79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsروح القرآن

Ayahs 79:1–5

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو سختی سے جان نکالنے والے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو بند آسانی سے کھول دینے والے ہیں

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو کائنات میں تیزی سے تیرنے والے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر تیزی سے دوڑنے والے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والے ہیں

وَالـنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْـقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰ تِ اَمْرًا۔ (النازعات : 1 تا 5) (قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو سختی سے جان نکالنے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو بند آسانی سے کھول دینے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو کائنات میں تیزی سے تیرنے والے ہیں۔ پھر تیزی سے دوڑنے والے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والے ہیں۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم ان آیات میں پانچ اوصاف رکھنے والی چیزوں یا ہستیوں کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان اوصاف کا موصوف کون ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں اہل تفسیر میں اختلاف ہوا۔ بعض اہل علم نے ان اوصاف کا موصوف ہَوائوں کا سمجھا۔ عمومی عقل کے اعتبار سے اسے غلط بھی نہیں کہا جاسکتا، لیکن دلیل اس پر کوئی نہیں۔ رہی یہ بات کہ بعض امتوں پر ہَوائوں کے ذریعے جو عذاب آیا ہے اور اس میں کچھ ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا ان سے تعلق جوڑا جاسکتا ہے۔ یہ تو ایسی دلیل نہیں جسے کافی سمجھا جاسکے۔ لیکن اکثر آئمہ تفسیر نے ان اوصاف کا موصوف فرشتوں کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس پر بھی کوئی قطعی دلیل تو پیش نہیں کی جاسکتی کیونکہ کسی صحیح حدیث میں نبی کریم ﷺ سے یہ معنی منقول نہیں، لیکن چند اکابر صحابہ اور تابعین جو ان کے شاگرد تھے انھوں نے اس سے فرشتے مراد لیے ہیں۔ صحابہ کی رائے کے بارے میں یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے سنی ہوگی۔ اگرچہ ہم تک متصل سند کے ساتھ آنحضرت ﷺ سے کوئی بات نہیں پہنچی تو صحابہ کے بارے میں اس امکان کی وجہ سے اس رائے کو یقینا ترجیح تو حاصل ہوجاتی ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں والنّٰزِعٰتِ سے ڈوب کر کھینچنے والے یا سختی سے جان نکالنے والے۔ اور وَالنّٰشِطٰتِ نَشْطًاسے آہستگی سے جان نکالنے والے فرشتے مراد لیے گئے ہیں۔ اور اس کے مراد لینے والے حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) ، حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) ، مسروق، سعید بن جبیر، ابوصالح اور ابوالضحیٰ رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے بزرگ ہیں۔ اور وَالسّٰبِحٰتِ سَبْحًاسے حضرت علی ( رض) ، حضرت ابن مسعود ( رض) ، مجاہد، سعید بن جبیر اور ابو صالح رحمہم اللہ تعالیٰ نے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو احکامِ الٰہی کی تعمیل میں اس طرح تیزی سے رواں دواں رہتے ہیں جیسے کہ وہ فضاء میں تیر رہے ہیں۔ اسی طرح فَالسّٰبِقٰتِ سَبْـقًا سے حضرت علی ( رض) ، مجاہد، مسروق اور حسن بصری نے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو حکم الٰہی کا اشارہ پاتے ہی اس کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ اور فَالْمُدَبِّرٰ تِ اَمْرًاسے حضرت علی ( رض) ، مجاہد اور بعض دیگر تابعین نے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جن کے ہاتھوں دنیا کا سارا انتظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چل رہا ہے۔ ایسے جلیل القدر صحابہ ( رض) اور کبار تابعین سے جو تفسیر منقول ہو اسے اگر قطعی اور حتمی نہ بھی کہا جائے تب بھی وہ ترجیح پانے کے قابل تو یقینا ہے۔ قسم اور مقسم علیہ کا مفہوم یہ بات ہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ قسم کی حیثیت دلیل کی ہوتی ہے اور مقسم علیہ کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے۔ گویا قسم کے ذریعے دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اہل علم کے نزدیک قسم یعنی دلیل کو مقسم علیہ یعنی دعویٰ سے زیادہ واضح، بین، نمایاں اور معروف ہونا چاہیے تاکہ اس کے اثبات سے دعویٰ کا اثبات ہوسکے۔ اب اگر ان قسموں سے مراد فرشتے ہیں، تو فرشتے تو ایک غیرمرئی مخلوق ہیں جنھیں محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ تو وہ مقسم علیہ پر دلیل کیسے ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ بات قلت فکر کا نتیجہ ہے۔ فرشتے اگرچہ دکھائی نہیں دیتے لیکن ان کا وجود جانا پہچانا اور تسلیم شدہ ہے۔ عرب بھی ان کے وجود کو تسلیم کرتے تھے۔ بلکہ یہاں ان کے لیے جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے انھیں ان سے بھی انکار نہ تھا۔ یہ البتہ ان کی گمراہی تھی کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ قرآن کریم نے بار بار اس کی تردید کی اور ان کی اصل حیثیت کو واضح کیا۔ قیامت یا عذاب خداوندی کو عرب تسلیم کرنے سے انکاری تھے، بلکہ وہ اسے محض ایک ڈراوا سمجھتے تھے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس کا ایسی ہستیوں کی قسم کھا کر یقین دلانا یقینا ایک معروف چیز سے غیرمعروف چیز کا یقین دلانا ہے۔ اور ایک یقینی چیز سے غیریقینی کو یقینی ثابت کرنا ہے۔ اس لحاظ سے ان آیات سے فرشتوں کو مراد لینا اور ان کا وقوع قیامت اور حیات بعدالموت پر بطور دلیل کے پیش کرنا یقینا خطابی اسلوب کے عین مطابق ہے۔ رہی یہ بات کہ فرشتوں کے ذکر سے وقوع قیامت اور حیات بعدالموت کا اثبات کس طرح ہوتا ہے، وہ اس طرح کہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس پروردگار کے حکم سے فرشتے تمہاری جان نکالتے ہیں تو کیا اسی کے حکم سے دوبارہ جان ڈال نہیں سکتے۔ اسی طرح جس پروردگار کے حکم سے وہ کائنات کا انتظام چلا رہے ہیں تو کیا اسی کے حکم سے کائنات کو درہم برہم نہیں کرسکتے۔ اور اسی کے ارشاد پر ایک دوسری دنیا بسا نہیں سکتے جبکہ وہ اس کے حکم کی تعمیل میں ذرہ برابر سستی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ حاصل کلام یہ کہ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت فرشتے آتے ہیں وہ نہایت سختی سے کافروں کی جان نکالتے ہیں اور نہایت نرمی سے مومن کی روح قبض کرتے ہیں۔ اور پھر وہ ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں اور نیکوں کی روحوں کو اچھے ٹھکانوں میں اور بروں کی روحوں کو برے ٹھکانوں میں پہنچاتے ہیں۔ اور پھر نہایت تندہی سے ان روحوں کے ثواب یا عذاب اور تکلیف یا راحت کے انتظامات کردیتے ہیں۔ لیکن یہ عذاب وثواب کا تعلق قبر یعنی برزخ سے ہوگا۔ حشر کا عذاب یا ثواب اس کے بعد ہوگا۔ احادیث میں قبر کے عذاب کا ذکر مختلف مواقع پر نہایت تفصیل سے آیا ہے۔ لیکن اس عذاب کا تعلق چونکہ روح سے ہے اور روح کے معاملات کو سمجھنا آسان نہیں۔ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیرِمظہری میں اس کی تفصیل لکھی ہے ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں : نفسِ انسانی ایک جسمِ لطیف ہے جو اس کے جسمِ کثیف کے اندر سمایا ہوا ہے اور وہ انھیں مادی عناصر اربعہ سے بنا ہے۔ فلاسفہ اور اطباء اس کو روح کہتے ہیں مگر درحقیقت روح انسانی ایک جوہر مجرد اور لطیفہ ربانی ہے جو اس طبعی روح یعنی نفس کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے اور روح یعنی نفس کی حیات خود اس لطیفہ ربانی پر موقوف ہے گویا اس کو روح الروح کہہ سکتے ہیں کہ جسم کی زندگی نفس سے ہے اور نفس کی زندگی اس روح سے وابستہ ہے۔ اس روح مجرد اور لطیفہ ربانی کا تعلق اسی جسمِ لطیف یعنی نفس کے ساتھ کیا اور کس طرح کا ہے اس کی حقیقت کا علم ان کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کو نہیں، اور یہ جسمِ لطیف جس کا نام نفس ہے اس کو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک آئینہ کی مثال بنایا ہے جو آفتاب کے بالمقابل رکھ دیا گیا ہو تو آفتاب کی روشنی اس میں ایسی آجاتی ہے کہ یہ خود آفتاب کی روح روشنی پھیلاتا ہے۔ نفس انسانی اگر تعلیمِ وحی کے مطابق ریاضت و محنت کرلیتا ہے تو وہ بھی منور ہوجاتا ہے ورنہ وہ جسمِ کثیف کے خراب اثرات میں ملوث ہوتا ہے، یہی جسمِ لطیف ہے جس کو فرشتے اوپر لے جاتے ہیں اور پھر اعزاز کے ساتھ نیچے لاتے ہیں جبکہ وہ منور ہوچکا ہو، ورنہ آسمان کے دروازے اس کے لیے نہیں کھلتے، اوپر ہی سے نیچے پٹخ دیا جاتا ہے۔ یہی جسمِ لطیف ہے جس کے بارے میں حدیث مذکور میں ہے کہ ہم نے اس کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا، پھر اس میں لوٹائیں گے پھر اسی سے دوبارہ پیدا کریں گے، یہی جسمِ لطیف اعمالِ صالحہ سے منور اور خوشبودار بن جاتا ہے اور کفروشرک سے بدبودار ہوجاتا ہے۔ باقی روح مجرد اس کا تعلق جسمِ کثیف کے ساتھ بواسطہ جسمِ لطیف یعنی نفس کے ہوتا ہے اس پر موت طاری نہیں ہوتی، قبر کا عذاب وثواب بھی اسی جسمِ لطیف یعنی نفس سے وابستہ ہے اور اس نفس کا تعلق قبر سے ہی رہتا ہے اور روح مجرد علیین میں ہوتی ہے۔ اور روح مجرد اس کے ثواب و عذاب سے بالواسطہ متأثر ہوتی ہے، اس طرح روح کا قبر میں ہونا بمعنی نفس کے صحیح ہے اور اس کا عالم ارواح یا علیین میں رہنا بمعنی روح مجرد صحیح ہے اس سے ان روایات مختلفہ کی تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔
Ayahs 79:6–7

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

اس دن سے ڈرو جس دن ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اور اس کے پیچھے آئے گا ایک اور جھٹکا

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ ۔ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ ۔ (النازعات : 6، 7) (اس دن سے ڈرو جس دن ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا۔ اور اس کے پیچھے آئے گا ایک اور جھٹکا۔ ) وقوعِ قیامت کی تصویر اس میں وقوع قیامت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ پہلے جھٹکے سے مراد نفخہ اولیٰہے جو زمین اور اس کی ہر چیز کو تباہ کردے گا۔ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اور دوسرے جھٹکے سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ یعنی جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو سب اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور میدانِ حشر کی طرف چل پڑیں گے۔
Ayahs 79:8–9

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَۃٌ۔ اَبْصَارُھَا خَاشِعَۃٌ۔ (النازعات : 8، 9) (کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے۔ نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی۔ ) قلوب پر قیامت کا اثر آج جس قیامت کے ذکر سے قریش اور دیگر اہل مکہ خوفزدہ اور فکرمند ہونے کی بجائے محظوظ ہوتے اور اسے مذاق بنا لیتے ہیں۔ کوئی اس کے بارے میں کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ کہتا ہے۔ لیکن جب یہ قیامت کے بپا ہوجانے کے بعد میدانِ حشر میں کھڑے ہوں گے تو ان پر ایک ہول طاری ہوگا، چہروں پر وحشت چھائی ہوئی ہوگی، دل کانپ رہے ہوں گے اور آنکھیں جھکی ہوئی سراسیمہ اور سہمی ہوئی ہوں گی، کوئی لفظ منہ سے نہ نکل سکے گا اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہ ہوگا۔ لیکن جن مسلمانوں کا دنیا میں یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں سورة انبیاء آیت 103 کی شہادت کے مطابق وہ اس انتہائی گھبراہٹ میں بھی ذرا پریشان نہیں ہوں گے اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ اَبْصَارُھَا … اس میں ضمیر مونث کا مرجع کیا ہے ؟ اس کے بارے میں خلجان ہے۔ کیونکہ ذکر ان لوگوں کا کیا جارہا ہے جو قیامت کے وقوع کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے تھے اور اس کی طرف سے بالکل بےفکر تھے۔ قیامت کے دن ان پر جو کچھ گزرے گی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ دل ان کے کانپ رہے ہوں گے اور آنکھیں ان کی جھکی ہوئی ہوں گی۔ اس لحاظ سے یہاں ضمیر مونث کی بجائے ضمیر مذکر ہونی چاہیے۔ بعض اہل علم نے ان انکار کرنے والوں کو جمع تصور کرتے ہوئے ضمیر مونث کا جواز پیدا کیا ہے اور اس میں بھی کوئی غلط بات نہیں ہے۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ ضمیر کا مرجع قلوب ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ آدمی کے اندر دل ہی وہ چیز ہے جس سے اس کی شخصیت عبارت ہے۔ اور آنکھ وہ چیز ہے جس کے آئینہ میں اس کے دل کی مخفی کیفیت بھی جھلکتی ہے۔ دل کے ساتھ آنکھوں کے اس تعلق کے سبب سے ان کی اضافت دل کی طرف کردی گئی ہے۔
Ayahs 79:10–12

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

یہ لوگ پوچھتے ہیں کیا ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت کی طرف

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں اس صورت میں واپسی میں بڑے خسارہ کی ہوگی

یَقُوْلُوْنَ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ ۔ ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً ۔ قَالُوْا تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۔ (النازعات : 10 تا 12) (یہ لوگ پوچھتے ہیں کیا ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت کی طرف۔ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ کہتے ہیں اس صورت میں واپسی بڑے خسارہ کی ہوگی۔ ) الْحَافِرَۃِ کے اصل معنی نقش قدم کے ہیں، لیکن محاورے میں اگر کہیں کہ فُلاَنٌ رَجَعَ عَلیٰ حَافِرَتِہِ اَوْفِیْ حَافِرَتِہِ تو اس کے معنی ہوں گے کہ فلاں شخص جس حال میں تھا اس سے نکل کر پھر الٹے پائوں اسی میں واپس آگیا۔ کفار کے استہزاء کی تصویر نبی کریم ﷺ جب انھیں قرآن کریم پڑھ کر قیامت کی تفصیلات کے آگاہ کرتے اور نہایت یقینی انداز میں ان پر یہ بات واضح کرتے کہ تمہیں ایک دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور میدانِ حشر میں تمہیں حساب کتاب کے لیے لے جایا جائے گا جہاں تمہاری پوری زندگی کا حساب ہوگا۔ وہ ازراہِ تمسخر ایک دوسرے سے کہتے کہ لیجیے ایک نئی بات سنئے کہ ہم مرنے کے بعد ایک نہ ایک دن پھر اسی حالت میں لوٹائے جائیں گے، یعنی ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا۔ اور اس مذاق کو آگے بڑھاتے ہوئے کوئی دوسرے صاحب گرہ لگاتے کہ صرف اتنی سی بات نہیں بلکہ ہمیں اس حالت میں دوبارہ زندہ کیا جائے گا جب ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہو کر خاک میں مل چکی ہوں گی۔ تو کیا ایسی صورت میں بھی کسی کا زندہ کیا جانا ممکن ہے۔ اس طرح سے وہ ان حقائق کو بعیدازعقل قرار دے کر اس پر خوب ہنستے اور مذاق اڑاتے۔ اور پھر یہ سارے مسخرے بظاہر سنجیدہ شکلیں بنا کر یہ کہتے کہ اگر یہی بات ہونے والی ہے جو ہمیں کہی جارہی ہے تو پھر تو ہم مارے گئے، یہ تو نہایت خسارے کی بات ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے اندر فکرمندی کی کوئی لہر اٹھتی ہے کہ اگر واقعی قیامت ایک حقیقت ثابت ہوگئی اور ہم نے تو اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تو پھر ہمارا کیا بنے گا، ہم تو پھر پکڑے جائیں گے۔ نہیں، ان کا مقصد صرف مختلف پیرایوں سے ان باتوں کو خارج از عقل قرار دینا اور لوگوں کے سامنے ناقابلِ قبول بنانا ہوتا۔ اور بعض دفعہ دوسروں کو سمجھانے کے لیے وہ فلسفہ بھی بگھارتے کہ بھائیو ! تم کسی غلط فہمی میں نہ پڑجانا، جس قیامت سے ہمیں ڈرایا جارہا ہے اس کے برپا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اربوں کھربوں مخلوق پیدا ہوچکی اور ابھی نہ جانے کتنی اور پیدا ہوگی اور ان سب کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر خاک میں مل چکی ہوں گی تو آخر اس مٹی کو دوبارہ نئی زندگی کیسے دی جاسکے گی۔ اور انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو کیسے ازسرنو زندہ کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا :
Ayahs 79:13–14

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے

فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ فَاِذَا ھُمْ بِالسَّاھِرَۃِ ۔ (النازعات : 13، 14) (وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔ اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے۔ ) یہ لوگ جتنے چاہیں الفاظ کے طوطے مینا اڑا لیں اور جتنی چاہیں سخن سازیاں کرلیں۔ لیکن کوئی حقیقت پھبتیوں اور فقرہ بندیوں کے طومار سے نہیں رکتی۔ قیامت تو ایک بہت بڑی حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کا بہت بڑا فیصلہ ہے۔ اسے تو بہرحال برپا ہونا ہے اور اسے برپا کرنے والی ذات بےپناہ قدرتوں کی مالک ہے۔ جب اسے منظور ہوگا تو اس کے وقوع کے لیے صرف ایک ڈانٹ کافی ہوگی۔ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ یعنی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) جب دوسری دفعہ صور پھونکیں گے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ ڈانٹ ہے جس کے نتیجے میں ہر طرف سے لوگ قبروں سے نکل کر اور بکھری ہوئی خاک سے متشکل ہو کر میدانِ حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ کوئی شخص خاک کی صورت اختیار کرچکا تھا یا راکھ کی۔ کسی کو سمندر نگل چکا تھا، کسی کو کسی درندے نے کھالیا تھا، لیکن یہ سب بھی نفخہ ثانیہ کے بعد ہر طرف سے میدانِ حشر کی طرف ہجوم کر آئیں گے۔ سورة زمر میں اس کی وضاحت اس طرح فرمائی گئی ہے : ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمْ قِیَامُ یَّنْظُرُوْنَ ” پھر اس صور میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو وہ اچانک اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔ “ سَاہِرَۃٌ … ہموار زمین اور کھلے میدان کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے میدانِ حشر مراد ہے۔
Ayahs 79:15–16

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا آپ کو موسیٰ کی سرگزشت پہنچی ہے

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب اس کے رب نے اسے وادی مقدس۔ طویٰ ۔ میں پکارا

ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی۔ اِذْنَادٰہُ رَبُّـہٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی۔ (النازعات : 15، 16) (کیا آپ کو موسیٰ کی سرگزشت پہنچی ہے۔ جب اس کے رب نے اسے وادی مقدس طویٰ میں پکارا۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت سے استشہاد کفارِ مکہ قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ماننے سے بھی انکاری تھے۔ بلکہ ان کے انکارِآخرت میں شدت ہی اس لیے پیدا ہوئی تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نبوت اور رسول کی حیثیت سے آپ کی کسی خبر کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے انھیں دو باتیں ارشاد فرمائی جارہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تمہیں وقوع قیامت بعیدازعقل معلوم ہوتا ہے اور تمہارے خیال میں اتنا بڑا حادثہ وقوع پذیر نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے بپا کرنے میں کوئی دشواری نہیں بلکہ اس کا بپا ہوجانا محض اس کی ایک ڈانٹ کا نتیجہ ہوگا۔ اور دنیا میں تم اگر اس ڈانٹ کا کوئی چھوٹا سا نتیجہ دیکھنا چاہو تو وہ فرعون کا انجام ہے جو بحرقلزم میں ڈوبنے کے نتیجے میں ہوا۔ وہ اپنے آپ کو ارض مصر کا مالک سمجھتا تھا بلکہ اپنے آپ کو سب سے بڑا رب قرار دیتا تھا۔ لیکن بحرقلزم کی موجوں کی شکل میں محض ایک ڈانٹ سے لقمہ اجل ہوگیا۔ اور دوسری بات یہ فرمائی جارہی ہے کہ تم آنحضرت ﷺ کی نبوت کے انکار کو معمولی بات سمجھ رہے ہو، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی آنحضرت ﷺ کی طرح فرعون اور آل فرعون کی طرف رسول بن کر آئے تھے۔ لیکن جب اس نے مسلسل تکذیب کی اور اس پر اڑ گیا تو اس کا انجام کیا ہوا، تم اس سے واقف ہو۔ اس لیے آخرت کا انکار کرتے ہوئے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کو مذاق میں اڑاتے ہوئے اپنے انجام کو نہ بھولنا۔ چناچہ اسی حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ پیش کیا جارہا ہے اور اس کا آغاز اس طرح کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے اہل خانہ کے لیے آگ کی تلاش میں اس وادی مقدس میں پہنچے تھے جس کا نام طویٰ یعنی طور ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک عظیم منصب کے لیے منتخب فرما لیا۔ ایسے ہی آنحضرت ﷺ کو بھی تمہاری ہدایت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
Ayahs 79:17–19

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ تم فرعون کے پاس جائو وہ سرکش ہوگیا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور اس سے کہو کیا تم میں کچھ اپنے کو سدھارنے کا جذبہ ہے ؟

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

کیا میں تمہیں تمہارے رب کی راہ دکھائوں کہ تم اس سے ڈرنے لگو

اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰی۔ فَقُلْ ھَلْ لَّـکَ اِلٰٓی اَنْ تَزَکّٰی۔ وَاَھْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی۔ (النازعات : 17 تا 19) (کہ تم فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اور اس سے کہو کیا تم میں کچھ اپنے کو سدھارنے کا جذبہ ہے ؟ کیا میں تمہیں تمہارے رب کی راہ دکھائوں کہ تم اس سے ڈرنے لگو۔ ) فرعون کی سرکشی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمدردانہ دعوت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت جو حکم دیا گیا یہ اس کا بیان ہے۔ وہ حکم یہ تھا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ فرعون کی سرکشی کے دو پہلو تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تھا۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنے آپ کو ربِ اعلیٰ قرار دیتا تھا۔ اور اپنی ذات سے لے کر اپنی ریاست کے معاملات تک اور اپنی عدالتوں سے لے کر اپنی حکومت کے طوراطوار تک وہ اپنے آپ کو سب سے برتر اور سب سے اعلیٰ سمجھتا تھا۔ اس کا گمان یہ تھا کہ اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون ہے۔ اور اس کی ذات اہل مصر کا مرجع اور معبد ہے۔ اور اس کی مرضی اور خواہش ہر ایک کے لیے واجب الاتباع ہے۔ اور اس کے احکام ہر سطح پر غیرمشروط طور پر واجب الاطاعت ہیں۔ اور اس کی سرکشی کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس نے اپنی مملکت کے باشندوں کو مختلف گروہوں اور طبقوں میں بانٹ دیا تھا۔ ایک طبقے کو غیرمعمولی مراعات دے کر مراعات یافتہ طبقہ قرار دے دیا تھا۔ ان کے خاص قسم کے حقوق تھے۔ انھیں دوسروں کے مقابلے میں آج کی طرحوی آئی پی یاوی وی آئی پی سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے ارکانِ اسمبلی کی طرح اس کے اراکینِ سلطنت کے کچھ استحقاقات تھے جن کے مجروح ہونے کا اندیشہ لگا رہتا تھا۔ اور دوسرا طبقہ عام لوگوں اور غرباء پر مشتمل تھا۔ ان طبقوں پر بری طرح ظلم ڈھایا جاتا تھا۔ بالخصوص بنی اسرائیل ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچار تھے۔ یہ اس کی سرکشی کے دو پہلو تھے جن کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک اور بات اس آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت صرف بنی اسرائیل کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے نہیں تھی بلکہ فرعون، آل فرعون اور اہل مصر کو بھی ہدایت دینا مقصود تھا۔ اور اس مقصود کی حیثیت سب سے پہلے تھی۔ اسی وجہ سے دوسرے مقصود سے پہلے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ فرعون سے پوچھو کہ تم دوسروں پر صرف حکم چلانا ہی جانتے ہو یا تمہارے اندر اپنی اصلاح اور اپنے تزکیے کا بھی کوئی جذبہ پایا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو میں اس سلسلے میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ اس فقرے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ایک تو ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کس درجہ ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبے سے فرعون سے بات کررہے ہیں کہ مقصود تیری حکومت چھیننا نہیں اور نہ تیرے ملک پر قبضہ کرنا ہے بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم نے اپنے اندر جو غلط خیالات پیدا کرلیے ہیں اور ان سے پورا ملک متأثر ہورہا ہے اگر تم سب سے پہلے اپنی شخصیت کو سنوارنے کی خواہش کرو تاکہ پورا ملک اس کے نتیجے میں سنور جائے تو میں تمہاری اس سلسلے میں مدد کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں اس لب و لہجے میں جہاں ہمدردی اور خیرخواہی نظر آتی ہے وہیں عظمت و جلالت بھی دکھائی دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے سفیر کے کلام میں ہونی چاہیے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا اولین کام لوگوں کی تعلیم اور تزکیہ قلوب ہوتا ہے۔ یعنی دلوں میں خودسری، انانیت، حفظِ ذات، تحقیرِغیر اور ظلم و جور کے جو جذبات پیدا ہوجاتے ہیں ان کی اصلاح سب سے پہلا فرض ہوتا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جب رسول بنا کے بھیجا گیا ہے تو آپ کے اہداف میں بھی تزکیہ نفوس کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ جو فرمایا کہ تم اگر چاہو تو میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی رہنمائی کرسکتا ہوں تو رہنمائی کا ہدف بھی مقرر کردیا۔ وہ یہ کہ تمہاری خرابی اور گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو رب سمجھتے ہو اور تم پر اپنی خدائی کا بھوت سوار ہے۔ اس لیے کسی کی بات سننا تمہیں گوارا نہیں۔ میں تمہیں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس جہان کا رب کوئی اور ہے تم نہیں، اسی سے سب کو ڈرنا چاہیے۔ لیکن یہ خشیت اور ڈر اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل ہو۔ اور تم خدائی کے پندار سے نکل کر اسے اپنا اور سارے جہان کا رب سمجھو۔ جب تک یہ خشیت اور معرفت پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک کسی کی زندگی میں بھی انقلاب برپا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 79:20

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے فرعون کو بڑی نشانی دکھائی

فَاَرٰہُ الْاٰیَۃَ الْـکُبْرٰی۔ (النازعات : 20) (پھر موسیٰ نے فرعون کو بڑی نشانی دکھائی۔ ) سندِ ماموریت کے طور پر عظیم معجزہ کا اظہار سابقہ حکم کے تحت حضرت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے جا کر اس کائنات کے اصل رب کی طرف دعوت دی اور اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ہم اس کے بھیجے ہوئے رسول یعنی اس کے سفیر ہیں۔ اور ہم تمہارے پاس اس کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ تو اس نے ایک حکمران کی حیثیت سے پوچھا کہ تمہارے سفیر ہونے کی دلیل اور سند تمہارے پاس کیا ہے۔ تو آپ نے ان کو سندماموریت کے طور پر وہ سب سے بڑی نشانی دکھائی جسے عصائے موسیٰ کہا جاتا ہے۔ اس کو بڑی نشانی اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کے علاوہ جتنے معجزات دیئے گئے ہیں وہ عام طور پر اسی کے ذریعے ظاہر ہوئے ہیں۔ اور مزید یہ بات کہ یہی وہ معجزہ تھا جس نے ہر موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور اللہ تعالیٰ کی الوہیت کو سربلند اور غالب کیا۔
Ayahs 79:21–22

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر پلٹا تاکہ (ان کے اثرات کو روکنے کے لیے) کوششیں تیز کردے

فَکَذَّبَ وَعَصٰی۔ ثُمَّ اَدْبَرَیَسْعٰی۔ (النازعات : 21، 22) (تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ پھر پلٹا تاکہ (ان کے اثرات کو روکنے کے لیے) کوششیں تیز کردے۔ ) فرعون کا رویہ اتنے بڑے معجزے کو دیکھنے کے بعد بھی فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول ماننے سے انکار کردیا۔ آپ کو اور آپ کے بھائی کو بھی ساحر اور مفتری قرار دیا اور ان کی تکذیب کردی۔ اور آپ جس بات کی طرف دعوت دے رہے تھے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ اور پھر اس انکار پر خاموش ہو کر نہیں رہ گیا بلکہ اس نے محسوس کیا کہ ان دونوں بھائیوں کی دعوت اپنے اندر بےپناہ اثرات رکھتی ہے اور جس معجزے کا انھوں نے اظہار کیا ہے اگر اس کا تدارک جادو کے زور سے نہ کیا گیا تو لوگ ان سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔ چناچہ وہ فوراً اپنے مشیروں کی طرف پلٹا، انھیں اونچ نیچ سمجھا کر مشورہ طلب کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ دونوں بہت بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں، عام جادوگروں سے ان کا مقابلہ کرنا شکست اور جگ ہنسائی کا سبب ہوسکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مملکت کے تمام اطراف کے ماہر جادوگروں کو دعوت دی جائے اور ایک کھلے میدان میں ان کا مقابلہ کرایا جائے۔ چناچہ تمام اطرافِ ریاست سے جادوگروں کو جمع کیا گیا اور ایک کھلے میدان میں مجمعِ عام کے سامنے ساحرانِ مصر اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کا مقابلہ ہوا۔ اور جادوگروں کو اس مقابلے میں نہ صرف کہ شکست ہوئی بلکہ جادوگروں نے ایمان لا کر فرعون کی شکست پر مہرتصدیق ثبت کردی۔
Ayahs 79:23–24

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

پس لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

پس اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں

فَحَشَرَ فَنَادٰی۔ فَقَالَ اَنَا رَبُّـکُمُ الْاَعْلٰی۔ (النازعات : 23، 24) (پس لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا۔ پس اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ ) جمع کی ایک صورت تو وہ ہے جس کا ہم نے اس سے پہلے ذکر کیا کہ تمام ملک کے جادوگروں کو ایک کھلے میدان میں جمع کرکے مجمعِ عام کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کرایا گیا۔ اور مقابلے سے پہلے اس نے لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ تو آخر یہ دونوں بھائی کس کے سفیر بن کے آئے ہیں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ جب اس کھلے مقابلے میں ساحرانِ مصر نے شکست کھائی تو فرعون نے محسوس کیا کہ موسیٰ اور ہارون کے اثرات کو روکنا اب بہت مشکل ہوگیا ہے اور اس کے اثرات بنی اسرائیل پر ہی نہیں بلکہ قبطیوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ تو اس نے گھبرا کر قوم کے تمام ذمہ دار افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر بحال کرنے کے لیے جو تقریر کی یہ شاید اسی کی طرف اجمالی اشارہ ہے۔ سورة زخرف میں اس کی تفصیل ذکر فرمائی گئی ہے۔ وَنَادٰیٰ فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ قَالَ یٰـقُوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْـکَ مِصْرَوَھٰذِہِ الْاَنْھٰـرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ج اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ اَمْ اَنَا خَیْرٌمِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَمَھِیْنٌ 5 لا وَّ لاَ یَکَادُیُبِیْنْ ۔ فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ اَوْجَـآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۔ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا نٰسِقِیْنَ ۔ فَلَمَّـآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَاَعْرَقْنٰـھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اور فرعون نے اپنی قوم میں پکارا کہ کیا مصر کی بادشاہی اور یہ نہریں جو میرے نیچے جاری ہیں، میرے لیے نہیں ہیں ؟ کیا تم لوگ دیکھ نہیں رہے ہو ؟ تو یہ بہتر ہوا یا میں اس سے بہتر ہوں جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات کھل کر کہہ بھی نہیں سکتا ؟ (اگر یہ خدا کا رسول ہے) تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس پر سونے کے کنگن اتارے جاتے یا اس کے ساتھ فرشتے پرے باندھ کر آتے ؟ ان باتوں سے اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنا لیا اور وہ تھے ہی نافرمان لوگ۔ تو جب انھوں نے ہم کو غصہ دلا دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا پس ان سب کو غرق کردیا۔ ان دونوں صورتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ پیغمبر کی دعوت کے اثرات ایسے سطحی نہیں ہوتے کہ ایک آدھ کوشش سے زائل کردیئے جائیں۔ یقینا مختلف اجتماعات ہوئے ہوں گے۔ اور فرعون نے ایک سیاسی شاطر کے طور پر مختلف خطابات میں مختلف باتیں کہی ہوں گی۔ کسی خطاب میں اپنے ربِ اعلیٰ ہونے پر زور دیا ہوگا اور کہیں اپنی دولت و ثروت اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بےسروسامانی پر۔ پیش نظر آیت میں اپنی ربوبیت پر زور ہے۔ ضروری ہے کہ اس کا مفہوم واضح کردیا جائے۔ صاحب تفہیم القرآن نے اس پر ایک مختصر سا نوٹ لکھا ہے ہم یہاں اسے نقل کررہے ہیں۔ فرعون کے ربِ اعلیٰ ہونے کا مفہوم فرعون کا یہ دعویٰ کئی مقامات پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک موقع پر اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ” اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا۔ “ (الشعراء، آیت 29) ایک اور موقع پر اس نے اپنے دربار میں لوگوں کو خطاب کرکے کہا ” اے سردارانِ قوم ! میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور خدا بھی ہے۔ “ (القصص، آیت 38) ان ساری باتوں سے فرعون کا یہ مطلب نہ تھا، اور نہیں ہوسکتا تھا کہ وہی کائنات کا خالق ہے اور اسی نے یہ دنیا پیدا کی ہے۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر اور خود رب العالمین ہونے کا مدعی تھا۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو مذہبی معنوں میں لوگوں کا معبود قرار دیتا تھا۔ قرآن مجید ہی میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے وہ خود دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا تھا۔ چناچہ اس کے اہل دربار ایک موقع پر اس کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ ” کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یہ آزادی دیتے چلے جائیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ “ (الاعراف، آیت 127) اور قرآن میں فرعون کا یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے کہ اگر موسیٰ خدا کا بھیجا ہوا ہوتا تو کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ؟ یا اس کے ساتھ ملائکہ اس کی اردلی میں کیوں نہ آئے ؟ (الزخرف، آیت 53) پس درحقیقت وہ مذہبی معنی میں نہیں بلکہ سیاسی معنی میں اپنے آپ کو اِلٰہ اور ربِ اعلیٰ کہتا تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اقتدارِاعلیٰ کا مالک میں ہوں، میرے سوا کسی کو میری مملکت میں حکم چلانے کا حق نہیں ہے، اور میرے اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں ہے جس کا فرمان یہاں جاری ہوسکتا ہو۔
Ayah 79:25

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

پس اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑا

فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی۔ (النازعات : 25) (پس اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑا۔ ) عبرت انگیز گرفت فرعون نے جب دو پیغمبروں کی دلآویز شخصیات، اللہ تعالیٰ کے پیغام کے جلال اور بیسیوں معجزات دیکھ لینے کے بعد بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو ماننے سے انکار کردیا اور ساتھ ساتھ بنی اسرائیل پر ظلم کے شکنجے کو مزید کستا چلا گیا تو آخر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس کو دنیا اور آخرت کے عذاب میں پکڑ لیا۔ دنیا کا عذاب تو وہ ہے جو بحرقلزم میں ڈبو کردیا گیا۔ وہ چیختا رہا کہ اب میں بنی اسرائیل کے رب کو ماننے کے لیے تیار ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس کے ایمان کو قبول نہ کیا اور بحرقلزم کی موجوں نے اس کو نہ جانے کتنی دفعہ پٹخا، ڈبویا، نکالا اور آخر کام تمام کردیا۔ اور دوسرا عذاب وہ ہے جو اسے قیامت کے دن ہوگا۔ جس کی شدت کا عالم یہ ہے کہ ہر روز عالم برزخ میں بھی اسے وہ عذاب دکھایا جاتا ہے۔
Ayah 79:26

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک اس میں سبق ہے اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی۔ (النازعات : 26) (بیشک اس میں سبق ہے اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہے۔ ) یہ ہے وہ اصل بات جو فرعون کی سرگزشت سے قریش کو سنانی مقصود ہے۔ یہ اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر فرعون بنے ظلم و ستم کو جاری رکھے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی کسی بات کو مان کردینے کے لیے تیار نہیں۔ اور ان کی معمولی دولت و ثروت کا نشہ روزبروز ان کے پندار میں اضافہ کررہا ہے۔ اور ان کی اذیت رسانیوں کا سلسلہ کسی جگہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ انھیں اس واقعہ کو غور سے دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں وہ اپنا انجام دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس سے سبق حاصل کرنے کے لیے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ضروری ہے۔ جب تک ان کے دلوں میں یہ تصور جاگزیں نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اس کی بغاوت و نافرمانی کیسے نتائج پیدا کرسکتی ہے اور اس پر کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت آسکتی ہے اس وقت تک کوئی بڑے سے بڑا واقعہ بھی انھیں سبق دینے سے قاصر رہے گا۔
Ayahs 79:27–29

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی، اللہ نے اس کو بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی چھت اونچی اٹھائی، پھر اس کو ٹھیک ٹھاک کیا

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا

ئَ اَنْـتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآئُ بَنٰـھَا۔ رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا۔ وَاَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا۔ (النازعات : 27 ۃ ا 29) (کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی، اللہ نے اس کو بنایا۔ اس کی چھت اونچی اٹھائی، پھر اس کو ٹھیک ٹھاک کیا۔ اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا۔ ) مظاہرقدرت سے قیامت پر استدلال پیشِ نظر تین آیتیں اور اس کے بعد چار آیتیں دو باتوں پر دلالت کر رہی ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اور دوسرے اس کے فیضانِ ربوبیت پر۔ قدرت کا اظہار اس طرح فرمایا گیا ہے کہ سب سے پہلے آسمان کی تخلیق کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ نیلگوں چھت اور گنبدبے در جو ہمارے سروں پر چھایا ہوا ہے جس میں بیشمار ستارے اور سیارے ہیں، حیران کن شمسی نظام ہے، ان گنت کہکشائیں ہیں، حیران کردینے والی نظم و ترتیب ہے۔ یہ ایک ایسی حیرت انگیز تخلیق ہے کہ انسان اپنے تمام تر علمی کمالات کے باوجود اس کے اور چھور کا اندازہ نہیں کرسکتا۔ اس کی وسعتوں کو ناپ نہیں سکتا۔ اس کے ستاروں اور سیاروں کو شمار نہیں کرسکتا۔ اس کی کہکشائوں کو پوری طرح دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس کی وسعتیں انسانی علم کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو پروردگار اتنے عظیم عالم بالا کو تخلیق کرسکتا ہے اس کے لیے تمہیں مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیسے دشوار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اس کا خوان ربوبیت پوری کائنات میں پھیلا ہوا ہے۔ انسان ہی نہیں تمام مخلوقات اس کے فیضان سے حصہ پا رہی ہیں۔ وہ ہر مخلوق کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتا ہے۔ جو مخلوق زمین پر بستی ہے، جو پانی میں رہتی ہے، جو پہاڑوں اور اس کے پتھروں کے نیچے پوشیدہ ہے اور وہ مخلوق جس کو ہماری نگاہیں دیکھ نہیں سکتیں وہ سب کو جانتا اور سب کی ضرورتوں سے واقف ہے۔ ہر مخلوق کو اس کی حیثیت کے مطابق روزی پہنچ رہی ہے۔ اور انسان کو بالخصوص بیشمار نعمتوں سے نوازا گیا ہے۔ اسے حواس کے ساتھ ساتھ عقل کا چراغ، تجسس کی دولت، ندرتِ ایجاد اور قوت تسکین سے بہرہ ور کیا گیا۔ تو کیا یہ اس کی ربوبیت کا فیضان اس لیے ہے کہ وہ اس سے فیض پانے والوں کو بغیر کسی مقصد کے چھوڑ دے۔ یا اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان پر مسؤلیت عاید کرے اور ایک دن ان کو اکٹھا کرکے پوچھے کہ کس نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور کس نے ناشکری کی۔ اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزاء یا سزا دے۔ ظاہر ہے اس کی ربوبیت کا فیضان اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔ اور عقل اور انصاف کا فیصلہ بھی اسی بات کے حق میں ہے۔ مختصر یہ کہ جو ذات اس قدر عظیم قدرتوں کی مالک ہے اور جس کا ہر کام اپنے اندر حکمت رکھتا ہے اس کے بارے میں یہ سمجھنا کہ وہ دوبارہ انسان کو زندہ نہیں کرسکتا یا وہ انسان کے اعمال کی جزاء و سزا کے لیے قیامت نہیں لائے گا، سراسر جہالت اور بےعلمی کی دلیل ہے۔ چناچہ سب سے پہلے آسمان کی تخلیق اور اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت کے بعض پہلوئوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ سمک کے معنی چھت کے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا اور پھر اس کی چھت بلند کی۔ اور پھر اس کو اس طرح ہموار کیا کہ اگر انسان آج اسے نہایت غورواحتیاط سے بار بار بھی دیکھے تو کہیں بھی کسی خلل کی نشاندہی نہیں کرسکے گا۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو پیدا فرمایا تو اس کے اندر رات ہی رات تھی۔ کیونکہ وہ دھویں کی شکل میں تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی رات ڈھانک دی۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا ہے کیونکہ آسمان کا سورج غروب ہونے سے رات آتی ہے اور اسی کے طلوع ہونے سے دن نکلتا ہے۔ اور دونوں یعنی دن اور رات کو اس طرح ایک نظام کا پابند ٹھہرایا ہے کہ کبھی کوئی ان دونوں میں سے تخلف کرتا اور نہ پیشقدمی کرتا ہے۔ تو جو پروردگار اس جہان پر رات طاری کردینے پر قادر ہے اور رات طاری ہوجانے کے بعد دن لانے پر قدرت رکھتا ہے تو کیا اس کے لیے دنیا کے مر کھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنا، ناممکن ہوگا۔
Ayahs 79:30–33

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور اس کے بعد زمین کو بچھایا

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اس زمین سے پانی نکالا اور چارہ نکالا

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

سامان تمہارے لیے اور تمہارے چارپایوں کے لیے

وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا۔ اَخْرَجَ مِنْھَا مَـآئَ ھَا وَمَرْعٰھَا۔ وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا۔ مَتَاعًا لَّـکُمْ وَ لِاَنْعَامِکُمْ ۔ (النازعات : 30 تا 33) (اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس زمین سے پانی نکالا اور چارہ نکالا۔ اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں۔ سامان تمہارے لیے اور تمہارے چارپایوں کے لیے۔ ) فیضانِ ربوبیت سے قیامت پر استدلال اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مظاہر ذکر فرمانے کے بعد اب اپنے فیضانِ ربوبیت کا ذکر فرما رہا ہے۔ مظاہرقدرت سے کائنات کو بالعموم اور انسان کو بالخصوص ازسرنو زندہ کرنے پر استدلال کیا گیا ہے یعنی جس پروردگار کی قدرت کے یہ مظاہر ہیں جنھیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اس کے بارے میں اس گمان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ کائنات اور انسان کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔ اب اپنے فیضانِ ربوبیت کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے زمین کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس کے بعد ہم نے زمین کو بچھایا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پہلے آسمان کو بنایا اور عالم بالا کو مختلف تخلیقات سے سجایا، اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ کیونکہ بعض جگہ قرآن کریم نے آسمان سے پہلے زمین کو پیدا کرنے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ لیکن اس میں کوئی تعارض نہیں۔ کیونکہ یہاں تخلیقی اعمال میں ترتیب کا ذکر مقصود نہیں، بلکہ بتانا صرف یہ ہے کہ جس پروردگار کی قدرت کے یہ یہ مظاہر ہیں اسی کی ربوبیت کی یہ یہ علامات ہیں۔ یعنی جس نے مخلوقات کو تخلیق فرمایا ہے اسی نے ان کے لیے رہنے سہنے کا انتظام کیا، زندگی کے امکانات پیدا کیے اور غذائی سروسامان مہیا فرمایا ہے۔ البتہ ان میں سے صرف چند بنیادی تخلیقات کا ذکر فرما کر باقی چیزوں کو انسان کے مشاہدے اور عقل پر چھوڑ دیا اور ان میں سب سے پہلے زمین کا ذکر کیا۔ اور آیت کریمہ میں بَعْدَ ذٰلِکَ کا مفہوم صرف یہ ہے کہ ہم نے آسمان کا ذکر کرکے تمہاری توجہ ایک خاص نہج کی طرف مبذول کی۔ اب ہم اسی طرح زمین کے ذکر سے ایک اور پہلو کی طرف تمہیں متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بات بھی توجہ چاہتی تھی اور یہ بات بھی توجہ چاہتی ہے۔ اس میں آگے پیچھے اور ترتیب کا کوئی تصور نہیں۔ زمین چونکہ مخلوقات کی آبادی کے لیے سب سے پہلی ضرورت ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر فرمایا۔ یہ دیگر مخلوقات کی طرح انسان کا بھی مسکن اور مدفن بھی ہے۔ اور اس کی تگ و تاز کا میدان بھی ہے۔ اور پھر اس کو اس طرح بچھایا گیا ہے جیسے بچھونا بچھایا جاتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف اس کے استحکام اور صلابت کا عالم یہ ہے کہ وہ پہاڑوں کا بوجھ اٹھاتی اور قلعوں کا وزن برداشت کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ نرمی اور اپنایت کا حال یہ ہے کہ جب کوئی آدمی ننگی زمین پر لیٹ جاتا ہے تو وہ اس طرح محسوس کرتا ہے جیسے ماں کی آغوش میں لیٹ گیا ہو۔ اس میں خوشنمائی اور حسن آرائی کے تمام امکانات مہیا کیے گئے ہیں۔ حیران کن طریقے سے مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے راستے بنا دیئے گئے۔ ملکوں کے درمیان قدرتی سرحدوں کے طور پر پہاڑوں کی فصیلیں کھڑی کردی گئیں۔ اور جہاں تک اس کے عجائبات کا تعلق ہے اس کو سائنس کی روشنی میں دیکھئے تو سر دھنتے رہ جائیے۔ اسی طرح اس کے فیوض اور برکات کا حال یہ ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ابل رہے ہیں، نہروں کی جدولیں بہہ رہی ہیں، دریا ٹھاٹھیں مارتے ہوئے گزر رہے ہیں اور پھر اس کے اندر قوت روئیدگی کا عالم یہ ہے کہ پہاڑوں میں سربفلک درخت کھڑے ہیں اور میدانوں میں مختلف رنگوں کی بہار دیتی ہوئی فصلیں لہلہارہی ہیں۔ اس تمام غذائی سامان کو یہاں مَرْعَیٰ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بظاہر تو اس کا ترجمہ گھاس ہے جو حیوانات کی غذاء ہے۔ لیکن بعض دفعہ انسانوں کے کھانے پینے کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے والد گرامی سے درخواست کی تھی اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَیَلْعَبْ ” یوسف کو کل ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ وہ چرچگ لے اور کھیلے۔ “ پھر اگلی آیت میں فرمایا کہ زمین کو چونکہ تمہارا مسکن بنایا گیا ہے اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ہم نے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیئے تاکہ زمین کا توازن قائم رکھا جائے اور اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم نے تمہارے لیے سامانِ زیست بنایا ہے اور تمہارے جانوروں کے لیے بھی۔ کیونکہ جانور بجائے خود انسان کی ضرورت ہیں اور جنگلوں میں دوڑنے پھرنے والے درندے بھی کسی نہ کسی طرح انسان ہی کے کام آتے ہیں۔ اس لیے قدرت نے ان کے لیے جو سامانِ زیست بنایا ہے درحقیقت وہ انسان ہی کے لیے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے سامانِ ربوبیت کی چند نمایاں علامتیں ہیں۔ ان سے اس خوان ربوبیت کی طرف اشارہ ہے جو ساری زمین پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے بعد قیامت کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہنا شاید یہ ہے کہ جس پروردگار کے دسترخوان سے تمہیں پالاپوسا جارہا ہے اور جس زمین پر تمہاری ہر ضرورت پوری کی جارہی ہے اور تمہارے عزائم کو بروئے کار لایا جارہا ہے کیا یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تمہیں کھلا پلا کر خودرو پودوں کی طرح مل دل کر زندگی ختم کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ دنیا کسی خالق حکیم کی تخلیق نہیں بلکہ بازیچہ اطفال ہے۔ لیکن اگر واقعی اس کو پروردگار نے کسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے تو اس مقصد کے مطابق جزاء و سزا کے عمل کو بروئے کار لانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ایک روزجزاء لایا جائے تاکہ اچھے اپنے انعام کو پہنچیں اور برے اپنی سزا سے دوچار ہوں۔
Ayahs 79:34–36

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

اور جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

اس دن انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور دوزخ ہر دیکھنے والے کے لیے بےنقاب کردی جائے گی

فَاِذَا جَآئَ تِ الطَّـآمَّۃُ الْـکُبْرٰی۔ یَوْمَ یَتَذَکَّرُالْاِنْسَانُ مَاسَعٰی۔ وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی۔ (النازعات : 34 تا 36) (اور جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا۔ اس دن انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا۔ اور دوزخ ہر دیکھنے والے کے لیے بےنقاب کردی جائے گی۔ ) احوالِ قیامت الطَّـآمَّۃُ الْـکُبْرٰی … طَّـآمَّۃُ ، ایسی بڑی آفت کو کہتے ہیں جو سب پر چھا جائے۔ کُبْرٰی کا معنی ہے بڑی۔ اسے صفت کے طور پر لایا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا معنی ہوگا، بہت بڑی آفت، بہت بڑا ہنگامہ، بہت بڑی ہلچل، مراد اس سے قیامت ہے۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق محض اس کی قدرت سے ایک دن ایسا آئے گا جب قیامت ایک بہت بڑے ہنگامے کی صورت میں برپا ہوجائے گی۔ یعنی نفخہ اولیٰسے ہر چیز تباہ ہوجائے گی اور نفخہ ثانیہ سے سب لوگ جی اٹھیں گے اور محشر میں پہنچ جائیں گے۔ یہ ایک بہت بڑی مصیبت ہوگی۔ وہ لوگ جو آج تک اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے وہ بھی زندہ ہو کر میدانِ حشر میں کھڑے ہوں گے۔ اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ہم محاسبے کے جس دن کا انکار کرتے رہے ہیں وہ دن تو آگیا۔ اس سے پہلے کہ ان کے ہاتھوں میں نامہ اعمال دیا جائے ان میں سے ہر شخص لرزاں و ترساں سر جھکائے اپنی زندگی کے ایک ایک عمل کو یاد کر رہا ہوگا۔ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی ایک ایک بات یاد آئے گی کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ قیامت کے دن ایک ایک عمل کا حساب ہوگا۔ ہم نے ان کی باتوں پر یقین نہ کیا۔ لیکن آج تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے فلاں جو بڑے بڑے مظالم کیے، لوگوں سے بہت زیادتیاں کیں، عیش و عشرت میں ڈوبے رہے اور ہر وہ کام کیا جس سے انسانیت پسینہ پسینہ ہوگئی۔ ان کاموں کی فلم ہر شخص کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہی ہوگی اور وہ ایک ایک عمل کو یاد کرکے سوچ رہا ہوگا کہ آج ان باتوں کا میں کیا جواب دوں۔ دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص اچانک قانون کے شکنجے میں آجاتا ہے اور وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ عنقریب عدالت میری قسمت کا فیصلہ کرنے والی ہے تو اسے اپنی زندگی میں کیا ہوا ایک ایک عمل یاد آتا ہے اور چشم تصور سے وہ سب کچھ دیکھتا ہے جس کا اس نے کبھی اعتراف نہیں کیا تھا۔ یہی کیفیت آج بھی اس کی ہوگی۔ تیسری آیت میں فرمایا کہ آج منکرینِ قیامت جس جہنم کا مذاق اڑاتے ہیں جب یہ لوگ میدانِ حشر میں کھڑے ہوں گے تو وہ جہنم ان کے سامنے بےنقاب کردی جائے گی۔ صرف ایک پردہ درمیان میں ہوگا۔ حکم ملتے ہی انھیں جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ اور جہنم کے بےنقاب ہونے کے بعد انھیں اندازہ ہوجائے گا کہ فیصلہ ہوتے ہی ہمارے لیے وہ انجام شروع ہوجائے گا جس سے ہمیں دنیا میں ڈرایا جاتا رہا۔ لِمَنْ یَّرٰی سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کو بےنقاب ان کے لیے کیا جائے گا جو اپنے اعمال کی پاداش میں اس جہنم میں جانے والے ہوں گے۔ اور جنھوں نے آج تک کبھی اسے مان کر نہ دیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور پھر اس کے جہنم سے لرزاں و ترساں رہے اللہ تعالیٰ ان کو آج بھی جہنم سے دور رکھے گا، وہ کبھی اس کی آہٹ بھی نہ سن پائیں گے۔