75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsروح القرآن

Ayahs 75:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی

لَآ اَقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ ۔ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ۔ (القیامۃ : 1، 2) (نہیں، میں قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی۔ اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ ) قسم سے پہلے ” لا “ کا استعمال قسم سے پہلے ” لا “ کا استعمال ایک خاص اسلوب ہے جس کی ہم اس سے پہلے متعدد مقامات پر وضاحت کرچکے ہیں۔ ” لا “ نہ یہاں زائد ہے اور نہ فعلِ قسم کا حصہ ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے ایک بات چل رہی ہے۔ متکلم اس کی تردید دلیل کے ساتھ کرنا چاہتا ہے لیکن دلیل دینے سے پہلے وہ ” لا “ کے استعمال سے اس بات کی نفی کردیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متکلم کے نزدیک مخاطب کی بات اس حد تک غلط ہے کہ وہ دلیل پیش کرنے سے پہلے اس کی تردید ضروری سمجھتا ہے اور بعد میں دلیل دے کر اپنی بات کو مستحکم کرتا ہے۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔ آپ جس کسی شخص کی بات کی فوری تردید چاہتے ہیں تو کہتے ہیں، نہیں۔ خدا کی قسم اصل حقیقت اس طرح ہے۔ اس اسلوب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کی بات کی لغویت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ یہاں بھی یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ لوگوں کے سامنے اسلام کے بنیادی حقائق اور عقائد کو واضح کرتے ہوئے قیامت پر یقین کو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ لیکن مخالفین کی جانب سے نہ صرف اسے قبول کرنے سے انکار کیا جارہا ہے بلکہ مذاق اڑایا جارہا ہے اور نہایت غیرمعقول قرار دیتے ہوئے اسے رد کردیا جاتا ہے۔ ان کی اس روش کی تردید کے لیے قرآن کریم کی یہ سورة نازل ہوتی ہے جس میں ” لا “ لا کر سب سے پہلے ان کی روش اور ان کے طرزعمل کی تردید کی گئی ہے کہ تم نے قیامت کے انکار کو جس طرح اپنا طرزعمل بنا لیا ہے یہ بات سراسر غلط اور لغو ہے۔ اس کے بعد قسم کھا کر قیامت کی قطعیت کو واضح کیا گیا ہے۔ مقسم علیہ کے ذکر نہ کرنے کی وجہ ہم اس سے پہلے بھی یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ عربی زبان میں قسم بعض دفعہ دلیل کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے جسے مقسم علیہ بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے قیامت کی قسم کھائی گئی ہے لیکن مقسم علیہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ اتنا واضح ہے کہ اس کے اظہا کی ضرورت نہیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ یہاں قسم خود مقسم علیہ پر دلیل ہے۔ قرآن کریم میں اور بھی متعدد مواقع پر قسموں کے ساتھ مقسم علیہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مثلاً ص والقرآن المجید اور ق والقرآن ذی الذکران دونوں قسموں میں مقسم علیہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اس سے مقصود مخاطب پر یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ جس چیز کی تردید یا تکذیب کررہا ہے وہ خود اپنی صداقت پر ایسی شاہد ہے کہ اس کے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں بھی یوم قیامت کی قسم کھا کر یہ تصور دینا مقصود ہے کہ قیامت کی قطعیت اور اس کی عظمت بجائے خود ایک محکم اور واضح دلیل ہے کیونکہ کائنات کا نظام اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ازلی ہے اور نہ ابدی۔ اس کے تغیرات اور اس کے نظام کی نوعیت خود یہ بتارہی ہے کہ یہ نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے۔ یوں تو انسان کی عقل کبھی بھی اس پر مطمئن نہ ہوسکی کہ وہ اس کائنات کو قدیم اور غیرفانی سمجھے۔ لیکن سائنس کی ترقی نے رفتہ رفتہ اس بات کو ایک امرواقعی بنادیا ہے کہ اس ہنگامہ ہست و بود کی ایک ابتداء ہے جس سے پہلے یہ نہ تھا اور لازماً اس کی ایک انتہا بھی ہے جس کے بعد یہ نہ رہے گا۔ کائنات کے وہ کُرّے اور وہ مظاہرِقدرت جسے انسان نے ہمیشہ بہت مستحکم سمجھا ہے سائنسدان آہستہ آہستہ ان کے زوال پذیر ہونے کا یقین پیدا کررہے ہیں۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقوع پر قیامت ہی کی قسم کھائی ہے۔ اور یہ ایسی ہی قسم ہے جیسے ہم کسی شکی انسان کو جو اپنے موجود ہونے پر ہی شک کررہا ہو، خطاب کرکے کہیں کہ تمہاری جان کی قسم تم موجود ہو۔ یعنی تمہارا وجود خود تمہارے موجود ہونے پر شاہد ہے۔ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ … قیامت کی قسم سے صرف اتنی بات واضح ہوتی ہے کہ یہ نظام کائنات ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں۔ رہی یہ بات کہ اس کے درہم برہم ہوجانے کے بعد پھر کیا ہوگا اور کیا واقعی انسان دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔ اور انسان جزاء و سزا کے مرحلے سے گزرے گا۔ اس کے لیے نفس لوامہ کی قسم کھائی گئی ہے۔ قرآن کریم نے نفس انسانی کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے اس کا نام نفس امارہ ہے۔ دوسرا وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بری نیت پر نادم ہوتا ہے۔ اور انسان کو اس پر ملامت کرتا ہے۔ اس کا نام نفس لوامہ ہے۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑ دینے پر اطمینان محسوس کرتا ہے، اس کا نام نفس مطمئنہ ہے۔ نفسِ لوامہ کی قسم پر بھی مقسم علیہ مذکور نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقسم علیہ خود قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر نفس لوامہ کا وجود شاہد ہے کہ قیامت حق ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نفس لوامہ کی حقیقت کیا ہے۔ صاحب تدبر قرآن نے اس پر جو نوٹ لکھا ہے وہ اس قابل ہے کہ اس سے استفادہ کیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں : نفسِ لوامہ کی حقیقت نفسِ لوامہ سے مراد کوئی علیحدہ اور مستقل نفس نہیں ہے بلکہ یہ نفس انسانی ہی کا ایک پہلو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں کا شعور ودیعت فرمایا ہے اور اس کی سعادت و شقاوت کے لیے ضابطہ یہ ٹھہرایا ہے کہ جو اپنے نفس کو برائیوں سے پاک رکھے گا وہ فلاح پانے والا بنے گا اور جو اس کو برائیوں سے آلودہ رکھے گا وہ نامراد ہوگا۔ سورة شمس میں اس کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے : وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّھَا۔ فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰا ھَا۔ قَدْاَفْلَحَ مَنْ زُکّٰـھَا۔ وَقَدْخَابَ مَنْ دَسّٰھَا۔ (الشمس۔ 19: 7۔ 20) ” اور شاہد ہے نفس اور اس کی تشکیل۔ پس اس کو الہام کردی اس کی بدی اور نیکی۔ جس نے اس کو پاک رکھا اس نے فلاح پائی اور جس نے اس کو آلودہ رکھا وہ نامراد ہوا۔ “ اپنی تشکیل کی اس نوعیت کے سبب سے نفس بعض اوقات اپنی خواہشوں سے مغلوب ہو کر اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے اور وہ انسان کو کسی برائی پر آمادہ کردیتا ہے۔ نفس کے اس رجحان کو قرآن میں نفس امارہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے نفس کے اس پہلو کی طرف یوں اشارہ فرمایا : وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ ج اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوئِ ۔ (یوسف۔ 12: 53) ” اور میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا ہے۔ نفس بڑا ہی برائی کی راہ سمجھانے والا ہے۔ “ لیکن یہ نفس نیکیوں کا شعور بھی رکھتا ہے، اس وجہ سے جب تک اس کا توازن برقرار رہتا ہے۔ اس وقت تک وہ اپنے کو بھی، اگر اس سے کوئی برائی صادر ہوجاتی ہے، ملامت کرتا ہے اور دوسروں کی برائیوں کو دیکھ کر بھی کڑھتا اور بسا اوقات ملامت کرتا ہے۔ نفس کے اسی پہلو کو یہاں نفس لوامہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نفس کے توازن کو قائم رکھنے کی تدبیر نفس کے توازن کو درست رکھنے کی تدبیر اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ آدمی برابر اپنے رب اور روزجزاء و سزا کو یاد رکھے۔ یہ یادنفس کے توازن کو درست رکھتی ہے اور وہ کبھی اس کی خواہشوں سے اتنا مغلوب نہیں ہوتا کہ بالکل ان کے آگے سپرانداز ہوجائے۔ اگر کبھی کوئی لغزش ہوجاتی ہے تو نفس لوامہ اس کو فوراً ٹوکتا ہے اور وہ متنبہ ہو کر توبہ وانابت سے اس داغ کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ جس نفس کے اندر یہ توازن پیدا ہوجائے قرآن نے اس کو نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ تربیتِ نفس کا سب سے اونچا مرتبہ یہی ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دعوت دی ہے اور شریعت کے ذریعہ سے جس کا اہتمام فرمایا ہے۔ اسی نفس کو آخرت میں رَاضِیَۃً مَرْضِیَّۃ کا مقام حاصل ہوگا جو نفس انسانی کی معراج ہے۔ بدی کے بدی ہونے کا شعور انسان کی فطرت کے اندر موجود ہے اس تفصیل سے واضح ہوا کہ بدی کے بدی ہونے کا شعور انسان کی فطرت کے اندر روزاول سے ودیعت ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے قابیل نے حسد سے مغلوب ہو کر اپنے بھائی ہابیل کو قتل تو کردیا لیکن قتل کردینے کے بعد اس کی لاش کو چھپانے کی بھی کوشش کی۔ یہ کوشش ظاہر ہے کہ اسی وجہ سے اسے کرنی پڑی کہ اس کے گناہ ہونے کا اسے احساس ہوا۔ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتا ہے تو اس کو نیکی سمجھ کر نہیں کرتا بلکہ جذبات اور خواہشوں سے مغلوب ہو کر ہی کرتا ہے۔ اگر اس گناہ کے معاملے میں وہ اپنے نفس کو الائونس بھی دیتا ہے تو یہ بھی اپنی فطرت کے خلاف دیتا ہے۔ اس لیے کہ وہی برائی اگر کوئی دوسرا اس کے ساتھ کر بیٹھتا ہے تو وہ اس کو برائی ٹھہراتا اور اس کے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ بروں کے ضمیر کو ٹٹولیے تو معلوم ہوگا کہ ان کے اندر بھی احترام اور عزت نیکی ہی کے لیے ہے۔ اگرچہ ان کا عمل اس کے خلاف ہے۔ انسان نے جب سے معاشرتی و اجتماعی زندگی کی کوئی شکل اختیار کی ہے اس کے اندر اس نے حق و انصاف کے قیام کے لیے لازماً ایک نظام بھی قائم کیا ہے۔ اگرچہ بسا اوقات بعض برائیوں نے معاشرے پر ایسا غلبہ پا لیا ہے کہ نیکیاں ان کے نیچے دب گئی ہیں، لیکن معاشرے کا مجموعی ضمیر اس پر کبھی راضی نہیں ہوا بلکہ اس کے اندر ایسے لوگ موجود رہے ہیں جنھوں نے معاشرے کے اندر وہی فریضہ انجام دیا ہے جو صحیح الفطرت انسان کے اندر اس کا نفس لوامہ انجام دیتا ہے۔ اگر معاملہ اس حد سے گزر گیا ہے یعنی نیکی کی کوئی رمق سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی ہے تو قانونِ قدرت نے اس معاشرے کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ چند سوال اور ان کے جواب اب سوال یہ ہے کہ جب انسان خود اپنے ضمیر کے اندر ایک نگران رکھتا ہے جو اس سے صادر ہوجانے والی برائیوں پر اس کو ٹوکتا رہتا ہے، تو اس کے لیے یہ تصور کرنا کس طرح معقول قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک شتر بےمہار ہے، جس طرح کی زندگی وہ چاہے بسر کرے اور جس قدر چاہے اس نگران کی مخالفت کرے لیکن کوئی اس سے بازپرس کرنے کا حق نہیں رکھتا ؟ اگر انسان شتر بےمہار ہے تو یہ نفس لوامہ اس کے اندر کہاں سے آگھسا ؟ اگر اس کا خالق لوگوں کی نیکی اور بدی دونوں سے بےتعلق ہے تو اس نے نیکی کی تحسین اور بدی پر سرزنش کے لیے انسان کے اندر یہ خلش کیوں اور کہاں سے ڈال دی ؟ پھر یہیں سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اس نے ہر انسان کے اندر یہ چھوٹی سی عدالت قائم کر رکھی ہے تو اس پورے عالم کے لیے وہ ایک ایسی عدالت کبریٰ کیوں نہ قائم کرے گا جو سارے عالم کے اعمالِ خیر و شر کا احتساب کرے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے ؟ ان سوالوں پر جو شخص خواہشوں سے آزاد ہو کر غور کرے گا۔ وہ ان کا یہی جواب دے گا کہ بیشک انسان کا اپنا وجود گواہ ہے کہ وہ خیر و شر کے شعور کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ وہ شتر بےمہار نہیں ہے بلکہ اس کے لیے لازماً ایک پرسش کا دن آنے والا ہے جس میں اس کو اس کی بدیوں کی سزا ملے گی اگر اس نے یہ بدیاں کمائی ہوں گی اور نیکیوں کا صلہ ملے گا اگر اس نے نیکیاں کی ہوں گی۔ اسی دن کی یاد دہانی ہی کے لیے خالق نے اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ خود انسان کے نفس کے اندر رکھ دیا ہے تاکہ انسان اس سے غافل نہ رہے اور اگر کبھی غفلت ہوجائے تو خود اپنے نفس کے اندر جھانک کر اس کی تصویر دیکھ لے۔ یہی حقیقت حکماء اور عارفین نے یوں سمجھائی ہے کہ انسان ایک عالم اصغر ہے جس کے اندر اس عالم اکبر کا پورا عکس موجود ہے، اگر انسان اپنے کو صحیح طور پر پہچان لے تو وہ خدا اور آخرت سب کو پہچان لیتا ہے۔ سقراط کا مقولہ مشہور ہے کہ ” اے انسان ! تو اپنے کو پہچان ! “
Ayahs 75:3–4

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں، ہم اس کے پور پور کو ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ ۔ بَلٰی قٰدِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَـہٗ ۔ (القیامۃ : 3، 4) (کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے۔ کیوں نہیں، ہم اس کے پور پور کو ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں۔ ) منکرین کا اعتراض اور اس کا جواب سابقہ دو آیتوں میں قسموں کی صورت میں جو دو دلیلیں پیش کی گئی ہیں ان سے صرف دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ دنیا کا خاتمہ ایک یقینی امر ہے اور یہ قیامت کا پہلا مرحلہ ہے۔ اور دوسرا یہ کہ انسان چونکہ ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے اس کا منطقی اور فطری تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا دن ضرور آئے جہاں نیک اعمال کی جزاء ملے اور برے اعمال پر سزا ملے۔ کیونکہ یہ انسان کے ضمیر کی آواز اور اخلاق کا تقاضا ہونے کی وجہ سے عدل کی پکار ہے۔ اب اس تیسری آیت کریمہ سے منکرینِ قیامت جو وقوع قیامت کو خلاف عقل سمجھتے تھے ان کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ موت ہمیشہ کی زندگی کا نام نہیں بلکہ اس کے بعد بھی زندگی ممکن ہے۔ اور تم اس پر جو اعتراضات کرتے ہو ان میں کوئی معقولیت نہیں۔ ان کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ انسانی آبادی پر ہزاروں سال گزر چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں سال سے انسان موت کا شکار ہورہے ہیں۔ ان ہزاروں سالوں میں مرنے والے کہاں کہاں دفن ہوئے اور کس کس طرح موت کا شکار ہوئے، جل کر، سمندر میں غرق ہو کر یا درندوں کی چیرہ دستی کے نتیجے میں انھیں قبر بھی نصیب ہوئی یا نہیں۔ اور اگر وہ کہیں دفن ہوئے تو یقینا ان کے اجسام کا ذرہ ذرہ خاک میں مل کر پراگندا ہوچکا اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر نہ جانے کہاں کہاں منتشر ہوچکی ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ سب ایک دن زندہ کیے جائیں گے اور وہ اپنے جسموں کے ساتھ ایک ایسی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں ایک ایک عمل کا حساب ہوگا۔ اندازہ کیجیے عقل کے اعتبار سے یہ بات کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ؟ اس مختصر سے جملے میں پروردگار نے ان کے اس اعتراض کا نہایت زوردار جواب دیا ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو کبھی جمع نہ کرسکیں گے۔ غور کرو کہ اگر تم سے یہ کہا گیا ہوتا کہ تمہارے منتشر اجزائے جسم یا مٹی کی صورت اختیار کر جانے والے اجسام خودبخود جمع ہوجائیں گے اور تم آپ سے آپ اس جسم کے ساتھ جی اٹھو گے تو بلاشبہ تمہارا اس کو ناممکن سمجھنا بجا ہوتا۔ مگر تم سے تو یہ بات کہی گئی ہے کہ تمہارا خالق ومالک جس نے تمہیں پیدا کیا ہے وہ ہزاروں سال کے بعد تمہیں ازسرنو زندہ کرے گا تو تمہیں اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ وہ پروردگار جو اس کائنات کا خالق ہے اور تمہارا بھی خالق ہے وہ اس کام سے عاجز ہے تو سوال یہ ہے کہ تمہیں اس نے کیسے تخلیق کردیا، کائنات کیسے بنادی، سورج چاند کیسے پیدا کردیئے، زمین و آسمان کو وجود کیسے دے دیا، پانی کے ایک حقیر قطرے سے تمہیں کس نے پیدا کیا پھر پیٹ میں خون پی کر کیسے زندہ رہے ہو، کس نے تمہیں ایک خوبصورت شکل دے کر دنیا میں آنے کے قابل بنایا، پھر مہد سے لحد تک تمہاری زندگی کو حواس اور عقل کس نے عطا کیے، تمہارے اندر تجسس، تخلیق اور ایجاد کی قوت کس نے پیدا کی، تمہارے چند فٹ کے جسم میں وہ صلاحیت کس نے رکھ دی جس کے سامنے پہاڑ بھی جھک جاتے، دریائوں کے رخ تبدیل ہوجاتے اور ناممکنات ممکن شکل اختیار کرلیتے ہیں ؟ اگر یہ سب کچھ تمہیں اسی خالق ومالک نے دیا ہے تو آخر وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر کیوں قادر نہیں۔ مزید فرمایا کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم تمہاری ہڈیوں کو جمع نہیں کرسکیں گے حالانکہ ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمہارے نازک ترین اجزائے جسم حتیٰ کہ تمہاری انگلیوں کی پوروں تک کو بھی ویسا ہی بنادیں جیسی وہ پہلے تھیں۔ پوروں کا ذکر شاید ان کی نزاکت کی وجہ سے کیا گیا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انگوٹھے کی پور پر کھینچے گئے خط اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حیرت انگیز شاہکار ہیں۔ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ اربوں کھربوں انسان پیدا ہوچکے لیکن کسی انسان کے انگوٹھے کے خطوط دوسرے انسان سے نہیں ملتے۔ اسی لیے دستاویزی ثبوت میں آج تک ان کا استعمال مروج ہے۔
Ayah 75:5

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ انسان چاہتا ہے کہ وہ آئندہ بھی فسق و فجور کرتا رہے

بَلْ یُرِیْدُالْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ ۔ (القیامۃ : 5) (بلکہ انسان چاہتا ہے کہ وہ آئندہ بھی فسق و فجور کرتا رہے۔ ) منکرینِ قیامت کا اصل مرض منکرینِ قیامت کی طرف سے وقوع قیامت پر اعتراض کرنا اور اسے بعید از امکان قرار دینا محض اس بنا پر کہ ہزاروں سال میں مرنے والے لوگوں کی ہڈیاں جمع کرنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے، اس کا جواب دینے کے بعد فرمایا کہ منکرین کے اس طرح کے اعتراضات درحقیقت سخن سازی کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتے۔ وہ ان سخن سازیوں کے پردے میں اپنا اصل مرض چھپانا چاہتے ہیں۔ وہ دراصل اپنی خواہشوں کے غلام بن چکے ہیں اور آخرت کے ماننے کی صورت میں وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں کچھ اخلاقی پابندیاں قبول کرنا پڑیں گی اور یہ ان کی متداول زندگی میں ممکن نہیں۔ وہ جس فسق و فجور کے عادی ہوگئے ہیں اس میں اخلاقی پابندیوں کا قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ کیونکہ فسق و فجور کو آزادی اس وقت تک ممکن ہے جب تک انسان یہ سمجھتا رہے کہ مجھے شتر بےمہار کی طرح زمین پر بھیجا گیا ہے جو میرے جی میں آئے اور جو میری ہَوائے نفس چاہے میں اسے کرنے میں آزاد ہوں۔ کوئی مجھ سے پوچھنے والا نہیں۔ اس نفس کی آزادی میں اس وقت تک زندگی گزرتی رہے گی جب تک کہ موت اس کا خاتمہ نہ کردے۔ اگر وہ آخرت کو قبول کرلیتے ہیں تو زندگی کے بارے میں ان کے تصورات اپنی موت آپ مرجاتے ہیں جبکہ وہ اپنا رویہ بدلنے پر کسی طرح بھی تیار نہیں۔ چناچہ جب بھی ان کے سامنے آخرت کی بات آتی ہے تو وہ اس کا انکار اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے نزدیک اس کا وقوع ممکن نہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے فسق و فجور اور بدکرداریوں کی آزادی کو کھونا نہیں چاہتے۔ جو کچھ کہا گیا ہے یہ اس صورت میں ہے کہ اگر اَمَامَہٗکا ترجمہ آگے کی زندگی اور آئندہ کی زندگی کیا جائے۔ لیکن بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ کیا ہے، اپنے نفس لوامہ کے سامنے، یا اپنے ضمیر کے روبرو۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اگر اس کا ترجمہ آئندہ زندگی کیا جائے تو نفس لوامہ کی شہادت سے اس کا تعلق واضح نہیں ہوتا۔ جبکہ قیامت کی سب سے بڑی شہادت انسان کے اندر نفس لوامہ کا ہونا ہے۔ تو جو شخص فسق و فجور کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ دراصل اپنے ضمیر یا اپنے نفس لوامہ کی تردید و تکذیب کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ ان اہل علم نے قیامت اور نفس لوامہ کو وقوع قیامت پر دلائل قرار دے کر اَمَامَہٗ کا تعلق اسی سے جوڑا ہے جبکہ جمہور اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ قیامت کی قسم سے قیامت کا پہلا مرحلہ ثابت کرنا مقصود ہے۔ اور نفس لوامہ کی قسم سے دوسری زندگی پر شہادت قائم کی گئی ہے کیونکہ نفس لوامہ کے وجود سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ انسان نرا حیوان نہیں بلکہ اپنا ایک اخلاقی وجود بھی رکھتا ہے۔ اس کا لازمی فطری اور منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے جہاں تمام اعمال کا حساب کتاب ہو اور ان پر جزاء و سزا کا ترتب ہو۔ تیسری آیت کا تعلق نفس لوامہ سے نہیں بلکہ منکرینِ قیامت کے اعتراض سے ہے جس کی بنیاد یہ ہے کہ ہزاروں سالوں میں مرنے والے لوگوں کے اجزائے جسم کیسے جمع کیے جاسکتے ہیں ؟ اور جب جمع نہیں ہوسکتے تو انھیں زندہ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ اس لحاظ سے قیامت کا وجود سراسر خلاف عقل اور بعیداز امکان ہے۔ اسی سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ درحقیقت یہ معترضین خود بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے اعتراضوں میں کوئی جان نہیں۔ لیکن وہ اس سخن سازی کے پیچھے اپنا اصل مرض چھپانا چاہتے ہیں اور ان کا اصل مرض یہ ہے کہ وہ ہَوائے نفس کے تابع ہوچکے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ شتر بےمہار کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اس وضاحت کو اگر سامنے رکھا جائے تو پھر اَمَامَہٗ کا ترجمہ ” آئندہ زندگی “ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 75:6

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

وہ پوچھتا ہے آخر قیامت کا دن کب ہوگا ؟

یَسْئَلُ اَ یَّانَ یَوْمُ الْقِیٰـمَۃِ ۔ (القیامۃ : 6) (وہ پوچھتا ہے آخر قیامت کا دن کب ہوگا ؟ ) وہ اپنا اصل مرض چھپانے کے لیے طریق اعتراض کو چھوڑ کر استہزاء کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جو آپ ہمیں قیامت کے آنے کی خبر دیتے رہتے ہیں تو آخر وہ کب آئے گی ؟ اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتی۔ ہم اس کے ڈراوے سنتے سنتے تو تھک گئے لیکن اس کو نہ آنا تھا اور نہ آئی۔ اب ہم ان ڈراو وں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔
Ayahs 75:7–10

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پس جب نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند بےنور ہوجائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

تو اس وقت انسان کہے گا کہاں بھاگ کر جائوں

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۔ وَخَسَفَ الْقَمَرُ ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۔ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ ۔ (القیامۃ : 7 تا 10) (پس جب نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی۔ اور چاند بےنور ہوجائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے۔ تو اس وقت انسان کہے گا کہاں بھاگ کر جاؤں۔ ) قیامت کا منظرنامہ منکرینِ قیامت کا یہ مطالبہ کہ قیامت کب آئے گی، چونکہ سراسر ایک احمقانہ مطالبہ تھا اس لیے اس سے تعرض نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اگر یہ بتادیا جاتا کہ قیامت کے آنے میں ابھی صدیاں باقی ہیں تو کوئی اس کی تیاری کے لیے فکرمند نہ ہوتا۔ اور اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ اتنے عرصے کے بعد آرہی ہے تو اس کے امتحان ہونے کی کیفیت ختم ہوجاتی۔ جن چیزوں کو امتحان بنایا گیا ہے ان کے متعین وقت نہ بتائے جانے کی یہی حکمت ہے کہ انسانوں کے دلوں کی کیفیت آزمائی جائے اور لوگوں میں فکرمندی کا احساس پیدا کیا جائے۔ چناچہ وقت بتائے بغیر یہ بتانے پر اکتفا کیا گیا کہ اگر تمہیں یقین ہے قیامت کے آنے کا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ آج آتی ہے یا صدیوں بعد۔ کیونکہ جب بھی آئے گی تمہاری تمام زندگی کا ایک ایک عمل اس دن حساب کے ترازو میں رکھا جائے گا۔ اور موت کے بعد کی زندگی تمہارے لیے بالکل ایسی ہوگی جیسے آدمی اپنے معمول کی نیند سے اٹھتا ہے۔ تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ جلدی آتی ہے یا دیر سے آتی ہے۔ اصل بات جو جاننے کی ہے وہ صرف یہ ہے کہ وہ جب آئے گی تو اس کی ہولناکی کا عالم کیا ہوگا۔ چناچہ اسی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تیز روشنی کی وجہ سے آنکھیں کھل نہیں پائیں گی، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس دن کی ہیبت، ہولناکی اور وحشت کا عالم یہ ہوگا کہ آنکھیں خیرہ ہوجائیں گی، دیدے پتھرا جائیں گے، ہر شخص پھٹی پھٹی نگاہوں سے ہک دک ہو کر ایک ہی طرف دیکھتا چلا جائے گا۔ قرآن کریم نے اسی مضمون کو ایک دوسری جگہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمِ تَشْخَصُ فِیِہِ الْاَبْصَارُ ” اللہ تعالیٰ انھیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ “ چاند گہنا جائے گا، یعنی بالکل بےنور ہوجائے گا۔ سورج اور چاند ایک ہی محور اور مدار میں جا پڑیں گے۔ یعنی صرف چاند ہی کی روشنی ختم نہیں ہوگی جو سورج سے ماخوذ ہے بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا۔ ممکن ہے زمین کو الٹا چلا دیا جائے اور چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوتے دکھائی دیں۔ ان باتوں کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس لیے یقین سے کوئی ایک مفہوم متعین نہیں کیا جاسکتا۔ آج کے باتیں بنانے والے اس دن خوفزدگی کے عالم میں پناہ ڈھونڈتے پھریں گے اور کوئی پناہ نہیں ملے گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیامت کے پہلے مرحلے کا بیان ہے جس میں نظام عالم درہم برہم ہوجائے گا۔ اور ایسی ہلچل مچے گی کہ کوئی کُرّہ اپنی جگہ ٹھہر نہیں سکے گا۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔ ان اعتراض کرنے والوں سے کہا جارہا ہے کہ تم میں اگر عقل کا کوئی شائبہ بھی ہے تو اس سے پناہ مانگو، اور بجائے مذاق اڑانے کے اس کی آفتوں اور مصائب سے بچنے کی کوئی سبیل پیدا کرو۔
Ayahs 75:11–12

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں، کوئی پناہ نہیں

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس دن تیرے رب ہی کی طرف ٹھکانہ ہوگا

کَلاَّ لاَ وَزَرَ ۔ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمُسْتَقَرُّ ۔ (القیامۃ : 11، 12) (ہرگز نہیں، کوئی پناہ نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف ٹھکانہ ہوگا۔ ) گزشتہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے پہلے مرحلے میں جب ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی تو پریشانی کا عالم یہ ہوگا کہ انسان بھاگے پھریں گے اور چیختے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ اب بھاگ کر کہاں جائیں۔ کوئی جائے پناہ معلوم ہو تو ہمیں بھی اس کی خبر دو ۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہرگز نہیں، اب کہیں کوئی جائے پناہ نہیں۔ اب تو تمہارا ٹھکانہ صرف تمہارے رب کے پاس ہے۔ اور تم اپنے رب کو اپنے کرتوتوں سے ناراض کرچکے ہو۔ تمہیں آج کے دن کا ویسے ہی انکار تھا۔ سمجھانے والے نے خون جگر پی پی کر تمہیں سمجھایا۔ تمہاری بدزبانیوں کے زخم سہے، اس کی غمگساری میں کبھی کمی نہ آئی۔ لیکن تمہاری سنگدلی کی یہ انتہا تھی کہ تم نے اس کی ہر بات ماننے سے انکار کردیا۔ تو آج تمہیں جائے پناہ کہاں سے ملے۔
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو بتادیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا ہے اور جو پیچھے چھوڑا ہے

یُنَبـُّـؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ م بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ۔ (القیامۃ : 13) (اس دن انسان کو بتادیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا ہے اور جو پیچھے چھوڑا ہے۔ ) قیامت کا مقصد اس جامع فقرے میں قیامت کے آنے کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کا آنا کوئی رسمی کارروائی نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی زندگی کا تقاضا اور اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا اظہارِ کامل ہے۔ یوں تو اس فقرے کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں لیکن جو بات خودبخود اس جملے سے نکلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر انسان کے اعمال جو اس نے زندگی میں انجام دیئے وہ ان کے نتائج سمیت اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ اس نے جو نیکیاں کیں وہ بھی اس کے سامنے آجائیں گی اور جو برائیاں کیں اس کی تفصیل بھی اس کے سامنے رکھ دی جائے گی۔ اور جن نیکیوں سے منہ موڑا ان کے نتائج بھی واشگاف کردیئے جائیں گے۔ اور جن نیکیوں کے انجام دینے کی کوشش کی لیکن حالات نے ساتھ نہ دیا اس کا نتیجہ بھی کھول دیا جائے گا۔ اور جن برائیوں کے ارتکاب کے اسباب فراہم کیے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت نے راستہ روک دیا اور وہ برائیاں وجود پذیر نہ ہوسکیں ان کے اثرات بھی واضح کردیئے جائیں گے۔ جب اس طرح زندگی بھر کا روزنامچہ اپنے نتائج سمیت سامنے آجائے گا تو کافر کو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ اس کا ایک ایک دن کفر کی تاریکی سے تاریک اور شرک کی آلودگیوں سے آلودہ ہے۔ اس میں نہ کہیں توحید کا نور جھلکے گا اور نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طلبگاری جو قیامت کے یقین سے پیدا ہوتی ہے اپنا اظہار کرے گی۔ تو کافر یہ صورتحال کا دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیں گے کہ کاش ہم نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات مانی ہوتی اور آج کے دن سے انحراف نہ کیا ہوتا تو آج ہم اس تباہ کن صورتحال سے دوچار نہ ہوتے۔ قَدَّمَ وَاَخَّرَکا مفہوم بھی بالکل واضح ہے کیونکہ انسان کو آخرت میں کامیابی کے لیے بہت سے نیک اعمال سرانجام دینے پڑتے ہیں اور بہت سے برے اعمال چھوڑنے پڑتے ہیں۔ اور یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کے لیے زادرہ بنتا ہے اور انسان اسے آگے بھیجتا ہے۔ لیکن جو شخص آخرت سے منحرف اور دنیا ہی کو اپنی منزل سمجھتا ہے وہ کرنے والے کاموں کے تو کبھی قریب نہیں جاتا۔ البتہ جو کام آخرت میں تباہی کا باعث بننے والے ہیں انھیں کا ذخیرہ جمع کرنے میں زندگی گزار دیتا ہے اور انھیں کو وہ حاصل زندگی سمجھتا ہے۔ یہ ہیں وہ اعمال جو وہ پیچھے چھوڑ کے جاتا ہے۔ چناچہ ان دونوں طرح کے اعمال کو قیامت کے دن نتائج سمیت اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ جن کاموں کا اس نے ارتکاب کیا وہ تو اعمال کی صورت میں اس کے سامنے ہوں گے لیکن جن برائیوں کا وہ ارتکاب کرنا چاہتا تھا حالات کی نامساعدت نے اسے سرانجام دینے کے قابل نہ بنایا، وہ بھی گناہوں کی خواہش کی شکل میں اس کے سامنے ہوں گے۔ اس لیے کوئی شخص قیامت کے دن شوخی سے یہ نہیں کہہ سکے گا : ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے نہ اس طرح کی شوخیوں کو وہاں بار مل سکے گا : آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد مجھ سے میرے گناہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
Ayahs 75:14–15

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ ۔ (القیامۃ : 14، 15) (بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے۔ اگرچہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔ ) مشکل الفاظ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ کا معنی ہے شَاہِدٌعَلٰی نَفْسِہٖ ” وہ اپنے اوپر خود گواہ ہے۔ “ مَعَاذِیْرَجمع ہے مَعَذِرَۃٍ کی۔ یہ دراصل مَعَاذِرٌ ہے۔ اس میں مناکیر کی طرح ” ی “ زیادہ ہوگئی ہے۔ اس کے معنی ہیں جھوٹے عذرات اور فضول بہانے۔ بعض لوگوں نے اس کو معذار کی جمع بتایا ہے، جس کے معنی اہل یمن کی زبان میں پردہ کے ہیں۔ لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ قرآن کریم قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے، اہل یمن کی بولی میں نہیں۔ ایک اشتباہ کا جواب یہ بھی اشتباہ کا جواب ہے۔ خیال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے اعمال کی تفصیلی خبر شاید اس لیے دی جائے گی تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ وہ ایک مجرم ہے اور یہ اس کے جرائم کی تفصیل ہے۔ چناچہ اس اشتباہ اور خیال کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کے تمام اعمال کی خبر جرم بتانے کے لیے نہیں دی جائے گی بلکہ انصاف کے تقاضے پورا کرنے کے لیے یہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کیونکہ برسرعدالت جرم کا ثبوت پیش کیے بغیر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انسان کو اپنے مجرم ہونے کا یقین ہوجائے، اس کے لیے جرائم کی تفصیل بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ کیونکہ ہر انسان اپنے بارے میں کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ جانتا ہے۔ وہ خوب سمجھتا ہے کہ میں نے زندگی کس طرح گزاری۔ زندگی ایک خالی سلیٹ کی طرح ہے۔ انسان اپنے اعمال کی تحریر اس پر خود لکھتا ہے۔ اور جس طرح ایک خط لکھنے والا جانتا ہے کہ میں نے اپنے خط میں کیا لکھا ہے، اسی طرح اپنی زندگی کی تحریر لکھنے والا بھی ہر دوسرے شخص سے زیادہ جانتا ہے کہ میری زندگی کن کاموں میں گزری ہے۔ نویسندہ داند کہ درنامہ چیست ایک جھوٹا، فریبی، مکار، خائن، شعبدہ باز دوسروں کو تو دھوکہ دے سکتا ہے اور اپنے جرائم کو چھپا سکتا ہے لیکن خود اسے خوب معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اسی طرح آخرت میں پیش ہونے والے ہر کافر، ہر منافق اور ہر فاسق و فاجر اور مجرم کو خوب معلوم ہے کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتا رہا ہے اور آج وہ کس حیثیت سے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے آپ کو خوب جانتا ہے اور وہی اپنے اوپر سب سے بڑا گواہ ہے۔ دوسروں کے سامنے وہ جھوٹے بہانے بھی کرسکتا ہے اور غلط عذر بھی پیش کرسکتا ہے لیکن خود اپنی نگاہوں سے چھپ نہیں سکتا۔ ممکن ہے کوئی شخص یہ کہے کہ بعض جرائم پیشہ لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب ان کا ضمیر اس حد تک مرجاتا ہے کہ وہ یہ بتانا چھوڑ دیتا ہے کہ کیا چیز بری اور کیا چیز اچھی ہے۔ بلکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ناخوب، خوب بن جاتا ہے اور خوب، ناخوب ٹھہرتا ہے۔ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتے ہیں قوموں کے ضمیر ایسے شخص کے لیے یہ کہنا کہ وہ اپنے نفس پر سب سے بڑا گواہ ہے، کس حد تک درست ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ممکن ہے دنیا میں انسان پر کبھی ایسا وقت بھی آتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے اسے خیر و شر کے احساس سے محروم کردیتے ہوں۔ لیکن صبح قیامت کے طلوع ہوتے ہی انسان کی حقیقی فطرت اس کی طرف عود کر آئے گی۔ کل تک وہ جن باتوں کا انکار کرتا تھا آج اقرار کرے گا۔ اور جو حقائق اس کے لیے مفروضوں اور افسانوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے تھے آج اس کے لیے واقعی حقیقت بن جائیں گے۔ تو اس دن ہر شخص کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر گواہ ہے اور اسے دنیا میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ اپنی آنکھوں کے سامنے گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
Ayahs 75:16–19

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اے نبی، اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیجیے

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

ہمارے ذمہ ہے اس کو جمع کرنا اور اس کو پڑھوا دینا

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

تو جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ اس کی پیروی کریں

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کی وضاحت کردینا بھی ہماری ذمہ داری ہے

لاَ تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ ۔ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقَرْاٰنَـہٗ ۔ فَاِذَا قَرَاْنٰـہٗ فَاتَّبِعُ قُرْاٰنَـہٗ ۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَـہٗ ۔ (القیامۃ : 16 تا 19) (اے نبی، اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیجیے۔ ہمارے ذمہ ہے اس کو جمع کرنا اور اس کو پڑھوا دینا۔ تو جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ اس کی پیروی کریں۔ پھر اس کی وضاحت کردینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ) ان آیات کا پس منظر بعض لوگوں نے ان چار آیات کے حوالے سے اعتراض کیا ہے کہ یہ سیاق وسباق سے بالکل ہٹی ہوئی اور غیرمتعلق ہیں کیونکہ قیامت پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا جارہا تھا اسی ضمن میں قیامت کے کچھ احوال بیان کیے گئے اور مخالفین کے بارے میں یہ واضح کیا گیا کہ ان کا انکارِ قیامت کا سبب یہ بات نہیں کہ وہ قیامت کے وقوع کو خلاف عقل یا بعیداز امکان سمجھتے ہیں بلکہ ان کے انکار کا سبب کچھ اور ہے۔ یہی بیان جاری تھا کہ ان چار آیات نے سلسلہ بیان بدل ڈالا۔ اور ان چار کے بعد پھر وہی مضمون شروع ہوگیا۔ اس لحاظ سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان چار آیات کا سیاق وسباق سے کوئی تعلق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایسی چار آیات کا درآنا جو سیاق وسباق سے غیرمتعلق ہوں مناسب بات معلوم نہیں ہوتی۔ یہ اعتراض صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو ان چار آیات کے پس منظر سے واقف نہ ہو لیکن جس کے پیش نظر مندرجہ ذیل باتیں ہوں اسے یہ خیال کبھی بھی دامن گیر نہیں ہوسکتا۔ وہ باتیں یہ ہیں : 1 کہ اللہ تعالیٰ کا کلام پرشوکت اور پرہیبت ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) صفاتِ مَلکی اور غیرمعمولی وجاہت کے باعث حیران کن شخصیت کے مالک ہیں۔ چناچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر نازل ہونا اپنے اندر جو تمکنت، ہیبت، عظمت، رعب اور شوکت رکھتا تھا اس سے آنحضرت ﷺ کے قلب و نگاہ کا متأثر ہونا عقل اور فطرت کا تقاضا تھا۔ چناچہ اس شدید تأثر کے باعث آپ کے لیے وحی الٰہی کا تحمل ایک ایسا غیرمعمولی بار تھا جس نے آپ کی انتہائی باوقار اور عظیم مقام و مرتبہ کی حامل شخصیت کو بھی شدید متأثر کیا۔ 2 قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ قیامت تک کے لیے انسانوں کی ہدایت آپ کے دامن سے وابستہ ہے۔ انسانی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول آپ کے دم قدم اور آپ کی تبلیغ و کاوش کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ بنابریں آپ کو اپنی اس ذمہ داری کا شدید احساس تھا۔ اس لیے جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحیِ الٰہی لے کر نازل ہوتے تو آپ قرآن کریم کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ساتھ ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتے تاکہ کوئی لفظ حافظے میں محفوظ ہونے سے نہ رہ جائے۔ اور انسانیت اس سے محروم نہ رہ جائے۔ 3 اللہ تعالیٰ سے بےپناہ محبت اور اس کے کلام سے بےپناہ شغف کے باعث آپ بےتابانہ اللہ کے کلام کو سنتے۔ اور اس نامہ محبوب کے ایک ایک جملے کو نہایت بےقراری کے ساتھ زبان سے دہرانے اور دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کرتے۔ ایسے ہی احساسات اور تأثرات نے آپ کے اندر وہ کیفیت پیدا کردی تھی جسے قرآن کریم نے عجلت کا نام دیا ہے۔ سورة القیمۃ کے نزول کے وقت آپ کی اسی کیفیت اور بےتابی نے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ سلسلہ کلام کو توڑ کر آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ وحی کے الفاظ دہرانے کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ غور سے سنتے رہیں۔ اسے یاد کرا دینا اور بعد میں ٹھیک ٹھیک اسے آپ سے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ آپ مطمئن رہیں کہ اس کلام کا ایک لفظ بھی آپ نہ بھولیں گے اور نہ کبھی اسے ادا کرنے میں غلطی کرسکیں گے۔ یہ ہدایت فرمانے کے بعد پھر اصل سلسلہ کلام شروع کردیا گیا۔ اس لحاظ سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کے بیچ میں لایا گیا ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی رواں دواں لیکچر میں بعض دفعہ کسی ذہین اور پر شوق طالب علم کی بےتابی اسے کوئی سوال کرنے پر مجبور کردیتی ہے، تو استاد لیکچر روک کر یہ فرماتے ہیں کہ میری بات کو سنتے رہئے، ہر بات واضح ہوجائے گی، اور پھر اپنا لیکچر شروع کردیتے ہیں۔ تو کوئی شخص بھی جس کے سامنے پوری صورتحال ہو وہ اس جملہ معترضہ کو غیرمتعلقہ بات نہیں کہہ سکتا جبکہ قرآن کریم کو سننے اور سمجھنے کے آداب میں یہ باتیں ہمیشہ کے لیے شامل ہیں۔ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَـہٗ کا مفہوم ان آیات میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ اپنے تئیں بالکل واضح ہیں۔ البتہ ان میں جو چوتھی آیت ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس قرآن کا بیان کرنا اور اس کی ایک ایک بات کا واضح کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں صاحب تفہیم القرآن نے جو نوٹ لکھا ہے قابل استفادہ ہے، ہم اس کو نقل کررہے ہیں۔ یہ ایک بڑی اہم آیت ہے جس سے چند ایسی اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں جنھیں اگر آدمی اچھی طرح سمجھ لے تو ان گمراہیوں سے بچ سکتا ہے جو پہلے بھی بعض لوگ پھیلاتے رہے ہیں اور آج بھی پھیلا رہے ہیں۔ اولاً ، اس سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ کو ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے۔ اس لیے کہ قرآن کے احکام و فرامین، اس کے اشارات، اس کے الفاظ اور اس کی مخصوص اصطلاحات کا جو مفہوم و مدعا حضور ﷺ کو سمجھایا جاتا تھا وہ اگر قرآن ہی میں درج ہوتا تو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس کا مطلب سمجھا دینا یا اس کی تشریح کردینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے، کیونکہ وہ تو پھر قرآن ہی میں مل جاتا۔ لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مطالبِ قرآن کی تفہیم و تشریح جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی جاتی تھی وہ بہرحال الفاظِ قرآن کے ماسوا تھی۔ یہ وحی، خفی کا ایک اور ثبوت ہے جو ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔ (قرآن مجید سے اس کے مزید ثبوت ہم نے اپنی کتاب ” سنت کی آئینی حیثیت “ میں صفحات 94۔ 95 اور صفحات 118 تا 125 پیش کردیئے ہیں) ثانیاً ، قرآن کے مفہوم و مدعا اور اس کے احکام کی یہ تشریح جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی تھی آخر اسی لیے تو بتائی گئی تھی کہ آپ اپنے قول اور عمل سے اس کے مطابق لوگوں کو قرآن سمجھائیں اور اس کے احکام پر عمل کرنا سکھائیں۔ اگر یہ اس کا مدعا نہ تھا اور یہ تشریح آپ کو صرف اس لیے بتائی گئی تھی کہ آپ اپنی ذات کی حد تک اس علم کو محدود رکھیں تو یہ بیکار کام تھا، کیونکہ فرائضِ نبوت کی ادائیگی میں اس سے کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی۔ اس لیے صرف ایک بیوقوف آدمی ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُمَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ ” اور اے نبی، یہ ذکر ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لیے اتاری گئی ہے۔ “ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حاشیہ 40۔ اور قرآن میں چار جگہ اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کام صرف کتاب اللہ کی آیات سنا دینا ہی نہ تھا بلکہ اس کتاب کی تعلیم دینا بھی تھا۔ (البقرۃ، آیات 129 و 151۔ آل عمران 164۔ الجمعہ، 2۔ ان سب آیات کی تشریح ہم ” سنت کی آئینی حیثیت “ میں صفحہ 74 سے 77 تک تفصیل کے ساتھ کرچکے ہیں) ۔ اس کے بعد کوئی ایسا آدمی جو قرآن کو مانتا ہو اس بات کو تسلیم کرنے سے کیسے انکار کرسکتا ہے کہ قرآن کی صحیح و مستند بلکہ فی الحقیقت سرکاری تشریح صرف وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے فرما دی ہے کیونکہ وہ آپ کی ذاتی تشریح نہیں ہے بلکہ خود قرآن کے نازل کرنے والے خدا کی بتائی ہوئی تشریح ہے۔ اس کو چھوڑ کر یا اس سے ہٹ کر جو شخص بھی قرآن کی کسی آیت یا اس کے کسی لفظ کا کوئی من مانا مفہوم بیان کرتا ہے وہ ایسی جسارت کرتا ہے جس کا ارتکاب کوئی صاحب ایمان آدمی نہیں کرسکتا۔ ثالثاً ، قرآن کا سرسری مطالعہ بھی اگر کسی شخص نے کیا ہو تو وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس میں بکثرت باتیں ایسی ہیں جنھیں ایک عربی داں آدمی محض قرآن کے الفاظ پڑھ کر یہ نہیں جان سکتا کہ ان کا حقیقی مدعا کیا ہے اور ان میں جو حکم بیان کیا گیا ہے اس پر کیسے عمل کیا جائے۔ مثال کے طور پر لفظ صلوٰۃ ہی کو لے لیجئے۔ قرآن مجید میں ایمان کے بعد اگر کسی عمل پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے تو وہ صلوٰۃ ہے لیکن محض عربی لغت کی مدد سے کوئی شخص اس کا مفہوم تک متعین نہیں کرسکتا۔ قرآن میں اس کا ذکر بار بار دیکھ کر زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ سمجھ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ عربی زبان کے اس لفظ کو کسی خاص اصطلاحی معنی میں استعمال کیا گیا ہے، اور اس سے مراد غالباً کوئی خاص فعل ہے جسے انجام دینے کا اہل ایمان سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ لیکن صرف قرآن کو پڑھ کر کوئی عربی داں یہ طے نہیں کرسکتا کہ وہ خاص فعل کیا ہے اور کس طرح اسے ادا کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن کے بھیجنے والے نے اپنی طرف سے ایک معلم کو مقرر کرکے اپنی اس اصطلاح کا مفہوم اسے ٹھیک ٹھیک نہ بتایا ہوتا اور صلوٰۃ کے حکم کی تعمیل کرنے کا طریقہ پوری وضاحت کے ساتھ اسے نہ سکھا دیا ہوتا، تو کیا صرف قرآن کو پڑھکر دنیا میں کوئی دو مسلمان بھی ایسے ہوسکتے تھے جو حکم صلوٰۃ پر عمل کرنے کی کی کسی ایک شکل پر متفق ہوجاتے ؟ آج ڈیڑھ ہزار برس سے مسلمان نسل در نسل ایک ہی طرح جو نماز پڑھتے چلے آرہے ہیں اور دنیا کے ہر گوشے میں کروڑوں مسلمان جس طرح نماز کے حکم پر یکساں عمل کررہے ہیں، اس کی وجہ یہی تو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر صرف قرآن کے الفاظ ہی وحی نہیں فرمائے تھے بلکہ ان الفاظ کا مطلب بھی آپ کو پوری طرح سمجھا دیا تھا اور اسی مطلب کی تعلیم آپ ان سب لوگوں کو دیتے چلے گئے جنھوں نے قرآن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور آپ کو اللہ کا رسول مان لیا۔ رابعاً ، قرآن کے الفاظ کی جو تشریح اللہ نے اپنے رسول کو بتائی اور رسول نے اپنے قول اور عمل سے اس کی جو تعلیم امت کو دی اس کو جاننے کا ذریعہ ہمارے پاس حدیث و سنت کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ حدیث سے مراد وہ روایات ہیں جو حضور ﷺ کے اقوال و افعال کے متعلق سند کے ساتھ اگلوں سے پچھلوں تک منتقل ہوئیں۔ اور سنت سے مراد وہ طریقہ ہے جو حضور ﷺ کی قولی و عملی تعلیم سے مسلم معاشرے کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں رائج ہوا جس کی تفصیلات معتبر روایتوں سے بھی بعد کی نسلوں کو اگلی نسلوں سے ملیں اور بعد کی نسلوں نے اگلی نسلوں میں اس پر عملدرآمد ہوتے بھی دیکھا۔ اس ذریعہ علم کو قبول کرنے سے جو شخص انکار کرتا ہے وہ گویا یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ فرما کر قرآن کا مطلب اپنے رسول کو سمجھا دینے کی جو ذمہ داری لی تھی اسے پورا کرنے میں معاذاللہ وہ ناکام ہوگیا کیونکہ یہ ذمہ داری محض رسول ﷺ کو ذاتی حیثیت سے مطلب سمجھانے کے لیے نہیں لی گئی تھی بلکہ اس غرض کے لیے لی گئی تھی کہ رسول ﷺ کے ذریعے سے امت کو کتاب الٰہی کا مطلب سمجھایا جائے اور حدیث و سنت کے ماخذ قانون ہونے کا انکار کرتے ہی آپ سے آپ یہ لازم آجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرسکا ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من ذالک۔ اس کے جواب میں جو شخص یہ کہتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے حدیثیں گھڑ بھی تو لی تھیں اس سے ہم کہیں گے کہ حدیثوں کا گھڑا جانا خود اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ آغاز اسلام میں پوری امت رسول اللہ ﷺ کے اقوال و اعمال کو قانون کا درجہ دیتی تھی، ورنہ آخر گمراہی پھیلانے والوں کو جھوٹی حدیثیں گھڑنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی ؟ جعلساز لوگ وہی سکے تو جعلی بناتے ہیں جن کا بازار میں چلن ہو۔ جن نوٹوں کی بازار میں کوئی قیمت نہ ہو انھیں کون بیوقوف جعلی طور پر چھاپے گا ؟ پھر ایسی بات کہنے والوں کو شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ اس امت نے اول روز سے اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ جس ذات پاک ﷺ کے اقوال و افعال قانون کا درجہ رکھتے ہیں اس کی طرف کوئی غلط بات منسوب نہ ہونے پائے۔ اور جتنا جتنا غلط باتوں کے اس ذات ﷺ کی طرف منسوب ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا اتنا ہی اس امت کے خیرخواہ اس بات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرتے چلے گئے کہ صحیح کو غلط سے ممیز کیا جائے۔ صحیح و غلط روایات کی تمیز کا یہ علم ایک بڑا عظیم الشان علم ہے جو مسلمانوں کے سوا دنیا کی کسی قوم نے آج تک ایجاد نہیں کیا ہے۔ سخت بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس علم کو حاصل کیے بغیر مغربی مستشرقین کے بہکائے میں آکر حدیث و سنت کو ناقابلِ اعتبار ٹھہراتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اپنی اس جاہلانہ جسارت سے وہ اسلام کو کتنا بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Ayahs 75:20–21

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو

کَلاَّ بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ ۔ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ (القیامۃ : 20، 21) (ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو۔ اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ ) اخذواستماعِ وحی سے متعلق جملہ معترضہ کی شکل میں آنحضرت ﷺ کو ہدایات دینے کے بعدسلسلہ کلام پھر اصل مضمون سے جوڑ دیا گیا ہے۔ قریش اور دیگر اہل مکہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم جو قیامت کا انکار کرتے ہو کہ ہزاروں سال میں مرنے والے لوگوں کے اجزائے جسم کیسے اکٹھے کیے جاسکتے ہیں اور بوسیدہ اور ازکارفتہ ہڈیوں میں کیسے دوبارہ جان ڈالی جاسکتی ہے۔ گویا یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو سراسر خلاف عقل اور بعید از وقوع ہے حالانکہ تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کوئی چیز بھی ناممکن نہیں۔ کوئی دعویٰ انسانی امکان سے تو ماورا ہوسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حقیقت میں تمہاری وقوع قیامت سے انکار کی یہ وجہ نہیں بلکہ دو وجوہ ہیں جن میں پہلی وجہ آیت نمبر پانچ میں بیان کی گئی ہے کہ انسان چونکہ فسق و فجور کی کھلی چھوٹ چاہتا ہے، اس کی آزاد طبیعت کو اخلاقی پابندیاں گوارا نہیں اور آخرت کو ماننے کی صورت میں یقینا کچھ اخلاقی پابندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں۔ ان پابندیوں سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ آخرت کا انکار کردیا جائے۔ اب اگر فسق و فجور کے حوالے سے انکار کیا جائے تو ہر شخص اسے گری ہوئی بات سمجھے گا۔ اس لیے آخرت کا انکار کرنے والا اپنی اس گراوٹ کو چھپانے کے لیے عقلی دلیلیں بگھارتا ہے۔ اور انکارِ آخرت کو معقول ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تکذیبِ قیامت کی اصل علت دوسری وجہ اب اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے کہ تم آخرت کا انکار اس لیے کررہے ہو کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو نظرانداز کرتے ہو۔ دنیا سے محبت کا مفہوم یہ ہے کہ تم نفع عاجل کے متمنی ہو جبکہ آخرت کے لیے نفعِ اَجل کا یقین کرنا پڑتا ہے اور نفع عاجل کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے چونکہ بڑی وسعت نظر، بڑی حوصلہ مندی اور بڑی فکری بلوغت چاہیے۔ تو جن لوگوں کی نظریں کوتاہ اور خواہشات توانا ہیں وہ کبھی بھی دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حوصلہ نہیں کرسکتے۔ ایک شخص دیکھتا ہے کہ حرام ذرائع سے چند دنوں میں دولت کی ریل پیل ہوسکتی ہے۔ حق کے مقابلے میں باطل کی بندگی اور خدمت مالی فوائد کے انبار لگا سکتی ہے۔ ملک سے وفاداری کی بجائے ملک و ملت کے مفادات کو دشمن کے ہاتھ بیچنے سے ایسے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں، عام حالات میں جن کی امید بھی نہیں کی جاسکتی تو جو شخص حُبِ دنیا میں ڈوبا ہوا ہے وہ اس صورتحال کو کیسے نظرانداز کرسکتا ہے۔ اسی طرح اگر حرام کے وسائل میسر ہوں اور پھر بھی محض اس لیے حلال پر اکتفا کیا جائے کہ اس سے آخرت کی نعمتیں میسر آسکتی ہیں۔ ملک و ملت سے وفاداری جس قربانی کا تقاضا کرتی ہے وہ اگرچہ بظاہر نقصان کا سودا ہے لیکن آخرت میں اسی سے کامیابی کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے تو عموماً خواہشِ نفس کے مارے ہوئے لوگ اور حُبِ دنیا کے اسیر اس راستے پر چلنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ دنیا کے فوائد سامنے نظر آنے والے ہیں اور ان کے ملنے کی فوری امید ہے۔ اور آخرت کے پیچھے اگرچہ عقلی اور اخلاقی دلائل ہیں لیکن اس کے فوائد آخرت میں ملیں گے جن کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تو یہ دیکھ کر ایک کوتاہ نظر اور حُبِ دنیا میں ڈوبا ہوا شخص دنیا کے فوائد کے بارے میں سوچے گا اور آخرت کا انکار کردے گا۔ یہ ہے وہ اصل مرض جس میں قریش اور دیگر اہل مکہ مبتلا تھے۔ اور آج کا انسان بھی اسی میں مبتلا ہے۔
Ayahs 75:22–25

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

کتنے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور کتنے چہرے اس دن اداس ہوں گے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

اور گمان کررہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ برتائو ہونے والا ہے

وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ م بَاسِرَۃٌ۔ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِھَا فَاقِرَۃٌ۔ (القیامۃ : 22 تا 25) (کتنے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اور کتنے چہرے اس دن اداس ہوں گے۔ اور گمان کررہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ برتائو ہونے والا ہے۔ ) قیامت کے دن اقرار اور انکار کرنے والوں کی کیفیت روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ تم قیامت کا اقرار کرو یا انکار، لیکن وہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے جس کا اپنے متعین وقت پر ظہور ہو کے رہے گا۔ آج جو اس کا اقرار کررہے ہیں وہ بھی اس روز موجود ہوں گے اور جو انکار کررہے ہیں وہ بھی سامنے ہوں گے۔ لیکن جن لوگوں نے آج اس پر ایمان اور اقرار کی دولت پائی ہے اور اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزاری ہے ان کے چہرے اس دن تروتازہ اور شاداب ہوں گے۔ اس خوشی سے ان کے چہرے تمتما رہے ہوں گے کہ ہم نے آخرت پر ایمان لا کر جو ایک صالح زندگی اختیار کی اور خواہشاتِ نفس کو چھوڑا، آج وہ محسوس شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کے نتائج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اس کے ثمرات سے ہم بہرہ ور ہونے والے ہیں۔ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ … بعض اہل علم نے اس کا یہ مفہوم مراد لیا ہے کہ جو لوگ قیامت پر ایمان سے بہرہ ور ہوئے وہ قیامت کے دن اپنے رب کی رحمت و عنایت کے متوقع و منتظر ہوں گے۔ نَظَرَکے بعد جب اِلٰی کا صلہ آتا ہے تو جس طرح اس کا معنی کسی طرف دیکھنا ہوتا ہے، اسی طرح کسی کی رحمت و عنایت کا منتظر اور متوقع ہونا بھی ہوتا ہے۔ اس حوالے سے وہ یہ کہتے ہیں کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے برپا ہونے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ان عنایات کے منتظر ہوں گے جن کا دنیا میں ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن دیگر اہل علم یہ کہتے ہیں کہ نَظَرَ کا یہ مفہوم یقینا صحیح ہے۔ لیکن اس آیت کی جو تفسیر بکثرت احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کو اپنے رب کا دیدار نصیب ہوگا۔ اس کی تائید میں بہت سی روایات منقول ہیں جن کا بخاری اور مسلم نے بھی ذکر کیا ہے۔ اکثر محدثین نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کی ایک روایت نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اہل جنت میں کم سے کم درجے کا جو آدمی ہوگا وہ اپنی سلطنت کی وسعت دو ہزار سال کی مسافت تک دیکھے گا اور ان میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہر روز دو مرتبہ اپنے رب کو دیکھیں گے، پھر حضور ﷺ نے یہی آیت پڑھی کہ اس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اور کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر اداسی اور وحشت برس رہی ہوگی۔ وہ میدانِ حشر میں پہنچتے ہی وہاں علامات و آثار سے اندازہ کرلیں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتائو ہونے والا ہے۔ یعنی انھیں ایسی سزا ملنے والی ہے جس کی شدت ان کی کمر توڑ کے رکھ دے گی۔