Ayahs 77:41–42اِنَّ الْمُتَّـقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّعُیُوْن وَّفَوَاکِہَ مِمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ (المرسلات : 41، 42)
(بیشک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اور ان میووں اور پھلوں میں ہوں گے جن کی وہ خواہش کریں گے۔ )
متقین کا انجام
مکذبینِ قیامت کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جنھوں نے زندگی اس احساس کے ساتھ گزاری کہ قیامت کو اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا اندیشہ ہر وقت ان کے دامن گیر رہا۔ اور ان کے تمام احساسات پر اللہ تعالیٰ کے خوف کا پہرہ رہا۔ اور اس کی رضا کا حصول ہمیشہ ان کی منزل بنا رہا۔ قیامت کے دن ان کی اس پاکیزہ زندگی کے بدلے میں انھیں وہ عیش نصیب ہوگا جن میں ٹھنڈے سایوں، میٹھے چشموں اور اپنی پسند کے میووں پر ان کی حکمرانی ہوگی۔ ان کے لیے ہر وہ نعمت میسر ہوگی جس کی وہ چاہت کریں گے اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو صرف جنت میں حاصل ہوسکتا ہے، دنیا میں کسی کے لیے اس کا امکان نہیں۔
Ayahs 77:43–45کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِـٓـیْــًٔا م بِمَا کَنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 43 تا 45)
(کھائو اور پیو، راس آتا اپنے اعمال کے صلہ میں۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
اعمالِ حسنہ کا حیرت انگیز نتیجہ
دنیا میں دولت کی قیمت پر ہر چیز تو نہیں، بیشتر چیزیں خریدی جاسکتی ہیں اور حکومت کے زور سے بھی بہت کچھ مزے لوٹے جاسکتے ہیں، لیکن ایک چیز ایسی ہے جو نہ دولت سے حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ حکومت سے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو بھی یہ یقین نہیں دلا سکتا کہ آپ جو کچھ کھائیں گے یا پئیں گے وہ آپ کے لیے تکلیف کا باعث نہیں ہوگا۔ اور ہرحال میں ہر نعمت آپ کو وہی کچھ دے گی جو آپ اس سے چاہتے ہیں۔ اور دوسری اس بات کی بھی کوئی شخص ذمہ داری نہیں لے سکتا کہ آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے اسے کبھی زوال نہیں ہوگا، دولت ہمیشہ رہے گی اور حکومت کبھی نہیں چھینی جائے گی۔ لیکن جنت ایسی جگہ ہے جس میں اہل جنت کو ضمانت دی جائے گی کہ یہاں کی کسی نعمت کو نہ زوال ہے اور نہ اس میں خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ خوشیوں کے حصار میں ہیں جس میں کوئی چیز بھی بارخاطر نہیں بن سکتی۔ اور یہ غیرمعمولی انعامات صرف اس لیے ہیں کہ ہم اپنے شکرگزاروں اور اپنے فرمانبرداروں کو ہمیشہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ لیکن آج کا دن چونکہ دارالجزا ہے اور آج عدل کی حکومت ہے اس لیے جس طرح محسنین کو آج نوازا جائے گا اسی طرح مکذبین کے لیے آج کا دن انتہائی خرابی کا دن ہوگا۔
Ayahs 77:46–47کُلُوْا وَتَمَتَّـعُوْا قَلِیْلاً اِنَّـکُمْ مُّجْرِمُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 46، 47)
(کھالو اور مزے کرلو تھوڑے دن، حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
اشرافِ قریش سے براہ راست خطاب
اشرافِ قریش کو یوں تو قیامت سے انکار تھا لیکن کبھی کبھی وہ یہ بات بھی کہتے کہ اگر واقعی قیامت ہوئی جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں تو ہم وہاں بھی اسی طرح تم سے بہتر سلوک کے مستحق سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ جس پروردگار نے ہمیں دنیا میں خوش عیشی سے نوازا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ قیامت کے دن ہمیں سزا دے۔ قرآن کریم نے جابجا اس غلط فہمی کا ازالہ کیا۔ یہاں بھی ان کے اسی غلط تصور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم کھالو اور مزے کرلو، یہ دنیا چند روزہ ہے، تمہیں اس میں ڈھیل دی گئی ہے، کیونکہ یہ دارالعمل ہے، دارالجزاء نہیں۔ لیکن یہ مت بھولو کہ تم یہاں بھی مجرم ہو اور وہاں بھی مجرم ہو۔ یہاں تم ڈھیل سے فائدہ اٹھا رہے ہو اور غلط فہمیوں میں اپنے جرائم میں اضافہ کررہے ہو۔ لیکن آخرت کا دن چونکہ عدل کی بالادستی اور روبکاری کا دن ہے، اس لیے اس روز صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے نوازے جائیں گے، لیکن تمہارے لیے وہ دن انتہائی خرابی کا دن ہوگا۔
Ayahs 77:48–49وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا لاَ یَرْکَعُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 48، 49)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے رب کے آگے جھکو تو نہیں جھکتے۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
منکرینِ قیامت کو ملامت
گزشتہ آیت کریمہ میں قریش کے لیڈروں سے خطاب فرمایا گیا تھا، اب ان سے منہ پھیر کر فرمایا گیا ہے بلکہ انھیں ملامت کی گئی ہے کہ یہ اپنے موجودہ طور اطوار کو اپنے برسرحق ہونے کی دلیل سمجھتے ہوئے نہ صرف قیامت کا انکار کرتے ہیں بلکہ ان کا حال تو یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جائے کہ تم اپنے رب کے سامنے جھکو تو باوجود اس کے کہ وہ اسے اپنا رب سمجھتے ہیں لیکن اس کے سامنے جھکنا پسند نہیں کرتے بلکہ تکبر کا اظہار کرتے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ قیامت کا دن ان کے لیے تباہی کا باعث بنے اور یقینا وہ دن ان کے لیے تباہی اور بربادی کا باعث ہوگا۔
Ayah 77:50فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ م بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (المرسلات : 50)
(اب اس قرآن کے بعد وہ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ )
آخری تنبیہ
قرآن کریم آخری کتاب ہے جو نوع انسانی کو خیر و شر کا امتیاز سکھانے اور اس کی حقیقی منزل واضح کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس کے بعد دنیا کی ہدایت کے لیے کوئی نسخہ کیمیا نازل نہیں ہوگا۔ اور نہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد کوئی اور نبی آئے گا۔ یہ لوگ اگر آنحضرت ﷺ کی بعثت اور قرآن کے نزول کے بعد بھی راہ راست اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر دنیا میں اور کوئی ایسی چیز نہیں ہوسکتی جو حق و باطل کا فرق سمجھانے والی اور ہدایت کا راستہ دکھانے والی ہو۔ قرآن کریم سے اعراض اور آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار دنیا و آخرت کی سب سے بڑی محرومی ہے۔