Ayahs 74:1–2یٰٓـاَ یُّھَا الْمُدَّثِّرُ ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ ۔ (المدثر : 1، 2)
(اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ اٹھئے اور لوگوں کو ڈرائیے۔ )
مُدَّثِّر اور مُزَّمِّل کا مفہوم اور مراد
مُدَّثِّرُ ، دِثَارٌ سے ہے۔ اس چادر کو کہتے ہیں جو سونے والا اپنے اوپر لے لیا کرتا ہے۔ ہم سورة کے تعارف میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اچانک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے دیکھا تو آپ ﷺ ہیبت زدہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر اپنے اہل خانہ سے فرمایا کہ مجھے اڑھائو، مجھے اڑھائو۔ چناچہ آپ ﷺ کو لحاف یا چادر اڑھا دی گئی اور آپ ﷺ اسے اوڑھ لپیٹ کر لیٹ گئے۔ چناچہ اسی حالت میں آپ ﷺ پر وحی کا نزول ہوا اور آپ ﷺ کی اس کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یٰٓـااَ یُّھَا الرَّسُوْل یا، یٰٓـااَ یُّھَاالنَّبِیْ کہنے کی بجائے یٰٓـااَ یُّھَاالْمُدَّثِّرُ کے دلنواز خطاب سے پکارا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ” اے میرے پیارے بندے تم اوڑھ لپیٹ کر لیٹ کہاں گئے ہو۔ تم پر تو ایک کارعظیم کا بار ڈالا گیا ہے جسے انجام دینے کے لیے تمہیں کمرہمت باندھ کر اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
ہم نے سورة المزمل کے آغاز میں مزمل کا مفہوم بیان کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ چادر لپیٹے رکھنا اور چادر لپیٹ کر لیٹنا یہ آدمی کی فکرمندی کی علامت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ابتدائے بعثت میں جو مشاہدات اور تجربات ہوئے وہ بجائے خود گراں بار کرنے والے تھے اور پھر مزید یہ ہوا کہ غار حرا میں آنے والی وحی کا سلسلہ ایک عرصے تک رکا رہا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی شخصیت اور کلام خداوندی کی ہیبت و سطوت کے ساتھ ساتھ بےپناہ کشش اور دلآویزی نے آپ ﷺ کے اندر ایک ایسی کیفیت پیدا کردی جیسے کسی عاشق صادق کے اندر اچانک محبوب کے غائب ہوجانے کی صورت میں پیدا ہوتی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ جب آپ ﷺ نے اپنے مشاہدات اور اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی کا تذکرہ اپنے قریبی عزیزوں کے سامنے کیا تو ان کے شدید ردعمل اور ان کے مذاق و استہزاء کے انداز نے آپ ﷺ کے اندر نہایت فکرمندی کا احساس پیدا کردیا۔ چناچہ ان تمام اسباب نے مل کر آپ ﷺ کے اندر وہ کیفیت پیدا کی جس نے آپ ﷺ کو چادر لپیٹ کر سونے یا لیٹنے پر مائل کردیا۔ اچانک آپ ﷺ کی کیفیت کے مطابق نازل ہونے والی وحی میں جب مدثر کے لفظ سے آپ ﷺ کو خطاب کیا گیا تو اس لفظ کی معنویت میں مزید گہرائی پیدا ہوگئی کیونکہ اس سے خودبخود یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ آپ ﷺ جس ذات کبریا کی طرف سے ایک کار عظیم انجام دینے کے لیے اٹھائے جارہے ہیں، آپ ﷺ ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہیں، وہ آپ ﷺ کی ہر حالت کو جانتا ہے اور آپ ﷺ کے دل کی کیفیات سے آگاہ ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کمزوروں اور بےنوائوں کو سب سے زیادہ سہارا ملتا ہے۔ اور دوسری بات جو مدثر کے خطاب سے محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک نہایت دلنواز خطاب ہے جس میں محبت چھلکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پروردگار نے آپ ﷺ پر اتنی بڑی ذمہ داری عائد کی ہے وہ صرف آپ ﷺ کے حال سے آگاہ ہی نہیں بلکہ آپ ﷺ پر حد درجہ مہربان بھی ہے۔ وہی قدم قدم پر آپ ﷺ کی دستگیری کرے گا اور ہر مشکل وقت میں آپ ﷺ کو سہارا دے گا۔
انذار کا حکم
دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ آپ ﷺ کمرِہمت باندھ کر اٹھیں اور پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ اپنی قوم کو انذار کریں۔ اور یہ وہ چیز ہے کہ ہر پیغمبر کو نبوت اور رسالت کے منصب پر فائز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے جس کا حکم دیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے رسول ہیں انھیں بھی نبوت کے منصب پر مامور کرتے ہوئے حکم دیا گیا انَذِرْقَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّا تِیَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ” اپنی قوم کو ڈرائو، اس سے پہلے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آجائے۔ “ پیغمبر دنیا میں اس وقت مبعوث ہوتے ہیں جب لوگ اللہ تعالیٰ کو بھول کر خواب غفلت کے مزے لوٹنے لگتے ہیں۔ ان کے اندر یہ احساس بالکل مرجاتا ہے کہ زندگی کا کسی کو حساب بھی دینا ہے اور وہ خواہشِ نفس کی پیروی میں ہر وہ کام کر گزرتے ہیں جس کا حکم ان کا نفس دیتا ہے۔ پیغمبر آکر لوگوں کو اس روش کے انجام سے ڈراتے اور انذار کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو بھی اسی منصب پر فائز کیا گیا کہ آپ ﷺ لوگوں کو خبردار کردیں کہ وہ کسی اندھیر نگری کے رہنے والے نہیں جس میں وہ اپنی مرضی سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں اور ان کے کسی عمل کی بازپرس نہ ہو اور نہ یہ دنیا کھیل تماشا ہے کہ لوگ اپنا اپنا کردار ادا کرکے چلتے بنیں۔ اور نہ انسان جیسی مخلوق خودرو پودوں کی حیثیت رکھتی ہے کہ مل دَل کر ختم ہوجائے۔ اسے مکلف، صاحب عقل و خرد مخلوق بنایا گیا ہے۔ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ اس کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اسے چند بنیادی عقائد دیئے گئے ہیں جن سے دنیا اور آخرت کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ چناچہ ان ہی حقیقتوں کو واضح کرنے اور غفلت کی زندگی گزارنے والوں کو انذار کرنے کے لیے حضور نبی کریم ﷺ کو بھیجا گیا۔
Ayah 74:3وَرَبَّـکَ فَکَبِّرْ ۔ (المدثر : 3)
(اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کیجیے۔ )
انذار کا پہلا حکم سب سے بڑے بگاڑ کی اصلاح ہے
دنیا میں بگاڑ کے اسباب بہت سے ہیں لیکن جس سبب نے انسانوں کے بگاڑ میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ یا اس کی شراکت میں دوسری بہت سی قوتوں کی بڑائی کو تسلیم کرنا ہے۔ انسان کبھی کسی کو غیرمشروط اطاعت کا حق دے دیتا ہے تو اس کے لیے اس کی بےپایاں عظمت کو تسلیم کرنے لگتا ہے۔ وہ عظمت اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اس کی ہر بات اور ہر اشارے کو حکم کا درجہ دے، چاہے وہ عظمت اقتدار کی بےپناہی سے پھوٹی ہو یا دولت کے انباروں سے، یا مشیخیت و تقدس کے دعویداروں کی نام نہاد کرامتوں اور شعبدہ بازیوں سے، یا جنگ کے نتیجے میں یا ظلماً ہاتھ آجانے والوں کی غلامی سے۔ چناچہ ایسی تمام قوتوں کو اسلام طاغوت قرار دیتا ہے۔ اس لیے وہ ہر طاغوت کی اطاعت اور بندگی سے بغاوت و براءت کا اعلان کرنے کا حکم دیتا ہے۔
حضرت ربعی بن عامر ( رض) جب رستم کے دربار میں مسلمانوں کے سفیر بن کے گئے تو رستم نے پوچھا آپ ہمارے ملک میں کیوں آئے ہو، تو آپ ( رض) نے ایسی ہی باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا پہلا مقصد یہ ہے کہ ہم انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دیں۔ تم نے اقتدار کی قوت سے اپنے آپ کو خدا بنا رکھا ہے اور اپنے جیسے انسانوں کو غلاموں کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہیں اس غلط مذہب سے نجات دے دیں جس نے انسانوں کو تقدس اور مشیخیت کی آڑ میں انسانوں کے سامنے جھکنے پر مجبور کر رکھا ہے اور کچھ لوگوں نے محض شعبدہ بازیوں سے دوسروں کے دلوں میں یہ بات ڈال رکھی ہے کہ انھیں کوئی غیرمعمولی قوتیں حاصل ہیں۔ اور تیسرا مقصد یہ ہے کہ انسان ہوس زر میں اندھا ہو کر ایسی ہر چوکھٹ پر ضمیر کو جھکنے پر مجبور کردیتا ہے جس سے اس کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ دنیا اپنی تنگی کے باوجود وسیع کردی گئی ہے اور آخرت اپنی وسعت کے باوجود واہمہ بنادی گئی ہے۔ ہم انسانوں کو دنیا کی تنگی سے نکال کر آخرت کی فراخی میں داخل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آستانے کے سوا ہر آستانہ توڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ کے سوا ہر چوکھٹ اکھاڑ دی جائے۔ تخت و تاج اچھال دیئے جائیں، انسانوں کے نام نہاد اختیارات ختم کردیئے جائیں، غیرمشروط قانون سازی کا حق انسان سے چھین لیا جائے، کردار کا بول بالا ہو، نسبتیں مفلوج ہوجائیں، کبریائی، بڑائی اور عظمت صرف اللہ تعالیٰ کی مانی جائے، اس کے سوا نہ کسی کا خوف دامن گیر ہو اور نہ کسی کی چاہت دلگرفتگی کا باعث بنے۔ یہ ہے وہ اعلان جو ہر پیغمبر دنیا میں کرنے کے لیے آیا اور آنحضرت ﷺ کو بھی زیادہ وسیع سطح پر اسی کام کرنے کا حکم دیا گیا۔
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری
انسان کی اصلاح اور تعمیر انسانیت کے لیے یہ چونکہ پہلا نکتہ ہے جسے نظرانداز کرکے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ اس لیے ضروری تھا کہ اسے ہر مومن کے دل و دماغ میں راسخ کردیا جائے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام میں کلمہ اللہ اکبر کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اذان جو رات کی تاریکی اور سناٹے میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان ہے اور پھر دن کی ہمہ ہمی اور مصروفیات میں اسی کی یاد دہانی ہے۔ اور پھر سونے سے پہلے رات کی نماز میں اسی کو حرزجان بنانے کی نصیحت ہے، اس کا آغاز بھی اللہ اکبر کے اعلان سے ہوتا ہے۔ نماز عہدوفا کی مشق اور بندگیِ رب کی تعبیر ہے۔ اس میں ایک مسلمان اللہ اکبر کہہ کر داخل ہوتا ہے پھر اٹھتا بیٹھتا اللہ اکبر کا اعادہ کرتا ہے۔ جانور کے گلے پر چھری بھی اللہ اکبر کہے بغیر چلائی نہیں جاسکتی اور آج مسلمانوں کا سب سے بڑا امتیازی شعار اللہ اکبر ہی ہے۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کی عظمت اور عزت و حرمت کا دارومدار اسی بنیادی تصور پر ہے۔ جب تک مسلمان اس تصور کی پاسداری کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے حقوق کی پاسداری کرے گا اور جب خدا کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ڈنکا بجنے کی بجائے غیر اللہ کی کبریائی کا ڈنکا بجے گا اور مسلمان اس پر خاموش رہیں گے تو یہ خود ذلیل ہوجائیں گے۔
Ayah 74:4وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ ۔ (المدثر : 4)
(اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ )
ثیاب کا مفہوم
یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ صاحب تفہیم القرآن نے اس پر ایک جامع نوٹ لکھا ہے ہم سب سے پہلے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
ان الفاظ کا ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو کیونکہ جسم و لباس کی پاکیزگی اور روح کی پاکیزگی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک پاکیزہ روح گندے جسم اور ناپاک لباس میں نہیں رہ سکتی۔ رسول اللہ ﷺ جس معاشرے میں اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تھے وہ صرف عقائد اور اخلاق کی خرابیوں ہی میں مبتلا نہ تھا بلکہ طہارت و نظافت کے بھی ابتدائی تصورات تک سے خالی تھا اور حضور ﷺ کا کام ان لوگوں کو ہر لحاظ سے پاکیزگی کا سبق سکھانا تھا۔ اس لیے آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنی ظاہری زندگی میں بھی طہارت کا ایک اعلیٰ معیار قائم فرمائیں۔ چناچہ یہ اسی ہدایت کا ثمرہ ہے کہ حضور ﷺ نے نوع انسانی کو طہارتِ جسم و لباس کی ووہ مفصل تعلیم دی ہے جو زمانہ جاہلیت کے اہل عرب تو درکنار، آج اس زمانے کی مہذب ترین قوموں کو بھی نصیب نہیں ہے حتیٰ کہ دنیا کی بیشتر زبانوں میں ایسا کوئی لفظ تک نہیں پایا جاتا جو ” ظہارت “ کا ہم معنی ہو۔ بخلاف اس کے اسلام کا حال یہ ہے کہ حدیث اور فقہ کی کتابوں میں اسلامی احکام کا آغاز ہی کتاب الطہارت سے ہوتا ہے جس میں پاکی اور ناپاکی کے فرق اور پاکیزگی کے طریقوں کو انتہائی تفصیلی جزئیات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
دوسرا مفہوم ان الفاظ کا یہ ہے کہ اپنا لباس صاف ستھرا رکھو۔ راہبانہ تصورات نے دنیا میں مذہبیت کا معیار یہ قرار دے رکھا تھا کہ آدمی جتنا زیادہ میلا کچیلا ہو اتنا ہی زیادہ وہ مقدس ہوتا ہے۔ اگر کوئی ذرا اجلے کپڑے ہی پہن لیتا تو سمجھا جاتا تھا کہ وہ دنیادار انسان ہے حالانکہ انسانی فطرت میل کچیل سے نفرت کرتی ہے اور شائستگی کی معمولی حس بھی جس شخص کے اندر موجود ہو وہ صاف ستھرے انسان ہی سے مانوس ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے والے کے لیے یہ بات ضروری قرار دی گئی کہ اس کی ظاہری حالت بھی ایسی پاکیزہ اور نفیس ہونی چاہیے کہ لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کی شخصیت میں کوئی ایسی کثافت نہ پائی جائے جو طبائع کو اس سے متنفر کرنے والی ہو۔
تیسرا مفہوم اس ارشاد کا یہ ہے کہ اپنے لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھو۔ تمہارا لباس ستھرا اور پاکیزہ تو ضرور ہو مگر اس میں فخروغرور، ریاء نمائش، ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کا شائبہ تک نہ ہونا چاہیے۔ لباس وہ اولین چیز ہے جو آدمی کی شخصیت کا تعارف لوگوں سے کراتی ہے۔ جس قسم کا لباس کوئی شخص پہنتا ہے اس کو دیکھ کر لوگ پہلی نگاہ ہی میں یہ اندازہ کرلیتے ہیں کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ رئیسوں اور نوابوں کے لباس، مذہبی پیشہ وروں کے لباس، متکبر اور برخودغلط لوگوں کے لباس، چھچورے اور کم ظرف لوگوں کے لباس، بدقوارہ اور آوارہ منش لوگوں کے لباس، سب اپنے پہننے والوں کے مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اللہ کی طرف بلانے والے کا مزاج ایسے سب لوگوں سے فطرۃً مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا لباس بھی ان سب سے لازماً مختلف ہونا چاہیے۔ اس کو ایسا لباس پہننا چاہیے جسے دیکھ کر ہر شخص یہ محسوس کرے کہ وہ ایک شریف اور شائستہ انسان ہے جو نفس کی کسی برائی میں مبتلا نہیں ہے۔
چوتھا مفہوم اس کا یہ ہے کہ اپنا دامن پاک رکھو۔ اردو زبان کی طرح عربی زبان میں بھی پاک دامنی کے ہم معنی الفاظ اخلاقی برائیوں سے پاک ہونے اور عمدہ اخلاق سے آراستہ ہونے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ابن عباس، ابراہیم نخعی، شعبی، عطاء، مجاہد، قتادہ، سعید بن جبیر، حسن بصری اور دوسرے اکابرین نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو اور ہر قسم کی برائیوں سے بچو۔ عربی محاورے میں کہتے ہیں کہ فلان طاھرالثیاب وفلان طاھرالذیل ” فلاں شخص کے کپڑے پاک ہیں یا اس کا دامن پاک ہے۔ “ اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق اچھے ہیں۔ اس کے برعکس کہتے ہیں فلانٌ دَنِس الثیاب ” اس شخص کے کپڑے گندے ہیں۔ “ اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بدمعاملہ آدمی ہے، اس کے قول قرار کا کوئی اعتبار نہیں۔
اس آیت کا ایک مفہوم شعراء جاہلیت کے اشعار سے استشہاد کرتے ہوئے صاحب تدبر قرآن نے لکھا ہے اس مفہوم میں بھی ایک اپیل اور وزن ہے۔ اگرچہ مآل کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اسے بھی دیکھ لینا چاہیے۔
لفظ ثِیَابٌ جمع ہے ثَوْبٌ کی جس کے معنی کپڑے کے ہیں لیکن اس کے معنی دامن کے بھی ہوسکتے ہیں۔ بلکہ کلام عرب کے شواہد سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مفہوم میں بھی آتا ہے جس کو ہم اپنی زبان میں ” دامنِ دل “ سے تعبیر کرتے ہیں۔ امرء القیس کا شعر ہے ؎
وان تک قدساء تک منی خلیقۃ
فسلی ثیابی من ثیابک تنسل
اسی شعر میں شارحین نے ” ثیاب “ کو دل ہی کے معنی میں لیا ہے اور یہ معنی اسی صورت میں لیے جاسکتے ہیں جب اس کو بطریق استعارہ دامن دل کے مفہوم میں سمجھا جائے۔ امرء القیس ہی کا مصرعہ ہے۔
ثیاب بنی عوف طھاری نقیۃ
لفظ ثیاب کے اس مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ تم بالکل بےخوف ہو کر اپنے رب کی کبریائی اور وحدت کی منادی کرو۔ مخالفین خواہ کتنی خاک بازی کریں اور کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اپنے دامن دل پر نجاست شرک کا کوئی چھینٹا نہ آنے دو ۔ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں مشرکوں کو نجس اور شرک کو نجاست سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ ہدایت آپ کو اس لیے فرمائی گئی کہ بعد کے مراحل میں قریش کے لیڈروں نے آپ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ وہ آپ کی سب باتیں مان لیں گے بشرطیکہ آپ بھی ان کے معبودوں کا کوئی مقام تسلیم کرنے پر راضی ہوجائیں لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کی یہ بات نہایت سختی سے رد فرما دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی آپ کو نہایت تاکید کے ساتھ یہی ہدایت ہوئی کہ توحید بنیاد دین ہے، اس باب میں آپ کوئی لچک ہرگز قبول نہ کریں۔ وَدُّوَالَوْتُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ (القلم۔ 68: 9) ” وہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرم پڑو تو وہ بھی کچھ نرم ہوجائیں “ اور اسی مضمون کی ایک سے زیادہ آیتوں میں اس صورتحال کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ یہاں بھی اسی طرح کی ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ پیغمبر ﷺ کو خطاب کرکے مشرکین پر گویا یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ شرک ایک ایسی نجاست ہے جس کا کوئی چھینٹا بھی اللہ کا رسول اپنے دامن پر گوارا کرنے والا نہیں ہے۔
Ayah 74:5وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ ۔ (المدثر : 5)
(اور گندگی سے دور رہو۔ )
رُجْز کا تلفظ اور مفہوم
رُجْز، رِجْز اور رِجْس سب قریب المخرج اور تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ گندگی کے معنی میں مستعمل ہیں۔
یہاں گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے۔ مثلاً عقائد کی گندگی، جیسے شرک اور ریا وغیرہ۔ اور خیالات کی گندگی، مثلاً جنسی خیالات، سفلی تصورات، متکبرانہ خیالات وغیرہ۔ اخلاق و اعمال کی گندگی، مثلاً حسد و بغض، ہوسِ زر، شہرت کی طلب، دوسروں کو نقصان پہنچانے کی فکر وغیرہ۔ جسم اور لباس کی گندگی جس سے سب واقف ہیں۔ اسی طرح رہن سہن میں گری ہوئی حرکتیں اور نامناسب طرزعمل یہ وہ تمام گندگیاں ہیں جن سے انسانی زندگی آلودہ ہوجاتی ہے۔ آیت کریمہ میں جس گندگی سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے اس سے یہ تمام گندگیاں مراد ہیں۔ ایسی تمام نجاستوں، غلاظتوں اور آلودگیوں سے محفوظ رہنے کے نتیجے میں وہ شائستہ اور پاکیزہ زندگی وجود میں آتی ہے جو نوع انسانی کے لیے نمونہ بن سکتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی کو چونکہ تمام انسانوں کے لیے اسوہ حسنہ بنایا گیا تھا اس لیے یہ بات ازبس ضروری تھی کہ آپ ﷺ کا دامن ایسی ہر آلودگی سے محفوظ رہتاتا کہ کل کو کوئی شخص حرف گیری نہ کرسکتا۔
Ayah 74:6وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ ۔ (المدثر : 6)
(اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے۔ )
مَن اور اِسْتِکْثَارْ کا مفہوم
وَلاَ تَمْنُن، مَنٌّ سے ہے۔ اس کا ایک معنی ہے احسان کرنا۔ اور اس معنی میں یہ لفظ عربی زبان میں عام استعمال ہوتا ہے۔
تَسْتَکْثِرُ ، استکثار سے ہے۔ اس کا ایک معنی ہے، کسی چیز کا زیادہ چاہنا۔ مثلاً سورة الاعراف آیت 188 میں ہے وَلَوْکُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَ سْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ ” اگر میں غیب جانتا تو میں بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ “ اس لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ آپ کسی پر احسان اس نیت سے نہ کریں کہ جو کچھ اس کو دیا ہے اس سے زیادہ وصول ہوجائے گا یعنی آپ کا احسان بےغرضانہ ہونا چاہیے۔ آپ کی عطا اور بخشش، سخاوت اور حُسنِ سلوک محض اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ اس میں اس بات کا شائبہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ احسان کے بدلے میں آپ کو کوئی دنیوی فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ وہ اعلیٰ تعلیم ہے جو نبی کریم ﷺ کو دی جارہی ہے۔ حالانکہ فطری طور پر احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے۔ جب اس بات کا علم ہو کہ میں جس پر احسان کر رہا ہوں وہ میرے ساتھ کبھی احسان کا معاملہ کرنے والا نہیں تو انسان کا بڑھتا ہوا قدم خودبخود رک جاتا ہے۔ جو شخص کبھی تحفہ کے جواب میں تحفہ نہیں دیتا اسے تحفہ دینے والا آخر ہاتھ روک لیتا ہے۔ اور اسے عام اخلاقی زندگی میں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو چونکہ انسانیت کے لیے نمونہ بننا تھا اس لیے جس خدا نے انھیں یہ تعلیم دی کہ جو شخص آپ ﷺ سے تعلق توڑے آپ ﷺ اس سے تعلق جوڑیں۔ اور جو قطع رحمی کرے آپ ﷺ اس کے ساتھ صلہ رحمی کریں۔ آپ ﷺ بدزبانی کے جواب میں عفو و درگزر سے کام لیں۔ اسی پروردگار نے آپ ﷺ کو ایسے ہی بےغرضانہ احسان کی تعلیم دی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ بات سیاق کلام سے نہ صرف ہٹی ہوئی محسوس نہیں ہوتی بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان اعلیٰ اخلاقیات میں سے ایک اہم ترین نصیحت ہے جس سے دشمن بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کے قریب آجاتے ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ کی زندگی کے واقعات میں جابجا ہمیں اس کی تائید ملتی ہے۔
مَنٌّ کا دوسرا معنی کسی چیز کو منقطع کردینا، روک دینا اور کاٹ دینا بھی ہے۔ سورة القلم کی آیت 3 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَاِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَمُمْنُوْنٍ ” بیشک آپ کے لیے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا اور نہ منقطع ہونے والا صلہ ہے۔ “
اِسْتِکْثَارْکا دوسرا معنی اہل لغت کے نزدیک اِسْتَکْثَرَالشَّیُٔ رَاٰہُ کَثِیْرً ا وَعَدَّہُ کَثِیْرًا ” کسی چیز کو زیادہ خیال کیا یا شمار کیا۔ “ صاحب اقرب الموارد نے اسی معنی کو پہلے ذکر کیا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انذار و تبلیغ کے جس منصب پر فائز کیا ہے اسے برابر جاری رکھئے اور یہ انذار اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک اتمامِ حجت نہ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم نہ آجائے۔ چاہے اس پر کتنا طویل زمانہ گزر جائے اور یہ کبھی خیال نہ کیجیے کہ اب انذار بہت ہوچکا، مزید کی ضرورت نہیں رہی۔ اس لیے اب میں اسے روک دیتا ہوں، ایسا کبھی نہ کیجیے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) سے یہی اجتہادی فروگزشت ہوئی کہ جس قوم کی طرف آپ مبعوث ہوئے تھے ان کو طویل عرصہ تک انذار کیا، اس کی ہٹ دھرمی دیکھ کر آپ ان کی ہدایت سے مایوس ہوگئے اور ان کو ناقابلِ اصلاح سمجھ کر وہاں سے نکل گئے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں سخت تنبیہ فرمائی اور ایک سخت امتحان سے گزارنے کے بعد ان کو پھر قوم کے پاس انذار کے لیے واپس بھیجا اور اس دوبارہ انذار سے اللہ تعالیٰ نے ان کی پوری قوم کو ایمان کی توفیق بخشی۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں ہر طرح کے حالات میں نہایت استقامت کے ساتھ انذار کو جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دوسرا مفہوم جو ہم نے بیان کیا ہے بعض اہل علم نے اس کو ترجیح دی ہے اور آیت کے الفاظ میں یقینا اس کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن ہمارے بیشتر آئمہ تفسیر نے پہلا ہی مفہوم مراد لیا ہے اور وہی سیاق کلام سے زیادہ میل کھاتا محسوس ہوتا ہے۔ رہی وہ بات جو اس دوسرے مفہوم میں نمایاں کی گئی ہے اگلی آیت اسی دوسرے مفہوم کو متضمن معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 74:7وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ ۔ (المدثر : 7)
(اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔ 7)
صبر کا مفہوم
آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ انذار کا جو عظیم کام آپ ﷺ کے سپرد کیا گیا ہے یہ بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ جیسے جیسے آپ ﷺ کی دعوت آگے بڑھے گی آپ ﷺ کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ آپ ﷺ کے مصائب اور مشکلات بڑھتی جائیں گی، آپ ﷺ کو ایک ایسی قوم سے واسطہ پڑا ہے جو اپنے عقائد اور رسم و رواج میں نہایت سخت اور جامد واقع ہوئی ہے۔ ان کے بنیادی تصورات کی سب سے بڑی اساس آبائواجداد کی تقلید ہے۔ وہ اپنے آباء کے بارے میں یہ تصور قبول نہیں کرسکتے کہ وہ بھی غلط ہوسکتے ہیں۔ اس لیے جب آپ ﷺ کی تعلیم اور دعوت ان جاہلانہ خیالات اور تصورات سے متصادم ہوگی تو قوم سے آپ ﷺ کا تصادم بڑھے گا۔ اور وہ لوگ اپنے آبائی ورثے کی حفاظت کے لیے مرنے مارنے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ ایک دن آئے کا جب سارا عرب آپ ﷺ کیخلاف صف آراء ہوجائے گا۔ اس لیے آپ ﷺ کو اس کام کے آغاز ہی میں یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ حالات کیسے ہی منہ زور ہوجائیں اور مخالفین کسی طریقے سے بھی آپ ﷺ کی دعوت کو روکنے کی کوشش کریں آپ ﷺ نے اس کا ہرگز اثر قبول نہیں کرنا ہوگا، بلکہ نہایت ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا فرض انجام دیتے رہنا ہوگا اور اسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ فرض اس وقت تک انجام دینا ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کا دین اللہ تعالیٰ کی دھرتی پر غالب نہ آجائے۔ اور یا اس قوم پر اتمامِ حجت کے بعد ان پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ نہ ہوجائے۔
یہ ہیں وہ چھ بنیادی ہدایات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس وقت دی تھیں جب آپ ﷺ کو نبوت عطا کی گئی اور لوگوں کی اصلاح کے منصب پر فائز کیا گیا۔ ان ہدایات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انسانوں کی اصلاح کا کام کس قدر عظیم اور کٹھن ہے اور انسانوں کی اصلاح کے لیے جو اللہ تعالیٰ کے رسول آتے ہیں وہ کس قدر اعلیٰ صفات سے متصف ہوتے ہیں۔ اور دعوت اور رہنمائی کے حوالے سے اس سے بہتر اوصاف اور ہدایات کا تصور بھی انسانی دماغ میں نہیں آسکتا۔ اور اگر یہ باتیں آنحضرت ﷺ پر نازل نہ کی گئی ہوتیں تو انسانی دماغ کی پرواز کبھی ان تک رسائی حاصل نہ کرسکتی۔ صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی اگر انسانوں میں اسی قسم کی زندگی پیدا کرنا مطلوب ہو اور وہی انقلاب برپا کرنا مقصود ہو جو آنحضرت ﷺ نے کیا تو اس راستے میں کام کرنے والوں کو انہی اوصاف سے اپنے آپ کو بقدر ہمت متصف کرنا ہوگا، ورنہ کامیابی کی امید خواب و خیال سے زیادہ کچھ نہیں۔
Ayahs 74:8–10فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ ۔ فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ۔ عَلَی الْـکٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ ۔ (المدثر : 8 تا 10)
(پس جب صور پھونکا جائے گا۔ تو وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ کافروں پر آسان نہ ہوگا۔ )
انذار کا اصل موضوع
نَاقُوْر کے معنی صور کے ہیں۔ اور نَقَرَ سے مراد صور میں پھونک مارنا ہے۔
آنحضرت ﷺ کو انذار کا حکم دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو خواب غفلت سے چونکا دیں۔ اس کی اہم ترین صورت یہ ہے کہ ہر شخص کی موت پھر مجموعی طور پر انسانی زندگی کا خاتمہ، کائنات کی بساط کا لپیٹ دیا جانا، نئی زندگی کا آغاز ہونا اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے لمحے لمحے اور ایک ایک عمل کا حساب دینا اس پورے پر اسس کا نام قیامت اور آخرت ہے۔ اس کو انسانوں کے دل و دماغ میں اتاراجائے، یہ انذار کا پہلا مرحلہ ہے۔ یہیں سے انسانی زندگی میں تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔ انسان کے بگاڑ کا اصل سبب ہی یہ ہے کہ وہ اسی زندگی کو حقیقی زندگی سمجھتا ہے اور موت کو اس زندگی کا خاتمہ گردانتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہمیشہ کے لیے فنا ہے جس میں کسی جوابدہی کا کوئی تصور نہیں۔ اس زندگی میں جیسے کیسے کسی نے مال و دولت جمع کرلیا ہے، عیش و عشرت کے سامان فراہم کرلیے، دوسروں کے کھنڈرات پر محلات اٹھا لیے، دوسروں کی محرومیوں پر اپنی مسرتوں کے آشیانے بنا لیے۔ یہ وہ زندگی ہے جسے کامیاب زندگی سمجھا جاتا ہے۔ پیغمبر اسی غلط تصور کو ختم کرنے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ قریش مکہ سے یہ کہیں کہ آج تو تم دنیوی زندگی پر انحصار کرکے نچنت ہو کر زندگی گزار رہے ہو۔ لیکن اس وقت تم کیا کرو گے جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت برپا ہوجائے گی۔ وہ دن نہایت سخت دن ہوگا۔ ہر شخص کو زندگی کا حساب دینا ہوگا۔ اور تم یہ سمجھتے ہو کہ اولاً تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آہی گئی تو اس وقت دیکھ لیا جائے گا۔ تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کافروں کے لیے وہ دن آسان نہیں ہوگا۔ البتہ صاحب ایمان لوگوں کے لیے کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ وہ دن ان کے لیے ایسے گزر جائے گا جس طرح ایک نماز پڑھی جاتی ہے۔ لیکن تم سوچ لو تمہارا کیا بنے گا۔
Ayahs 74:11–15ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا۔ وَّجَعَلْتُ لَـہٗ مَالاً مَّمْدُوْدًا۔ وَّبَنِیْنَ شُھُوْدًا۔ وَّمَھَّدْتُّ لَـہٗ تَمْھِیْدً ۔ ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ ۔ (المدثر : 11 تا 15)
(چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور اس کو بخشا میں نے مال فراواں۔ اور بیٹے دیئے حاضر رہنے والے۔ اور تیاری کردی اس کے لیے خوب تیاری۔ پھر وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ )
مکہ اور طائف کے متکبرین کو سخت تنبیہ
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ ان آیات میں مکہ اور طائف کے ان متکبرین کو سخت تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی اور رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظورِنظر ہونے کی دلیل سمجھتے تھے۔ لیکن تفسیری روایات میں چونکہ نہایت تکرار کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ان اہل علم کا خیال ہے کہ ولید بن مغیرہ ان کا مصداق تو ہوسکتا ہے لیکن آیات کا نزول ان تمام بڑے بڑے کفار کے لیڈروں کے لیے ہوا ہے جو اپنے مال و دولت پر انحصار کرتے ہوئے آخرت کو بھی اپنے لیے خاص سمجھتے تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تفسیری روایات کو دیکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ آیات تو ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جیسا کہ ہم سورة کے تعارف میں اس کی تفصیل عرض کرچکے ہیں۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس تنبیہ کا محل اور مورد صرف ولید بن مغیرہ نہیں بلکہ وہ تمام لوگ ہیں جن میں یہ صفات پائی جاتی ہیں۔ کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہوتا ہے، خاص محل کا نہیں ہوتا۔
آیت کے شروع میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مجھے چھوڑ دو اور اس شخص کو جس میں یہ یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں اور مراد ولید بن مغیرہ ہے۔ یہ دراصل ایک اسلوبِ کلام ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ ولید یا اس قماش کے لوگوں کی حرکتوں کی پرواہ نہ کریں۔ ان کی مخالفت دراصل اللہ تعالیٰ کے دین کی مخالفت ہے۔ ان کا معاملہ ہم پر چھوڑ دیجیے۔ ممکن ہے دنیا ہی میں وہ گرفت میں آجائیں ورنہ قیامت میں تو یقینا اپنے انجام سے دوچار ہوں گے۔ چناچہ یہ بات کہنے کے بعد ان احسانات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ولید پر فرمائے تھے لیکن اس نے شکر ادا کرنے کی بجائے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ کہ جب آنحضرت ﷺ کی نبوت کے ایک سال کے بعد حج کا موسم آیاتو قریش نے مشاورت طلب کی۔ اس کی تفصیل تعارف میں گزر چکی ہے۔ آغاز میں تو ولید نے ان تمام اعتراضات کا دفاع کیا جو قریش کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر کیے جارہے تھے اور قرآن کریم کی عظمت کی تعریف کی۔ لیکن جب ابوجہل اس کے سر ہوگیا کہ تم بتائو ہم کس طرح محمد ﷺ کی دعوت کا راستہ روک سکتے ہیں۔ تو پھر اس نے جو کچھ کہا اگلی آیات میں اس کا ذکر آرہا ہے۔ اس شخص کی حرکتوں کا ذکر کرنے سے پہلے پروردگار نے اپنے احسانات کا تذکرہ فرمایا کہ ذرا اس شخص کو دیکھو آج یہ جس مال و دولت کا مالک ہے اور جس وجاہت و ریاست پر ناز کررہا ہے کیا جب میں نے اسے پیدا کیا تھا تو اس وقت ان میں سے کوئی چیز اس کے ساتھ آئی تھی۔ یہ بالکل بےبسی اور بےکسی کی تصویر اکیلا اس دنیا میں آیا تھا۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ آج جن خدائوں کی خدائی کو قائم رکھنے کے لیے یہ آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید کی مخالفت میں اس قدر سرگرم ہے کیا اس کی پیدائش میں ان کا بھی کوئی عمل دخل تھا۔ اس کو تو صرف میں نے پیدا کیا تھا اور یہ میرے ہی خلاف معاندانہ حرکتیں سرانجام دینے میں لگا ہوا ہے۔
مزید فرمایا کہ میں نے اس کو مال ممدود عطا فرمایا۔ ممدود کا ایک معنی کثیر اور بہت سا ہوتا ہے اور دوسرا معنی ہے پھیلا ہوا۔ یعنی ہم نے اسے وسیع کاروبار دیا، باغات دیئے، کوٹھیاں اور بنگلے دیئے، جانوروں کے غلے اور ریوڑ دیئے، مختلف جگہ کاروباری مراکز دیئے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس کی زمین، جائیداد اور باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے۔ بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی۔ جس طرح آج کا سرمایہ دار ہر ملک کے بینکوں میں اپنا حساب کھولتا ہے اور ہر ملک کی کمپنیوں میں اپنا سرمایہ لگاتا اور ہر ملک میں اپنی کوٹھیاں اور بنگلے بناتا ہے اور بعض زرعی ممالک میں بڑے بڑے قطعاتِ زمین خریدتا ہے۔ ایسے ہی مال ممدود کا ولید بھی مالک تھا۔
مزید فرمایا کہ ہم نے اسے کئی بیٹے عطا کیے جن میں سے حضرت خالد بن ولید تو مسلمانوں میں بہت نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان بیٹوں کے لیے شہود کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے کئی معانی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو کہیں اپنی روزی کے لیے دوڑ دھوپ اور سفر کرنے کی حاجت پیش نہیں آتی۔ ان کے گھر کھانے کو اتنا موجود ہے کہ ہر وقت باپ کے پاس موجود اور اس کی مدد کے لیے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر مجلس، ہر مقام اور ہر محاذ پر اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے اور اس کے پھیلے ہوئے کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹانے والے اور مدافعت اور مقابلہ کی نوبت آجائے تو نہایت دلیر اور بہادر ہیں۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اس مرتبے کے لوگ ہیں کہ معاملات میں ان کی شہادت قبول کی جاتی ہے۔
مزید فرمایا کہ ہم نے اسے مال و دولت عطا کیا، قابل اولاد بخشی، عزت و وقار دیا، جس کے نتیجے میں اس کی امارت اور سیادت کے لیے ہم نے راہ ہموار کردی۔ اور آج وہ اپنی قوم کا سردار سمجھا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی بےپایاں نعمتوں پر وہ انتہا درجہ شکرگزار ہوتا، وہ آگے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کی دعوت کا ستون بنتا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرتا۔ لیکن بجائے یہ راستہ اختیار کرنے کے اس کی حرص میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کردی جائیں۔
Ayahs 74:16–17کَلاَّ طاِنَّـہٗ کَانَ لِاٰیٰـتِنَا عَنِیْدًا۔ سَاُرْھِقُہٗ صَعُوْدًا۔ (المدثر : 16، 17)
(ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھنے والا ہے۔ میں اس کو عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھائوں گا۔ )
احسان ناشناسی کی سزا
یعنی وہ جو توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتیں اسے میسر آئیں گی اور قیامت کے دن بھی دنیا ہی کی طرح اسے نوازا جائے گا، فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس کا یہ خواب ہرگز پورا ہونے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی نعمتیں دیتا ہے وہ اس کے حق کی حیثیت سے نہیں دیتا بلکہ ان کے لیے آزمائش بناتا ہے کہ وہ یہ نعمتیں پا کر شکرگزار اور فرمانبردار رہتے ہیں یا خودسر مغرور یا خدا کے باغی بن جاتے ہیں۔ یہاں آیات سے مراد یا تو مجموعی طور پر قرآن کریم کی آیات ہیں اور یا بطور خاص وہ آیتیں ہیں جو عذاب دنیا اور عذاب آخرت سے ڈرانے والی ہیں۔
اس شخص کو اب مزید نعمتوں کی توقع کی بجائے اس سزا کا انتظار کرنا چاہیے جس سے وہ عنقریب دوچار ہونے والا ہے۔ وہ سزا دنیا میں بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اصل سزا کا محل آخرت ہے جس کا آنا یقینی اور حتمی ہے وہ انسانوں کے لیے چاہے کتنی دور ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق نہایت قریب ہے۔ ویسے بھی جب ایک شخص کو موت آجاتی ہے تو اب اس کے اور قیامت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں رہتی۔ اس لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جسے موت آگئی اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ قیامت میں اسے کیسے کیسے جانگسل مراحل سے گزرنا پڑے گا وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayahs 74:18–25اِنَّـہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ۔ فَـقُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ قُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ نَظَرَ ۔ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ۔ ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَـکْبَرَ ۔ فَقَالَ اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌ یُّـؤْثَرُ ۔ اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ ۔ (المدثر : 18 تا 25) (اس نے سوچا اور ایک بات بنائی۔ تو خدا کی مار ہو اس پر اس نے کیسی بات بنائی۔ پھر خدا کی مار ہو اس پر اس نے کیسی بات بنائی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔ پھر پیٹھ پھیری اور تکبر میں پڑگیا۔ پھر بولا یہ تو محض ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو محض انسانی کلام ہے۔ )
معاندین کے عناد کی تصویر
آیت سولہ میں فرمایا ہے کہ وہ ہماری آیات کا شدید معاند ہے۔ یہ اسی عناد کی تصویر کھینچی گئی ہے اور غور سے دیکھئے کیسی مکمل تصویر کھینچی گئی ہے۔ ہم تعارف میں تفصیلات عرض کرچکے ہیں کہ یہ شخص دل میں قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا قائل ہوچکا تھا۔ پہلے اس نے مشاورت میں ان تمام الزامات کو رد کیا جو قریش کے سردار رسول اللہ ﷺ پر لگا رہے تھے، تو اسے مجبور کیا گیا کہ وہ ایسا الزام تراشے جسے عرب کے لوگوں میں پھیلا کر آنحضرت ﷺ کو بدنام کیا جاسکتا ہو۔ چناچہ اس موقع پر جس طرح اس کی ذہنی خلش نے اس کا راستہ روکا، لیکن مفادات کی ہوس اس پر غالب آئی اور جس کیفیت سے وہ دوچار رہا اس کی تصویر کھینچتے ہوئے فرمایا کہ پہلے اس نے غور و فکر کیا۔ فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر کرنے کی بجائے سوچتا رہا۔ پھر غور و فکر کے بعد جو رائے اس کے ذہن میں آئی اس کو اس نے اپنے ذہن میں اچھی طرح تولا کہ وہ ایسی بات کہے جو دلوں میں اتر جائے۔ اس پر خدا کی مار ہو کہ اس نے قرآن کریم کا کتنا غلط اندازہ لگایا۔ خدا اسے غارت کرے اس نے کیسی بےہودہ رائے قائم کی۔ دو دفعہ اس پر لعنت اس لیے فرمائی گئی تاکہ اس کی رائے کی شناعت اچھی طرح ظاہر ہوجائے۔ اس کے بعد بجائے ہَوائے نفس کے غلبے کو پہچاننے اور حقیقت کا گلا گھونٹنے جیسے جرم کے ارتکاب سے بچنے کے اسے تکبر کا دورہ پڑا۔ نہایت تکبر سے لوگوں کی طرف دیکھا، گویا وہ عقل کل ہے جس کے بغیر الجھی ہوئی گتھیاں سلجھنا مشکل ہیں۔ پھر اس نے پیشانی سکیڑی اور منہ بنایا، پھر وہ پیچھے ہٹا اور تکبر کی سراپا تصویر بن کر بولا اس کلام کے بارے میں کیا پوچھتے ہو۔ یہ صحیح ہے کہ اس میں ایک تأثیر ہے۔ وہ دلوں کو مسخر بھی کرتا ہے، لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے بھی ایسے زبان آور خطباء گزرے ہیں جن کا بیان جادو کی طرح پر تأثیر ہوتا تھا۔ اور ان کا کلام لوگوں میں نقل بھی کیا جاتا ہے، ایسا ہی یہ بھی ایک کلام ہے۔ آپ کلام کے اعتبار سے اس کی جتنی چاہیں تعریف کرلیں لیکن اس کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ ایک انسان کا کلام ہے۔ اسے بلاوجہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اور اس کا کلام کہنا سراسر زیادتی ہے۔
قریش دراصل قرآن کریم کی تأثیر و تسخیر اور اس کی معجزانہ شان کو دیکھتے ہوئے اس کی تعریف پر اپنے آپ کو مجبور پاتے تھے۔ اب ان کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ خدائی کلام کی حیثیت سے لوگوں کے دلوں پر جو اس کا رعب بیٹھتا جارہا تھا اس کو روکنے کی یہی ایک صورت تھی کہ اسے انسانی کلام کی ایک بہترین مثال سمجھیں، لیکن کلام خداوندی ہونے کا انکار کریں۔
Ayahs 74:26–29سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ ۔ وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَا سَقَرُ ۔ لاَ تُبْـقِیْ وَلاَ تَذَرُ ۔ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ ۔ (المدثر : 26 تا 29)
(میں عنقریب اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ۔ نہ ترس کھائے اور نہ چھوڑے۔ کھال جھلس دینے والی۔ )
معاندین کا انجام
ولید بن مغیرہ کی معاندانہ سرکشی اور اس کے الزام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ میں اسے عنقریب دوزخ میں جھونک دوں گا یعنی قیامت کے روز اسے جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ اور اہل مکہ چونکہ دوزخ اور جہنم کو درخورِاعتنا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ انھیں قیامت کے برپا ہونے کا یقین نہیں تھا، اس لیے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے اور توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اے مخاطب تو کیا جانے وہ دوزخ کیا ہے۔ وہ صرف ایک آتش کدہ نہیں بلکہ اس کی آگ کا حال یہ ہے کہ نہ تو وہ کسی پر رحم کھاتی ہے، ابقیٰ علیہ کے معنی ہوتے ہیں، اس نے اس پر ترس کھایا اور رحم کیا۔ اس آیت میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ دوزخ ایسی ظالم چیز ہوگی جو کسی پر ترس کھانا نہیں جانتی۔ اور ایسا بھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی اس سے بچ نکلے۔ دوسرا ترجمہ اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ نہ وہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ جو شخص بھی اس میں ڈالا جائے گا وہ جلا کر خاک کردے گی، مگر مر کر بھی اس کا پیچھا نہ چھوٹے گا بلکہ وہ پھر زندہ کیا جائے گا اور پھر جلایا جائے گا۔ اور یہی عمل مسلسل جاری رہے گا۔ سورة الاعلیٰ میں ارشاد فرمایا گیا ہے لاَ یَمُوْتُ فِیْھَا وَلاَ یَحْیٰی ” وہ نہ اس میں مرے گا نہ جیئے گا۔ “ اس سے زیادہ سخت عذاب کی اور کیا صورت ہوسکتی ہے کہ ایک شخص جل کر بھسم ہوجائے لیکن اس کی جان نہ نکلے، اس کی کھال جھڑ جائے تو نئی کھال پہنا دی جائے۔ مزید فرمایا اس آگ کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ دور ہی سے مجرموں کی کھالوں کو جھلس دے گی۔ بشر جسم کی کھال کو کہتے ہیں، یعنی وہ مجرم کو پہچانے گی اور اس کے شعلوں کی لپٹ مجرم کے مقام عذاب تک پہنچنے سے پہلے ہی اس تک پہنچ چکی ہوگی۔ اندازہ کیجیے جس عذاب کی ابتداء یہ ہوگی اس کی انتہاء کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔
Ayah 74:30عَلَیْھَا تِسْعَۃَ عَشَرَ ۔ (المدثر : 30)
(اس پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے۔ )
یعنی دوزخ کے انتظام و انصرام مجرموں کی گرفت اور ان کو عذاب دینے کے لیے انیس کارکن مقرر کیے گئے ہیں۔ اگلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب فرشتے ہیں۔ اس لیے کسی کو یہ بڑ ہانکنے کی ضرورت نہیں کہ انیس کو تو ہمارا ایک پہلوان سنبھال سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانوں اور فرشتوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو غیرمعمولی قوتیں دے رکھی ہیں۔ وہ آسمانوں کی بےکراں پہنائیوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور انھیں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ وہ آسمان کی بلندی سے لمحوں میں زمین پر اترتے ہیں۔ زمین کے تمام معاملات کی دیکھ بھال اور فیصلوں کا نفاذ ان کی ڈیوٹی میں شامل ہے اور کہیں اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اب رہی یہ بات کہ انیس کے عدد اور اس کے ذکر میں کیا حکمت ہے اگلی آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔
Ayah 74:31وَمَا جَعَلْنَـآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلاَّ مَلٰٓئِکَۃً ص وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَھُمْ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لا لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَیَزْدَادَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِیْمَانًا وَّلاَ یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ لا وَلِیَـقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْـکٰفِرُوْنَ مَا ذَٓا اَرَادَاللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلاً ط کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلاَّ ھُوَ ط وَمَا ھِیَ اِلاَّ ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ ۔ (المدثر : 31)
(ہم نے دوزخ پر نگران فرشتوں کو ہی بنایا ہے اور ہم نے ان کی یہ تعداد نہیں بیان کی، مگر اس لیے کہ یہ آزمائش بنیں ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں اور تاکہ جن کے دلوں میں روگ ہے وہ اور کفر کرنے والے کہیں کہ بھلا اس سے اللہ کی کیا مراد ہے۔ اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور راہ یاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، اور اس دوزخ کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو۔ )
متشابہات کے ذکر سے مومنوں کی ذہنی تربیت ہوتی ہے
قرآن کریم نے ایک سے زیادہ مقامات پر اس مضمون کو بیان کیا ہے کہ قرآن کریم میں دو طرح کی آیات ہیں۔ ایک وہ آیات ہیں جنھیں محکمات کہا گیا ہے ان کا معنی اور مراد واضح ہے اور انھیں پر ہدایت و احکام کا دارومدار ہے۔ دوسری وہ آیات ہیں جنھیں متشابہات کہا گیا ہے۔ ان میں ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جن کے لیے ہماری زبان میں مناسب الفاظ نہیں ہیں کیونکہ عالم غیب کے حقائق عالم وجود کی زبان میں سما نہیں سکتے۔ اسے اس طرح بیان کردیا جاتا ہے جس سے وہ ہمارے فہم و ادراک کے کسی حد تک قریب آجاتے ہیں لیکن ان کا مکمل ادراک ممکن نہیں۔ قیامت کے دن ان کی حقیقت ہم پر کھل جائے گی۔ انیس کا عدد بھی اس آیت میں متشابہات سے تعلق رکھتا ہے۔
قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کے کلام اور ہماری زندگی کا دستورالعمل ہونے پر بیشمار دلائل قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں۔ جن میں فطری شواہد بھی موجود ہیں، دلائلِ انفس اور دلائلِ آفاق بھی اور سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق اور تائید بھی۔ جو شخص ان دلائل کو غور سے دیکھے گا وہ قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان لے آئے گا۔ رہی وہ باتیں جو قرآن میں متشابہات کے طور پر بیان کی گئی ہیں تو جو شخص قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کے کلام ہونے پر یقین رکھتا ہے ایسی باتوں کی وجہ سے اس کے یقین میں اضافہ ہوجاتا ہے کہ یہ اس رب کا کلام ہے جس کے علم کی حدود ہمارے فہم و ادراک سے بالا ہیں۔ وہ کبھی ہمارا امتحان لینے کے لیے اور کافروں کے لیے فتنے کے طور پر ایسے الفاظ کا ذکر کردیتا ہے تاکہ ہمارے یقین و ایمان کی تربیت ہو اور کافر مزید فتنے کا شکار ہو کر ہدایت سے اور دور ہوجائیں۔ کیونکہ جس شخص کے دل میں قرآن کریم کی طرف سے شک و ارتیاب پایا جاتا ہے اور یا وہ قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کو تسلیم نہیں کرتا ایسے حقائق ایسے شخص کے انکار اور شک و ارتیاب میں زیادتی کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن وہ سچے اہل کتاب جو آسمانی کتابوں کی حقیقت کو جانتے ہیں اور اس طرح وہ صاحب ایمان لوگ جو قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم کرچکے ہیں ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہی چیزیں ان کے لیے ہدایت میں افزونی کا باعث ہوتی ہیں اور کافر اور منافق کے لیے کفر و نفاق میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے ایمان مانگتا ہے اور ایمان کے راستے پر چلتا ہے وہ اسے ایمان سے نوازتا ہے اور جو کفر اور نفاق پر اصرار جاری رکھتا ہے اس کے کفر اور نفاق میں ترقی ہوجاتی ہے۔
کفار کا یہ کہنا کہ انیس فرشتے بیشمار مخلوق کو جہنم میں کس طرح قابو کرلیں گے، ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے یہ انیس کو تو ان کے سردار ہیں ان کے ماتحت کتنی فورس اور کتنی بڑی فوج ہے تم اس کا اندازہ نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لشکروں کا شمار کوئی نہیں جانتا۔ یہ بتلانا مقصود نہیں کہ کتنے فرشتے اس کے انتظام و انصرام میں لگے ہوئے ہیں بلکہ صرف یہ توجہ دلانا اور یاد دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں بےپناہ ہیں۔ اس کی گرفت سے ہر وقت پناہ مانگو اور وہ جو بات اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے اسے یقین کی قوت سے تھام لو۔
Ayahs 74:32–37کَلاَّ وَالْقَمَرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَر۔ وَالصُّبْحِ اِذَٓا اَسْفَرَ ۔ اِنَّھَا لَاِحْدَی الْـکُبَرِ ۔ نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ ۔ لِمَنْ شَآئَ مِنْـکُمْ اَنْ یَّـتَـقَـدَّمَ اَوْیَتَاَخَّرَ ۔ (المدثر : 32 تا 37)
(ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے۔ اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجاتی ہے۔ بیشک وہ قیامت بڑے حوادث میں سے ایک ہے۔ جو انسان کے لیے نذیر ہے۔ اس کے لیے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے۔ )
دلائلِ آفاق سے اثباتِ قیامت اور قسموں کی وضاحت
اثباتِ قیامت کا مضمون جاری ہے اور اشرافِ قریش کی ہر زہ سرائیوں کا جواب دیا جارہا ہے۔ اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے آفاق کی چند نشانیوں کی قسم کھا کر اور انھیں شواہد کے طور پر پیش کرکے لوگوں کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ قیامت اس کائنات کے حوادث میں سے ایک عظیم حادثہ ہے جس کا ظہور قطعی اور حتمی ہے۔ اب ہم ان قسموں کی کسی حد تک تشریح کرتے ہیں تاکہ ان دلائل کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔
اس سے پہلے بعض سورتوں میں قسم سے پہلے حرف نفی کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ وہاں عرض کیا جا چکا ہے کہ قسم سے پہلے حرف نفی زائد نہیں ہوتا۔ اور یہاں بھی کَلاَّ وہی مفہوم ادا کررہا ہے۔ اس کا بھی حرف نفی کی طرح قسم کی معنویت میں ایک کردار ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ کہنے والا ایک غلط بات کہتا ہے، سننے والا اس کی تردید کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ تردید میں کوئی دلیل پیش کرے حرف نفی یا کَلاَّ لا کر دلیل سے پہلے کہنے والے کی بات کی تردید کردیتا ہے۔ یعنی اس کے نزدیک بات کا بطلان اس قدر واضح ہے اور اس کے اندر کہی گئی بات کے حوالے سے اس قدر شدید نفرت پائی جاتی ہے کہ یہ اس کا انتظار نہیں کرتا کہ میں دلیل سے اس کا رد کروں بلکہ دلیل سے پہلے نہایت محکم انداز میں کہتا ہے ہرگز نہیں، جو بات تم کہتے ہو، وہ یکسر غلط ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی بات دلیل کے ساتھ کہنا شروع کرتا ہے۔
اس سے پہلے ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم قسم کی صورت میں دلیل پیش کرتا ہے اور یہ اسلوب قرآن کریم کے ساتھ خاص نہیں۔ عربی ادیبوں کے یہاں بھی یہ شائع و ذائع ہے۔ قسمیہ جملے میں قسم کی حیثیت دلیل کی ہوتی ہے اور مقسم علیہ یعنی جس پر قسم کھائی جاتی ہے اس کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے۔ دعویٰ بعد میں پیش کیا جاتا ہے اور قسم یعنی دلیل پہلے پیش کی جاتی ہے تاکہ جس بات کو ثابت کرنا مقصود ہو، دل و دماغ کو اس کے لیے ہموار کردیا جائے۔ ان آیات میں تین باتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ چاند کی قسم، رات کی قسم جب وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہوجاتی ہے۔ اور مقسم علیہ آیت 35 میں ذکر کیا گیا ہے یعنی قیامت۔ کہنا یہ ہے کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرنے والے ہیں ان کے شبے کی بنیاد یہ ہے کہ قیامت کو اگر آنا ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی۔ ہر پیغمبر نے لوگوں کو اس سے ڈرایا اور اس کے آنے کی خبر دی۔ صدیاں گزر گئیں اگر اسے آنا ہوتا تو اب تک آچکی ہوتی۔ معلوم ہوتا ہے یہ محض ڈراوا ہے۔ اس کے جواب میں کَلاَّ کہہ کر سختی سے اس شبے کا رد کیا۔ اور پھر تین قسمیں تین دلائل کے طور پر کھائی گئیں۔ جن کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے چاند کو نکلتا، چاندنی لٹاتا، دلوں کو ٹھنڈک پہنچاتا اور روشنی بکھیرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ وہ باریک دھاگے کی شکل میں نمودار ہوتا ہے، پھر بڑھتے بڑھتے بدرکامل بن جاتا ہے، پھر کم ہونا شروع کرتا ہے اور آخر میں باریک دھاگے کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ چاند کا عروج وزوال اور اس کا کسر و کمال ایک بات کی خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں۔ وہ ان منزلوں سے گزرتا ہوا کمال کو پہنچتا ہے اور انھیں منزلوں سے اترتا ہوا زوال کا شکار ہوتا ہے۔ گویا اس کے عروج وزوال میں ایک تدریج ہے جو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق روبہ عمل آتی ہے۔ اسی طرح رات کی تاریکی میں صبح کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔ رات کی گہری تاریکی کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص جسے رات کے چھا جانے اور صبح کے طلوع ہوجانے کا تجربہ نہیں، سوچ بھی نہیں سکتا کہ رات کی تاریکی میں سے صبح طلوع ہوگی۔ اور اگر اسے بتایا جائے کہ صبح آکے رہے گی تو جیسے جیسے رات گہری ہوتی جائے گی، ویسے ویسے اس کے اندر شک و ارتیاب کے کانٹے اگتے جائیں گے۔ اس طرح جب صبح نمودار ہوجاتی ہے اور دن کی روشنی پھیلتی چلی جاتی ہے اور تاریکی کا کہیں نشان تک نہیں رہتا تو کوئی شخص کبھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوسکتا کہ رات آنے والی ہے۔ لیکن چاند کے عروج وزوال کا سفر، رات کا آہستہ آہستہ پیٹھ پھیرنا اور پھر صبح کا آہستہ آہستہ رات کی طرف بڑھنا ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے قانونِ تدریج کی منہ بولتی شہادت ہے کہ یہاں کوئی بھی تغیر یک لخت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک قانون مقرر ہے جس کے مطابق وہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ کسی کی طلب و تمنا نہ اس کے سفر کو تیز کرسکتی ہے اور نہ کم کرسکتی ہے۔ چاند اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق عروج و محاق کی منزلیں طے کرتا ہے اور صبح و شام اللہ تعالیٰ ہی کے معین پروگرام کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یہی حال قیامت کا بھی ہے۔ اس نے انسانی سفر کی بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں۔ عروج وزوال کا سفر جاری رہتا ہے، نشیب و فراز کا سیل بہتا رہتا ہے، قومیں اخلاق کی منزلیں کبھی چڑھتی اور کبھی ان سے پھسلتی ہیں۔ اور یہ سفر اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک انسان مختلف اطوار و مراحل سے گزرتے ہوئے اس مقام تک نہیں پہنچ جاتا جہاں اللہ تعالیٰ کے علم میں قیامت کا ظہور ہونے والا ہے۔ اس وقت تک انتظار کرنا ہوگا اور یہ انتظار اسی قانون کا حصہ ہے جسے ہم نظام کائنات میں قانونِ تدریج کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن مظاہرقدرت اور انسانی تجربات میں چونکہ اس قانون کی کارفرمائی روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتی ہے اس لیے ہم اس میں جلد بازی نہیں کرتے اور نہ بےصبری کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن نہ جانے کیوں قیامت کے بارے میں یہ پیمانہ ہمارے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ چناچہ اسی قانون اور اسی پیمانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم چاند، رات اور صبح کو دیکھو کو کس طرح ایک تدریج کے ساتھ ظہور پذیر ہوتے اور اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ جیسے ان کا ظہور کائنات کے عظیم احوال و حوادث کا ایک حصہ ہے یہی حال قیامت کا ہے۔ وہ بھی ایک بہت بڑا واقعہ ہے جسے بیان اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ وہ انسان کے لیے نذیر ثابت ہو۔ اور اس کی ہولناکی کو دیکھتے ہوئے اس سے پہلے کہ اس سے سابقہ پیش آئے انسان اس کے لیے تیاری کرے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے ذریعہ سے اور اپنا رسول مبعوث فرما کر اس آنے والے عظیم واقعہ کی انسانوں کو قبل از وقت اطلاع دے دی۔ اب اس کا قبول کرنا یا رد کرنا یہ انسان کا اپنا کام ہے۔ جو اپنی عاقبت کی خیر چاہے گا وہ اس کو قبول کرنے کے لیے آگے بڑھے گا اور جس کی شامت آئی ہوئی ہوگی وہ اعراض و استکبار کی روش اختیار کرے گا اور پیچھے ہٹ جائے گا۔