75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsروح القرآن

Ayahs 75:26–30

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں جبکہ جان ہنسلی میں آپھنسے گی

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تیرے رب کی طرف جانا ہوگا

کَلَّآاِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ۔ وَقِیْلَ مَنْ سکتۃ رَاقٍ ۔ وَّظَنَّ اَنَّـہُ الْفِرَاقُ ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ۔ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمَسَاقُ ۔ (القیامۃ : 26 تا 30) (ہرگز نہیں جبکہ جان ہنسلی میں آپھنسے گی۔ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔ اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے۔ اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ اس دن تیرے رب کی طرف جانا ہوگا۔ ) جان کنی کی کیفیت کو یاد رکھو وہ لوگ جنھیں عیش دنیا نے آخرت کے یقین سے دور رکھا ہے انھیں ایک ایسے منظر کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے جس کا زندگی میں ہر آدمی کو تجربہ ہوتا ہے۔ یہ جان کنی کا منظر ہے جس سے ہر شخص کو واسطہ پڑے گا اور زندگی میں وہ دوسروں پر یہ منظر گزرتا ہوا دیکھتا ہے کہ اس وقت دنیا سے جانے والا اور اس کے تیماردار کس قدر مایوسی اور بےبسی کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر ضمیر نام کی کوئی چیز آدمی کے اندر موجود ہے تو وہ ضرور اسے اپنے مستقبل پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ چناچہ اسی کی منظرکشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ عیش دنیا کے متوالو ! اس منظر کو ذہن میں لائو جب جسم کی صلاحیتیں نچڑ جائیں گی۔ طبیب اور معالج مایوسی کا اظہار کرنے لگیں گے۔ جان ہنسلی میں آپھنسے گی۔ طبیبوں کی بےبسی دیکھ کر تیمارداروں میں سے کوئی کہے گا کہ علاج کرنے والے تو جواب دے گئے اب کسی جھاڑ پھونک کرنے والے کو بلائو، ممکن ہے اس کے جھاڑ پھونک سے اس شخص کی جان بچ جائے۔ رَاقٍ … یہ رقیہ سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے جس کے معنی تعویز گنڈے اور جھاڑ پھونک کے ہیں اور رقی سے بھی جس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔ پہلی صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ جب مریض کے تیماردار علاج معالجے سے مایوس ہوجائیں گے تو وہ جھاڑ پھونک کرنے والے کی تلاش کریں گے کہ شاید اسی سے اس کی جان بچ جائے۔ اور دوسری صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس وقت فرشتے کہیں گے اس کی روح کون لے کر جائے گا ملائکہ عذاب یا ملائکہ رحمت۔ اگر یہ شخص نیک ہوگا تو ملائکہ رحمت اسے لے جائیں گے اور اگر یہ شخص برا ہوگا تو عذاب کے فرشتے اسے گرفتار کرکے لے جائیں گے۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ … ” اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی چل نہ سکے گا۔ شدتِ ضعف اور بےبسی کے سبب سے حال یہ ہوگا کہ ہر میدان میں جولانیاں دکھانے والا شخص موت کے قریب پہنچ کر اتنا کمزور ہوجائے گا کہ ایسا معلوم ہوگا کہ اس کی پنڈلیاں باہم دگر لپٹ گئی ہیں۔ عجیب بےبسی کا وقت ہوگا۔ معالج جواب دے دیں گے، اعضاء قابو سے باہر ہوجائیں گے، سہارا دینے والا کوئی نہ ہوگا۔ تو ایک بھاری بوجھ کے ساتھ اپنے رب کی طرف جانا ہوگا۔ اندازہ کیجیے کہ اس وقت جانے والے کی حالت کیا ہوگی۔ کاش دنیا کی محبت میں اسیر شخص اگر بہت دور تک نہیں تو موت تک کے سفر کا اندازہ کرلے۔ قیامت کا انکار کرنے والا موت کے بعد ہمیشہ کی خاموشی دیکھتا ہے۔ لیکن قیامت کا اقرار ہمیں یہ تصور دیتا ہے کہ موت دراصل قیامت کے سفر کا نقطہ آغاز ہے۔ اور یہ سفر قیامت پر رکے گا جہاں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری ہوگی۔
Ayahs 75:31–35

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

پس اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ موڑا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے

فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلّٰے۔ وَلٰـکِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی۔ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ (القیامۃ : 31 تا 35) (پس اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی۔ بلکہ جھٹلایا اور منہ موڑا۔ پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا۔ افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے۔ پھر افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے۔ ) منکرینِ آخرت کی کیفیت اور انجام آخرت کا منکر ایسا سنگدل ہوجاتا ہے کہ نہ اس پر دلائل اثرانداز ہوتے ہیں نہ قیامت کی ہولناکی اس کی سنگدلی میں کمی کرتی ہے۔ نہ موت کا اندوہناک منظر اس کی بےحسی اور غفلت کو توڑتا ہے۔ چناچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان غفلت کے ماتوں اور بےحسوں نے سب کچھ سنا لیکن وہ پھر بھی اپنے انکار پر اڑے رہے۔ نہ انھیں ایمان کی توفیق ہوئی اور نہ ایسا ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک جاتے۔ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس کی کتاب کی تصدیق کے بعد اس کے تقاضے کے طور پر جس چیز کا سب سے پہلے ذکر فرمایا وہ نماز ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعتِ اسلامی کے احکام میں سے جو حکم سب سے پہلے دائرہ ایمان میں داخل ہونے والے کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نماز ہے۔ اور یہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے بھی سب احکام پر مقدم ہے۔ نماز ہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو شخص زبان سے اللہ تعالیٰ کے دین کا اقرار کر رہا ہے اس کا دل بھی اس کے ساتھ شامل ہے یا نہیں۔ مزید فرمایا کہ تصدیق اور نماز تو ایک طرف رہی آخرت کا انکار کرنے والا مسلسل اپنے انکار پر اڑا رہا اور یہ آیات سننے کے بعد وہ اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ یوں تو اس میں تمام منکرینِ آخرت کی تصویر ہے لیکن مجاہد، قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں کہ یہ شخص ابوجہل تھا۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایک شخص تھا جس نے سورة القیٰمۃ کی مذکورہ بالا آیات سننے کے بعد یہ طرزعمل اختیار کیا۔ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی … اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور مفسرین نے دونوں مراد لیے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایسے شخص پر ہلاکت اور بربادی کی پھٹکار ماری گئی ہے کہ تف ہے تجھ پر، ہلاکت ہے تیرے لیے، خرابی یا تباہی یا کمبختی ہے تیرے لیے۔ دوسرا مفہوم جو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب تو اپنے خالق سے کفر کرنے کی جرأت کرچکا ہے تو پھر تجھ جیسے آدمی کو یہی چال زیب دیتی ہے جو تو چل رہا ہے اور یہ اسی طرح کا طنزیہ کلام ہے جس کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی موجود ہیں۔
Ayah 75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی۔ (القیامۃ : 36) (کیا انسان یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔ ) عربی زبان میں اِبِلٌ سُدًیاس اونٹ کو کہتے ہیں جسے آزاد پھرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے، جدھر چاہے چرتا پھرے، نہ اس سے کوئی کام لیا جائے اور نہ اس کی کوئی نگرانی کرنے والا ہو۔ اردو زبان میں عام طور پر شتر بےمہار کا لفظ اسی معنی میں بولتے ہیں۔ انسان کی گمراہی اور اس کا رد اس سورة کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت اور آخرت کو مختلف دلائل سے ثابت کیا جارہا ہے اور اسی ضمن میں قریش کی جانب سے جو اعتراضات اور اشتباہات اٹھائے جاتے تھے ان کا جواب دیا گیا ہے۔ ان میں ایک بڑا اعتراض یہ تھا کہ انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کرسکیں گے۔ چناچہ اس کا جواب اور اس کی وضاحت کے بعد اب اسی سلسلہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے بارے میں یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کے خالق نے اس کو پیدا کرکے چھوڑ دیا ہے اور کسی طرح کی ذمہ داری اس پر عائد نہیں کی گئی۔ گویا کہ وہ ایک شتر بےمہار ہے جس کی زندگی کے نہ تو کوئی فرائض ہیں اور نہ اس کی زندگی کے اعمال کو محفوظ کیا جارہا ہے اور نہ کبھی ایسا ہوگا کہ اس کی بازپرس کی جائے۔ وہ دنیا میں آتا ہے اسباب کے ماتحت، اپنے مرضی کی زندگی گزارتا ہے، اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں شب و روز لگا رہتا ہے حتیٰ کہ موت اس کی زندگی کا چراغ گل کردیتی ہے اور اس طرح سے اس کی زندگی کا سفر تمام ہوجاتا ہے۔ اسی بات کو قرآن مجید نے دوسرے لفظوں میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّـکُمْ اِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں کبھی ہماری طرف پلٹ کر نہیں جانا ہے۔ “ دونوں آیتوں میں انسان کے سامنے ایک سوال رکھ دیا گیا ہے کہ تمہاری زندگی کا طرزعمل یہ بتاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو شتر بےمہار کی طرح ایک ایسا حیوان سمجھتے ہو جس پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔ بعض جانور باربرداری کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور بعض جانور سواری کے لیے۔ لیکن تم اپنے آپ کو وہ جانور سمجھتے ہو جو ہر طرح کی ذمہ داریوں سے فارغ کرکے گھومنے پھرنے اور کھانے پینے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تم خود فیصلہ کرو کیا تم واقعی ایسے ہی حیوان ہو، کیا تمہیں خود میں اور جانور میں کوئی فرق نظر نہیں آتا جبکہ جانور بےاختیار ہے اور تم بااختیار ہو۔ وہ جبلی تقاضوں کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور تمہیں عقل اور امتیاز دے کر فی الجملہ ایک آزادی دی گئی ہے۔ حیوان کے افعال میں اخلاقی حسن و قبح کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جبکہ تم اپنی ایک اخلاقی حیثیت اور ذمہ داری رکھتے ہو اور مزید یہ کہ حیوان تو جبلت کے لگے بندھے تقاضوں کے مطابق زندگی گزار کے دنیا سے چلا جاتا ہے اور کوئی ایسا کام سرانجام نہیں دیتا جس کے بارے میں اس سے بازپرس کی جائے۔ اسے چونکہ عقل نہیں دی گئی اس لیے وہ اپنے طور پر زندگی کے نئے راستے نکالتے پر قدرت نہیں رکھتا۔ اس کے یہاں زندگی کا کوئی فلسفہ نہیں، اس نے کوئی مذہب ایجاد نہیں کیا، اس نے کوئی ایسا طریقہ یا ایسا ازم نہیں نکالا جس نے لوگوں کو کسی خاص ڈگر پر ڈالا ہو، جس سے لوگوں کے حقوق متاثر ہوئے ہوں اور نسلوں تک جس کے اثرات پھیلتے چلے گئے ہوں۔ اس لیے یہ نہایت پر ازحکمت بات ہے کہ حیوان کو دوبارہ زندہ کرکے بازپرس کے لیے بلانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس لیے طبعی زندگی کو اس کی مکمل زندگی بنادیا گیا۔ لیکن انسان کا معاملہ ایسا نہیں۔ اس کی دنیا احساسات، انفعالات، اخلاق، فرائض اور حقوق کی دنیا ہے۔ اس کے اندر تأثر کی کیفیت بھی ہے اور اثرانداز ہونے کی بھی۔ اس میں ہمدردی اور غمگساری بھی ہے، ظلم اور چیرہ دستی بھی، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اپنا خون اور اپنا پسینہ حق کی آبیاری کے لیے استعمال کیا اور زندگی بھر حق کی سربلندی کے لیے جان لڑاتے رہے۔ اور ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے حق کے راستے میں بڑ ی بڑی رکاوٹیں کھڑی کیں اور ایسے طریقے نکالے جس سے انسانی زندگی کی منزل کھوٹی ہو کے رہ گئی۔ کیا ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان ایک مہمل حیوان ہے جس کی نہ کوئی ذمہ داری ہے اور نہ کبھی اسے بازپرس کے لیے اٹھایا جانا ہے۔ انسان کی اپنی حیثیت بجائے خود بولتی ہے کہ اسے عقل و شعور دے کر ذمہ داریوں سے گراں بار کیا گیا ہے اور ایک دن ایسا آنا چاہیے جب ان ذمہ داریوں کے بارے میں اس سے سوال کیا جائے اور زندگی کے ایک ایک لمحے کا اس سے حساب لیا جائے۔
Ayahs 75:37–40

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ ایک حقیر پانی کی بوند نہ تھا جو (رحمِ مادر) میں ٹپکایا جاتا ہے

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ خون کی ایک پھٹکی بنا اور اللہ نے اس کا جسم بنایا، پھر اس کے اعضاء درست کیے

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر بنایا اس سے جوڑا، نر اور مادہ

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کردے

اَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰی۔ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰی۔ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍعَلٰٓی اَنْ یُّحْیِ یَ الْمَوْتٰی۔ (القیامۃ : 37 تا 40) (کیا وہ ایک حقیر پانی کی بوند نہ تھا جو (رحمِ مادر) میں ٹپکایا جاتا ہے۔ پھر وہ خون کی ایک پھٹکی بنا اور اللہ نے اس کا جسم بنایا، پھر اس کے اعضاء درست کیے۔ پھر بنایا اس سے جوڑا، نر اور مادہ۔ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کردے۔ ) امکانِ قیامت کے دلائل اوپر کی آیت کریمہ کا حاصل یہ تھا کہ انسان کوئی شتر بےمہار نہیں بلکہ وہ ایک ذمہ دار، صاحب عقل اور صاحب اخلاق انسان ہے۔ اس کی زندگی کے رویئے، معمولات اور اہداف کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک دن ایسا آنا چاہیے جب اس کو ازسرنو اٹھایا جائے اور اس کی زندگی کے ایک ایک عمل کا حساب لیا جائے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کی ضرورت بجا لیکن کیا اس بات کا امکان بھی ہے کہ قیامت واقعی برپا ہوسکے۔ پوری کائنات کا تباہ ہوجانا پھر ازسرنو اس کا بسایا جانا، ہزاروں سالوں کے مردہ جسموں کے اجزاء کو جن کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے ازسرنو فراہم کرنا اور سب کے اعمال کا شمار ہونا اور حساب لیاجانا۔ ان میں سے کوئی بات بھی عقل قبول کرنے کے لیے آسانی سے آمادہ ہوسکتی ہے ؟ چناچہ ان اعتراضات کے لیے ازالے کے لیے پیش نظر آیات کریمہ میں چند ایسے دلائل دیئے گئے ہیں جن کا تعلق مفروضوں سے نہیں بلکہ ایسے حقائق سے ہے جن پر انسانی تاریخ گواہ ہے اور جن کا کسی طور انکار کرنا ممکن نہیں۔ چناچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلی یہ بات ارشاد فرمائی کہ تمہیں قیامت کا وقوع اس لیے مستبعد معلوم ہوتا ہے کہ قیامت جن اجزاء سے مکمل ہوتی ہے ان میں سے ایک ایک جز انسانی بساط سے بہت باہر کی چیز ہے۔ اور یہ وہ بنیادی خرابی ہے جس کی وجہ سے انسان قیامت کا انکار کرتا چلا آیا ہے لیکن اگر اتنی سے بات سمجھ لی جائے کہ سوال انسان کی قدرت و بساط کا نہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہے۔ اور تمہیں بار بار اس کی قدرت کا تجربہ ہوچکا ہے کہ انسان کا وجود جس مادہ منویہ سے آغاز پاتا ہے وہ منی کا ایک حقیر قطرہ ہے جسے ٹپکانے والا بیوی کے رحم میں ٹپکا کر خود بھول جاتا ہے۔ پھر وہ کس طرح رحم کا حصہ بنتا ہے، کیسے وہ خون کی پھٹکی میں تبدیل ہوتا ہے، پھر وہ کس طرح گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے، پھر کن طریقوں سے اس میں تخلیق کا عمل جاری ہوتا ہے، ایک خاکہ بنتا، ایک جسم وجود میں آتا، ایک شکل تیار ہوتی اور پھر اس کی نوک پلک درست کی جاتی ہے۔ ان تمام مراحل میں قدرت کا موقلم ہی اس پر سارے تصرفات کرتا ہے اور کسی اور کا ہاتھ اس میں شریک نہیں ہوتا۔ یہ صحیح ہے کہ دنیا میں ایسے ہٹ دھرم بھی موجود ہیں جو اس صریح حکیمانہ فعل کو اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب ممکن نہیں کہ اگر تمہاری اس انتہائی غلط بات کو قبول بھی کرلیا جائے تو یہ جو آغاز آفرینش سے آج تک دنیا کے ہر حصے اور ہر قوم میں ایک ہی نوعیت کے تخلیقی فعل کے نتیجے میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش مسلسل اس تناسب سے ہوتی چلی جارہی ہے کہ کہیں کسی زمانے میں ایسا نہیں ہوا کہ کسی انسانی آبادی میں صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہی پیدا ہوتی چلی جائیں اور آئندہ اس کی نسل چلنے کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ کیا یہ بھی اتفاقاً ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس کا دنیا کے پاس کوئی جواب نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص اپنی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی سے باز نہ آئے تو اس کا تو کوئی علاج نہیں۔ اور یہ بات بھی ڈھٹائی سے کم نہیں کہ وہ اس بات کا اقرار تو کبھی نہ کرے کہ لندن اور نیویارک، ماسکو اور پیکنگ ممکن ہے اتفاق سے خود وجود میں آگئے ہوں لیکن یہ کہتے ہوئے کبھی نہ شرمائے کہ انسان آپ سے آپ وجود میں آیا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ جس پروردگار کی یہ قدرتیں ہیں اور جس کی ایک ادنیٰ قدرت کا شاہکار خود تم ہو کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ دوبارہ اسی انسان کو وجود میں لے آئے۔ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کبھی بَلٰی (کیوں نہیں) ، کبھی سُبْحٰنَکَ اللَّھُمَّ فَبَلٰی (پاک ہے تیری ذات، خداوندا، کیوں نہیں) اور کبھی سُبْحَانَکَ فَبَلٰی یا سُبْحَانَکَ وَبَلٰی فرمایا کرتے تھے۔ (ابنِ جریر، ابن ابی حاتم، ابودائود) ابودائود میں حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تم سورة تین میں آیت اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحَاکِمِیْن (کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ ) پڑھو تو کہو بَلٰی وَاَنَا عَلٰی ذَالِکَ مِنَ الشَّاہِدِیْنَ (کیوں نہیں، میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں) ۔ اور جب سورة قیامہ کی یہ آیت پڑھو تو کہو بَلٰی۔ اور جب سورة مرسلات کی آیت فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ م بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ (اس قرآن کے بعد یہ لوگ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ) پڑھو تو کہو اٰمَنَّابِاللّٰہِ (ہم اللہ پر ایمان لائے) ۔ اسی مضمون کی روایات امام احمد، ترمذی، ابن امنذر، ابن مردویہ، بیہقی اور حاکم نے بھی نقل کی ہیں۔ (تفہیم القرآن)