Ayahs 69:1–3اَلَحَـآقَّـۃُ ۔ مَا اَلْحَـآقَّـۃُ ۔ وَمَـآ اَدْرَکَ مَا الْحَـآقَّـۃُ ۔ (الحآقۃ : 1 تا 3)
(وہ ثابت ہوچکنے والی۔ کیا ہے وہ ثابت ہوچکنے والی۔ کیا جانو کہ کیا ہے وہ ثابت ہوچکنے والی۔ )
اَلَحَـآقَّـۃُ کا مفہوم
اَلَحَـآقَّـۃُ … اس چیز کو کہتے ہیں جو خود حق اور ثابت ہو اور اسے بھی کہتے ہیں جو دوسری چیزوں کو حق ثابت کرنے والی ہو، ایسی چیز کو بھی کہتے ہیں جس کا وقوع عقلاً و اخلاقاً لازم ہو، جو بالکل اٹل اور قطعی ہو، یہ ایک ہی لفظ جملہ کے قائم مقام ہے، یہ ایسا مبتداء ہے جسے خبر کی حاجت نہیں کیونکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کی توجہ مبتداء پر مرکوز رکھی جائے۔
یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور یہ نام بجائے خود اپنے وجود پر دلیل ہے۔ کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے اسے بہرحال واقع ہو کے رہنا ہے اور انسانی حالات کا مطالعہ اور اس کے نفسیات کی تشخیص یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ قیامت کا آنا اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کے ظہور اور اخلاقی نکتہ نگاہ سے ضروری ہے۔ اور قرآن کریم میں جابجا اس کے دلائل دیئے گئے ہیں۔
مَا اَلْحَـآقَّـۃُ …کیا ہے وہ ہو کے رہنے والی۔ یہ اسلوبِ بیان قیامت کی عظمت، اہمیت اور وقوع کے لیے دلیل قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور یہ اسلوبِ بیان اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب خطاب ایسے لوگوں سے ہو جو سر سے پائوں تک غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوں اور ہزار توجہ دلانے کے باوجود ہوش میں آنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ انہیں اس اسلوب سے باور کرایا جاتا ہے کہ تم قیامت کو مانو یا نہ مانو وہ تو آکے رہنے والی چیز ہے، اس کا وقوع میں آنا حد درجہ یقینی ہے۔ اور پھر اس کی عظمت اور اس کے وقوع کے یقینی ہونے کو مزید نمایاں کرنے کے لیے فرمایا کہ کیا ہے وہ ہو کے رہنے والی ؟۔ یعنی اس کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔
وَمَـآ اَدْرَکَ مَاالْحَـآقَّـۃُ … اور تم کیا جانو، وہ ہو کے رہنے والی چیز کیا ہے۔ یہ اسلوب اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کہنے والا اپنی شخصیت کی پوری توانائی اور ہمدردی اور خیرخواہی کے تمام جذبات سے کام لیتے ہوئے کسی ایسی بات کی عظمت کو انتہا درجے تک نمایاں کردینا چاہتا ہے، سننے والے جس سے تکلیف دہ حد تک غفلت کا شکار ہوں اور یہ ہر زبان میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے سننے والا اگر ہوش و خرد سے بالکل تہی دامن نہیں یا عصبیت نے اسے اندھا نہیں کردیا تو وہ کہنے والے کے دل کے سوز سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور کبھی اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ تمہیں جس بات کی طرف بلایا جارہا ہے وہ تمہاری زندگی میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ تم جن عقلی پیمانوں سے اسے جاننے کی کوشش کررہے ہو وہ ان پیمانوں سے ماورا چیز ہے۔ اقبال نے ایسے ہی احساسات سے معمور ہو کر یہ بات کہی ہے :
اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تصور سے فزوں تر ہے وہ نظارہ
پیشِ نظر آیت کریمہ میں بھی یہی فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں آج اس کی دہشت اور اس کی بےپناہی کا اندازہ نہیں۔ لیکن تمہیں کیا خبر کہ اس کے برپا ہوجانے کے بعد انسانوں پر کیا گزرے گی اور جو آج نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کی تکذیب کررہے ہیں وہ کس اندوہناک صورتحال سے دوچار ہوں گے۔
قرآن کریم نے یہ اسلوبِ کلام متعدد جگہ اختیار کیا ہے۔ قیامت ہی کے حوالے سے سورة القارعہ اس کی بہترین مثال ہے۔
Ayah 69:4کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌ م بِالْقَارِعَۃِ ۔ (الحآقۃ : 4)
(ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والے کو جھٹلایا۔ )
الْقَارِعَۃِ کا مفہوم اور قیامت کے انکار کا اہتمام
سابقہ تین آیات میں قیامت کے یقینی وقوع کا ذکر فرمایا اور اس کے آنے کو عقلاً و اخلاقاً لازمی قرار دیا۔ اب اس پر اضافہ کرتے ہوئے یہ فرمایا جارہا ہے کہ قیامت کا آنا تو ایک حقیقت ہے، لیکن اسے تسلیم کرنا یا انکار کردینا محض علمی مشغلہ نہیں بلکہ انسانوں کی تعمیر کردار اور باہمی معاملات کی بہتری اور دنیا کی مصلحت کے لیے اس کا آنا ازبس ضروری ہے۔ جو شخص اس کے وجود سے انکار کرتا ہے وہ درحقیقت انسانی زندگی کی تباہی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اور جو شخص اس کا اقرار کرتا ہے وہ نہ صرف اپنی زندگی کی تعمیر چاہتا ہے بلکہ انسانوں کی بھلائی، خیرخواہی اور اجتماعی زندگی کی ہمواری کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ چناچہ اس بنیادی حقیقت کو واضح کرنے اور قیامت کے عقیدے کو انسانی زندگی کے لیے ناگزیر قرار دینے کے لیے پیش نظر آیات میں تاریخ سے استشہاد کیا گیا ہے۔ اور سب سے پہلے ثمود اور عاد کا ذکر کرتے ہوئے ان کے انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ وہ اس انجام کو صرف اس لیے پہنچے تھے کہ انھوں نے القارعہ کا انکار کیا تھا۔ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قرع عربی زبان میں ٹھونکنے، کوٹنے، کھڑکھڑا دینے اور ایک چیز کو دوسری چیز پر مار دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ قیامت کے لیے یہ لفظ شاید اس لیے بولا گیا ہے کہ وہ سب لوگوں کو مضطرب اور بےچین کرنے والی اور تمام آسمان و زمین کے اجسام کو منتشر کرنے والی ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جس طرح کوئی اچانک آکر دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹاتا اور نچنت ہونے والوں کو ہڑبڑا دیتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔ وہ اس طرح اچانک آدھمکے گی کہ پوری کائنات میں ایک ہلچل برپا کر دے گی۔
Ayah 69:5فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُھْلِکُوْا بِالطَّاغِیَۃِ ۔ (الحآقۃ : 5)
(سو وہ جو ثمود تھے، تو وہ ایک حد سے بڑھ جانے والی آفت سے ہلاک کردیئے گئے۔ )
گزشتہ آیت میں ثمود اور عاد کے بارے میں بیان فرمایا کہ انھوں نے قیامت کا انکار کیا تو پھر یہ نہ سمجھو کہ ان کے اس انکار کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ اس انکار کے نتیجے میں وہ ہلاکت کا شکار ہوئے۔ کیونکہ قیامت کا انکار صرف ایک واقعہ کا انکار نہیں بلکہ قوموں کے اخلاق اور ان کے مستقبل سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ چناچہ قوم ثمود نے آخرت کا انکار کرکے اسی دنیا کی زندگی کو اپنی اصل زندگی سمجھ کر اپنی منزل قرار دے دیا۔ اور چونکہ انہیں آخرت میں کسی جوابدہی کا اندیشہ نہیں تھا اس لیے وہ سخت اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوئے۔ دنیا ہی کو اپنی منزل بنا کر دنیا طلبی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں لگ گئے۔ اس راستے میں اگر اخلاقی قدریں حائل ہوئیں تو انہیں پامال کردیا گیا۔ انسانی رشتوں نے راستہ روکا تو ان کا خون بہایا گیا، کاروباری مصلحتوں نے اگر کسی چیز کی پابندی کا تقاضا کیا تو اسے فضول بات سمجھ کر رد کردیا گیا، تو آخر اس قیامت کے انکار کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بگاڑ ان کی تباہی کا باعث بنا اور وہ ایک سخت حادثے سے تباہ کردیئے گئے۔
الطَّاغِیَۃِ … طغیان سے مشتق ہے، جس کے معنی حد سے نکل جانے کے ہیں۔ طاغیہ کا معنی ہوگا وہ چیز جو اپنی حدودوقیود سے متجاوز ہوجائے۔ قوم ثمود بھی اللہ تعالیٰ کیخلاف طغیان میں مبتلاء ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر جو آفت مسلط کی، اسے طاغیہ فرمایا گیا ہے۔ سورة الاعراف آیت 78 میں اس کو الرجفۃ یعنی زبردست زلزلہ کہا گیا ہے۔ اور سورة ہود آیت 67 میں اس کے لیے الصیحۃ یعنی زور کے دھماکے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ تینوں لفظ ایک ہی کیفیت کے مختلف نام ہیں۔ اس سے مراد ایسی سخت آواز ہے جس کو انسان کا قلب و دماغ برداشت نہ کرسکے۔ معلوم ہوتا ہے ان پر ایسا زلزلہ آیا جس میں دھماکے تھے۔ اور ہولناک آوازیں تھیں جس سے ان کے دل شق ہوگئے۔ کوئی تعجب نہیں کہ ان پر بجلیاں بھی کو ندی ہوں اور ان کی وجہ سے ان دھماکوں میں مزید اضافہ ہوا ہو۔
Ayahs 69:6–8وَاَمَّا عَادٌ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۔ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّـامٍ لا حُسُوْمًا لا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعٰی لا کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃ۔ فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِنْ م بَاقِیَۃٍ ۔ (الحآقۃ : 6 تا 8)
(رہے عاد، تو وہ ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے۔ اس کو اللہ نے سات رات اور آٹھ دن ان کی بیخ کنی کے لیے ان پر مسلط رکھا، تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح بچھاڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ تو کیا تم دیکھتے ہو ان میں سے کوئی بچ رہنے والا۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح : رِیْحٍ صَرْصَرٍ … اس سخت ہوا کو کہا جاتا ہے جو بہت زیادہ سرد بھی ہو۔ اردو زبان میں جسے بادصرصر بولتے ہیں۔ اس کی تیزی اور ٹھنڈک کو اقبال نے شمشیر کی تیزی قرار دیا ہے۔
حُسُوْمًا … حاسم کی جمع ہے۔ استیصال کردینے والی اور فنا کردینے والی چیز کو کہتے ہیں۔
قومِ عاد کا انجام اور عَاتِیَۃٍ کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں قوم عاد کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جرم ان کا یہی تھا کہ انھوں نے قیامت کا انکار کیا اور جب جوابدہی کا اندیشہ جاتا رہا تو پھر کسی رسول کو ماننے اور کسی کتاب کو تسلیم کرنے کا کیا سوال پیدا ہوسکتا تھا۔ نتیجہ کے طور پر زندگی ہر اخلاقی قدر سے تہی دامن ہوگئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ ان پر سرما کی تیز و تند باد صرصر چلی اور اس نے ان کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ یہاں بادصرصر کی صفت کے طور پر عاتیہ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہیں وہ ہوا جو سرکش اور بےقابو ہوجائے جسے ہم طوفانی ہوا کہتے ہیں۔ پھر اس پر مزید اللہ تعالیٰ کا غضب یہ ہوا کہ آٹھ دن اور سات راتیں یہ عذاب ان پر مسلط رہا۔ بعض روایات میں ہے کہ بدھ کی صبح سے یہ آندھی کا عذاب شروع ہو کر دوسرے بدھ کی شام تک رہا۔ اس طرح دن تو آٹھ ہوگئے اور راتیں سات ہوئیں۔ اور یہ ہَوائیں اس لیے ان پر مسلط کی گئی تھیں تاکہ ان کا استیصال کردیں، یعنی ان کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آٹھ دنوں میں ہر چیز تباہ ہوگئی۔ ثمود قوم کا کوئی فرد زندہ نہ بچا، عمارتیں زمین بوس کردی گئیں اور ان کی لاشیں زمین پر اس طرح پچھاڑی ہوئی پڑی تھیں جیسے وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں جو ہوا کے زور سے ادھر ادھر لڑھکتے پھر رہے ہوں۔ تیسری آیت میں مخاطب کی چشم تصور کے سامنے یہ پورا منظر لا کر یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا تمہیں ان میں سے کوئی شخص باقی بچا نظر آتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنے دور کے سب سے ترقی یافتہ، سب سے زیادہ وسائل پر قابض اور سب سے زیادہ طاقتور قوم سمجھے جاتے تھے۔ اور ثروت و حشمت میں کوئی قوم ان کی ہمسر نہ تھی۔ جب وہ قیامت کے انکار کے باعث اخلاقی بگاڑ کی انتہا کو پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا ایسا ان پر برسا کہ ان کی قوت اور حشمت ان کے کسی کام نہ آئی اور وہ تاریخ میں عبرت کا سامان ہو کے رہ گئے۔
Ayahs 69:9–10وَجَـآئَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَـہٗ وَالْمُؤْتَفِکٰتُ بِالْخَاطِئَۃِ ۔ فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّہِمْ فَـاَخَذَھُمْ اَخْذَۃً رَّابِیَۃً ۔ (الحآقۃ : 9، 10)
(اور اسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے کیا۔ انھوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی، تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح : مُؤْتَفِکٰتُ … کے معنی باہم مختلط اور ملے جلے کے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو مُؤْتَفِکٰتُ یا تو اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ سب آپس میں ملی ہوئی بستیاں تھیں۔ اور یا اس لیے کہ عذاب آنے کے وقت جب ان کا تختہ الٹا گیا تو سب گڈمڈ ہوگئیں۔ اور بعض اہل لغت کے نزدیک اس کا معنی ہے، الٹی ہوئی۔ قوم لوط کی بستیاں زلزلہ سے الٹ دی گئی تھیں اور کنکر برسانے والی ہوا نے ان کو ریت اور کنکروں سے ڈھانپ دیا تھا، اس لیے ان کو مُؤْتَفِکٰتُ کہا جاتا ہے۔
فرعون اور قوم عاد کا انجام
قومِ عاد وثمود کے انجام کے ذکر کے بعد فرعون اور قوم لوط وغیرہ کی بستیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ وہ بستیاں ہیں جن کے آثار قریش کے تجارتی اسفار میں جابجا دکھائی دیتے تھے۔ فرعون اگرچہ مصر میں ہوا اور قریش کا مصر سے کوئی تجارتی تعلق نہ تھا۔ البتہ یہود کی ہمسائیگی کی وجہ سے وہ فرعون کے انجام سے ناواقف نہ تھے۔ اور قوم عاد کی بستیوں کے کھنڈرات تو ان کے راستے میں پڑتے تھے۔ اس لیے قوم عاد وثمود کے بعد ان کا ذکر کرکے قریش اور دیگراہلِ عرب کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ یہ سب قومیں تکذیبِ قیامت اور تکذیبِ رُسل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ اور آج تم اسی راستے پر چل رہے ہو۔ تمہیں ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرکے اپنا رویہ بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
عذاب کا سبب
اگلی آیت کریمہ میں جرم کی نوعیت واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کو بےسبب نہیں پکڑا بلکہ ان پر عذاب کا سبب یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی نافرمانی کرتے تھے۔ جو رسول بھی ان قوموں کی طرف آیا، اس نے ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تم جو زندگی گزار رہے ہو اس کے ایک ایک لمحے کی کارروائی محفوظ رکھی جارہی ہے۔ تمہارا ہر عمل محفوظ ہورہا ہے۔ اس زندگی کے بعد ہمیشہ کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک اور زندگی آنے والی ہے جسے قیامت یا آخرت کہتے ہیں۔ اس زندگی میں کیے ہوئے ہر عمل کا حساب وہاں دینا پڑے گا۔ اس لیے اس زندگی کو اس طرح گزارو جس طرح میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اس نے اپنا دین مجھ پر اتارا ہے۔ میں وہ ضابطہ حیات لے کر مبعوث ہوا ہوں جو تمہارے لیے زندگی کا ضابطہ اور قانون ہے اور جس کے مطابق تمہیں زندگی گزارنی ہے اور اسی کے حوالے سے تم سے بازپرس ہوگی۔ میری اطاعت اور میرا اتباع تم پر لازم ہے کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اور اس کا نمائندہ ہوں۔ اگر تم مجھے تسلیم کرنے سے انکار کرو گے تو تم حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا انکار کرو گے اور تم جانتے ہو یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ لیکن جب انھوں نے بار بار کی تنبیہ کے باوجود اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے سے انکار کردیا، نہ صرف اس کی نافرمانی کی بلکہ اس کی زندگی کے درپے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اس جرم میں انہیں پکڑا۔ کیونکہ اس کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کیخلاف علم بغاوت بلند کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا سفیر بن کر آتا ہے۔ اور پھر جب انہیں پکڑا تو ایسا پکڑا جس کی وہ مدافعت کرنے پر قادر نہ تھے۔
اَخْذَۃً رَّابِیَۃً ، اس سے مراد وہ پکڑ ہے جس کی مدافعت نہ ہوسکے اور جو انسان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض دفعہ گرفت صرف تنبیہ اور یاددہانی کے لیے ہوتی ہے۔ ایسی تنبیہ سے آدمی چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی قوم خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی ہے تو وہ اس کو ایسی پکڑ پکڑتا ہے جس کی تاب لانا ناممکن ہوتا ہے۔
Ayahs 69:11–12اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَـآئُ حَمَلْنٰـکُمْ فِی الْجَارِیَۃِ ۔ لِنَجْعَلَھَا لَـکُمْ تَذْکِرَۃً وَّ تَعِیَھَـآ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 11، 12)
(اور جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا۔ تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لیے ایک درس موعظت بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔ )
طوفانِ نوح سے بچ جانے والوں کا تذکرہ
قومِ عاد وثمود اور فرعون اور قوم لوط کے انجام سے عبرت دلانے کے بعد اب ایسے واقعہ کا ذکر کیا جارہا ہے جو متذکرہ بالا قوموں کے واقعات سے بہت پہلے کا ہے، یعنی اس سے مراد طوفانِ نوح اور اس میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔ اس طرح سے پروردگار نے رسولوں کی پوری تاریخ کی طرف قریش کی توجہ دلائی ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ پہلے ان قوموں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں بالکل تباہ کردی گئیں۔ اب طوفانِ نوح کے سلسلے میں ان لوگوں کا ذکر نہیں کیا گیا جو غرق کردیئے گئے تھے بلکہ ان لوگوں کا ذکر ہے جنھیں سفینہ نوح میں اللہ تعالیٰ نے سوار ہونے کا موقع دیا۔ پھر انہیں محفوظ مقام پر اتار کر آباد کیا۔ اور آئندہ دنیا میں انہیں کی نسل سے آبادی پھیلی۔ اور قریش بھی انہیں لوگوں کے بقایا ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم اور ان کے ایمان کی وجہ سے نجات عطا فرمائی تھی۔ اس سے قریش کو یہ توجہ دلانا مقصود ہے کہ ایک تو تم اللہ تعالیٰ کا احسان یاد کرو کہ آج تم ان اسلاف کے اخلاف ہو جنھیں اللہ تعالیٰ نے طوفانِ نوح سے بچایا تھا۔ تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے شکر کے طور پر اللہ تعالیٰ کے آخری رسول پر ایمان لانا چاہیے۔ اور دوسرا اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ تمہارے وہ اسلاف جو طوفانِ نوح سے بچائے گئے ان کے بچنے کا صرف سبب یہ تھا کہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان لائے، آخرت کو تسلیم کیا اور اپنی زندگی بنانے میں لگ گئے۔ تم اگر ان کے اسوہ کو اپنے سامنے رکھو تو تم بھی ہر طرح کے طوفانوں سے محفوظ رہ سکتے ہو اور اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم یقینا تمہیں بھی حاصل ہوگا۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ تم نے ان لوگوں کا رویہ اختیار کر رکھا ہے جنھیں طوفانِ نوح میں غرق کردیا گیا تھا اور ان متذکرہ بالا قوموں کے نقوش قدم پر چل رہے ہو جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوچکی ہیں۔ حالانکہ طوفانِ نوح سے بچ جانے والوں کا تذکرہ ہم نے بعد کی قوموں میں اس لیے زندہ رکھا تاکہ لوگ اس سے یاد دہانی حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ نے جنھیں سماع قبول اور قلب سلیم عطا فرمایا ہے وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔
Ayahs 69:13–17فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَادَکَّۃً وَّاحِدَۃً ۔ فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ وَانْشَقَّتِ السَّمَـآئُ فَھِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاھِیَۃٌ۔ وَّالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَـآئِھَا ط وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 13 تا 17)
(پس جب ایک ہی دفعہ صور میں پھونک ماری جائے گی۔ اور اٹھائے جائیں گے زمین اور پہاڑ، پھر پاش پاش کردیئے جائیں گے ایک ہی بار۔ اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن پھس پھسا ہوجائے گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور آٹھ فرشتے اس روز آپ ﷺ کے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ )
ظہورِقیامت کی تفصیلات
گزشتہ آیات میں تاریخی واقعات سے یہ بتایا گیا ہے کہ جن قوموں نے قیامت سے انکار کیا اور رسولوں کی تکذیب کی تو وہ بالآخر عذاب کا شکار ہوئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا انکار جس طرح تکذیبِ رُسل کا باعث بنتا ہے، اسی طرح تعمیر کردار کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ گزشتہ قوموں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا تو تباہ ہوگئیں۔ اب قریش کو مختلف حوالوں سے اس انجام سے باخبر کیا جارہا ہے اور ساتھ ہی پیش نظر آیات میں ظہورقیامت کی تفصیلات بھی بیان فرمائی گئی ہیں تاکہ ان اشتباہات کا ازالہ ہوسکے جن کی وجہ سے وہ قیامت کے بارے میں یکسو نہیں ہورہے تھے۔ اس میں پہلی بات تو یہ فرمائی گئی ہے کہ قیامت چونکہ کائنات کی تباہی اور پھر ازسرنو آبادی کا نام ہے اور سننے والوں کو یہ بات بعیداز عقل معلوم ہوتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی جست میں ساری کائنات تباہ کردی جائے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لیے دفعتاً چشمِ زدن میں قیامت کا برپا کردینا، کوئی مشکل کام نہیں۔ بس اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت اسرافیل صور میں پھونک ماریں گے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کی ہلچل برپا ہوجائے گی۔
ترمذی میں حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کی مرفوع حدیث ہے کہ صور سینگ کی شکل کی کوئی چیز ہے جس میں قیامت کے روز پھونکا جائے گا۔
نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ، اس سے مراد یہ ہے کہ یکبارگی صور سے ایک آواز نکلے گی اور یہ آواز اس وقت تک مسلسل جاری رہے گی جب تک ہر چیز موت کے گھاٹ نہیں اتر جائے گی۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عمل تین مرحلوں میں مکمل ہوگا۔ پہلے مرحلہ کو نفخہ فزع کہا گیا ہے۔ جس میں تمام دنیا کے لوگ ایک ہولناک آواز سے گھبرا اٹھیں گے اور نظام کائنات کی برہمی کو اپنی آنکھوں سے واقع ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ سورة الحج کی پہلی آیات میں اس مرحلہ کو ایک زلزلہ عظیم قرار دیا گیا ہے جس میں ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی۔ لوگ مخمور حالت میں بہکتے پھریں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، ایک گھبراہٹ ہوگی جس سے ہر شخص حواس باختہ ہوجائے گا۔ اور دوسرا نفخہوہ ہے جس کو نفخہ صعقکہتے ہیں۔ قرآن کریم میں اس کے متعلق ارشاد فرمایا گیا فَصَعِقَ مَنْ فِی السّٰمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ ” یعنی اس نفخہ سے تمام آسمان والے فرشتے اور زمین پر بسنے والے جن و انس اور تمام جانور بےہوش ہوجائیں گے۔ (پھر اسی بےہوشی میں سب کو موت آجائے گی) ۔ تیسرے نفخہ کو نفخہ بعث کہا جاتا ہے۔ اس نفخہ کے ذریعے سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے۔ قرآن کریم میں اس کے متعلق فرمایا گیا ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ھُمْ قِیَامٌ یَنْظُرُوْنَ ” یعنی پھر صور دوبارہ پھونکا جائے گا جس سے اچانک سب کے سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھنے لگیں گے، لیکن قرآن کریم میں تین نفخوں کا نہیں بلکہ دو نفخوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور جس چیز کو ہم نے نفخہ فزع کے نام سے یاد کیا ہے اور جس کا بعض روایات میں ذکر بھی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ تمام روایات اور نصوص میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلا نفخہ ہی ہے، اسی کو ابتداء میں نفخہ فزع کہا گیا ہے اور انتہا میں وہ نفخہ صعق ہوجائے گا۔ (مظہری)
قرآن کریم کا اندازِ بیان یہ ہے کہ وہ قیامت کے تینوں مراحل کو کبھی تو الگ الگ بیان کرتا ہے اور کہیں سب کو سمیٹ کر یکجا بیان کردیتا ہے۔ پیش نظر آیات میں سب کو سمیٹ کر ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
وقوعِ قیامت کی شدت اور قریش کی غلط فہمیوں کی تردید
دوسری آیت کریمہ میں ایک غلط فہمی کا ازالہ فرمایا گیا ہے۔ قریش کا گمان یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے پہاڑوں جیسی قدآور اور مضبوط مخلوق کو ایک ہی ہلے میں تباہ کرکے رکھ دیا جائے۔ تو ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہارے نزدیک زمین اور پہاڑ کیسی ہی مضبوط چیزیں کیوں نہ ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کو انہیں درہم برہم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ وہ ان دونوں کو ایک ساتھ اٹھائے گا۔ مثلاً ایک ہاتھ میں زمین اور دوسرے ہاتھ میں پہاڑ۔ اور انہیں اس طرح پٹخ کر پاش پاش کردے گا جس طرح شیشے کے دو گلاس ایک ہی دفعہ پھینکنے سے چور چور ہوجاتے ہیں۔ پہاڑ اپنے تمام حجم اور بلندی کے باوجود اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے، جیسے ریت ہوتی ہے اور اتنے سبک کردیئے جائیں گے کہ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔
گزشتہ آیات میں قیامت کے وقوع کو حتمی اور یقینی ظاہر کرنے کے لیے اسے الحاقہ اور القارعہ کا نام دیا ہے۔ اور یہاں اسے ایک تیسرے نام یعنی الواقعہ سے یاد کیا گیا ہے، کہ تم اس کے وقوع کو بیشک بعید از امکان سمجھو، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ایسا یقینی اور واقعی امر ہے جو ہو کے رہنے والا ہے۔
اہلِ عرب جس طرح پہاڑوں کو نہایت محکم اور ناقابلِ انکسار سمجھتے تھے، یہی تصور ان کا آسمانوں کے بارے میں بھی تھا۔ وہ دیکھتے تھے کہ یہ سقف نیلگوں جو نہایت ٹھوس اور محکم وجود رکھتی ہے اور اس میں کسی نقص کا شائبہ تک نہیں۔ کوشش سے بھی کوئی اس میں شگاف تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے بھی توڑ دیا جائے۔ پیش نظر تیسری آیت کریمہ میں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان بھی پھٹ جائے گا۔ اور آج یہ جس قدر محکم نظر آرہا ہے اس دن اسی قدر بودا اور پھس پھسا ہو کر روئی کے گالوں اور دھوئیں کی طرح اڑتا پھرے گا۔
آیت 4 میں فرمایا کہ آسمان کے پھٹ جانے کے بعد فرشتوں کی سراسیمگی کا عالم یہ ہوگا کہ وہ کل تک تو آسمانوں کے انتظام و انصرام میں لگے ہوئے تھے اور آج وہ ان کے پھٹ جانے کے بعد اس کے اطراف اور کناروں پر سمٹے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ اس سے شاید مشرکین پر یہ تعریض کرنا بھی مقصود ہو کہ تم جن فرشتوں کو اپنے لیے سب سے بڑا سہارا سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے عتاب سے بچا لیں گے، وہ بھی اس دن اللہ تعالیٰ کے جلال سے لرزاں اور ترساں ہوں گے۔ البتہ وہ حاملینِ عرش جن کی تعداد پہلے چار تھی قیامت کے دن ان کی تعداد کو دوگنا یعنی آٹھ کردیا جائے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے کھڑے ہوں گے۔
عرشِ رحمن کی حقیقت
رہی یہ بات کہ عرش رحمن کی حقیقت اور اس کی حقیقی شکل و صورت کیا ہے اور فرشتوں کا اسے اٹھانا کیا مفہوم رکھتا ہے ؟ یہ سب چیزیں وہ ہیں، عقلِ انسانی جن کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ ان کا تعلق متشابہات سے ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں، ان میں بیشتر کا تعلق متشابہات سے ہے۔ یہ احوال ایک ایسے نادیدہ عالم سے تعلق رکھتے ہیں جو ہماری فہم و فراست کی بساط سے باہر ہے۔ اسے قریب الفہم بنانے کے لیے ایسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جن سے فی الجملہ ہمارے ذہن میں ایک تصور قائم ہوسکتا ہے۔ لیکن ان کی اصل حقیقت کو جاننا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے قرآن و سنت نے اس بارے میں یہ ہدایت دی ہے کہ ایسی باتوں کی حقیقت کے لیے کھوج کرید کرنا گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والی بات ہے۔ جو کچھ فرمایا گیا ہے اس پر یقین رکھا جائے اور اس کی اصل حقیقت کے درپے ہونے سے گریز کیا جائے۔ اور اس کے بارے میں سوالات نہ کیے جائیں۔ قیامت کے دن جب ہمیں نئے حواس، نئی عقل اور نیا ماحول دیا جائے گا تو یہ حقائق ہمارے لیے قابل فہم ہوجائیں گے۔ اس وقت ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم جن حقائق کے بارے میں بعض دفعہ ارتیاب کا شکار ہوتے تھے وہ ہماری کو تاہی فکر تھی۔ ورنہ ان کے برحق ہونے میں تو کوئی شبہ نہ تھا۔
Ayah 69:18یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لاَ تَخْفٰی مِنْـکُمْ خَافِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 18)
(اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمہاری کوئی بات بھی ڈھکی چھپی نہیں رہے گی۔ )
اس دن، یعنی قیامت کے دن۔ جب آسمانوں اور زمینوں کی بساط لپیٹ کر رکھ دی جائے گی، تم اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کیے جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے تو کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔ لیکن اس روز چونکہ ایک نئی زمین وجود میں آئے گی جس کی سطح مستوی ہوگی۔ جس میں نہ کوئی پہاڑ ہوگا اور نہ کوئی غار۔ نہ مکان ہوں گے اور نہ کوئی درخت، جن کے پیچھے کسی چیز کو چھپایا جاسکے۔ ایسی حالت میں تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور تمہارے لیے بالکل اس بات کا امکان نہیں ہوگا کہ تم کسی چیز پر اخفاء کا پردہ ڈال سکو۔ تو سوچ لو، اس وقت تم کیا کرو گے۔
Ayah 69:19فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰـبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ لا فَیَقُوْلُ ھَـآؤُمُ اقْرَئُ وْا کِتٰبِـیَـہْ ۔ (الحآقۃ : 19)
(اس وقت جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا، پڑھو میرا اعمال نامہ۔ )
جزاء و سزا کی تفصیل
قیامت کے لانے کا مقصد انسانوں کو جزاء و سزا سے گزارنا ہے۔ چناچہ اس جزاء و سزا کی کسی حد تک تفصیل بیان فرماتے ہوئے سب سے پہلے اہل ایمان کا حال بیان کیا ہے، کہ جو شخص ایمان و عمل کا سرمایہ لے کر پہنچے گا، اس کا نامہ عمل ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ دیکھتے ہی خوشی سے اچھل پڑے گا اور جس طرح کسی شخص کو ایوارڈ ملے تو وہ اپنے دوستوں کو خوشی اور فخر سے دکھاتا ہے، اسی طرح وہ بھی دوسروں سے کہے گا کہ یہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو۔
قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا جب آخری وقت آتا ہے تو وہیں سے مومن اور کافر کی شناخت بھی قائم ہوجاتی ہے اور اسی وقت سے فرشتوں کا دونوں سے سلوک بھی مختلف ہوجاتا ہے۔ نیک آدمی کی روح کسی اور طرح سے نکالی جاتی ہے اور برے آدمی کی روح کچھ اور طرح سے۔ دونوں کا استقبال کرنے والے فرشتے بھی الگ الگ ہوتے ہے ہیں۔ قبر میں بھی دونوں کے ساتھ معاملہ جدا جدا ہوتا ہے۔ نیک انسان کے ساتھ اس طرح سلوک کیا جاتا ہے جیسے مہمان کے ساتھ کیا جاتا ہے اور برے انسان کے ساتھ اس طرح کا، جیسے حوالاتی مجرم کے ساتھ پولیس کرتی ہے۔ اور پھر میدانِ حشر میں دونوں کو الگ الگ حیثیت سے لے جایا جائے گا۔ نیک آدمی کو پہلے سے اندازہ ہوگا کہ میں کسی سزا کے لیے نہیں بلکہ انعام کے لیے پیش کیا جارہا ہوں۔ چناچہ جیسے ہی نامہ عمل وصول کرنے کا وقت آئے گا تو وہ خوشی سے دایاں ہاتھ آگے بڑھائے گا۔ کیونکہ انعامات ہمیشہ دائیں ہاتھ سے وصول کیے جاتے ہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کی وجہ سے بڑے سے بڑا شخص بھی فی الجملہ پریشانی اور بےچینی کا شکار ہوگا۔ لیکن جب اس کی توقع کے مطابق دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھے گا۔
ھَـآؤُمُ اقْرَئُ وْا کِتٰبِـیَـہْ … ھَـآؤُمُ ، اہل نحو کے نزدیک خذوا کے معنی میں ہے، جمع کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کا معنی ہوتا ہے، لو۔ آج کی زبان میں کہا جاتا ہے کہ ” ھا “ کی حیثیت محض ایک آواز کی ہے۔ جیسے اردو زبان میں اوئے یا اف کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس موقع پر بولتے ہیں جب کہنا ہو، یہ لو۔ ” ھا “ اور ’ ’ اقرؤا “ کے بیچ میں ” ؤُمُ “ محض اس خلاء کو بھرنے کے لیے ہے جو دونوں کے بیچ میں ہے۔
کِتٰبِـیَـہْ ، اس کے آخر میں ” ھا “ سکتہ کی ہے، جو محض قافیے کی رعایت کے لیے ہے۔ جیسے بعض دفعہ آخر میں الف، اشباہ کا لگا دیا جاتا ہے۔
Ayah 69:20اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَـہْ ۔ (الحآقۃ : 20)
(مجھے یقین تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔ )
ظن کا مفہوم
عربی زبان میں ” ظن “ جس طرح محض گمان کے معنی میں آتا ہے، اسی طرح غالب گمان اور یقین کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں غالب گمان یا یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جس مومن کو اعمال نامہ دہنے ہاتھ میں ملے گا وہ اپنے دوستوں کو دکھاتا ہوا، خوشی اور اعتماد سے یہ بات کہے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اعزاز حاصل کرنے میں اس لیے کامیاب ہوا ہوں کہ مجھے دنیا میں اس بات کا یقین تھا کہ قیامت کا تصور محض ایک افسانہ نہیں، ایک یقینی عقیدہ ہے۔ ہم یقینا ایک نہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ یہ زندگی اسی روز کی تیاری کے لیے ہمیں دی گئی ہے۔ چناچہ میں نے اسی یقین سے بہرہ ور ہو کر اس روز کی تیاری جاری رکھی اور آج اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اعمال نامے کا دہنے ہاتھ میں دیا جانا یہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کرم فرمایا ہے اور مجھے اپنے مقبول بندوں میں شامل فرما لیا ہے۔
Ayahs 69:21–23فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ۔ فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ۔ قُطُوْفُھَا دَانِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 21 تا 23)
(پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔ ایک بلند وبالا باغ میں۔ اس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ )
اعمال نامے کا دائیں ہاتھ میں ملنا گویا جنت میں داخلے کی علامت کہئے یا سرٹیفکیٹ۔ اس کے بعد کے مراحل آسانی سے سر ہوجائیں گے۔ آخر یہ خوش قسمت جنت میں پہنچ جائے گا۔ اس جنت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں انسان کو وہ زندگی، وہ ماحول، وہ سہولت اور وہ نعمتیں میسر آئیں گی جو اس کے لیے دل پسند ہوں گی۔ وہ جس چیز کی خواہش کرے گا چاہے وہ آج کی دنیا میں ناممکنات میں سے ہو، وہ اسے فوراً عطا کردی جائے گی اور کسی نعمت کے زوال یا خلاف طبیعت کسی امر کے ظہور کا اندیشہ تک نہیں ہوگا۔ ہر خوشی دائمی ہوگی اور ہر مسرت اندیشہ زوال سے پاک ہوگی۔ یہ وہ زندگی ہے جو بادشاہوں کو بھی دنیا میں نصیب نہیں ہوسکتی۔ لیکن اہل جنت میں سے ہر شخص اسی زندگی سے بہرہ ور ہوگا۔
اہل جنت کو جن باغوں میں رکھا جائے گا وہ ہر لحاظ سے بلند وبالا ہوں گے۔ اپنی قیمت، اپنی قامت، اپنی وجاہت، اپنی صورت، ہر لحاظ سے ان کی مثال نہیں ہوگی۔
اس کے پیڑ اور درخت تو یقینا بلند وبالا ہوں گے لیکن اس کے پھل اور خوشے جو اصل مطلوب ہیں وہ نہایت قریب ہوں گے۔ اہل عرب جن باغوں کو بہت بیش قیمت اور بہت خوبصورت سمجھتے تھے ان کے کنارے کنارے کھجوروں کی قطاریں اور بیچ بیچ میں اناروں کے درخت اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں۔ شاید اسی ذوق کی تسکین کے لیے عالیہ اور دانیہ دو صفات لائی گئی ہیں۔ اور ویسے بھی کسی بھی باغ کی اس سے زیادہ اور خوبصورتی کیا ہوسکتی ہے کہ وہ بلندی پر ہو، اس کے پودے سروقامت ہوں، لیکن اس کے خوشے سروں پر لٹک رہے اور دسترس کے اندر ہوں۔
Ayah 69:24کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِیْئًا م بِمَـآ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ ۔ (الحآقۃ : 24)
(کھائو اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے۔ )
ھَنِیْئًا … فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ اس کے معنی ہیں ” راس آنے والی اور مزیدار چیز۔ “ بعض اہل علم نے اسے حال کے مفہوم میں لیا ہے۔ لیکن بعض اہل علم کے نزدیک اس آیت میں یہ مصدر محذوف کی صفت واقع ہے۔ پورا جملہ اس طرح ہے کُلُوْا وَاشْرَبُوْا اَکَلاً وَ شَرْبًا ھَنِیًٔا۔
جنت کی نعمتوں کی خصوصیت اور اہل جنت کا اعزاز
اہلِ جنت کو بلند وبالا باغوں میں اتار کر یہ کہا جائے گا کہ تم نہایت اطمینان، خوشدلی اور چاہت سے جنت کی نعمتیں کھائو اور پیو۔ یہاں کی نعمتیں تمہارے لیے کسی مشکل کا باعث نہیں ہوں گی۔ دنیا میں انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ہزاروں نعمتیں دے رکھی ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ہر نعمت ہر کھانے والے کے لیے آسودگی کا باعث ہو۔ بعض چیزیں بعض عوارض کے سبب بعض لوگ نہیں کھا سکتے۔ شوگر کا مریض میٹھی چیزوں سے بچتا ہے اور بلڈ پریشر کا شکار نمک سے پرہیز کرتا ہے، معدے کے امراض میں مبتلا پرہیزی غذا کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ تو عوارض کی مجبوریاں ہیں لیکن جن لوگوں کو کسی طرح کے عوارض درپیش نہیں ہوتے وہ بھی غذا نہایت احتیاط سے لیتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ اس کی وجہ سے جسم بھاری ہوسکتا ہے اور کئی عوارض پیدا ہوسکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جنت میں تمہیں جو نعمتیں عطا فرمائے گا ان میں سے ہر نعمت ہر کھانے والے کو آسودگی دے گی۔ کوئی نعمت کسی کھانے والے کے لیے کسی طرح کی مشکل پیدا نہیں کرے گی۔ اس کی کثرت و قلت کسی مسئلے کا باعث نہیں ہوگی۔
نعمتوں کا استعمال جن مسائل کو جنم دیتا ہے ان میں ایک تو وہ مسائل ہیں جو جسم سے تعلق رکھتے ہیں جس کا ابھی ہم ذکر کرچکے ہیں، لیکن ایک مسئلہ وہ ہے جس کا تعلق انسان کی روح، اس کے ایمان اور اس کی عاقبت سے ہے۔ یعنی اگر نعمت سے فائدہ اٹھانے والا اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے اور نعمت دینے والے کا حق پہچانتا ہے تو وہ نعمت اس کے لیے ایمان میں اضافے اور آخرت میں اجروثواب کا باعث بنتی ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نعمتوں میں اضافہ بھی فرماتا ہے۔ لیکن اگر وہ شکر بجا نہیں لاتا بلکہ کفرانِ نعمت کرتا ہے اور نعمت دینے والے کا حق نہیں پہچانتا بلکہ اس نعمت کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر من مرضی اختیار کرتا ہے، تو یہی نعمت اس کے لیے وبال کا باعث بن جاتی ہے اور آخرت میں جوابدہی مشکل ہوجائے گی۔ ان دونوں حوالوں سے یہاں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ جنت کی نعمتیں نہ تمہارے لیے جسمانی مسائل پیدا کریں گی اور نہ اس میں کفرانِ نعمت کا کوئی اندیشہ ہوگا۔
اس آیت کریمہ میں ایک اور بات ارشاد فرمائی گئی ہے جو اہل جنت کے لیے سرمایہ افتخار بھی ہے اور شکر کا موقع بھی۔ وہ بات یہ ہے کہ اہل جنت کو جن نعمتوں سے نوازا جائے گا، اسے اپنے فضل کا نتیجہ قرار نہیں دیا حالانکہ اہل جنت کا جنت میں دخول اور وہاں نعمتوں کی بارش یقینا اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اہل جنت کے احساس کو سرشار کرنے اور ان کے مقام و مرتبہ کو بلند کرنے کے لیے ارشاد فرمائے گا کہ یہ جو کچھ تمہیں ملا ہے یہ تمہارے اعمال کا صلہ اور تمہارے کارناموں کا نتیجہ ہے۔ جس طرح ایک مزدور اجرت پا کر ایک خاص قسم کے اعتماد سے بہرہ ور ہو کر مسرت اور شادمانی کے جھولے میں جھولنے لگتا ہے یہی کیفیت اہل جنت کی بھی ہوگی۔
Ayahs 69:25–27وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیْ کِتٰـبَہٗ بِشِمَالِـہٖ 5 لا فَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰـبِیَـہْ ۔ وَلَمْ اَدْرِمَا حِسَابِیَہْ ۔ یٰـلَیْتَھَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ ۔ (الحآقۃ : 25 تا 27)
(اور رہا وہ شخص جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا، کاش میرا اعمال نامہ مجھے دیا ہی نہ گیا ہوتا۔ اور مجھے خبر ہی نہ ہوتی کہ کیا ہے میرا حساب۔ اے کاش ! وہی موت فیصلہ کن ہوئی ہوتی۔ )
اصحابُ الشمال کا حال
اس سے پہلے ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ اب ان لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ سورة انشقاق میں فرمایا گیا ہے ” کہ بعض لوگوں کے اعمال نامے ان کی پشت کے پیچھے پکڑائے جائیں گے۔ “ دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی مجرم کو اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو اسے اندازہ ہوجائے گا کہ اس کے نامہ اعمال میں کیا ہے۔ تو وہ بددلی سے نامہ عمل پکڑ تو لے گا لیکن اسے پیٹھ پیچھے چھپالے گا تاکہ لوگ اسے دیکھ نہ پائیں کیونکہ قیامت کے دن جس شخص کے بھی بائیں ہاتھ میں نامہ عمل ہوگا دیکھنے والے جان لیں گے کہ یہ شخص اپنے جرائم کی پاداش میں پکڑا گیا ہے اور یہ ایک برا شخص تھا، اسی وجہ سے اسے بائیں ہاتھ میں نامہ عمل دیا گیا ہے۔ تو وہ اپنا اعمال نامہ دیکھتے ہی اپنا سر پیٹ لے گا اور واویلا کرتے ہوئے کہے گا، کاش مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا گیا ہوتا اور مجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ بیخبر ی بھی آدمی کو کسی حد تک تسکین دیتی ہے اور ممکن ہے اس کا یہ مطلب ہو کہ اگر مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا تو لوگوں کے سامنے میری رسوائی نہ ہوتی اور مجھے بھی خبر نہ ہوتی کہ میں کس قدر جرائم کا ارتکاب کرچکا ہوں۔ اپنے انجام کی ہولناکی کا تصور کرتے ہوئے وہ کہے گا کہ کاش جو موت مجھے آئی تھی وہ فیصلہ کن ہوگئی ہوتی۔ یعنی یہ دوبارہ زندگی ہمیں نہ دی جاتی اور نہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ تیسری آیت میں ضمیر کا مرجع موت ہے جو اگرچہ الفاظ میں موجود نہیں لیکن قرینہ موجود ہونے کے وقت مرجع کے بغیر ضمیر لانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہوتا اور یہاں قرینہ واضح ہے۔
Ayahs 69:28–29مَـآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ ۔ ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ ۔ (الحآقۃ : 28، 29)
(میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا اقتدار مجھ سے چھن گیا۔ )
ہر مجرم نہایت حسرت سے کہے گا کہ جس مال کو میں نے نہایت اہتمام سے جمع کیا اور گن گن کر رکھا اور میرا گمان یہ تھا کہ مال کی قوت سے ہر کام کرایا جاسکتا اور ہر شخص کو خریدا جاسکتا ہے، لیکن آج وہ میرا مال بھی میرے کسی کام نہ آیا۔ اور پھر مجھے اپنے اقتدار پر کس قدر بھروسہ تھا، میں کسی کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ تھا، میں اپنے لشکر کی قوت کو فیصلہ کن سمجھتا تھا اور اسی اقتدار کے بل بوتے پر اکڑتا پھرتا اور ظلم توڑتا تھا لیکن آج وہ سب کچھ مجھ سے چھن گیا۔ آج صرف اس کا اقتدار ہے جو ہمیں دنیا میں کبھی نظر نہ آیا۔ ہمیں بتانے والے بتاتے رہے کہ اصل مقتدر ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ دنیا میں اس نے اصحابِ اقتدار کو ایک محدود اختیار دے کر آزمائش میں مبتلا کیا اور انہیں اپنے اقتدار و اختیار کا تابع بنایا کہ اگر وہ اپنی حدود سے تجاوز کریں گے تو قیامت کے دن ان سے سخت بازپرس ہوگی لیکن میں نے ان باتوں کو کبھی درخورِاعتنانہ سمجھا۔ ادھر مسلسل آواز آرہی ہوگیلمن الملک الیوم ” بتائو آج کس کی حکومت ہے۔ “ اور یہ سر جھکائے ندامت سے سوچ رہا ہوگا کہ کاش مجھے یہ ندا دنیا میں سنائی دے جاتی۔
سلطان کا لفظ دلیل اور حجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت کے دن ہر مجرم سند اور حجت سے محروم ہوجائے گا۔ یعنی اس کے پاس کوئی ایسی حجت اور سند نہیں ہوگی جس سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پا سکے۔
Ayahs 69:30–32خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ ۔ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُھَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فُاسْلُـکُوْہُ ۔ (الحآقۃ : 30 تا 32)
(اس کو پکڑو، پھر اس کی گردن میں طوق ڈالو۔ پھر اس کو جہنم میں جھونک دو ۔ پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر ہاتھ ہے، اس کو جکڑ دو ۔ )
مجرموں کا رونا دھونا اور نالہ و شیون جاری ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آئے گا کہ ان مجرموں میں سے ایک ایک کو پکڑو، یہ اب کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان میں سے ہر ایک کی گردن میں طوق ڈال دو ۔ پھر ایک ایک مجرم کو جہنم میں جھونک دو ۔ پھر ان میں سے ہر مجرم کو ایک ایسی زنجیر میں جکڑ دو جس کا طول ستر ہاتھ ہوگا۔
فُاسْلُـکُوْہُ … سَلَکَ کا ترجمہ محاورے میں عموماً جکڑنا کردیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کا ترجمہ پرونا ہوتا ہے، جس طرح موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مفہوم یہ ہوگا کہ زنجیر ان کے جسموں کے اندر سے گزارو اور پھر اس طرح سے انہیں جکڑو۔ جسم کے اندر سے زنجیر کے نکالنے کی تائید بعض روایاتِ حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ (ازمظہری)
سورة ہمزہ سے یہ تأثر ملتا ہے کہ جو لوگ دولت گن گن کر جمع کرتے ہیں اور دولت کے سانپ بن کر رہتے ہیں ایسے سرمایہ داروں کو دوزخ میں بھاری زنجیروں میں ستونوں کے ساتھ باندھ دیا جائے گا تاکہ جس دولت پر مارگنج بن کر بیٹھے رہے اس کی تپش کا مزہ اچھی طرح چکھیں۔
Ayahs 69:33–34اِنَّـہٗ کَانَ لاَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ ۔ وَلاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ (الحآقۃ : 33، 34)
(یہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ )
اصحابُ الشمال کے بنیادی جرائم
جن لوگوں کو یہ سزا دی جائے گی کہ وہ جہنم میں بھی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوں گے ان کے بنیادی جرائم یہ ہیں کہ ان میں کا ہر شخص نہ تو خدائے بزرگ و برتر پر ایمان رکھتا تھا۔ ایمان کا ایک معنی تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ویسے نہیں مانتا تھا جیسے ماننا چاہیے۔ اس کی ذات اور اس کی صفات میں شریک ٹھہراتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے اور آخرت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا تھا۔ وہ اس سے پہلے کی آیت میں چونکہ خاص طور پر مال کا ذکر آیا ہے تو اس سیاق میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے مال کو اپنی ذاتی کوششوں کا نتیجہ اور اپنی ملکیت سمجھتا تھا۔ اور دوسرا جرم اس کا یہ تھا کہ جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتا تھا اور اس کی حدود کو پامال کرتا تھا، اسی طرح وہ بندوں کے حقوق سے بھی ناآشنا تھا اور مال و دولت کے بارے میں اس کے تصور نے اسے بندوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے محروم کردیا تھا اور دولت سے بےپناہ عشق کی وجہ سے بخل کا ایسا شکار ہوا تھا کہ فقراء اور مساکین کو دھکے دیتا اور کسی غریب کی غربت اس کے دل میں رحم کے جذبات پیدا نہ کرسکتی تھی۔ اور اس کے بخل نے اسے انسانیت سے اتنا بیگانہ کردیا تھا کہ نہ وہ خود کسی کی مدد کرتا اور نہ کسی کو ترغیب دیتا کہ وہ کسی مسکین کو کھانا کھلائے۔ کھانا کھلانا چونکہ ضروریاتِ زندگی میں سب سے پہلی ضرورت ہے اور نسبتاً آسان بھی۔ اس لیے اس کا ذکر فرمایا۔ ورنہ مقصود صرف کھانا کھلانا نہیں بلکہ فقراء کی ہر طرح کی مدد اس سے مراد ہے۔ نہ وہ خود کسی غریب کی مدد کرتا تھا اور نہ کسی کو اس کی ترغیب دیتا تھا۔ بخیل لوگوں کا عام حال یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ وہ حاجت مندوں کی مدد کریں تاکہ ان کے بخل پر پردہ پڑا رہے۔
Ayahs 69:35–37فَلَیْسَ لَـہُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا حَمِیْمٌ۔ وَّلاَ طَعَامٌ اِلاَّ مِنْ غِسْلِیْنٍ ۔ لاَّیَاْ کُلُـہٗٓ اِلاَّ الْخَاطِؤُنَ ۔ (الحآقۃ : 35 تا 37)
(پس آج اس کا یہاں کوئی یارِغمخوار نہیں۔ اور زخم کے غسالہ کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا نہیں۔ جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح : حَمِیْمٌ … مخلص اور گہرے دوست کو کہتے ہیں۔
غِسْلِیْنٍ … زخمیوں کے دھو ون یعنی غسالہ کو کہتے ہیں۔
ان جرائم کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ قیامت کے دن ان کا کوئی مخلص دوست اور کوئی ہمدرد و غمخوار نہیں ہوگا جو انہیں عذاب سے بچا سکے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اپنی دولت کا مصرف اپنی تن پروری، لذتِ کام و دہن یا دولت میں اضافے کے سوا کوئی اور نہیں سمجھتا تو ایسے شخص کا دنیا میں بھی کوئی ہمدرد و غمگسار نہیں ہوتا، آخرت میں کون ہوگا۔
اور دنیا میں چونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ کوئی بھلا نہیں کیا اور کسی کا حق نہ پہچانا اور کسی کو کبھی کھانا کھلانے کا روادار نہ ہوا تو قیامت کے دن اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسے کھانے اور پینے کے لیے زخمیوں کے زخموں کا دھو ون اور ان کا خون اور پیپ دیا جائے گا۔ یوں تو اہل جہنم کو اور طرح کی غذائیں بھی دی جائیں گی جن میں زقوم کا بھی ذکر آیا ہے، لیکن زخموں کا غسالہ صرف ایسے خسیس لوگوں کی خوراک ہوگی جو دنیا میں کسی کو کھانا کھلانے کے لیے تیار نہیں تھے۔