اس کے نتیجے میں بالآخر اس کی زندگی کا اختتام موت پر ہوتا ہے۔ کوئی شخص چاہے کیسا ہی سرپھرا ہو موت سے اسے کوئی مفر نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا مزید کرم یہ ہے کہ جس نوعیت کی قبر اس کے لیے طے کردی گئی ہے اسی نوعیت کی قبر میں دفن ہوتا ہے، خواہ وہ زمین کا پیٹ ہو یا سمندر کی گہرائیاں، آگ کا آلائو ہو یا کسی درندے کا معدہ۔ کسی میں یہ مجال نہیں کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تبدیل کرسکے۔ اور اسی سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ جو شخص مرتا ہے وہ فنا نہیں ہوجا تا بلکہ قدرت اسے قبر کی تحویل میں دے دیتی ہے۔ اور جو چیز تحویل میں دی جاتی ہے وہ لازماً ایک دن واپس لی جاتی ہے۔ چناچہ جب وقت آئے گا اللہ تعالیٰ اس امانت کو زمین سے واپس لے لے گا۔
مزید فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے موت دی اور پھر قبر میں دفن کردیا اسے وہ جب چاہے گا اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کی یہ مجال نہیں کہ یہ اٹھنے سے انکار کردے۔ جس طرح پیدا کرنے سے پہلے اس کی رائے نہیں لی گئی بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہوا۔ اسی طرح اس کے اٹھائے جانے کے وقت بھی اسے نہیں پوچھا جائے گا۔ اور اگر وہ انکار بھی کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ کو اس میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ کیونکہ جب پانی کی ایک بوند کو رحم مادر کے اندر اس نے ایک انسان کی شکل دی اور اس کام میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو اب اسے زمین سے برآمد کرنے اور ازسرنو زندہ کرنے میں بھی اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
Ayah 80:23کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَـآ اَمَرَہٗ ۔ (عبس : 23)
(ہرگز نہیں ! اس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔ )
انسان کو تنبیہ
گزشتہ آیات میں تخلیقِ انسانی کی ابتداء اور انتہاء اور ان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد تنبیہ کرتے ہوئے اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ایسے واضح احسانات اور قدرت کے ایسے نمایاں شواہد کے بعد تو اس بات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کردے یا اس کی نعمتوں کی قدردانی اور ادائے شکر میں کوتاہی کرے۔ کیونکہ اس کے تخلیقی عمل، پھر اس کی زندگی کے امکانات اور بقاء کے انتظامات اور رہنمائی کے تمام اسباب کو دیکھتے ہوئے غبی سے غبی آدمی بھی اپنے خالق ومالک کی معرفت اور اپنے محسن کی احسان شناسی میں کوتاہی نہیں کرسکتا۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ انسان نے اپنے فرض کو نہ پہچانا، اور جس کا اسے حکم دیا گیا تھا اس کو ادا کرنے کی کوئی کوشش نہ کی۔
حکم سے مراد صرف وہی حکم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور کتاب کے ذریعے انسانوں کو دیا ہے بلکہ اس سے مراد وہ تمام احکام واوامر ہیں جو فطرت کی بدیہیات میں سے ہیں۔ اور وہ احکام بھی جن کی طرف انسان کا اپنا وجود اور زمین سے لے کر آسمان تک کائنات کا ہر ذرہ اشارہ کررہا ہے۔ اور وہ احکام بھی مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے نازل کیے ہیں اور ہر دور کے علماء اور مصلحین نے انھیں لوگوں تک پہنچایا ہے۔
Ayah 80:24فَلْیَنْظُرِالْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖٓ۔ (عبس : 24)
(پس انسان ذرا اپنی خوراک کو دیکھے۔ )
تدبر کی نگاہ ہو تو دلائل کی کمی نہیں
سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی کوئی انتہاء ہے اور نہ اس کے احسانات کا کوئی شمار۔ انسان اپنی غذا ہی کو دیکھے کیونکہ انسان اپنی تمام تر صلاحیتوں اور وجاہتوں کے باوجود غذا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر باہمہ جلالتِ قدر کھانے پینے کی احتیاج رکھتے تھے، اس لیے کافروں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا مَالِھٰذَالرَّسُوْلِ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ” یہ کیسے رسول ہوسکتا ہے، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ “ تو باقی انسانوں کے بارے میں کہنے کی گنجائش ہی کیا رہ جاتی ہے۔ ایسی بنیادی چیز جس کے بغیر انسانی زندگی باقی نہیں رہ سکتی کبھی انسان نے اس پر غور کیا ہے کہ یہ کہاں سے آتی ہے اور اس کے بننے اور پروان چڑھنے میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ اگر پروردگار غذا کے اسباب فراہم نہ کرتا تو انسان کے بس میں نہ تھا کہ وہ غذا پیدا کرلیتا۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حال یہ ہے کہ اس نے صرف غذا ہی پیدا نہیں کی بلکہ اس میں اتنی وسعت، تنوع اور ضروریات کی ایک ایک نوعیت کا لحاظ رکھا ہے کہ دیکھ کر آدمی مبہوت ہوجاتا ہے۔ وہ مخلوق کی ہر قسم کو اس کی ضرورت کے مطابق غذا فراہم کرتا ہے۔ اور ایسے ایسے مقامات پر غذا کی ترسیل کا انتظام کرتا ہے جہاں تک انسان کی نگاہوں کی رسائی نہیں۔
Ayahs 80:25–32اَنَّا صَبَبْنَا الْمَـآئَ صَبًّا۔ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔ فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا حَبًّا۔ وَّعِنَـبًاوَّقَضْبًا۔ وَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلاً ۔ وَّحَدَآئِقَ غُلْـبًا۔ وَّفَاکِھَۃً وَّاَبًّا۔ مَّتَاعًا لَّـکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ ۔ (عبس : 25 تا 32)
(ہم نے خوب پانی برسایا۔ پھر اچھی طرح زمین کو پھاڑا۔ پھر اس کے اندر غلے اگائے۔ اور انگور اور ترکاریاں۔ اور زیتون اور کھجوریں۔ اور گھنے باغات۔ اور طرح طرح کے پھل اور چارے۔ سامانِ زیست تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔ )
سابقہ آیت میں انسان کو اپنے کھانے پر غور کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اب اس کھانے اور غذا کو بہم پہنچانے کے لیے جس بنیادی چیز کی ضرورت ہے اور جو خود غذا کا اہم ترین حصہ ہے، یعنی پانی، اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ انسانی غذا میں کچھ چیزیں وہ ہیں جو بھوک مٹاتی ہیں۔ لیکن ان چیزوں کے بغیر آدمی دو تین روز تک زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن پیاس بجھانے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ پانی کے بغیر اتنا طویل عرصہ زندہ رہنا مشکل ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پانی کا ذکر فرمایا اور اپنی پیدا کردہ نعمتوں میں پانی کو سب سے زیادہ فراوانی سے وجود بخشا۔ یوں تو پانی کے ذرائع ایک سے زیادہ ہیں لیکن اس میں اہم ترین ذریعہ بارش ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پانی کے دیگر ذرائع بھی بارش ہی کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ اور پھر اس بارش کا جو پر اسس ہے وہ بجائے خود حیران کن ہے۔ سورج کی حرارت سے سمندروں سے پانی بھاپ بنا کر اٹھایا جاتا ہے اور پھر فضاء میں اس بھاپ کو کثیف بادل کی شکل دے دی جاتی ہے۔ پھر ہَوائوں کے فیضان سے یہ بادل دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل جاتے ہیں۔ پھر عالم بالا کی ٹھنڈک سے وہ بھاپیں ازسرنو پانی کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ پھر بارش برستی ہے تو ایک خاص حساب سے برستی ہے۔ زمین اپنی ضرورت کے مطابق اس سے سیراب ہوتی ہے اور باقی پانی ندی نالوں کی شکل میں بہتا ہوا دور تک پھیل جاتا ہے۔ اسی سے چشمے وجود میں آتے ہیں، اسی سے کنوئوں کو پانی مہیا ہوتا ہے، دریا اور ندی نالے اسی بارش سے بہتے ہیں۔ پہاڑوں پر ہونے والی بارشیں میدانی علاقوں کے پانی کے ذخیروں میں اضافہ کرتی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتظام ہے کہ پہاڑوں پر برف کی شکل میں پانی جمتا ہے اور پھر گرمیوں میں پگھل کر ذخیرہ آب میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اور مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف پانی ہی نہیں برساتا بلکہ زمین کے مسامات کو اس بارش سے سیراب ہونے کے لیے اچھی طرح کھول دیتا ہے۔ اگر آسمان سے پانی نہ برستا تو زمین پر کوئی چیز باقی نہ رہتی۔ اور اگر پانی برستا لیکن زمین کے مسامات بند رہتے تو زمین روئیدگی سے محروم رہ جاتی اور انسان غذائی سروسامان سے محروم ہوجاتا۔ اس لیے بعض اہل علم نے زمین کے پھاڑنے سے مراد اس کے مسامات کا کھلنا لیا ہے۔ بلاشبہ یہ بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ لیکن یہاں ایک اور بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کسان زمین میں ہل چلاتا ہے، پھر اس میں تخم پاشی کرتا ہے، پھر اس پر سہاگہ پھیر کر تخم کو چھپا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عام قانون کے تحت زمین میں مدفون چیز گل سڑ کر ختم ہوجاتی ہے تو دانے کو اگنے کی بجائے کاشتکار کے اس عمل کے نتیجے میں ختم ہوجانا چاہیے، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت یہ ہے کہ وہ جب بارش برساتا ہے تو زمین کے مسامات بھی کھولتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جہاں دانہ بویا گیا ہے وہاں سے زمین دراڑوں کی شکل میں پھٹتی ہے اور انھیں دراڑوں سے دانہ پھوٹ کر سوئی کی شکل میں باہر نکلتا ہے جو رفتہ رفتہ تنا بن جاتا ہے۔ اور اس طرح سے غلے کی فصل لہلہانے لگتی ہے۔
مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی ضروریات کو جانتا ہے اس لیے جہاں اس نے غلے پیدا کیے ہیں وہیں اس نے انگور اور ترکاریاں بھی پیدا کی ہیں۔ غلہ انسان کی غذا ہے اور غذا کے بعد انسان کی ضرورت پھل ہیں۔ اور سرزمینِ عرب پر رہنے والے پھلوں میں انگور کو سب سے زیادہ پسند کرتے تھے اس لیے نمونے کے طور پر اس کا ذکر فرمایا کہ ہم نے انسان کو غلہ بھی دیا اور پھل بھی دیئے۔ اور غلہ کے ساتھ بطور سالن سبزیوں اور ترکاریوں کی ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی ذکر فرمایا۔ ان ترکاریوں میں وہ سبزیاں بھی شامل ہیں جو پکائے بغیر کھائی جاتی ہیں اور وہ بھی شامل ہیں جنھیں پکا کے کھایا جاتا ہے۔
پھر ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو فضاء میں ابھرے ہوئے درختوں سے حاصل ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے سر اٹھانا پڑتا ہے۔ ان میں مثال کے طور پر زیتون اور کھجور کا ذکر فرمایا ہے۔ زیتون کی روغن پیدا کرنے والی چیزوں میں جو اہمیت ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔ اور کھجور اہل عرب کے لیے بیک وقت گوناگوں فوائد کا مجموعہ ہے۔ یہ غذا بھی ہے اور میوہ بھی۔ اسے فوری طور پر بھی کھایا جاتا ہے اور اس کو ذخیرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس سے نہایت لذیز مشروب بھی بنائے جاتے ہیں۔
مختلف نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد گھنے باغات کا ذکر بھی فرمایا۔ ان میں سامانِ تغذیہ بھی ہے اور کام و دہن کی لذت کا سامان بھی۔ اور ساتھ ہی ساتھ عرب کی چلچلاتی دھوپ میں ٹھنڈے سائے کا ذریعہ بھی۔ اور ریگستانی علاقوں میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا سبب بھی۔
غُلبًا … یہ اغلب کی جمع ہے۔ موٹی گردن والے کو کہتے ہیں۔ لیکن جب حدائق کی صفت آئے تو اس سے مراد سرسبز و شاداب گھنے باغات ہوتے ہیں۔
وَفَاکِھَۃً وَّاَبًّا اور پھل اور چارے۔ خاص خاص پھلوں کا ذکر اس سے پہلے بھی ہوچکا ہے لیکن یہاں فَاکِھَۃً سے مراد وہ عام پھل ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ ایک روز دنیا بھر کے پھل سرزمینِ عرب میں پہنچیں گے بالخصوص حرمین کے بازار ان سے لدے ہوئے ہوں گے اس لیے عام پھلوں کا ذکر بھی فرما دیا۔ اَبًّاکے معنی نبات اور شاداب گھاس کے ہیں۔ اس کا تعلق اگرچہ انسانی غذا سے نہیں بلکہ ہر طرح کے جانوروں سے ہے اور کتنے جانور ہیں جن سے گوشت، چربی، دودھ، مکھن وغیرہ سامانِ خوراک انسان حاصل کرتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ چونکہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور انسانی معیشت کا ذریعہ ہیں اس لیے نعمتوں کا ذکر ناتمام رہتا اگر ان جانوروں کے غذائی سامان کا ذکر نہ کیا جاتا، اس لیے اس کا ذکر فرمایا گیا۔ اور شاید اسی لیے آخر میں فرمایا گیا کہ یہ سامانِ زیست ہے تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔ یعنی تمہیں تو گوناگوں نعمتوں کی ضرورت تھی لیکن مویشیوں کے لیے بھس وغیرہ کے علاوہ شاداب گھاس سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور مویشی انسانوں کے لیے بہت بڑی ضرورت اور بہت بڑی نعمت ہیں۔ تو جو غذا بہتر سے بہتر مویشیوں کے لیے مہیا کی جائے گی وہ یقینا انسانوں پر بھی احسان کا درجہ رکھتی ہے۔
ان تمام نعمتوں کا ذکر کرنے سے مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنے فضل و کرم کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ ایک سے ایک بڑا انعام ان پر کیا گیا ہے۔ لیکن ان کو یہ سوچنے کی زحمت کرنی چاہیے کہ یہ انعامات بےسبب تو نہیں ہیں۔ یقینا ان کے بدلے میں انسانوں کی کوئی ذمہ داریاں بھی رکھی گئی ہیں۔ اگر انسان ان نعمتوں کی قدر کرنا چاہتا ہے تو اسے ان ذمہ داریوں کا ادراک بھی ہونا چاہیے اور فکرمندی بھی ہونی چاہیے۔
Ayahs 80:33–37فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ ۔ یَوْمَ یَفِرُّالْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ ۔ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ ۔ لِکُلِّ امْرِیًٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ۔ (عبس : 33 تا 37)
(پس جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز آئے گی۔ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے۔ ہر آدمی کے لیے اس دن ایسا حال ہوگا جو اس کے لیے کافی ہوگا (یعنی اس روز ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی) ۔ )
قیامت کی ہولناکی
الصَّآخَّۃُکا معنی ہے بہری کردینے والی کڑک یا چیخ۔ مراد اس سے آخری نفخ صور کی قیامت خیز آواز ہے جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں گے اور میدانِ حشر کی طرف روانہ ہوجائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عدالت کے کٹہرے میں جوابدہی کے لیے کھڑے کردیئے جائیں گے۔ اس مفہوم کا حاصل جوابِ شرط ہے جو یہاں محذوف ہے۔ لیکن غور کرنے سے خودبخود واضح ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کا پہلا لفظ یعنی یوم اس جوابِ شرط کا ظرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس روز ایک ایسی ہیبت اور ہولناکی کی کیفیت ہوگی اور انسان اپنے انجام کو سامنے دیکھ کر اس حد تک سراسیمہ ہوگا کہ اسے اپنے دائیں بائیں اور آگے پیچھے کا ہوش جاتا رہے گا۔ اس کا اپنا خاندان اور اس کے قریبی عزیز جنھیں وہ قبائلی زندگی میں اپنی قوت و عصبیت کا سامان سمجھتا تھا سب کو پہچاننے سے انکار کردے گا۔ ہر شخص پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہوگی، بھائی بھائی سے بھاگے گا اور ماں باپ اپنی اولاد سے اور اولاد اپنے ماں باپ سے گریزاں ہوگی۔ میاں بیوی ایک دوسرے سے اجنبی بن چکے ہوں گے۔ کیونکہ جو شخص طوفان میں ڈبکیاں کھاتا ہوا موت سے لڑ رہا ہو اسے اس بات کی ہوش نہیں ہوتی کہ اس کے دائیں بائیں ڈوبنے والے کون ہیں۔ اسے فکر صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ میں ہاتھ پائوں مارتا ہوا کنارے تک پہنچنے کی کوشش کروں۔ یہ پریشانی، بیچارگی، ہیبت اور سراسیمگی کی کیفیت کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے جس سے پوری تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ بعض اہل علم نے یہ سمجھا ہے کہ ہر شخص دوسرے سے اس لیے دوڑے گا کہ وہ مجھے اپنی مدد کے لیے نہ پکار لے۔ اور یا ہر شخص دوسرے سے اس لیے گریزاں ہوگا کہ ہم نے مل جل کر جو جرائم کیے ہیں کہیں ان کی گواہی کے لیے مجھے نہ بلا لیا جائے۔ ان میں سے کسی بات کو بھی غلط نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ اس سے صرف ہولناکی اور پریشانی کا منظر دکھانا مقصود ہے۔ یعنی آج یہ لوگ پیغمبر کے انذار سے کان بند کیے ہوئے قیامت کی بات سننے کے روادار نہیں اور ہر شخص اس کا مذاق اڑانے میں پیش پیش ہے۔ لیکن جب یہ لوگ نفخہ ثانیہ کے بعد میدانِ حشر میں کھڑے ہوں گے تو اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی۔ تب انھیں احساس ہوگا کہ آج ہمیں غرور وتکبر کی کیا قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔