78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsروح القرآن

Ayah 78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں

عَمَّ یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ (النبا : 1) (یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں۔ ) عَمَّ … اصل میں عَنْ مَا ہے۔ یعنی یہ عَنْ اور مَا دو حرفوں سے مرکب ہے۔ حرف مَا میں سے الف ساقط کردیا گیا ہے۔ مَا استفہام کے لیے ہے۔ اس کا معنی ہے کس چیز کے بارے میں۔ یَتَسَآئَ لُوْنَ تسأل اس کا مصدر ہے۔ اس کا معنی آپس میں ایک دوسرے کے متعلق پوچھ گچھ کرنا ہے۔ پوچھ گچھ تحقیق کے لیے بھی ہوتی ہے اور کبھی محض استہزاء کے لیے بھی۔ یہاں یہ استہزاء کے مفہوم میں ہے۔
Ayahs 78:2–3

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

اس بڑی خبر کے بارے میں

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں وہ خود اختلاف رکھتے ہیں

عَنِ النَّـبَاِ الْعَظِیْمِ ۔ الَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ ۔ (النبا : 2، 3) (اس بڑی خبر کے بارے میں۔ جس میں وہ خود اختلاف رکھتے ہیں۔ ) قیامت کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے نَـبَا …کسی بڑے واقعہ یا اہم خبر کو کہتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم نے اس لفظ کی معنویت کو نمایاں کرنے کے لیے تاکہ اس کے مصداق کی اہمیت دلوں میں اتر جائے العظیم کی صفت بھی ذکر فرمائی ہے۔ یعنی وہ خبر جس کے بارے میں یہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کررہے ہیں وہ بہت بڑی خبر ہے۔ مراد اس سے آخرت ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اتنی بڑی اور اہم خبر جسے سن کر سینہ شق اور جگر پھٹ جانا چاہیے اور جس کی فکر سے خواب و خور کی لذت جاتی رہنی چاہیے یہ شامت زدہ لوگ اسی کو طنزومزاح کا موضوع بنائے ہوئے ہیں۔ قرآن کریم نے جس لب و لہجہ اور اندازِ بیان کی سطوت وہیبت اور دلائل کی قطعیت کے ساتھ آخرت کا ذکر کیا تو جس نے بھی ان سورتوں کو سنا وہ متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ قریش کی مجلسوں میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ قریش نے محسوس کیا کہ اگر اس خبر کا اثر عوام میں پھیل گیا تو اسلام کی دعوت کو پھیلنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ چناچہ انھوں نے عوام کو اس کے اثر سے بچانے کے لیے جہاں اور بہت سی احمقانہ تدبیریں اختیار کیں وہاں یہ حماقت بھی کی کہ اپنی مجالس میں اس کو اپنے مذاق اور طبع آزمائی کا موضوع بنا لیا، تاکہ لوگ اسے کسی سنجیدہ موضوع کے طور پر لینے کی کوشش نہ کریں۔ کوئی یہ کہتا کہ کیا یہ بات ماننے کے قابل ہے کہ گل سڑ کر جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوچکی ہیں ان میں نئے سرے سے جان پڑے گی۔ کسی نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بڑے بڑے جمے ہوئے پہاڑ ہوا میں روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں۔ کوئی حیران ہو کر کہتا کہ بھلا یہ بھی کوئی ماننے کی بات ہے کہ ایک دن سورج، چاند اور ستارے سب بجھ کر رہ جائیں اور دنیا کا یہ سارا نظام الٹ پلٹ ہوجائے۔ کبھی وہ جنت و دوزخ کا مذاق اڑانے لگتے کہ وہ کیسی دوزخ ہے جس میں آگ بھی ہے اور پانی بھی۔ اور جس میں درخت بھی کھڑے ہیں۔ اور قرآن کریم نے کہیں کہیں جہنم کے بعض احوال کا ذکر کیا ہے بعض لوگ اس کو تمسخر کا موضوع بناتے۔ یہ ہیں آپس کی وہ چہ میگوئیاں اور آپس کی پوچھ گچھ جس کی طرف قرآن کریم نے توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ کیسے بےفکرے ہیں کہ انھیں ایک عظیم خبر کی اطلاع دی گئی ہے اور یہ اس کے بارے میں اس طرح ایک دوسرے سے باتیں کررہے ہیں جیسے وہ کوئی تفریح کا موقع ہو۔ اور حال یہ ہے کہ ان باتوں میں خود وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خود بھی دنیا کے انجام کے بارے میں یکساں رائے نہیں رکھتے بلکہ دنیا کے انجام اور آخرت کے بارے میں ان کے درمیان مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ اس طرح سے ان میں فکری تناقض بھی ہے اور اختلافِ رائے بھی۔ ان میں سے بعض لوگ عیسائیوں کے خیالات سے متأثر ہیں۔ اور وہ آخرت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے جسمانی نہیں بلکہ روحانی قرار دیتے ہیں۔ اور بعض لوگ قطعی انکار تو نہیں کرتے لیکن انھیں قیامت کے آنے کا یقین بھی نہیں۔ قرآن کریم نے ان کے خیال کو نقل کرتے ہوئے فرمایا اِنْ نَّظُنُّ اِلاَّظَنًّا وَّمَانَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ ” ہم سب ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں۔ “ (الجاثیہ۔ 31) اور بعض لوگ اس کا بالکل انکار کرتے تھے کہ ہم ہرگز مرنے کے بعد اٹھائے نہیں جائیں گے۔ بعض لوگ دہریئے تھے، یعنی وہ دہر اور زمانے ہی کو اصل موثر مانتے تھے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کو تسلیم کرتے تھے لیکن دوسری زندگی کو ناممکن قرار دیتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں ان کا خیال یہ تھا کہ وہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ اور دلیل یہ دیتے تھے کہ جو ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی ہیں انھیں کون دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔ غرضیکہ زندگی کے خاتمے اور دنیا کے انجام کے بارے میں یکسو نہیں تھے۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ نے آخرت کے عقیدے کو پیش فرمایا اور اسے عملی زندگی میں تبدیلی کے لیے نہایت اہم قرار دیا، تو انھوں نے اس کے اثر کو روکنے کے لیے اسے تمسخر کا موضوع قرار دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ عقل اور فطرت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ انسان کو زندگی کے کسی ایسے معاملے میں اگر ذہنی یکسوئی حاصل نہ ہو جس میں اس کی ابدی فلاح یا ابدی ہلاکت کا راز مضمر ہے تو ایسے لوگوں کی بات توجہ سے سنے جو اس کے تضادفکر سے اس کو آگاہ کررہے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے انھیں اس تضاد و اختلاف سے نکلنے کی راہ دکھائی۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی قدر کرتے۔ لیکن انھوں نے اپنی بدبختی سے اسے غیرسنجیدہ موضوع بنادیا۔
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہ عنقریب جان لیں گے

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر ہرگز نہیں، وہ جلد جان لیں گے

کَلاَّ سَیَعْلَمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَلاَّ سَیَعْلَمُوْنَ ۔ (النبا : 4، 5) (ہرگز نہیں، وہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں، وہ جلد جان لیں گے۔ ) منکرین کے استہزاء کا جواب اور تنبیہ اہلِ مکہ نے جس طرح قیامت جیسی اہم حقیقت کو استہزاء کا موضوع بنا لیا تھا اور اپنی مجلسوں میں اس طرح کے سوال و جواب کیے جارہے تھے گویا یہ حقیقت نہیں بلکہ بازاری لوگوں کا بنایا ہوا کوئی قصہ ہے۔ اس پر نہایت زوردار الفاظ میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ پہلے حرف تنبیہ لایا گیا پھر فعل مضارع پر حرف استقبال لا کر اس تنبیہ میں اضافہ فرمایا گیا۔ اور فعل وہ لایا گیا جو بجائے خود تنبیہ پر دلالت کرتا ہے۔ اور مزید یہ کہ جملے کی تکرار کے ساتھ اس تنبیہ کو تاکید کی انتہاء تک پہنچا دیا گیا۔ حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور ان کا جس طرح کا رویہ ہے اور جس طرح قیامت کے تصور کو انھوں نے ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے ان تمام باتوں کا انجام وہ عنقریب دیکھ لیں گے۔ تب انھیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم جو کچھ کہتے تھے ان میں سے کوئی بات صحیح نہ تھی۔ حقیقت وہی تھی جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی۔ بعض اہل علم نے اس میں ایک لطیف نکتہ پیدا کیا ہے کہ یہاں جملے کا تکرار تاکید کے لیے نہیں بلکہ بیان حقیقت کے لیے ہے۔ پہلے جملے میں جس سے باخبر کیا گیا ہے وہ، وہ عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں ان کی امتوں پر آتا رہا ہے اور تمام معذب قومیں جس کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہیں۔ اور دوسرے جملے میں آخرت کے عذاب کا ذکر ہے۔ اہل مکہ کو ان دونوں عذابوں سے ڈرایا گیا ہے۔ اس لیے ایک جیسے دو جملے لا کر ان دونوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ اگر تم آنحضرت ﷺ کی دعوت اور آپ ﷺ کی نبوت کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تم پر دنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے۔ اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے وہاں کا عذاب تو ہر کافر کے لیے ایک حقیقت ہے۔
Ayahs 78:6–17

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ کلفت بنایا

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو تمہارے لیے پردہ پوش بنایا

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو معاش کا وقت بنایا

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور پانی سے لبریز بدلیوں سے ہم نے موسلادھار بارش نازل کی

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ اس کے ذریعے سے اگائیں غلہ اور نباتات

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے باغ

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ کلفت بنایا۔ اور رات کو تمہارے لیے پردہ پوش بنایا۔ اور دن کو معاش کا وقت بنایا۔ اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے۔ اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا۔ اور پانی سے لبریز بدلیوں سے ہم نے موسلادھار بارش نازل کی۔ تاکہ اس کے ذریعے سے اگائیں غلہ اور نباتات۔ اور گھنے باغ۔ بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔ ) قیامت اور بعض دیگر حقائق پر آیات ربوبیت سے استدلال ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کے چند آثار کے ذریعے بعض حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ جو شخص بھی کائنات کے ان آثار پر غور کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی تخلیقات کو دیکھے گا اگر وہ عقل کی سلامتی اور فطرت کی سادگی سے تہی دامن نہیں ہوا تو یقینا اسے قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دے گی۔ جابجا اس کی رحمت کی پرچھائیں نظر آئیں گی۔ وہ محسوس کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے اور اس کی ہر تخلیق کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت نظر آتی ہے۔ پھر وہ ربوبیت کے وسیع نظام کو ہر طرف پھیلا ہوا دیکھے گا۔ تو آخر اسے اس بات کا یقین کرنا پڑے گا کہ اس کائنات کا نظام چلانے والی ایک تنہا ذات ہے جس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ اس کی ربوبیت کے دسترخوان سے ہر مخلوق متمتع ہورہی ہے۔ اور ان میں حضرت انسان کو خصوصی صلاحیتیں دے کر اہم حیثیت عطا کی گئی ہے۔ اسے جو بیشمار نعمتیں بخشی گئی ہیں ان تمام کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ انسان کی جسمانی، معنوی اور روحانی مقاصد کے لیے اسباب و ذرائع کے طور پر کام آئیں تاکہ اسے اپنے فیصلوں کو بروئے کار لانے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اس طرح سے ہر چیز کا ایک مقصد مقرر کردیا گیا ہے اور خود انسان کی زندگی بھی مقصد کے ساتھ مکلف کردی گئی ہے۔ اور اسی پر اس کی کامیابی و ناکامی کا دارومدار رکھا ہے۔ جو بھی اس صورتحال کو دیکھے گا اس میں یہ احساس ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ایک مخلوق کو غیرمعمولی صلاحیتوں کا عطا کیا جانا، پھر اسے اختیارات کا ملنا، اس کو فیصلے کرنے کی آزادی دینا اور اس کو ایسے اختیارات بہم پہنچانا جس سے وہ اپنے ارادوں کی تکمیل کرسکے، یقینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ سب کچھ بےحکمت و بےمقصد نہیں، یقینا ایک ایسا دن آئے گا جب انسان کو دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس سے اس مقصد کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اس نے اپنی زندگی اس مقصد کے مطابق گزاری یا اس کی مخالفت میں۔ ان آیات میں یہی حقیقت ہے جو نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بھی ہیں، اس کی حکمت کے جلوے بھی ہیں، انسان کی بامقصد زندگی کی طرف اشارے بھی ہیں اور آخر میں اسی مقصد کے حوالے سے جواب طلبی کے لیے ایک مقررہ دن کی خبر بھی ہے۔ اس میں سب سے پہلے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ اور فرش بنایا ہے۔ یعنی انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے جو اس کے لیے ربوبیت کا دسترخوان بچھایا گیا ہے اس میں سب سے پہلی چیز وہ زمین ہے جس پر اسے رہنا ہے۔ چناچہ اس زمین کو اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ وہ آدمی کے لیے گہوارے کی طرح قرار و سکون کی جگہ بن گئی ہے۔ اس پر کوئی چلتا ہے تو انکار نہیں کرتی، کوئی لیٹتا ہے تو اس کی سختی اسے پریشان نہیں کرتی، اس کی مٹی اسے سکون کی دولت دیتی ہے، اسے کوئی پھاڑتا ہے تو اپنا سینہ نرم کردیتی ہے۔ اس کی تہ میں چھپے ہوئے خزانے اس کی تسخیری قوت کو دعوت دیتے ہیں، اس کے نیچے بہتا ہوا پانی کا سمندر اور زرسیال اس کی ضرورتوں کا خزانہ ہے۔ اور وہ ان سب چیزوں سے اس طرح فائدہ اٹھاتا ہے جیسے بچہ گہوارے میں ماں کے دودھ سے متمتع ہوتا ہے۔ دوسری آیت میں اسی زمین ہی کی حفاظت اور انسان کے لیے اسے محفوظ بنانے کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہارے سمیت کسی طرف لڑھک نہ جائے۔ اور تمہارے معمولات اور تمہارے آرام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ جو رب اس زمین کے گہوارے میں اس اہتمام سے انسان کی پرورش کررہا ہے تو کیا یہ اس لیے ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اور کبھی ایسا دن نہ آئے جس میں اس سے بازپرس کی جائے، جس میں ان لوگوں کو انعام سے نوازا جائے جنھوں نے اپنے مقصد سے وفا کی۔ اور ان لوگوں کو سزا ملے جنھوں نے مقصد کو پامال کیا، اللہ تعالیٰ کی نا شکری اور نافرمانی کی۔ اگلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے انسان کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ یوں تو اس کی تشریح پہلے بھی ہوچکی ہے، یہاں اختصار سے اتنا عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت نے انسان کی صرف ضرورتیں ہی پوری نہیں کیں بلکہ اس کی تسکین کا سامان بھی کیا۔ اسے زمین جیسا گہوارہ اگر میسر آتا، لیکن اس کی تنہائی اس کے لیے زندگی اجیرن کردیتی، تو وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت سے کیا فائدہ اٹھاتا۔ اس لیے پروردگار نے جس فطرت اور جن احساسات کے ساتھ اسے پیدا کیا ہے اس کی تسکین کے لیے اس کی تنہائی کا علاج اسی کی جنس سے جوڑا بنا کر کیا۔ اور پھر حیرانی کی بات یہ ہے کہ مرد اور عورت بظاہر ضدین ہیں لیکن دونوں کی آپس میں ایسی گہری وابستگی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی تنہا اپنے مقصدتخلیق کو پورا نہیں کرسکتا۔ ان کے اندر ایسے ظاہری اور باطنی داعیات رکھے گئے ہیں کہ وہ الگ الگ کبھی اطمینان کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ باہم مل کر رہنے ہی میں سکون و راحت پاتے اور ایک برتر مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ اور پھر یہ قدرت کا نظام کس قدر ہمہ گیر اور حیرت انگیز حد تک عادلانہ ہے کہ روئے زمین پر جہاں جہاں انسانی آبادی ہے وہاں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صرف مرد ہی پیدا ہوں یا صرف عورتیں ہی پیدا کی جائیں۔ یا ان کی تعداد میں تناسب کا خیال نہ کیا گیا ہو۔ ہر جگہ مرد اور عورت ایک تناسب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اور اس تناسب میں خفیف سا فرق ان حکمتوں کے پیش نظر ہے جن کا لحاظ صرف اسلام نے کیا ہے۔ اور باقی قومیں اس کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے اخلاقی اعوارض کا شکار ہوگئی ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے نیند کو سبات بنایا، سبات کا معنی ہے کاٹنا یا مونڈنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلسل کام، مصروفیت اور بےآرامی انسان کی راحت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نیند کو اسی رکاوٹ کو دور کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اس لیے سبات کا ترجمہ کیا جاتا ہے، دافعِ کلفت۔ یعنی جو چیزیں کلفت کا ذریعہ تھیں نیند انھیں ہٹا دیتی ہے اور راحت و آرام مہیا کرتی ہے۔ اس لیے بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ راحت و سکون بھی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ اس نے صرف ایسا ہی نہیں کیا کہ نیند کو کلیۃً انسان کے اختیار پر چھوڑ دیا جاتا، کہ وہ چاہے تو سوئے، چاہے تو نہ سوئے۔ بلکہ نیند کو اس نے انسان کی فطرت میں ایک داعیہ کی حیثیت دی ہے کہ جب آدمی چند گھنٹے کے کام کے بعد تھک جاتا ہے تو نیند اسے مجبور کردیتی ہے کہ وہ چند گھنٹے آرام کرے۔ یہ گویا ایک ایسا خودکار انتظام ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حکمت نے انسانوں کے جسموں میں ودیعت کیا ہے۔ اور اسے مزید مستحکم اور موثر بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے رات کو تاریک پیدا فرمایا۔ کیونکہ روشنی میں آسانی سے سویا نہیں جاسکتا۔ نیند کا سکون حاصل کرنے کے لیے تاریکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے رات کو لباس قرار دیا، کہ جس طرح لباس آدمی کو اپنے اندر چھپا لیتا اور سکون و اطمینان بخشتا ہے، اسی طرح شب کی چادر بھی اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔ اور وہ پردہ شب میں اس طرح محجوب ہوجاتا ہے کہ خلل انداز ہونے والی چیزوں سے محفوظ ہو کر سکون حاصل کرتا ہے اور اس کی قوت کارکردگی بحال ہوجاتی ہے۔ اور اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے دن کو معاش کی سرگرمیوں کا وقت بنایا، اور معاش کی دوڑ بھاگ کے لیے چونکہ روشنی کی ضرورت تھی اس لیے دن کو روشن بنایا۔ اور پھر یہ رات دن کا الٹ پھیر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک ایسی نمود ہے کہ جس میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ اس کے بیشمار فوائد ہیں، لیکن یہاں صرف اس کے ایک فائدے کا ذکر کیا گیا ہے۔ دن کی روشنی نے معیشت کی سرگرمیوں کے لیے آسانی پیدا کی۔ اور انسانی ضروریات اور اس کے مفادات کے حصول کو یقینی بنایا۔ اور رات کو سکون و اطمینان کا ذریعہ بنادیا۔ جو شخص بھی ان نشانیوں پر غور کرے گا اس میں بصیرت ہوگی تو وہ لازمی اس نتیجے پر پہنچے گا کہ یہ رات اور دن نہ ازخود چکر کھا رہے ہیں اور نہ ان کا یہ چکر بالکل بےغایت و بےمقصد ہے بلکہ ایک حکیم و قدیر پروردگار مخلوقات کی خدمت کے لیے ان کو اس سرگرمی کے ساتھ مصروف کیے ہوئے ہے تاکہ لوگ ان کی خدمت سے فائدہ اٹھائیں۔ اور جس نے یہ سب اہتمام کیا ہے اس کے شکرگزار ہوں۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ ربوبیت کے اس تمام اہتمام کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی جوابدہی کے لیے ایک دن آئے جس میں ہر شخص کا حساب ہو تاکہ نیک اپنے انعام سے محروم نہ رہیں اور برے لوگ اپنی برائی کے انجام سے بےفکر زندگی نہ گزاریں۔ اس کے بعد آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے یعنی زمین پر تم اللہ تعالیٰ کی جس طرح بیشمار نشانیاں دیکھتے ہو، اسی طرح اوپر کی طرف نظر اٹھا کے دیکھو تو تمہیں بیشمار نشانیاں نظر آئیں گی جن میں سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات محکم اور مضبوط آسمان بنائے۔ جس طرح زمین کے اندر پھیلی ہوئی نشانیوں کا ذکر کرنے سے پہلے خود زمین کو ایک بڑی نشانی کے طور پر ذکر فرمایا اسی طرح اوپر کی نشانیوں میں سے خود آسمان کو سب سے بڑی نشانی قرار دیا گیا ہے اور سب سے پہلے اسی کا ذکر فرمایا ہے۔ مضبوط اور محکم سے مراد شاید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی سرحدیں نہایت مستحکم بنائیں۔ ان میں ذرہ بھر تغیروتبدل نہیں ہوپاتا۔ اور کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس آسمان کے اوپر نہیں جاسکتی بلکہ اس کے نیچے بھی بہت سے ایسے منطقے ہیں جن میں کوئی قدم نہیں رکھ سکتا۔ پھر ان سرحدوں کے پار عالم بالا میں بیشمار ستارے اور سیارے ہیں جن میں سے کوئی آپس میں نہیں ٹکراتا۔ بیشمار شہاب ثاقب ٹوٹتے نظر آتے ہیں لیکن کوئی زمین پر نہیں گرتا۔ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اظہار کے لیے کبھی کوئی ایک آدھ کسی ملک میں گرا ہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ منوں اور ٹنوں وزن رکھنے والے پتھر اگر بار بار اور بڑی تعداد میں زمین پر گرتے تو اہل زمین کیسے زندہ رہتے۔ وہ کیسا مستحکم نظام ہے کہ جس میں کروڑوں شہاب ثاقب زمین کی طرف لپکتے ہیں لیکن راستے میں بھسم کردیئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے آسمان میں ایک روشن چراغ رکھا ہے جس سے مراد سورج ہے۔ ” سراج “ کا معنی چراغ ہے۔ اس کی صفت ” وھاج “ لائی گئی ہے۔ اس کے معنی نہایت روشن بھی ہیں اور نہایت گرم بھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں خدمتیں اس کے سپرد کر رکھی ہیں کہ وہ کائنات کو روشنی بھی دیتا ہے اور گرمی بھی بہم پہنچاتا ہے۔ اگر یہ چراغ نہ ہوتا تو سارا عالم تیرہ و تار ہوتا۔ اور زمین کی ہر چیز یخ بستہ ہو کر رہ جاتی اور زمین پر زندگی ناممکن ہوجاتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا ایک عظیم الشان نشان ہے جس کا قطر زمین کے قطر سے ایک سو نو گنا اور اس کا حجم زمین کے حجم سے تین لاکھ تینتیس ہزار زیادہ بڑا ہے۔ اس کا درجہ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ زمین سے نو کروڑ تیس لاکھ میل دور ہونے کے باوجود اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ انسان اگر برہنہ آنکھ سے اس کی طرف نظر جمانے کی کوشش کرے تو اپنی بینائی کھو بیٹھے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی حکمت ہے کہ اس نے زمین کو اس سے ٹھیک فاصلے پر رکھا ہے کہ نہ اس سے بہت قریب ہونے کے باعث یہ بےانتہا گرم ہے اور نہ بہت دور ہونے کے باعث بےانتہا سخت۔ پھر زمین کا رخ سورج کی طرف بالکل سیدھا نہیں بلکہ تئیس درجے ایک طرف ہٹا ہوا ہے اور اسی وجہ سے موسموں کے تغیرات پیدا ہوتے اور بارشیں ہوتی ہیں۔ مزید فرمایا کہ ہم نے بادلوں سے موسلادھار پانی برسایا، یعنی لگاتار بارش کی۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بیشمار پہلو ہیں اور انسان کا علم اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ یہی حال بارشوں کے نظام کا بھی ہے۔ لیکن اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ سورج ہی کی حرارت سے سمندروں کے پانی سے بھاپیں اٹھتی ہیں جو ہَوائوں کے ذریعے سے زمین کے مختلف حصوں میں پھیلتی ہیں اور بارش کی شکل میں برستی ہیں۔ پھر اس سے پروردگار زمین کو سیراب کرتا اور محض اپنی قدرت سے اس سیرابی کے نتیجے میں غلے، نباتات اور گھنے باغات اگاتا ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے خوان نعمت کی بیشمار جہتیں مکمل ہوجاتی ہیں۔ ان آیات میں بہت سے آثار و شواہد کو بیان کیا گیا ہے جن میں توحید کے اثبات، شرک کے ابطال اور قیامت اور آخرت کے امکان پر روشنی پڑتی ہے۔ انسان چونکہ زمین پر خلیفہ بنایا گیا ہے اور خلافتِ ارضی کی ذمہ داریاں اس پر ڈالی گئی ہیں اس لیے سب سے پہلے انسان کو زمین ہی کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ کس طرح ہم نے زمین کو تمہارے لیے گہوارہ بنایا، بچھونے کی طرح بچھا دیا، پہاڑوں کی میخیں گاڑ کر اس کی طنابیں کھینچ دیں اور پھر روشنی کے سامان کے لیے سورج جیسا چراغ روشن کردیا۔ تمہارے چولہے جلانے، غلہ اور پھل پکانے کے لیے سورج کی گرمی مہیا کی۔ تمہاری غذائی ضرورتوں کے لیے زمین میں قوت روئیدگی رکھی اور بارش کے ذریعے اس کی سیرابی کا انتظام کیا اور اس میں تمہارے لیے غلے اگائے، نباتات پیدا کیں اور گھنے باغات اگادیئے۔ اس طرح سے ربوبیت کا دسترخوان بچھایا گیا اور نہایت اہتمام کے ساتھ تمہاری نمود و پرداخت اور تربیت کا انتظام کیا گیا۔ پھر اس نے رات اور دن کے اختلاف سے تمہارے لیے معاشی ہما ہمی کا سامان بھی کیا اور مصروفیات سے تھکاوٹ کے بعد قوت کارکردگی کی بحالی کے لیے نیند جیسی نعمت بھی عطا کی۔ سوال یہ ہے کہ جس مخلوق کو اللہ تعالیٰ اس اہتمام سے پال پوس رہا ہے اور حیرت انگیز طریقے سے اس کو نہایت خوبصورت وجود ہی نہیں دیا بلکہ اس کی تمام ضرورتیں بھی پوری کی گئی ہیں حتیٰ کہ اسے حواس اور عقل عطا کیے اور شعور جیسی نعمت دی، کام کرنے کی آزادی سے نوازا، قوت فیصلہ سے بہرہ ور فرمایا۔ کیا کوئی شخص یہ باور کرسکتا ہے کہ ان تمام نعمتوں کا عطا کرنے والا زبردست قدرت نہیں رکھتا اور اس کی قدرت میں کوئی ایسی کمزوری ہے کہ یہ کہا جاسکے کہ وہ فلاں کام نہیں کرسکتا، یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں مختلف دیوتائوں کی حکومت ہے، کسی ایک بڑی ذات کی نہیں جو ان تمام کی خالق ومالک ہے۔ اگر یہاں مختلف دیوتائوں کی کارفرمائی ہوتی تو کوئی ایک مخلوق بھی اپنی معراج کو نہ پہنچتی، کوئی ایک فیصلہ بھی اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچ سکتا۔ مزید یہ کہ جس انسان کو ایسی عظیم نعمتوں سے نوازا گیا ہے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اور اسے جو بیشمار مخلوقات پر تصرف کے اختیارات دیئے گئے ہیں ان کی کوئی بازپرس نہ ہو۔ اور انسان کے اعمال میں خیر و شر کی کوئی تمیز نہ ہو۔ ان میں سے جو شخص بھلائی کے کام کرے وہ بھی ایک دن مٹی میں مل کر ختم ہوجائے۔ اور جو برائی کے کام کرے اس کا انجام بھی ایسا ہی ہو۔ ظاہر ہے کہ کوئی بےعقل آدمی ہی ایسی بات کہہ سکتا ہے ورنہ ان میں سے ہر نشانی اور ہر امرواقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اور متصرف بھی ایک ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے جس طرح سورج، چاند، ستاروں کو بےمقصد نہیں بنایا، اسی طرح انسان کی زندگی کا بھی ایک مقصد ہے۔ اس کے لیے یقینا کوئی ایسا انتظام ہونا چاہیے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ اس نے اپنی زندگی مقصد کے مطابق گزاری ہے یا مقصد کی مخالفت میں۔ اسی کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔ یعنی ہم نے یہ دیکھنے کے لیے کہ کن لوگوں نے ہماری شکرگزاری کی اور فرمانبرداری میں زندگی گزاری اور کن لوگوں نے کفرانِ نعمت کیا اور نافرمانی میں زندگی بسر کی۔ اس کے لیے ہم نے فیصلے کا ایک دن مقرر کردیا ہے۔
Ayahs 78:18–30

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے دروازے بن کر رہ جائے گا

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلا دیئے جائیں گے تو وہ بالکل سراب بن کر رہ جائیں گے

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک جہنم گھات میں ہے

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا ٹھکانا

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

اس میں وہ مدتوں رہیں گے

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ نہ چکھیں گے

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

بجز گرم پانی اور زخموں کے دھو ون کے

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

بدلہ ان کے عمل کے موافق

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور انھوں نے ہمار آیات کی بےدریغ تکذیب کی

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی اور چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30) (جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے دروازے بن کر رہ جائے گا۔ اور پہاڑ چلا دیئے جائیں گے تو وہ بالکل سراب بن کر رہ جائیں گے۔ بیشک جہنم گھات میں ہے۔ سرکشوں کا ٹھکانا۔ اس میں وہ مدتوں رہیں گے۔ اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ نہ چکھیں گے۔ بجز گرم پانی اور زخموں کے دھو ون کے۔ بدلہ ان کے عمل کے موافق۔ وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے۔ اور انھوں نے ہماری آیات کی بےدریغ تکذیب کی۔ اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے۔ اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی اور چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے۔ ) قیامت کے وقوع پذیر ہونے کا منظر جس یوم الفصل کا وقت مقرر کردیا گیا ہے اور جس کے آنے میں مشرکین بہت تذبذب کا شکار ہیں اور وہ مختلف پہلوئوں سے اسے مستبعدازعقل قرار دیتے ہیں۔ یہاں اس کے وقوع پذیر ہونے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اس کے برپا ہونے میں کوئی بڑا وقت صرف نہیں ہوگا اور نہ پروردگار کو اس میں کوئی دشواری پیش آئے گی۔ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور منہ میں لیے حکم کے انتظار میں ہیں۔ یہ صور کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے یہ متشابہات میں سے ہے، اللہ تعالیٰ ہی اسے جانتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو اس میں پھونک مارنے کا حکم دیا جائے گا تو پھونک مارتے ہی ایک بڑی ہلچل مچے گی۔ تمام مرے ہوئے انسان یکایک جی اٹھیں گے اور فوج در فوج اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ اور یہ آسمان جو آج گنبدبے در نظر آتا ہے اس دن اس طرح اسے کھول دیا جائے گا کہ ہر طرف اس میں دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔ یعنی عالم بالا میں کوئی بندش اور رکاوٹ باقی نہ رہے گی اور ہر طرف سے آفاتِ سماوی ہجوم کرکے دنیا پر حملہ آور ہوں گی۔ اور وہ پہاڑ جن کے استحکام کو دیکھتے ہوئے اہل مکہ کو قیامت کے آنے کا یقین پیدا نہیں ہوتا تھا وہ اس دن اکھاڑ کر چلا دیئے جائیں گے۔ یعنی آج وہ ٹھوس پتھر ہیں لیکن اس دن ریت بن کر ہر طرف اڑتے پھریں گے اور ریزہ ریزہ ہو کر ہر طرف پھیل جائیں گے۔ سورة طٰہٰ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے، ان سے کہئے، میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا۔ اور زمین کو ایسا ہموار اور چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ تک نہ دیکھو گے۔ (آیت 105 تا 107) یہاں فرمایا گیا ہے کہ پہاڑوں کو سراب بنادیا جائے گا۔ سراب سے مراد ریت ہے جو صحرا میں دور سے انسان کو دکھائی دیتی ہے اور وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ وہاں کوئی بہتا ہوا پانی ہے۔ اس ہلچل اور افراتفری کے بعد اچانک جہنم نمودار ہوجائے گی۔ یوں معلوم ہوگا کہ وہ سرکشوں کا ٹھکانہ بننے کے لیے اس ہلچل کی آڑ میں گھات ہی میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اور شاید اسی لیے بعض جگہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ جہنم خاص قسم کے مجرموں کو پہچانے گی اور انھیں دیکھ کر وہ اس طرح جوش میں آئے گی کہ اس کی دھاڑ دور تک سنائی دے گی۔ اور پکارنے والا کہے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا تمہیں دنیا میں یقین نہیں آتا تھا۔ میدانِ حشر میں ایمان و عمل کے فیصلے کے بعد یہی جہنم سرکشوں کا ٹھکانہ بنے گی۔ چناچہ ہر کافر و مشرک اور ہر باغی و طاغی اپنے اپنے جرائم کے مطابق جہنم میں ڈالا جائے گا اور وہ مدت ہائے دراز تک اس میں رہے گا۔ آیت میں ” احقاب “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ ” حقب “ کی جمع ہے جس کا اطلاق طویل زمانے پر ہوتا ہے۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی اور دوام ہوگا اور اس کے تسلسل میں کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔ لیکن جہنم میں ہمیشگی نہیں ہوگی، جہنم بالآخر ایک دن ختم ہوجائے گی۔ کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں لیکن مدتوں کا لفظ خود بتلاتا ہے کہ وہ لامتناہی نہیں، لیکن یہ خیال غلط ہے۔ ہر چیز کے سمجھنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے جسے اہل علم قاعدہ کلیہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مجمل کو سمجھنے کا بھی ایک طریقہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ مجمل کی شرح مفصل کی روشنی میں کی جاتی ہے۔ البتہ مفصل کی شرح مجمل کی روشنی میں نہیں کی جاتی۔ قرآن کریم نے جہنم کی سزا کو خُلُوْدفِی النَّار سے تعبیر کیا ہے اور کئی جگہ یہ الفاظ آئے ہیں خَالِدِیْنَ فِیْھَا اَبَدًا یہ الفاظ مفصل ہیں۔ اسی کی روشنی میں ” احقاب “ کی وضاحت کی جائے گی۔ واضح ہے کہ اس کا مطلب ہمیشہ ہمیشہ جہنم کا قیام ہوگا نہ کہ ایک طویل مدت جو ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گی۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اہل جہنم شدید عذاب کے باوجود کھانے پینے سے بےنیاز نہیں ہوں گے، انھیں بھوک اور پیاس لگے گی لیکن اس میں پینے کو گرم کھولتا ہوا پانی اور کھانے کو ” غساق “ ملے گا۔ اہل لغت نے ” غساق “ کی تشریح پیپ اور لہو سے بھی کی ہے اور گندے پانی سے بھی۔ اور بعض اہل لغت کچ لہو اور آنکھوں اور کھالوں سے بہنے والی ان تمام رطوبتوں پر اس کا اطلاق کرتے ہیں جو شدید تعذیب کی وجہ سے بہ نکلتی ہیں۔ اور یہ لفظ ایسی چیز پر بھی بولا جاتا ہے جس میں سخت تعفن اور سڑاند ہو۔ جہنم کی اس ہولناک وادی میں اہل جہنم کو کہیں ٹھنڈک کا احساس تک نہیں ہوگا۔ نہ پینے کو کوئی ایسی چیز ملے گی جسے پینے کے قابل کہا جاسکے۔ اور یہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوگا یہ ان کے اعمال ہی کا پورا پورا بدلہ ہوگا۔ جو کچھ دنیا میں انھوں نے کمائی کی اسی کا انجام وہ جہنم میں دیکھیں گے۔ آخرت میں ہر نیکی فطرت کے لحاظ سے اپنا پھل لائے گی اور ہر برائی اپنی مکروہ شکل اختیار کرے گی۔ پھر اس برے انجام تک پہنچنے کا جو اصل سبب ہے اس کو بیان فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں کا گمان یہ تھا کہ ہم جیسی کیسی زندگی گزار رہے ہیں اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا۔ اور جو کچھ قرآن کریم میں قیامت کا یقین پیدا کرنے کے لیے آیات نازل ہوئیں اور جو کچھ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کا نہایت برے طریقے سے انھوں نے انکار کیا۔ اور جن لوگوں نے نہایت ہمدردی اور خیرخواہی سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی ان کی جان کے لاگو ہوگئے۔ اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو یہ سمجھتے تھے کہ نہ قیامت آئے گی نہ ان کا حساب کتاب ہوگا۔ لیکن ہم نے ان کے اقوال و افعال، ان کی حرکات و سکنات حتیٰ کہ ان کی نیتوں اور خیالات اور مقاصد تک کا مکمل ریکارڈ تیار کر رکھا تھا۔ جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا اور کہا ہم نے کوئی بات بھی ریکارڈ میں درج کرنے سے چھوڑی نہیں۔ آخر میں فرمایا کہ تم تو اپنے انجام سے بیخبر رہے لیکن ہم نے تمہارے اعمال محفوظ کرنے میں کوئی کمی نہیں ہونے دی۔ اب تم اپنے اعمال کا مزہ چکھو۔ اور ساتھ ہی یہ چتائونی بھی سنا دی کہ اب اس کی امید مت رکھو کہ تمہارے عذاب میں کوئی کمی ہوگی یا کوئی تبدیلی عمل میں آئے گی۔ ہاں اگر کوئی تبدیلی عمل میں آئی تو وہ صرف یہ ہوگی کہ تمہارے عذاب یا عذاب کی نوعیت میں اضافہ کردیا جائے گا۔
Ayahs 78:31–35

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

یقینا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کامیابی کا ایک مقام ہے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اٹھتی ہوئی جوانیوں والی ہم سن لڑکیاں

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور چھلکتے ہوئے جام

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

نہ اس میں بک بک سنیں گے نہ بہتان طرازی

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مُفَازًا۔ حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًا۔ وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا۔ وَّکَاْسًا دِھَاقًا۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلاَ کِذّٰبًا۔ (النبا : 31 تا 35) (یقینا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کامیابی کا ایک مقام ہے۔ باغ اور انگور۔ اٹھتی ہوئی جوانیوں والی ہم سن لڑکیاں۔ اور چھلکتے ہوئے جام۔ نہ اس میں بک بک سنیں گے نہ بہتان طرازی۔ ) قیامت سے ڈرنے والوں کا صلہ اس سے پہلے ان لوگوں کا تذکرہ ہوا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے نفس کے اتباع میں سرکشی کی زندگی گزارتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کا انجام بھی بیان ہوا۔ اب ان کے مقابلے میں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے، ہر کام کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا کی فکر کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ خیال ان کے دامن گیر رہتا ہے کہ ایک نہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کو یہاں متقین کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انھیں اپنے تقویٰ ، خدا ترسی اور جوابدہی کے خوف کے تحت گزاری ہوئی زندگی کا صلہ یہ ملے گا کہ انھیں باغات عطا کیے جائیں گے اور انگوروں سے نوازا جائے گا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنت جس میں ان کا مقام ہوگا وہ بہت بڑے بڑے باغات ہوں گے اور ” حدائق “ کا اطلاق عام طور پر کھجوروں کے باغ پر ہوتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں کھجوروں کے باغ دیئے جائیں گے۔ اور ساتھ ہی ساتھ انگوروں کے باغ بھی دیئے جائیں گے اور یہ کھجوروں کے باغ سے الگ باغ ہوں گے جسے اگر انگورستان کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اہل عرب عام طور پر اس باغ کو نمونے کا اور قیمتی باغ سمجھتے تھے جس کے باہر کھجوروں کے جھنڈ ہوتے جو حصار کا کام دیتے اور اندر اس کے انگوروں اور دوسرے پھلوں اور سبزیوں کے قطعات ہوتے۔ اور یہ ایک بلند جگہ پر واقع ہوتا تاکہ سیلاب کی دستبرد سے محفوظ رہے۔ اور بارش کے پانی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ یہاں حدائق اور اعناب کا ایک ساتھ ذکر ہوسکتا ہے اسی مفہوم کے لیے ہو۔ دونوں صورتوں میں ایک بات تو واضح ہے کہ انھیں کھجوریں بھی فراوانی سے عطا ہوں گی جو اہل عرب کی اصل خوراک ہیں اور انگور بھی بکثرت ملیں گے جو ان کے تفکہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کیے جانے والے احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا۔ یعنی مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا جوڑا بنایا۔ کیونکہ دونوں کی زندگی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ ہیں۔ یہاں بھی شاید یہی فرمایا جارہا ہے کہ کام و دہن کی لذت کے لیے جنت میں جس طرح بیشمار نعمتیں عطا کی جائیں گی اسی طرح مردوں کی تنہائی دور کرنے کے لیے انھیں وہ عورتیں بھی دی جائیں گی جنھیں قرآن و حدیث میں حوروں کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح یہ حوریں مردوں کے سکون کا باعث ہوں گی اسی طرح جنت کے مرد بھی ان کی خوشیوں میں اضافے کا باعث ہوں گے۔ اور ان حوروں کی تعریف میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اٹھتی ہوئی جوانیوں والی ہوں گی۔ ظاہر ہے کہ یہ عمر ہر لحاظ سے اپنے اندر خوشیوں کی نوید رکھتی ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ جن مردوں کو یہ حوریں دی جائیں گی یہ ان کی ہم عمر ہوں گی۔ اور یا سب اہل جنت کے لیے ہم سن اور ہم عمر حوریں ہوں گی۔ وہ آپس میں بھی سہیلیوں کی طرح ملیں گی اور اپنے رفقائِ حیات کے لیے بھی مسرتوں کا پیغام لے کر آئیں گی۔ اور کسی جنتی کو یہ خیال نہیں ہوگا کہ فلاں جنتی کو تو ایسی بیوی دی گئی ہے جو نوخیز کلی کی مانند ہے، لیکن میری بیوی ایسی نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ سب ہم سن لڑکیاں ہوں گی۔ عرب کی کوئی مجلس جو عیش و نشاط کے لیے منعقد ہوتی تھی اس کا لازمی حصہ مے نوشی بھی تھی۔ کیونکہ جب تک وہ شراب کے نشے میں مخمور ہو کر ناچنے نہیں لگتے تھے اس وقت تک اپنی خوشیوں کو نامکمل سمجھتے تھے۔ لیکن یہ خوشیاں چونکہ عارضی گناہ پیدا کرنے والی حرام اور ظلم سے آلودہ ہوتی تھیں، اسلام نے اس سے زندگی بھر کے لیے روک دیا اور اس کے بدلے میں وہ تمام نعمتیں دینے کا وعدہ فرمایا جس کی انسان ہمیشہ تمنا کرتا ہے۔ چناچہ اسی سلسلے میں فرمایا کہ تمہیں جنت میں شراب پینے کی عام اجازت ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ شراب طہور ہوگی جس میں خمار نہیں ہوگا۔ جس کے نتیجے میں کسی گناہ کا تصور ابھرنے نہیں پائے گا۔ ہر مجلس میں بیٹھنے والوں کے ہاتھوں میں چھلکتے ہوئے جام ہوں گے۔ یعنی کثرت شراب نوشی سے انھیں روکا نہیں جائے گا۔ شراب نوشی کی کثرت سے جو مفاسد پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب شراب کے نشے کا عقل پر غلبہ ہوتا ہے تو انسان لغویات بکتا ہے۔ اچھا خاصا سنجیدہ انسان الٹی سیدھی حرکتیں کرتا اور اخلاق سے گری ہوئی باتیں کہتا اور لاف زنی کرتا ہوا ہر انتہا سے آگے نکل جاتا ہے۔ اور دوسری خرابی اس میں یہ ہے کہ عقل و ہوش کے مائوف ہونے کی وجہ سے شراب کی ترنگ میں آکر بعض دفعہ دوسروں پر تہمتیں لگانے سے بھی باز نہیں آتا۔ بعض لوگوں کی بیٹیوں اور بہنوں کا نام لے کر ان سے معاشقے کا اظہار کرتا ہے۔ عرب چونکہ اہل یورپ کی طرح بےغیرت نہیں، غیرت مند لوگ تھے اس لیے شراب کی مجلسوں میں اس طرح کی تہمتیں بعض دفعہ ان کی غیرت کو اس طرح اشتعال دیتیں کہ قبیلوں کی آپس میں جنگ چھڑ جاتی۔ اور ایک شخص کی بدمستی میں کہی ہوئی بات نہ جانے کتنی زندگیوں کے لیے خطرہ ثابت ہوتی۔ چناچہ اسی پس منظر میں فرمایا گیا ہے کہ جنت میں تمہیں شراب کے چھلکتے ہوئے جام ملیں گے اس کو پی کر تم ایک ایسے کیف و سرود میں ڈوب جاؤ گے جس کا دنیا میں تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن وہ تمہاری عقلوں کو مائوف نہیں کرے گی۔ اس لیے وہاں کوئی شخص بھی نہ زبان پر کوئی لغو بات لائے گا، نہ ہر زہ سرائی کرے گا اور نہ کسی پر تہمت باندھے گا۔ لغو سے مراد بےسروپا بےہودہ باتیں اور کذاب سے مراد وہ جھوٹی تہمتیں ہیں جو دشمنی کا باعث بنتی ہیں۔
Ayahs 78:36–37

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

جزاء اور کافی انعام تیرے رب کی طرف سے ہے

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، بڑی رحمت والا ہے، یہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہیں رکھتے

جَزَآئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَـآئً حِسَابًا۔ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَـھُمَا الرَّحْمٰنِ لاَ یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا۔ (النبا : 36، 37) (جزاء اور کافی انعام تیرے رب کی طرف سے ہے۔ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، بڑی رحمت والا ہے، یہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ) جنت کے اعمال کا صلہ بھی اور اللہ تعالیٰ کی عطا بھی اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے یہ جزاء ہے مومنین کے لیے اور عطا ہے ان کے رب کی طرف سے۔ یعنی یہ دادودہش اور یہ قدرافزائی ایک تو یہ مومنوں کے اعمال کا صلہ ہے کہ انھوں نے ہر طرح کے حالات میں جس طرح اسلام قبول کیا پھر اس کے لیے استقامت دکھائی اور ہر طرح کی سہولتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا یہ نعمتیں اس کا بدلہ ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ اور اس کا انعام ہے۔ بظاہر ان دونوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے کیونکہ بدلہ اور جزاء تو اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کے بدلے میں ہو۔ اور عطا وہ ہے جو کسی چیز کے بدلے کی بجائے بطور انعام اور احسان ہو۔ لیکن حقیقت میں ان میں تضاد نہیں۔ قرآن کریم نے ان دونوں لفظوں کو یکجا جمع کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت میں دخول اور اس کی نعمتیں صورت اور اور ظاہر کے اعتبار سے تو اہل جنت کے اعمال کی جزاء ہیں۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ خالص عطائے ربانی ہے۔ کیونکہ انسانی اعمال تو ان نعمتوں کا بدلہ بھی نہیں بن سکتے جو ان کو دنیا میں میسر ہیں۔ آخرت کی نعمتوں کا حصول تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا انعام ہے۔ ” حِسَابًا “ کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ آئمہ تفسیر میں بعض نے پہلے اور بعض نے دوسرے معنی لیے ہیں۔ پہلا معنی یہ ہے حِسَابًا، عَطَائً ، کَافِیًا، کَثِیْرًا یعنی ایسی عطا جو اس کی تمام ضرورتوں کے لیے کافی وافی اور کثیر ہو۔ اور دوسرا معنی حساب کا موازنہ اور مقابلہ۔ حضرت مجاہد نے اس جگہ یہی معنی لے کر مطلب آیت کا یہ قرار دیا کہ عطائے ربانی اہل جنت پر ان کے اعمال کے حساب سے مبذول ہوگی۔ اس عطاء میں درجات بحسابِ اخلاص اور احسانِ عمل کے ہوں گے۔ مزید فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ صلہ جو اوپر مذکور ہوا اس خدائے رحمن کی طرف سے ہوگا جو آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی ساری ہی چیزوں کا مالک ہے۔ کوئی دوسرا کسی چیز میں اس کا شریک وسہیم نہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ باوجود اس کے کہ اہل جنت پر انعامات کی بارش ہوگی۔ باایں ہمہ میدانِ حشر میں رعب اور ہیبت کا عالم یہ ہوگا کہ کسی کو اپنے رب سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں پڑے گی۔ اور کسی میں لب کشائی کی طاقت نہیں ہوگی۔ غالباً یہ بات مشرکین کی غلط فہمی کے ازالے کے لیے بھی فرمائی گئی ہے کیونکہ وہ عقیدہ شفاعت کے غلط تصور کی وجہ سے نچنت بیٹھے تھے اور انھیں اس خیال سے بڑا سہارا ملتا تھا کہ اگر قیامت آئی بھی تو ہماری واپسی اپنے معبودوں کی طرف ہوگی اور وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی رسائی رکھتے ہیں، وہ جو چاہیں گے خدا سے کہہ سکیں گے اور جو چاہیں گے منوا سکیں گے۔ اس لیے فرمایا کہ وہاں تو اذن خدا وندی کے بغیر کسی کو لب کشائی کی بھی ہمت نہیں ہوگی، بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو یہ اعزاز عطا فرمائے۔
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن روح اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے کوئی بات نہیں کرے گا بجز اس کے جس کو رحمن اجازت دے اور وہ بالکل ٹھیک بات کرے گا

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٓئِکَۃُ صَفًّا لا ق ط لاَّ یَتَکَلَّمُوْنَ اِلاَّ مَنْ اَذِنَ لَـہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۔ (النبا : 38) (جس دن روح اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے کوئی بات نہیں کرے گا بجز اس کے جس کو رحمن اجازت دے اور وہ بالکل ٹھیک بات کرے گا۔ ) آیتِ کریمہ میں روح سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ قرآن کریم نے جگہ جگہ ان کے لیے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا مطاع اور گل سرسبد بنایا ہے۔ ان کا پہلے ذکر عام سے پہلے خاص کے ذکر کے طور پر ہے۔ اس کے بعد ملائکہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ سب سے زیادہ فرشتوں کی سفارش پر اعتماد کرتے تھے۔ وہ انھیں اپنے زعم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک سمجھنے کی وجہ سے ان کی پوجا بھی کرتے تھے اور ان سے استمداد بھی کرتے تھے۔ یہاں کہنا یہ ہے کہ فرشتے اور ان کے سردار قیامت کے دن سب غلاموں کی طرح صف بستہ کھڑے ہوں گے اور ان میں سے کسی کو لب کشائی کی جرأت نہیں ہوگی۔ تم جن کی شفاعت پر اعتماد رکھتے ہو وہ تو خود پروردگار کے جلال کے سامنے لرزاں و ترساں بولنے سے معذور کھڑے ہوں گے۔ تو جب ان کا قیامت کے دن یہ حال ہوگا تو اور کسی کے بارے میں کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور مشرکین کی سفارش کرے گا اور نازوانداز سے اپنی بات منوا سکے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہاں سفارش کا امکان اس شخص کے لیے ہوگا جسے اللہ تعالیٰ سفارش کا اعزاز بخشیں اور جس کسی کے لیے سفارش سننا پسند فرمائیں۔ گویا سفارش اور شفاعت کی پہلی شرط اذن خداوندی ہے۔ اور یہ ہم جانتے ہیں کہ شفاعت کا اذن اس شخص کے لیے ملے گا جو گناہگار ہوگا لیکن اس کا دامن شرک سے آلودہ نہیں ہوگا۔ اور دوسری شرط اس میں یہ ہے کہ سفارش کرنے والی عظیم شخصیت بھی کسی گناہگار کے بارے میں ایسی بات کبھی نہ کہہ سکے گی جو صواب اور راستی سے ہٹی ہوئی ہو۔ دوسرے لفظوں میں شفاعت کے اعزاز پانے والے خود جن صفات کے حامل ہوں گے انھیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور غلط بات کہنے کی جرأت کریں گے۔
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرے

ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ ج فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰ بًا۔ (النبا : 39) (وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرے۔ ) اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس قوم پر عذاب نہیں بھیجتا اور نہ قیامت کے روز ان سے بازپرس کرے گا جن پر اتمامِ حجت نہ ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے محض اپنے فضل و کرم سے یہ بات لے رکھی ہے کہ میں کسی کو بھی پکڑنے سے پہلے کسی نہ کسی ڈرانے والے کو اس قوم میں ضرور بھیجوں گا۔ وہ ان کے سامنے ضروریاتِ دین کو واضح کرے گا اور اس نظام حق کی ایک ایک بات کو کھولے گا جس پر عمل کرنے سے آخرت میں سرخروئی ملتی ہے۔ اور جب کسی پیغمبر کے واسطے سے اس فرض کو انجام دے دیا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس ذمہ داری سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ اسی کو براء تِ ذمہ کہتے ہیں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کی بعثت مبارکہ سے اس ذمہ داری کو باحسن طریق انجام دے دیا گیا۔ اور اب اہل عرب کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرکے یہ فرمایا جارہا ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے، کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔ تم پر یہ بات پوری طرح واضح کردی گئی ہے۔ تو جس شخص کو آخرت کی سرخروئی عزیز ہے اور وہ جہنم کے عذاب سے بچنا چاہتا ہے تو وہ اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے۔ یعنی وہ راستہ جسے صراط مستقیم کہا گیا ہے۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تم لوگوں کو ایک قریب آجانے والے عذاب سے آگاہ کردیا ہے، جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا، کاش ! میں مٹی ہوتا

اِنَّآ اَنْذَرْنٰـکُمْ عَذَابًا قَرِیْـبًاصلے ج 5 یَّوْمَ یَنْظُرُالْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰـلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰ بًا۔ (النبا : 40) (ہم نے تم لوگوں کو ایک قریب آجانے والے عذاب سے آگاہ کردیا ہے، جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا، کاش ! میں مٹی ہوتا۔ ) آخری تنبیہ یہ آخری تنبیہ ہے اور اتمامِ حجت بھی۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کردیا ہے جو بالکل قریب آچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عذاب سے کون سا عذاب مراد ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسول کے بعثت کے بعد ہر اس قوم پر آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کرتی اور پھر اس پر جم جاتی ہے۔ لیکن آیت کا دوسرا جملہ اس بات پر قرینہ ہے کہ اس سے مراد دنیا میں آنے والا عذاب نہیں جو سنت الٰہی کے مطابق آتا ہے بلکہ اس سے مراد قیامت ہے۔ اور اس میں مجرمین کو ہونے والا عذاب ہے کیونکہ وہی دن ہوگا جب آدمی اپنی آنکھوں سے اپنے تمام اعمال کو دیکھے گا۔ اس پر سوال یہ ہے کہ اس میں تو فرمایا گیا ہے کہ یہ عذاب بالکل قریب آچکا ہے جبکہ قیامت کے آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اور اس آیت کریمہ کو نازل ہوئے بھی تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کا عرصہ ہونے کو ہے۔ اور آئندہ بھی کچھ خبر نہیں کہ قیامت کا وقوع کب ہوگا۔ تو پھر اسے قریب کیسے کہا جاسکتا ہے۔ بات درحقیقت یہ ہے کہ ایک انسان کے لیے دو مرحلے فیصلہ کن ہیں۔ پہلا مرحلہ دنیا کی زندگی ہے۔ یہ مہلت عمل ہے اور یہاں کا ایک ایک لمحہ آخرت کے امتحان کی تیاری کے لیے ہے۔ جب موت زندگی کا چراغ گل کردیتی ہے تو یہ مرحلہ ختم ہوجاتا ہے۔ اور عمل کے تمام امکانات بھی معدوم ہوجاتے ہیں۔ اب اس کے بعد دوسرا مرحلہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس زندگی میں جو کچھ کیا گیا ہے اس کی جانچ پرکھ کا وقت آئے اور پھر جزاء و سزا کا فیصلہ ہو۔ درمیان میں برزخی زندگی صرف انتظار کی مدت ہے جو انسانی زندگی کے لیے فیصلہ کن نہیں۔ تو جب انسان موت کا شکار ہوتا ہے اور پہلا مرحلہ اختتام کو پہنچتا ہے تو مہلت عمل ختم ہوجانے کی وجہ سے یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کی قیامت کا آغاز ہوگیا۔ کیونکہ اب صرف جزاء و سزا کا انتظار ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُـہٗ ” جو شخص مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ “ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح موت آدمی کے بہت قریب ہے اسی طرح قیامت بھی قریب ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کررہا ہے۔ مرنے کے جب صرف روح باقی رہ جائے گی وقت کا احساس و شعور باقی نہ رہے گا۔ اور قیامت کے روز انسان جب دوبارہ زندہ ہو کر اٹھے گا اس وقت اسے یوں محسوس ہوگا کہ ابھی سوتے سوتے کسی نے اسے جگا دیا ہے۔ اس کو یہ احساس بالکل نہیں ہوگا کہ وہ ہزارہا سال کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہے۔ وہ قیامت اور آخرت جسے جزاء کا دن کہا جاتا ہے اس کا وقوع تو اپنے وقت پر ہوگا جس کا ٹھیک ٹھیک علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ لیکن جہاں تک قیامت کی علامت جزاء و سزا کا تعلق ہے اس کا ظہور بعض دفعہ افراد اور قومیں دنیا میں بھی دیکھتے ہیں۔ حالانکہ دنیا دارالعمل ہے لیکن کبھی کبھی بعض اعمال کے نتائج دنیا میں بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اور اگر اس کا دائرہ وسیع ہو اور قوم کا بیشتر حصہ اس کی لپیٹ میں آجائے تو اہل نظر محسوس کرنے لگتے ہیں کہ قیامت برپا ہوگئی۔ اور ایسی قیامت یں شاید اس لیے ہوتی ہیں تاکہ اصل قیامت کی یاددہانی کرا سکیں۔ آج بھی دنیا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے اور امت مسلمہ بالخصوص ہر روز ایک نئی قیامت کا سامنا کر رہی ہے۔ اس لیے جگر مرادآبادی نے کہا : اربابِ نظر کی خدمت میں اتنی سی گزارش ہے میری دنیا سے قیامت دور سہی دنیا کی قیامت دور نہیں آیت کے آخری حصہ میں فرمایا گیا ہے کہ آج اہل مکہ اور اشرافِ قریش کو قیامت کا یقین نہیں آتا بلکہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور اس کی فکر کرنے کی بجائے سرکشی کا رویہ دکھاتے ہیں۔ اور اگر انھیں کوئی سمجھانے کی کوشش کرے تو پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے۔ لیکن جب ان کا قیامت سے سامنا ہوگا ان میں سے ایک ایک کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی ہی رہا ہوتا اور مجھے مٹی سے نہ اٹھایا جاتا تاکہ آج میں اس صورتحال کا سامنا نہ کرتا۔ لوگوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ اس حسرت ناک انجام سے دوچار ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف راستہ اختیار کریں۔