Ayah 76:1ھَلْ اَ تٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ (الدہر : 1)
(کیا گزرا ہے انسان پر کوئی وقت لامتناہی زمانے میں جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ )
ھَلْ کا مفہوم
ھَلْ اَ تٰی عَلَی الْاِنْسَانِ … آیت کے اس پہلے فقرے میں ” ھَلْ “ کے بارے میں مفسرین میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ” ھَلْ “ قَد کے معنی میں ہے جس سے جملے کے معنی میں تاکید پیدا کرنا مقصود ہے۔ لیکن بیشتر اہل علم اس کو استفہام ہی کے معنی میں لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ” ھَلْ “ کبھی بھی قَد کے معنی میں نہیں ہوتا۔ جہاں اس کا شبہ ہوتا ہے تو وہ قلت فکر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کیونکہ استفہام ہرحال میں سوال ہی کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ ہماری زبان کی طرح عربی زبان میں بھی مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کبھی تو استفہام کسی بات کو پوچھنے کے لیے آتا ہے کہ فلاں واقعہ ہوا ہے یا نہیں۔ اور کبھی انکار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور کبھی سوال اس غرض کے لیے کیا جاتا ہے کہ مقصود مخاطب کے ذہن کو کسی بات پر سوچنے کے لیے مجبور کرنا ہوتا ہے۔ علیٰ ھذا القیاس مختلف اغراض اور متفرق معانی کے لیے اس کا استعمال ہوتا ہے جس کا تعین سیاق وسباق سے کیا جاتا ہے۔
آیت زیربحث میں سوالیہ فقرہ دراصل صرف سوال کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ مخاطب کو سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے ہے کہ جس پروردگار نے اس کی تخلیق کا آغاز ایسی حقیر حالت سے کرکے اسے پورا انسان بنا کھڑا کیا، وہ آخر اسے دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز ہوگا۔
دَھْر سے مراد
حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ … دَھْر سے مراد وہ لامتناہی زمانہ ہے جس کی نہ ابتداء انسان کو معلوم ہے اور نہ انتہاء۔ اور حِیْنٌ سے مراد اس لامتناہی زمانے کے اندر ایک خاص زمانہ مراد ہے جس میں کوئی ایسی کام وجود میں آیا ہو جو گفتگو کرتے ہوئے متکلم کے پیش نظر ہو۔ اس لحاظ سے اس جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ ایک ایسا زمانہ جو ازل اور ابد کی شان رکھتا ہے اس کے ایک مخصوص زمانے میں انسان کی تخلیق کا فیصلہ ہوا اور اسے عدم سے وجود میں لانے کا آغاز ہوا۔ اس سے مراد وہ وقت بھی ہوسکتا ہے جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو وجود دیا گیا۔ اور اگر سائنس کی تشریح کو پیش نظر رکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ وقت ہے جب وہ ایک جرثومے کی شکل میں وجود میں آیا اور پانی، کیچڑ، مٹی کے اندر رینگنے والی ایک حقیر مخلوق کی حیثیت اختیار کی۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے اور اکثر اہل علم نے اسی کو مراد لیا ہے کہ اس سے مراد وہ وقت ہے جب میاں بیوی کے اتصال سے ایک نئے انسان کی تخلیق کا آغاز ہوا۔
لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا … جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تخلیق کا آغاز تو ہوگیا تھا لیکن ابھی وہ ایسے مرحلے میں تھا کہ انسان کی حیثیت و عظمت کو دیکھ کر اس کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جس کی تفصیل بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ میاں بیوی کے اتصال سے پہلے باپ کے نطفے میں پیدا ہونے والے بچے کا ایک حصہ خوردبینی کیڑے کی شکل میں موجود ہوتا ہے اور دوسرا حصہ ماں کے نطفے میں ایک خوردبینی بیضے کی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ تجزیہ آج کا انسان تو کرسکتا ہے لیکن بہت مدت نہیں گزری جب انسان یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ پیدا ہونے والا بچہ باپ کے نطفے کے کیڑے اور ماں کے نطفے کے بیضے کے ملنے سے وجود میں آتا ہے۔ اب طاقتور خوردبینوں سے ان دونوں کو دیکھ تو لیا گیا ہے لیکن اب بھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتنا انسان باپ کے اس کیڑے میں اور کتنا انسان ماں کے اس بیضے میں موجود ہوتا ہے۔ پھر استقرارِ حمل کے وقت ان دونوں کے ملنے سے جو ابتدائی خلیّہِ (Cell) وجود میں آتا ہے۔ ایک ایسا ذرہ بےمقدار ہوتا ہے کہ بہت طاقتور خوردبین ہی سے نظر آسکتا ہے اور اسے دیکھ کر بھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کوئی انسان بن رہا ہے یا کچھ اور۔ اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس حقیر سی ابتداء سے نشو و نما پا کر کوئی انسان اگر بنے گا بھی۔ تو وہ کس قدوقامت، کس شکل و صورت، کس قابلیت اور شخصیت کا انسان ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جس پروردگار نے ایک ناقابلِ ذکر چیز کو مختلف مراحل سے گزار کر ایک ایسے انسان کی شکل میں پیدا کیا جو کائنات کا گل سرسبد اور اشرف المخلوقات ہے کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ تمام کائنات کو تباہ کرنے کے بعد نئی تخلیق سے ہر چیز کو بروئے کار لائے اور انسانوں کو میدانِ حشر میں جمع کرکے ان کے اعمال کا حساب لے۔
Ayah 76:2اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ صلے ق نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰـہُ سَمِیْعًا م بَصِیْرًا۔ (الدہر : 2)
(ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا، اس کو الٹتے پلٹتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اس کو دیکھنے سننے والا بنادیا۔ )
انسان کو مزید غور کی دعوت
انسان کو ناقابلِ ذکر حالت اور بےقدر و قیمت حیثیت سے نکال کر جن مراحل سے گزارتے ہوئے ایک بالا قامت شخصیت کی حیثیت سے پیدا کیا، اس آیت کریمہ میں ان میں سے چند مراحل کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اور امشاج سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ امشاج، مشج اور مشیج کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ملی جلی اور مخلوط چیز۔ یہ اگرچہ جمع ہے لیکن ان الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوصف مفرد الفاظ کی صفت کے طور پر آتے ہیں۔ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ انسان کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا گیا ہے، لیکن وہ بھی اس طرح نہیں کہ یہ تخلیق صرف باپ کے نطفے سے ہوئی ہو، بلکہ انسان کی پیدائش باپ اور ماں کے مخلوط نطفے سے ہوئی ہے۔ باپ کے نطفے سے ایک خوردبینی کیڑا ماں کے نطفے کے ایک خوردبینی بیضے میں داخل ہوتا ہے تو تب استقرارِحمل ہوتا ہے۔ یہ مخلوط نطفہ ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اور یا نطفہ کے مخلوط ہونے سے مراد اس کا مختلف قویٰ و عناصر سے مرکب ہونا ہے۔
نَبْتَلِیْہِ … مفسرین نے اس کی دو طرح سے تأویل کی ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ بیان علت کے مفہوم میں ہے اور اس سے پہلے لام علت محذوف ہے۔ اور لام علت کے بغیر کسی فعل کا علت کے مفہوم میں استعمال عربی زبان میں عام شائع و ذائع ہے۔ اسے قابل اعتراض نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نفطے سے مختلف مراحل سے گزارتے ہوئے جس بالا قامت حیثیت سے پیدا کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مقصد تخلیق باقی مخلوقات سے بالکل الگ اور بلند ہے۔ اس کی سطح درختوں اور جانوروں جیسی نہیں کہ اس کا مقصدتخلیق یہیں پورا ہوجائے اور وہ قانونِ فطرت کے مطابق ایک مدت تک اپنے حصے کا کام کرکے یہیں مر کر فنا ہوجائے۔ اور نہ اس کے لیے اس دنیا کو دارالعذاب ٹھہرایا گیا ہے جیسا کہ راہب سمجھتے ہیں۔ اور نہ دارالجزاء ہے جس طرح ہندوئوں کو غلط فہمی ہوئی اور وہ تناسخ کے چکر میں پڑگئے۔ اور نہ یہ دنیا عشرت کدہ، چراگاہ اور تفریح گاہ ہے جیسا کہ مادہ پرست سمجھتے ہیں کہ یہاں دنیا میں انسان دادعیش دینے کے لیے آیا ہے اس کے سوا اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔ اور نہ یہ دنیا رزم گاہ ہے جیسا کہ ڈارون اور مارکس کے پیرو سمجھتے ہیں، بلکہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے امتحان گاہ بنائی ہے۔ نَبْتَلِیْہِ سے اسی کو واضح کیا گیا ہے۔ انسان کی عمر امتحان کا وقت ہے اور اس کو دی جانے والی قوتیں اور صلاحیتیں اور مختلف اشیاء پر تصرف کے مواقع وہ سب اصل میں امتحان کے بیشمار پر چے ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک اس امتحان کا سلسلہ جاری ہے۔
بعض اہل علم کے نزدیک نَبْتَلِیْہِ ابتلاء سے ہے۔ لغت میں اس کا معنی جانچنا اور پرکھنا ہے۔ آدمی جب کسی چیز کو جانچتا ہے تو اس کو مختلف پہلوئوں سے الٹ پلٹ کر اور ٹھونک بجا کر دیکھتا ہے۔ یہیں سے اس کے اندر الٹنے پلٹنے اور ایک مرحلے سے گزار کر دوسرے مرحلے میں لے جانے کا مفہوم بھی پیدا ہوگیا۔ چناچہ اس آیت میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے اور وہ اسے بیان علت کے مفہوم میں نہیں بلکہ حال کے مفہوم میں لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ درجہ بدرجہ اس کو مختلف اطوار و مراحل سے گزارتے ہوئے ایک سمیع وبصیر مخلوق کے درجے تک پہنچا دیا۔
سمیع اور بصیر کا لفظی معنی تو سننے والا اور دیکھنے والا ہے، لیکن حیوان کے لیے یہ دونوں لفظ کبھی استعمال نہیں ہوتے، حالانکہ وہ انسان سے زیادہ سنتا اور دیکھتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد سماعت اور بینائی کی قوتیں نہیں ہیں بلکہ وہ ذرائع ہیں جن سے انسان علم حاصل کرتا اور پھر اس سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پانچ حواس دوسرے لفظوں میں علم کے پانچ ذرائع دیئے ہیں، لیکن ان میں سے سماعت اور بصارت کے ذکر پر اکتفا کرنا دراصل ان کی اہمیت کی وجہ سے ہے ورنہ اس سے مراد تمام حواس ہیں۔ اور مزیدبرآں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ قرآن کریم میں کئی جگہ سمع اور بصر کے ساتھ فؤاد کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس سے مراد عقل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ہر حاسہ کے پیچھے ایک سوچنے والا دماغ بھی موجود ہے جو حواس کے ذریعہ سے آنے والی معلومات کو جمع کرکے اور ان کے ترتیب دے کر ان کے نتائج نکالتا، رائے قائم کرتا اور پھر کچھ فیصلوں پر پہنچتا ہے جن پر ان کا رویہ زندگی مبنی ہوتا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ سمیع بصیر درحقیقت انسان کی تمام اعلیٰ صفات کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ انہی صفات کے فیض سے انسان کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت پیدا ہوئی اور وہ اس قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس کو امتحان کا مکلف بنائے۔
Ayah 76:3اِنَّا ھَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ (الدہر : 3)
(ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔ )
انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت
انسان کو زندگی گزارنے اور دنیا و عقبیٰ کے بارے میں صحیح فیصلے کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی قوتیں عطا فرمائی ہیں۔ محسوسات سے فائدہ اٹھانے کے لیے حواس عطا کیے، اور حواس سے نتائج اخذ کرنے اور استنباط اور استنتاج کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے جوہرِعقل سے نوازا۔ لیکن انسان کی کتنی ضرورتیں ایسی ہیں جو حواس اور عقل سے پوری نہیں ہوتیں۔ عقل سے انسان یہ تو جان سکتا ہے کہ میرا کوئی نہ کوئی خالق ہے، اس کائنات کو بھی کسی نے پیدا کیا ہے۔ لیکن اس خالق کی صفات کیا ہیں، بندوں اور اس کے درمیان رشتہ کیا ہے، کائنات سے انسان کے تعلق کی نوعیت کیا ہے، زندگی اور موت کی حقیقت کیا ہے، موت کے بعد کیا کیفیت پیش آنے والی ہے، عالم برزخ اور عالم آخرت کیا ہے، زندگی کے اخلاقی مسلمات کیا ہیں، فضائل اور رذائل میں حدفاصل کیا ہے ؟ اسی طرح کے اور بھی بیشمار سوالات ہیں جن کا جواب عقل کے پاس نہیں۔ بالخصوص خیر و شر کا امتیاز، اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان رشتہ، عالم آخرت، انسانی تعلقات کی نوعیت، نیکی اور برائی کا حقیقی تصور۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن پر دنیا و عقبیٰ کی کامرانی کا دارومدار ہے اور اس میں صحیح راستے کا پالینا اور حقیقت کے رشتے کو تھام لینا انسانی حواس اور عقل کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حواس اور عقل کے ساتھ ساتھ انسان کی فطرت میں تقویٰ اور فجور کا الہام کیا۔ انسان کے اندر اخلاقی حس رکھی گئی۔ نفس لوامہ یا ضمیر کی شکل میں اس کے اندر ایک چوکیدار بٹھایا گیا۔ امتوں کے تاریخی واقعات کو بہت سے حقائق کا شاہد بنایا گیا۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ وحی الٰہی کے ذریعے ہر مشکل کی عقدہ کشائی کی گئی۔ اسی چیز کو راستہ دکھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور اسی کو ہدایت کہا جاتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے لیے صراط مستقیم کی تعبیر اختیار کی جاتی ہے۔ حاصل سب کا ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور اس کی کتابوں نے انسانوں پر یہ حقیقت واشگاف کردی کہ دنیا نے بیشمار غلط اور الٹے سیدھے راستے نکالے ہیں، ان میں سیدھا راستہ وہ ہے جو پیغمبر لے کے آئے، جسے فطرت قبول کرتی، عقل تسلیم کرتی اور ضمیر اس کی گواہی دیتا ہے۔
پھر اس راستے پر چلنے کے لیے کسی پر جبر نہیں کیا گیا بلکہ نیکی اور بدی کا امتیاز دے کر انسان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہے تو نیکی کی راہ اختیار کرے اور چاہے تو بدی کی راہ چلے۔ نیکی کی راہ کو شکر کا راستہ کہا گیا ہے اور برائی کے راستے پر چلنے کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی بتادیا گیا کہ جو شخص نیکی کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنے گا۔ اور جو برائی کا راستہ اختیار کرے گا وہ ناشکرا بنے گا اور اس کی سزا بھگتے گا۔
Ayah 76:4اِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سِلٰسِلاَ ْ وَاَغْلٰلاً وَّسَعِیْرًا۔ (الدہر : 4)
(کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔ )
غلط انتخاب کا نتیجہ
گزشتہ آیت میں فرمایا گیا کہ ہم نے انسانوں کو خیر و شر کی تمیز دینے کے بعد صحیح راستے کی ہدایت دے دی۔ اپنے پیغمبروں اور اپنی کتابوں کے ذریعے ان پر پوری طرح یہ حقیقت واشگاف کردی کہ صحیح راستہ اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے اور غلط راستہ کفر کرنا ہے۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ دونوں راستوں میں جو چاہو اختیار کرلو۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ چونکہ دونوں راستے یکساں نہیں ہیں، ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ تو یہ نہیں ہوسکتا کہ دونوں راستوں پر چلنے والے یکساں ہوں اور ان کا انجام بھی ایک جیسا ہو۔ صحیح راستے پر چلنے والے یقینا انعام کے مستحق ہوں گے۔ اور غلط راستوں پر چلنے والے سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔ بنابریں پیش نظر آیت کریمہ میں اعلان کردیا گیا کہ جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہم انھیں بتائے دیتے ہیں کہ قیامت کے دن انھیں زنجیریں پہنائی جائیں گی، ان کے گلوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور پھر انھیں بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔
Ayahs 76:5–6اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا۔ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُاللّٰہِ یُفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًا۔ (الدہر : 5، 6)
(بیشک نیک لوگ ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی۔ اس چشمہ سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ )
شکرگزاروں کا انعام
گزشتہ آیت میں کافروں کی سزا کو ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندوں پر انعامات کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اور شکرگزار بندوں کو ابرار سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ابرار سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ایمان کی صورت میں جو عہدوپیمان کرچکے ہیں اس کے ادا کرنے والے ہیں۔ اور اس عہد و پیمان کے تقاضوں کی صورت میں جن اوامرونواہی سے انھیں سابقہ پیش آتا ہے ان کی تعمیل کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں کیونکہ ” بُر “ کی اصل روح یہی ایفائے عہد ہے۔ جو شکرگزاری کا حاصل بھی ہے اور ایمان کی علامت بھی۔ ان کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساغر پئیں گے، ساغر ظرف ہے، لیکن بعض دفعہ ظرف مظروف کے معنی میں یا دونوں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں ” کأس “ سے مراد شراب کے جام یا ساغر ہیں۔
مزاج کے معنی ملونی کے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اوقات لذت یا خوشبو کے لیے استعمال کے وقت بعض چیزیں ملائی جاتی ہیں۔ عرب بھی اس طرح کی ملونیوں کے عادی تھی اور ان کے شعراء اپنے اشعار میں بھی برملا اس کا تذکرہ کرتے تھے۔ اہل جنت کو جو شراب دی جائے گی وہ چشمہ کافور کے آب زلال کو ملونی کے طور پر استعمال کریں گے۔
بعض اہل علم کے نزدیک کافور جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شراب میں لذت و کیف بڑھانے کے لیے اس چشمہ کا پانی شامل کیا جائے گا۔ دوسری آیت میں عَیْنًا ترکیبِ نحوی میں کافور کا بدل بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں یہ متعین ہوجاتا ہے کہ آیت مذکورہ میں کافور سے مراد چشمہ جنت ہے۔ یعنی کافور ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کے کنارے بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کے خاص بندے شراب نوش کریں گے۔ رہی یہ بات کہ اس کا نام کافور کیوں رکھا گیا ہے، اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ اس کا تعلق متشابہات سے ہے۔
یُفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًا … اور اس کی شاخیں جدھر چاہیں گے نکال لیں گے۔ تَفْجِیْرکے معنی کسی چشمہ کی بہت سی شاخیں نکال نکال کر جال بچھا دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چشمہ تو ایک جگہ ہوگا لیکن اس کی شاخیں جنت میں ہر اس جگہ پہنچ چکی ہوں گی جہاں اہل جنت چاہیں گے۔ گویا کہ انھیں اس چشمے تک پہنچنے کے لیے چل کے جانا نہیں پڑے گا، بلکہ چشمہ خود چل کر ان تک پہنچے گا اور وہ اس کی لذتوں اور اس کی سیر سے بغیر کسی زحمت سفر سے خوش وقت اور شادکام ہوں گے۔
Ayah 76:7یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا۔ (الدہر : 7)
(وہ لوگ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہمہ گیر ہوگی۔ )
ابرار کی پاکیزہ فطرت اور ان کی صفات
کسی نیک کام کرنے کا عہد کرلینا اور اسے اپنے اوپر لازم کرلینا اسے نذر کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے وہ نیک بندے جنھیں ابرار کے نام سے یاد کیا گیا ہے جن کی فطرت اور سرشت میں ایفائے عہد کی روح کارفرما ہے۔ وہ جب کسی نیک کام کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے اوپر لازم کرلیتے ہیں تو پھر اسے پورا کرنا ازبس ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کی اس خوبی کو اس سیاق وسباق میں اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جن نیک بندوں کا حال یہ ہے کہ وہ خود جس نیکی کے کام کو اپنے اوپر لازم کرلیں تو اس کی مخالفت کرنے کا تصور نہیں کرسکتے تو ان کے بارے میں یہ کیسے سوچا جاسکتا ہے کہ جو کام اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم کر رکھے ہیں جو ان کے فرائض اور واجبات میں شامل ہیں اور جنھیں بجالانے کا انھوں نے عہد کر رکھا ہے وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ تو کہنا صرف یہ ہے کہ ابرار کی اصل علامت اور پہچان یہ ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر حالت میں اور ساری زندگی بقدرہمت اللہ تعالیٰ کے وفادار، اس کے شریعت کے پابند اور اس کے رسول کی سنت کے اتباع کرنے والے ہیں۔
نذر کی حقیقت کو جاننے کے لیے تو جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے وہ کافی ہے۔ البتہ اس کی تفصیلات کے لیے فقہ کی کتابوں کی ورق گردانی کرنا پڑے گی اور یہ اوراق اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ البتہ بہت اختصار کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن طبیعتوں میں نیکی کا جذبہ ہوتا ہے وہ بعض دفعہ اس جذبے کے ہاتھوں مجبور ہو کر بعض ایسے نیکی کے کام اپنے اوپر لازم کرلیتے ہیں جسے مذہب نے لازم نہیں کیا ہوتا۔ اس لحاظ سے نذر کا تصور اسلام کا پیدا کردہ نہیں بلکہ اس کی اہمیت سابق ادیان میں بھی رہی ہے۔ وہ لوگ بھی جب کوئی نیکی کا کام کرنا چاہتے تو اس کی اہمیت کے پیش نظر، نذر مان لیتے تھے۔ اسلام نے اس تصور کی تہذیب کرتے ہوئے اس کے بارے میں تفصیلی احکام دیئے ہیں۔ ان کے پیش نظر فقہاء نے نذر کی چار قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرے کہ وہ اس کی رضا کی خاطر فلاں نیک کام کرے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ اس بات کی نذر مانے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میری فلاں حاجت پوری کردی تو میں شکرانے میں فلاں نیک کام کروں گا۔ یہ دونوں قسم کی نذریں فقہاء کی نگاہ میں بالکل صحیح ہیں اور اس پر اتفاق ہے کہ انھیں پورا کرنا واجب ہے۔ اور ان دونوں قسموں کی نذروں کو فقہاء کی اصطلاح میں نذرتبرّر کہا جاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ آدمی کسی ناجائز کام کو کرنے یا کسی واجب کام کے نہ کرنے کا عہد کرے۔ چوتھے یہ کہ آدمی مباح کام کرنے کو اپنے اوپر لازم کرلے یا کوئی مستحب کام نہ کرنے کا یا کوئی خلاف اولیٰ کام کرنے کا عہد کرلے۔ ان میں سے تیسری قسم کی نذر کے متعلق اتفاق ہے کہ وہ منعقد ہی نہیں ہوتی۔ اور چوتھی قسم کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اسے پورا کرنا چاہیے، بعض کہتے ہیں کہ قسم توڑنے کا کفارہ ادا کردینا چاہیے اور بعض کہتے ہیں کہ آدمی کو اختیار ہے خواہ نذر پوری کرے یا کفارہ ادا کرے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں اس اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن پہلی تینوں قسم کی نذروں کے بارے میں فقہاء کی آرا بالکل واضح ہیں اور وہی ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔
وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا … مُسْتَطِیْر، کا معنی عام اور ہمہ گیر ہے۔ اسے ابرار کی نئی صفت بھی کہا جاسکتا ہے اور ایفائے نذر کی علت بھی۔ اگر نئی صفت قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے وہ نیک بندے جنھیں ابرار کہا گیا ہے وہ ہمیشہ اندیشہ آخرت سے گراں بار رہتے ہیں۔ ان کا ہر فرد چاہے وہ کیسی ہی ذاتی حیثیت کا مالک ہو، آخرت کی ہولناکی سے لرزاں و ترساں رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس دن کی ہولناکی اس قدر ہمہ گیر اور عام ہوگی کہ کوئی شخص بھی اس کی دست برد سے بچا ہوا نہیں ہوگا۔ وہی لوگ اس سے محفوظ رہیں گے جنھیں اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا۔
اور اگر اسے ایفائے نذر کی علت قرار دیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شریعت کے احکام پر تو ہر وقت کاربند رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کسی حکم سے سرتابی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ بلکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے زائد بھی کسی نیکی کی نذر مان لیتے ہیں تو اس کا بھی ایفاء کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ایک ایسے دن سے واسطہ پڑنے والا ہے جس کی آفت نہایت عام اور ہمہ گیر ہوگی۔
Ayah 76:8وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَـتِیْمًا وَّاَسِیْرًا۔ (الدہر : 8)
(اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ )
ابرار کی ایک اور صفت
ابرار کی ایک اور صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ عَلٰی حُبِّہٖسے اس کی علت بیان کی گئی ہے۔ مفسرین میں اس کی ضمیر کے مرجع سے متعلق اختلاف ہوا ہے۔ بعض مفسرین ضمیر کا مرجع طعام کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک آیت کا مفہوم یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ خود طعام کے محتاج ہوتے ہیں اور ان کے گھر میں کھانے کا سامان اتنا ہی ہوتا ہے جس سے وہ اپنے بچوں کا اور اپنا پیٹ بھر سکیں، لیکن جب کوئی مسکین، یتیم یا قیدی ان سے کھانے کی درخواست کرتا ہے تو وہ اپنے اوپر اسے ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اس کی تائید میں اس اشاد خداوندی سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وفاداری کا درجہ حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے جس کا وہ خود حاجت مند ہو اور جو چیزیں اس کو محبوب ہوں۔ اسی طرح قرآن کریم نے ان لوگوں کی فضیلت بیان کی ہے کہ وہ ضرورت مندوں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں چاہے وہ خود بھوکے ہوں۔
دیگر مفسرین نے عَلٰی حُبِّہٖ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو اس لیے کھانا کھلاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ ادا بہت پسند ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ یہ لوگ اس کی محبت میں ضرورت مندوں کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس بات پر دلیل قائم کرتے ہوئے وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد کی آیت میں صاف کہا گیا ہے کہ ہم جو تمہیں کھانا کھلا رہے ہیں تو لِوَجْہِ اللّٰہِ کھلا رہے ہیں، یعنی اللہ کی محبت میں کھلا رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مفسرین کی آرا میں جس اختلاف کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ محض لفظی اختلاف ہے۔ کیونکہ اگر عَلٰی حُبِّہٖکی ضمیر کا مرجع طعام کو قرار دیا جائے تو جب بھی اس کا مفہوم اس سے مختلف نہیں ہوسکتا کہ باوجود اس کے کہ انھیں خود طعام کی سخت ضرورت تھی لیکن اپنی ضرورت پر انھوں نے دیگر ضرورتمندوں کو ترجیح دی۔ تو اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں اور انھوں نے یہ قربانی محض اللہ تعالیٰ کی محبت میں دی ہے۔ اور اگر اس کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات کو قرار دیا جائے تو جب بھی مفہوم یہی رہتا ہے کہ انھوں نے اپنی ضرورت کے کھانے کو دوسروں کو کھلا کر جو قربانی دی ہے تو اس کی وجہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔
آیت میں لفظِ اطعام یعنی کھانا کھلانا محدود معنی میں نہیں۔ زندگی کی دیگر ناگزیر ضروریات بھی اس میں شامل ہیں۔ قرآن کریم میں اور بھی کئی مواقع پر اس لفظ کو وسیع معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی اس فضیلت کا تعلق صرف کھانا کھلانے سے نہیں بلکہ زندگی کی ہر ضرورت پورا کرنے سے ہے۔ اگر ننگے کو کپڑا پہنایا جائے اور مریض کا علاج کرایا جائے اور موسم کی شدت میں مبتلا شخص کو گھر کا حصار مہیا کیا جائے تو سب باتیں بھی اس کے مصداق میں شامل ہیں۔
Ayahs 76:9–10اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لاَ نُرِیْدُمِنْـکُمْ جَزَآئً وَّلاَ شُکُوْرًا۔ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۔ (الدہر : 9، 10)
(بلاشبہ ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں اور نہ شکریہ کے۔ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جو نہایت عبوس اور سخت ترشرو ہوگا۔ )
ابرار ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب
آیت کے الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جب کسی کو کھانا کھلاتے ہیں یعنی کسی ضرورت میں اس کی مدد کرتے ہیں تو اسے کہہ دیتے ہیں کہ ہم محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایسا کررہے ہیں، تم سے کسی بدلے یا شکریئے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ اگر اس کا یہ ظاہری معنی مراد لیا جائے تو جب بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ جب کوئی شخص کسی پر کوئی احسان کرتا ہے تو احسان لینے والا برابر اس خیال کی گرفت میں رہتا ہے کہ یہ شخص کبھی نہ کبھی اپنا احسان جتلا کر مجھے شرمندہ کرے گا، یا وہ اس تصور سے پریشان ہوتا رہتا ہے کہ میں کس طرح اس کے احسان کا بدلہ اتار سکوں گا۔ اس لیے ایسے موقع پر اگر یہ وضاحت کردی جائے کہ میں محض اللہ تعالیٰ کے لیے یہ احسان کررہا ہوں تو اس سے ممنونِ احسان آدمی کی عزت نفس کو بہت تقویت ملے گی۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا یہ مفہوم لیا جائے کہ دینے والا زبان سے تو کچھ نہ کہے، لیکن اس کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ میں جس شخص پر احسان کررہا ہوں میں کبھی بھی اس سے اس کے بدلے یا شکرگزاری کا تقاضا نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ کام میں نے سراسر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کیا ہے تو میرے اس احساس میں کوئی دوسرا احساس شامل نہیں ہونا چاہیے۔
یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا … عَبُوْس کے معنی ترشرو اور روکھے پھیکے کے ہیں۔ قَمْطَرِیْرکا معنی ہے، اکھڑ، اکل کھرا اور ترش مزاج۔ یہ دونوں لفظ یوم کی صفت کے طور پر آئے ہیں۔ اور یوم سے مراد یوم آخرت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے یہ سوچ کر ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا سہارا لیتے ہیں کہ ہمیں قیامت میں ایک ایسے دن سے واسطہ پڑنے والا ہے جو ایسا روکھا پھیکا، اکل کھرا اور ترش مزاج ہوگا کہ اس میں کوئی بھی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن سابقہ ہر ایک کو اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف انھیں لوگوں پر مہربان ہوگی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں ناداروں اور ضرورتمندوں کی سرپرستی کی ہوگی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دی ہوگی۔
Ayah 76:11فَوَقٰـھُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَلَقّٰہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا۔ (الدہر : 11)
(پس اللہ تعالیٰ انھیں اس دن کے شر سے بچا لے گا اور انھیں تازگی اور سرور سے نوازے گا۔ )
ابرار پر اللہ تعالیٰ کا انعام
اللہ تعالیٰ کے نیک بندے چونکہ دنیا میں آخرت کے اس دن سے بچنے کے لیے جو نہایت ترشرو، روکھا پھیکا اور اکھڑ ہوگا دوسروں پر اپنی ضرورتوں کا ایثار کرتے رہے اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کو مقصود بنایا۔ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت میں یہ صلہ عطا فرمائے گا کہ اس عبوس اور قمطریر دن میں ان کے دلوں کو تازگی بخشے گا اور ان کے سینوں کو سرور سے بھر دے گا۔ یعنی قیامت کے دن کی ساری سختیاں اور ہولناکیاں صرف کفار اور مجرمین کے لیے ہوں گی۔ ان سب کے چہرے اترے ہوئے ہوں گے، لیکن اللہ تعالیٰ کے نیک بندے نہایت ہشاش بشاش خوش و خرم ہوں گے۔ قرآن کریم نے بعض دوسرے مواقع پر بیان کیا ہے کہ قیامت کی انتہائی گھبراہٹ کا وقت بھی انھیں پریشان نہیں کرے گا۔ ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
Ayah 76:12وَجَزٰھُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِیْرًا۔ (الدہر : 12)
(اور ان کے صبر کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ )
صبر کی صفت کا صلہ
جنت سے مراد جنت کی ساری نعمتیں اور وہ عیش دوام ہے جس سے اہل جنت بہرہ مند ہوں گے اور حریر سے مراد بیش قیمت لباس، اعلیٰ رہائش گاہیں اور وہ بڑے بڑے مناصب ہیں جن سے اہل جنت کی عزت افزائی کی جائے گی اور یہ سب کچھ انھیں اس لیے ملے گا کہ انھوں نے دنیا میں صبر دکھایا۔ ایمان لانے کے بعد ہر طرح کی مخالفتوں سے واسطہ پڑا۔ کبھی ڈرایا گیا، کبھی بہکایا گیا، لیکن ان کے ضبط کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹا۔ دنیوی معاملات میں ناجائز خواہشوں کو دبا کر رکھا، اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کی پابندی کی، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے زندگی کا ہر اثاثہ قربان کردیا، نہ کبھی ترغیب کی گرفت میں آئے نہ ترہیب سے ہراساں ہوئے۔ صراط مستقیم پر اس طرح چلتے رہے کہ دنیا کی کوئی آلودگی ان کے دامن کو گندہ نہ کرسکی۔ یہ وہ صبر ہے جس کے ساتھ انھوں نے زندگی گزاری، یعنی مخالفتوں کے مقابلے میں صبر، اطاعتوں کی پابندی میں صبر اور خواہشات کے مقابلے میں صبر۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے انھیں جنت اور حریر سے بہرہ ور فرمائے گا۔
Ayah 76:13مُّتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَآئِکِ ج لاَ یَرَوْنَ فِیْھَا شَمْسًا وَّلاَ زَمْھَرِیْرًا۔ (الدہر : 13)
(وہ اس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ اس میں گرمی کے آزار سے دوچار ہوں گے، نہ سردی کے۔ )
اللہ تعالیٰ ابرار کو جنت میں ایسی شان و شوکت عطا فرمائے گا کہ وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے اور گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے بالکل محفوظ ہوں گے۔ سورج سے مراد سورج کی گرمی اور تپش ہے اور زَمْھَرِیْرسے مرادسخت سردی کی اذیت ہے۔ وہاں سورج کی روشنی اور اس کی قوت بخشی تو ہوگی مگر اس میں حدت و تمازت نہ ہوگی۔ جنت کے موسم ہمیشہ خوشگوار، معتدل اور پربہار رہیں گے۔
Ayah 76:14وَدَانِیَۃً عَلَیْہِمْ ظِلٰـلُھَا وَذُلِّـلَتْ قُطُوْفُھَا تَذْلِیْلاً ۔ (الدہر : 14)
(باغِ جنت کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور پست کردیئے گئے ہوں گے لٹکا کر اس کے خوشے۔ )
موسم کی لذت اور سایوں کی برودت سے اہل جنت اس طرح مسرور ہورہے ہوں گے کہ وہ سائے ان کے سروں پر پھیلے ہوئے ہوں گے۔ اور پھلوں کے خوشے اس طرح ان کے سروں پر لٹک رہے ہوں گے کہ بالکل ان کی دسترس کے اندر ہوں گے۔ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے ان کو کوئی کاوش نہیں کرنی پڑے گی۔
خوش ذوق لوگ جانتے ہیں کہ پھلوں کے ڈھیر سے اچھے سے اچھا پھل اٹھا کے کھانا اور درخت سے توڑ کر پھل کھانے میں کیا فرق ہے۔ اور اگر وہ پھل انسان کی دسترس میں ہو تو توڑنے والے کو پہلے اس کی خوشبو شادکام کرتی ہے اور پھر اس کی لذت کام و دہن کا سامان بنتی ہے۔
Ayahs 76:15–16وَیُطَافُ عَلَیْہِمْ بِاٰ نِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَاْ ۔ قَوَارِیْرَاْ مِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا۔ (الدہر : 15، 16)
(اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے۔ شیشے چاندی کے ہوں گے اور انھوں نے اس کو ماپ رکھا ہوگا ٹھیک اندازے سے۔ )
اہلِ جنت کی خوش عیشی کا عالم یہ ہوگا کہ چاندی کے ظروف اور شیشے کے پیالے ان کے سامنے گردش میں رکھے جائیں گے۔ یہ شیشہ دیکھنے میں شیشہ ہوگا حقیقت میں یہ پیالے بھی چاندی کے ہوں گے جو شیشے کی طرح شفاف ہوں گے۔ البتہ دنیا میں ایسی شفاف چاندی کا وجود نہیں پایا جاتا۔ ایسی چاندی کے برتن صرف جنت میں پائے جاتے ہیں۔
سورة زخرف آیت 71 میں ارشاد ہوا ہے کہ ” اہل جنت کے سامنے سونے کے برتن گردش میں ہوں گے۔ “ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کی ضیافتِ طبع کے لیے کبھی سونے کے برتن استعمال ہوں گے اور کبھی چاندی کے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں طرح کے برتن ملے جلے ہوں۔ کیونکہ آج بھی دنیا میں مختلف دھاتوں سے بنے ہوئے اور مختلف قسم کے ظروف ایک ہی ٹیبل پر استعمال کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ اہل جنت اپنے ذوق کے مطابق کبھی سونے کے برتن استعمال کریں اور کبھی چاندی کے۔ کیونکہ ہر نعمت کے لیے ظرف بھی مخصوص ہوتا ہے۔ بڑے لوگوں کے یہاں بعض کھانے ایک طرح کے برتنوں میں پیش کیے جاتے ہیں اور بعض کھانے دوسری طرح کے برتنوں میں۔
تقدیر کا مفہوم
قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا … بعض اہل علم نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ یہ ظروف اور پیالے مختلف شکلوں اور مختلف پیمانوں کے بنے ہوں گے اور خدام نے ان کو نہایت قرینہ اور حُسنِ سلیقہ سے الگ الگ خانوں میں سجا کر رکھا ہوگا تاکہ حالات، وقت، ضرورت اور مطلوب شے کی مناسبت سے جس قسم کے ظروف کی ضرورت ہو پیش کیے جاسکیں۔
بعض دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے اس کی خواہش کے ٹھیک اندازے کے مطابق ساغر بھر بھر کے دیئے جائیں گے۔ وہ ایسے ساقی ہوں گے جو پینے والوں کے ذوق کو پہچانتے ہوں گے۔
Ayahs 76:17–18وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلاً ۔ عَیْنًا فِیْھَا تُشَمّٰے سَلْسَبِیْلاً ۔ (الدہر : 17، 18)
(اور جنت میں انھیں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جن میں ملونی چشمہ زنجبیل کی ہوگی۔ یہ اس میں ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل سے موسوم کیا جاتا ہے۔ )
زنجبیل اور سلسبیل کا مفہوم
اس سے پہلے ایک اور شراب کا ذکر کیا گیا تھا جس میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی۔ پیش نظر آیت میں اب ایک اور شراب کا ذکر کیا جارہا ہے جو اہل جنت کو پلائی جائے گی جس میں چشمہ زنجبیل کی ملونی ہوگی۔ یہ بھی جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے۔ جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ زنجبیل کا معنی سونٹھ ہے۔ اہل عرب چونکہ شراب کے ساتھ سونٹھ ملے ہوئے پانی کی آمیزش کو پسند کرتے تھے اس لیے فرمایا گیا کہ وہاں ان کو وہ شراب پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش اور ملونی ہوگی، لیکن اس کی آمیزش کی صورت یہ نہ ہوگی کہ اس کے اندر سونٹھ ملا کر پانی ڈالا جائے بلکہ یہ قدرتی چشمہ ہوگا جس میں سونٹھ کی خوشبو تو ہوگی مگر اس کی تلخی نہ ہوگی۔
زنجبیل کے مشہور معنی سونٹھ کے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت کیا ہے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اسی طرح سلسبیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایسا پانی ہے جو میٹھا ہلکا اور خوشذائقہ ہونے کی بنا پر حلق سے بسہولت گزر جائے۔ زجاج کے نزدیک اس کے معنی رواں دواں کے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بعض ناموں سے آگاہ کردیا۔ قیامت آئے گی تو اس کی حقیقت بھی معلوم ہوجائے گی۔
Ayah 76:19وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ج اِذَارَاَیْتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْـثُـوْرًا۔ (الدہر : 19)
(اور ان اہل جنت کی خدمت میں ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی گمان کرو گے۔ )
اہلِ جنت کے خدام
اہلِ جنت کی خدمت کے لیے جن خدام کو لگایا جائے گا وہ بڑی عمر کے لوگ نہیں بلکہ نوخیز لڑکے ہوں گے جنھیں قرآن کریم میں غلمان کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ اپنی عمر کے اعتبار سے وہ یقینا نہایت چاک و چوبند، چست اور سرگرم ہوں گے جو خدمت کرکے لطف اٹھائیں گے اور اہل جنت ان کی خدمت کے انداز سے محظوظ ہوں گے۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ نوجوان ہی رہیں گے۔ ان کے سن و سال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جس کی وجہ سے ان کی مستعدی برابر قائم رہے گی اور مسلسل خدمت کا فرض انجام دینے کی وجہ سے ان کے اندر مخدوموں کا مزاج، عادت اور ذوق پہچاننے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے گی۔
دنیا میں بعض ایسی کمزوریاں ہیں جن کا تدارک ممکن نہیں۔ نوجوانی میں مستعدی، سرگرمی اور جوش پایا جاتا ہے لیکن تجربے میں کمی کے باعث مختلف مزاجوں کو سمجھنے کی صلاحیت میں کمی رہتی ہے اور جن لوگوں میں مسلسل تجربے کے باعث صلاحیت توانا ہوجاتی ہے وہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ چستی اور سرگرمی سے محروم ہوجاتے ہیں جبکہ خدمت کے لیے ان دونوں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان خدام کو ان دونوں جوہروں سے مالامال رکھیں گے تاکہ اہل جنت کی خدمت میں کبھی کمی نہ رہے۔
اِذَارَاَیْتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْـثُـوْرًا … احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخل ہونے والا ہر شخص جوانِ رعنا ہوگا، حُسنِ صورت میں کوئی کمی نہیں ہوگی، اس کی شخصیت خوشیوں کا مرقع اور مسرتوں کی خوشبو بکھیرنے والی ہوگی۔ اس کا ذوق نہایت پاکیزہ، نہایت بلند اور نہایت نازک ہوگا۔ ایسے لوگوں کی خدمت کے لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ سلوٹوں سے اٹے ہوئے چہرے، میلے کچیلے ہاتھ اور بےذوقی کے پتلے ان کے گرد جمع کردیئے جاتے جو انھیں بجائے خوشیاں دینے کے تکدر کا ذریعہ بنتے۔ جنت چونکہ خوشیوں کا مرکز اور ہر طرح کے آزار سے پاک جگہ کا نام ہے اس لیے جس چیز سے تکدر کا شبہ بھی ہوتا ہو اس کے وہاں داخلے کی بھی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ اس لیے خدام ایسے رکھے گئے جن کے جمال، جن کی نظافت، جن کی خوش ادائی اور جن کی خوش لباسی کو دیکھ کر ایسے محسوس ہوگا جیسے یہ انسانی شکلوں میں چمکتے ہوئے موتی ہیں جو اہل جنت میں خدمت کی غرض سے بکھیر دیئے گئے ہیں۔
Ayah 76:20َاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکًا کَبِیْرًا۔ (الدہر : 20)
(جب تم دیکھو گے وہاں تو دیکھو گے عظیم نعمت اور عظیم پادشاہی۔ )
جنت کی حیرت انگیز تصویر
جنت کی اس سے بہتر تصویرکشی نہیں ہوسکتی۔ کسی بھی مسکن کے بارے میں خوبصورت سے خوبصورت تصور اس سے زیادہ نہیں باندھا جاسکتا کہ وہاں زندگی کی ہر نعمت میسر ہو اور آدمی اپنے آپ کو یوں محسوس کرے کہ یہاں کی ہر چیز میرے تابع اور میری محکوم ہے اور میں ہر چیز پر حکمرانی کر رہا ہوں۔ جنت کی یہی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جنت میں داخل ہونے والا چاہے کتنا بھی معمولی آدمی ہو اور دنیا میں اس نے کیسی بھی دکھ بھری اور فاقوں کی زندگی گزاری ہو وہ جنت میں یوں محسوس کرے گا کہ میں جس نعمت کا تصور کرتا ہوں اس سے بڑھ کر نعمتیں میرے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ میرا تصور شکست کھا جاتا ہے لیکن نعمتیں شکست نہیں کھاتیں۔ اسی طرح ادنیٰ سے ادنیٰ جنتی بھی اپنے آپ کو بہت بڑی سلطنت کا مالک دیکھے گا۔ جہاں تک وہ تصور کرسکتا ہے وہیں تک اس کی حکومت پھیلی ہوئی ہوگی۔ اس سے بڑھ کر بڑی سے بڑی قربانی کے بھی صلے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 76:21عٰلِیَہُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خَضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ ز وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَمِنْ فِضَّۃٍ ج وَسَقٰـہُمْ رَبُّـھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا۔ (الدہر : 21)
(ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے اور وہ چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ مشروب پلائے گا۔ )
بعض اہل علم نے عٰلِیَہُمْ کو حال قرار دے کر آیت کا مفہوم یہ مراد لیا ہے کہ ان کے بالائی جامے سبز سندس اور استبرق کے ہوں گے جبکہ یہی مضمون سورة کہف میں ان الفاظ میں آیا ہے وَیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدَسٍ وَاِسْتَبْرَقٍ مُتَّکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَائِکَوہ یعنی اہل جنت باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنے ہوں گے۔ اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ اس آیت کریمہ میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ اہل جنت سبز ریشمی لباس پہنیں گے۔ بالائی چیزیں یعنی عبا اور قبا وغیرہ لباس کے اوپر اوڑھنے کی چیزیں ہیں پہننے کی نہیں۔ اس لحاظ سے سورة الکہف کی آیت سے اہل جنت کا ریشم کا لباس پہننا متعین ہوجاتا ہے۔ رہیں ان کی قبائیں تو وہ اس آیت کا مدلول نہیں۔ البتہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پیش نظر آیت میں بالائی لباس کا ذکر ہے اور سورة الکہف میں لباس کا۔
اہلِ جنت کے لباس میں جو سندس اور استبرق کا ذکر کیا گیا ہے یقینا ان کا تعلق جنت سے ہے جس کا دنیا میں مصداق ڈھونڈنا نامناسب ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب اہل عرب کے سامنے یہ باتیں کہی جارہی تھیں تو وہ یقینا اس کا ایک معنی اور مفہوم سمجھتے تھے۔ اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جنت میں اہل جنت کو جو لباس ملے گا وہ دنیا کے ریشمی لباس سے شکل میں ملتا جلتا ہوگا لیکن حقیقت میں اس سے بہت بلند ہوگا۔ اس لحاظ سے یہ ریشمی کپڑے اپنی کیا شکل و صورت رکھتے تھے اور ایرانی اس سے کیا مراد لیتے تھے۔ اس کی تحقیق یقینا ایرانی لباس کی روایت کو دیکھ کر کی جاسکتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس روایت کو سامنے رکھ کر سندس اور استبرق میں فرق قرار دیتا ہے تو اس کا تعلق اہل جنت کے لباس سے نہیں بلکہ ایرانیوں کے لباس سے ہے۔ اور یہ کسی طرح بھی نامناسب نہیں۔ ہاں اگر ایران میں اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا جاتا ہو، محض اپنی طرف سے یہ فرق قرار دے لیا جائے تو پھر یقینا قابل اعتراض ہے۔
یہ آیت کریمہ میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اہل جنت کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے جبکہ سورة کہف، سورة حج اور سورة فاطر میں سونے کے کنگن پہنائے جانے کا ذکر ہے۔ تو ان سب آیتوں کو جمع کرنے سے جو صورتحال سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل جنت کو دونوں طرح کے کنگن مہیا کیے جائیں گے، لیکن وہ اپنے مذاق کے اعتبار سے کبھی چاندی کے کنگن پہنیں گے اور کبھی سونے کے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دونوں ملا کر پہنیں۔ کیونکہ بعض دفعہ دونوں ملا دینے سے حسن آرائی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ اہل جنت کو ایک ہی طرح کا زیور نہیں دیا جائے گا بلکہ اس میں تنوع ہوگا۔ اختلافِ مذاق کے تحت ہر شخص اپنے اپنے ذوق کے مطابق ان زیورات سے فائدہ اٹھائے گا۔
تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ اہل جنت کو ان کا رب شراب طہور پلائے گا جبکہ اس سے پہلے ایسی دو شرابوں کا ذکر گزر چکا ہے جن میں سے ایک میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی اور دوسری میں چشمہ زنجبیل کی۔ اور پیش نظر آیت میں شراب طہور پلانے کا ذکر کیا جارہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابرار ایک مرتبہ و مقام کے لوگ نہیں ہوں گے، فرقِ مراتب کے لحاظ سے ان کے مشروبات میں بھی فرق ہوگا اور اس بات میں بھی فرق ہوگا کہ کبھی ان کو بالواسطہ شراب ملے گی اور کبھی براہ راست پروردگار کی عنایت سے۔ اور یعنی خود رب کریم ان کو شراب طہور کا جام پلائے گا۔
Ayah 76:22اِنَّ ھٰذَا کَانَ لَـکُمْ جَزَآئً وَّکَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا۔ (الدہر : 22)
(بیشک یہ ہے تمہارے عمل کا صلہ، اور تمہاری کارگزاری مقبول ٹھہری ہے۔ )
اہلِ جنت کا ایک خاص اعزاز
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت پر انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد انھیں ایک خاص اعزاز سے نوازا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ بلاشبہ تمہارا جنت کے لیے سزاوار ہونا اور تمہیں جنت کی نعمتوں سے نوازا جانا اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک بہت بڑا احسان اور اس کے عظیم فضل و کرم کا مظہر ہے۔ کیونکہ اس کے فضل و کرم کے بغیر نہ کسی عمل کی توفیق ملتی ہے اور نہ کوئی عمل باریاب ہوتا ہے۔ اور نہ کسی عمل کرنے والے کی قسمت اپنی معراج کو پہنچتی ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود تمہارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ تمہیں یہ سب کچھ تمہارے اعمال کے صلہ کے طور پر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری سعی یعنی تمہاری زندگی بھر کی اطاعت، بندگی، جانثاری، سرفروشی قابل قدر اور مشکور ٹھہری ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمات کو قبول فرمایا ہے۔ اور اتنے بڑے انعامات کے لیے تمہیں کسی دوسرے کی سعی اور سفارش کا ممنونِ احسان نہیں ہونا پڑا۔
Ayahs 76:23–24اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْـنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلاً ۔ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلاَ تُطِعْ مِنْہُمْ اٰ ثِمًا اَوْکَفُوْرًا۔ (الدہر : 23، 24)
(اے پیغمبر ہم نے ہی آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حکم پر صبر کریں اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات پر دھیان نہ دیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو صبر اور انتظار کی تلقین
گزشتہ آیات میں منکرین کا انجام بھی بیان ہوا ہے اور مومنین کا بھی۔ ان دونوں کے درمیان چونکہ حد فاصل اور قول فیصل قرآن کریم اور اس کی لائی ہوئی تعلیم ہے اور اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو منکرین نے مخالفتوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ چناچہ اسی قرآن کریم کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے قریش کو سنایا جارہا ہے کہ ہم نے آپ پر جو قرآن کریم اتارا نہ آپ نے اس کی خواہش کی، نہ اس کے لیے دعا مانگی۔ قریش کا یہ کہنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ قرآن کریم اتارا گیا ہوتا تو ایک ہی دفعہ نازل کیا جاتا۔ اسے سوچ سوچ کر تھوڑا تھوڑا تیار کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس کا ایک ہی دفعہ نازل نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ خود اسے سوچ سوچ کے بناتے ہیں اور جتنا تیار کرلیتے ہیں اتنا لوگوں کے سامنے لے آتے ہیں۔ چناچہ قریش کی اس ژاژخائی کو ختم کرنے اور ان کے اعتراضات کو رد کرنے کے لیے فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کریم کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے۔ ایسا کیوں کیا ہے، یہ ہماری حکمت کا تقاضا ہے۔ اس سے پہلے مختلف مواقع پر اس کے فوائد اور منافع بھی ذکر کیے جا چکے ہیں۔
آیت کے الفاظ میں ایک تحکم اور جلال پایا جاتا ہے تاکہ قریش کو اس کا اندازہ ہو کہ ہم جو الٹی سیدھی مخالفت کررہے ہیں ہمیں اس کے نتائج کا اندازہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا ہدف ذات محمد ﷺ ہے۔ حالانکہ اس کا ہدف وہ ہے جس نے اسے نازل کیا ہے۔ اور جس نے بھی اس کو ہدف بنا کر الٹی سیدھی حرکتیں کی ہیں اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کتنے بڑے خطرے کو انگیخت کررہا ہے۔
دوسری آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یعنی آپ کو آپ کے رب نے جس کارعظیم پر مامور کیا ہے اس کی مشکلات یقینا بہت زیادہ ہیں۔ آپ کو آئے دن قسم قسم کے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ نہایت پامردی سے اسے برداشت کرتے جائیں اور اپنے فرض کی انجام دہی میں کبھی کمزوری نہ آنے دیں۔ یہ لوگ یقینا کوشش کریں گے کہ آپ کو کسی ترمیم و تغیر پر آمادہ کریں۔ اس کے لیے کبھی طاقت استعمال کریں گے اور کبھی طمع و لالچ کا راستہ اختیار کریں گے۔ آپ ان میں سے کسی بات کی طرف توجہ نہ دیں۔ ان میں سے ایک ایک شخص اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور بندوں کے حقوق تلف کرنے والا ہے۔ وہ کوئی بھی راستہ نکالنے کے لیے آپ سے معاملہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ آپ کسی بات کو بھی صراحت سے بیان کرنے میں تأمل نہ کریں۔ اور ان کی خاطر سے کسی بات میں بھی نرمی پیدا کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ آپ نہایت صبر کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھئے اور اپنے رب کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے پایہ استقلال میں کبھی نرمی کبھی کمزوری نہ آنے دیجئے۔
Ayahs 76:25–26وَاذْ کُرِاسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْلَـہٗ وَسَبِّحْہُ لَیْلاً طَوِیْلاً ۔ (الدہر : 25، 26)
(اور صبح و شام اپنے رب کا نام یاد کرو۔ اور رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو۔ )
ذکر اور نماز سے توفیق ملتی ہے
پروردگار کی سنت یہ ہے کہ جب بھی وہ اپنے پیغمبر کو صبر کی تلقین فرماتا ہے تو اس کے معاً بعد اپنے ذکر اور نماز کا حکم دیتا ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دین حق کی راہ میں دشمنانِ حق کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ اسی چیز سے حاصل ہوتی ہے۔ صبح و شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے مراد ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا بھی ہوسکتا ہے مگر جب اللہ تعالیٰ کی یاد کا حکم اوقات کے تعین کے ساتھ کیا جائے تو پھر اس سے مراد نماز ہوتی ہے۔ اور رات کے طویل وقتوں میں تسبیح کے حکم سے تہجد کی نماز کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ اور سورة مزمل میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
Ayah 76:27اِنَّ ھٰٓـؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَـۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ھُمْ یَوْمًا ثَقِیْلاً ۔ (الدہر : 27)
(بیشک یہ لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظرانداز کردیتے ہیں۔ )
مخالفین کی اصل بیماری
آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے مخالفین کی اصل بیماری کی خبر دی گئی ہے کہ یہ لوگ آپ پر قسم قسم کے اعتراضات کرتے ہیں اور کبھی قرآن کریم کے حوالے سے مختلف شبہات اٹھاتے ہیں حالانکہ ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ یہ دنیا کی لذت عاجل کے پرستار ہیں اور آخرت کی خاطر وہ اس نقد کو چھوڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ خواہ آخرت کا دن کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، اپنی اس دنیا پرستی کو چھپانے کے لیے وہ قیامت پر عجیب و غریب شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آخرت کو تسلیم کرلینے کے بعد دنیا کی بہت سی باتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے جو دنیا کی لذت پرستی کے باعث ان کے لیے آسان نہیں۔ بجائے اپنی اس کمزوری کو دور کرنے کے اعتراضات کے ذریعے پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس کا جو نتیجہ نکلنے والا ہے اس کا انھیں اندازہ نہیں۔
Ayah 76:28نَحْنُ خَلَقْنٰـہُمْ وَشَدَدْنَـآ اَسْرَھُمْ ج وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْـنَـآ اَمْثَالَھُمْ تَبْدِیْلاً ۔ (الدہر : 28)
(ہم ہی نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں اور ہم جب چاہیں گے ٹھیک ٹھیک ان ہی کی مانند بدل دیں گے۔ )
مخالفین کو دھمکی اور ایک شبہ کا جواب
قریش اور دیگر اہل مکہ دنیا کی محبت میں اندھے ہو کر عقل اور نصیحت کی کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آخرت کے بارے میں قرآن کریم کی تنبیہات بھی ان پر اثرانداز نہیں ہو رہیں کیونکہ ساون کے اندھے کو ہر طرف ہرا ہی ہرا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے دل و دماغ میں دنیا طلبی کے سوا اور کوئی خیال نفوذ اختیار نہیں کرتا۔ چناچہ اپنے اس اندھے پن کے باعث قیامت اور آخرت کے وقوع میں قسم قسم کے اشتباہات پیدا کرتے ہیں جس میں سب سے بڑا اعتراض ان کا یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں سالوں میں جو لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں اور آج ان کا نام و نشان بھی کہیں موجود نہیں، آخر انھیں ازسرنو کیسے جسم و جان کے ساتھ اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ ان کے نزدیک یہ ایک ایسا محال امر ہے جس کے وقوع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چناچہ ان کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے پیش نظر آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کاش یہ اعتراض کرنے والے کبھی سوچیں کہ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کیے کہ آج ان میں سے کسی کو اپنی جسمانی قوت پر فخر ہے اور کسی کو اپنی طلاقتِ لسانی پر، کسی کو اپنی شہ سواری پر ناز ہے اور کسی کو اپنی چابکدستی پر، لیکن وہ اس بات پر غور کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے کہ جس پروردگار نے انھیں پہلے تخلیق فرمایا اور پھر انھیں جسم کی مختلف رعنائیوں سے نوازا، اب کیا اس کی قدرت بانجھ ہوگئی ہے کہ وہ دوبارہ انسانوں کو پیدا نہیں کرسکتا۔ ان کے رگ پٹھے اور جوڑ بند کا ذکر شاید اس لیے فرمایا گیا ہے کہ یہ جسم کے نازک ترین حصے ہیں لیکن ان پر پورے جسم کا بوجھ ڈالا گیا ہے، مجال کیا ہے کہ وہ کہولت کی عمر سے پہلے کبھی کام کرنے میں کمی بیشی کریں۔ ہاتھ پائوں اور انگلیوں کے بعض ریشے اور جوڑوں میں استعمال ہونے والے اعصاب اس قدر نازک ہیں کہ چھو جانے سے بھی ان کا ٹوٹ جانے کا گمان ہوتا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ کثرت استعمال کے باوجود وقت سے پہلے کبھی کسروانکسار سے دوچار نہیں ہوتے۔
وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْـنَـآ اَمْثَالَھُمْ تَبْدِیْلاً … اس فقرے کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اس قدر وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ وہ جب چاہے فناو زوال کے ہزاروں مراحل کے بعد بھی ایسے ہی نازک لیکن مضبوط جوڑ بند کے انسان وجود میں لاسکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی چیز محال نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ پروردگار جب چاہے ان سرکشی کرنے والوں کو ہلاک کرکے انہی کی جنس کے دوسرے لوگوں کو ان کی جگہ لے آئے جو اپنے کردار میں ان سے مختلف ہوں اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ معنی مراد لیا جائے کہ پروردگار جب چاہے ان کی شکلیں بدل ڈالے۔ کسی کو مفلوج کردے، کسی کا چہرہ مسخ کردے، کسی کو بیماری کا شکار کردے۔ جس پروردگار کی قدرت میں یہ سب کچھ ہو لیکن وہ اپنے بندوں پر ہمیشہ رحم کرے بجائے اس کے کہ اس کی قدرت کو چیلنج کیا جائے اس کی رحمت کا طلبگار ہونا چاہیے۔
شَدَدْنَـآ اَسْرَھُمْ … شَدَّ اَسْرً ا کے معنی ہڈیوں اور اعصاب کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنے کے ہیں۔