Ayahs 73:1–4یٰٓـاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ ۔ قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیلْ ۔ نِصْفَہٗٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً ۔ اَوْ زِدْعَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً ۔ (المزمل : 1 تا 4)
(اے چادر میں لپٹنے والے ! رات کو نماز میں کھڑا رہا کیجیے، مگر تھوڑا حصہ۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلیجئے۔ یا اس پر کچھ زیادہ کرلیجئے، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے۔ )
پہلی آیت میں پروردگار نے نبی کریم ﷺ کو ایک ایسے لفظ سے مخاطب فرمایا ہے جس سے آپ ﷺ کی ایک خاص کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس خطاب میں انتہائی دلنوازی اور محبت پائی جاتی ہے۔
مَزَّمِّل کا مفہوم
مزمل دراصل متزمل ہے۔ بابِ تفعل میں ادغام کے قاعدے کے مطابق ت حرف ز میں مدغم ہوگئی ہے۔ بعض آئمہ تفسیر کا خیال ہے کہ آنحضرت ﷺ پر پہلی دفعہ نزول وحی کے بعد اور پھر دوسری دفعہ فترتِ وحی کے بعد آسمان اور زمین کے درمیان ایک معلق کرسی پر حضرت جبرائیل امین کو دیکھ کر آپ ﷺ پر ایک مرعوبیت کی کیفیت طاری ہوئی جس کی وجہ سے جسم میں لرزہ طاری ہوگیا۔ آپ ﷺ گھر میں کانپتے ہوئے پہنچے اور فرمایا زملونی زملونی ” مجھے ڈھانپ دو ، مجھے ڈھانپ دو ۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس سے یہ تأثر ملتا ہے کہ اس وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو توجہ دلائی گئی کہ آپ ﷺ پر جو وحی کا نزول شروع ہوا ہے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے جلال سے طبیعت پر مرعوبیت کا طاری ہوجانا یا حضرت جبرائیل امین کے غیرمعمولی قدوقامت اور خدوخال کو دیکھ کر پریشان ہوجانا، یہ طبیعت کا تقاضا ہے۔ اب آپ کو ان تجربات کا اپنے اندر تحمل پیدا کرنا ہوگا۔ اس کا طریقہ وہ ہے جو اگلی آیات میں بیان فرمایا گیا ہے۔
بعض اہل تفسیر کی رائے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آرام فرما رہے تھے۔ اس حالت میں آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپ سے کہا گیا کہ اے چادر اوڑھ کر سونے والے اب سونے کا زمانہ گزر گیا، آپ ﷺ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے جس پر بھی وہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کی نیند اڑ جاتی ہے اور آرام اس کے لیے خواب و خیال ہو کر رہ جاتا ہے۔ آپ ﷺ پر ایک بار عظیم ڈالا جارہا ہے اس سے عہدہ برآ ہونے کی تیاری کیجیے۔
بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ مزمل یا مدثر کے لفظ سے درحقیقت نہایت پیار بھرے انداز میں آنحضرت ﷺ کی ایک کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور پھر آنحضرت کو اس کیفیت سے نکلنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی دیگر اہل عرب کی طرح چادر کو اپنے لباس کے لازمی حصے کے طور پر اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اور اہل عرب کا طریقہ یہ تھا کہ جب انھیں کبھی غیرمعمولی حالات سے واسطہ پڑتا، پریشانیاں گھمبیر ہوجاتیں، حالات نامساعد ہوجاتے، اچانک مخالفتیں سر اٹھانے لگتیں اور وہ کوئی رفیق و غمگسار، ہمدردی و خیرخواہی کے لیے اپنے پاس موجود نہ پاتے تو ان کی تسلی اور دلجوئی کے لیے سب سے بڑی رفیق ان کی چادر ہوتی تھی۔ وہ چادر میں لپٹ کر بیٹھتے اور چادر ہی میں لپٹ کر لیٹتے۔ اس طرح سے اہل دنیا سے بالکل کٹ کر تنہائی میں ڈوب جاتے اور اپنے حالات میں کوئی بہتری کا راستہ نکالنے کے لیے غور و فکر کرتے۔ آنحضرت ﷺ بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار کردیئے گئے تھے۔ جیسے ہی آپ ﷺ نے علانیہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور ان کے اخلاق و اعمال پر ان ہی کی بھلائی کی خاطر تنقید فرمائی تو وہ قوم جو ہمیشہ آپ ﷺ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی اور سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی اور جن کی زبانیں الصادق اور الامین کہتے ہوئے خشک نہیں ہوتی تھیں، یک لخت ان کی زبانیں شعلے اگلنے لگیں، ان کی آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے، کل کے دوست آج کے دشمن ہوگئے۔ نیا سفر ابھی ہمراہی بہت کم ہیں۔ ایسی حالت میں جب پریشانیاں ہجوم کر آئیں تو آپ ﷺ چادر میں لپٹ کر کسی کونے میں لیٹ گئے اور حالات پر غور و فکر کرنے لگے۔ چناچہ آپ ﷺ کو اس کیفیت سے نکالنے کے لیے اس وحی کا نزول ہوا۔ آپ ﷺ کو نہایت محبت بھرے انداز میں فرمایا گیا ہے کہ پریشانیوں سے گھبرا کر اور مخالفتوں سے تنگ آکر مضمحل اور منفعل ہو کر چادر لپیٹ کے لیٹ جانا یہ تو کمزور لوگوں کا کام ہے جن کا سارا دارومدار صرف اپنے غوروفکر، اپنی تدابیر اور اپنے وسائل پر ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کے سر پر پروردگار کا سایہ ہے۔ آپ ﷺ کی پشت پناہی وہ ذات کررہی ہے جس کی قدرتوں کی کوئی انتہا نہیں آپ ﷺ بجائے پریشان ہونے کے اس پروردگارِ عالم سے رجوع کریں جو اپنے کمزور بندوں کی مدد کرتا ہے اور انتہائی ناموافق حالات میں بھی ان کا سہارا بن جاتا ہے۔ چناچہ اپنی طرف رجوع کرنے کا یہ طریقہ بتایا کہ رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے رہئے، یعنی قیام اللیل کیجیے، تہجد کی نماز بھی اسے کہا گیا ہے۔ اس سے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو مدد پہنچے گی۔ آپ ﷺ ہر پریشانی پر غالب آنے کی ہمت پائیں گے۔ امام بغوی نے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) وغیرھا کی احادیث کی بنا پر یہ فرمایا ہے کہ اس آیت کی رو سے قیام اللیل یعنی رات کی نماز رسول اللہ ﷺ اور تمام امت پر فرض تھی۔ اور یہ اس وقت کا واقعہ جب پانچ نمازیں فرض نہیں تھیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت میں قیام اللیل یعنی تہجد کی نماز کو فرض ہی نہیں کیا گیا بلکہ رات کے ایک معتدبہٖ حصے میں عبادت میں مشغول رہنے کو فرض قرار دیا گیا ہے۔
قِـیَامُ الَّـیْل کی مقدار
دوسری اور تیسری آیت میں اس مقدار کی وضاحت کی گئی جس قدر عبادت میں کھڑا ہونا ضروری تھا۔ اللیل پر الف لام ہے اس سے مراد پوری رات ہے، لیکن آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی امت پر ساری رات کے لیے عبادت لازم نہیں کی گئی بلکہ یہ فرمایا کہ رات کے نصف آخر میں آپ ﷺ تہجد کے لیے اٹھیں، کیونکہ آگے نَاشِـَٔۃَ الَّیْلِسے واضح طور پر معلوم ہورہا ہے کہ نصف سے رات کا نصف آخر مراد ہے۔ ویسے بھی تہجد سو کر اٹھنے کے بعد والی نماز کو کہتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے عمل سے بھی یہی ثابت ہے۔ اور اصل مقصد کے اعتبار سے بھی اسی کو مناسبت بھی ہے اور اثرات کے لیے لحاظ سے یہی وقت بابرکت بھی ہے۔ یہ وقت رات کے نصف کے بقدر بھی ہوسکتا ہے، اس سے کچھ کم بھی ہوسکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس میں چونکہ دیر سویر ہوجانے کا امکان ہے کیونکہ رات کے پچھلے پہر اٹھنا ایک مشکل کام ہے، اس لیے وقت کے معاملے میں وسعت رکھی گئی کہ ہمت ساتھ دے اور مصروفیات مانع نہ ہوں تو نصف رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرنی چاہیے، لیکن اگر اس میں کمی بیشی ہوجائے تو الفاظ میں اس کی گنجائش موجود ہے۔
تَرْتِیْل کا مفہوم
مزید فرمایا کہ اس نماز میں قرآن کو ٹھہر ٹھہر کے پڑھو۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کا ایک مومن کے عقیدہ و عمل کی اصلاح میں سب سے موثر کردار ہے۔ یہ تجدیدِ عہد بھی ہے، عہد کا اعلان بھی ہے اور ایفائے عہد کی قوت کو بڑھانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک ایسا واسطہ ہے جس سے قرب کے نہایت مضبوط رشتے وجود میں آتے ہیں اور نماز تہجد ان تمام حوالوں سے سب سے زیادہ اہم ہے۔ انتہائی جانگسل مراحل، ناموافق حالات اور حوصلہ شکن مزاحمت میں اللہ تعالیٰ کی مدد کو دعوت دینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس لیے بطورخاص ارشاد فرمایا گیا کہ اس نماز میں قرآن کریم کو جو اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہے کو ٹھہر ٹھہر کے پڑھو۔ یعنی اسے تیز اور رواں دواں پڑھنے سے منع فرمایا۔ اور اس طرح پڑھنے کی ترغیب دی کہ جس میں ایک ایک لفظ موتیوں کی طرح نمایاں ہو کر زبان سے نکلے۔ ایک ایک آیت پر ٹھہرو تاکہ ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھنے پر قادر ہوسکے۔ جہاں کہیں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا ذکر آئے تو اس کی عظمت وہیبت دل پر طاری ہوجانی چاہیے اور جہاں رحمت کا بیان ہو تو دل جذباتِ تشکر سے لبریز ہوجائے۔ کہیں اس کے غضب اور عذاب کا ذکر آئے تو دل کی دھڑکن اس کے خوف سے تیز ہوجائے، اوامرونواہی آئیں تو دل تعمیل کے لیے لپکتا جائے۔ غرضیکہ نماز پوری توجہ، انہماک، خشوع و خضوع، مطلوبہ کیفیات سے سرشار اور ہر طرح کے پسندیدہ جذبات سے مامور ہو۔ آنحضرت ﷺ کی نماز کا جو طریقہ روایت کیا گیا ہے وہ ایسی ہی کیفیات کا آئینہ دار ہے۔ حضرت انس ( رض) سے پوچھا گیا کہ آپ نماز میں قرآن کریم کو کیسے پڑھتے تھے تو انھوں نے کہا آپ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ مثال کے طور پر انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ آپ ﷺ ، اللہ، رحمن اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ قرآن لحن اور لے سے پڑھتے، آیت آیت پر وقف فرماتے، کبھی ایک ہی آیت شدت تأثر میں بار بار دہراتے، کوئی آیت قہرو غضب کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے غضب سے پناہ مانگتے اور جو آیت رحمت کی ہوتی اس پر ادائے شکر فرماتے۔ قرآن کریم کو ان آداب کے ساتھ پڑھنا اسی کو ترتیل کہا گیا ہے۔
Ayah 73:5اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیْلاً ۔ (المزمل : 5)
(ہم آپ ﷺ پر عنقریب ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ )
قِـیَامُ الَّـیْل کا سبب
رات کو نماز کا جو حکم دیا گیا اور پھر اس میں قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی تلقین کی گئی، پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ ہم آپ ﷺ پر ایک قول ثقیل یعنی بھاری کلام ڈالنے والے یعنی نازل کرنے والے ہیں۔ اس کے تحمل اور اس مقصدعظیم کی ادائیگی کے لیے ایک پیشگی ریاضت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ کے اندر وہ قوت پیدا ہوجائے جس سے آپ ﷺ قولِ ثقیل کا حق ادا کرسکیں۔
قولِ ثقیل سے مراد
سوال یہ ہے کہ قول ثقیل کیا ہے ؟ اکثر اہل تفسیر نے اس سے قرآن کریم مراد لیا ہے اور اسے قول ثقیل اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کی تعلیم کا نمونہ بن کردکھانا، اس کے بیان کردہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی حدود کی دائمی پابندی کرنا، اس کی دعوت کو لے کر ساری دنیا کے مقابلے میں اٹھنا اور اس کے مطابق عقائد و افکار، اخلاق و آداب اور تہذیب و تمدن کے پورے نظام میں انقلاب برپا کردینا ایک ایسا کام ہے جس سے بڑھ کر کسی بھاری کام کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری وجہ قرآن کریم کے بھاری کلام ہونے کی یہ ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہوتا تھا تو اس کے نزول کا تحمل آنحضرت ﷺ کے لیے بڑا دشوار تھا۔ حضرت زید بن ثابت ( رض) کہتے ہیں، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ پر اس حالت میں وحی کا نزول شروع ہوگیا کہ اتفاق سے آپ ﷺ کا زانو میرے زانو پر تھا۔ میرے زانو پر اس وقت ایسا بوجھ پڑا معلوم ہوتا تھا کہ اب ٹوٹ جائے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) فرماتی ہیں کہ میں سخت سردی کے زمانے میں حضور ﷺ پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے۔ آپ ﷺ کی پیشانی سے اس وقت پسینہ ٹپکنے لگتا تھا۔ ایک اور روایت میں حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ جب کبھی آپ ﷺ پر اس حالت میں وحی نازل ہوئی کہ آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے تو اونٹنی اپنا سینہ زمین پر ٹکا دیتی تھی اور اس وقت تک حرکت نہ کرسکتی تھی جب تک نزول وحی کا سلسلہ جاری رہتا۔
بعض اہل علم کے نزدیک قول ثقیل سے مراد انذارِ عام ہے جس کا حکم سورة المدثر کی دوسری آیت میں دیا گیا ہے۔ یہ انذارِ عام ہی آنحضرت ﷺ کا حقیقی منصب ہے۔ اسی میں آپ ﷺ کو براءت، ہجرت اور اعلانِ جنگ کے سخت ترین مراحل سے گزرنا پڑا۔ چناچہ ان مراحل سے گزرنے کے لیے جس جہادِ عظیم کی ضرورت تھی اسی کے لیے آپ ﷺ کو کم و بیش نصف رات تک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے رہنے اور ترتیل کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں اپنے آپ کو فنا کردینے کی تربیت دی گئی تاکہ آپ ﷺ میں اور مسلمانوں میں وہ قوت پیدا ہوجائے جو اقامتِ دین کی جدوجہد کے لیے ضروری تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ انجام کے اعتبار سے ان دونوں آراء میں کوئی فرق نہیں۔ قولِ ثقیل سے مراد قرآن کریم لیا جائے تو تب بھی قرآن کریم کے ذریعے اندازِ عام اور اقامتِ دین ہی ہدف رہتا ہے۔ اور اگر اس سے مراد اندازِعام لیا جائے تو ظاہر ہے اس کا ذریعہ قرآن کریم ہی تو ہے۔ صرف الفاظ کا فرق ہے، حقیقت کا نہیں۔
Ayah 73:6اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ ھِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلاَّ ۔ (المزمل : 6)
(بیشک رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے نہایت خوب ہے۔ )
نَاشِئَۃَ الَّیْلِ کا مفہوم اور اس کی حکمت
نَاشِئَۃٌ … عَاقِبَۃٌ اور عَافِیَۃٌ کے وزن پر مصدر یا حاصل مصدر ہے۔ یہ نشأ سے ہے۔ اس کے معنی اٹھنے کے ہیں۔ نَاشِئَۃَ الَّیْلِکے معنی رات کی نماز کے لیے اٹھنا ہے جسے قیام اللیل یا شب خیزی کہا جاسکتا ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ تہجد کا وقت درحقیقت شب میں سو کر اٹھنے کے بعد یعنی پچھلے پہر کا ہے۔ اکثر آئمہ لغت و تفسیر کے نزدیکنَاشِئَۃَ الَّیْلِرات کے قیام کو کہتے ہیں، چاہے وہ سونے کے بعد اور عشاء کی نماز کے بعد رات کے کسی حصے میں بھی ہو۔ لیکن آنحضرت ﷺ اور جمہور صحابہ اور تابعین اور صلحائے امت کے عمل نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ شب کی اس نماز کو قیام الیل یا نماز تہجد کہا جاتا ہے جو رات کے نصف آخر میں پڑھی جائیچا ہے اس میں وقت کم و بیش ہوجائے۔ اس وقت چونکہ نیند بڑی گہری ہوتی ہے اس لیے اس وقت نیند سے اٹھنا ایک مشکل کام ہے، لیکن پروردگار نے عبادات کے ذریعے انسان کو اپنی عادات اور طبیعت کے تقاضوں پر قابو پانے کی تلقین کی ہے۔ روزہ، غذا اور آرام و راحت کی طلب اور جنسی ضرورت پر قابو پانے کا نام ہے۔ یہی تین انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں لیکن اگر حد سے بڑھ جائیں تو انسانی اقدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ان تینوں خصائل کو اپنی حدود میں رکھنا اور ان پر قابو پانا روزے کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے۔ یہی حال باقی عبادات کا بھی ہے۔ نماز تہجد بھی نیند کی حد سے بڑھی ہوئی رغبت اور محبت اور نفس کی خواہش پر قابو پانے کا ایک ذریعہ ہے۔ چناچہ جو شخص خواہشِ نفس، جسم کے تقاضوں اور عادات کی ناہمواری پر قابو پا لیتا ہے، یوں سمجھئے کہ وہ ایک ایسا شہ سوار ہے جسے اپنے گھوڑے پر قابو حاصل ہے۔ وہ جہاں چاہتا ہے اپنی مرضی سے اس سے کام لیتا ہے۔ اس کا جسم، اس کا نفس، اس کی صلاحیتیں اور خواہشیں اس کا مرکب ہیں اور یہ ان سب کا راکب ہے۔ اگر یہ ان پر قابو پا لیتا ہے تو پھر اس کے لیے زندگی کے مقاصد کا حصول آسان ہوجاتا ہے۔ اور وہزندگی اس طرح گزارتا ہے جیسے شہ سوار اپنے گھوڑے سے کام لیتا ہے۔ لیکن اگر یہ ان پر قابو پانے کی بجائے خود ان کے پیچھے چلنے لگتا ہے تو یہ ایسے ہے جیسے کوئی سوار اپنے گھوڑے کے قابو آجائے۔ ایسا گھوڑا اپنے سوار کو کسی بھی کھائی میں گرا کر مارتا ہے۔ ایسے ہی مقاصد کے لیے نماز تہجد کے ذریعے نفس پر قابو پانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جو کچھ عرض کیا گیا یہ اس صورت میں ہے کہ ” وَطْأٌ“ کو مشہور قرأت کے مطابقضَرْبٌکے وزن پر پڑھا جائے۔ لیکن ایک اور قرأت بھی ہے جس میں اسیوطَائٌ بھی پڑھا گیا ہے۔ وائو کے کسرے اور الف ممدودہ کے ساتھ کتاب کے وزن پر۔ اس صورت میں یہ مواطاۃ بمعنی موافقت کا مصدر ہے۔ آئمہ تفسیر میں سے حضرت ابن عباس ( رض) اور ابن زید ( رض) سے یہی معنی منقول ہے۔ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ رات کے وقت نماز کے لیے اٹھنا، قلب، نگاہ، کان اور زبان سب میں باہمی موافقت پیدا کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ رات کے ان اوقات میں بندے اور خدا کے درمیان چونکہ کوئی دوسرا حائل نہیں ہوتا اس حالت میں آدمی جو کچھ زبان سے کہتا ہے وہ دل کی آواز ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے دل اور زبان میں ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ زبان اس وقت جو کچھ کہتی ہے وہی کان سنتے ہیں۔ تو آدمی پوری طرح ایک ہی کیفیت کی گرفت میں ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اسے ظاہر و باطن میں مطابقت پیدا کرنے سے تعبیر کیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں، وہی ہے جو پہلے عرض کیا گیا ہے۔
وَاَقْوَمُ قِیْلاً کا مفہوم
وَاَقْوَمُ قِیْلاً…اَقْوَمُکے معنی زیادہ مستقیم اور درست اور زیادہ ثابت کے ہیں۔ اور قِیْلاً قول کے معنی میں ہے۔ مراد یہ ہے کہ رات کے وقت تلاوتِ قرآن زیادہ درست جمائو اور ثبات کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ مختلف قسم کی آوازوں اور شور و شغب سے دل و دماغ منتشر نہیں ہوتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ شب خیزی، یعنی صبح کے وقت اٹھنا جبکہ نیند کی گرفت اور طبیعت کے اضمحلال کی وجہ سے اٹھنا آسان نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کوئی شخص اگر اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی کتاب سمجھنے کے لیے اس سے زیادہ بابرکت وقت اور کوئی نہیں ہے۔ ایسے شخص کو اپنے نفس کی خواہشوں پر غلبہ پانے کی ایسی قوت حاصل ہوجاتی ہے جو اس کے لیے اصلاحِ نفس کی راہ میں فتوحات کے بیشمار دروازے کھول دیتی ہے۔ جب آدمی اس وقت بستر سے اٹھ کر وضو کرکے نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے قدم خوب جمتے ہیں، دل و دماغ میں ہم آہنگی اور یکسانی پیدا ہوتی ہے، نہایت دلجمعی کی کیفیت ہوتی ہے، ظاہر اور باطن میں سازگاری پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسی کیفیات کی موجودگی میں جو نماز پڑھی جائے گی اور جو دعا کی جائے گی اس کے اثر اور تأثر کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ اہل اللہ انہی کیفیات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیابی کی کلید سمجھتے ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
عطار ہو رومی ہو، رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا، بےآہ سحر گاہی
Ayah 73:7اِنَّ لَـکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلاً ۔ (المزمل : 7)
(بیشک آپ کے لیے دن کے وقت بہت مصروفیات ہیں۔ )
سَبْح…کے لفظی معنی جاری ہونے اور گھومنے پھرنے کے ہیں۔ اسی سے پانی میں تیرنے کو بھی سَبْح اور سیاحت کہا جاتا ہے۔ کیونکہ پانی میں بغیر کسی رکاوٹ کے گھومنا پھرنا تیراکی کے ساتھ آسان ہے۔
قِیَامُ الَّـیْل کی ایک اور حکمت
اس آیت کریمہ میں قیام اللیل کی تیسری حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے کہ رات کو نصف شب یا اس سے کچھ کم یا زیادہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں کھڑے رہنے اور عبادت کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اور رات کو بطور خاص اس کے لیے مقرر فرمایا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دن میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو بہت سے مشاغل سے واسطہ رہتا ہے جس میں گھریلو مصروفیات بھی ہیں، معاشرتی تعلقات بھی ہیں، کاروبار کی مشغولیت بھی ہے اور اس سے بڑھ کر تبلیغ و دعوت کی جانگسل ذمہ داری کی ادائیگی ہے۔ ان مصروفیات میں عبادت اور قیام کے لیے طویل وقت نکالنا ممکن نہیں جبکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق، اس کی مدد، دل کی آسودگی، اطمینان اور قوت کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری ضروری ہے۔ جس طرح آدمی تھکاوٹ کے بعد آرام کرنا چاہتا ہے، بھوک کے بعد غذا کی ضرورت محسوس کرتا ہے، دل اداس ہو تو کسی دوست کو ڈھونڈتا ہے، پریشانی ہو تو مددگار کو تلاش کرتا ہے۔ اسی طرح ایک مومن ہر طرح کی احتیاجات اور پریشانیوں میں صرف اپنے اللہ کو یاد کرتا ہے، اسی کی یاد سے اپنی بیٹری کو چارج کرتا ہے، وہیں سے اسے اعتماد اور توکل کی دولت ملتی ہے۔ چناچہ ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دن کی بجائے رات کے قیام کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ دن کی مصروفیات میں اس کے لیے گنجائش نہیں ہوسکتی تھی۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ رات کو قیام اور عبادت کا حکم صرف اس لیے نہیں دیا گیا کہ دن میں آدمی کے سامنے بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں اور رات فرصت کا وقت ہے بلکہ قرآن کریم کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے جو عظیم مقصد درپیش ہے رات کے نصف آخر کا وقت اپنے مزاج و کیفیات کے اعتبار سے اس کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے ورنہ امکان تو اس بات کا بھی ہے کہ رات کو بھی مصروفیات پیدا ہوجائیں جیسا کہ آج کے دور میں صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے آیت کے اسلوب کے حوالے سے بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہسبح کو مصروفیت کے معنوں میں لینا کچھ زیادہ مناسب معلوم نہیں ہوتا، اگرچہ الفاظ میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ اس لیے ان کے خیال میں آیت میں سبحکا معنی مصروفیت کی بجائے تسبیح کرنا زیادہ موزوں ہوگا۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ رات اگرچہ قیام اور عبادت کے لیے موزوں ترین ہے لیکن دن کو بھی تسبیح کے بہت مواقع موجود ہیں۔ اس لیے دن کو بھی برابر اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں لگے رہنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے اور سوتے جاگتے اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام رکھتے تھے۔ ہماری ناقص رائے یہ ہے کہ آیت کریمہ کے الفاظ میں دونوں تاویلات کے لیے گنجائش موجود ہے، لیکن رات کا اہتمام جن مقاصد و حکم کے تحت کیا گیا ہے، دن کے اوقات میں یقینا ان کا بروئے کار آنا ممکن نہ تھا، اور اس کی وجہ دن کی سرگرمیاں اور ہر شخص کی مصروفیات ہیں۔ جہاں تک تسبیحات کا تعلق ہے بلاشبہ آنحضرت ﷺ کبھی بھی اس سے غافل نہیں ہوتے تھے اور اگلی آیات میں اس کا ذکر بھی کیا جارہا ہے۔
Ayah 73:8وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً ۔ (المزمل : 8)
(اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو۔ )
ذِکْرُاللّٰہَ اور تَبَتُّلْکا حکم اور مفہوم
اس آیت کریمہ میں دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ پہلی بات یہ کہ آپ ﷺ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مداومت ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کا تصور ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ ﷺ بالکل ذکر نہ کرتے۔ اس میں صرف یہ تاکید کی گئی ہے کہ نیند اور عبادت کی مصروفیات کے علاوہ کوئی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے فارغ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ جس طرح انسان کی مادی زندگی کے لیے سانس ضروری ہے، اسی طرح اس کی روحانی زندگی کے لیے اللہ تعالیٰ کی یاد ضروری ہے۔ سانس رک جائے تو جسم مردہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے غفلت ہوجائے تو روح پژ مردہ ہوجاتی ہے۔
ذکر اللہ سے مراد عام ہے، خواہ زبان سے ہو یا قلب سے۔ یا اعضاء وجوارح کو اللہ تعالیٰ کے احکام میں مشغول رکھنے سے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کی روایت ہیکانَ یَذْکُرُاللّٰہَ عَلٰی کُلِّ حَیْنٍ ” رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے تھے۔ “ حالانکہ بیت الخلاء وغیرہ میں آپ ﷺ کا ذکر لسانی نہ کرنا روایاتِ حدیث سے ثابت ہے۔ اس لیے یہ کہنا پڑے گا کہ یہاں ذکر سے مراد ذکرقلبی ہے جو ہر وقت جاری رہ سکتا ہے۔ اسی طرح آیات آفاق وانفس میں تدبر و تفکر بھی ذکر ہی میں شامل ہے۔ اور یہ ایک ایسی عبادت اور ایک ایسی یاد ہے جو نہ دن کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ رات کے ساتھ۔ بلکہ ہر وقت جاری رہ سکتی ہے۔ اس آیت میں جو دوسرا حکم دیا گیا ہے وہتبتل ہے۔ تبتل اور تبتیل کے معنی انقطاع الی اللہ کے ہیں۔ یعنی خلق سے کٹ کر رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہوجانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگوں کی حق بیزاری اور دلآزاری سے دل آزردہ ہو تو ان ناقدروں سے کٹ کر اپنے رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہوجایا کریں۔ اس کی بارگاہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ جب انسان اپنے دل آپ ﷺ کی طرف سے بند کرلیں تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ تو آپ ﷺ بجائے ادھر دیکھنے کے اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں داخل ہوجائیں۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ انسانوں کے دلوں کے فیصلے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ آپ ﷺ جب اس سے مدد چاہیں گے تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے مخالفین کو ہدایت کی طرف متوجہ کردے۔
حضرت ابن زید نے فرمایا کہتبتل کے معنی یہ ہیں کہ تمام دنیا و مافیھاکو چھوڑیں اور صرف اس چیز کی طرف متوجہ رہیں جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ (مظہری) لیکن جس تبتل اور مخلوق سے قطع تعلق کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے وہ اس ترک تعلقات اور ترک دنیا سے بالکل مختلف ہے جس کو قرآن پاک میں رہبانیت کہا گیا ہے اور اس کی مذمت کی طرف اشارہ کیا ہے ورہبانیۃ ابتدعوھا اور جس کے متعلق حدیث میں ہے لارہبانیۃ فی الاسلام۔ کیونکہ رہبانیت اصطلاح شرح میں اس ترک دنیا اور ترک تعلقات کا نام ہے جس میں تمام لذائذ اور حلال طیب اشیاء کو بہ نیت عبادت چھوڑ دیا جائے۔ یعنی یہ اعتقاد ہو کہ ان حلال چیزوں کو چھوڑے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہاں جستَبَتَّلْاور ترک تعلق کا حکم ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعلق پر کسی دوسری مخلوق کا تعلق غالب نہ آنے پائے، خواہ اعتقاداً ہو یا عملاً ۔ اور ایسا ترک تعلق تمام دنیوی معاملات ازدواج و نکاح اور تعلقاتِ رشتہ داری وغیرہ کے منافی نہیں بلکہ ان سب کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔
Ayah 73:9رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ فَا تَّخِذْہُ وَکِیْلاً ۔
(وہ مشرق اور مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز بنائو۔ 9)
وَکِیْل کا مفہوم
وکیل لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس پر اعتماد کرکے کوئی شخص اپنا معاملہ اس کے سپرد کردے۔ تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرنے پر آپ ﷺ کیخلاف جو مخالفتوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور جو مشکلات آپ ﷺ کے راستے میں حائل کردی گئی ہیں ان پر کوئی پریشانی آپ ﷺ کو لاحق نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ آپ ﷺ کا رب وہ ہے جو مشرق و مغرب یعنی ساری کائنات کا مالک ہے، جس کے سوا خدائی کے اختیارات کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ آپ ﷺ اپنا معاملہ اس کے حوالے کردیجیے۔ اسی کو اصطلاح میں توکل کہتے ہیں۔ اس سورة میں نبی کریم ﷺ کو جو احکام دیئے گئے ہیں، یہ اس سلسلے کا پانچواں حکم ہے۔ 1 رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے خلوت، 2 قرآن کریم میں اشتغال، 3 ذکر اللہ پر دوام، 4 ماسوی اللہ سے اعراض و ترک تعلق، 5 اللہ تعالیٰ پر توکل۔ توکل کا حکم دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی شان بیان فرمائی گئی کہ وہ کائنات کا مالک اور رب ہے، ساری جہانوں کو پالنے والا ہے اور سب کی ضرورتوں کا متکفل ہے۔ اس لیے اس کے سوا کون ذات ہے جس پر توکل اور بھروسہ کیا جاسکے۔ تو جس نے اس پر بھروسہ کرلیا، اس کے لیے وہ کافی ہوجاتا ہے۔
توکل کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ کسب معاش اور مشکلات دور کرنے کے جو اسباب و آلات اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائے ہیں ان کو معطل کرکے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے بیٹھ جایا جائے۔ بلکہ توکل کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے مقاصد کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوت و توانائی اور جو اسباب میسر ہیں ان سب کو بروئے کار لایا جائے۔ مگر اسبابِ مادیہ میں غلو اور انہماک بڑھنے نہ پائے۔ اعمالِ اختیاریہ کو عمل میں لانے کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا جائے اور بھروسہ تمام تر اسی پر ہو۔ شاعر نے ٹھیک کہا :
توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر اس خنجر کی تیزی کو مقدر کے حوالے کر
Ayah 73:10وَاصْبِرْعَلٰی مَایَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلاً ۔ (المزمل : 10)
(اور لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور ان کو خوبصورتی سے نظرانداز کردیجیے۔ )
مخالفین کی یا وہ گوئی پر صبرجمیل کا حکم
اس سورة میں آنحضرت ﷺ کو جو احکام دیئے گئے ہیں یہ ان میں سے چھٹا حکم ہے۔ یعنی لوگوں کی ایذائوں اور گالیوں پر صبرجمیل۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوتے ہیں وہ ان کی ہدایت کے لیے نہایت حریص اور ان کی بہتری کے لیے نہایت شفیق ہوتے ہیں۔ کوئی باپ اپنے بچوں کے لیے شاید اس قدر ہمدرد و غمگسار نہ ہو جتنا پیغمبر ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے، لیکن لوگ ان کی تمام تر خیرخواہیوں اور ہمدردیوں کے جواب میں وہ کچھ کر گزرتے ہیں جو ایک شریف آدمی شاید اپنے دشمن کے ساتھ کرنا بھی پسند نہ کرے۔ ان کی زبانیں زہر اگلنے لگتی ہیں، ان کی نگاہوں سے نفرت کے شرارے پھوٹتے ہیں۔ زندگی کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو ان لوگوں کے ہاتھوں سے ان محسنوں کو نہیں پہنچایا جاتا۔ کسی نے ٹھیک کہا :
زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے
وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے
چناچہ ایسی صورتحال میں نبی کریم ﷺ کو ہدایت کی جارہی ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں آپ ﷺ ان پر صبر کیجیے، اپنے مؤقف پر ڈٹے رہئے۔ ان کی باتوں کا برا ماننے کی بجائے انھیں معذور سمجھ کر ان کے لیے دعا کیجیے۔ جس طرح ایک مریض کڑوی دوا پلانے والے تیماردار پر برہمی کا اظہار کرتا ہے لیکن تیماردار اس کا برا نہیں مانتا۔ وہ جانتا ہے کہ میں اس کی بھلائی کے لیے اسے کڑوی دوا پلا رہا ہوں۔ رہا اس کا رویہ تو ایک بیمار سے بہتر رویئے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
بعض دفعہ مخالفین کا عناد اور بغض اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے لیے اپنی تبلیغی مساعی کو انجام دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کی بدزبانی اور ان کی ایذا رسانی ناگواری کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں نصیحت اور خیرخواہی کرنے والے کا حوصلہ بھی جواب دینے لگتا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ انھیں چھوڑ دیجیے، لیکن ایک قید کے ساتھ۔ ھَجَرکے لفظی معنی کسی چیز کو رنج و ملال اور بیزاری کے ساتھ چھوڑنے کے آتے ہیں۔ لیکن یہاں قید یہ لگائی گئی کہ آپ ﷺ انھیں بیزاری کے ساتھ نہ چھوڑیں، ان کی بدتمیزیوں اور بےہودگیوں کا جواب نہ دیں۔ آپ ﷺ کی طرف سے کسی غم اور غصے اور جھنجھلاہٹ کا اظہار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایسا چھوڑنا عام دنیاداروں کا شیوہ ہے۔ آپ ﷺ تو ان لوگوں کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ یہ سب کچھ کسی ذاتی منفعت کے لیے نہیں کررہے ہیں، آپ ﷺ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے۔ آپ ﷺ کا چھوڑنا ھجر جمیل کی تصویر ہو۔ جس طرح ایک شریف آدمی کسی بازاری آدمی کی گالی سن کر اسے نظرانداز کردیتا ہے اور دل پر میل تک نہیں آنے دیتا، آپ ﷺ کا طرز عمل اس سے بھی بہتر ہونا چاہیے۔ آپ ﷺ انہیں اس طرح چھوڑیئے جس طرح ایک شریف باپ اپنے نالائق بیٹے کے رویئے پر خاموشی اور علیحدگی اختیار کرلیتا ہے۔ زبان خاموش رہتی ہے لیکن دل سے بیٹے کے لیے دعائیں اٹھتی رہتی ہیں۔ آنحضرت ﷺ ایسے ہی حُسنِ اخلاق کے پیکر تھے۔ مخالفین کی مخالفت کا مقابلہ آپ ﷺ نے اسی ھجرجمیل سے کیا۔ اور اسی حُسنِ اخلاق نے بہت سے لوگوں کو اپنے رویئے پر غور و فکر کرنے پر آمادہ کردیا۔
Ayah 73:11وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُوْلِی النَّعْمَۃِ وَمَھِّلْہُمْ قَلِیْلاً ۔ (المزمل : 11)
(اور ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں کا معاملہ آپ ﷺ مجھ پر چھوڑ دیجیے اور ان کو کچھ دیر اور مہلت دیجیے۔ )
اُوْلِی النَّعْمَۃِ…نَعمت کے معنیتنعم یعنی عیش و عشرت اور مال و اولاد کی بہتات کے ہیں۔ اسی کو رفاہیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
تکذیب کرنے والوں کو سخت دھمکی
اس آیت کریمہ میں مخالفین کے لیے سخت دھمکی ہے کہ تم لوگ ہمارے رسول کی مخالفت میں حد سے بڑھتے جارہے ہو، لیکن تمہیں اندازہ نہیں کہ تمہارا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے رسول سے نہیں بلکہ ہم سے ہے۔ اور جب ہماری پکڑ آتی ہے تو پھر نہ افراد بچتے ہیں، نہ حکومتیں باقی رہتی ہیں۔ سوچ لو، تمہارا انجام کس قدر ہولناک ہوگا۔ ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو ایک آگاہی بھی ہے کہ مخالفین کی ایذارسانیاں اگرچہ انتہا کو چھونے لگی ہیں، لیکن آپ ﷺ اطمینان رکھیں اب ان کی مہلت ختم ہونے والی ہے۔ ابھی کچھ وقت لگے گا اس لیے آپ ﷺ ابھی ان کو کچھ اور مہلت دے دیجیے۔ بہت جلد ان کا معاملہ انجام کو پہنچنے والا ہے۔
اور تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی مخالفت کبھی بھی عوام اور چھوٹے لوگوں کی طرف سے نہیں ہوئی کیونکہ ان کی قیادت ہمیشہ طبقہ امراء کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں دولت و رفاہیت اس لیے دیتا ہے تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں لیکن وہی دولت ان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ ایک طرف تو ان مالداروں کو توجہ دلائی جارہی ہے اور ان کی ناشکری پر ملامت کی جارہی ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو یہ تأثر دیا جارہا ہے کہ یہی دولت و رفاہیت عنقریب ان کے لیے تباہی کا باعث بننے والی ہے تو تم ان کی ہدایت کے لیے دعا کرو، لیکن ان کی دولت کو رشک کی نگاہ سے کبھی نہ دیکھنا۔
Ayahs 73:12–14اِنَّ لَدَیْنَـآ اَنْکَالاً وَّجَحِیْمًا۔ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّعَذَابًا اَلِیْمًا۔ یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا مَّھِیْلاً ۔ (المزمل : 12 تا 14)
(بیشک ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور نہایت دردناک عذاب۔ جس دن زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑ بھربھرے ٹیلے بن جائیں گے۔ )
اَنْکَالاً…نِکلکی جمع ہے۔ اس کے معنی بیڑی کے بھی ہیں اور آہنی لگام کے بھی۔ بعض دفعہ قید و بند پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
ذَا غُصَّۃٍ…غُصَّۃٍ کا لفظی معنی گلے میں لگ جانے والے پھندے کے ہیں کہ کوئی لقمہ گلے میں اس طرح پھنس جائے کہ نہ نگلا جاسکے اور نہ باہر اگلا جاسکے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہماری بخشی ہوئی دولت و رفاہیت سے ان کے دماغ ایسے خراب ہوئے کہ رسول کی تکذیب پر تل گئے اور اس کی دعوت و تبلیغ کو اپنے غرور وتکبر کے لیے چیلنج سمجھنے لگے۔ لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ دنیا ہمیشہ نہیں رہے گی، قیامت کا دن آکے رہے گا۔ اس روز ہمارے پاس ان کے لیے بیڑیاں ہوں گی اور بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔ یعنی بیڑیوں اور زنجیروں کے اندر جکڑ کر اس بھڑکتی ہوئی آگ کے حوالے کردیئے جائیں گے۔
دنیا میں ہم نے انھیں کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا، کیسے کیسے تر نوالے انھیں عطا کیے اور کیسے رسیلے پھل ان کے کام و دہن کی لذت کے لیے پیدا کیے گئے۔ لیکن انھوں نے کسی نعمت کا حق نہ پہچانا تو آخرت میں ان کو ان تر نوالوں کے بدلے میں وہ کھانا دیا جائے گا جو ان کے حلق میں پھنس کر رہ جائے گا۔ اور آج جس عیش میں زندگی بسر کررہے ہیں اس کی جگہ انھیں دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس دن ہوگا جس دن یہ زمین اور پہاڑ سب لرز اٹھیں گے۔ آج ان کے امراء اپنے محلات کو ناقابلِ تسخیر قلعے سمجھتے ہیں، لیکن جو دن ان کا منتظر ہے اس دن ان کے ایوان ومحل تو درکنار پہاڑوں کا بھی یہ حال ہوگا کہ وہ بھربھرے ریت کے تودوں کی مانند ہوجائیں گے۔ پہاڑ دیکھنے کو کس قدر مضبوط، ٹھوس اور محکم وجود رکھتے ہیں لیکن قیامت کے دن وہ باریک بھربھری ریت کے ٹیلے بن جائیں گے۔ پھر جو زلزلہ زمین کو ہلا رہا ہوگا اس کی وجہ سے یہ ریت بکھر جائے گی اور ساری زمین ایک چٹیل میدان بن جائے گی۔
Ayahs 73:15–16اِنَّـآ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلاً لا 5 شَاہِدًا عَلَیْکُمْ کَمَـآ اَرْسَلْنَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً ۔ فَعَصٰی فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰـہُ اَخْذًا وَّبِیْلاً ۔ (المزمل : 15، 16)
(ہم نے تم لوگوں کی طرف ایک رسول بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی، تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔ )
قریش کو براہ راست تنبیہ
اب قریش مکہ کو براہ راست پروردگار خطاب فرما رہے ہیں کہ تم نے آنحضرت ﷺ کی بعثت کو قرارواقعی مقام نہ دینے کی وجہ سے ایک مذاق بنا لیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کسی رسول کا کسی قوم کی طرف مبعوث ہونا کوئی کھیل نہیں بلکہ اس قوم کے لیے اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ کا احسان ہے تو دوسری طرف اس قوم کے لیے بہت بڑی ابتلاء بھی ہے۔ اب ان کی حیات وبقاء اس فیصلے پر آ ٹھہرتی ہے کہ وہ مبعوث ہونے والے رسول کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا۔ ہم نے ہر دور میں انسانوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے ہیں اور پھر اس میں قوموں کی تخصیص بھی نہیں بلکہ انسانوں کی ہر قابل ذکر آبادی میں اللہ تعالیٰ کے رسول تشریف لاتے رہے۔ پھر ان کی تبلیغ و دعوت کا ہدف جس طرح عام انسانی آبادی رہی ہے اسی طرح بڑے بڑے حکمران جو خدائی کے دعویدار تھے ان کی طرف بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی بعثت ہوتی رہی۔ چناچہ جس طرح اے قریش کے لوگو ! تمہاری طرف ہمارے رسول آئے ہیں اسی طرح ہم نے فرعون کی ہدایت کے لیے بھی اپنے ایک عظیم رسول کو بھیجا تھا۔
رسول کی حیثیت و عظمت
دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ کہی گئی ہے کہ تمہیں رسول کی حیثیت اور اس کی عظمت کا ادراک ہونا چاہیے۔ کسی رسول کا کسی قوم کی طرف مبعوث ہونا اس طرح نہیں کہ وہ کوئی واعظ یا مبلغ یا سائل بن کر کسی بستی میں اترا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس کی بات سن لی جائے گی تو وہ شکرگزار ہوگا ورنہ وہ شب بسری کے بعد اگلی آبادی کا رخ کرے گا۔ پیغمبر جس قوم میں بھیجا جاتا ہے اس کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے گواہ کی ہوتی ہے۔ وہ حق کی گواہی دینے کے لیے آتا ہے، اسی کے ذریعے حق و باطل کا فیصلہ ہوتا ہے اور جب اس شاہد کی گواہی کو قبول نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی تکذیب کردی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس تکذیب کے جرم میں اپنا عذاب نازل کردیتا ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب فرعون نے کی اور ان کی ہر بات کا مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے انتہائی سخت پکڑا۔ اس کا سارا شاہی جاہ و جلال، اس کا کروفر، اس کی بیشمار فوجیں اور اس کے بیشمار وسائل، اس کے ربوبیت کے دعوے سب دھرے رہ گئے۔ بحرقلزم کی چند موجیں اٹھیں اور وہ معافیاں ہی مانگتا رہ گیا لیکن موجوں کے تھپڑوں نے اس کا بند بند توڑ ڈالا اور وہ موت کی نذر ہوگیا۔ اور پھر قیامت کے دن موسیٰ (علیہ السلام) کی گواہی پر اسے جہنم رسید کیا جائے گا۔ اور عالم برخ میں اللہ تعالیٰ کی سخت پکڑ کا عالم یہ ہے کہ ہر روز اس پر جہنم کا عذاب پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح تمہاری طرف ہم نے سیدالرسل کو بھیجا ہے۔ تم نے اگر قوم فرعون کی طرح اپنی سرکشی کو جاری رکھا اور رسول کی حقیقی قدرومنزلت کو پہچاننے سے انکار کردیا تو تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو قوم فرعون کا ہوا۔
شاہد کا مفہوم
رسول کے شاہد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے قول و عمل سے لوگوں کے سامنے حق کی شہادت دیتا ہے۔ حق کی بالادستی اور اس کی حکمرانی کے لیے ایک ایک ادارے کو وجود دیتا اور انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر حق کی حاکمیت کو قائم کردیتا ہے اور آخرت میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت برپا ہوگی تو اس وقت بھی وہ اپنی امت بعثت اور امت اجابت کے سامنے حق کی گواہی دے گا کہ میں نے ان تک اللہ تعالیٰ کا دین پہنچا یا تھا اور انھوں نے میری دعوت کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اور پھر اس کی گواہی پر لوگوں کے ساتھ جزاء و سزا کا معاملہ ہوگا۔
Ayahs 73:17–18فَکَیْفَ تَـتَّـقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا نِ ۔ السَّمَـآئُ مُنْفَطِرٌ م بِہٖط کَانَ وَعْدُہٗ مَفْعُوْلاً ۔ (المزمل : 17، 18)
(تو اگر تم نے ماننے سے انکار کیا تو اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ آسمان اس سے پھٹا پڑ رہا ہے، اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے۔ )
قیامت کی ہولناکی سے تنبیہ
گزشتہ آیتوں میں فرعون کا حوالہ دے کر قریش کو متنبہ کیا ہے کہ جس طرح دنیا ہی میں فرعون اپنی سرکشی کی پاداش میں پکڑا گیا اور بدترین عذاب کا شکار ہوا، تمہیں بھی لرزاں اور ترساں رہنا چاہیے اس تصور سے کہ تمہارا انجام بھی فرعون جیسا نہ ہو۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ فرض کرو کہ تم پر دنیا میں کوئی عذاب نہیں بھیجا جاتا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم قیامت کے عذاب سے بھی بچ جاؤ گے۔ یہاں اگر گرفت نہیں ہوتی تو آخرت میں گرفت یقینی ہے اور آخرت کی گرفت اور آخرت کا عذاب اللہ تعالیٰ کی پناہ، اس کا تصور بھی دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ اسی حوالے سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم نے انکار کا رویہ جاری رکھا اور فرعون کی طرح نافرمان بنے رہے تو قیامت کے ہول اور اس کی وحشت سے تم کیسے بچ سکو گے جبکہ اس کی شدت اور ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ اس کے خوف اور ہیبت کی وجہ سے بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔ کسی ہول کی شدت اور کسی سزا کی بےپناہی جب ایسی ناقابلِ برداشت ہوجاتی ہے کہ آدمی حواس کھو بیٹھتا ہے تو بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یک لخت سر کے بال سفید ہوجاتے ہیں یا جھڑ جاتے ہیں اور قویٰ مضمحل ہو کر جوانی میں بڑھاپے کی تصویر بن جاتے ہیں۔ ایک بہت معتبر راوی نے مجھے افغان مجاہدین کے حوالے سے بتایا کہ وہاں ایک شخص کو جو جہادی خدمات میں پیش پیش تھا بالکل سفید بالوں کے ساتھ میں نے دیکھا عمر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان صاحب کی عمر صرف چھبیس ستائیس سال ہے۔ تو ان کے دوستوں نے اس کے بالوں کی سفیدی کی وجہ یہ بتائی کہ اس جہاد میں اس کا پورا خاندان ایک ہی دفعہ گولہ پھٹنے سے شہید ہوگیا۔ ان کی لاشوں کو دیکھ کر اس پر ایک ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ یک لخت بال سفید ہوگئے۔ دیکھنے والا اسے بوڑھا آدمی سمجھتا تھا لیکن وہ اپنی عمر کے اعتبار سے بھرپور جوان تھا۔ اور جہاں تک آخرت کی ہیبت کا تعلق ہے دنیا میں بڑے سے بڑا حادثہ بھی اس کی مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
اگر اسے امرواقعی کی تعبیر کی بجائے محض ایک محاورے کا استعمال کہا جائے جب بھی اس سے مراد ہول کی شدت اور بےپناہی ہے۔ ہماری زبان میں بھی بولتے ہیں کہ فلاں صدمے نے مجھے بوڑھا کردیا، یعنی وہ صدمہ بہت شدید تھا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہیشَیَّـبَتْنِیْ ہُوْدٌوَاَخَوَاتُھَا ” مجھے سورة ہود اور اس کی ہم جنس سورتوں نے بوڑھا کردیا۔ “
دوسری آیت میں فرمایا کہ قیامت کے دن کی ہولناکی کا عالم یہ ہے کہ اس کی وجہ سے اس دن آسمان پھٹ جائے گا۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تم قیامت کو کوئی انہونی بات خیال نہ کرو، کوئی دیکھنے والی نگاہ ہو تو وہ دیکھ سکتی ہے کہ اب بھی آسمان اس کے بوجھ سے پھٹا جارہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پھٹ پڑے اور قیامت اس کے اندر سے نمودار ہوجائے اور تم اسی غفلت میں مارے جاؤ۔ کیونکہ قیامت کا آنا جس طرح یقینی ہے اسی طرح ناگہانی بھی ہے۔ ارشادِ خداوندی ہیثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالاْرَضِ طلاَ تاَتِیْکُمْ اِلاَّ بَغَتَۃً ” آسمان و زمین دونوں اس کے بوجھ سے بوجھل ہیں۔ وہ تمہارے اوپر اچانک ہی آدھمکے گی۔
Ayah 73:19اِنَّ ھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ ج فَمَنْ شَـآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ (المزمل : 19)
(یہ ایک نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ )
ھٰذِہٖسے اشارہ قرآن کریم کی ان آیات کی طرف ہے جو قریش کو آخرت کی یاددہانی کے لیے سنائی گئیں۔ مقصود تذکیر و تنبیہ کرنا تھا تاکہ ہر سننے والا غفلت سے نکل کر آخرت کی تیاری کی فکر کرے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیج کر حجت تمام کردی۔ اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرکے اس کی رحمت و رضوان کا مستحق بن جائے اور جس کا جی چاہے اپنی گمراہی پر اڑا رہے اور اپنے انجام کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی شخص کون سا راستہ اختیار کرتا ہے اور کس انجام کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ البتہ لوگوں پر آخرت کا راستہ کھولنا اور اس کے لیے رہنمائی مہیا کرنا یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے اور اسی غرض کے لیے وہ اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔