71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsروح القرآن

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح (u کو) ان کی قوم کی طرف رسول بنا کے بھیجا، کہ اپنی قوم کو خبردار کردیں قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے

اِنَّـآ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖٓ اَنْ اَنْذِرْقَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّـاْ تِیَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْم۔ (نوح : 1) (ہم نے نوح (u کو) ان کی قوم کی طرف رسول بنا کے بھیجا، کہ اپنی قوم کو خبردار کردیں قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے۔ ) پیغمبر کی بعثت کا مقصد حضرت نوح (علیہ السلام) بعض روایات کے مطابق اولادِ آدم کی اصلاح کے لیے مبعوث ہونے والے پہلے صاحب شریعت رسول ہیں۔ دنیا کی اکثر قومیں ان کے نام سے واقف ہیں۔ دنیا پر طوفانِ نوح کے نام سے جو تباہی آئی اس کا تذکرہ بھی تمام قوموں میں پایا جاتا ہے۔ اہل مکہ بھی آپ ( علیہ السلام) کو رسول کی حیثیت سے جانتے تھے۔ اس لیے ان کے سامنے حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت ایک رسول کی حیثیت سے بیان فرمائی گئی ہے تاکہ اس سرگزشت کے آئینہ میں وہ اگر جاننے کی کوشش کریں تو وہ جان سکیں کہ اللہ تعالیٰ کا رسول جب کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے تو اس کی بعثت کی غرض و غائت کیا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے اس کا مقام اور کام کیا ہوتا ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تھا یعنی ہم نے ان کو رسالت کے منصب پر فائز کیا تھا اور ان کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی گئی تھی کہ آپ ( علیہ السلام) کی قوم جو فسادِ عقیدہ، فسادِ عمل اور زندگی کے تمام معاملات میں فسادِ عمومی کے اعتبار سے اس حالت کو پہنچ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کے سروں پر تلا کھڑا ہے کیونکہ سیرت و کردار کی ایسی عمومی خرابی کے ظہور کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آجایا کرتا ہے۔ لیکن ہمارا قانون یہ ہے کہ جب پہلے آنے والے رسولوں کی دعوت و اصلاح کے اثرات دھیمے پڑجاتے ہیں اور قوم مجموعی طور پر ہمہ جہت فساد کا شکار ہوجاتی ہے تو ہم اس پر عذاب بھیجنے سے پہلے اسے خبردار کرنے کے لیے اپنا رسول بھیجتے ہیں تاکہ وہ انھیں آنے والے خطرے سے اچھی طرح باخبر کردے۔ اور اپنی تبلیغی مساعی سے ایک ایک پر حجت تمام کردے تاکہ کل کو جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں کسی نے انذار نہیں کیا تھا ورنہ ہم اپنی اصلاح کرلیتے۔ چناچہ اسی اصول کے تحت حضرت نوح (علیہ السلام) کو ہم نے انذار کرنے کے لیے بھیجا تھا تاکہ ان کی قوم بیخبر ی میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار نہ ہوجائے۔
Ayahs 71:2–4

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انھوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دے گا، بیشک اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت جب آجائے گی تو وہ ٹالے نہیں ٹلے گی، کاش تم اس کو سمجھو

قَالَ یٰـقَوْمِ اِنِّیْ لَـکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ اَنِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ وَاتَّـقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ یَغْفِرْلَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے ط اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَـآئَ لاَ یُؤَخَّرُ م لَوْکُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (نوح : 2 تا 4) (انھوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دے گا، بیشک اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت جب آجائے گی تو وہ ٹالے نہیں ٹلے گی، کاش تم اس کو سمجھو۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی حیثیت اور ذمہ داری حضرت نوح (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنی قوم کے سامنے اپنی اس ذمہ داری کا ذکر فرمایا جس پر انھیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے فائز کیا گیا تھا۔ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے کھلا کھلا ڈرانے والا بن کے آیا ہوں۔ عرب میں طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی بڑے خطرے سے اچانک آگاہ ہوتا، مثلاً وہ دیکھتا کہ اس کے قبیلے پر کوئی دوسرا قبیلہ شب خون مارنے والا ہے یا اس کی قوم پر کوئی بڑا لشکر حملہ کرنے والا ہے تو وہ تیزی سے اپنی قوم کی طرف اپنی سواری کو تیز دوڑاتے ہوئے لپکتا، اور آبادی کے قریب پہنچ کر اپنے کپڑے پھاڑ دیتا اور بالکل برہنہ ہو کر چیخنے لگتا کہ لوگو، ہوشیار ہوجاؤ خطرہ تمہارے سر پر پہنچ گیا ہے، اپنے بچائو کا سامان کرلو۔ ایسے شخص کو نذیرعریان کہا جاتا ہے جس کا لفظی معنی ہے ننگا ہو کر ڈرانے والا۔ قوم جب کسی شخص کو برہنہ حالت میں اس طرح چیختے ہوئے سنتی تو وہ غضبناک ہو کر باہر نکل آتی اور ایک ایک فرد کو یقین ہوجاتا کہ ہم ایک بڑے طوفان کا سامنا کرنے والے ہیں۔ قرآن کریم چونکہ بہت سنجیدہ اور بہت باوقار حیثیت کی کتاب ہے اس لیے اس نے اس لفظ کو اختیار کرنے کی بجائے نذیرمبین کا لفظ اختیار کیا، یعنی کھلا کھلا ڈرانے والا۔ مقصود یہی تھا کہ میں تمہیں ایک بہت بڑی تباہی اور ایک بڑے خطرے سے ڈرانے اور خبردار کرنے کے لیے آیا ہوں، وہ خطرہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دھرتی کا مالک ہے۔ وہ دھرتی پر رہنے والوں کو جب دیکھتا ہے کہ اس کی نافرمانی میں شب و روز زندگی بسر کر رہے ہیں تو وہ انھیں سمجھانے اور خبردار کرنے کے لیے اپنا رسول بھیجتا ہے۔ رسول انھیں آکر خبردار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی دھرتی پر بہت دیر تک نافرمانی برداشت نہیں کرتا۔ میں اس کی طرف سے تمہیں خبردار کرنے کے لیے آیا ہوں کہ تم جس طرح کی زندگی گزار رہے ہو اور جس طرح تمہاری زندگی کا کوئی شعبہ بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے خالی نہیں بلکہ تم نے اپنے طوراطوار سے ثابت کردیا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کی کوئی پرواہ نہیں۔ اس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی صورت میں ظاہر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اگر تم نے اس کے تدارک کے لیے اپنے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہ کی تو تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ عذاب سے بچنے کے لیے تین ہدایات دوسری آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لیے تین بنیادی باتیں ارشاد فرمائیں اور یہ کہا کہ اگر تم ان تین بنیادی باتوں کو قبول کرلیتے ہو تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ گے۔ پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے معبود تراش رکھے ہیں اور تم ان کی عبادت کرتے ہو اور بعض انسانوں کو تم نے طاغوت بنا کر اپنی زندگی کے معاملات ان کے سپرد کر رکھے ہیں اور انھیں تم نے وہ تمام اختیارات دے رکھے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں۔ تم ان آستانوں سے سر اٹھا لو اور تمام طاغوتی قوتوں کا انکار کردو اور صرف ایک اللہ کے سامنے جھکو اور اسی کی غیرمشروط عبادت کا عہد کرو۔ اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے جو حدود وقیود تمہاری زندگی کی رہنمائی کے لیے مقرر کی ہیں ان کی پابندی کرو، یعنی ان کاموں سے پرہیز کرو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے غضب کے موجب ہیں اور اپنی زندگی میں وہ روش اختیار کرو جو خدا ترس لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے۔ اور تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ میری اطاعت کرو، یعنی ان احکام کی اطاعت کرو جو اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے کی حیثیت سے میں تمہیں دیتا ہوں اور ان مفسد لیڈروں کی اطاعت چھوڑ دو جن کی اطاعت کو تم نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے یہ تین بنیادی ارکان ہیں۔ توحید، شریعتِ الٰہی کی پابندی اور رسول کی اطاعت۔ اور یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کی خصوصیت نہیں بلکہ جو رسول بھی دنیا میں تشریف لائے سب کی دعوت کے یہی تین بنیادی ارکان تھے۔ یہی تین بنیادی ارکان اس نظام حیات کی اساس بنتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انسانوں کو دیا ہے۔ کیونکہ ہر دین کا اصل ہدف انسانوں کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنا ہے اور اس کا دارومدار قلب و نگاہ میں اس تصور کو راسخ کرلینا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی ذات ہے جس کی ذات، صفات اور حقوق میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ ہر لحاظ سے وحدہ لاشریک ہے۔ چونکہ وہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے اس لیے بجاطور پر اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ بندوں پر اپنے احکام نافذ کرے اور ان پر یہ بات واضح کردے کہ مجھ پر ایمان اور ان احکام پر عمل تمہاری دنیوی اور اخروی فلاح کا ضامن ہے۔ اور ان احکام سے سرتابی، نافرمانی یا سرکشی تباہی کا باعث ہے اور رسول کی زندگی چونکہ ہر لحاظ سے اسوہ حسنہ ہے اور وہی دنیا میں بندوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطہ ہے اس لیے اس کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اور اس کی پیروی اللہ تعالیٰ کی رضا کی ضامن ہے۔ چناچہ جب تک کوئی قوم اس جادہ مستقیم پر قائم رہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی دنیوی اور اخروی نعمتیں اس کا استحقاق ٹھہرتی ہیں اور جب وہ اس جادہ مستقیم سے ہٹ جاتی ہے تو وہ آخرکار اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجاتی ہے۔ ان ہدایات کو مان لینے کا پہلا انعام اگلی آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اگر تم نے میری یہ تینوں باتیں مان لیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے گا، بجز ان گناہوں کے جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے، کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لیے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کیا جائے، جیسے مالی واجبات۔ اور جو ادائیگی کے قابل نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذا پہنچائی تو اس سے معاف کرایا جائے۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مِنْ ذُنُوْبِکُمْ میں مِنْ تبعیض کے لیے ہے۔ بعض اہل علم نے اس کے ساتھ ماتقدم کی قید لگائی ہے کیونکہ اسلام لانے کے بعد وہی گناہ معاف ہوسکتے ہیں جو کفر کی حالت میں کیے گئے ہیں۔ رہے وہ گناہ جو اسلام لانے کے بعد سرزد ہوئے ہیں تو ان کے لیے الگ ضابطہ ہے جسے توبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ قید اس لیے غیرضروری معلوم ہوتی ہے کہ سورة الفتح میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے لِیَغْفِرَلَـکَ اللّٰہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَـأَخَّرَ یہاں مِنْ کا ذکر مَاتَقَدَّمَ اور مَاتَـأَخَّرَ دونوں کے ساتھ آیا ہے۔ اسی آیت سے مِنْ کے زائد ہونے کی بحث بھی کسی حد تک حل ہوجاتی ہے۔ دوسرا انعام وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے ” اور تمہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دے گا۔ “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم لوگوں نے میری یہ تینوں باتیں مان لیں تو اللہ تعالیٰ دوسرا انعام تم پر یہ فرمائے گا کہ جو عذاب تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے اور جس عذاب سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، اللہ تعالیٰ اس عذاب کو تم سے ٹال دے گا اور ایک معین مدت تک تمہیں دنیا میں خیریت و عافیت سے رہنے کی مہلت دے دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح یہاں کوئی شخص غیرمعین مدت تک زندہ نہیں رہتا بلکہ جو اس کی عمر مقرر ہے اس کے پورا ہوجانے کے بعد اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح قومیں بھی ہمیشہ ایک جیسی زندگی نہیں گزارتیں بلکہ ان کی مہلت حیات کا دارومدار ان کے ایمان، تقویٰ اور اطاعتِ رسول پر ہوتا ہے۔ جب تک وہ ان بنیادی صفات کو اپنے اندر باقی رکھتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں عزت کی زندگی سے بہرہ مند رکھتا ہے لیکن جب وہ ان بنیادی صفات سے محروم ہوجاتی ہیں اور بنیادی اقدار سے منحرف ہوجاتی ہیں تو ان پر زوال کے آثار طاری ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کا اخلاقی زوال اس نقطہ پر پہنچ جاتا ہے جو آخری ہے تو اس کی اجل مسمیٰ پوری ہوجاتی ہے اور قومی حیثیت سے ان کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک شخص کی زندگی کے لیے ایک اجل مسمیٰ یعنی ایک وقت مقرر کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اسی طرح قوموں کی بھی اجل مسمیٰ کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جب کسی شخص کو جسمانی عوارض لاحق ہوجاتے ہیں تو ہر دیکھنے والا اور خود وہ شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ میری زندگی زوال کا شکار ہوگئی ہے اور اگر میں عوارض پر قابو نہ پاسکا تو میں موت سے بچ نہیں سکوں گا۔ اسی طرح جب قومیں سیرت و کردار کی خرابی کا شکار ہوتی ہیں اور ان کے معاملات دیانت و امانت سے محروم ہوجاتے ہیں اور وہ بنیادی قومی اور ملی اوصاف سے منحرف ہوجاتی ہیں اور جس نظریئے کی بنیاد پر انھیں قومی تشخص ملا تھا اسے نظرانداز کردیتی ہیں تو یہ دراصل ان کے وہ عوارض ہیں جن سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اب یہ قوم زوال کا شکار ہوگئی ہے اور اگر اس زوال کے سفر کو روکا نہ گیا تو اس کی تباہی کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ تمہاری زندگیوں کے مجموعی اعمال تمہارے سامنے ہیں جن کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں۔ تم بڑی تیزی سے قومی اور ملی ہلاکت کی طرف بڑھ رہے ہو۔ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب قوموں کو مٹا دیا کرتا ہے۔ لیکن میں تمہارے پاس جو نسخہ شفاء لے کر آیا ہوں اگر تم اسے قبول کرلو تو پھر جو تمہارے لیے ایک وقت مقرر ہوچکا ہے اسی وقت پر تمہاری زندگیوں کا سفر ختم ہوگا، اس سے پہلے خدا کا عذاب تمہاری تباہی کا باعث نہیں بنے گا۔ اس وقت مقرر کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ لیکن قوم کے مجموعی اوصاف اس کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اسی سے یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ جس طرح ہر مخلوق کا ایک معین وقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے طے ہوچکا ہے اسی طرح اس مجموعی دنیا کے خاتمے کا معین اور مقرر وقت ہے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب اس دارالامتحان کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور ایک نیا عالم نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آئے گا جس کو دارآخرت کہتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اگر تم نے میری ان تین بنیادی باتوں کو تسلیم نہ کیا تو پھر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کا بھی ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس طرح ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے یعنی نزول عذاب کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو پھر وہ ٹالے سے بھی ٹل نہیں سکتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے جاننے اور یقین کرنے پر افراد اور قوموں کی سیرت و کردار کی درستی کا دارومدار ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ کاش تم اس حقیقت کو جان لیتے کہ اس دنیا کی ہر فرصت بہرحال محدود اور فانی ہے۔ جو شخص یہاں کی مہلت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا وہی دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوگا۔ اور جو لوگ اس حقیقت کو نظرانداز کردیں گے ان کے لیے یہ دنیا سرتاسر وبال اور خسران ہوگی۔
Ayahs 71:5–6

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی، اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو شب و روز پکارا

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

مگر میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلاً وَّ نَھَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْھُمْ دُعَـآئِ یْٓ اِلاَّ فِرَارًا۔ (نوح : 5، 6) (حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی، اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو شب و روز پکارا۔ مگر میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی عرضداشت سابقہ آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا ایک حصہ نقل کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے بنیادی ارکان کیا تھے۔ اور آپ ( علیہ السلام) نے کس حکمت، محنت اور ہمدردی اور خیرخواہی سے اس کام کو آگے بڑھایا اور مسلسل سالہاسال تک اسی دھن میں لگے رہے جس کا مجموعی دورانیہ تقریباً 900 سال ہے۔ لیکن قوم نے اس کے جواب میں جو کچھ کیا اور جس طرح آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اس کا ذکر کرنے کی بجائے آپ نے زندگی کے آخری دنوں میں ایک عرضداشت پیش کی ہے جس کا ان آیات میں ذکر کیا جارہا ہے۔ اس میں نہ کسی مبالغے کا دخل ہے، نہ داستان سرائی کا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی قوم کے لیے عدالت بن کر آتے ہیں۔ ان کی زبان سے کبھی کوئی ایسی مبالغہ آمیز بات نہیں نکلتی جس کے ڈانڈے جھوٹ سے ملتے ہوں۔ یوں تو ہر پیغمبر نے اپنی قوم کو سمجھانے اور دین کی دعوت پیش کرنے میں شب و روز محنت کی۔ اور کہیں بھی کسی کمزوری کو پیدا نہیں ہونے دیا۔ لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے جتنی طویل مدت تک اپنی قوم کو جھنجھوڑا اور جگایا اس کی مثال کہیں اور ملنا ممکن نہیں۔ لیکن قوم نے اس بےمزد محنت اور نہایت مخلصانہ جانثاری کی قدر کرنے کی بجائے ایسا برا ردعمل دکھایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ میں نے اپنی قوم کو شب و روز پکارا، مگر میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا۔ یعنی جتنا ہی زیادہ میں نے ان کو پکارا وہ اتنا ہی زیادہ مجھ سے بھاگے۔ بظاہر سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ آپ کی دعوت میں یقینا کوئی بات عقل و فطرت کے خلاف ہوگی یا وہ لوگ آپ کے خلوص اور راست بازی سے شاکی ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغمبر بھی دنیا میں ایسا نہیں آیا کہ جس کی قوم نے اس کی دعوت یا اس کے خلوص پر کبھی شبے کا اظہار کیا ہو۔ ان کی دعوت کی معقولیت ہر شخص کو تسلیم تھی اور ہر شخص ان کے کردار کی عظمت کا اعتراف کرتا تھا۔ ان کے رد عمل کی نامعقولیت اور ان کے ظالمانہ گریز کی وجہ دراصل یہ تھی کہ اس دعوت کے قبول کرنے سے قوم کے سربرآوردہ لوگوں کی خودساختہ طبقاتی مراعات پر چوٹ پڑتی تھی۔ وہ دیکھتے تھے کہ اس دعوت کے نتیجے میں انسانی مساوات کے جس اصول پر زور دیا جارہا ہے اس سے ہماری قوم کا ایک عام آدمی ہمارے برابر ہوجائے گا۔ اس سے ان کے استکبار پر ایک ایسی ضرب پڑتی تھی جو ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ پھر وہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ ان کی نفسانی خواہشوں کے بروئے کار آنے کے اس میں کوئی امکانات نہیں۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے آپ کی دعوت سے گریز کا راستہ اختیار کیا جائے۔
Ayah 71:7

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

میں نے جب بھی ان کو بلایا تاکہ تو انھیں معاف کردے تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں۔ اپنی چادریں اپنے اوپر لپیٹ لیں، اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا

وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُھُمْ لِتَغْفِرَلَھُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَھُمْ فِٓیْ اٰذَانِھِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَھُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَـکْبَرُوْا اسْتِکْبَارًا۔ (نوح : 7) (میں نے جب بھی ان کو بلایا تاکہ تو انھیں معاف کردے تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں۔ اپنی چادریں اپنے اوپر لپیٹ لیں، اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ ) مستکبرین کے استکبار کی تصویر یہ اس قوم کے مستکبرین کے گریز و استکبار کی تصویر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ میں نے جب بھی ان کو پکارا تاکہ تو انھیں بخش دے۔ اس جملے کا اسلوب خود بتارہا ہے کہ یہاں ایک لفظ محذوف ہے جس پر قرینہ دلالت کررہا ہے کیونکہ جب ایک گناہگار شخص کو دعوت دی جاتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف آئو تاکہ تمہارا خدا تمہیں بخش دے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹو اور توبہ کرو۔ اپنی خطائوں کا اقرار کرو، غلط خیالات کو رد کردو اور اعتراف و اقرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش فرما دے گا۔ لیکن ان بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ میں نے جب بھی ان کی عاقبت سنوارنے کے لیے انھیں توبہ اور استغفار کی دعوت دی تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور انھوں نے میری بات سننے سے انکار کردیا اور اپنی چادریں اپنے اوپر لپیٹ لیں۔ یعنی بات سننا تو درکنار انھوں نے نہایت بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اوپر اپنی چادر لپیٹی اور وہاں سے چل دیئے۔ اس طرح سے انھوں نے اپنے خیالات اور اپنے رویئے پر اصرار جاری رکھا اور اپنی ہٹ پر اڑے رہے۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور اس پر قائم کیے جانے والے دلائل کا کوئی جواب نہ دے پائے اور یہ دیکھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نہایت مخلصانہ طریقے سے ہر موقع پر ہمیں اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم کسی قیمت پر اسے سننے کے روادار نہیں تو بچنے کی یہی ایک صورت ہے کہ چادر لپیٹ کر اور چھپ کر ان کے پاس سے گزرا جائے تاکہ وہ عدم معرفت کے باعث بات کرنے پر قادر نہ ہوسکیں۔ اس طرح سے وہ اپنی بات پر اڑے رہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں اپنی بات کی صداقت پر یقین تھا بلکہ ان کے اڑنے کا سبب ان کا استکبار تھا۔ کیونکہ وہ تکبر کے مریض تھے۔ حق کے آگے سر جھکا دینے اور خدا کے رسول کی نصیحت قبول کرلینے کو اپنی شان سے گری ہوئی بات سمجھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی شیطان کو اپنارہبر بنا لیتا ہے وہ اس کے اندر اپنے اخلاق پیدا کردیتا ہے اور ابلیس کا اصل امتیاز حق کے مقابلے میں سرکشی اور پھر اس پر اڑ جانا ہے۔ یہ لوگ بھی اپنی روش میں اسی راستے پر چل رہے تھے۔
Ayahs 71:8–9

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو بلایا برملا

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی سمجھایا اور چھپ کر چپکے چپکے بھی

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا۔ ثُمَّ اِنِّیْٓ اَعْلَنْتُ لَھُمْ وَاَسْرَرْتُ لَھُمْ اِسْرَارًا۔ (نوح : 9) (پھر میں نے ان کو بلایا برملا۔ پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی سمجھایا اور چھپ کر چپکے چپکے بھی۔ ) سابقہ آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے مخالفانہ رویئے اور آپ کی دعوت کے جواب میں انتہائی تکبر و غرور کا اظہار دیکھ کر یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انھیں دعوت دینا بند کردیا ہوگا۔ اور آپ اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ سر کھپانا، سر پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیسا حوصلہ عطا فرمایا تھا کہ ایسی حوصلہ شکن صورتحال میں بھی آپ مایوس ہونے کی بجائے ولولہ تازہ لے کر اٹھتے ہیں اور ان کے رویئے سے شاکی ہونے کی بجائے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ میری دعوتی مساعی اور تبلیغی کاوشوں کے لیے دراصل ایک چیلنج ہے۔ اس لیے بجائے اپنے اوپر اضمحلال طاری کرنے کے آپ نے اپنے دعوت کے لب و لہجہ کو تیز تر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ نوا را تیز تر می کن، چوں اثر نغمہ کمیابی رہی ان کی مزاحمت اور مخالفت، ان کا گریز اور ان کا استکبار، تو یہ بھی میرے حوصلے کو بلند کرنے اور کوششوں کو تیز کرنے کی دعوت ہے۔ تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے فریضہ ٔ رسالت پر پیغمبر کی استقامت حضرت نوح (علیہ السلام) کہتے ہیں، ایسے مخالفانہ ماحول میں بھی میں نے ہمت ہارنے کی بجائے ہر طرح کے حالات میں بات کی۔ کہیں ڈنکے کی چوٹ بات کہنے کی ضرورت ہوئی تو وہاں میں نے بےدریغ ڈنکے کی چوٹ بات کہی تاکہ ہر طرح کے لوگ میری بات سن سکیں اور جہاں میں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر اتر کر اور اعتماد میں لے کر بات سمجھانے کی ضرورت ہے تو وہاں میں نے یہ طریقہ بھی آزمایا۔ پیش نظر دراصل یہ تھا کہ وہ کسی طرح ہدایت کے راستے پر آجائیں اور اپنے انجام کو بہتر بنالیں۔
Ayahs 71:10–12

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

پھر میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور مال و اولاد سے تمہاری مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا

فَـقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّـکُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُّرْسِلِ السَّمَـآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّـکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّـکُمْ اَنْھٰرًا۔ (نوح : 10 تا 12) (پھر میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔ اور مال و اولاد سے تمہاری مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔ ) نرمی اور حکمت سے دعوت کی مثال یہ دلوں میں اتر کر اور نہایت اعتماد میں لے کر بات کہنے کی مثال ہے کہ میں نے ان سے کہا کہ تم آج کل اپنے حالات کی گرفت میں ہو، تمہارے کاروبار مندے کا شکار ہیں، تمہاری زراعت اجڑتی جارہی ہے، بارشیں ہیں کہ وقت پر ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ تم اگر اپنے حالات بدلنا چاہتے ہو تو اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو، یعنی ایمان لائو، میری پیروی کرو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائو۔ وہ بہت بخشنے والا ہے۔ تمہارے زندگی بھر کے گناہ معاف کردے گا۔ تم پر مسلسل موسلادھار بارشیں نازل فرمائے گا، اس کی مہربانیوں کی کوئی انتہا نہیں، وہ تمہیں مال و دولت سے بھی نوازے گا اور تمہاری اولاد میں بھی برکت دے گا، تمہارے باغ بھی پھلیں پھولیں گے اور تمہارے لیے نہریں رواں کردے گا۔ اس طرح سے ان کو سرسبزی و شادابی اور خوشحالی و فارغ البالی کا راستہ بھی دکھایا تاکہ وہ اگر عذاب سے ڈر کر راہ راست پر آنے کے لیے تیار نہیں تو اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہی اللہ تعالیٰ کے آستانے پر جھک جائیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دعوتی کلمات سے دو حقیقتوں کی طرف رہنمائی ملتی ہے اور قرآن کریم میں کئی مقامات پر اس حقیقت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا سے بغاوت کی روش صرف آخرت ہی میں نہیں دنیا میں بھی انسان کی زندگی کو تنگ کردیتی ہے اور ایمان وتقویٰ اور احکامِ الٰہی کی اطاعت کا طریقہ صرف آخرت ہی میں نافع نہیں بلکہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا سزاوار بناتا ہے۔ چناچہ سورة طٰہٰ کی آیت 124 میں قرآن کریم کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ جو شخص میرے ذکر ( قرآن کریم) سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ اسی طرح قرآن کریم کی کئی آیات میں تورات، انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں کو قائم کرنے پر دنیا میں رزق کے برسنے اور نیچے سے ابلنے کا مژدہ سنایا گیا ہے اور کہیں فرمایا گیا ہے کہ اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قریش کے لوگوں سے فرمایا کہ میں یہ ایک کلمہ لے کر آیا ہوں، اگر تم اسے مان لو تو اس سے تم عرب کے مالک ہوجاؤ گے اور عجم پر حکمرانی کرو گے۔ دوسری بات ہمیں اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ بارشیں گناہوں کی کثرت سے رکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ لوگ گناہ چھوڑ دیں اور استغفار کریں۔ حضرت عمر فاروق ( رض) نے اسی بات کو سمجھتے ہوئے ایک مرتبہ نماز استـثـقاء میں صرف استغفار پر کفایت فرمائی۔ لوگوں نے عرض کیا، امیرالمومنین آپ نے بارش کے لیے تو دعا کی ہی نہیں، فرمایا : میں نے آسمان کے ان دروازوں کو کھٹکھٹا دیا ہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے اور پھر سورة نوح کی یہ آیات لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ (ابنِ جریر و ابن کثیر) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی رحمت کی کلید استغفار ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت حسن بصری کی مجلس میں ایک شخص نے خشک سالی کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔ دوسرے شخص نے تنگدستی کی شکایت کی، تیسرے نے کہا میرے یہاں اولاد نہیں ہوتی، چوتھے نے کہا میری زمین کی پیداوار کم ہورہی ہے۔ ہر ایک کو وہ یہی جواب دیتے چلے گئے کہ استغفار کرو۔ لوگوں نے کہا یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ سب کو مختلف شکایتوں کا ایک ہی علاج بتا رہے ہو۔ انھوں نے جواب میں سورة نوح کی یہ آیت سنا دی۔ (کشاف)
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے بڑائی کی امید نہیں رکھتے

مَالَـکُمْ لاَ تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا۔ (نوح : 13) (تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے بڑائی کی امید نہیں رکھتے۔ ) قوم کی بےالتفاتی اور بےنیازی کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہارے سامنے مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کررہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے طریقے طریقے سے تمہیں استغفار کی دعوت دے رہا ہوں، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم میری بات سن کے بھی نہیں دیتے ہو۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے رئیسوں اور سرداروں کے بارے میں تو تم یہ سمجھتے ہو کہ ان کے وقار کے خلاف کوئی حرکت کرنا خطرناک ہے، لیکن جس رب نے تمہیں یہ سب کچھ دے رکھا ہے تمہارا کیا خیال ہے کہ اس کا جلال تمہاری بدمستیوں کے باوجود کبھی ظہور میں نہیں آئے گا۔ تم اپنے گردوپیش میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں کو دیکھتے ہو اور جن لوگوں کو فراوانی سے یہ نعمتیں میسر ہیں انھیں بھی دیکھتے ہو کہ وہ شب و روز اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں لگے ہوئے ہیں اور ان میں سے کسی کی پکڑ نہیں ہورہی۔ اس سے تم نے یہ سمجھا ہے کہ دنیا میں جو دھاندلی چاہے ہوتی رہے اللہ تعالیٰ کی غیرت و حمیت کبھی جوش میں نہیں آتی، لیکن یہ تمہاری بھول ہے کیونکہ وہ سب سے بڑی ذات ہے اور بےپناہ قدرتوں کی مالک ہے اس لیے مواخذے میں جلدی نہیں کرتی۔ لیکن جب وہ پکڑنے پر آتی ہے تو پھر اس کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے۔ نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayah 71:14

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے

وَقَدْخَلَقَـکُمْ اَطْوَارًا۔ (نوح : 14) (حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ ) تخلیق کے مختلف مراحل سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر استدلال اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی گرفت سے انسان کی بےنیازی اور لاپرواہی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انسان کی اپنی تخلیق کے مختلف مراحل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا جس طرح ظہور ہوتا ہے اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ تم خدا کی عظمت کے ظہور کو بہت مستبعد سمجھتے ہو اور اس کی گرفت سے بالکل نچنت ہوگئے ہو حالانکہ تم اپنی ذات کے حوالے سے ہی غور کرو تو تمہیں اپنی تخلیق کے ہر مرحلے پر اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرت کا بھی احساس ہوگا اور یہ بھی اندازہ ہوگا کہ تم اس کی قدرت کے ہاتھوں میں کس قدر بےبس ہو۔ وہ تمہیں جیسا بنانا چاہتا ہے بناتا ہے اور اگر ختم کرنا چاہے یا بگاڑنا چاہے تو اس کی قدرت کے سامنے کوئی مانع نہیں۔ ذرا غور کرو کہ تم ماں اور باپ کی صلب میں الگ الگ نطفوں کی شکل میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے یہ دونوں نطفے باہم ملے اور تمہارا استقرارِ حمل ہوا، پھر نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں بتدریج نشو و نما دے کر تمہیں پوری انسانی شکل عطا کی اور تمہارے اندر وہ تمام قوتیں پیدا کیں جو دنیا میں انسان کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے تمہیں درکار تھیں، پھر ایک زندہ بچے کی صورت میں تم بطن مادر سے باہر آئے اور ہر آن تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک ترقی دی جاتی رہی یہاں تک کہ تم جوانی اور کہولت کی عمر کو پہنچے۔ ان میں سے ایک ایک مرحلے پر غور کرو، تم کس طرح اللہ تعالیٰ کی گرفت میں تھے اور اس کی قدرت کے سامنے کتنے بےبس تھے۔ وہ جس مرحلے میں چاہتا تمہارا وجود بننے سے روک دیتا یا تمہیں انسان کی بجائے کچھ اور بنا دیتا یا تمہیں معذور پیدا کردیتا یا تمہاری عقل میں فتور رکھ دیتا۔ تو جو انسان پیدا ہونے کے بعد مختلف حیثیتوں سے نمایاں ہوتا اور اپنے آپ کو منواتا ہے وہ کاش کبھی ان مراحل کو بھی یاد کرے جن سے گزر کر وہ اس سطح پر پہنچا ہے۔ اور پھر یہ بھی دیکھے کہ آج بھی اگر میرے جسم کو مفلوج کردیا جائے یا میرے ذہن میں اختلال پیدا کردیا جائے تو میرا سب کچھ ختم ہوسکتا ہے۔ میں کس طرح اپنے پیدا کرنے والے کے ہاتھوں میں بےبس ہوں۔ تو جس خالق ومالک اور پروردگار کی قدرت کا یہ عالم ہے اور جس کے ہاتھوں میں تم اتنے بےبس ہو، اس کے بارے میں تم نے یہ کیسے گمان کر رکھا ہے کہ اس کی شان میں ہر گستاخی کی جاسکتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہر طرح کی نمک حرامی اور احسان فراموش کا ارتکاب کیا جاسکتا ہے۔ انسان کی خلقت کے حوالے سے ہی اللہ تعالیٰ نے بعث بعدالموت اور وقوع قیامت پر استدلال کیا ہے کہ وہ پروردگار جس کی قدرت کی شانیں تم اپنی وجود میں دیکھتے ہو، اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمہارے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو تمہیں اٹھا کھڑا کرے اور تم اپنے ایک ایک عمل کو وہاں موجود پائو اور اس حوالے سے تمہیں جوابدہی کے مراحل سے گزرنا پڑے۔ قرآن کریم نے مختلف مواقع پر مختلف اسالیب میں اس دلیل کا ذکر فرمایا ہے، ہم صرف ایک مقام کا حوالہ دیتے ہیں۔ سورة الحج میں ارشاد ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّغَیْرِمُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَـکُمْ ط وَنُقِرُّفِی الْاَرْحَامِ مَانَشَآئُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ ج وَمِنْـکُمْ مَّنْ یُتَوَفّٰی وَمِنْـکُمْ مَّنْ یُرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِـکَیْلاَ یَعْلَمَ مِنْ م بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا ط وَتَرَی الْاَرْضَ ھَامِدَۃً فَاِذَٓا اَنْزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَآئَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ م بَھِیْجٍ 5 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْحَقُّ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَاَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ 5 لا (الحج۔ 22: 5۔ 6) ” اے لوگو ! اگر تم مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے بارے میں شک میں ہو تو سوچو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون کی پھٹکی سے، پھر مضغہ گوشت سے، کوئی کامل، کوئی ادھورا، ہم نے اپنی یہ شانیں اس لیے دکھائیں کہ تم پر اپنی قدرت واضح کردیں۔ اور رحموں میں ہم ٹھہراتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک معین مدت تک۔ پھر ہم تم کو ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر ہم تم کو مہلت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں کچھ پہلے ہی مرجاتے ہیں، اور تم میں سے بعض ارذل عمر تک پہنچائے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہیں جانتے اور تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ بالکل خشک ہوتی ہے تو جب ہم اس پر برساتے ہیں بارش تو وہ لہریں لینے لگتی اور پھول جاتی ہے اور نوع بنوع کی خوش منظر چیزیں اگاتی ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی کارسازِ حقیقی ہے۔ اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہمہ گیری جسے ہماری ظاہری آنکھ نہیں دیکھ سکتی لیکن میڈیکل سائنس کی کارکردگی نے ہمارے لیے اسے آسان کردیا ہے۔ میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ انسانی جسم کے ترکیبی اجزاء کو خلیہ (سیل) کہتے ہیں۔ ایک اوسط درجے کا جسم اندازاً 26 ارب ملین خلیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ورزش، محنت اور مطالعہ سے یہ خلیے ٹوٹتے اور ان کی جگہ نئے خلیے بنتے رہتے ہیں۔ ماہرینِ ابدان کا اندازہ یہ ہے کہ ہر سات سال کے بعد جسم کی مکمل تجدید ہوجاتی ہے۔ پرانے خلیے مرجاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے خلیے لے لیتے ہیں۔ جو شخص یہاں عمر کے ستر سال گزارتا ہے وہ گویا دس مرتبہ مرچکا ہوتا ہے۔ لیکن موت کے ان مسلسل حملوں کے باوجود وہ زندہ رہتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ موت کے آخری حملے کے بعد بھی وہ زندہ رہے۔ موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے
Ayahs 71:15–20

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور چاند کو ان کے اندر روشنی بنایا اور سورج کو چراغ بنایا

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے خاص اہتمام سے اگایا

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تمہارے لیے زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کی کھلی راہوں میں چلو

اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔ وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۔ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ ثُمَّ یُعْیِدُکُمْ فِیْھَا وَیُحْزِجُکُمْ اِخْرَاجاً ۔ وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۔ لِّـتَسْلُـکُوْا مِنْھَا سُبُلاً فِجَاجًا۔ (نوح : 15 تا 20) (کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔ اور چاند کو ان کے اندر روشنی بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے خاص اہتمام سے اگایا۔ پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ اور اللہ ہی نے تمہارے لیے زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا۔ تاکہ تم اس کی کھلی راہوں میں چلو۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہمہ گیری اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ہمہ گیری اور اس کی عظمت کو دلوں میں اتارنے کے لیے ان چھ آیتوں میں مختلف مخلوقات کی پیدائش کا ذکر فرمایا ہے۔ اکثر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ یہ چھ آیتیں حضرت نوح (علیہ السلام) کی تقریر کا حصہ ہیں۔ لیکن بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ ممکن ہے کہ یہ آیتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین تقریر کی تکمیل کے لیے شامل کی گئی ہوں۔ وہ دلیل کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ ان آیتوں کے تضمین ہونے پر ایک قرینہ موجود ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تقریر مسلسل جاری ہے لیکن ان آیتوں کے اختتام پر قَالَ نُوْحُ رَّبِّ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اگر یہ آیات حضرت نوح (علیہ السلام) کی تقریر کا حصہ ہوتیں تو اس جملے کا اعادہ نہ کیا جاتا۔ دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی اختیار کرلی جائے مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اظہار کے لیے بعض نشانیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں نشانی سات آسمانوں کا تہ بہ تہ پیدا کیا جانا ہے۔ آسمان کے وسیع حجم، اس کی حیران کن بلندی، اس کا حیرت میں ڈال دینے والا استحکام، امتدادِ زمانہ کے باوجود کہیں اس میں کسی دراڑ کا پیدا نہ ہونا ان میں سے ایک ایک بات اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بےپناہی اور انسان کو ششدر کردینے والی ہے۔ قرآن کریم میں اور بھی کئی جگہ اس دلیل کو بیان کرکے سوال کیا ہے کہ کیا تمہیں پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان کو بنانا۔ جو آسمان کو بنانے پر قادر ہے وہ تمہیں ازسرنو زندہ کردینے پر قادر کیوں نہیں۔ طِبَاقًا … تہ بہ تہ۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ کپڑے کی تہوں کی طرح آسمان کی بھی سات تہیں ہیں بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات جہان پیدا کیے ہیں اور ان کے الگ الگ سات آسمان ہیں، لیکن ہم ان چیزوں کی حقیقت سے واقف نہیں۔ قرآن نے انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی غیرمحدود قدرت کا ایک اجمالی تصور دینے کے لیے بیان کیا ہے۔ اس لیے ان پر اجمالی ایمان ہی کافی ہے۔ اس کی صحیح حقیقت سے پردہ قیامت کے دن اٹھے گا۔ سائنس اس کے بارے میں اپنی نارسائی کے اعتراف کے سوا اور کچھ نہیں کہہ سکتی۔ حقیقت کا انکشاف ابھی اس کے بس میں نہیں۔ آسمانوں کا ذکر کرنے کے بعد چاند اور سورج جیسی دو عظیم نشانیوں کا ذکر فرمایا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا اظہار صرف آسمانوں کی تخلیق ہی میں نہیں بلکہ اس کی حکمت اور عالمگیر ربو بیت میں بھی ہے۔ اس کی ربوبیت کا تقاضا یہ ہوا کہ ان جہانوں کو عالم ظلمات نہ بنایا جائے۔ اس لیے ان میں چاند کا دیا اور سورج کا چراغ روشن کیا گیا۔ آسمان اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد زمین کی نشانی کی طرف توجہ دلائی۔ زمین پر چونکہ سب سے اشرف مخلوق انسان ہے اس لیے انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا، لیکن اس کی تخلیق کو جن الفاظ سے تعبیر کیا ہے اس سے خودبخود ایک دلیل پیدا ہوگئی ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح زمین سے سبزہ اگتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین سے اگایا اور جس طرح زمین سے اگنے والی چیزیں فنا ہو کر زمین میں مل جاتی ہیں اسی طرح تم بھی مر کر زمین میں مٹی بن جاتے ہو، پھر جس طرح تم دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے فنا شدہ سبزوں کو ازسرنو زندہ کردیتا ہے اسی طرح جب چاہے گا تمہیں بھی بغیر کسی زحمت کے اٹھا کھڑا کرے گا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ زمین سے اگنے والے سبزے کے بارے میں تمام تبدیلیاں ہمارے سامنے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اس لیے ہمیں ان میں کوئی اشکال نہیں ہوتا۔ لیکن انسانوں کا معاملہ چونکہ ہماری آنکھوں سے ابھی دور ہے حالانکہ عقل اسے بھی قبول کرتی ہے تو ہمارے عقل کے پرستار بجائے عقل کی بات ماننے کے حواس کے قفس میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے بعد خود زمین کی نشانی کی طرف توجہ دلائی گئی جس سے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت کا تو اظہار ہوتا ہی ہے اس کی بےنہایت رحمت و عنایت کا بھی اظہار ہورہا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو خالی پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اسے تمہارے لیے بچھونا بنایا اور فرش کی طرح بچھا دیا۔ اس میں نہ ایسی سختی رکھی کہ تم اس پر بیٹھ یا لیٹ نہ سکو اور نہ اتنی نرمی رکھی کہ پائوں دھنس جائیں اور بارش برسنے سے دلدل بن جائے، پھر اسے متوازن رکھنے کے لیے پہاڑوں کی میخیں گاڑیں اور پہاڑوں کو باہم پیوست نہیں رکھا کہ تم دوسرے علاقوں سے کٹ کر رہ جاؤ بلکہ ان کے اندر درے اور راستے نکال دیئے تاکہ تم ایک سے دوسرے علاقوں میں جانے کے لیے کوئی دشواری محسوس نہ کرو۔
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب، انھوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور جن کی اولاد نے ان کے خسارے ہی میں اضافہ کیا

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّھُمْ عَصَوْنِیْ وَاتَّبَعُوْا مِنْ لَّمْ یَزِدْہُ مَالُـہٗ وَوَلَـدُہٗٓ اِلاَّ خَسَارًا۔ (نوح : 21) (حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب، انھوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور جن کی اولاد نے ان کے خسارے ہی میں اضافہ کیا۔ ) قوم کی سنگدلی حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور بےپناہ گرفت کا تصور دے کر بدلنے کی کوشش کی۔ دلائلِ انفس اور دلائلِ آفاق سے اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیر قدرت کو مبرہن کیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کی رحمت و عنایت کا حوالہ دے کر ان کی طبیعتوں میں میلان کی جوت جگانا چاہی۔ لیکن یہ ایسے سنگدل لوگ تھے کہ کسی بات نے ان پر اثر نہ کیا۔ آخر زندگی اور دعوت کے آخری مرحلے میں جب وہ اتمامِ حجت کرچکے تھے، اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی میں نے سارے جتن کرکے دیکھ لیے لیکن وہ میری کسی بات کا اثر قبول کرکے نہیں دیتے۔ وہ ان لیڈروں کی پیروی کرتے ہیں جنہیں اپنے مال و اولاد کی کثرت پر ناز ہے اور اسی کثرت نے انھیں استکبار کا مریض بنادیا ہے۔ وہ اپنے غرور وتکبر کے باعث میری باتوں کو گئے وقتوں کے افسانے سمجھتے ہیں اور میری قوم ایسے ہی لوگوں کے پیچھے چلنے اور پیروی کرنے میں عافیت محسوس کرتی ہے۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں

وَمَکَرُوْا مَکْرًا کُبَّارًا۔ (نوح : 22) (اور انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں۔ ) بگاڑ کا سبب متکبرین ہیں کُبَّارٌ … کبیر سے مبالغہ ہے۔ کہ ان سرداروں اور پیشوائوں نے اپنی قوم کو حضرت نوح (علیہ السلام) سے برگشتہ کرنے اور ان کی تعلیمات سے بہکانے کے لیے بڑی بڑی چالیں چلیں، بڑے بڑے فریب دیئے، عجیب و غریب اعتراضات اٹھائے۔ یہاں ان چالوں کی اگرچہ تفصیل بیان نہیں کی گئی لیکن قرآن کریم نے مختلف انبیائے کرام کے حوالے سے ان کی قوموں کے متکبرین کے جو حالات بیان کیے ہیں انھیں دیکھ کر ان چالوں کی تفصیل جاننا کوئی مشکل نہیں۔ وہ یقینا اپنی قوم سے کہتے ہوں گے کہ نوح (علیہ السلام) بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہے، اسے پیغمبر کیسے مان لیا جائے۔ اس کی بات میں اگر کوئی وزن ہوتا تو قوم کے اکابر اس پر ایمان لاتے۔ یہ چھوٹے درجے کے لوگ ان کا کسی پر ایمان لانا کیا معنی رکھتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہوگا کہ خدا کو اگر کسی کو پیغمبر بنا کے بھیجنا ہی ہوتا تو وہ کسی فرشتے کو بھیجتا۔ اور اگر کسی انسان کو بھی بھیجا جاتا تو اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو لوگوں کو دھمکاتا اور پھر وہ نبی بننے والا شخص خزانوں کا مالک ہوتا۔ ایسی بہت سی باتیں جو مختلف مواقع پر قرآن کریم میں ذکر کی گئی ہیں وہ لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ شخص دراصل تم پر اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے، اس نے اس کے لیے نبوت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ جب وہ عالم غیب کی خبریں دیتا تو کہتے اس پر کسی جن کا سایہ ہے جس نے اسے دیوانہ بنادیا ہے۔ بہرحال ان کی مختلف چالیں، ان کے قسم قسم کے چرتر، ان کے مختلف فریب، قوم کو حضرت نوح (علیہ السلام) سے برگشتہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، اور ہرگز نہ چھوڑ وَد کو اور سواع کو اور نہ یغوث، یعوق اور نہ نسر کو

وَقَالُوْا لاَ تَذْرُنَّ اٰلِھَتَـکُمْ وَلاَ تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلاَ سُوَاعًا لا 5 وَّ لاَ یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا۔ (نوح : 23) (اور کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، اور ہرگز نہ چھوڑ وَد کو اور سواع کو اور نہ یغوث، یعوق اور نہ نسر کو۔ ) لیڈروں کی قوم کو بت پرستی پر جمے رہنے کی تلقین اور قوم کے لیڈروں نے مختلف تدبیریں کیں اور بڑی بڑی چالیں چلیں، ان میں سے ایک چال قوم کو اپنے عقائد پر جمے رہنے کی تلقین تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) تمہیں توحید کا درس دیتے ہیں، ایک اللہ کے سوا سب کی پوجا سے روکتے ہیں لیکن تم اس شخص کے کہنے سے اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑو۔ اور پھر ان کے معبودوں کے نام لیے گئے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہی بت ہیں جنہیں بعد میں اہل عرب نے بھی پوجنا شروع کردیا اور آغازاسلام کے وقت عرب میں جگہ جگہ ان کے مندر بنے ہوئے تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طوفانِ نوح نے کسی کافر اور مشرک کو زندہ نہیں چھوڑا، بتوں سمیت ہر چیز تباہ ہوگئی اور جو لوگ زندہ بچے وہ توحید کے پرستار تھے، تو بعد میں ان بتوں کا تصور اور ان کے نام تک لوگوں میں کیسے پھیل گئے اور ان کی پوجا کیسے شروع ہوگئی ؟۔ گمان کیا جاتا ہے کہ طوفانِ نوح سے جو لوگ بچ گئے تھے وہ اپنی اولاد کو اپنی تباہ ہونے والی قوم کے طوراطوار کے حوالے سے کبھی قصے کہانیاں سنایا کرتے ہوں گے انھیں میں ان بتوں کا ذکر بھی آتا ہوگا۔ چناچہ امتدادِ زمانہ کے بعد جب بعد کی نسلوں میں جاہلیت پھیلی تو ان سنی ہوئی کہانیوں میں سے بتوں کے نام ان کے ذہنوں میں محفوظ تھے، دوبارہ پھر ان ناموں کے بت تراشے اور ان کو پوجنا شروع کردیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جب کبھی طوفانِ نوح سے بچ جانے والوں کی نسلوں میں شیطان کی کوششوں سے جاہلیت پھیلی اور شرک کی وباء نے سر اٹھانا شروع کیا تو شیطان نے اپنے چیلوں کی مدد سے ان بتوں کے نام سکھائے ہوں۔ اور ان کی نام نہاد کرامتوں کا ذکر کرکے لوگوں کو ان کی پوجا پر لگا دیا ہو۔ صاحبِ تفہیم القرآن نے کسی حد تک ان بتوں کی تفصیل بیان کی ہے جس کی پرستش عرب میں رائج ہوگئی تھی۔ وَدّ قبیلہ قضاعہ کی شاخ بنی کلب بن وَبرَہ کا معبود تھا جس کا استھان انھوں نے دُومۃُ الجَندَل میں بنا رکھا تھا۔ عرب کے قدیم کتابت میں اس کا نام وَدَّم اَ بَم (ودباپو) لکھا ہوا ملتا ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس کا بت ایک نہایت عظیم الجثہ مرد کی شکل کا بنا ہوا تھا۔ قریش کے لوگ بھی اس کو معبود مانتے تھے اور اس کا نام ان کے ہاں وُدّ تھا۔ وہ اسی کے نام پر تاریخ میں ایک شخص کا نام عبد ِوُدّ ہے۔ سُواع قبیلہ ہذیل کی دیوی تھی اور اس کا بت عورت کی شکل کا بنایا گیا تھا۔ ینبوع کے قریب رہاط کے مقام پر اس کا مندر واقع تھا۔ یغوث قبیلہ طے کی شاخ انعم اور قبیلہ مذحج کی بعض شاخوں کا معبود تھا۔ مذحج والوں نے یمن اور حجاز کے درمیان جرش کے مقام پر اس کا بت نصب کر رکھا تھا جس کی شکل شیر کی تھی۔ قریش کے لوگوں میں بھی بعض کا نام عبدیغوث ملتا ہے۔ یعوق یمن کے علاقہ ہمدان میں قبیلہ ہمدان کی شاخ خیوان کا معبود تھا اور اس کا بت گھوڑے کی شکل کا تھا۔ نسر حمیر کے علاقے میں قبیلہ حمیر کی شاخ آل ذوالکلاع کا معبود تھا اور بلخع کے مقام پر اس کا بت نصب تھا جس کی شکل گدھ کی تھی۔ سبا کے قدیم کتبوں میں اس کا نام نسور لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس کے مندر کو وہ لوگ بیت نسور اور اس کے پجاریوں کو اہل نسور کہتے تھے۔ قدیم مندروں کے جو آثار عرب اور اس کے متصل علاقوں میں پائے جاتے ہیں ان میں سے بہت سے مندروں کے دروازوں پر گدھ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر ڈالا ہے اور اب تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے

وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا ج 5 وَلاَ تَزِدِالظّٰلِمِیْنَ اِلاَّ ضَلٰلاً ۔ (نوح : 24) (انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر ڈالا ہے اور اب تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لیڈروں کی روش سے مایوسی حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کے لیڈروں کی روش سے انتہائی دلبرداشتہ ہیں۔ اس پر اظہارِتأسف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان بدبختوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر ڈالا ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے جس مال و منال اور اثرورسوخ سے بہرہ ور کیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کے شکر میں استعمال کرنے کی بجائے کفر پھیلانے میں استعمال کیا ہے۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے برگشتہ کرنا ان کا ہدف بن کر رہ گیا ہے۔ ایسے لوگ کسی رحم کے قابل نہیں۔ قبولیتِ حق کی صلاحیت ان کے اندر دم توڑ چکی ہے۔ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ بھلائی کی کسی بات کو سن کے دینا ان کے مزاج کے خلاف ہے۔ الٰہی ! ان کے رویئے کے پیش نظر میری عاجزانہ گزارش ہے کہ اب ان کی ضلالت اور گمراہی میں اضافہ فرما، تاکہ گمراہی کے نتیجے میں جو عذاب ان کا مقدر بننے والا ہے اس کی طرف ان کی تیز روی میں اضافہ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی یہ زمین جو ان کے بوجھ سے گراں بار ہوگئی ہے اس سے اسے نجات ملے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ایک ایک شخص کی ہدایت کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور ہر ایک کی ہدایت کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے دست دعا پھیلائے رہتے ہیں، لیکن جب انھیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رہنمائی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اب ان کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی، تو جس طرح دانوں کو الگ کرکے بھس کو جلا دیا جاتا ہے اسی طرح وہ بھی پھر اس بھس سے نجات پانے کے لیے دعا کرتے ہیں۔ سورة ہود کی آیت 36 سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے بتادیا گیا تھا کہ جو لوگ اب تک ایمان نہیں لائے اب ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جو ایمان لانے والا ہو۔ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کی یہ دعا منشائے خداوندی کے بالکل مطابق تھی۔
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

وہ اپنی خطائوں کی بنا پر غرق کیے گئے، پھر آگ میں جھونک دیئے گئے، پس اللہ کے مقابل میں انھوں نے کسی کو اپنا مددگار نہیں پایا

مِمَّا خَطِٓـیْْـئٰـتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا لا 5 فَلَمْ یَجِدُوْا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْصَارًا۔ (نوح : 25) (وہ اپنی خطائوں کی بنا پر غرق کیے گئے، پھر آگ میں جھونک دیئے گئے، پس اللہ کے مقابل میں انھوں نے کسی کو اپنا مددگار نہیں پایا۔ ) دعا کی قبولیت حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان سے نکلنے والی دعا کے لیے درِاجابت فوراً کھل گیا، کیونکہ یہ دعا اس وقت کی گئی جب آپ ( علیہ السلام) اپنی قوم پر اتمامِ حجت کرچکے تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی ہمدردی اور غمخواری اور تبلیغی مساعی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ انھیں ان کے جرائم کی پاداش میں غرق کردیا گیا، لیکن غرق ہونے پر ان کا قصہ تمام نہیں ہوگیا بلکہ مرنے کے بعد فوراً ہی ان کی روحیں آگ کے عذاب میں مبتلا کردی گئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب اظہار ہے کہ وہ لوگ پانی میں ڈوبے اور آگ میں نکلے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جہنم کی آگ مراد نہیں۔ اگرچہ بعض اہل علم نے اس سے جہنم کی آگ مراد لی ہے۔ کیونکہ جہنم میں داخلہ تو قیامت کے حساب کتاب کے بعد ہوگا اور آیت کریمہ میں اُغْرِقُوْا اور پھر فَاُدْخِلُوْا ایک ہی ساعت اور ایک ہی پیرائے میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ برزخی آگ ہے جس میں داخل ہونے کی قرآن کریم نے خبر دی ہے۔ اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ بھی پروردگار ایسا ہی سلوک فرما چکے ہیں۔ انھیں دریا میں غرق کیا گیا اور پھر برزخی عذاب کے حوالے کردیا گیا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عالم برزخ یعنی قبر میں رہنے کے زمانے میں بھی مردوں پر عذاب ہوگا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جب قبر میں بدعمل کو عذاب ہوگا تو نیک عمل والوں کو ثواب اور نعمت بھی ملے گی۔ احادیثِ صحیحہ متواترہ میں بھی قبر کے اندر عذاب وثواب ہونے کا بیان اس کثرت اور وضاحت سے آیا ہے کہ انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اس پر امت کا اجماع اور اس کا اقرار اہل سنت والجماعت کی علامت ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ یہ لوگ اپنی زندگی میں جن معبودوں کو اپنا حامی و مددگار سمجھتے تھے اور نہایت تکبر سے کہا کرتے تھے کہ قیامت محض ایک افسانہ ہے لیکن اگر بفرض محال قیامت آہی گئی تو ہمیں اس کی کیا فکر ہے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے معبود ہمیں قیامت کے عذاب سے بچا لیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو پھر انھیں بچانے کے لیے کوئی نہ آیا۔ اہل مکہ کو بھی یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ تم بھی اگر خدا کے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو تمہارے یہ معبود جن پر تم بھروسہ کیے بیٹھے ہو تمہارے کسی کام نہ آئیں گے۔
Ayahs 71:26–27

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی، اے میرے رب ! تو زمین پر ان کافروں میں سے ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑ

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور نابکاروں اور کافروں کو ہی جنم دیں گے

وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لاَ تَذَرْعَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۔ اِنَّـکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلاَ یَلِدُوْٓا اِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا۔ (نوح : 26، 27) (حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی، اے میرے رب ! تو زمین پر ان کافروں میں سے ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑ۔ اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور نابکاروں اور کافروں کو ہی جنم دیں گے۔ ) اتمامِ حجت کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کافروں سے بیزاری حضرت نوح (علیہ السلام) چونکہ منشائے ایزدی کو پاچکے تھے کہ اب ان لوگوں میں کسی کو بھی ایمان نصیب ہونے والا نہیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان پر اتمامِ حجت ہوچکا ہے۔ تو اب یہ لوگ دھرتی کا بوجھ تھے اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے لوگوں کے بگاڑنے میں سخت جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ ایسے لوگوں سے نفرت پیغمبر کی فطرت میں داخل ہوتی ہے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے نہایت دلسوزی سے دعا کی کہ یا اللہ ! اب ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑنا۔ اور چونکہ غلط زمین اور غلط ماحول ہمیشہ برائی کو جنم دیتے ہیں، یہ بھی سوائے فسق و فجور اور کفر کے پتلوں کے کسی اور کو وجود دینے کا باعث نہیں بنیں گے۔ یہ نہ خود اس قابل ہیں کہ زمین ان کا بوجھ اٹھائے اور نہ انھیں مزید کفر کو پھیلانے کی اجازت ہونی چاہیے۔