Ayahs 72:1–2قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّـہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَـقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبً ۔ ایَّھْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰ مَنَّا بِہٖ ط وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَـآ اَحَدً ۔ (الجن : 1، 2)
(اے پیغمبر، کہہ دیجیے مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے (قرآن کو) سنا، پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا کہ ہم نے بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے۔ جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں او اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ )
پہلی آیت کریمہ کے پہلے لفظ سے یہ بات واضح ہے کہ جنوں کے جو تأثرات اس سورة میں بیان کیے گئے ہیں وہ نبی کریم ﷺ نے براہ راست جنوں کی زبانی نہیں سنے تھے بلکہ وحی الٰہی کے ذریعے معلوم ہوئے تھے۔ بخاری اور مسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) سے جو روایت بیان کی ہے اس میں صراحت موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کے سامنے قرآن نہیں پڑھا تھا اور نہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا تھا۔ سورة کے تعارف میں ہم اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ آگے چل کر بعض مواقع پر آنحضرت ﷺ نے جنات کو قرآن کریم سنایا اور ان سے ملاقات فرمائی۔
نَفَرٌ کا مفہوم
آیتِ کریمہ میں نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِکے الفاظ آئے۔ نَفَرٌ تین سے دس تک کے عدد کے لیے بولا جاتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن جنات کا یہاں ذکر ہے یہ نو حضرات تھے جو نصیبین کے رہنے والے تھے۔
آیت کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن جنات نے آنحضرت ﷺ سے قرآن کریم سنا وہ نہ صرف عربی زبان جاننے والے تھے بلکہ عربی کے ماہر معلوم ہوتے تھے۔ کیونکہ انھوں نے صرف قرآن کریم کا مفہوم نہیں سمجھا بلکہ اس کلام کی بےمثل بلاغت کو بھی محسوس کیا اور اس کے مضامین کی بلندی کا بھی ادراک کرنے میں کامیاب رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات جن علاقوں میں رہتے ہیں عموماً اس علاقے میں بولی جانے والی زبان سے واقف ہوتے ہیں۔ ممکن ہے زبان دانی کی صلاحیت قدرت نے ان کے اندر غیرمعمولی حد تک رکھی ہو۔
آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے کہ ان جنات کا وہاں سے گزر ہوا۔ آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت اور دل میں اتر جانے والی آواز سنی تو رک گئے۔ قرآن کریم کے معجزانہ صفات کے حامل چند بول کانوں میں پڑے تو اس کے سحر میں ڈوب گئے۔ استماع، غور سے سننے کو کہتے ہیں۔ اب جو غور سے سنا تو انھیں اندازہ ہوا کہ یہ جو کلام پڑھا جارہا ہے یہ تو غیرمعمولی شان کا مالک ہے۔ چناچہ وہ انھیں تأثرات کو لیے ہوئے جب اپنی قوم میں پہنچے تو ان کو دعوت دیتے ہوئے انھوں نے اس قرآن کو قُرْاٰنًا عَجَبًاسے تعبیر کیا۔ عَجَبٌ مصدر ہے۔ اس وجہ سے عجیب کے مقابل میں اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اردو زبان میں یہ لفظ صرف کسی شے کے انوکھے پن کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے۔ لیکن عربی زبان میں صرف اس کا یہی معنی نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز کی دلپذیری اور اثرانگیزی جو حیرت انگیزی کی حد تک پہنچی ہوئی ہو، اس پر بھی بولا جاتا ہے۔ جنات نے اپنی گفتگو میں اس لفظ کو اسی معنی میں استعمال کیا ہے کہ ہم نے جو کلام سنا ہے وہ اپنی اثرانگیزی میں اپنی مثال نہیں رکھتا۔ وہ تو ہمارے دلوں میں اترتا چلا گیا۔ اس کی سب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ وہ رشد کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یہ وحی چیز ہے جسے سورة الاحقاف میں حق اور صراط مستقیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ رُشد ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ یہ ان تمام صداقتوں اور حقیقتوں پر بولا جاتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ انسان اپنے اختیار کے سوئِ استعمال سے اپنی فطرت کو بگاڑ لے تو اور بات ہے ورنہ جب تک اس کی فطرت سلامت ہے وہ ہر صحیح بات، ہر صحیح تصور اور ہر نیکی کی طرف مائل کردینے والی چیز ہے۔ چناچہ قرآن کریم کی تعلیمات وہ عقائد سے متعلق ہوں یا اخلاق سے، وہ احکام پر مشتمل ہوں یا آداب پر، ان میں سے ہر چیز فطرت کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ چناچہ ایسی صفات کا حامل کلام جب ہم نے سنا تو ہم اس پر ایمان لے آئے، کیونکہ فطری دعوت کا انکار فطرت کے بس کی بات نہیں۔ فطری عقائد میں چونکہ سب سے بلند مقام توحید کا ہے اور باقی تمام عقائد و اعمال کا منبع وہی ہے تو فطرت کی تطہیر کے بعد یہ ممکن نہ رہا کہ ہم شرک کی آلودگیوں میں مبتلا رہیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم آئندہ کسی کو بھی اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں کریں گے۔ نہ اس کی ذات میں، نہ صفات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔
آیت کے الفاظ سے منتزع ہونے والے بعض نکات
آیت کے الفاظ میں غور کرنے سے کئی باتوں کی طرف رہنمائی ہوتی ہے۔ ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن جنات نے قرآن کریم سن کر گہرے تأثر کا اظہار کیا وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رب ہونے کے قائل تھے۔ البتہ بعض دوسری قوتوں کو وہ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبوت اور کتب آسمانی کے نزول کا سلسلہ جنات میں کبھی نہیں رہا بلکہ ان میں سے جو جن بھی ایمان لاتے ہیں وہ انسانوں میں آنے والے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ہی ایمان لاتے ہیں۔ چوتھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو رسول انسانوں کی طرف مبعوث ہوتے ہیں ان کی دعوت صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ جنات کے لیے بھی ہوتی ہے۔ سورة الرحمن میں بار بار انسانوں اور جنوں کو خطاب کیا گیا ہے، جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مخاطب انسان اور جن دونوں ہیں۔
لفظِ قرآن کا مفہوم
آیتِ کریمہ میں قرآن کا لفظ آیا ہے، یعنی جنات نے جو کچھ سنا تھا اسے انھوں نے قرآن قرار دیا جبکہ انھوں نے قرآن کریم کی چند آیات سنی تھیں، انھیں ہرگز یہ معلوم نہیں تھا کہ جس کتاب کی یہ آیات ہیں اس کتاب کا نام کیا ہے۔ تو ان کا اسے قرآن قرار دینا ممکن ہے لغوی معنی میں ہو۔ لغت میں ہر پڑھی جانے والی بات کو قرآن کہتے ہیں۔ یا ممکن ہے انھوں نے قرآن کریم کی وہ آیات سنی ہوں جن میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والے کلام خداوندی کو قرآن کریم سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس سے انھیں معلوم ہوا کہ اس کتاب کا نام قرآن کریم ہے۔
قُلْ سے آغاز کا سبب
اس سورة کا آغاز لفظ قُلْ سے ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو پروردگار نے حکم دیا تھا کہ یہ سورة قریش مکہ کو پڑھ کر سنائیں تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ جس کتاب کی ہم شب و روز مخالفت میں لگے ہوئے ہیں اور ہم اس کے سننے کے بھی روادار نہیں، اس کتاب کی عظمت کا حال یہ ہے کہ حُسنِ اتفاق سے جنات کو اسے سننے کا موقع مل گیا تو اس سے گہرے تأثر کے باعث وہ ایمان لے آئے۔ اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی قوم میں داعی کی حیثیت سے پہنچے اور اپنے ایمان کو چھپانے کی بجائے کھلم کھلا اس کا اظہار کیا اور قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ تم اپنا اور ان کا مقابلہ کرکے دیکھو۔ اور اگر تم میں تھوڑی بہت بھی حمیت باقی ہے تو تمہیں غیرت آنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ رسول جو براہ راست تمہاری طرف مبعوث ہوا ہے اور شب و روز تمہاری ہدایت کے لیے کوشاں ہے تم اس کی دعوت کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہو اور جنات نے صرف اس کو سن کر کیسی دولت پائی ہے۔
Ayah 72:3وَّاَنَّـہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لاَ وَلَدًا۔ (الجن : 3)
(اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت ارفع و اعلیٰ ہے، اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔ )
جَدّ … کے معنی عظمت، شان اور رتبہ کے ہیں۔
جنات کی شرک سے توبہ
گزشتہ آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ جن جنات نے قرآن کریم سنا تھا وہ شرک میں مبتلا تھے اور انھوں نے قرآن کریم سننے کے بعد اپنے شرک سے توبہ کا اعلان کیا تھا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرک کی وضاحت ہے جس کا وہ شکار تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی ہے اور اس کی اولاد بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنات عیسائی تھے اور عیسائیوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے بےہودہ خیالات رکھتے تھے۔ اور یا ممکن ہے کہ ان کا کوئی اور مذہب ہو جس میں اللہ تعالیٰ کو بیوی بچوں والاسمجھا جاتا ہو اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ وہ آیات پڑھ رہے تھے جن میں اس عقیدے کی تردید کی گئی تھی، اس سے جنات کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو اس سے بہت بلندو برتر ہے کہ اس کی طرف بیوی بچوں کو منسوب کیا جائے۔ کیونکہ بیوی بچوں کو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو ان کی احتیاج رکھتا ہو، اور جسے اپنے نام اور اپنی نسل کی بقاء کے لیے اولاد کی چاہت ہو اور جو تمنا رکھتا ہو کہ بڑھاپے میں کسی کو میرا سہارا ہونا چاہیے اور جس پر کبھی ایسے مائوف لمحات بھی آتے ہوں جن میں وہ بیوی کی ضرورت محسوس کرتا ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ایسے تمام کمزوریوں سے پاک اور اس کی شان اس سے بہت بلند وبالا ہے۔ تو ایسی بلند وبالا شان والے کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنا نہایت گری ہوئی حرکت اور اپنے سوئِ فہم کی دلیل ہے۔
Ayah 72:4وَّ اَنَّـہٗ کَانَ یَـقُوْلُ سَفِیْھُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا۔ (الجن : 4)
(اور یہ کہ ہمارے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں حق سے بالکل ہٹی ہوئی باتیں کہتے رہے۔ )
سَفِیْہ کا مفہوم
سَفِیْھُنَا … سَفِیْہ، بیوقوف کو کہتے ہیں۔ یہ ایک فرد کے لیے بھی بولا جاسکتا ہے اور ایک گروہ کے لیے بھی۔ اگر اسے ایک فرد کے معنی میں لیا جائے تو مراد ابلیس ہوگا۔ اور اگر ایک گروہ کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ بہت سے احمق اور بےعقل لوگ ہمارے اندر ایسی باتیں کہتے تھے۔ بعض اہل علم نے یہ کہا ہے کہ جنوں نے یہ لفظ اپنے سردار کے لیے استعمال کیا ہے اور یہ تأثر دیا ہے کہ قرآن کریم نے ہماری آنکھوں کھول دی ہیں، ہم اپنے سردار کو بہت سمجھدار سمجھتے تھے، وہ تو پرلے درجے کا بیوقوف آدمی ہے جو اس طرح کی سفاہت پر مبنی باتیں کرتا تھا۔
شَطَطًا … شطط، حق و عدل سے نہایت دور ہٹی ہوئی بات کو کہتے ہیں۔ بعید از عقل اور ظلم و جبر پر بھی بولا جاتا ہے۔
جنات نے اب تک اپنے شرک وکفر میں مبتلا رہنے کا عذر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج تک اس توحید سے دور رہے اور اللہ کریم کی شان میں شرک کی جسارت کرتے رہے، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے ہمیشہ اپنے سردار کی پیروی کی، اسے عقل کل سمجھا۔ اس نے ہمیشہ یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی بھی ہے اور اولاد بھی۔ فلاں فلاں اس کے بیٹے ہیں اور فلاں اور فلاں اس کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ لیکن اب قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے احمق سردار کی یہ باتیں بالکل بےبنیاد تھیں۔ چناچہ ہم نے ان خرافات سے توبہ کرلی۔ اور ہم قوم کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی اس طرح کی باتوں سے توبہ کرے۔
اور اگر سَفِیْہ کو جمع کے معنی میں لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں مشرکانہ خیالات پھیل چکے تھے۔ جو مشرکانہ باتیں عام لوگوں نے اختیار کر رکھی تھیں، وہی ہم نے بھی اختیار کر رکھی تھیں۔ یہ تو اب قرآن کریم کی ہدایت سے معلوم ہوا کہ ہم سب سفاہت میں مبتلا تھے۔ اس لیے اب ہم سب کو اس شرک سے توبہ کر لینی چاہیے۔
Ayah 72:5وَّاَ نَّا ظَنَنَّـآ اَنْ لَّنْ تَـقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا۔ (الجن : 5)
(اور یہ کہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن خدا پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتے۔ )
عذرِسابق کی وضاحت
سابقہ آیت میں جنات نے جو اپنا عذر بیان کیا ہے یہ اس کی وضاحت ہے۔ کہ ہم نے جن و انس کو جب شرک میں مبتلا دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف مشرکانہ تصورات منسوب کرتے سنا۔ تو ہم نے یہ گمان کیا کہ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ انسان اور جن دونوں اور وہ بھی ایک بڑی تعداد میں اللہ تعالیٰ کی طرف ایسے خیالات منسوب کریں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوں۔ یقینا ان کی باتوں میں کوئی سچائی ہوگی، لیکن اب قرآن کریم کی عطا کردہ روشنی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو سراسر جھوٹ کا کاروبار تھا۔ کسی نے غور کرنے کی کوشش نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ کا مقام کتنا ارفع و اعلیٰ ہے اور ہم اس کی طرف کیسی چھوٹی باتوں کو منسوب کررہے ہیں۔
Ayah 72:6وَّاَنَّـہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْھُمْ رَھَقًا۔ (الجن : 6)
(اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ پس انھوں نے جنوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔ )
جنات اپنے مشرکانہ اوہام و خیالات کے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسانوں میں ایسے بھی لوگ تھے جو جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ چناچہ ان کی اس کمزوری سے جنات کے دماغ اور چڑھ گئے اور وہ اپنے آپ کو یہ سمجھنے لگے کہ ہم انسان سے افضل ہیں کیونکہ انسان بھی ہماری پناہ لیتا ہے۔ اس بات نے جنات کی گمراہی میں اور اضافہ کردیا۔ حضرت ابن عباس ( رض) کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں عرب کسی سنسان وادی میں رات گزارتے تھے تو پکار کر کہتے کہ ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتے ہیں۔ تفسیر مظہری میں حضرت رافع بن عمیر ( رض) کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے جس سے اس حقیقت پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ مظہری کے مصنف لکھتے ہیں کہ ہواتف الجن میں سند کے ساتھ حضرت سعید بن جبیر ( رض) سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ رافع بن عمیر ( رض) صحابی نے اپنے اسلام قبول کرنے کا ایک واقعہ یہ بتلایا ہے کہ میں ایک رات ایک ریگستان میں سفر کررہا تھا۔ اچانک مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا۔ میں اپنی اونٹنی سے اترا اور سو گیا۔ اور سونے سے پہلے میں نے اپنی قوم کی عادت کے مطابق یہ الفاظ کہہ لیے انی اعوذ بعظیم ھذالوادی من الجن ” یعنی میں پناہ لیتا ہوں اس جنگل کے جنات کے سردار کی۔ “ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں ایک ہتھیار ہے، اس کو میری ناقہ کے سینہ پر رکھنا چاہتا ہے۔ میں گھبرا کر اٹھا۔ دائیں بائیں دیکھا، کچھ نہ پایا۔ تو میں نے دل میں کہا کہ یہ شیطانی خیال ہے، اصلی خواب نہیں، اور پھر سو گیا۔ تو پھر وہی خواب دیکھا، پھر میں اٹھا اور اپنی ناقہ کے چاروں طرف پھرا اور کچھ نہ پایا۔ مگر ناقہ کو دیکھا وہ کانپ رہی ہے۔ میں پھر جا کر اپنی جگہ سو گیا۔ تو پھر وہی خواب دیکھا۔ میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ میری ناقہ تڑپ رہی ہے اور پھر دیکھا ایک نوجوان ہے جس کے ہاتھ میں حربہ ہے۔ یہ وہی شخص تھا جس کو خواب میں ناقہ پر حملہ کرتے دیکھا تھا اور ساتھ یہ دیکھا کہ ایک بوڑھے آدمی نے اس کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے جو ناقہ پر حملہ کرنے سے اس کو روک رہا ہے۔ اسی عرصہ میں تین گورخر سامنے آگئے تو بوڑھے نے اس نوجوان سے کہا کہ ان تینوں میں سے جس کو تو پسند کرے وہ لے لے اور اس انسان کے ناقہ کو چھوڑ دے۔ وہ جوان ایک گورخر لے کر رخصت ہوگیا۔ پھر اس بوڑھے نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ اے بیوقوف جب تو کسی جنگل میں ٹھہرے اور وہاں کے جنات و شیاطین سے خطرہ ہو تو یہ کہا کر اعوذباللہ رب محمد من ھول ھذا الوادی ” یعنی میں پناہ پکڑتا ہوں رب محمد ﷺ کی، اس جنگل کے خوف اور شر سے۔ “ اور کسی جن سے پناہ نہ مانگا کر کیونکہ وہ زمانہ چلا گیا جب انسان جنوں کی پناہ لیتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہیں۔ اس نے کہا یہ نبی عربی ہیں۔ نہ شرقی نہ غربی۔ پیر کے روز یہ مبعوث ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کہاں رہتے ہیں تو اس نے بتایا کہ وہ یثرب میں رہتے ہیں جو کھجوروں کی بستی ہے۔ میں نے صبح ہوتے ہی مدینہ کا راستہ لیا اور سواری کو تیز چلایا۔ یہاں تک کہ مدینہ طیبہ پہنچ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو میرا سارا واقعہ مجھے سنا دیا، اس سے پہلے کہ میں آپ ﷺ سے کچھ ذکر کروں اور مجھے اسلام کی دعوت دی۔ میں مسلمان ہوگیا۔ سعید ابن جبیر اس واقعہ کو نقل کرکے فرماتے تھے کہ ہمارے نزدیک اسی معاملہ کے متعلق قرآن کریم میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی ہے۔
جنات کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب زمین کے خلیفہ انسان نے الٹا ہم سے ڈرنا شروع کردیا اور خدا کو چھوڑ کر وہ ہم سے پناہ مانگنے لگا تو ہماری قوم کے لوگوں کا دماغ اور زیادہ خراب ہوگیا۔ ان کا کبروغرور اور کفروظلم اور زیادہ بڑھ گیا اور وہ گمراہی میں زیادہ جری ہوگئے۔
Ayah 72:7وَّاَ نَّھُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا۔ (الجن : 7)
(اور یہ کہ انھوں نے بھی تمہاری ہی طرح یہ گمان کیا کہ اللہ ہرگز کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ )
اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا کا مفہوم
اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا … اس فقرے کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا، اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے گا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کے لیے گنجائش موجود ہے، لیکن اگلی آیت کے مضمون کو دیکھتے ہوئے پہلا مفہوم اس کے زیادہ موافق معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات آسمانوں کے قریب جہاں سے انھیں ملاء اعلیٰ میں ہونے والے فیصلوں کی سن گن مل سکتی تھی پہنچ جایا کرتے تھے۔ لیکن اب وہاں فرشتوں کے پہرے لگا دیئے گئے تھے اور شہاب ثاقب کی بارش ہونے لگی تھی۔ اس کا سبب معلوم کرنے کے لیے جب وہ تلاش میں نکلے تو انھیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کے لیے ایک رسول کو مبعوث کیا ہے اور یہ وحی الٰہی کو شیاطین کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے سارے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس مناسبت سے پہلا ترجمہ قابل ترجیح معلوم ہوتا ہے۔ لیکن بعض اہل علم نے یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن کریم کے اولین مخاطبوں میں خواہ بنی اسماعیل ہوں یا بنی اسرائیل، ایک رسول کی بعثت کا انتظار تھا۔ بنی اسرائیل کے علماء یہ بات کہتے تھے کہ نبی آخرالزمان آنے والے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انھیں یہ بھی یقین تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہوں گے۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ بنی اسماعیل میں تشریف لے آئے تو ان کے لیے نسلی تعصب کے باعث آنحضرت ﷺ کی نبوت کو تسلیم کرنا مشکل ہوگیا۔ لیکن اس سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ وہ نبی آخرالزمان کے انتظار میں تھے۔ اسی طرح مدینے کے قحطانی عرب بھی ایک آنے والے کے منتظر تھے اور یہود سے کہا کرتے تھے کہ ہم اس پر ایمان لا کر تمہیں تمہارے مظالم کی سزا دیں گے۔ اور یہود اسی پیغمبر کے حوالے سے انھیں ڈرایا کرتے تھے۔ البتہ یہ بات کہنا مشکل ہے کہ قریش کا نئی بعثت کے بارے میں کیا تصور تھا۔ لیکن صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ نئی بعثت کے منکر نہیں تھے البتہ نبی کے بارے میں ان کے تصورات عجیب و غریب تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہدایت کی ضرورت کے تحت ان میں سے کوئی گروہ بھی نبی کی بعثت کا منتظر نہ تھا۔ اس لیے اگر یہ معنی لیا جائے جو آنے والی آیات سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے تو حقیقت سے دور نہیں۔
جہاں تک دوسرے معنی کا تعلق ہے بلاشبہ قریش جن کی طرف حضور ﷺ بلاواسطہ مبعوث ہوئے ہیں وہ بعث بعدالموت کے منکر تھے۔ اور اہل کتاب کی عملی حالت اسی بات پر دلالت کرتی تھی کہ انھیں بھی قیامت یا آخرت کا کوئی کھٹکا نہیں تھا۔ جنات میں بھی یقینا دونوں طرح کے لوگ ہوں گے۔ پیش نظر سورة میں جن جنات کا تذکرہ ہورہا ہے ممکن ہے وہ قریش کے ہم خیال ہوں۔ اور جن جنات کا ذکر سورة الاحقاف میں ہوا ہے ہوسکتا ہے ان کا تعلق اہل کتاب سے ہو۔ رہیں وہ آیات جو آگے آرہی ہیں تو بعث بعدالموت کے ذکر اور ان آیات کے مندرجات میں کوئی تضاد نہیں۔ اس لیے کہ پیش نظر آیت کریمہ میں جنات صرف یہ بات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ جیسے تمہیں بعث بعدالموت سے انکار ہے، اسی طرح مکہ کے لوگوں کو بھی ہے یعنی شرک کے ساتھ ساتھ یہ گمراہی بھی انسانوں اور جنوں دونوں میں پائی جاتی ہے اور جس طرح شرک کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول تشریف لاتے ہیں اسی طرح اس بنیادی عقیدے کی اصلاح کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ چناچہ ان تمام گمراہیوں کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا ہے اور جس پر نازل ہونے والی کتاب کو ہم نے سنا اور ہم اس پر ایمان لائے۔ اور ہمیں اس کی بعثت کا خیال اس بات سے ہوا جس کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے۔
Ayahs 72:8–10وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَـآئَ فَوَجَدْنٰـھَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُھُبًا۔ وَّاَ نَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا مَقَاعِدَلِلسَّمْعِ ط فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْلَـہٗ شِھَابًارَّصَدًا۔ وَّ اَنَّا لاَ نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَبِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَبِھِمْ رَبُّھُمْ رَشَدًا۔ (الجن : 8 تا 10)
(اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے۔ )
جنات کو آسمانی تغیرات کا سبب جاننے کی جستجو
جنات کو اللہ تعالیٰ نے بعض غیرمعمولی قوتیں عطا کر رکھی ہیں جن میں انھیں فرشتوں کے ساتھ بہت مناسبت ہے۔ ان کے طبعی میلانات، ان کے جبلی تقاضے اور ان کے فطری رجحانات میں تو ملکوتی صفات نہیں پائی جاتیں، اس لحاظ سے فرشتوں اور ان میں بہت دوری ہے۔ لیکن بعض دیگر صفات اور خصوصیات میں فرشتوں سے بہت مناسبت ہے۔ جس طرح فرشتے آسمانوں پر جاتے ہیں، ان میں بھی یہ قوت رکھی گئی ہے کہ یہ آسمانوں کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ اور بعض دفعہ فرشتوں سے ملاقات بھی ہوجاتی ہے۔ اس لیے ان میں بعض شیاطین جنوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ انھوں نے آسمانوں کے قریب اپنی پناہ گاہیں بنا رکھی تھیں اور وہاں بیٹھ کر وہ کوشش کرتے تھے کہ عالم بالا میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی سن گن لینے میں کامیاب ہوجائیں۔ چناچہ جیسے ہی انھیں کسی بات کا علم ہوتا، اسے اضافوں کے ساتھ کاہنوں تک پہنچاتے اور اسی کی بنیاد پر عربوں میں کہانت کا ایک ایسا جال پھیلا ہوا تھا جس نے عربوں کے اعتقادات بگاڑنے میں بڑا اہم رول ادا کیا تھا۔ لیکن اب یکایک انھوں نے دیکھا کہ آسمانِ زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اب اگر کوئی اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ اس کا سبب معلوم کرنے کے لیے جب وہ نکلے اور ان کے مختلف وفود زمین کے مختلف اطراف میں گئے تو انھیں کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ وہ حیران تھے کہ آخر اتنا بڑا انقلاب بےسبب تو نہیں ہوسکتا۔ ایسے غیرمعمولی انتظامات دو ہی حالتوں میں کیے جاتے تھے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین پر کوئی عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا ہو اور منشاء الٰہی یہ ہو کہ اس کے نزول سے پہلے جن اس کی بھنک پا کر اپنے دوست انسانوں کو خبردار نہ کردیں۔ اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں کسی رسول کو مبعوث فرمایا ہو اور تحفظ کے ان انتظامات سے مقصود یہ ہو کہ رسول کی طرف جو پیغامات بھیجے جارہے ہیں ان میں نہ تو شیاطین کسی قسم کی خلل اندازی کرسکیں اور نہ قبل از وقت یہ معلوم کرسکیں کہ پیغمبر کو کیا ہدایات دی جارہی ہیں۔ چناچہ جیسے ہی انھوں نے آنحضرت ﷺ سے قرآن کریم کو سنا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت اور قرآن کریم کا نزول ہی ان تمام تغیرات کا حقیقی سبب ہے۔
Ayah 72:11وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا۔ (الجن : 11)
(اور یہ کہ ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ )
یعنی جس طرح ہمارے عقائد میں یکسانی نہیں بلکہ ہم میں بیشتر لوگ شرک سے آلودہ ہیں۔ اسی طرح اخلاقی حیثیت سے بھی ہم میں اچھے اور برے دونوں طرح کے جن پائے جاتے ہیں اور فکری نظام یکساں نہ ہونے کی وجہ سے ہم مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ ہم راہ راست معلوم کرنے کے یقینا محتاج ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرح سے روشنی کی کوئی کرن پھوٹتی ہے تو ہمیں اس کی طرف سبقت کرنی چاہیے۔
طَرَآئِقَ … کے معنی راستے اور مسلک و مذہب کے ہیں۔
قِدَدًا … کے معنی متفرق کے ہیں۔
Ayah 72:12وَّ اَنَّا ظَنَنَّـآ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَاللّٰہَ فِی الْاَرْضِ وَلَنْ نُّعْجِزَہٗ ھَرَبًا۔ (الجن : 12)
(اور یہ کہ ہم نے مان لیا کہ نہ زمین میں چھپ کر ہم اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہم عاجز کرسکتے ہیں۔ )
ہدایت کی طرف میلان
ہمیں جب اپنی گمراہیوں، کوتاہیوں اور کج رویوں کا یقین ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی بلند وبالا شان کا بھی احساس ہوگیا تو ہم سمجھ گئے کہ ہماری بھلائی اللہ تعالیٰ کے احکام ماننے میں ہے، اس سے بےخوف ہونے میں نہیں۔ کیونکہ اگر ہم نے اس کی نافرمانی کی تو اس کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ نہ ہمیں زمین پناہ دے سکتی ہے اور نہ آسمان۔ اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ ہم اس کی ہدایت کو قبول کریں۔
Ayah 72:13وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْھُدٰٓی اٰمَنَّا بِہٖ ط فَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِرَبِّہٖ فَلاَ یَخَافُ بَخْسًا وَّلاَ رَھَقًا۔ (الجن : 13)
(اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے، پس جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا نہ کسی زیادتی کا۔ )
اعترافِ حق
چناچہ جیسے ہی ہم نے ہدایت کی بات سنی یعنی ہمیں قرآن کریم سننے کا موقع ملا جو اللہ تعالیٰ کی طرف راہ راست بتاتا ہے تو ہم فوراً اس پر ایمان لے آئے۔ کیونکہ انسانیت کا ادنیٰ تقاضا یہ ہے کہ جب وہ اپنی گم گشتہ متاع پالے تو اس کی طرف ہاتھ بڑھانے میں تأمل نہ کرے۔ گویا وہ اپنی قوم کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی یہی روش اختیار کرنی چاہیے۔
بَخْس کے معنی کمی کرنے اور رَھَق کے معنی زیادتی کرنے کے ہیں۔ کمی کرنے کو ہی حق تلفی کہتے ہیں۔ یعنی کوئی شخص اپنی نیکی پر جتنے اجر کا مستحق ہے اسے اس سے کم دیا جائے اور ظلم یہ ہے کہ اسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے اور جو قصور اس سے سرزد ہوں اس کی زیادہ سزا دے ڈالی جائے یا بلاقصور ہی کسی کو عذاب دے دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایمان لانے والے کو اس بات کا اندیشہ نہیں ہوسکتا کہ اس کی حق تلفی ہوگی یا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی۔
Ayahs 72:14–15وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ط فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُوْلٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۔ وَاَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَکَانُوْا لِجَھَنَّمَ حَطَـبًا۔ (الجن : 14، 15)
(اور یہ کہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ بےانصاف ہیں، تو جنھوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کی ہے انھوں نے ہدایت کی راہ ڈھونڈ لی۔ اور جو بےانصاف ہوئے تو وہ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ )
ایک اور فکری کوتاہی کی اصلاح
اس سے پہلے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ انسانوں میں عقیدہ و عمل کے اعتبار سے لوگ یکساں نہیں ہیں۔ اور وحدت فکر کے مفقود ہونے کے باعث لوگوں نے الگ الگ مسالک بنا رکھے ہیں۔ ضروری تھا کہ ان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ ایک کتاب نازل فرماتا اور ایک رسول کی بعثت ہوتی۔ چناچہ جیسے ہی ہمیں یہ نعمت غیرمترقبہ میسر آئی تو ہم نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا۔ اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ ایک اور پہلو سے بھی ہم میں یکسانی معدوم ہے۔ وہ یہ کہ کوئی تو یہ سمجھتا ہے کہ خیر اور شر یکساں نہیں۔ اچھائی اور برائی الگ الگ نتائج رکھتی ہیں۔ جس نے نیکی سے رشتہ جوڑا اس کا انجام اور ہوگا اور جس نے برائی سے تعلق پیدا کیا اس کا مآل اور ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس بعض لوگ ایسے ہیں جو لطف و لذت کے فلسفے میں مقید ہیں۔ انھیں خواہش اور مفاد کے سوا کسی اور حقیقت سے تعلق نہیں۔ اچھائی اور برائی ان کے یہاں بےمعنی چیزیں ہیں۔ اخلاقی باتیں سراسر جذباتی باتیں ہیں۔ عقل کا کام خواہشِ نفس کے راستے تلاش کرنا ہے، اچھائی اور برائی کے پیمانے تلاش کرنا نہیں جبکہ امرواقعی کی حیثیت سے ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ انسانوں میں اچھے اور برے کی ایک واضح تقسیم موجود ہے اور دنیا میں ان کے اعمال کے نتائج بھی ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دونوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ کیا جائے۔ اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ عادل نہیں، اس کے یہاں نیکی اور بدی دونوں برابر ہیں، یہ دنیا ایک اندھیر نگری کے سوا کچھ نہیں۔ جس شخص کی عقل میں سلامتی اور فطرت میں راستی ہے وہ اس صورتحال کو قبول نہیں کرسکتا۔ تو ہم نے بھی اسی حقیقت کے پیش نظر اور صورت واقعی کے نتائج کو سمجھ کر اس حقیقت کو پہچانا کہ ہم میں سے جو شخص آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی دعوت کو قبول کرکے اسلام کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ دراصل ہدایت اور نجات کا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ لیکن جو خیرو شر کے امتیاز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، انھیں لازماً جہنم کا ایندھن بننا ہوگا، یہی عدل کا تقاضا اور یہی سلامتی کا راستہ ہے۔
Ayah 72:16وَّاَنْ لَّوِاسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْـقَۃِ لَاَسْقَیْنٰـھُمْ مَّـآئً غَدَقًا۔ (الجن : 16)
(اور مجھے وحی آئی ہے کہ اگر یہ (قریش) راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم انھیں خوب سیراب کرتے۔ )
روئے سخن قریش کی طرف
اوپر جنوں کے تأثرات ختم ہوگئے، اب کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ گیا ہے۔ سورة کا آغاز لفظ ” قُلْ “ سے ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ جنات نے جس طرح قرآن کریم کو سنا اور پھر انھوں نے جس طرح اپنے تأثرات کا اظہار کیا اور پھر جس طرح ایمان کی دولت سے مالامال ہوئے اور پھر اپنی قوم میں داعی کی حیثیت سے پہنچے۔ یہ سب باتیں آپ ﷺ قریش کو سنائیں تاکہ ان ناقدروں اور مغروروں کو اندازہ ہو کہ ہم قرآن کریم جیسی نعمت کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں اور جنات نے صرف اسے ایک دفعہ سن کر کیسی سعادت پائی ہے۔ اس کے بعد اب آنحضرت ﷺ پر جو وحی نازل کی گئی ہے اس میں براہ راست قریش کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتے اور صراط مستقیم پر قائم اور استوار رہتے تو جس دنیا کی محبت نے انھیں اندھا کر رکھا ہے، یہ دنیا کی نعمتیں بھی انھیں میسر آتیں اور اخروی نعمتوں سے بھی بہرہ ور ہوتے۔
مَّـآئٌ غَدَقٌ … کا لغوی معنی تو وافر پانی ہے۔ لیکن قرآن کریم نے کئی جگہ یہ تعبیر رزق و فضل کی بہتات کے لیے اختیار کی ہے، یعنی پانی کی کثرت کو نعمتوں کی کثرت کے لیے بطور کنایہ استعمال کیا ہے۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو پانی ہی ہر چیز کا مادہ تخلیق ہے اور پانی ہی پر آبادی کا انحصار ہے۔ انسان کی بنیادی ضروریات میں سے اسے سب سے ہم حیثیت حاصل ہے، کوئی بستی اس کے بغیر بس ہی نہیں سکتی اور کوئی صنعت بھی اس کو نظرانداز کرکے چل نہیں سکتی۔ ہم اس سے پہلے سورة نوح میں اس کی مثال پڑھ چکے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم اپنے رب سے مغفرت مانگو تو وہ تم پر اپنے ابر کرم کے ڈونگرے برسائے گا یعنی موسلادھار بارشیں کرے گا۔ اس سے مراد بھی صرف بارش ہی نہیں بلکہ وہ نعمتیں ہیں جو بارش کے نتیجے میں انسانوں کو نصیب ہوتی ہیں۔
Ayah 72:17لِّنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ ط وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُـکْہُ عَذَابًا صَعَدًا۔ (الجن : 17)
(تاکہ ہم اس میں ان کو آزمائیں اور جو اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑے گا تو وہ اس کو چڑھتے عذاب میں داخل کرے گا۔ )
کثرتِ مال و دولت ایک آزمائش ہے
قریش کو رزق کی فراوانی کی امید دلا کر ساتھ ہی تنبیہ فرمائی کہ ہم جسے رزق کی فراوانی سے بہرہ ور کرتے ہیں اسے دراصل آزمائش میں ڈالتے ہیں کہ وہ کثرت مال و دولت سے اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ بنتا ہے یا ناشکری کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ جس طرح انسان کا جسم اور اس کی قوتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور انھیں پر تکالیفِ شرعی کی بنیاد رکھی گئی ہے اور اس طرح سے ان کی آزمائش کی گئی ہے، اسی طرح دولت بھی اللہ تعالیٰ کا عطیہ اور اس کی دین ہے۔ یہ بھی جس کسی کو ملتی ہے عیش و عشرت کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے ملتی ہے۔ انسان بالعموم خوشحالی اور فارغ البالی میں اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے اور اپنی خوشحالی کو اپنی محنت کا نتیجہ اور اپنے مال و دولت کو اپنی ملکیت سمجھنیلگتا ہے۔ اور یہیں سے اس کے انجام کی خرابی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ جو شخص بھی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرتا ہے یا کرے گا، ذکر سے مراد عبادت، نصیحت اور یاددہانی بھی ہے لیکن سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ کیونکہ اس سورة میں موضوعِ بحث قرآن کریم ہے۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ ذکر قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کی رہنمائی سے اعراض کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں من مانی کرنے لگتا ہے اور اگر اس کو وسیع معنی میں لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تعلیمات کو نظرانداز کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ ایک ایسے عذاب میں داخل کرے گا جو ہرحال میں چڑھتا جائے گا۔ یعنی وہ ایک ایسا عذاب ہوگا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ اس کی کمیت میں کمی آئے گی اور نہ کیفیت میں۔ یعنی عذاب کا دورانیہ اور سزا کی مدت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی اور اس کی شدت میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
Ayah 72:18وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَلِلّٰہِ فَلاَ تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا۔ (الجن : 18)
(اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ )
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعراض چونکہ عذاب کا سبب ہے اور اس کے ذکر کے مراکز مسجدیں ہیں جن کی تعمیر ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کی جاتی ہے۔ تو اس لحاظ سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ کیونکہ شرک اللہ تعالیٰ کے ذکر کی سب سے بڑی نقیض ہے۔ یوں تو ذکر سے اعراض کے کئی محمل ہوسکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک یہ سب سے بڑا جرم ہے۔ اور مساجد میں کسی اور کو پکارنا شرک کی بدترین قسم ہے۔ یہ تو ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کرنے والی بات ہے کہ دیکھ تیرے گھر کو بھی ہم نے اپنے معبودوں کے حوالے کردیا ہے۔ یہاں ان کے بت پڑے ہیں، ان کی تصویریں لگی ہیں، ان کی یاد کی جاتی ہے، ان سے مرادیں مانگی جاتی ہیں جبکہ یہ مساجد اللہ تعالیٰ کے نام سے بنائی جاتی ہیں۔
مساجد اگرچہ مسجد کی جمع ہے لیکن یہاں خطاب قریش سے ہونے کی وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس کا مصداقِ اول بیت اللہ ہے۔ اس کو جمع کے لفظ سے تعبیر کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہی تمام مساجد کا قبلہ اور ان کا شیرازہ ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جمع سے تعبیر کرنے کے سبب سے یہ حکم سب مساجد کے لیے عام ہوگیا ہے۔
حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ زمین پوری کی پوری عبادت گاہ ہے اور آیت کا منشاء یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کہیں بھی شرک نہ کیا جائے۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا کی زمین کو شرک سے پاک کرنا ہی خلافتِ آدم کا حقیقی مقصد ہے۔
حضرت سعید بن جبیر نے مساجد سے مراد وہ اعضاء لیے ہیں جن پر آدمی سجدہ کرتا ہے۔ یعنی ہاتھ، گھٹنے، قدم اور پیشانی۔ اس تفسیر کی رو سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعضاء اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے سجدہ نہ کیا جائے۔
بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ مساجد، مسجد بفتح الجیم کی جمع ہے جو مصدر میمی بمعنی سجدہ آتا ہے۔ تو معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ سب سجدے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اور جو شخص غیر اللہ کو اعانت کے لیے پکارتا ہے گویا وہ اس کو سجدہ کرتا ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ غیر اللہ کے لیے سجدہ حرام ہے۔ اور بعض علماء کے نزدیک کفر ہے۔
Ayah 72:19وَّاَنَّـہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُاللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔ (الجن : 19)
(اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو لوگوں کا اس پر ٹھٹھ بندھنے لگتا ہے۔ )
لِبَدًا … جمع ہے لِبْدَۃٌ کی۔ جس کے معنی کسی تہ بہ تہ اور گتھم گتھا شے کے ہیں۔ اس لیے ہم نے ترجمے میں ٹھٹھ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کیونکہ ٹھٹھ انسانوں کے اس ہجوم کو کہتے ہیں جب آدمی آدمی پر گرا پڑ رہا ہو۔
برعکس صورتحال
ابھی ہم نے مساجد کے بارے میں پڑھا ہے کہ ان کی تعمیر ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہوتی ہے، وہاں کسی اور کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارنا اور اس کا شریک بنانا بہت بڑا جرم ہے۔ اس بنیادی تعلیم کو قبول کرنے کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ بیت اللہ میں خاص طور پر غیر اللہ کا نام بھی نہ سنا جاسکتا ہو۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا بندہ یعنی رسول اللہ ﷺ اپنے رب کی عبادت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور نماز میں ان آیات کی تلاوت کرتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی گئی ہے تو کس قدر دکھ اور حیرانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس گھر میں لوگ ان پر حملہ کے لیے پل پڑتے ہیں۔ اور آپ ﷺ کی توہین کرنے اور ایذا پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ توحیدِ خالص کی آواز کس قدر نامانوس بنادی گئی ہے کہ جس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کی گئی تھی، اسی میں اس کا ذکر ناقابلِ برداشت ہو کر رہ گیا ہے۔
Ayah 72:20قُلْ اِنَّمَـآ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدً ۔ (الجن : 20)
(اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ )
آنحضرت ﷺ کو استقامت حکم
آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ قریش کے لیے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر کیسا ہی ناگوار کیوں نہ ہو، وہ کتنا ہی اس کو برا مانیں اور آپ ﷺ کو بالجبر روکنے کی کیسی ہی کوشش کریں، آپ ﷺ صاف اعلان کردیجیے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکاروں گا، میں کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائوں گا۔ تم نے اگر جہالت اور نادانی سے حقائق کو تبدیل کر ڈالا ہے اور تم صحیح اور غلط میں تمیز کھو بیٹے ہو تو میں تمام مشکلات کے باوجود تمہاری اس روش کی تائید نہیں کرسکتا۔ میں تو ہر صورت اور ہرحال میں اپنے رب ہی کو پکاروں گا اور اس پکار اور اس عبادت میں کسی اور کی شرکت کبھی گوارہ نہیں کروں گا۔
Ayah 72:21قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَـکُمْ ضَرًّا وَّلاَ رَشَدًا۔ (الجن : 21)
(کہہ دیجیے ! میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔ )
آنحضرت ﷺ کی حیثیت کی وضاحت
اپنے مؤقف پر استقامت اور استقلال کے اعلان کے بعد اپنی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ ہوں۔ اس کی بندگی اور عبادت اور اس کے تفویض کردہ فرائض میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف داعی بنا کے بھیجا ہے، داروغہ مقرر نہیں کیا۔ نہ تمہارا نفع و ضرر میرے اختیار میں ہے اور نہ تمہاری ہدایت و ضلالت۔
عربی زبان کے اسالیب کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک لفظ کا مقابل جو سیاق کلام سے واضح ہو حذف کردیا جاتا ہے۔ اسے بلاغت کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ چناچہ یہاں اس آیت میں بھی ضرر کے بعد نَفْعًا اور رُشْدًا کے بعد غَیًّاکو حذف کردیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ہر ایک کا تقابل خود اس پر دلیل ہے۔ تو معنی یہ ہوگا کہ میں تمہارے نفع و ضرر اور ہدایت و ضلالت کا مالک نہیں ہوں۔ میں تو صرف اللہ تعالیٰ کے پیغامات تمہیں پہنچانے کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ کسی کو نفع یا نقصان پہنچانا تو درکنار مجھے خود اپنے نفع نقصان کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ مجھے صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل ہے اور وہی میرا ماویٰ وملجا ہے۔
Ayah 72:22قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌہ 5 لا وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا۔ (الجن : 22)
(کہہ دیجیے ! مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ )
مزید وضاحت
گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کی مزید وضاحت ہے۔ قریش مکہ سے مخاطب ہو کر آنحضرت ﷺ فرما رہے ہیں کہ اگر میں تمہاری خاطر یا تم سے خوف کھا کر کسی کو خدا کا شریک مان لوں تو یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا سے مجھے کوئی دوسرا نہیں بچا سکے گا۔ اور میں اللہ تعالیٰ کے مقابل میں اگر کسی اور جائے پناہ کو تلاش کروں تو مجھے کوئی ٹھکانہ نہیں مل سکے گا اور کوئی جائے پناہ میسر نہ آئے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سامنے ہر شخص بےبس ہے۔ جو شخص سرافراز اور مقاماتِ بلند پر فائز ہے وہ سراسر اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ہے۔ اگر اس کی نظرعنایت پھرجائے تو مقامات چھن جانے میں ایک پل نہیں لگتا۔
Ayah 72:23اِلاَّ بَلٰـغًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِسٰلٰتِہٖ ط وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ فَاِنَّ لَـہٗ نَارَجَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَـآ اَبَدًا۔ (الجن : 23)
(میرا کام صرف اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچانا ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ )
میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے پیغامات اور اس کے ارشادات بےکم وکاست تمہیں پہنچا دوں۔ تم پر عذاب لانا یا تمہارے دلوں میں ہدایت اتار دینا یہ میرے بس میں نہیں۔ اگر میں نے ابلاغ کا حق ادا کردیا تو میں اپنی ذمہ داری سے بری ہوگیا۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اڑا رہے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
یاد رہے کہ ہر گناہ اور معصیت کی سزا ابدی جہنم نہیں بلکہ اس سے مراد آنحضرت ﷺ کی رسالت کی تکذیب اور توحید کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار ہے۔ کیونکہ یہیں سے دین کی تعمیر کا آغاز ہوتا ہے۔
Ayah 72:24حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْامَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا۔ (الجن : 24)
(حتیٰ کہ جب وہ دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ مددگاروں کے اعتبار سے سب سے زیادہ کمزور اور تعداد کے لحاظ سے سب سے حقیر کون ہے۔ )
قریش کے زعم باطل کا رد
اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب قریش کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرتے اور قرآن کریم پڑھ کر سناتے تو وہ آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑتے اور کوشش کرتے کہ آپ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کا راستہ روک دیں۔ اور زعم انھیں یہ تھا کہ ان کا جتھہ زبردست ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چند مٹھی بھر آدمی ہیں اس لیے وہ آپ ﷺ کو باآسانی دبا لیں گے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ آج یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو بےیارومددگار اور اپنے آپ کو کثیرالتعداد دیکھ کر حق کی آواز کو دبانے کے لیے بڑے دلیر ہو رہے ہیں۔ مگر جب وہ وقت آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے یا انھیں ڈرایا جارہا ہے یعنی عذاب یا قیامت تو اس وقت انھیں اندازہ ہوگا کہ قوت اور جمعیت کے اعتبار سے کمزور و ناتواں کون ہے۔
Ayah 72:25قُلْ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَـہٗ رَبِّیْٓ اَمَدًا۔ (الجن : 25)
(کہہ دیجیے ! میں نہیں جانتا جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب ابھی اس کو کچھ مدت اور ٹالنے والا ہے۔ )
مخالفین کے طنز کا جواب
ہم قرآن کریم میں مختلف مواقع پر پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب کفار کو عذاب یا قیامت سے ڈراتے تھے تو وہ بار بار پوچھتے تھے کہ آخر وہ عذاب کہاں رک کر رہ گیا ہے، آتا کیوں نہیں ؟ جیسے جیسے عذاب آنے میں تاخیر ہورہی تھی ان کے طنز اور مذاق کے نشتر تیز ہوتے جارہے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو اس کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے کہئے کہ عذاب یا قیامت کا آنا یقینی ہے مگر اس کے آنے کی تاریخ مجھے نہیں بتائی گئی۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے آنے کا وقت قریب ہے یا دور۔ ممکن ہے وہ بالکل قریب آلگا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ میرا رب کچھ مدت کے لیے اس کو ابھی اور ٹالے کیونکہ اس کا ہر کام اس کی حکمت کے تابع ہے۔
Ayah 72:26عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلاَ یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا۔ (الجن : 26)
(عالم الغیب وہی ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ )
قیامت کے وقت معین سے میری بیخبر ی عالم الغیب نہ ہونے کے سبب سے ہے
یعنی عذاب یا قیامت کے وقت معین سے متعلق میری بیخبر ی اس لیے ہے کہ میں عالم الغیب نہیں۔ عالم الغیب ہونا صرف اللہ رب العالمین کی خصوصی صفت ہے۔ وہ اپنے غیب پر کسی کو غالب و قادر نہیں بناتا، کہ جب کوئی چاہے اور جس بات کو چاہے اسے معلوم کرلے۔ یہاں عالم الغیب میں الغیب کا الف لام استغراقِ جنس کے لیے ہے۔ یعنی عالم ہر فردِغیب اور جنسِ غیب کا، اور عَلٰی غَیْبِہٖٓمیں غیب کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے سے اسی استغراق اور جامعیت کا اظہار مقصود ہے۔ یعنی ہر فرد و جنسِ غیب کا علم جو اللہ رب العالمین کا مخصوص وصف ہے اس پر وہ کسی کو قادر و غالب نہیں کرتا کہ کوئی جس غیب کو چاہے معلوم کرلے۔ مقصود اس کلام سے علم غیب کلی ہے جس سے جہان کا کوئی ذرہ مخفی نہ ہو، اس کی غیر اللہ سے نفی اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اثبات ہے۔ لیکن کسی بیوقوف کو اس سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ نبی کریم ﷺ کو کسی بھی غیب کی چیز کی خبر نہیں، تو پھر وہ رسول کیا ہوئے۔ کیونکہ رسول کے پاس تو اللہ تعالیٰ ہزاروں غیب کی خبریں بذریعہ وحی بھیجتے ہیں اور جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحی نہ آئے وہ نبی اور رسول نہیں کہلاسکتا۔ اس لیے اگلی آیت میں ایک استثنیٰ کا ذکر فرمایا۔
Ayahs 72:27–28اِلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّـہٗ یَسْلُـکُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا۔ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْ ئٍ عَدَدًا۔ (الجن : 27، 28)
(مگر جو پسند کرلیا کسی رسول کو تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔ تاکہ وہ جان لے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اور وہ ان کے گردوپیش کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے۔ )
استثناء کا مفہوم
حاصل استثناء کا اس سفیہانہ شبہ کا یہ جواب ہے کہ علم غیب کلی کی نفی سے ہر غیب کی نفی مطلقاً مراد نہیں بلکہ منصب رسالت کے لیے جس قدر علم غیب کی خبروں اور غیب کی چیزوں کا علم کسی رسول کو دینا ضروری ہے وہ ان کو منجانب اللہ بذریعہ وحی دے دیا جاتا ہے اور وہ ایسے محفوظ طریقے سے دیا جاتا ہے کہ جب ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نازل ہوتی ہے تو اس کے ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے تاکہ شیاطین اس میں کوئی مداخلت نہ کرسکیں۔ اس میں اول تو لفظ رسول سے اس غیب کی نوعیت متعین کردی گئی ہے جس کا علم رسول و نبی کو دیا جاتا ہے اور وہ ظاہر ہے علم شرائع و احکام بتمامہٖ اور غیب کی خبریں بقدر ضرورتِ وقت۔ اس کے بعد جو علم غیب رسول و نبی کو دیا جاتا ہے اس کی نوعیت اگلے جملے سے یوں بھی متعین کردی کہ وہ بذریعہ فرشتوں کے بھیجا جاتا ہے اور وحی لانے والے فرشتے کے گرد دوسرے فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس استثناء سے جس علم غیب کا نبی و رسول کے لیے اثبات ہے وہ بعض اور مخصوص علم غیب ہے جس کی ضرورت منصب رسالت کے لیے درپیش ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ استثناء اصطلاحی لفظوں میں استثناء منقطع ہے یعنی جس علم غیب کلی کی اصل کلام میں غیر اللہ سے نفی کی گئی تھی مستثنیٰ میں اس کا اثبات نہیں بلکہ مخصوص علوم غیبیہ کا اثبات ہے جس کو قرآن کریم میں جابجا انباء الغیب کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک۔
بعض ناواقف غیب اور انباء الغیب میں فرق نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ انبیاء اور خصوصاً خاتم الانبیاء ﷺ کے لیے علم غیب کلی ثابت کرتے ہیں اور آپ ﷺ کو بالکل اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغیب ہر ہر ذرہ کائنات کا علم رکھنے والا کہنے لگتے ہیں جو کھلا ہوا شرک اور رسول کو خدائی کا درجہ دینا ہے، نعوذباللہ منہ۔ اگر کوئی شخص اپنا خفیہ راز کسی اپنے دوست کو بتلا دے جو اور کسی کے علم میں نہ ہو تو اس سے دنیا میں کوئی بھی اس دوست کو عالم الغیب نہیں کہہ سکتا۔ اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) کو ہزاروں غیب کی چیزوں کا بذریعہ وحی بتلا دینا ان کو عالم غیب نہیں بنا دیتا خوب سمجھ لیا جائے۔
جاہل عوام جو ان دونوں باتوں میں فرق نہیں کرتے جب ان کے سامنے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عالم الغیب نہیں، وہ اس کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ کو معاذاللہ کسی غیب کی چیز کی خبر نہیں جس کا دنیا میں کوئی قائل نہیں اور نہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایسا ہونے سے تو خود نبوت و رسالت کی نفی ہوجاتی ہے جس کا کسی مومن سے امکان نہیں۔
آخر سورة میں فرمایا وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْ ئٍ عَدَدًا یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات خاص ہے جس کے علم میں ہر چیز کے اعدادوشمار ہیں۔ اس کو پہاڑوں کے اندر جتنے ذرے ہیں ان کا بھی عدد معلوم ہے، ساری دنیا کے دریائوں میں جتنے قطرے ہیں ان کا شمار اس کے علم میں ہے۔ ہر بارش کے قطروں اور تمام دنیا کے درختوں کے پتوں کے اعدادوشمار کا اسی کو علم ہے۔ اس میں پھر علم غیب کلی کا ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا واضح کردیا کہ کسی کو مذکورہ استثناء سے غلط فہمی نہ ہوجائے۔
مسئلہ علم غیب کے معنیٰ اور اس کے احکام سورة النمل کی آیت قُلْ لاَّ یَعْلَمُ مَنْ فی السّمٰواتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلاَّ اللّٰہُ کے تحت پوری تحقیق و تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ (معارف القرآن)