70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsروح القرآن

Ayahs 70:1–3

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، جو ضرور واقع ہونے والا ہے

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں کے لیے ہے کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اس اللہ کی طرف سے جو عروج کے زینوں والا ہے

سَأَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۔ لِّلْـکٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَـہٗ دَافِعٌ۔ مِّنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ ۔ (المعارج : 1 تا 3) (مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، جو ضرور واقع ہونے والا ہے۔ کافروں کے لیے ہے کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں۔ اس اللہ کی طرف سے جو عروج کے زینوں والا ہے۔ ) سَأَلَ کا معنی و مراد آیت کے پہلے لفظ سَأَلَ کا معنی بعض اہل تفسیر نے ” پوچھنا “ کیا ہے، یعنی کسی پوچھنے والے نے پوچھا، کہ وہ عذاب جس سے آپ ﷺ ہمیں ڈراتے رہتے ہیں، وہ کب آئے گا یا وہ قیامت جس کی آپ ﷺ ہمیں بار بار خبر دیتے ہیں وہ کب آئے گی ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں سوال جب کسی چیز کی تحقیق کے لیے آتا ہے تو اس کا صلہ حرف ” عن “ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں صلہ عن استعمال نہیں ہوا بلکہ ” ب “ استعمال ہوا۔ اس صورت میں اس کا معنی مانگنا، طلب کرنا اور درخواست کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جب صلہ ” ب “ کے ساتھ آئے تو وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ استعجال یا استہزاء کے مفہوم پر متضمن ہے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ آنحضرت ﷺ جب لوگوں کو قیامت یا عذاب سے ڈراتے تھے تو بجائے اس سے اثر قبول کرنے کے وہ یہ پوچھنا شروع کردیتے تھے کہ وہ عذاب کہاں ہے، آتا کیوں نہیں، کہیں راستے میں لنگرانداز ہوگیا ہے کہ اب تک پہنچ نہیں پایا۔ اس طرح تمسخر اڑاتے اور اس کے جلدی لانے کا مطالبہ کرتے۔ اہل مکہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ معنی بھی بعید از فہم معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ ان کا رویہ آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لیے ایسا ہی تھا۔ بہرحال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی عذاب مانگنے والے نے آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کیا ہے اور پھر اپنے مطالبے کو بار بار دہرایا ہے۔ نسائی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ نضر بن حارث نے کہا تھا، اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ہُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابِ اَلِیْم۔” اے اللہ ! اگر یہ قرآن ہی حق ہے اور آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دوسرا عذاب الیم بھیج دے۔ “ (مظہری) اللہ تعالیٰ نے اس کو غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دیا۔ بلاشبہ نضربن حارث نے یہ مطالبہ کیا مگر وہ اس میں اکیلا نہ تھا بعض دوسرے متمردین بھی آنحضرت ﷺ کو چڑانے کے لیے بےسوچے سمجھے اس طرح کی باتیں کرتے تھے۔ اور انھیں میں ایسے بھی تھے جو اس عذاب یا قیامت کا مذاق اڑاتے اور اسے جلدی لانے کا مطالبہ کرتے۔ قرآن کریم میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم جس عذاب کا مطالبہ کررہے ہو، یہ عذاب ضرور واقع ہوگا اور تم جس کے لیے جلدی مچا رہے ہو ایک روز تم اس میں پکڑے جاؤ گے۔ لیکن تمہیں اس بات کا احساس نہیں کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کررہے ہو اس کا ہدف کافروں کے سوا اور تو کوئی نہیں ہوگا۔ تو جو مصیبت اپنے منہ سے مانگ رہے ہیں وہ تمہارے ہی سروں پر گرنے والی ہے۔ لیکن ان کی حماقت کا کیا کہنا کہ وہ اپنے انجام سے بیخبر نہایت ڈھٹائی سے اس مصیبت کا مطالبہ کرتے چلے جارہے ہیں۔ مزید فرمایا کہ انھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو دور کرنے پر قادر نہیں ہوتی۔ اور کسی میں ہمت نہیں کہ اس کا سامنا کرسکے۔ اور انھوں نے اپنے زعم میں جنھیں معبود بنا رکھا ہے وہ بھی اس کے سامنے بالکل بےبس ہیں۔ نہ جانے یہ لوگ آخر کس برتے پر اتنی بڑی بات زبانوں سے نکال رہے ہیں۔ تیسری آیت کریمہ میں فرمایا کہ اس کے آنے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی جانب سے آئے گا جس کا ہر وعدہ سچا اور جس کی ہر تدبیر حتمی ہے۔ اور اس کی عظمت و شان کا حال یہ ہے کہ وہ مدارج اور زینوں کا مالک ہے۔ معارج معرج کی جمع ہے۔ عروج سے مشتق ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں۔ اور معرج اور معراج اس سیڑھی کو کہا جاتا ہے جس میں نیچے سے اوپر چڑھنے کے لیے بہت سے درجات ہوتے ہیں۔ اللہ ذی معارج ہے، یعنی اللہ تعالیٰ درجاتِ عالیہ والا ہے۔ اور یہ درجاتِ عالیہ اوپر نیچے سات آسمان ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) بھی اس کی تائید فرماتے ہیں۔ تو جو ذات درجاتِ عالیہ کی مالک اور بےحد بلند مراتب سے متصف ہو۔ جب وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کرلے تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ۔ (المعارج : 4) (ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ) عذاب میں تاخیر کے باب میں کوتاہی فکر کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات نہایت مراتب و مدارج کی مالک اور انسان کے تصور و خیال سے بھی بالا بلند ہے۔ اس کی طرف سے آنے والا عذاب یقینا ایسا ہوگا جس کے ٹل جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کئی سالوں سے اپنی قوم کو تکذیبِ رسول کے نتیجے میں آنے والے عذاب یا جزاء و سزا کے دن یعنی قیامت سے انذار فرما رہے ہیں، لیکن وہ دن آنے میں نہیں آتا اور نہ قیامت کے وقوع کے آثار دکھائی دیتے ہیں، تو آخر اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انسان کی کو تاہی فکر کا سبب دراصل یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنے پیمانوں سے ناپتا ہے۔ وقت کے بھی اس کے اپنے پیمانے ہیں۔ منٹ سیکنڈ سے لے کر صدیوں تک پھیلے ہوئے وقت کا بھی حساب انسان اپنے پیمانوں اور اپنے کیلنڈر کے مطابق کرتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی آنے والے واقعہ کو چند سال تک وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھتا تو اسے یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ یہ واقعہ کبھی ظہورپذیر نہیں ہوگا محض ہمیں ڈرانے کے لیے اس کا تکرار کیا جارہا ہے۔ تو یہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کے سامنے وسیع کائنات ہے۔ وہ اپنے علم کی وسعت کے مطابق اس کی مختلف سکیموں کے فیصلے فرماتا ہے۔ انسان کو سو پچاس برس کی مدت بھی بہت طویل معلوم ہوتی ہے لیکن کائناتی منصوبے لاکھوں کروڑوں سالوں کے بھی ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک منصوبہ وہ ہے جس کے تحت زمین پر نوع انسانی کو پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی ابتداء اور انتہا اور اس کے کام کرنے کا دورانیہ ہر چیز کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوچکا ہے۔ اور یہ بات بھی طے ہوچکی ہے کہ انسانی زندگی اور خیر و شر کی یہ سکیم کب اختتام پذیر ہوگی اور اس کو ختم کرنے کی ساعت خاص مقرر ہوچکی ہے۔ اور جو قومیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں ان کو کتنی مہلت عمل دی جائے اور کب ان کا خاتمہ کردیا جائے، یہ بات بھی طے ہوچکی ہے۔ لیکن ان میں سے ہر بات اللہ تعالیٰ کی اپنی وسعت علم اور اپنی وسیع تر حکمت کے مطابق ہے۔ ہم چونکہ اپنے شب و روز سے اس کا اندازہ کرتے ہیں تو بےصبر ہوجاتے ہیں لیکن یہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ شب و روز کے پیمانوں سے چلتے ہیں اور اس کا حال یہ ہے کہ سورة الحج کی آیت 47 میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تم سے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ منکرین کے انکار کا سبب ہماری گزارش کے مطابق ان کی کو تاہی فکر ہے اور ماننے والوں کی بعض دفعہ بےصبری بھی کو تاہی فکر ہی کا نتیجہ ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فیصلے اس کے اپنے پیمانوں کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ یہ جو کچھ کہا گیا یہ اس صورت میں ہے کہ یوم سے مراد عام یوم لیا جائے۔ اور آیت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قدر بلند مراتب کا مالک اور انسانوں سے اس قدر وراء الورا ہے کہ فرشتے اور جبرائیل امین بھی اس راہ کے مراحل طے کرنے کے لیے اس قدر لمبا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں کہ اگر ہم اس سفر کو طے کرنے کی کوشش کریں تو پچاس ہزار سال لگ جائیں۔ یہاں روح سے مراد حضرت جبرائیل امین ہیں۔ وہ اگرچہ ملائکہ میں شامل ہیں لیکن ملائکہ کے بعد ان کا ذکرعام کے بعد خاص کی نوعیت کا ہے جو ان کی عظمت شان پر دلالت کرتا ہے۔ پچاس ہزار سال کا مفہوم یہ بات یاد رہے کہ پچاس ہزار سال کا ایک دن تو یقینا ایک حقیقت ہے جس کا انکار کفر ہے لیکن اس حقیقت کے ادراک کی صورت کیا ہے اور ہم اس کو اپنے خانہ فکر میں کس طرح سجا سکتے ہیں تو یہ بات انسانی عقل اور شعور سے بلند ہے۔ اس کا تعلق آیات متشابہات سے ہے جس کا ماننا ضروری ہے لیکن جس کی حقیقت جاننے کے درپے ہونا گمراہی کا راستہ اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو ذات مخلوقات کی دسترس سے اس قدر بلند ہے کہ فرشتے اس کی بارگاہ تک پہنچنے کے لیے پچاس ہزار سال سفر کرتے ہیں۔ وہ کائنات کے معاملے سے بالکل بیخبر ہے، ایسا ہرگز نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مخلوق اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی، لیکن وہ خود انسانوں کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ ہر ایک کے معاملات کو دیکھتا اور نگرانی کرتا ہے۔ فرشتے بھی اس کی نگرانی میں ہیں۔ ہر ایک کی ضروریات نہ صرف اس کی دسترس میں ہیں بلکہ اس کی عطا و بخشش کی صورت بھی اختیار کرتی رہتی ہیں۔ اور ہر ایک کے معاملے کے ساتھ ساتھ اس کے اعمال بھی اس کی نگاہوں میں ہیں۔ بعض اہل علم نے یوم سے مراد یوم القیامت لیا ہے۔ یعنی اس عذاب کا وقوع قیامت کے روز ہوگا اور یہ وقوع یقینی اور حتمی ہے۔ اور یہ قیامت کا دن وہ ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ( رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر اتنا ہلکا ہوگا کہ ایک نماز فرض ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا۔ (مظہری) حضرت ابوہریرہ ( رض) کی ایک روایت میں یہ وقت ظہر اور عصر کے درمیان کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ ان روایاتِ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن کا یہ طول کہ یہ پچاس ہزار سال کا ہوگا ایک اضافی عمل ہے۔ کفار کے لیے اتنا ہی دراز ہوگا اور مومنوں کے لیے اتنا ہی مختصر ہوگا۔ اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سورة تنزیل السجدہ میں ایک دن کو ہزار سال کا دن قرار دیا گیا ہے۔ اور پیش نظر آیت میں پچاس ہزار سال کا۔ دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ اس لیے کہ دنوں میں طول کا اختلاف دراصل مختلف گروہوں کے اعتبار سے ہے۔ کسی کے لیے پچاس ہزار سال اور کسی کے لیے ایک ہزار سال اور مومنوں کے لیے ایک نماز کے وقت کے مطابق۔
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس اے پیغمبر ! آپ صبر کریں، شائستہ اور باوقار صبر

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلاً ۔ (المعارج : 5) (پس اے پیغمبر ! آپ صبر کریں، شائستہ اور باوقار صبر۔ ) آنحضرت ﷺ کو صبر کی تلقین مخالفین جس طرح عذاب کے مطالبے میں جلدی مچا رہے تھے بلکہ انہوں نے اسے تمسخر کا ذریعہ بنا لیا تھا ان کے مقابلے میں آنحضرت ﷺ کو جو رویہ اختیار کرنا چاہیے اس کے بارے میں ہدایت دی گئی ہے کہ آپ ﷺ ان بدبختوں کی جلد بازی اور استہزاء کے مقابلے میں نہایت شائستہ اور باوقار انداز اختیار کریں۔ ان کی شرافت سے گری ہوئی حرکتوں اور ناشائستہ رویئے پر آپ ﷺ برہم ہو کر نہ تو کوئی ایسا اقدام کریں جو آپ کی شان اور بلند مقام کے مطابق نہ ہو۔ اور نہ کسی ایسی کمزوری کا اظہار کریں جو آپ کے عظیم منصب کے لیے نقصان دہ ہو، بلکہ آپ دعوت و تبلیغ کی ذمہ داریوں کو اس طرح انجام دیتے رہیں کہ دیکھنے والا محسوس کرے کہ اس عظیم ذات گرامی کو اپنے مؤقف کی سچائی پر اس حد تک یقین ہے اور اپنے اللہ پر اس حد تک بھروسہ ہے کہ ان چھوٹے بڑے مخالفین کی اندھی مخالفت کا نوٹس لینا بھی انھیں پسند نہیں، بلکہ وہ اپنی گہری بصیرت کی بنیاد پر وثوق رکھتے ہیں کہ مخالفین کی مخالفت اور ان کی احمقانہ باتیں بالآخر صداقت اور حقانیت کے سامنے سپرانداز ہوجائیں گی۔ بظاہر مخالفین کے پاس قوت کے تمام سروسامان موجود ہیں۔ وہ آپ کو اور آپ کی دعوت کو ہر طرح کا نقصان پہنچانے پر قادر ہیں، لیکن آپ انھیں اسی بلند مقام اور اسی پر اعتماد لہجے میں خطاب فرمائیں جو کائنات کے خالق ومالک کے سفیر اور نمائندہ کی شان کے لائق ہو، تاکہ ان کے اندر اگر کہیں یہ جذبہ موجود ہو کہ ہوسکتا ہے کہ ہماری قوت کے مقابلے میں آنحضرت ﷺ کوئی کمی بیشی کرنے پر تیار ہوجائیں تو انھیں یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف بلانے والے کسی کمزوری کا شکار نہیں ہوا کرتے۔
Ayahs 70:6–7

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اس کو نہایت قریب دیکھ رہے ہیں

اِنَّھُمْ یَرَوْنَـہٗ بَعِیْدًا۔ وَّنَرَاہُ قَرِیْبًا۔ (المعارج : 6، 7) (یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں۔ اور ہم اس کو نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔ ) قیامت یا عذاب کے دور یا قریب ہونے کا مفہوم آیتِ کریمہ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ لوگ اس عذاب یا قیامت کو جس سے انھیں ڈرایا جارہا ہے بہت دور خیال کررہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عذاب جس ہمہ گیر تباہی کا نام ہے اور قیامت جس طرح ایک نئی دنیا کے برپا ہونے کا نام ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ جس کی وسعت اور عظمت کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ دنیا کا دستور یہ ہے کہ جب کوئی بڑا واقعہ پیش آنے والا ہو تو کچھ نہ کچھ اس کے آثار پہلے ظاہر ہونے لگتے ہیں، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ عذاب یا قیامت کی کوئی پیشگی علامت دکھائی نہیں دے رہی۔ ہر چیز اپنی جگہ پر قائم اور ہر عمل اپنے طریقے سے جاری وساری ہے۔ زندگی کی گاڑی نہایت ہمواری سے چل رہی ہے۔ کوئی ایسی چیز محسوس نہیں ہورہی جس سے اندازہ کیا جاسکے کہ کسی بہت بڑے واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے دن قریب آگئے ہیں۔ اس لیے وہ یہ کہتے تھے کہ اولاً تو قیامت آئے گی نہیں اور اگر تسلیم کرلیا جائے کہ اس کا وقوع ضرور ہوگا، جب بھی یہ کسی قریب زمانے کا نہیں، بہت دور زمانے میں پیش آنے والا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ پروردگار نے اس کے جواب میں فرمایا کہ یہ لوگ درحقیقت ہر چیز کو اپنی نگاہوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ حقائق جن کا تعلق عالم غیب سے ہے لیکن تاریخ نے بار بار ان کے ظہور کی گواہی دی ہے انھیں دیکھنا بصارت سے نہیں، بصیرت سے ممکن ہے۔ اور یہ لوگ صرف بصارت کے عادی ہیں، بصیرت سے بالکل ناواقف ہیں۔ اس صورتحال میں قیامت کا دکھائی دینا ان کے لیے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ ان کی بصارت کا تیز ہونا اور انھیں بصیرت کا عطا ہونا ایمان کے نور کے بغیر ممکن نہیں۔ اور یہ لوگ اس سے محروم ہیں اور بغیر بصیرت کے بصارت ان حقائق کا ادراک دنیا میں نہیں، آخرت میں کرے گی جبکہ اس بصارت کو تیز کردیا جائے گا اور انھیں کہا جائے گا کہ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ” پس آج تو تیری نگاہ بہت تیز ہے۔ “ لیکن صاحب بصیرت آج بھی اپنی بصیرت سے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روشنی میں وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جنھیں قرآن کریم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : دل کا نور کر خدا سے طلب آنکھ نور، دل کا نور نہیں اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ اس عذاب یا قیامت کو بہت دور دیکھتے ہیں اور ہم اس کو بالکل قریب دیکھتے ہیں۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آیت کریمہ میں قریب و بعید کے جو دو لفظ استعمال ہوئے ہیں یہ مسافت یا زمانے کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس سے بعیداز امکان یا بعیداز وقوع مراد ہے۔ یعنی یہ لوگ تو قیامت کے وقوع بلکہ امکان کو بھی بعید سمجھ رہے ہیں، یعنی ان کی عقل اسے تسلیم نہیں کرتی اور یقین تو بہت دور کی بات ہے۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔
Ayahs 70:8–9

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوجائے گا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے

یَوْمَ تَـکُوْنُ السَّمَآئُ کَالْمُھْلِ ۔ وَتَـکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ ۔ (المعارج : 8، 9) (جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوجائے گا۔ اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : الْمُھْل …مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ کیا ہے، پگھلا ہوا تانبا۔ اور بعض اسے ” پگھلی ہوئی چاندی “ قرار دیتے ہیں۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک اس آیت کریمہ میں یہ لفظ تیل اور تیل کی تلچھٹ کے معنی میں آیا ہے۔ عِھْنِ …کے معنی اون کے ہیں۔ لیکن سورة القارعہ میں پروردگار نے اس میں ایک لفظ کا اضافہ فرمایا ہے۔ اَلْمَنْفُوْش تو اس صورت میں عِھْنِ سے مراد دھنی ہوئی اون ہوگی۔ قیامت کی منظرکشی جو لوگ وقوع قیامت کو بعیداز عقل سمجھتے ہیں اور بصیرت سے محروم ہونے کے باعث دیکھنے پر اصرار کررہے ہیں اور دکھائی نہ دینے کی صورت میں انکار کرنے پر تل گئے ہیں۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کے فیصلے کے تحت یہ تو ممکن نہیں کہ انھیں قیامت دکھا دی جائے۔ البتہ ان کو توجہ دلانے اور فکرمند کرنے کے لیے قیامت کی ایک تصویر کھینچی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقوع قیامت کے وقت کیسی ہلچل مچے گی اور کائنات کی بڑی سے بڑی مخلوق پر کس طرح شکست و ریخت کا عمل جاری ہوگا۔ آسمان جیسی چیز جس میں کہیں کوئی دراڑ یا شگاف نظر نہیں آتا وہ تباہی کی نذر ہوجائے گا اور شاید جہنم کے شعلوں کے باعث اس کا رنگ سرخ ہوجائے گا۔ اور رنگ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ وہ اس طرح بکھر جائے گا جیسے تیل کی تلچھٹ ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ پہاڑجنھیں اہل عرب لازوال سمجھتے تھے، وہ دھنی ہوئی اون کی مانند پراگندہ کردیئے جائیں گے۔ جب قدوقامت اور جسامت میں ایسی عظیم مخلوقات کی تباہی کا عالم یہ ہوگا تو باقی کائنات کے بارے میں تصور کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ایسی تباہی مچے گی کہ کائنات کا شیرازہ درہم برہم ہوجائے گا۔ آج جو لوگ اپنے قلعوں اور گڑھیوں پر ناز کرتے ہیں اور جنھیں اپنے طاقت کے مختلف مظاہر پر بڑا بھروسہ ہے ان میں سے ہر چیز ایسی تباہی کا شکار ہوگی جس سے دیکھنے والے کا پِتّہ پانی ہوجائے گا۔ ہر چیز کی ہلاکت اور بربادی کے بعد ایک بالکل نیا جہان نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آئے گا۔
Ayahs 70:10–16

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے، مجرم تمنا کرے گا کہ کاش اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے فدیہ میں دے دے اپنی اولاد کو

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور روئے زمین کے سب لوگوں کو، پھر اپنے آپ کو بچا لے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہے

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو چمڑی ادھیڑ ڈالے گی

وَلاَ یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّـبَـصَّرُوْنَہُمْ ط یَوَدُّالْمُجْرِمُ لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ م بِبَنِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْہِ ۔ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا لا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ۔ کَلاَّ ط اِنَّھَا لَظٰی۔ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی۔ (المعارج : 10 تا 16) (اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے، مجرم تمنا کرے گا کہ کاش اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے فدیہ میں دے دے اپنی اولاد کو۔ اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو۔ اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے۔ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو، پھر اپنے آپ کو بچا لے۔ ہرگز نہیں، وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہے۔ جو چمڑی ادھیڑ ڈالے گی۔ ) قیامت کی مزید تفصیل احوالِ قیامت کے بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اس دن کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ ہر شخص پر نفسی نفسی کی کیفیت طاری ہوگی۔ جن دو شخصوں میں باہم دیگر محبت و اعتماد کا رشتہ تھا اور ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہے اور جن کی محبتیں اور نفرتیں مشترک رہیں، اور جن کے دل ہمیشہ ایک ساتھ دھڑکتے رہے، وہ بھی ایک دوسرے سے آنکھیں پھیر لیں گے۔ کوئی دوسرے کا حال پوچھنے کا روادار نہ ہوگا۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب لوگ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ دوست ایک دوسرے سے دور ہوں اور کوئی بڑی مصیبت آپکڑے تو بعض دفعہ محبت کی شدت دوسرے کا حال پوچھنے کے راستے میں حائل ہوجاتی ہے۔ لیکن یہاں تو حال یہ ہوگا کہ دوست دوستوں کو دکھائے جائیں گے، یعنی عذاب میں جلنا تڑپنا اور مصیبت میں بلبلانا ایک دوسرے کے سامنے ہوگا۔ لیکن ان کے اندر پھر بھی حمیت و حمایت کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا۔ کیونکہ قیامت کی ہولناکی نے سب جذبوں پر غلبہ پا لیا ہوگا۔ وہ جرائم پیشہ لوگ کہ جرم جن کے رگ و پے میں اتر جاتا ہے، وہ بڑی سے بڑی تکلیف کا سامنا کرتے ہوئے گھبراتے نہیں۔ لیکن قیامت کے روز حال یہ ہوگا کہ بڑے سے بڑا مجرم بھی تمنا کرے گا کہ اے کاش، آج اگر بڑے سے بڑا معاوضہ دے کر بھی اس عذاب سے چھوٹنے کا کوئی امکان ہوتا تو میں اس کے لیے اپنے قریب ترین عزیزوں کو بھی فدیہ میں دینے سے گریز نہ کرتا۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دینے کی تمنا کرے گا، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی اور صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان کو، بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو فدیہ اور معاوضہ میں دے کر اپنی جان بچانے کی تمنا کرے گا۔ لیکن یہ تمنا، تمنا ہی رہے گی، کیونکہ اس دن نہ کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی فدیہ۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ کسی کے پاس فدیہ دینے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ یعنی نہ فدیہ دینے کا امکان ہوگا اور نہ فدیہ کا سروسامان ہوگا۔ ایک اپنی جانِ ناتواں کے سوا، آدمی کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ اور اس جان کو اس قیامت کا سامنا ہوگا جس کا تصور بھی دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ قیامت کا عذاب ایسا نہیں جس میں قیل و قال اور گفت و شنید کی کوئی گنجائش ہو۔ وہ تو ایسی بھڑکتی ہوئی آگ ہے کہ جس مجرم کو اس کی ایک لپٹ بھی چھو جائے اور ایک شعلہ بھی اس تک پہنچ جائے تو وہ اس کی چمڑی ادھیڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ اِنَّھَا لَظٰی …اِنَّھَا، میں ضمیر کا مرجع وہی عذاب ہے جس کا ذکر ہورہا ہے اور یہ عذاب چونکہ آگ کے ذریعے ہوگا، اس لیے ضمیر کو مونث لایا گیا ہے۔ لَظٰی … کا معنی خالص شعلہ، جو آمیزش کے بغیرہو۔ شَوٰی … شواۃ کی جمع ہے۔ جس کے معنی سر کی کھال کے بھی ہیں اور ہاتھ پائوں کی کھال کے بھی۔ اور اسے سر اور اطرافِ بدن کی کھال کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نَزَّاعَۃ … کا معنی ہے کھینچ لینے والی۔ مفہوم آیت کا یہ ہے کہ وہ آگ ایسی شدید ہوگی کہ اس آگ کے شعلوں کی لپٹ دور ہی سے مجرموں کی کھلڑی کھینچ لے گی۔
Ayahs 70:17–18

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

وہ ان سب کو کھینچ بلائے گی، جنھوں نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَوَتَوَلّٰی۔ وَجَمَعَ فَاَوْعٰی۔ (المعارج : 17، 18) (وہ ان سب کو کھینچ بلائے گی، جنھوں نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری۔ اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا۔ ) آج بڑے چھوٹے کافروں کا حال یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر، اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دیتے، اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف بلاتے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ لیکن وہ پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں، دعوت کی طرف توجہ دینے کی بھی زحمت نہیں کرتے، پلٹ کر کبھی نہیں پوچھتے کہ آخر تم کہتے کیا ہو۔ اور منافقین کا حال یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جب انفاق کی دعوت دی جاتی ہے تو بجائے اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے، وہ مال کو مزید بڑھانے اور جمع کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ ہر غلط سلط طریقے سے بڑھ بڑھ کر ہاتھ مارتے ہیں اور مال کو سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی مال ہماری اصل قوت ہے اور یہی ہماری عیش و عشرت کی ضمانت ہے۔ اور انھیں یہ بات کسی طرح بھی دماغ میں نہیں آتی کہ مال خرچ کرنے سے بڑھتا ہے اور جمع کرنے سے کم ہوتا ہے۔ راہِ حق سے گریز اور حُبِ مال کو ایک ساتھ ذکر کرنے کا سبب جو لوگ راہ حق سے گریز کرتے اور مال کو جمع کرنے اور بڑھانے میں شب و روز محنت کرتے ہیں، ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ کرنے کی شاید وجہ یہ ہے کہ مال سے محبت جو انسان کو بخیل بنا دے اور اسے ضرورت کی بجائے مقصد زندگی کی شکل دے دے اور اسے زندگی کا سب سے بڑا ہدف بنا دے، اس طرز زندگی کو اختیار کرنے والے لوگ ہی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتے رہے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک سینے میں دو دل پیدا نہیں کیے، اسی طرح ایک دل میں برابر سطح کی دو محبتیں نہیں رہ سکتیں۔ اس بات کا امکان تو ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت دل کا اصل سرمایہ ہو اور باقی محبتیں اس کے تابع رہ کر اس سے غذا پاتی رہیں۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں اللہ اور غیر اللہ سے برابر محبت رکھتا ہوں۔ چناچہ جو شخص بھی اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف کبھی متوجہ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور اشرافِ قریش کا بھی اصل مرض یہی تھا۔ چناچہ انھیں توجہ دلاتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آج تو اللہ تعالیٰ کے دین سے تمہاری روگردانی بےتوجہی اور بےنیازی اور مال و دولت سے غائت درجہ التفات تمہارے لیے دولت و ثروت کی علامت بنے ہوئے ہیں، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے عذاب کی آگ ان امراض میں مبتلا لوگوں کو دور ہی سے دیکھ کر پہچانے گی اور انھیں اپنی طرف آنے کے لیے پکارے گی اور اس کی پکار اس طرح کی نہیں ہوگی کہ جس سے اعراض کیا جاسکتا ہو، بلکہ اس کی پکار میں ایک گرفت ہوگی کہ ایسے مجرم اس پکار کے ساتھ ہی کھنچتے چلے جائیں گے اور پھر ان پر جو گزرے گی اس کا تصور بھی آج کرنا شاید آسان نہیں۔
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا۔ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا۔ وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا۔ (المعارج : 19 تا 21) (انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے۔ جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے۔ اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔ ) ھَلُوْعٌ کا مفہوم ھَلُوْعٌ … کے لفظی معنی حریص، بےصبر، کم ہمت اور تھڑدلے کے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ آیت میں ھَلُوْعٌ سے مراد وہ شخص ہے جو مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو۔ اور حضرت سعید بن جبیر ( رض) نے فرمایا کہ اس سے مراد بخیل آدمی ہے۔ اور مقاتل ( رح) نے کہا کہ تنگ دل، بےصبر آدمی مراد ہے۔ اور یہ سب معانی متقارب ہیں۔ اور ھَلُوْعٌ کے مفہوم میں سب داخل ہیں۔ قرآن کریم نے اس کا مفہوم واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کی کم ہمتی اور بےصبری کا یہ عالم ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف یا مصیبت پیش آجاتی ہے تو صبر سے کام نہیں لیتا۔ اور جب اسے مال و دولت یا آرام و راحت کا کوئی سامان مل جاتا ہے تو اس میں بخل کرتا ہے۔ بےصبری سے مراد تکلیف کا وہ اظہار نہیں جو کم و بیش ہر زبان سے ہوتا ہے بلکہ اس سے مراد وہ جزع و فزع ہے جو حدود شرع سے باہر ہو۔ اور اس طرح بخل سے مراد فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہے۔ ایک شبہ کا ازالہ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ جن برائیوں، کوتاہیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ اگر انسان ان برائیوں پر پیدا کیا گیا ہے، یعنی یہ عیب اس کی تخلیق میں رکھے گئے ہیں تو پھر اس میں مبتلا شخص کا کیا قصور ہے کیونکہ وہ اپنے تخلیقی داعیات سے تو انحراف نہیں کرسکتا۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی گئی استعداد اور مادہ ہے۔ اور استعداد انسان میں صرف برائی اور شر کے لیے نہیں رکھی گئی بلکہ خیر اور صلاح کی بھی رکھی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی اسے حواس اور ہوش و خرد عطا فرما کر قوت امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔ اور وحی الٰہی کے نزول اور انبیائے کرام کی بعثت نے اس معاملے کو اور آسان کردیا ہے۔ اگر انسان اس ہدایت اور رہنمائی سے فائدہ اٹھائے تو اس کے لیے خیروصلاح اور شروفساد کے مادوں میں اعتدال پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ انسان نے جب بھی کبھی صدق دل اور پوری توانائی سے اس راستے پر قدم اٹھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اسے کامیابی عطا فرمائی ہے بلکہ اس کا وعدہ تو یہ ہے کہ جو بھی خیروصلاح کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور ہماری طرف آنا چاہتا ہے تو ہم اپنے راستے اس کے لیے کھول دیتے ہیں۔ اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے ہر علاقے کا انسان ہر طرح کی برائی میں سر سے پائوں تک ڈوبا ہوا تھا اور اپنی بری عادتوں پر اس حد تک جامد اور متصلب تھا کہ دیکھنے والا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ان لوگوں میں بھی کبھی تبدیلی کی جوت جگائی جاسکتی ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی مساعیِ جمیلہ اور آپ ﷺ کی دعوت بالغہ نے ان کے اندر جو تبدیلی پیدا فرمائی اور ایمان لانے والوں نے جس طرح خود اپنے اندر انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی، اسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ اخلاقی اعتبار سے بالکل مردہ تھے لیکن اس دعوت و تربیت نے ان کو مسیحا بنادیا۔
Ayahs 70:22–23

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں

اِلاَّ الْمُصَلِّیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاَ تِہِمْ دَآئِمُوْنَ ۔ (المعارج : 22، 23) (مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں۔ جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں۔ ) زندگی میں بےاعتدالی سے محفوظ لوگ اور ان کی صفات سابقہ آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ہر تکلیف میں بلبلا اٹھتے ہیں اور ہر خوشحالی پر مارگنج بن کر بیٹھ جاتے ہیں، ان کی زندگی چونکہ اعتدال کے جوہر سے خالی ہوتی ہے اس لیے ان کا کوئی رویہ پائیدار نہیں ہوتا بلکہ حالات کی تبدیلی سے بدلتا رہتا ہے۔ اب اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ زندگی کے اس بہت بڑے عیب اور ناہمواری سے صرف وہ لوگ بچے ہوئے ہیں جن کی صفات آگے آرہی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے لوگ وہ ہیں جو نماز پڑھنے والے ہیں۔ نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے تعلق میں ایک ایسی مضبوطی اور استقامت پیدا ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے متضاد رویوں میں ٹھیک اس راستے پر چلتے ہیں جو راستہ اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔ نماز ان کے اندر چونکہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا ایک جذبہ پیدا کردیتی ہے اور غیر اللہ کے ہر اس راستے سے جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے متصادم ہو یکسو کردیتی ہے۔ اس لیے بےاعتدالی اور ناہمواری ان کی زندگیوں میں داخل نہیں ہوسکتی۔ البتہ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک صفت کا پیدا کرنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا نمازوں کی مداومت بھی رکھتا ہو۔ پہلی صفت مداومت کا مفہوم مداومت کے متعدد مفاہیم ہیں، جن میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ نماز ان لوگوں میں اللہ تعالیٰ سے تعلق اور زندگی میں اعتدال پیدا کرتی ہے جو ہر قسم کی سستی، آرام طلبی، مصروفیت یا دلچسپی کو بہانہ بنا کر نماز چھوڑنے والے نہ ہوں، بلکہ ان کا حال یہ ہو کہ جب نماز کا وقت آجائے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے مالک کی عبادت بجا لانے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہوں۔ احادیثِ مبارکہ میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات بیان فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنے اہل خانہ سے نہایت محبت بھرے انداز میں گفتگو فرما رہے ہوتے کہ اذان کی آواز آجاتی، تو آپ ﷺ اس طرح نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے اور اہل خانہ سے یوں لاتعلق ہوجاتے جیسے وہ کسی کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی مداومت کے مفہوم کا معنی ہر چیز پر نماز کے تصور کا غالب آجانا ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا وہ ہوسکتا ہے جو حضرت عقبہ بن عامر ( رض) نے بیان فرمایا ہے کہ وہ پورے سکون اور خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں، کوے کی طرح ٹھونگیں نہیں مارتے اور نماز کے دوران ادھر ادھر التفات بھی نہیں کرتے۔ اور تیسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ نہیں ہوتے کہ انھیں عام حالات میں ذکرالٰہی یا نماز پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ لیکن ان پر کوئی مصیبت آجائے تو بڑے نمازی اور بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے والے بن جاتے ہیں۔ کوئی امتحان درپیش ہو تو امتحان میں کامیابی کے لیے نمازوں کی پابندی بھی شروع ہوجاتی ہے اور دعائیں بھی خوب دل لگا کے مانگی جاتی ہیں۔ کاروبار میں کوئی نقصان ہوجائے تو اس کی تلافی کے لیے ان کا خشوع و خضوع دیدنی ہوتا ہے۔ اور جب وہ وقت گزر جائے اور معاملات درست ہوجائیں تو وہ کان جھاڑ کے اس طرح نمازوں سے الگ ہوجاتے ہیں، گویا خدا سے نہ کبھی ان کو کوئی سابقہ پڑا ہے اور نہ آئندہ کبھی پڑنے والا ہے۔ ایسی نماز تو بجائے خود عدم توازن کا مظہر ہے۔ وہ زندگی کے عدم توازن اور ناہمواری کو کیونکر ختم کرسکتی ہے۔ پروردگار جن نمازوں کو مثمر بناتے ہیں اور آخرت میں جو بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہوں گی وہ، وہ نمازیں ہیں جو پابندی اور تسلسل کے ساتھ پڑھی جائیں۔ آنحضرت ﷺ کے ارشادات اور آپ ﷺ کے عمل سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس عمل میں برکت ہوتی ہے جو اگرچہ مقدار میں زیادہ نہ ہو لیکن پابندی کے ساتھ ہمیشہ اس کو انجام دیا جائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے آنحضرت ﷺ کے عمل کو جھڑی سے تشبہیہ دی ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ آپ ﷺ کا عمل وقتی اور ہنگامی نہیں ہوتا تھا کہ جس طرح ایک زوردار بارش ہوجائے اور اس کے بعد طویل عرصے کے لیے ابر غائب ہوجائے، تو اس بارش کا فصلوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ فصلیں سوکھ کر تباہ ہوجاتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس تھوڑی بارش بھی جھڑی کی شکل میں قائم و دائم رہے تو وہ کھیتوں کو شاداب رکھتی اور فصلوں بارآور کرتی ہے۔
Ayahs 70:24–25

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سائل اور محروم کا

وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۔ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ (المعارج : 24، 25) (اور وہ جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے۔ سائل اور محروم کا۔ ) دوسری صفت انفاق ایسے لوگوں کی دوسری صفت ایک ایسی بات کو بیان فرمایا گیا ہے جو دین کے دوسرے بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ یعنی دین کا ایک بازو اگر نماز ہے تو دوسرا بازو انفاق ہے۔ اور ان دونوں کو دین میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اور پھر یہی دونوں بنیادی صفات جہاد کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں راست روی اس وقت آتی ہے جب اس کا تعلق ایک طرف اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوجائے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے بندوں سے۔ اور یہی دین اسلام کا اصل مطالبہ اور اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ نماز بندے کو خدا سے جوڑتی ہے۔ اور انفاق سے بندے کا تعلق نوع انسانی سے صحیح معنی میں پیدا ہوتا ہے۔ آیت میں حَقٌّ مَّعْلُوْمٌکے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی وہ لوگ اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر و متعین حق سمجھتے ہیں۔ اس سے بعض اہل تفسیر نے یہ سمجھا ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ ہی ایک ایسا عطیہ ہے جس کا نصاب اور جس کی مقادیر پروردگار نے مقرر فرمائی ہیں۔ اصولی طور پر تو یہ بات صحیح ہے لیکن اس آیت میں زکوٰۃ مراد لینا اس لیے صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ زکوٰۃ کا نظام ایک معین شرح نصاب کے ساتھ مدنی دور میں نافذ ہوا اور یہ سورة بالاتفاق مکی ہے۔ البتہ اس سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے طور پر اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حصہ طے کر رکھا ہے جسے وہ ان کا حق سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ یہی معنی حضرت عبداللہ ( رض) ابن عباس ( رض) ، حضرت عبداللہ ( رض) ابن عمر ( رض) ، مجاہد ( رح) ، شعبی ( رح) اور ابراہیم نخعی ( رح) نے بیان کیے ہیں۔ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ …سائل سے مراد پیشہ ور بھیک مانگنے والا نہیں، بلکہ وہ حاجت مند شخص ہے جو کسی سے مانگے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز کرے۔ البتہ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ہر ہاتھ پھیلانے والا پیشہ ور نہیں ہوتا۔ اب چونکہ مانگنے والوں کی کثرت ہوگئی ہے جو امت مسلمہ کے لیے نہایت شرمناک بات ہے۔ اس لیے مدد دینے والے کو تھوڑا بہت تردد ضرور کرنا چاہیے تاکہ ایسا نہ ہو کہ حقیقت میں ضرورت مند لوگ رہ جائیں اور پیشہ ور لے جائیں۔ لیکن اس میں بہت جستجو کرنا بھی اچھا نہیں۔ اور کسی کو جھڑکنا یا ملامت کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ قرآن و سنت نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ محروم سے مراد ایسا شخص ہے جو بیروزگار ہو یا اس کا روزگار اس کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو۔ یا کسی حادثے یا آفت کا شکار ہو کر محتاج ہوگیا ہو۔ لیکن وہ سوال کرنے سے گریز کرتا ہو۔ اس کی عزت نفس ناداری کے باوجود اسے خودداری مجروح کرنے کی اجازت نہ دیتی ہو۔ خاص طور پر وہ مصیبت زدہ جو پہلے صاحب حیثیت رہ چکا ہو، پھر گردش روزگار کے ہاتھوں نان شبینہ کا محتاج ہوگیا ہو۔ یہ لوگ جن کا ذکر ہورہا ہے ایسے محروم لوگوں کی آگے بڑھ کر مدد کرتے ہیں، انھیں خود تلاش کرتے ہیں۔ وہ اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ ان سے مدد مانگیں بلکہ ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ وہ ایسے خوددار لوگوں کی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر ان کی مدد کریں۔
Ayahs 70:26–27

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور وہ جو جزاء کے دن کی تصدیق کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں

وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ ۔ (المعارج : 26، 27) (اور وہ جو جزاء کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ ) تیسری صفت روز جزاء کا یقین جو لوگ سائلوں اور محروموں کا اپنے مال میں ایک متعین حصہ رکھتے ہیں ان کے اس عمل کا محرک اور سبب یہ ہے کہ وہ روزجزاء پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ تصدیق کا تعلق دل کے یقین سے ہوتا ہے۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ اپنے ایک ایک لمحہ اور ایک ایک عمل کی جوابدہی کرنی ہے۔ مال کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کا حق ادا کیا تھا یا نہیں۔ چناچہ یہ محرک انھیں ہمیشہ سائلوں اور محروموں کے لیے مدد کرنے پر انگیخت کرتا رہتا ہے اور یہ بات بھی ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کا یقین نہیں رکھتے اور روزجزاء کو محض ایک افسانہ سمجھتے ہیں، وہ کبھی غریبوں اور مسکینوں پر اپنا مال خرچ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ سورة الماعون میں ارشاد فرمایا گیا ہے اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْن۔ فَذَالْـکَ الَّذِیْ یَدْعُ الْیَتِیْمَ ۔ ” بھلا دیکھا تم نے اس کو جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے، وہی ہے جو یتیم کو دکھے دیتا ہے۔ “ دوسری آیت کریمہ میں تصدیق بِیَوْمِ الدِّیْن کا نتیجہ بیان فرمایا ہے۔ چونکہ وہ لوگ روز جزاء کا یقین رکھتے ہیں تو اس یقین نے ان کے اندر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف پیدا کردیا ہے۔ وہ ہر وقت لرزاں و ترساں رہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے مال میں مستحقین کے حقوق ادا کرنے سے قاصر رہے تو اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے اور اس کے عذاب کا کیسے سامنا کرسکیں گے۔ قرآن کریم میں سورة الدہر کی آیت 7 تا 10 میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ( وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اپنے نذریں پوری کرتے اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہمہ گیر ہے اور مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ اس کی کمیابی یا اس کے ضرورت مند ہونے کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف رضائے الٰہی کے لیے کھلاتے ہیں، تم سے کسی بدلے یا شکرگزاری کے خواہاں نہیں ہیں۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت منحوس قسم کے دن کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ )
Ayah 70:28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے

اِنَّ عَذَابَ رَبِّھِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ ۔ (المعارج : 28) (بیشک ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔ ) نیک بندوں کے طرزفکر کی تعریف اس آیت کریمہ میں ان نیک بندوں کے طرز فکر کی تعریف فرمائی گئی ہے، یعنی ان کا اپنے رب کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنے کے لیے غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور قیدیوں کو کھلانا پلانا اور ان کی مدد کرنا، یہ ان کی اس قابل تعریف فکر کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ایسی چیز نہیں جس کے بارے میں بےخوف رہا جاسکتا ہو۔ وہ کسی وقت اور کسی حال میں بھی نازل ہوسکتا ہے۔ اور پھر وہ ایسا ہمہ گیر اور شدید عذاب ہے کہ جس سے بچائو کی کوئی صورت ممکن نہیں۔
Ayah 70:29

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ ۔ اِلاَّ عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْنَ ۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ ۔ (المعارج : 29 تا 31) (اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بجز اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ عورتوں کے، سو اس باب میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ) چوتھی صفت کردار کی پاکیزگی نماز، انفاق اور خشیت الٰہی کے بعد اب ان نیک بندوں کی اخلاقی بلندی اور کردار کی پاکیزگی کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ یعنی وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یعنی جسم کے وہ حصے جنھیں چھپانا ضروری ہے۔ انھیں کھولنے اور عریاں کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ نہ وہ دوسروں کے ستر پر نگاہ ڈالتے ہیں اور نہ اسے برداشت کرتے ہیں کہ کوئی ان کے ستر پر نگاہ ڈالے۔ آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ : ” کوئی شخص مجھے عریاں حالت میں دیکھے یعنی اس کی نظر میرے ستر پر پڑے اس سے بہتر ہے کہ مجھے آسمانوں سے گرادیا جائے اور میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں “۔ اور یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے اور عورت کاستر ہاتھ پائوں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ہے۔ اب اس کی شکایت کس سے کی جائے کہ حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ کی بیٹیاں مختلف کھیلوں میں شریک ہو کر ٹیوی پر اپنے جسم کی نمائش کرتی ہیں اور ڈراموں اور کمرشل میں کام کرنے والی بہو بیٹیاں اپنے نازوانداز، اپنے جسم کے مختلف زاویے اور اپنی ادائوں سے دنیا کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہم کر سٹن کیلر کے قبیل سے تعلق رکھتی ہیں، ہمار افاطمہ اور عائشہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی حالت دیکھ کر تو بعض دفعہ بےساختہ کہنے کو جی چاہتا ہے ؎ بانجھ ہوجائیں زمینیں لڑکیاں پیدا نہ ہوں اے خدا شہنازگل سی بیٹیاں پیدا نہ ہوں پھول پیدا ہوں مگر شاخوں کی آرائش رہیں لڑکیاں پیدا ہوں لیکن تتلیاں پیدا نہ ہوں اور جہاں تک مردوں کا تعلق ہے انھوں نے فری سٹائل کشتیوں، کبڈی اور بعض دوسری کھیلوں سے امتیاز ہی ختم کرڈالا ہے کہ مرد کا بھی کوئی ستر ہوتا ہے۔ دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ ہے کہ وہ اپنی عصمت وعفت کو محفوظ رکھتے ہیں۔ یعنی صنفی معاملات میں آزادی نہیں برتتے۔ شہوانی خواہشات کو کنڑول میں رکھتے ہیں اس کے استعمال میں بےلگام نہیں ہوتے۔ وہ ان کو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے۔
Ayahs 70:30–31

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

بجز اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ عورتوں کے، سو اس باب میں ان کو کوئی ملامت نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

اِلاَّ عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْنَ ۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ ۔ (المعارج : 30، 31) بجز اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ عورتوں کے، سو اس باب میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ سابقہ آیت کریمہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ جو اصحابِ ایمان اور اللہ والے ہوتے ہیں وہ اپنی شرمگاہوں کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں کہ وہ جنسی تعلق کو اپنے لیے ایک عیب سمجھتے ہیں۔ وہ بالکل راہبوں اور جوگیوں کی طرح زندگی بھر نہ شادی کرتے ہیں اور نہ کسی اور طرح اس تعلق کے قریب جاتے ہیں۔ چناچہ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں کہ بیویوں اور کنیزوں کے سوا صنفی تعلق کسی اور سے قائم نہیں کرتے۔ وہ چونکہ اپنے اللہ پر ایمان لائے ہیں اس کی شریعت کو انھوں نے اپنا دستورالعمل بنایا ہے اور اس کے رسول کو اپنا آئیڈیل اور اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لیے جہاں اس کی شریعت کسی چیز کی اجازت دیتی ہے تو وہ اجازت کو اپنے لیے ذریعہ فلاح سمجھتے ہیں اور جہاں کسی چیز سے روکتی ہے تو اس سے رک جانے کو اللہ کی رضا کا راستہ جانتے ہیں۔ وہ اپنے صنفی تعلقات میں نہ تو بالکل سانڈھ بن جاتے ہیں کہ آبروئیں برباد کرتے پھریں اور انسانی معاشرے کو لاعلاج امراض کا شکار کردیں اور نہ وہ اپنے اوپر غیر ضروری پابندیاں لگا کر رہبانیت کا راستہ اختیار کرکے فطرت سے جنگ کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں نکاح کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنی بیویوں سے صنفی تعلق قائم کریں۔ اسی طرح لونڈیوں اور کنیزوں سے بھی جنسی تعلق قائم کرنے کی اجازت دی ہے کیونکہ ایک وقت میں یہ بھی اسلامی معاشرے کی بہتری اور اصلاح کے لیے بہت ضروری تھا۔ بیوی سے یہ تعلق اس لیے جائز ہے کہ نکاح کو جائز طریقہ قرار دیا گیا ہے اور لونڈی سے اس تعلق کے جواز کا سبب یہ ہے کہ باقاعدہ قانونی حیثیت سے لونڈی اپنے آقا کی ملک میں آتی ہے اور وہ ملک اس کے آقا کو اس سے تمتع کا حق دیتی ہے۔ لیکن اب چونکہ غلامی کا دور گزر گیا ہے اسلام نے اپنی ہمہ گیر کوششوں سے غلامی کو ختم کرڈالا ہے اس لیے ازسر نو ان بحثوں کو زندہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ یہاں تو بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں صنفی ضرورت ان کا فطری تقاضا ہے۔ اللہ نے اس تقاضے کو قانونی شکل دے کر نکاح اور ملک کی صورت میں اس کی اجازت دی ہے۔ لیکن جو شخص ان دونوں جائز طریقوں سے تجاوز کرتا ہوا کوئی اور راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ حد سے تجاوز کرنے والوں میں شمار ہوگا اور اسلامی شریعت میں حد سے تجاوز کو زنا کہا گیا ہے جس پر حد زنا جاری کی جاتی ہے۔ متعہ کا رد بعض علما نے انھیں آیات سے متعہ کی حرمت کو ثابت کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ایک مومن کے لیے صنفی خواہشات کی تکمیل کے دوہی طریقے ہیں جنھیں قرآن کریم نے جائز ٹھہرایا ہے۔ ایک ہے ” منکوحہ بیوی “ اور دوسری ہے ” مملوکہ لونڈی “۔ اس کے علاوہ تیسری ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں صنفی تعلق پیدا کیا جاسکے۔ جو شخص کسی عورت سے متعہ کرتا ہے تو یہ ممنوعہ عورت نہ تو بیوی کے حکم میں داخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں۔ لونڈی تو ظاہر ہے کہ وہ نہیں ہے اور جہاں تک بیوی ہونے کا تعلق ہے اسے بیوی بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ زوجیت کے لیے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ نہ وہ مرد کی وارث ہوتی ہے، نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے۔ نہ اس کے لیے عدت ہے، نہ طلاق۔ نہ نفقہ، نہ ایلاء اور ظہار اور لعان وغیرہ۔ بلکہ چار بیویوں کی مقررہ حد سے بھی وہ مستثنیٰ ہے۔ پس جب وہ بیوی اور لونڈی دونوں کی تعریف میں نہیں آتی تو لامحالہ وہ ان کے علاوہ کچھ اور میں شمار ہوگی۔ جس کے طالب کو قرآن حد سے گزرنے والا قرار دیتا ہے۔ علامہ شبلی نے اپنی کتاب ” المامون “ میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ خلیفہ مامون اہل تشیع کے دلائل سے متاثرہو کر متعہ کے جواز کا قائل ہوگیا اور اس نے شہر میں متعہ کے جواز کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔ جب شیخ الاسلام کو علم ہوا تو وہ خلیفہ کے پاس آئے اور اس سے آکر بات کی اور انھیں آیات سے استدلال کیا اور مامون سے پوچھا کہ ممتوعہ عورت لونڈی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ تو کیا بیوی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ تو شیخ الاسلام نے کہا کہ اس کے علاوہ تو ہر تعلق قرآن کریم نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کو حد سے تجاوز کرنے والا قراردیا ہے۔ مامون کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا تو دوبارہ شہر میں متعہ کے حرام ہونے کا اعلان کرایا گیا۔ اہلِ تشیع کی جسارت اہلِ تشیع متعہ کو مباح ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کے فضائل بیان کرنے میں انتہائی مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔ پیش نظر آیات کی موجودگی میں میں نہیں سمجھتا کہ وہ کون سے دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن دلائل سے قطع نظر ایک بات نہایت حیران کن ہے کہ جس کام کو وہ فضیلت اور ثواب کا کام سمجھتے ہیں اور لوگوں کو اس کی ترغیب بھی دیتے ہیں اسی کام کو وہ اپنی بچیوں اور اپنی بہنوں کے لیے کبھی سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بازاری عورتوں کا ایک بازار لگا رہے ؟ یا طبقہ امرا کے لوگ غریب بچیوں سے متعہ کے نام پر عیاشی کرتے رہیں ؟ اگر ایک فعل ایک خاندان کے لیے باعث ننگ وعار ہے تو دوسرے کسی خاندان کے لیے باعث عزو وقار کیسے ہوسکتا ہے ؟
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھنے والے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ ۔ (المعارج : 32) (اور وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھنے والے ہیں۔ ) پانچویں اور چھٹی صفت امانتوں اور عہد کی پاسداری اہلِ ایمان کی پانچویں اور چھٹی صفت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی امانتوں کا پاس رکھنے والے ہیں۔ امانت کا لفظ بڑا وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو صلاحیتیں اور قوتیں عطا فرمائی ہیں یہ اس کی انسانوں کے پاس امانتیں ہیں۔ زندگی سب سے بڑی امانت ہے۔ جوانی زندگی کا ایک حصہ ہے لیکن اپنی اہمیت کے پیش نظر الگ سے اسے امانت کا درجہ دیا گیا ہے۔ مال و دولت بھی اللہ کی امانت ہے اور مال و دولت کے حصول کی صلاحیت بھی اللہ کی امانت ہے۔ ذہنی صلاحیتیں حصول علم کے ذرائع اور پھر اسے عام کرنے کی کوششیں بھی اللہ کی امانت ہیں۔ ان سب کے بارے میں الگ الگ پوچھا جائے گا کہ تم نے ان امانتوں کا حق کیسے ادا کیا ؟ کیا یہ امانتیں، امانتیں رکھنے والے کی ہدایت کے مطابق صحیح مصرف میں صرف کی گئیں یا ان میں خیانت کی گئی ؟ اسی طرح اولاد بھی اللہ کی امانت ہے۔ عہدہ ومنصب بھی اللہ کی دین ہے۔ وجاہت اور شخصیت بھی اللہ کا عطیہ ہے۔ ان سب کے بارے میں پوچھاجائے گا۔ اسی طرح انسان جو ایک دوسرے کے پاس امانتیں رکھواتے ہیں یا دوسروں کے جو حقوق کسی شخص کے ذمہ عائد ہوتے ہیں یہ بھی امانت کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔ اہل ایمان ان تمام امانتوں کو اللہ کا حق جان کر ادا کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔ اہلِ ایمان کی ایک اور صفت اصحابِ ایمان کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ عہد کا پاس کرنے والے ہوتے ہیں۔ عہد میں وہ تمام عہدومیثاق شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لیے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطے سے اپنی شریعت کی شکل میں اس دنیا میں لیے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام عہدومیثاق بھی اس میں شامل ہیں جو ہم نے ایمان کی صورت میں اپنے اللہ سے کیے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام معاہدات اور تمام قول وقرار جو ہم نے مختلف قوموں اور مختلف افراد سے کیے ہیں، خواہ وہ تحریری شکل میں ہوں یا زبانی حد تک یا معاشرے کے معروف کی صورت میں ہم اسے قبول کرچکے ہیں یہ تمام بھی عہدومیثاق میں شامل میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ایسی تمام امانتوں اور تمام عہدومیثاق کی پاس داری کا حکم دیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا شاید ہی کوئی خطبہ ایسا ہوگا جس میں آپ نے یہ ارشاد نہ فرمایا ہو : لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ” اس آدمی کا ایمان نہیں جس میں امانت کی پابندی نہیں “۔ اور لادین لمن لا عھد لہ ” اور اس آدمی کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں “۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے منافق کی علامتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ چار خصلتیں ہیں کہ جس میں وہ چاروں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک پائی جائے اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے۔ جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے وہ چار خصلتیں یہ ہیں کہ 1 جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔ 2 جب بولے تو جھوٹ بولے۔ 3 جب عہد کرے تو توڑ دے۔ 4 اور جب کسی سے جھگڑے تو اخلاق ودیانت کی ساری حدیں پھلانگ جائے۔ وہ اصحابِ ایمان جنھیں اللہ نے کامیابی سے نوازا ہے وہ امانتوں کی بھی پاسداری کرتے ہیں اور عہدومیثاق کا بھی پاس کرتے ہیں۔
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی شہادتوں کو ادا کرنے والے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِشَھٰدٰ تِہِمْ قَـآئِمُوْنَ ۔ (المعارج : 33) (اور وہ جو اپنی شہادتوں کو ادا کرنے والے ہیں۔ ) ساتویں صفت ادائے شہادت گزشتہ آیت کریمہ میں جس طرح امانت اور عہد کے الفاظ وسیع معنی میں استعمال ہوئے ہیں اس طرح لفظ شہادت اس آیت میں وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ شہادت کی جمع ہے۔ شہادت کا معنی گواہی ہوتا ہے۔ یہاں نیک بندوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں شہادت کے ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی جس شہادت کا ذمہ انھوں نے اپنے سر لیا ہے اور جس شہادت کا وہ وعدہ کرچکے ہیں چاہے وہ شہادتِ کبریٰ ہو جو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر اس امت پر فرض کی ہے، جسے عام الفاظ میں شہادتِ حق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشاد فرمایا گیا ہے لِتَکُوْنُوْا شُہَدَائَ عَلٰی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول کریم ﷺ تم پر گواہ بنیں “ اسی طرح ہر سچی بات کی گواہی یا ہر ایسی گواہی جس کی ذمہ داری ایک مومن قبول کرلے یا کوئی ایسا واقعہ جو اس کی نظروں کے سامنے ہوا اور کوئی اور اسے دیکھنے والا نہ ہو یا گواہی دینے والا نہ ہو۔ اور اسے اس کی گواہی کے لیے طلب کیا جائے، اس کا حق ادا کرنا اس کے لیے لازم ہوجائے گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے خطرے کا سامنا کرتے ہوئے ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہیں۔