Ayahs 77:1–5وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ (المرسلات : 1 تا 5)
(قسم ہے ان ہَوائوں کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں۔ پس وہ اڑاتی ہیں غبار اندھادھند۔ اور قسم ہے ان ہَوائوں کی جو پھیلانے والی ہیں (بادلوں کو) ۔ پھر ( ان کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں۔ پھر ڈالتی ہیں یاددہانی۔ )
وقوعِ قیامت پر پانچ قسموں کا مفہوم اور تعین
ان آیات میں پروردگار نے پانچ قسمیں کھائی ہیں اور ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم میں بالعموم قسموں کی حیثیت دلائل اور شواہد کی ہوتی ہے۔ اور بعد میں آنے والا جملہ مقسم علیہ یا دعویٰ کہلاتا ہے۔ دعویٰ کے ثبوت کے لیے قسموں کی صورت میں دلائل مہیا کیے جاتے ہیں۔ پیش نظر آیات میں وقوع قیامت پر پانچ قسموں کی صورت میں دلائل دیئے گئے ہیں۔
ان آیات میں جن چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں ان کا نام نہیں لیا گیا۔ البتہ موصوف کے ذکر کے بغیر صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے موصوف کے تعین میں صحابہ اور تابعین میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض حضرات نے ان پانچوں صفات کا موصوف فرشتوں کو قرار دیا ہے۔ بعض حضرات نے ہَوائوں کو اور بعض حضرات کے نزدیک خود انبیاء اور رسل اس کے موصوف ہیں۔ ابن جریر طبری نے اس معاملے میں توقف اور سکوت کو اسلم قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک فرشتے اور ہَوائیں دونوں کو موصوف قرار دینے کا امکان ہے لیکن ہم اپنی طرف سے کسی کو متعین نہیں کرتے۔ اور ابن کثیر نے پہلی تین صفات کا موصوف ہَوائوں کو قرار دیا ہے اور باقی دو صفات کا موصوف ان کے نزدیک فرشتے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ اس طرح سے کسی قسم کی تأویل کرنے ضرورت پیش نہیں آتی۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ جب ایک ہی سلسلہ کلام میں پانچ صفات کا مسلسل ذکر کیا گیا ہے اور کوئی علامت بیچ میں ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ کہاں تک ایک چیز کی صفات کا ذکر ہے اور کہاں سے دوسری چیز کی صفات کا ذکر شروع ہوا۔ تو یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ محض کسی بےبنیاد قیاس کی بنا پر ہم یہ دعویٰ کریں کہ یہاں دو یا تین مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، بلکہ اس صورت میں نظم کلام خود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پوری عبارت کو کسی ایک ہی چیز کی صفات سے متعلق مانا جائے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان قسموں سے جس بات پر استدلال کیا جارہا ہے ان دونوں کے درمیان گہری مناسبت کا ہونا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ ان آیات میں جو قسمیں صفات کی صورت میں آئی ہیں وہ ہَوائوں کی صفات ہیں اور ان سے ملائکہ مراد لینا دلیل کی قوت کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا، کیونکہ جس طرح قیامت کا وقوع غیرمحسوس ہے ملائکہ بھی اسی طرح غیرمحسوس ہیں۔ اور غیرمحسوس سے ایک غیرمحسوس کا اثبات کیا اہمیت رکھتا ہے۔ اب ہم ان قسموں کی کسی حد تک تشریح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا … مُرْسَلٰتِ کے معنی ہیں چھوڑی ہوئی، اور اس پر وائو قسم کے لیے ہے۔ یہ لفظ یہاں ہَوائوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ عُرْفًا کا ایک معنی کیا جاتا ہے، پے در پے۔ اور دوسرا معنی ہوتا ہے، گھوڑے کی ایال کے بال جو پیشانی پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ گھوڑے کا سوار جب گھوڑے کی ایال کو پکڑ کر کھینچتا ہے تو گھوڑا رک جاتا ہے۔ اور جب اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ سرپٹ بھاگنے لگتا ہے۔ یہاں یہ کہنا مقصود ہے کہ ہَوائیں بےپناہ زور اور قوت کے باوجود اس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت کے قابو میں ہیں جس طرح گھوڑا اپنے سوار کے قابو میں ہوتا ہے۔ ان کی ایال کے بال بھی اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں۔ یعنی ان کی پیشانی خدا کی مٹھی میں ہے۔ جب وہ چاہتا ہے ان کو روک لیتا ہے، جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔
فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا … عاصفات، عصف سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی ہوا کے تیز چلنے کے ہیں۔ یہ ہَوائوں کا دوسرا مرحلہ ہے، جبکہ انھیں بگٹٹ چھوڑ دیا جاتا ہے تو اندھادھند چلنے لگتی ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ طوفان اور عذاب بن جاتی ہیں۔ اور یہی وہ طوفانی ہَوائیں ہیں جو بعض قوموں کی تباہی کا سبب ہوئی ہیں اور انھیں عذاب کے طور پر ان قوموں پر مسلط کیا گیا ہے۔
وَّالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا … اس سے مراد وہ ہَوائیں ہیں جو بارش ختم ہونے کے بعد بادل کو پھاڑ کر منتشر کردیتی ہیں۔ پہلی دو آیتوں میں جو قسم کھائی گئی ہے وہ ان طوفانی ہَوائوں کی ہے جو بعض دفعہ عذاب کی صورت اختیار کرجاتی ہیں۔ اور یہ قسم ابررحمت والی ہَوائوں کی ہے جن پر زندگی کے قیام و بقا کا انحصار ہے۔
فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا … یہ وہ ہَوائیں ہیں جو بادلوں میں فرق و امتیاز کرنے والی ہیں۔ کبھی بادلوں کو ہانک کر لاتی ہیں اور کبھی اڑا کرلے جاتی ہیں۔ کسی ایک علاقہ کو نہال کر جاتی ہیں اور دوسرے کو تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ اگر یہ ہَوائیں خودمختار ہوتیں اور اپنی مرضی کی آپ مالک ہوتیں تو ایسا کبھی نہ ہوتا کہ کہیں جل تھل ایک ہوجائے اور کہیں تشنگی برستی رہے۔ بلکہ وہ ایک بالاتر قوت کے تابع فرمان ہیں۔
فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا … پھر لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی یاد یا اس کا خوف ڈالنے والی ہیں۔ یعنی ان ہَوائوں سے جہاں زمین میں زندگی پیدا ہوتی اور زمین کی نبات سرشار ہوجاتی ہے، اسی طرح ان ہَوائوں سے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہوتی، اور اس کے خوف کے سائے دماغوں میں لہرانے لگتے ہیں۔ زمین جل رہی ہوتی ہے کہ آسمان و زمین میں توافق کی حکمت حرکت میں آتی ہے اور آسمان سے حیات بخش بارش برسنے لگتی ہے اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دلوں میں تازہ ہوجاتی ہے کہ اگر کائنات کا خدا ایک نہ ہوتا تو یہ دو متضاد مخلوقات میں توافق کیسے پیدا ہوجاتا۔
زمین مردہ نباتات کو اگاتی اور ازسرنو زندگی کا پیغام سنانے لگتی ہے۔ جابجا لہراتی ہوئی فصلیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی شان یاد دلاتی ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ خیال تازہ ہونے لگتا ہے کہ جو پروردگار مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے وہ بعث بعدالموت اور حشرونشر پر بھی قادر ہے۔
Ayahs 77:6–7عُذْرًا اَوْنُذْرًا۔ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ۔ (المرسلات : 6، 7)
(اتمامِ حجت کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر۔ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ )
ہَوائوں کے تصرفات سے جو حیرت انگیز چیزیں سامنے آتی ہیں، یہ ان کا مقصد بیان ہوا ہے۔ یعنی جو کچھ ہمیں دکھایا جارہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں پر اتمامِ حجت ہے یا انھیں بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ یعنی جو لوگ اتنی بڑی نشانیوں سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے اور غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں، ان لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے۔ اور جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان لوگوں کو یاددہانی حاصل ہوتی ہے۔ ہَوائوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نیرنگی کا اظہار اور اس کی بےپایاں حکمت کی نمود اور اس کے نتیجے میں حیرت میں ڈالنے والے آثار و نتائج، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ انتظام ایک غالب قدرت کا انتظام ہے جس کے لیے نہ زندگی کو وجود میں لانا خارج از امکان ہوسکتا ہے اور نہ اسے مٹا دینا۔ اور نہ مٹا کر دوبارہ وجود میں لے آنا۔ اس کی قدرت سے یہ بات کوئی بعید نہیں کہ وہ ایک دن قیامت کو برپا کردے جس کی پیدا کردہ ہَوائوں کے جھونکے زندگی کا سامان بھی ہیں اور تباہی کا پیغام بھی۔ کیا ان سے یہ بات اخذ کرنا مشکل ہے کہ اس کائنات پر ایک زبردست اقتدار کارفرما ہے جو زندگی کے سب سے بڑے ذریعہ کو جب چاہے اس کے لیے رحمت اور جب چاہے ہلاکت کا سبب بنا سکتا ہے اور انسان اس کے کسی فیصلے کو بھی روک دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ … گزشتہ آیات میں جو قسمیں مذکور ہیں یہ ان کا مقسم علیہ ہے۔ قیامت کے منکرین کو ہَوائوں کے تصرفات کی طرف توجہ دلا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ ان ہَوائوں کے تصرفات کو غور سے دیکھو، ان کی طاقت کا اندازہ کرو، صرف ان کے افادی پہلو کو دیکھ کر نہ رہ جاؤ، ان کے تباہ کن اثرات کو بھی ذہن میں لائو اور پھر معذب قوموں کی تاریخ میں ہمیں جن ہولناک عذابوں کا ذکر ملتا ہے ان میں کتنے عذاب ہیں جو ہَوائوں کے ذریعے سے بھیجے گئے ہیں، انھیں بھی حافظے میں تازہ کرو اور پھر اپنی قوت و سطوت کی حدود کو بھی پہچاننے کی کوشش کرو تو تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ تمہیں جس چیز سے ڈرایا جارہا ہے اور جس چیز کا وعدہ کیا جارہا ہے اسے برپا کرنے کے لیے پروردگار کو کسی بڑے اہتمام کی ضرورت نہیں پڑے گی، وہ ان ہَوائوں کے پیچ ذرا ڈھیلے چھوڑ دے تو جن ہَوائوں کو تم زندگی کی راحتوں کا سامان سمجھتے ہو وہ چشم زدن میں تمہاری بستیوں کو الٹنے اور تمہارا نام و نشان مٹانے پر قادر ہیں۔ اس کے باوجود تم یہ سمجھتے ہو کہ عذاب یا قیامت تم سے بہت دور ہے اور ان کا وقوع تمہارے نزدیک بعیداز عقل ہے، تو پھر ایسی عقل پر ماتم کرنا چاہیے۔
Ayahs 77:8–10فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ ۔ وَاِذَا السَّمَـآئُ فُرِجَتْ ۔ وَاِذَالْجِبَالُ نُسِفَتْ ۔ (المرسلات : 8 تا 10)
(پس جب ستارے مٹا دیئے جائیں گے۔ اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا۔ اور جب پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ )
نفخہ اولیٰ کے بعد کی ہلچل
قیامت کے پہلے مرحلے میں جو نفخہ اولیٰ کے بعد وقوع پذیر ہوگا جس طرح کی ہلچل مچے گی اور جو ہمہ گیر تباہی بروئے کار آئے گی ان میں سے چند ایسے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں کائنات کی بہت عظیم اور بڑی ہی پرشوکت مخلوقات کی تباہی کا منظر پیش کیا گیا ہے جن کے بارے میں مشرکین کا عام تأثر یہ تھا کہ یہ چیزیں اپنے حجم اور اپنے استحکام میں اس قدر عظیم ہیں کہ ان کے ٹوٹنے اور تباہ ہونے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چناچہ ایسی ہی چند مخلوقات کی تباہی کے ذکر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جن مخلوقات کو تم ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے اور جن کی تباہی تمہارے نزدیک ناممکن تھی جب ان کا حشر وہ ہوگا جیسا کہ ہم ذکر کررہے ہیں تو اس سے اندازہ کرو کہ قیامت کے دن کی ہولناکی کا عالم کیا ہوگا۔ ان میں سب سے پہلے فرمایا کہ اس تصور کو ذہن میں لائو جب ستارے بےنشان کردیئے جائیں گے۔
طَمِسَکے معنی کسی چیز کو مٹا دینے، بگاڑ دینے اور بےنشان کردینے کے ہیں۔ سورة النساء آیت 47 میں فرمایا گیا ہے کہ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰی اَدْبَارِہَا ” اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں اور ان کو ان کے پیچھے پھیر دیں۔ “ پیش نظر آیت کا معنی ہوگا جبکہ ستارے بےنور اور بےنشان کردیئے جائیں گے۔ ستارے جو انسانی آنکھ سے غیرمعمولی فاصلے پر اور سائنسدانوں کے بقول اپنے حجم میں زمین سے بہت بڑے ہیں اور پھر ان کی تعداد حدشمار سے باہر ہے لیکن قیامت کے دن جب ہر چیز تباہی کا شکار ہوگی تو یہ بھی تباہ و برباد کردیئے جائیں گے۔
وَاِذَا السَّمَـآئُ فُرِجَت … آسمانوں کے بارے میں بھی آنحضرت ﷺ کی ہم عصر دنیا کا تصور یہ تھا کہ ان کی وسعت، ان کا استحکام اور ان کا ٹھوس ہونا ہر طرح کے نقصان سے ماورا ہے۔ لیکن پیش نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انھیں بھی پھاڑ دیا جائے گا۔ اور ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ آسمان کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے، دروازے بن کے رہ جائے گا۔ اور سورة انفطار میں فرمایا کہ آسمان پاش پاش ہوجائے گا۔ یعنی عالم بالا کا بندھا ہوا نظام جس کی بدولت ہر ستارہ اور سیارہ اپنے مدار پر قائم ہے اسے توڑ ڈالا جائے گا اور اس کی ساری بندشیں کھول دی جائیں گی۔
وَاِذَالْجِبَالُ نُسِفَتْ … نسف کے معنی ریزہ ریزہ کردینے، پیس دینے، پراگندہ کردینے اور دھنک ڈالنے کے ہیں۔ منکرینِ قیامت پہاڑوں کے بارے میں خاص طور پر یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ کبھی زوال کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ ان میں سے بعض لوگ جب قیامت کا مذاق اڑاتے تو پہاڑوں کے بارے میں خاص طور پر سوال کرتے کہ ان پہاڑوں کا کیا بنے گا۔ چناچہ سورة طٰہٰ آیت 105 میں قرآن کریم نے ان کے سوال کا بھی ذکر کیا ہے اور اپنے جواب کا بھی۔ ارشاد ہے وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّی نَسْفًا ” وہ آپ سے پہاڑوں کی بابت سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے، میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔ “
انسانی آنکھوں میں جو بڑی بڑی چیزیں ہیں ان میں آسمان، ستارے اور پہاڑ اپنی عظمت اور اہمیت میں غیرمعمولی سمجھے جاتے ہیں ان کی تباہی اور بربادی کے ذکر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قیامت کے دن ایک ایسی ہمہ گیر اور ہولناک تباہی مچے گی کہ جس کے سامنے ہر چھوٹی بڑی مخلوق ذرہ ناچیز ہو کے رہ جائے گی۔ ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت غالب نظر آئے گی اور اس کی حاکمیت کا پھریرا ہر طرف لہراتا دکھائی دے گا۔
Ayah 77:11وَاَذَا الرُّسُلُ اُقِّـتَتْ ۔ (المرسلات : 11)
(اور جب رسولوں کا وقت مقرر کردیا جائے گا۔ )
نفخہ ثانیہ کے بعد کی کیفیت
اُقِّـتَتْ… اصل میں وُقِّـتَتْ ہے، تعلیل کے بعد اُقِّـتَتْہوگیا۔ یہ توقیت سے مشتق ہے جس کے اصلی معنی تعیینِ وقت اور تحدیدِ وقت کے ہیں۔ اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ ” وقت مقرر کیا جائے گا “ سے کیا ہے۔ علامہ زمخشری کا خیال ہے کہ اس کے معنی ہوتے ہیں ” کسی مقررہ وقت پر پہنچ جانا۔ “ لیکن انجام کے اعتبار سے دونوں معنی میں کوئی فرق نہیں۔ رسولوں کا وقت مقرر کیا جائے گا، تو مفہوم اس کا یہ ہے کہ وہ وقت مقرر پر پہنچیں گے۔ اور اگر یہ معنی کیا جائے کہ رسول اپنے مقررہ وقت پر پہنچ گئے تو مفہوم اس کا بھی یہی ہے کہ جو وقت ان کا مقرر کیا گیا تھا اس پر وہ حاضر ہوگئے۔
گزشتہ تین آیات میں قیامت کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا گیا ہے کہ قیامت کی ہولناکی اس حد تک پہنچ جائے گی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت بلند مرتبہ اور نہایت مقرب ہیں انھیں بھی حکم دے دیا جائے گا کہ وہ فلاں وقت پہنچ کر اپنی قوموں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ کے حضور یہ بتائیں کہ انھوں نے اپنے فریضہ انذار کا حق کہاں تک ادا کیا تھا۔ اور ان کی امتوں نے کیا جواب دیا تھا۔ سورة المائدہ آیت 109 میں تفصیل سے اس گواہی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ ” جس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر ان سے پوچھے گا تمہیں امتوں کی طرف سے کیا جواب دیا گیا یہ وقت امتوں اور رسولوں دونوں کے لیے انتہائی گھبراہٹ میں ڈالنے والا ہوگا۔ رسول اپنے فریضہ کی ادائیگی کے حوالے سے دربار میں بلائے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ آپ نے اپنے فریضہَ انذار کو کہاں تک ادا کیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی رسول نے بھی اس فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی۔ لیکن بارگاہِ حق میں طلبی اور جواب دہی ایسی شخصیات کے لیے جنھیں اللہ تعالیٰ نے صرف اعمال ہی نہیں، احساسات میں بھی معصومیت بخشی، انتہائی تکلیف دہ بات ہوگی۔ اس لیے جب تک اس مرحلے سے گزر نہیں جائیں گے وہ لرزاں و ترساں رہیں گے۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات احادیث میں ذکر کی گئی ہے کہ آپ اس موقع کے تصور سے بھی لرز اٹھتے تھے۔ اور جہاں تک امتوں کا حال ہے ان کے جزاء و سزا کا معاملہ چونکہ پیغمبروں کی گواہی پر انحصار رکھتا ہوگا اور اسی گواہی کے نتیجے میں وہ اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ اس لیے وہ اس موقع پر نہایت پریشان کن صورتحال سے دوچار ہوں گی۔
Ayahs 77:12–13لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ ۔ لِیَوْمِ الْفَصْلِ ۔ (المرسلات : 12 13)
(کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا۔ فیصلے کے دن کے لیے۔ )
فیصلے کے دن کی اہمیت
گزشتہ آیت میں رسولانِ گرامی کی حاضری کا وقت مقرر کرنے کی جو بات کہی گئی ہے اس کا تعلق نفخہ ثانیہ کے بعد سے ہے۔ مکمل تباہی کے بعد دوسرا مرحلہ میدانِ حشر کے قائم ہونے سے تعلق رکھتا ہے جس میں تمام انسانوں کو جوابدہی کے لیے طلب کیا جائے گا اور یہ وہ مرحلہ ہوگا جو جزاء و سزا کے اعتبار سے انسانوں کے لیے سب سے مشکل ہوگا۔ اس میں افراد کا حساب بھی ہوگا اور قوموں کا بھی۔ قوموں کے انجام کا آخری فیصلہ رسولانِ گرامی کی گواہی سے وابستہ ہوگا۔ اس لیے اس واقعہ کی اہمیت ہر شخص کے انجام اور قوموں کے انجام کے اعتبار سے نہایت واضح اور اہم ہے۔ اسی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان کی حاضری کا وقت، تمہیں معلوم بھی ہے کس دن کے لیے اٹھا رکھا تھا ؟ اور ان مقدس لوگوں کے مقام و مرتبہ کو دیکھتے ہوئے کیا تم اندازہ کرسکتے ہو کہ اس دن کی اہمیت کا عالم کیا ہوگا۔ پھر خود ہی فرمایا کہ یہ دن وہ ہے جس کو یوم الفصل کہا جاتا ہے، یعنی جب ہر فرد اور ہر قوم کا فیصلہ ہوگا کہ انھوں نے دنیا میں کس طرح زندگی گزاری اس کا ایک ایک عمل سامنے ہوگا اور ان کا اعمال نے جو نتائج پیدا کیے اور ان کے اثرات جہاں جہاں تک پھیلے ہر چیز نظروں کے سامنے لائی جائے گی۔ اور اس یوم الفصل کی اہمیت کو مزید واضح کرنے کے لیے فرمایا تاکہ انسان اس دن کی تیاری کے لیے کچھ کرسکے۔
Ayah 77:14وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَایَوْمُ الْفَصْلِ ۔ (المرسلات : 14)
(اور تم کیا جانو کہ کیا ہے فیصلے کا دن۔ )
یہ اسلوبِ کلام کسی چیز کی عظمت وہیبت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں بھی اس کی عظمت کو نمایاں کیا گیا اور پیش نظر آیت میں بھی سوال کی صورت میں اس کی عظمت کو مزید اجاگر کیا گیا تاکہ جس دل میں اپنے انجام کی کچھ بھی فکر ہے اسے گہرائی نصیب ہو۔ اور جو آج تک اس سے بےفکر رہا ہے، اسے سوچنے کا موقع ملے۔
Ayah 77:15وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 15)
(تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
قیامت کا نتیجہ
اس آیت کریمہ میں ایک تو اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ قیامت کو جو فیصلے کا دن بنایا گیا ہے اس فیصلے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اور دوسرا اس میں قریش اور اہل مکہ کو وارننگ دی گئی ہے کہ تم اگر اس قیامت کا مذاق اڑاتے رہو گے اور اسے بعیداز عقل سمجھتے ہوئے تذبذب کا شکار رہو گے اور یا اپنے عیش و عشرت میں مست ہو کر زندگی لاپرواہی کی نذر کردو گے تو اس دن کا آنا تو اٹل ہے، اسے تو بہرحال آنا ہے، تمہیں ہم خبردار کیے دیتے ہیں کہ وہ دن جس طرح اپنے ماننے والوں کے لیے کامیابیوں، کامرانیوں اور راحتوں کا پیغام لے کر آئے گا، اسی طرح تکذیب کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ثابت ہوگا۔ تم سوچ لو کہ اپنے لیے کیا پسند کرتے ہو۔
Ayahs 77:16–19اَلَمْ نُھْلِکِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ ثُمَّ نُتْبِعُـہُمُ الْاٰخِرِیْنَ ۔ کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 16 تا 19)
(کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ پھر ان کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔ ہم مجرموں کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی۔ )
قیامت کے حق میں تاریخ سے استدلال
آخرت اور قیامت کے حق میں تاریخ سے استدلال فرمایا گیا ہے۔ انسان بعض دفعہ عقلی دلائل کو سمجھ نہیں پاتا یا سمجھ کر جھٹلا دیتا ہے، لیکن تاریخی دلائل کا انکار بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ تاریخ سے آگاہ لوگ اکا دکا نہیں بلکہ بکثرت ہوتے ہیں جبکہ تاریخ بھی کسی قوم کی تباہی کی ہو۔ آپ واقعات کا انکار تو کرسکتے ہیں لیکن کھنڈرات کی کہانی کو تو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ چناچہ اسی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے منکرینِ قیامت سے کہا گیا ہے کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم سے پہلے کتنی قومیں ہلاکت کی نذر ہوچکی ہیں اور یہ سب وہ قومیں تھیں جنھوں نے آخرت کا انکار کرکے زندگی کے بارے میں تصورات وضع کیے، جس کے نتیجے میں دنیا کو دارالعمل سمجھنے کی بجائے اسی کو اصل زندگی سمجھا۔ اور اسی دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج کو خیر و شر کا معیار سمجھ کر اپنا اخلاقی رویہ متعین کیا۔ ان کی طرف آنے والے اللہ تعالیٰ کے رسول انھیں بار بار حقیقی تصورات سے آگاہ کرتے رہے۔ دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی پائیداری کا درس دیتے رہے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ چناچہ اسی تکذیب کے نتیجے میں یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے۔ ان کے بعد جو قومیں اٹھیں اور انھوں نے بھی یہی رویہ اختیار کیا تو وہ بھی ہلاکت کا نشانہ بنیں۔ قوم نوح، عاد اور ثمود اور ان کے بعد کی آنے والی قومیں لوط، مدین اور قوم فرعون وغیرہ تم ان سب سے واقف ہو۔ ان کی تاریخ سینہ بہ سینہ تم تک پہنچی ہے۔ تم تجارتی اسفار میں ان کے کھنڈرات پر سے گزرتے ہو۔ یہ تاریخ مسلسل اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جن قوموں نے رسولوں اور ان کے انذار کی تکذیب کی ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ تو آخر ان ہی کی روش پر چلنے والے آج کے مجرموں کے باب میں ہماری سنت کیوں بدل جائے گی۔
اس کے بعد فرمایا کہ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسی سنت اللہ ہے جو کبھی نہیں بدلی، اور نہ آج اس میں تبدیلی آئے گی۔ تو قریش کو سوچنا چاہیے کہ اگر انھوں نے اپنا طرزعمل نہ بدلا تو اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ان کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ آخر میں ترجیع کی آیت ہے جو بطور خاص اپنے مخاطبوں کو توجہ دلانے کے لیے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون کبھی بدلنے والا نہیں۔ قیامت کی تکذیب کرنے والے ہمیشہ تباہی کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ آج بھی وہ اسی قانون کی زد میں آئیں گے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی گرفت جو عذاب کی صورت میں ہوتی ہے اس کو قیامت کا عذاب نہ سمجھا جائے۔ یہ تو مجرموں کی گرفتاری کی مانند ہے، اصل عذاب تو وہ ہوگا جو قیامت کے دن ہوگا۔ اس لیے فرمایا کہ خرابی تو اس دن ہے مکذبین کے لیے جسے قیامت کہتے ہیں۔ اس لیے دوسری جگہ قرآن کریم نے دنیا کے عذاب کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا وَلَعَذَابٌ الْآخِرَۃِ اَکْبَرُ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ” اور آخرت کا عذاب سب سے بڑا ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔ “
Ayahs 77:20–24اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّـآئٍ مَّھِیْنٍ ۔ فَجَعَلْنٰـہُ فِیْ قَرَارٍمَّکِیْنٍ ۔ اِلٰی قَدَرٍمَّعْلُوْمٍ ۔ فَقَدَرْنَا صلے ق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 20 تا 24)
(کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا۔ پھر ہم نے اس کو رکھا ایک محفوظ جگہ میں۔ ایک معین مدت تک۔ پس ہم نے اس کو ٹھہرایا، ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
قیامت کے وقوع پر ایک انفسی دلیل
گزشتہ آیت کریمہ میں قیامت کے وقوع اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر آفاقی دلیل قائم کی تھی۔ پیش نظر آیات میں انفسی دلیل سے کام لیا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہی گئی ہے اور خود انسان سے اس کا سوال کیا گیا ہے کیونکہ اس کے دو جواب ہو ہی نہیں سکتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا، پانی کی ایک بوند یعنی جس سے انسان نفرت کرتا اور اسے گندہ سمجھتا ہے وہ باپ کی صلب سے نکلتا ہے اور اس میں بیشمار جرثومے ہوتے ہیں جس میں سے ہر جرثومہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بچہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پھر ان بیشمار جرثوموں میں سے ایک جرثومہ جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے ماں کے بیشمار بیضوں میں سے ایک بیضے میں داخل ہو کر بچہ کے جسمانی وجود کی بنیاد بنتا ہے۔ جو شخص بھی اس پراسیس کو گہری نظر سے دیکھے گا وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعت میں ڈوب جائے گا۔ اور پھر مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ اسی جرثومے اور بیضے کو ایک مقررہ مدت تک ایک محفوظ اور جمے ہوئے مقام میں رکھا جاتا ہے۔ کسی کو خبر نہیں کہ ماں کے پیٹ میں استقرارِحمل کے بعد استقرار کی مدت کتنی ہے۔ وہ کتنے مہینے، کتنے دن، کتنے گھنٹے اور کتنے منٹ اور سیکنڈ ماں کے پیٹ میں رہے گا، اس کا ٹھیک وقت ولادت کیا ہوگا۔ کہنے کو بچہ نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں رہتا ہے، لیکن ٹھیک ٹھیک مدت کا تعین اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہوتا۔ اور اس پر مزید یہ کہ جہاں اس بچے کے ابتدائی مادے کو رکھا جاتا ہے وہ جگہ اتنی محفوظ اور اس کی حفاظت اور پرورش کے ایسے مکمل انتظامات ہیں کہ کسی شدید حادثے کے بغیر اس کا اسقاط نہیں ہوسکتا۔ اور پھر یہ انتظامات ایسے ہیں جو انسانی دسترس سے ماورا ہیں۔ اس میں ذرا پیچیدگی پیدا ہوجائے تو بعض دفعہ یہ انسانی قدرت کے لیے لاینحل صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے پروردگار توجہ دلاتے ہیں کہ جب تمہارے رب کی بےپناہ قدرت ایسے نازک مواقع پر اور ایسے حیران کن انداز میں اپنے اظہار پر قادر ہے۔ تو آخر دوبارہ تمہیں پیدا کرنے پر کیوں قادر نہیں۔ ہماری قدرت کا ایک ایک منظر یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ ایسے عاجز نہیں ہیں کہ ایک دفعہ پیدا کرکے دوبارہ پیدا نہ کرسکیں۔ آخر میں ترجیع کی آیت کو لا کر فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ حیات بعد موت کے امکان پر ایسے صریح اور سادہ دلیل کو دیکھتے ہوئے بھی اس کا انکار کرتے ہیں، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ آج تو ان کی زبانیں بےروک ہیں جو چاہیں کہیں اور جیسے چاہیں مذاق اڑائیں، لیکن جب وہ دن آئے گا جسے یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں تو تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ان کے لیے وہ دن تباہی کا دن ہوگا۔
Ayahs 77:25–28اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَا تًا۔ اَحْیَـآئً وَّاَمْوَا تًا۔ وَّجَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّاَسْقَیْنٰـکُمْ مَّـآئً فُرَا تًا۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 25 تا 28)
(کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی۔ اور اس میں بلندوبالا پہاڑ جمائے اور تمہیں خوشگوار پانی پلایا۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
یوم الفصل پر اہتمامِ ربوبیت سے دلیل
کفات، کفت سے ہے۔ اس کے معنی ہیں جمع کرنا، اکٹھا کرنا اور ملانا۔ کفات وہ چیز ہے جو بہت سی چیزوں کو اپنے اندر جمع کرے۔
یوم الفصل کے ممکن اور معقول ہونے پر پروردگار نے اہتمامِ ربوبیت سے دلیل قائم فرمائی ہے۔ اس سے پہلے گندے پانی کی ایک بوند سے انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا۔ اور پھر جس طرح استقرارِحمل کے بعد انسان کو رحم مادر میں رکھ کر اسے تخلیق کے مراحل سے گزارا۔ اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت نے قدم قدم پر اس کی دستگیری فرمائی، اس کی تفصیلات کی طرف اشارے فرمائے۔ اب پیش نظر آیت میں ماں کی آغوش کے بعد زمین کے بچھونے کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ یہ مٹی کا تودہ جو بظاہر بےجان اور بےحس معلوم ہوتا ہے اپنے اندر تربیت و پرورش کی وہ صلاحیت اور وسعت رکھتا ہے کہ جس کی تفصیلات کو جان کر آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی وسعت کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ کس قدر بیشمار مخلوقات اس کی گود میں پل رہی ہیں۔ ہر قسم کی نباتات اور ہر قسم کے حیوانات اور بیشمار جن و انس اس پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اور اس کی آغوش صرف زندوں کے لیے مخصوص نہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی اس گود کی وسعت میں کوئی کمی پیدا نہیں ہوتی۔ جس طرح زندہ لوگوں کی سرگرمیاں اس کے اوپر اس طرح جاری وساری رہتی ہیں کہ کہیں بھی انھیں فطری ارضی رکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا، اسی طرح مرنے کے بعد بھی بیشمار لوگوں کی اس میں قبریں کھودی جاتی ہیں اور انھیں اس کے حوالے کردیا جاتا ہے، لیکن کیا مجال ہے کہ زمین انھیں قبول کرنے سے انکار کرے، یا انھیں ٹھکانے لگانے سے دریغ کرے۔ آبادیاں اٹھائی جاتی ہیں، یہ ان کے بوجھ کو اٹھاتی ہے۔ سرنگیں کھودی جاتی ہیں، یہ ان کو پناہ دیتی ہے۔ لاشوں کو قبول کرتی ہے اور ایک عرصے کے بعد دوسری لاشوں کے لیے آغوش کھول دیتی ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے گہوارے میں جانے والے ہمیشہ کے لیے مٹ نہیں جاتے بلکہ قیامت کے اعلان کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین ان کو اگل کر مہیا کردے گی اور قیامت تک اس طرح اپنی تحویل میں رکھے گی کہ کسی کو ان کی موجودگی کا احساس تک بھی نہیں ہوگا۔
زمین کی افادیت کو دیکھتے ہوئے انسان ششد رہ جاتا ہے۔ دریائوں کا میٹھا پانی، سیماب اگلتے ہوئے چشمے، چاندی بہاتی ہوئی آبشاریں اور زمین دوز پانی کے ذخیرے کہ جب انھیں کھودا جائے تو اپنے وجود سے انکار نہ کریں اور جہاں بھی انسانی آبادی موجود ہے وہاں اپنے وجود سے ان کی سیرابی اور ضرورت کا انتظام کریں۔
زمین کے اندر چھپا ہوا روئیدگی کا خزانہ جو زمین پر پھیلی ہوئی نباتات اور لہلہاتی ہوئی فصلیں اور رسیلے پھلوں سے لدے ہوئے درخت اور چھتریوں کی طرح سایہ کرنے والے خوبصورت پودے، قسم قسم کے پھول اور خوش رنگ بیلیں انسان کی غذائی ضروریات کے ساتھ ساتھ لذت کام و دہن اور ذوق سمع بصر کا سامان بھی ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اسی زمین کو رہائش و پرورش کا گہوارہ بنانے کے لیے پہاڑوں کی میخیں گاڑی گئیں تاکہ زمین کا توازن برہم نہ ہونے پائے۔ پھر انھیں پہاڑوں سے موسموں کے تغیرات، بارشوں کے برسنے، دریائوں کی پیدائش، زرخیز وادیوں کے وجود، قسم قسم کی معدنیات اور طرح طرح کے پتھروں کی فراہمی میں اس طرح کام لیا گیا کہ کسی کو احساس تک بھی نہیں ہوتا کہ یہ بلند وبالا پتھروں کے ڈھیر کیا زمین کی نفع رسانی کی قوت میں ایسا موثر کردار ا انجام دے رہے ہیں۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پہاڑوں کی بلندی ہَوائوں اور بادلوں کو کنٹرول کرنے اور پانی کے قدرتی ذخائر جمع کرنے میں نہایت موثر ہے۔ سمندر بظاہر زمین کے بیشتر حصے کو گھیرے ہوئے ہے اور اپنے اندر کھاری پانی کا ذخیرہ رکھتا ہے جس میں قدرت نے بیشمار فوائد و منافع رکھے ہیں لیکن انسان کے لیے ٹھنڈا پانی مہیا کرنے کے لیے انھیں سمندروں کے کھاری پانی سے صاف ستھرے بخارات اٹھائے جاتے ہیں جن سے نتھرا ہوا پانی برسانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کیا یہ سب کچھ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایک قادر مطلق نے یہ سب کچھ بنایا ہے اور وہ محض قادر ہی نہیں ہے بلکہ علیم و حکیم بھی ہے۔ کیا اس کی علم و حکمت کا یہ تقاضا ہوسکتا ہے کہ وہ محض تفریح کے لیے یہ سب کچھ بنائے اور پھر بچوں کی طرح اس کھلونے کو ایک دن توڑ ڈالے۔ حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کے بعد ایک دوسری دنیا بنائے تاکہ انسان سے ان اعمال کا حساب لے جو اس نے دنیا میں کیے ہیں۔
Ayah 77:29اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْـتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (المرسلات : 29)
(چلو اس چیز کی طرف جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔ )
قیامت میں منکرین کا حشر
فیصلے کے دن کا اثبات بلکہ مشاہدہ، آفاق وانفس کے آثار و شواہد کے اندر کرایا گیا۔ اب بتایا جارہا ہے کہ جب وہ یوم الفصل آجائے گا یعنی قیامت برپا ہوجائے گی تو وہاں منکرین کا کیا حشر ہوگا۔ ان سے کہا جائے گا کہ چلو اس چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے، وہ اب تمہارے انتظار میں ہے۔ اب تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ تم کس خطرناک غلطی کا ارتکاب کرتے رہے ہو۔
Ayah 77:30اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ ۔ (المرسلات : 30)
(چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔ )
گزشتہ آیت میں جس ہولناک چیز کی طرف چلنے کو کہا گیا تھا اس آیت میں اس سے پردہ اٹھایا جارہا ہے۔ فرمایا کہ اس تین شاخوں والے سائے کی طرف چلو۔ ظِلٍّ کے معنی تو سایہ کے ہیں لیکن اس سے مراد معروف سایہ نہیں بلکہ دھویں کا سایہ ہے۔ سورة واقعہ کی آیات 43، 44 میں اس کی تشریح فرمائی گئی ہے۔ وَظِلٍّ مَّنْ یَّحْمُوْمٍ لاَّبَارِدٍ وَّلاَ کَرِیْمٍ ” اور سیاہ دھویں کا سایہ، نہ ٹھنڈا، نہ نفع بخش۔ “
دھویں کے اس سائے کی صفت ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دھواں ان کے آگے تمام سمتوں میں پھیلا ہوا ہے۔ صرف وہی سمت اس کی آفت سے محفوظ ہوگی جس سے یہ مکذبین جیسا کے لفظ اِنْطَلِقُوْٓا سے واضح ہے کھدیڑ دیئے جائیں گے جس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے بعد ان کے لیے دھواں ہی دھواں ہوگا۔
اس ٹکڑے کی تأویل میں بعض اہل علم نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ کفر کی بنیادی خصلتیں تین ہیں
1 اللہ تعالیٰ سے غفلت، 2 مخلوق سے بےپروائی، 3 روزِجزاء کا انکار۔ انھیں تین خصلتوں کے مطابق عذاب کی تین شاخیں ان کی طرف بڑھیں گی اور ان کو چھالیں گی۔ یہ نکتہ لطیف ہے لیکن یہ تینوں خصلتیں باہم دگر بالکل لازم و ملزوم ہیں۔ اور یہ تمام کفار میں مشترک بھی نہیں۔ ان کی بنیاد پر کفار کی الگ تھلگ درجہ بندی کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ سمتیں بہرحال چار ہی ہوتی ہیں۔ تو جب وہ اس سمت سے نکال دیئے جائیں گے جو اس دھویں کے عذاب سے محفوظ ہوگی تو تین سمتیں بچ رہتی ہیں اور یہ تینوں اس دھویں کے احاطہ میں ہوں گی، گویا اس کے بعد وہ ہر طرف سے دھویں کے عذاب میں ہوں گے۔ (تدبرِقرآن)
Ayah 77:31لاَّظَلِیْلٍ وَّلاَ یُغْنِیْ مِنَ اللَّھَبِ ۔ (المرسلات : 31)
(نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا۔ )
ظِلْکی وضاحت
گزشتہ آیت میں ظِلٍّ کے لفظ سے مغالطہ ہوسکتا تھا کہ اہل جہنم کو جو خطرناک صورتحال پیش آنے والی ہے اس میں شاید ظِلٍّ یعنی سائے کی راحت موجود ہوگی۔ اس لیے اس مغالطے کو رفع کرنے کے لیے فرمایا کہ وہ سایہ ضرور ہوگا لیکن سائے کی کیفیت سے خالی۔ اس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ کوئی راحت۔ نہ اس میں چھائوں ہوگی، نہ وہ شعلوں کی لپٹ سے بچائو کا سامان کرے گا۔ یوں کہنا چاہیے کہ دھویں کی اذیت بخشی کے سارے سامان تو اس میں موجود ہوں گے لیکن ظِلٍّ کے لفظ سے جو کیفیت محسوس ہوتی ہے اس کا کوئی نفع بخش پہلو اس میں موجود نہیں ہوگا۔
Ayahs 77:32–33اِنَّھَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍکَالْقَصْرِ ۔ کَاَنَّـہٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ۔ (المرسلات : 32، 33)
(بیشک وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی۔ گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں۔ )
پیچھے دھویں کا ذکر ہوچکا ہے اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ اِنَّھَا میں ضمیر کا مرجع وہ آگ ہے جو دھویں کے بعد بھڑکے گی۔ وہ آگ ایسی ہولناک ہوگی جس کی ایک ایک چنگاری محل کی طرح عظیم ہوگی۔ اور جب یہ بڑی بڑی چنگاریاں اٹھ کر پھٹیں گی اور چاروں طرف اڑنے لگیں گی تو یوں محسوس ہوگا کہ جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہیں۔
Ayah 77:34وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 34)
(اس دن خرابی ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
گزشتہ آیات ترجیع کی طرح یہ بھی آیت ترجیع ہے جس میں اس بات کی توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ یوم الفصل جس کی یہاں منظرکشی کی گئی ہے اس دن جن لوگوں کو اس منظر سے سابقہ پیش آئے گا ان کے لیے اس سے بڑھ کر خرابی اور تباہی کا دن کیا ہوگا۔ اور چونکہ اس سے دوچار ہونے والے سب سے زیادہ وہی لوگ ہوں گے جو قیامت کی تکذیب کرتے رہے ہیں اس لیے بطور خاص ان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 77:35–37ھٰذَا یَوْمُ لاَ یَنْطِقُوْنَ ۔ وَلاَ یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 35 تا 37)
(یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے۔ اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ کوئی عذر پیش کرسکیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔ )
مکذبینِ قیامت جس ہولناک صورتحال سے دوچار ہوں گے اس کا تعلق آخری فیصلے سے پہلی حالت سے ہوگا۔ اس وقت تک وہ برابر کوشش جاری رکھیں گے کہ کسی طرح آخری انجام سے دوچار ہونے سے بچ جائیں۔ معذرتیں پیش کریں گے، دوسروں پر اپنے قصوروں کا الزام دھریں گے، گمراہ کرنے والے سرداروں اور پیشوائوں کو گالیاں دیں گے۔ لیکن جب تمام شہادتوں سے ان کا مجرم ہونا پوری طرح ثابت کردیا جائے گا اور صفائی کے تمام مواقع ان کے ہاتھ سے جاتے رہیں گے، حتیٰ کہ ان کے ہاتھ پائوں اور ان کے اعضاء تک ان کیخلاف گواہی دے کر ان کے مجرم ہونے پر مہرتصدیق ثبت کردیں گے تو تب ان کی کیفیت یہ ہوگی کہ اب وہ بولنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ہر چیز ثابت ہوجانے کے بعد ان کے پاس کہنے کی کوئی بات باقی نہیں رہے گی۔ البتہ ایک موقع تو آخر تک باقی رہتا ہے کہ مجرم بار بار معافی مانگتا ہے اور اپنی معذرت پیش کرتا ہے لیکن اس کا موقع بھی ان کو نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں رہتا کہ وہ دن قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے کس قدر تباہی کا باعث ہوگا۔
Ayahs 77:38–40ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ ج جَمَعْنٰـکُمْ وَلاَوَّلِیْنَ ۔ فَاِنْ کَانَ لَـکُمْ کَیْدٌ فَـکِیْدُوْنِ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 38 تا 40)
(یہ ہے فیصلہ کا دن، ہم نے تم کو بھی جمع کیا اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بھی۔ اب اگر تمہارے پاس کوئی دائو ہے تو میرے مقابلے میں کر دیکھو۔ اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے۔ )
ان آیات میں پروردگار نے مجرموں سے براہ راست خطاب فرمایا ہے کہ تم نے زندگی بھر جس یوم الفصل کا انکار کیا اور اپنے اور اپنے آبائواجداد کے دوبارہ اٹھائے جانے کا تمسخر اڑایا اور وقوع قیامت کو خلاف عقل قرار دیا یہ وہی دن تمہارے سامنے ہے، ہم نے تمہیں بھی اور تمہارے آبائواجداد کو بھی اس دن میں جمع کردیا ہے تاکہ جن جن چیزوں کو تم مستبعد از عقل سمجھتے تھے انھیں اپنے گردوپیش میں دیکھ لو۔ اور پھر جس طرح تم نے دنیا میں ہمارے رسول کو شکست دینے کے لیے بڑی بڑی چالیں چلیں، اگر کوئی چال باقی رہ گئی ہو تو وہ بھی آزما دیکھو۔ اب تو تم اگلے پچھلے سب جمع ہو تو ایک دوسرے کی مدد بھی کرسکتے ہو۔ تو سب اکٹھے ہو کر کوئی تدبیر کرسکتے ہو تو کرو۔ لیکن آج ظاہر ہے کہ ان کے پاس رسوائی اور ندامت کے سوا کوئی جواب نہ ہوگا۔ اس لیے فرمایا کہ آج کا دن جھٹلانے والوں کے لیے انتہائی خرابی کا باعث ہوگا۔