Ayahs 68:1–2نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ ۔ مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ ۔ (القلم : 1، 2)
(ن، قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو وہ لکھتے ہیں۔ اور آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہے۔ )
قَسم، جوابِ قسم اور قلم سے مراد
ن، حروفِ مقطعات میں سے ہے اور اس سورة کا نام ہے اور ہم سورة کے تعارف میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے دو قسمیں کھائی ہیں۔ انسانوں کے عام شیوہ مخاطبت میں قسم کا مقصد کسی بات کی تاکید ہوتا ہے، لیکن جب قرآن کریم میں پروردگار کسی بات کی قسم کھاتے ہیں تو کبھی تو اس کا مقصد تاکید ہی ہوتا ہے، لیکن کبھی وہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ پر شہادت اور دلیل ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہاں قسم تو دو چیزوں کی کھائی گئی ہے لیکن مقسم علیہ کون ہے ؟ نظمِ کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے بعد کی آیت ہے جس پر شہادت قائم کرنے یا اس پر دلیل دینے کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ پہلی چیز جس کی قسم کھائی گئی ہے، وہ قلم ہے۔ سوال یہ ہے کہ قلم سے مراد کیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کا قول ہے کہ اس سے مراد قلم تقدیر ہے اور اس قلم تقدیر کے بارے میں حضرت عبادہ بن الصامت ( رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم پیدا فرمایا اور اس کو حکم دیا کہ لکھ۔ قلم نے عرض کیا، کیا لکھوں۔ تو حکم دیا کہ تقدیرِالٰہی کو لکھ۔ چناچہ قلم نے حکم کے مطابق ابد تک ہونے والے تمام واقعات اور حالات کو لکھ دیا۔ ایسی ہی اور بعض روایات میں قلم تقدیر کی اولیت، فضیلت اور اہمیت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ اس لیے اگر اس سے قلم تقدیر مراد لیا جائے تو اس سے قلم تقدیر کی مزید فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
ابی حاتم البستی کہتے ہیں کہ اس قلم سے مراد عام قلم بھی ہوسکتا ہے جس میں قلم تقدیر اور فرشتوں اور انسانوں کے سب قلم جن سے کچھ لکھا جاتا ہے، داخل ہیں۔
امامِ تفسیر مجاہد کہتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے قرآن کریم لکھا جارہا تھا۔ ان تمام اقوال کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ قلم اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات میں سے ہے۔ اور سورة العلق میں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے احسان کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور چونکہ اس کا ذکر آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں آیا ہے اس لیے اس میں یہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ امت ایک ایسی امت ہوگی جس کی علم سے وابستگی اس کی علامت بن جائے گی اور وہ دنیا میں سب سے زیادہ علم کی خدمت بجا لائے گی اور اسلام اپنے علوم سے پہچانا جائے گا اور یہ علوم عرصہ دراز تک دنیا کی قیادت کریں گے۔ اور شاید اس طرف بھی اشارہ ہو کہ قرآن کریم اور اس کے توضیحی علوم جن میں اولیت حدیث اور سنت کو حاصل ہے قلم کے ذریعے محفوظ رکھے جائیں گے۔ کیونکہ مذہب کے ابتدائی دور میں انبیائے کرام کی تعلیم زبانی تعلیم کی شکل میں لوگوں تک پہنچتی رہی ہے۔ پھر ایک دور آیا کہ احکامِ عشرہ تحریری شکل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیے گئے، لیکن ان کی حفاظت کا بھی وہ اہتمام نہ ہوسکا جو دائمی حفاظت کی ضمانت بن سکتا۔ یہ اعزاز صرف قرآن کریم کو حاصل ہے کہ پہلے دن سے اسے قلم کی رفاقت میسر آئی اور پھر اس کی وسعت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس حوالے سے اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کہ ان اہل علم کی رائے میں بڑا وزن ہے جن کے نزدیک قلم دراصل تعبیر ہے تعلیماتِ الٰہیہ کے اس پورے مدوّن سرمایہ کی جو قلم کے ذریعے محفوظ ہوا۔ یعنی تورات، زبور اور انجیل وغیرہ۔ ان مقدس صحیفوں کی تعلیمات بھی آنحضرت ﷺ کی تصدیق کرتی ہیں اور ان کے اندر آپ ﷺ کے ظہور کی ناقابلِ تردید شہادتیں موجود ہیں۔
آنحضرت ﷺ پر الزامات کا رد
وَمَا یَسْطُرُوْنَ … ” قسم ہے اس چیز کی جس سے وہ لکھتے ہیں۔ “ قرآن کریم کا جو حصہ بھی نازل ہوتا اسے کاتبانِ وحی میں سے کوئی کاتب ضبط تحریر میں لے آتے تھے۔ یہ قرینہ ہے اس بات کا کہ یہاں جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہ قرآن مجید ہے۔ اس طرح سے قرآن مجید کو بطور شاہد اور دلیل کے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے کہ وہ انصاف سے فیصلہ کریں کہ جس ذات عزیز کی زبان فیض ترجمان سے قرآن کریم جیسی فصیح وبلیغ کتاب جو اپنے الفاظ و معانی، اپنے مضامین، اپنے ربط و ارتباط اور ہر طرح کے اختلاف و انتشار سے محفوظ دستورونظام اور تاریخ کے ان شعبوں کی اصلاح جس تک انسانی تحقیق کی رسائی ممکن نہیں اور کائنات کے سربستہ رازوں کا انکشاف، عالم غیب کی ایسی خبریں جو انسانی دسترس سے ماورا ہیں اور ایسے اخلاقی مسلمات جس کی حکمت علوم کا سرمایہ ہے اور ایسی محیرالعقول پیشگوئیاں جنھیں رفتہ رفتہ حالات نے سچا ثابت کر دکھایا۔ کیا اس طرح کی بیشمار خصوصیات رکھنے والی کتاب کو پیش کرنے والی شخصیت کیا خدا نہ کرے مجنون ہوسکتی ہے ؟ مزیدیہ کہ جس کی صداقت پر گزشتہ آسمانی کتابیں اپنی تمام تحریفات کے باوجود آج بھی گواہ ہوں اور ہر دور کا نبی جس کی اپنی امت کو خبر دیتا رہا ہو اگر کچھ مدعیانِ علم و دانش اس جرم میں اے پیغمبر آپ کو دیوانہ کہہ رہے ہیں کہ آپ انھیں عذاب کی خبر کیوں دے رہے ہیں یا ان کے سامنے زندگی کا وہ نظام کیوں پیش کررہے ہیں جس کی وجہ سے انھیں اپنی غلط زندگی سے دستبردار ہونا پڑتا ہے تو آپ اس سے ملول نہ ہوں۔ دنیا کو جب دیوانگی کا دورہ پڑتا ہے تو انھیں ہمیشہ فرزانے دیوانے ہی معلوم ہوتے ہیں۔
بلاشبہ ہر دور میں مخالفین نے ہمیشہ انبیائے کرام کو دیوانہ ہی قرار دیا ہے۔ کیونکہ انھیں یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ آخر اس شخص پر آسمانوں سے وحی کیسے اتر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم سے اس کا رشتہ کس طرح قائم ہوسکتا ہے۔ لیکن بعض ایسی باتیں بھی ہیں کہ جب تک کوئی شخص ایمان کی نگاہ سے انھیں نہیں دیکھتا وہ دیوانگی کے وہم کا شکار ہوجاتا ہے۔ مثلاً آنحضرت ﷺ جس شدومد اور حزم و یقین کے ساتھ انھیں عذاب سے ڈراتے اور قیامت کی خبر دیتے تھے تو انھیں کسی طرح یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر عذاب کہاں سے آجائے گا اور قیامت کیسے برپا ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ جب دیکھتے کہ آنحضرت ﷺ جب ہمیں اس کی خبر دیتے ہیں تو نہایت محکم انداز میں دیتے ہیں جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ پھر ان کی بےچینی اور بےقراری اس طرح کی ہوتی ہے کہ جیسے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہم جہنم کی آگ میں ڈالے جانے والے ہیں اور عذاب کا کوڑا ہماری پشت پر برسنے ہی والا ہے۔ اور پھر وہ آپ ﷺ کی دردمندی اور شفقت کو دیکھتے کہ ہم انھیں دکھ پہنچاتے اور تکلیفیں دیتے ہیں لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کی ہمدردی اور دردمندی میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ عام آدمی جب اس صورتحال سے متاثر ہونے لگتا تو اشرافِ قریش انھیں یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کرتے تھے کہ اس شخص کے دماغ میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔ جس طرح مالیخولیا کا مریض جس بات کا شکار ہوجاتا ہے اسے اس کے حتمی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا، چاہے وہ بات کیسی ہی عقل کے خلاف ہو۔ اسے بھی عذاب کا مالیخولیا ہوگیا ہے اور اسے ہر طرف عذاب ہی دکھائی دیتا ہے۔
Ayah 68:3وَاِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَمَمْنُوْنٍ ۔ (القلم : 3)
(اور یقینا آپ کے لیے ایک کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ )
غَیْرَمَمْنُوْنٍ … کا معنی ہے غیرمنقطع، یعنی ختم نہ ہونے والا۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور پروپیگنڈے کا جواب
ہم سورة الملک میں پڑھ چکے ہیں اور ہم سورة الطور سے مثال بھی پیش کرچکے ہیں کہ کافروں کا گمان یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ بڑی تندہی سے جس دین کی دعوت میں لگے ہوئے ہیں خطرہ ہے کہیں اس کے اثرات سے انقلاب برپا نہ ہوجائے۔ اس کے اثر سے بچانے کے لیے اشرافِ قریش عوام کو یہ کہہ کر اطمینان دلاتے تھے کہ تم ہرگز اس کی فکر نہ کرو، یہ شاعر آدمی ہے چند دنوں تک اس کے اثرات ہوں گے اس کے بعد یہ سب کچھ ہوا میں اڑ جائے گا اور یہ شخص اپنی دعوت سے جس طرح کے حالات پیدا کررہا ہے اس سے خود ہی یہ کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہ اور اس کے ساتھی گردش روزگار کا شکار ہو کر تباہ و برباد ہوجائیں گے تو اس کی کہی ہوئی باتیں اور اس کی دعوت کے اثرات سب کچھ ختم ہو کر رہ جائے گا۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر آپ ان کی باتوں سے اثر قبول نہ کریں۔ آپ جو کچھ کررہے ہیں اور جس تندہی، ہمدردی، جانفشانی، غمگساری اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں اس کا اجر کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ایک اجر کا وہ حصہ ہے جو قیامت کے دن آپ کو ملے گا۔ لواء الحمد آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ شفاعتِ کبریٰ کے مقام پر آپ کھڑے کیے جائیں گے۔ مقامِ محمود آپ کے انتظار میں ہے، جنت کے اعلیٰ ترین حصے میں آپ کا مسکن ہوگا۔ سب سے زیادہ آپ کی امت نجات پائے گی اور جنت میں پہنچے گی۔ اور اجر کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ آپ کا دین تمام دنیا میں پھیل جائے گا، آپ کی امت مختلف وقتوں میں دنیا کی امامت و سیادت کا فرض انجام دے گی اور ایک وقت آئے گا جب اسلام کے سوا دنیا میں اور کوئی مذہب باقی نہیں رہے گا۔ یہ آپ کی کاوشوں کا وہ صلہ ہے جس کا ایک سرا آپ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا قیامت سے بندھا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی مجنون اور دیوانے کی کاوشوں کا یہ نتیجہ آج تک کبھی لوگوں نے دیکھا ہے۔ اگر ایسا ہے تو سب پاگل خانے سے پاگلوں کو نکال کر دنیا کی رہنمائی کی مسندوں پر بٹھا دینا چاہیے لیکن اس کے بعد جو ہوگا اس کو جاننے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے نہ ختم ہونے والے اجر کے حوالے سے جو کچھ ہم نے کہا ہے وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی علم و دانش کا سوداگر اس طرح کی بات کہتا ہے جیسے آج کل بعض مستشرقین آنحضرت ﷺ کو مرگی کا مریض قرار دیتے ہیں اور بعض لوگ آپ کو مالیخولیا کا بیمار بتاتے ہیں۔ اہل علم کو چاہیے کہ ان نام نہایت دانشوروں کے دماغ کا معائنہ کرائیں اور ان سے اس کا جواب طلب کریں کہ جس نے دنیا کو ایک ایسی امت دی جس کی نظیر تاریخ پیش نہیں کرسکتی، ایک ایسا نظام دیا جس نے جزیرہ عرب کو جو نفرتوں کا جہنم تھا محبتوں کی جنت میں تبدیل کردیا۔ جس نے ایسے اخلاق دیئے، جس نے بگڑے ہوئے انسانوں کو مکارمِ اخلاق کا معلم بنادیا، جس نے انسانوں کے لیے دل و دماغ میں ایسی تبدیلی پیدا کی کہ دشمنوں نے بھی انھیں اپنا محسن گردانا۔ غرضیکہ وہ دنیا کے لیے رحمت و مروت، ہمدردی و غمگساری اور راحت و آرام کی ایک بہار بن کر چھا گئے۔ تو کیا ایک ایسی امت، ایسے نظام اور ایسے اخلاق پیدا کرنے والے کو مجنون کہا جائے گا یا ان لوگوں کو کہا جائے گا جو اسے مجنون قرار دیتے ہیں۔
Ayah 68:4وَاِنَّـکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ۔ (القلم : 4)
(بیشک آپ اخلاق کے سب سے بڑے مرتبے پر فائز ہیں۔ )
خلقِ عظیم کا مفہوم
جنون کوئی ایسا مرض نہیں جو کسی خاص علاقے یا خاص زمانے کے ساتھ مخصوص ہو۔ ہم آج بھی اپنے دائیں بائیں اس بیماری میں مبتلا لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہر شخص اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کہ جو شخص اختلالِ دماغ کا شکار ہو وہ نہ تو بلند اخلاق کا حامل ہوسکتا ہے اور نہ اس کے مزاج میں اعتدال ہوسکتا ہے اور نہ لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات میں ٹھہرائو، وقار، تحمل اور بردباری ہوسکتی ہے، لیکن آنحضرت ﷺ میں نہ صرف یہ صفات پائی جاتی تھیں بلکہ آپ ﷺ اس کا مظہراتم تھے۔ قرآن کریم میں اوامرو نواہی ہیں، مکارمِ اخلاق کی تعلیم ہے، فضائلِ اخلاق کی ترغیب دی گئی ہے، رزائل سے روکا گیا ہے، زندگی کے بلند مقاصد کی خبر دی گئی ہے، ایک نظام زندگی دیا گیا ہے جسے برپا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے اس کے لیے سر کٹوانا پڑے۔ ایک بالکل نئی زندگی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے دین کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ قرآن کی ان تعلیمات اور اس کی دی ہوئی زندگی کی چھاپ کو اگر چلتے پھرتے، بولتے چالتے اور فعال شکل میں دیکھنا ہو تو وہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایک قرآن ساکت ہے جس کی ہم تلاوت کرتے ہیں اور ایک متکلم قرآن ہے جو آنحضرت ﷺ ہیں۔ ایک قرآن کا متن ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے اور اس کی شرح آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ قرآن قول ہے اور آپ ﷺ اس کا عمل ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے یہاں خلق عظیم قرار دیا گیا ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے ارشاد فرمایا کَانَ خُلْقُہٗ الْقُرْاٰنَ ” قرآن آپ کا اخلاق تھا۔ “
حضرت ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ خلق عظیم سے مراد دین عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دین اسلام سے زیادہ کوئی محبوب دین نہیں۔ حضرت عائشہ ( رض) نے فرمایا کہ آپ کا خلق خود قرآن ہے یعنی قرآن کریم جن اعلیٰ اعمال و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے آپ ان سب کا عملی نمونہ ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ خلق عظیم سے مراد آداب القرآن ہیں یعنی وہ آداب جو قرآن نے سکھائے ہیں۔ حاصل سب کا تقریباً ایک ہی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بعثت لِاُ تَمِّمَ مکارم الاخلاق یعنی مجھے اس کام کے لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں۔ (ابوحیان)
حضرت انس ( رض) فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی۔ اس پوری مدت میں جو کام میں نے کیا آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ایسا کیوں کیا اور جو کام نہیں کیا اس پر کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا (حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ دس سال کی مدت میں خدمت کرنے والے کے بہت سے کام خلاف طبع ہوئے ہوں گے۔ ) (بخاری و مسلم)
اور حضرت انس ( رض) فرماتے ہیں کہ آپ کے مکارمِ اخلاق کا یہ حال تھا کہ مدینہ کی کوئی لونڈی باندی بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر جہاں لے جانا چاہے لے جاسکتی تھی۔ (رواہ البخاری)
حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا بجز جہاد فی سبیل اللہ کے کہ اس میں کفار کو مارنا اور قتل کرنا ثابت ہے ورنہ آپ نے نہ کسی خادم کو نہ کسی عورت کو کبھی نہیں مارا، ان میں سے کسی سے خطا و لغزش بھی ہوئی تو اس کا انتقام نہیں لیا بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہو تو اس پر شرعی سزا جاری فرمائی۔ (رواہ مسلم)
اور حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ فحش گو تھے نہ فحش کے پاس جاتے تھے۔ نہ بازاروں میں شور و شغب کرتے تھے برائی کا بدلہ کبھی برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معافی اور درگزر کا معاملہ فرماتے تھے اور حضرت ابوالدردا ( رض) فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ میزان عمل میں خلق حسن کے برابر کسی عمل کا وزن نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ گالی گلوچ کرنے والے بدزمان سے بغض رکھتے ہیں۔
(رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح)
اور حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان اپنے حسن خلق کی بدولت اس شخص کا درجہ حاصل کرلیتا ہے جو ہمیشہ رات کو عبادت میں جاگتا اور دن بھر روزہ رکھتا ہو۔ (رواہ ابودائود)
اور حضرت معاذ ( رض) نے فرمایا کہ مجھے یمن کا عامل مقرر کرکے بھیجنے کے وقت آخری وصیت جو آپ نے مجھے اس وقت فرمائی جبکہ میں اپنا ایک پائوں رکاب میں رکھ چکا تھا وہ یہ تھی یَامَعاذ اَحْسِنْ خُلْقَکَ لِلنَّاسِ ” اے معاذ لوگوں سے حُسنِ خلق کا برتائو کرو۔ “ (رواہ مالک) یہ سب روایات حدیث تفسیر مظہری سے نقل کی گئی ہیں۔
Ayahs 68:5–6فَسَتُبْصِرُوَ یُبْصِرُوْنَ ۔ بِاَیِّـکُمُ الْمَفْتُوْنُ ۔ (القلم : 5، 6)
(پس عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔ کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے تنبیہ
یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے تنبیہ ہے۔ آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ مختلف حربوں سے آپ ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کی کوشش میں ہیں اور مختلف طریقوں سے لوگوں کو آپ ﷺ سے بدگمان کرنا چاہتے ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ شاید یہ اپنے مقصد میں اس طرح سے کامیاب ہوجائیں گے تو آپ ﷺ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ اپنی تبلیغی مساعی کو جاری رکھئے اور ان کی نامناسب باتوں پر صبر کیجیے۔ وہ وقت دور نہیں کہ ٰآپ کی تبلیغی مساعی کا نتیجہ آپ ﷺ کے سامنے آجائے گا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید مختلف طریقوں سے آپ کی دستگیری کرے گی اور یہ جس طرح رفتہ رفتہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور تباہی و بربادی ان کا مقدر بننے والی ہے اس کے بھی آثار ان کے سامنے ظاہر ہونے لگیں گے۔ آخر ایک وقت آئے گا کہ ہر دیکھنے والی نگاہ اندازہ کرلینے میں دشواری محسوس نہیں کرے گی کہ کون ہیں وہ لوگ جن کی قیادت ایک صاحب نظر کے ہاتھ میں ہے۔ علم و دانش اس کے ہمرکاب چلتے ہیں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کا اس پر نزول ہوتا ہے اور وہ کون وہ لوگ ہیں جن کی قیادت کرنے والے حکمت و دانش سے بیگانہ محض چند توہمات اور تعصبات کو سینے سے لگا کر پیغمبر کی تبلیغی کاوشوں کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس طرح سے اپنا اور اپنے پیچھے چلنے والوں کا مستقبل تباہ کرنے کے درپے ہیں۔
یہاں کفار کو جو دھمکی دی جارہی ہے اس کا تعلق دنیا و عقبیٰ دونوں سے ہے۔ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والے دنیا میں بھی سرفراز ہوں گے اور آخرت میں بھی کامیاب و کامران ٹھہریں گے۔ اور یہ مخالفین دنیا میں بھی ناکامی کا زخم اٹھائیں گے اور آخرت میں بدترین عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ چناچہ ان آیات کے نزول کے چند ہی سال بعد دیکھنے والوں نے ان دونوں باتوں کو بچشم سر دیکھا۔ جزیرہ عرب مفتوح ہوگیا اور ہر طرف اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا اور کل کے مخالفین اسلام کی آغوش میں آگئے یا اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
بعض اہل علم نے مفتون کا معنی مجنون کرنے کی بجائے مفتون ہی کیا ہے یعنی وہ شخص جو دنیا اور شیطان کے چکر میں پھنسا ہوا ہو۔ میرا ناقص گمان یہ ہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کی موجودگی ان کی تبلیغی مساعی اور ہمدردی اور خیرخواہی کے باوجود جو لوگ ایمان کا راستہ اختیار نہیں کرتے وہ یقینا دنیا کی محبت اور اپنے تعصبات کے فتنے میں مبتلا ہیں۔ شیطان نے ان کے اعمال کو ایسا مزین کرکے ان کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کے سحر سے نجات نہیں پاسکتے۔ یہ کیفیت جس طرح مفتون ہونے پر دلالت کرتی ہے اسی طرح دماغ کی خرابی کی علامت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے پر شیطان کے راستے کو ترجیح دینا، شیطان کا چکر بھی ہے اور دماغ کا پھیر بھی۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ مفتون اور مجنون کو نتیجہ کے اعتبار سے یکساں نہ سمجھا جائے۔
Ayah 68:7اِنَّ رَبَّـکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِـہٖ ص وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ۔ (القلم : 7)
(بیشک آپ کا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہ انھیں بھی جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی
آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کافر لوگ اپنے اور آپ کے بارے میں کیسے ہی الٹے سیدھے تصورات رکھیں لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے کوئی بات مخفی نہیں۔ وہ خوب جانتا ہے کہ آپ ﷺ کو ہم نے جو ہدایت دے کے بھیجا ہے اسے قبول کرنے والا، اس کے لیے قربانیاں دینے والا اور اس راستے پر چلنے والا کون ہے۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جنھوں نے قدم قدم پر آپ ﷺ کی مخالفت اپنا فریضہ سمجھ رکھا ہے اور وہ اسلام کی ناکامی اور شکست کو زندگی کا سب سے بڑا ہدف بنا چکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ عادل ہے اور اس کی صفت عدل کائنات کے نظام پر اس طرح چھائے ہوئی ہے جیسے زندگی کی سرگرمیوں پر روشنی کا پہرہ ہوتا ہے۔ اس کے عدل کا ادنیٰ تقاضا یہ ہے کہ اس کے راستے پر چلنے والے لوگ دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی سرفراز ٹھہریں اور اس کی مخالفت کرنے والے آخرکار ناکامی سے دوچار ہوں اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں۔ کیونکہ اگر وہ دونوں کو ایک ہی سطح پر رکھے اور یکساں معاملہ کرے تو یہ عدل نہیں بلکہ ظلم ہے۔ اور اگر وہ اپنے راستے پر چلنے والوں کو ہمیشہ تکلیفوں میں مبتلا رکھے اور نافر مانوں اور باغیوں کو ہمیشہ کھل کھیلنے کا موقع دے تو یہ ظلم سے بڑھ کر ظلم ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا تقاضا اس سے بالکل مختلف ہے۔ آپ ﷺ اطمینان رکھیں، اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا ظہور ضرور ہوگا، اس کے راستے پر چلنے والے سرفراز ہوں گے اور مخالفت کرنے والے خائب و خاسر ہوں گے۔
Ayah 68:8فَلاَ تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (القلم : 8)
(پس ان جھٹلانے والوں کی باتوں میں ہرگز نہ آیئے۔ )
تبلیغ و دعوت کے ضمن میں آپ کو ہدایت
معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین نے اسلام کی مخالفت میں خوب دھول اڑا رکھی تھی اور آنحضرت ﷺ کیخلاف ہر طرح کا پروپیگنڈا خوب زور پکڑ چکا تھا اور ایسا ہنگامہ برپا تھا کہ تبلیغ و دعوت میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ہرگز ان باتوں کا اثر قبول نہ کریں، مخالفین تو اپنی روایت کے مطابق جو ان کا بس چلے گا وہ کریں گے۔ ان کے مقابلے کی صورت یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی تبلیغی مساعی میں کمی نہ آنے دیں۔ لیکن اگر آپ ﷺ ان کی ہنگامہ آرائی اور ژاژخائی سے اثر قبول کرنے لگے تو آپ ﷺ کی ہمت اور توانائی متاثر ہونا شروع ہوجائے گی۔ اطاعت کا معنی جس طرح ماننا اور پیچھے چلنا ہے، اسی طرح اس کا معنی کسی بات کا اثر لینا بھی ہے۔ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ کافروں کی بات ماننے لگیں گے۔ البتہ انسانی فطرت کے تحت اس بات کا اندیشہ تھا کہ ان کی ہنگامہ آرائی سے اثر قبول کرنے لگیں، اس لیے ان کی ہمتوں کو توانا کرنے کے لیے اس سے بھی روک دیا تاکہ ان کے ارادوں کی قوت میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔
Ayah 68:9وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ ۔ (القلم : 9)
(یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا آپ نرم پڑیں تو یہ بھی نرم پڑجائیں۔ )
مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب
مکذبین کی مخالفت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آج کل کے سیاسی لیڈروں کی طرح تمام سیاسی دائوپیچ سے واقف تھے اور انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کیخلاف سرد جنگ شروع کر رکھی تھی۔ انھوں نے رفتہ رفتہ یہ محسوس کرلیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو اعلانِ حق سے باز رکھنا توحید کے اظہار اور شرک کی مذمت سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت میں کسی تبدیلی کے لیے کہنا تو ممکن نہیں۔ وہ اس کے لیے ہر خطرے کا سامنا کرسکتے ہیں لیکن اس دعوت کو روک نہیں سکتے۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم الزامات اور مخالفت کا دبائو بڑھاتے چلے جائیں تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنے رویئے میں لچک پیدا کرلیں اور شرک کی مذمت کی آنچ کو تھوڑا سا دھیما کرلیں اور اگر ممکن ہوسکے تو بعض باتوں میں کمپرومائز کرلیں۔ اس طرح سے ایک دفعہ اگر برف پگھلنا شروع ہوگئی تو ممکن ہے کہ پھر یہ سلسلہ جاری رہے۔ اس صورتحال کی روشنی میں آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ ﷺ جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں کافروں کو ان کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں ہے، لیکن انھیں تسلیم کرلینا ان کی خواہشوں کیخلاف ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے یہ طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اس طرح سے وہ آپ ﷺ پر دبائو بڑھا کر آپ ﷺ سے اپنی کچھ باتیں منوانے کے چکر میں ہیں۔ تو آپ ﷺ کو ان کی طرف سے باخبر بھی رہنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ تبلیغی مساعی اور دعوتی سرگرمیوں میں کسی طرح کی نرمی نہیں آنی چاہیے تاکہ انھیں آگے قدم بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوسکے۔
پیشِ نظر آیت کریمہ میں فَیُدْھِنُوْنَ ، لَو کا جواب ہے۔ عربی گرامی کے اعتبار سے اسے فَیُدْہِنُوْا ہونا چاہیے۔ تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہاں دراصل مبتدا محذوف ہے۔ اصل میں فَہُمْ یُدْھِنُوْنَ ہے۔
Ayahs 68:10–14وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ ۔ ھَمَّازٍ مَّشَّآئٍ م بِنَمِیْمٍ ۔ مَّـنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍّ م بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ ۔ (القلم : 10 تا 14)
(اور آپ ہرگز بات نہ سنیں بہت قسمیں کھانے والے ذلیل آدمی کی۔ اشارہ باز چغلیاں کھانے والے، لگائی بجھائی کرنے والے۔ بھلائی سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے کی۔ بہت سنگدل مزیدبرآں بداصل کی۔ اس وجہ سے کہ وہ بہت مال و اولاد والا ہے۔ )
مکذبین کی قیادت کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے
وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ … اس سے پہلے سابقہ سے پیوستہ آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ جو لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کررہے ہیں آپ ﷺ ان کی باتوں کا اثر قبول نہ کریں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں اور جو کچھ آپ ﷺ کے بارے میں کہہ رہے ہیں آپ ﷺ کی ذات اس سے بہت بلند ہے۔ لیکن یہ سب کچھ دراصل ان کی مخالفانہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ وہ درحقیقت آپ ﷺ کو دبائو میں لا کر آپ ﷺ سے کمپرومائز کرنے کی فکر میں ہیں۔ پیش نظر آیات میں اب انھیں مکذبین کی قیادت کا اصل چہرہ اور اس کے نمایاں خدوخال، آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے واشگاف کیے جارہے ہیں تاکہ انھیں بھی اور دوسرے لوگوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ اہل مکہ کی قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور جو اسلامی دعوت کا راستہ روکنے کے درپے ہیں ان کے سیرت و کردار کا عالم کیا ہے۔ ہمارے بعض مفسرین نے اگرچہ اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں جن صفاتِ ذمیمہ کا ذکر فرمایا گیا ہے اس سے مراد فلاں فلاں قریش کے سردار ہیں۔ اور پھر ان کے تعین میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض لوگوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے۔ کسی نے اسود بن عبد یغوث کا نام لیا ہے، کسی نے اخنس بن شریق کو اس کا مصداق ٹھہرایا، بعض نے کچھ اور لوگوں کے نام لیے ہیں لیکن واضح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مخالفین کی ساری قیادت ایسی ہی صفاتِ شنیعہ سے متصف تھی۔ کسی میں کوئی وصف نمایاں تھا اور کسی میں کوئی اور وصف۔ کہنا صرف یہ ہے کہ جو لوگ اس قماش سے تعلق رکھتے ہوں اور جن کے اعمال کا یہ حال ہو اور جن کا کردار اس حد تک بگڑ چکا ہو اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں کیا یہ لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی بات کا اثر قبول کیا جائے۔ یہ تو معاشرے کی ابتری اور کردار کا افلاس ہے کہ ایسے لوگوں کو قیادت کے منصب پر فائز ہونے کا موقع مل گیا ہے ورنہ اس قماش کے لوگ کسی دارالتعذیب میں ہونے چاہئیں۔ ان کے جن خاص اوصاف کو بیان فرمایا گیا ہے ان میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ بہت قسم کھانے والے ہیں۔ حلاّف، حلف سے اسم مبالغہ ہے حلف بجائے خود عموماً اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا اور پھر وہ شخص جو بات بات پر حلف اٹھاتا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود اپنے بارے میں یہ یقین رکھتا ہے کہ لوگ مجھے بےاعتبار سمجھتے ہیں، میں جب تک دوچار قسمیں کھا کر بات نہیں کروں گا، لوگ میری بات پر کان نہیں دھریں گے۔ ایسا شخص اپنی نگاہوں میں بھی ذلیل ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اسے ہلکا آدمی سمجھتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ وہ حلاّف بھی ہے اور مہین بھی۔ اور یہ حلاّف ہونے کا لازمی نتیجہ ہے۔ مھین حقیر و ذلیل اور گھٹیا آدمی کو کہتے ہیں۔ اور بات بات پر قسم کھانے والا اولاً تو ہوتا ہی گھٹیا آدمی ہے ورنہ اس حرکت سے لوگوں کی نگاہوں سے گر جاتا ہے اور ذلیل ہوجاتا ہے۔
ھَمَّازٍ مَّشَّآئٍ م بِنَمِیْمٍ … ھَمَّازٍ ، ہُمز سے مبالغہ ہے، جس کے معنی ہیں اشارہ باز، بہت طعنہ دینے والا یا طعن کرنے والا۔ جو لوگ پست فطرت اور معاشرے کی نگاہوں میں گھٹیا قسم کے لوگ ہوتے ہیں ان کی عادت ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو نگاہوں سے گرانے کے لیے کبھی پھبتی کستے ہیں، کبھی ہاتھوں یا آنکھوں سے اشارے کرتے ہیں اور کبھی فقرے بازی سے کام لیتے ہیں۔ قریش کے متکبرین کے پاس سے جب غریب مسلمان گزرتے تھے تو وہ عموماً انھیں فقروں کا ہدف بناتے اور اشاروں اشاروں میں انھیں ذلیل کرنے کی کوشش کرتے۔ سورة الھمزۃ میں ایسے ہی لوگوں کی بربادی کی خبر دی گئی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب کسی شخص کے پاس دلیل کی قوت نہیں ہوتی تو وہ ایسے ہی اوچھے ہتھیاروں سے اہل علم کو ہلکا کرنے اور باوقار لوگوں کو بےوقار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مَّشَّآئٍ م بِنَمِیْمٍ … نمیمہ اور نمیم، لگائی بجھائے کرنے کو کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کے پس پشت ایسی بات کہنا جو اس کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچائے اور اگر اس کے سامنے کہی جائے تو اسے بری لگے، اسے غیبت کہتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنا یہ وطیرہ بنا لے کہ کسی شخص کو بدنام کرنے کے لیے مختلف لوگوں کے پاس گھومتا پھرتا، ملتا جلتا بہ ضرورت یا بلاضرورت اس کی برائیاں بیان کرتا پھرے، اسے نمیمہ کہتے ہیں اور اردو زبان میں اسے لگائی بجھائی کرنا کہا جاتا ہے۔ اور مشائٍ کے لفظ نے اس کے معنی کو مزید کھول دیا ہے کہ ایسے شخص کا چلنا پھرنا، غیبت کرنے، غیبت پھیلانے اور کسی کو رسوا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اور ان لوگوں کا کردار ایسا ہی ہے کہ یہ لوگ بظاہر ایک قبیلے سے تعلق رکھتے اور ایک عقیدے اور فکر سے وابستہ لوگ ہیں۔ اور اسلام دشمنی میں سب ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ لیکن آپس کے تعلقات کا حال یہ ہے کہ ایک دوسرے کی برائیاں کرتے پھرتے ہیں اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دشمنی کی وجہ سے انھوں نے اپنا فریضہ سمجھ لیا ہے کہ جہاں بھی جائیں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کریں تاکہ مسلمانوں میں اسلام نے جو رشتہ اخوت و محبت پیدا کیا ہے اسے مستحکم نہ ہونے دیا جائے۔ اور آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی جو مسلمانوں کا مرجع اور مرکز ہے ان کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کی جائیں۔
مَّـنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ … خیر، عربی زبان میں مال کو بھی کہتے ہیں اور بھلائی کو بھی۔ اگر اس کا معنی مال لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ بہت بخیل لوگ ہیں جو کسی غریب اور مسکین پر پھوٹی کوڑی خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور نہ دوسروں کو خرچ کرتے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح ہم مال و زر کے پجاری ہیں دوسرے بھی اسی طرح خزانے کے سانپ بن کر بیٹھے رہیں۔ اور اگر اس کا معنی بھلائی لیا جائے تو پھر مطلب یہ ہوگا کہ ان مخالفین کی قیادت ہر بھلائی کی کٹر دشمن اور ہر اچھائی کا راستہ روکنے والی ہے۔ خود بھی نیکی اور بھلائی سے دور ہیں اور معاشرے کو بھی اس سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔
مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ …کہ یہ لوگ صرف بخیل ہی نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی اور تعدی کرنے والے ہیں، یعنی دوسروں کے حقوق چھیننا ان کا دلپسند مشغلہ ہے۔ اور جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں انھیں دبا لینا اور ادا نہ کرنا، یہ ان کا عام معمول ہے۔ اعتداء، دوسروں کے حقوق پر دست درازی کو کہتے ہیں۔ اور اثم، دوسروں کی حق تلفی پر بولا جاتا ہے۔ اور ان لوگوں میں یہ دونوں برائیاں پائی جاتی ہیں۔
عُتُلٍّ م بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ … عُتُلٍ ، عربی زبان میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو خوب ہٹا کٹا، بہت کھانے پینے والا اور نہایت بدخلق، جھگڑالو، سفاک اور سنگدل ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ کی قیادت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس وسائلِ رزق کی فراوانی ہے۔ لحیم و جسیم اور صحت کی دولت سے مالامال، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نہایت بدخلق اور غریبوں کے معاملے میں نہایت سنگدل ہیں۔ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرنا اور حق تلفیاں کرنا تو ان کا عام معمول ہے۔ لیکن ان کے اس رویئے نے ان سے انسانیت کا جوہر چھین لیا ہے۔ وہ نہ صرف کسی مسکین اور غریب کی مدد کرنے کی زحمت نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ برا رویہ اور سنگدلانہ سلوک روا رکھتے ہیں۔ کوئی دروازے پر آگیا تو دھکے دے کر نکال دیتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مال و زر سے اندھی محبت کرتا اور انتہائی بخیل واقعہ ہوا ہے وہ اپنی ان بری عادات کی وجہ سے دل کی سنگدلی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا تھا :
اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ۔ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدْعُّ الْیَـتِیْمَ ۔
” آپ نے دیکھا اس آدمی کو جو روز جزاء کو جھٹلا ہے اور وہی ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے۔
بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ … علاوہ ازیں وہ زنیم بھی ہے۔ زَنِیْمٍ ، زَنْمَۃٌ سے نکلا ہے۔ اس غدود کو کہتے ہیں جو بعض بکریوں کی گردن میں لٹک آتا ہے اور جس کی حیثیت جسم میں ایک بالکل فالتو عضو کی ہوتی ہے۔ اسی معنی کی مناسبت سے اس آدمی پر اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے جس کا نسب ثابت نہ ہو، یعنی وہ ولدالزنا ہو اور وہ کسی قوم کے نسب میں شریک بن بیٹھے درآنحالیکہ کہ وہ ان میں سے نہ ہو اور نہ اہل قوم اس کی کچھ ضرورت محسوس کرتے ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اشرافِ قریش میں ایسے لوگ بھی تھے جو بےنسب ہونے کے باوجود بعض خاندانوں سے نسبتیں پیدا کرچکے تھے۔ بعض روایات میں اخنس بن شریق کے بارے میں آیا ہے کہ اصلاً وہ ثقیف میں سے تھا لیکن مدعی تھا کہ وہ زہرہ میں سے ہے۔ اسی طرح ولید بن مغیرہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ قریشی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا حالانکہ وہ قریش میں سے نہ تھا۔ ایسے لوگ اپنے نسبی کمزوری کو چھپانے کے لیے قومی حمیت و حمایت کی جھوٹی نمائش کرتے ہیں تاکہ قوم کے اندر ان کا بھرم قائم رہے۔ اس طرح کے لوگ قومی تشخص اور قومی شیرازہ بندی کا نام لے کر لوگوں کو آنحضرت ﷺ کیخلاف اکساتے۔ اور قریش کی وحدت و جمعیت کی دُہائی دے کر آنحضرت ﷺ کی دعوت کو انتہائی خطرناک قرار دیتے تھے۔
اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ …ان لوگوں میں متذکرہ بالا صفاتِ بد اس لیے پیدا ہوئیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے مال کی وسعت اور اولاد کی کثرت کی آزمائش میں ڈالا تھا۔ حالانکہ ان نعمتوں کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار، فرمانبردار اور اس کے نازل کردہ دین کے علمبردار بن کر اٹھتے۔ لیکن جب کوئی شخص دولت دنیا کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھنے کی بجائے اپنے دست وبازو کی کمائی اور دوسروں پر برتری کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے تو پھر اس کے اندر یہ خرابیاں آئے بغیر نہیں رہتیں۔ وہ نادار لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ کبھی اسے موت بھی آئے گی۔ اور جو کچھ اس نے مال و اسباب فراہم کر رکھا ہے اور مضبوط محلات اٹھا لیے ہیں، یہ ہمیشہ رہنے والے نہیں۔ یہ تکبر بڑھتے بڑھتے آخر حق کی قبولیت کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اب اس کا ہدف دولت دنیا میں اضافے اور اپنے سر پر مصنوعی قلغیاں سجانے کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ وہ حُسنِ کردار سے بھی محروم ہوجاتا ہے، ضمیر کی روشنی سے بھی تہی دامن ہوجاتا ہے اور حوصلہ مندی اور اولوالعزمی کے وہ تمام سوتے جو ضمیر کی بیداری کی وجہ سے انسان میں کام کرتے ہیں، ایک ایک کرکے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا، ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
Ayahs 68:15–16اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰـتُـنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ ۔ (القلم : 15، 16)
(جب ہماری آیات اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے، یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔ ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغیں گے۔ )
مال و زر اور اولاد کی فراوانی نے اس کے مالک کے دل و دماغ میں جو غرور اور تکبر پیدا کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب اسے ان قوموں کی سرگزشتیں سنائی جاتی ہیں جو ان ہی کی طرح مال و دولت کی محبت میں اندھے ہوگئے اور اسی کو زندگی کا ہدف بنا کر حق کی ہر بات سے اعراض کرنے لگے۔ آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ قومیں تباہ کردی گئیں۔ تو ان سے سبق لینے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ تو گزشتہ قوموں کے افسانے ہیں جو تم ہمیں سناتے رہتے ہو۔ ان کا آج کی دنیا سے کیا تعلق۔ کیا اللہ تعالیٰ کے نبی کا کام یہ ہے کہ وہ گزشتہ قوموں کے افسانے سناتا پھرے، ہم ایسے شخص کو نبی ماننے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہم ان افسانوں سے کوئی اثر قبول کرتے ہیں۔
اگلی آیت میں فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنے تکبر اور غرور کے باعث اپنے مزعومات اور جاہلی خیالات کو چونکہ اپنی ناک کا مسئلہ بنا لیا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جو مال و دولت میں ہمارا ہمسر نہیں اور جسے وہ مقام حاصل نہیں جو ہمارا ہے تو اس کی دعوت قبول کرنے اور اس کی بات کو تسلیم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمیں اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا پڑے گی، اس کی برتری کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑے گا اور یہ ہماری ناک کی بلندی کیخلاف ہے۔ ہم تو اپنی ناک کو کہیں بھی نیچی نہیں ہونے دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں فرما رہے ہیں کہ ان لوگوں کے غرور وتکبر نے ان میں سے ہر ایک کی ناک کو اتنا بڑا کردیا ہے کہ اب وہ ناک نہیں بلکہ سونڈ ہے۔ اس لیے اگر اس کا ترجمہ ناکڑا کیا جائے تو حسب حال معلوم ہوتا ہے۔ ایسی بڑھی ہوئی ناک جو اب سونڈ یا ناکڑا بن گئی ہے جو حق کی قبولیت کو بھی اپنی توہین سمجھتی ہے، ہم عنقریب ان کے ناکڑے پر ذلت کا داغ لگائیں گے اور یا ہم ان کی ناک کو داغیں گے۔ یعنی باقاعدہ اسے آگ سے جلایا جائے گا۔ تب انھیں معلوم ہوگا کہ حق کے مقابلے میں استکبار کس قدر خطرناک بات ہے۔
Ayahs 68:17–18اِنَّا بَلَوْنٰـھُمْ کَمَا بَلَوْنَـآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ ج اِذْا اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّھَا مُصْبِحِیْنَ ۔ وَلاَ یَسْتَـثْـنُوْنَ ۔ (القلم : 17، 18)
(ہم نے ان کو اس طرح امتحان میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو امتحان میں ڈالا جبکہ انھوں نے قسم کھائی کہ وہ صبح سویرے ضرور ہی اس کے پھل توڑ لیں گے۔ اور کچھ بھی نہ چھوڑیں گے۔ )
قریش کے سرداروں کے لیے ایک تمثیل
قریش کو اپنی تجارت کی وسعت، اس سے حاصل ہونے والی دولت اور طائف میں ان کے پھیلے ہوئے باغات نے اس غلط فہمی میں مبتلا کر رکھا تھا کہ ہماری یہ دولت و ثروت ہمارے برسرحق ہونے کی دلیل ہے۔ اگر ہم غلط راستے پر ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں یہ خوشحالیاں نصیب نہ کرتا۔ علاوہ ازیں مال و دولت کی کثرت نے ان کے اندر عجب اور غرور پیدا کردیا تھا جس کی وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دولت و ثروت کی حقیقت کو ظاہر کرنے اور اپنے عذاب سے انذار کے لیے ایک تمثیل بیان فرمائی ہے جس میں ان کو یہ سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے کہ اپنے جس اقتدار پر ان کو اس قدر غرور ہے اس کی بنیاد بالکل ریت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا چشم زدن میں اس کو خاک میں ملا دے گا۔ اس کی تمثیل کو دیکھنا چاہیں تو اس واقعہ میں دیکھ لیں کہ باغ کے مالکوں کو کس قدر اپنی دولت پر ناز تھا اور اس دولت نے انھیں کس طرح راہ ہدایت سے برگشتہ کر رکھا تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو سب کچھ تباہ ہو کر رہ گیا۔
سوال یہ ہے کہ اس باغ کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہاں کا واقعہ ہے۔ حضرت ابن عباس ( رض) کا قول ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ اور حضرت سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ صنعاء یمن کا مشہور شہر اور دارالسلطنت ہے۔ یہ باغ اس سے چھ میل کے فاصلے پر تھا۔ اور بعض حضرات نے اس کا محل وقوع حبشہ کو بتلایا ہے۔ آیات کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باغ کے اندر یا اس کے ملحق کاشت کی زمینیں بھی تھیں۔ لیکن باغ کی شہرت کی وجہ سے اس واقعہ کو باغ والوں کا واقعہ کہا گیا ہے۔
محمد بن مروان حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے نقل کرتے ہیں کہ صنعاء یمن کے دو فرسخ کے فاصلے پر ایک باغ تھا جس کو صردان کہا جاتا تھا۔ یہ باغ ایک صالح اور نیک بندے نے لگایا تھا۔ اس کا عمل یہ تھا کہ جب کھیتی کاٹتے تو جو درخت درانتی سے باقی رہ جاتے تھے ان کو فقراء اور مساکین کے لیے چھوڑ دیتا تھا۔ اور یہ لوگ اس سے غلہ حاصل کرکے اور اپنا گزارہ کرتے تھے۔ اسی طرح جب کھیتی کو گاہ کر غلہ نکالتے تو جو دانہ بھوسے کے ساتھ اڑ کر الگ ہوجاتا اس دانے کو بھی فقراء اور مساکین کے لیے چھوڑ دیتا تھا۔ اسی طرح جب باغ کے درختوں سے پھل توڑتے تو توڑنے کے وقت جو پھل نیچے گر جاتا، وہ بھی فقراء کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس کی کھیتی کٹنے یا پھل توڑنے کا وقت آتا تو بہت سے فقراء اور مساکین جمع ہوجاتے تھے۔ اس مرد صالح کا انتقال ہوگیا۔ اس کے تین بیٹے باغ اور زمین کے وارث ہوئے۔ انھوں نے آپس میں کہا کہ اب ہمارا عیال بڑھ گیا ہے اور پیداوار ان کی ضرورت سے کم ہے۔ اس لیے اب ان فقراء کے لیے اتنا غلہ اور پھل چھوڑ دینا ہمارے بس کی بات نہیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ ان لوگوں نے آزاد نوجوانوں کی طرح یہ کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا اتنی بڑی مقدار غلہ اور پھل کی لوگوں کو لٹا دیتا تھا، اب ہمیں یہ طریقہ بند کرنا چاہیے۔ چناچہ قرآن کریم نے اسی واقعہ کو بیان کیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ان نوجوانوں نے آپس میں قسم اٹھا کے یہ عہد کیا کہ اب کی مرتبہ ہم صبح سویرے ہی جا کر کھیتی کاٹ لیں گے تاکہ مساکین اور فقراء کو خبر نہ ہو۔ کیونکہ اگر انھیں خبر ہوگئی تو وہ حسب سابق ہم سے غلہ اور پھل کا مطالبہ کریں گے اور انھیں کھیتی کاٹنے کا اس حد تک یقین تھا کہ انھوں نے انشاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی بلکہ تاکید کے انداز میں کہا کہ ہم صبح سویرے جا کر ضرور کھیتی کاٹ لیں گے۔
وَلاَ یَسْتَـثْـنُوْنَ … اس کا لفظی ترجمہ تو ہے کہ وہ استثنا نہیں کریں گے لیکن اکثر مفسرین نے اس استثنا سے مراد انشاء اللہ کہنا لیا ہے، یعنی انھوں نے انشاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی۔ لیکن تفسیر مظہری کے مطابق بعض مفسرین نے اسے لغوی معنی میں ہی لیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہم سارا غلہ اور پھل اپنے گھر لے آئیں گے، فقراء اور مساکین کے لیے کچھ نہیں نکالیں گے۔ جس طرح ہمارے والد ان کا حصہ چھوڑ دیتے تھے ہم اپنے باغ کی پیداوار میں کوئی استثنا نہیں کریں گے۔
Ayahs 68:19–20فَطَافَ عَلَیْھَا طَـآئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ وَھُمْ نَـآئِمُوْنَ ۔ فَـاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ ۔ (القلم : 19، 20)
(پس پھر گئی اس پر ایک (بلا) پھرنے والی تیرے رب کی طرف سے، اس حال میں کہ وہ سو رہے تھے۔ تو وہ کٹی ہوئی فصل کی مانند ہو کر رہ گیا۔ )
باغ کے مالک بڑے عزم و جزم کے ساتھ رات کو فیصلہ کرکے سوئے کہ صبح اٹھ کر فصل کاٹنی ہے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گردش یا کوئی بلا آئی جس نے باغ کو تباہ کردیا اور وہ بالکل ایسے ہوگیا جسے کٹی ہوئی فصل ہوتی ہے، یعنی یہ تباہی اس خاموشی کے ساتھ آئی کہ انھیں خبر تک نہ ہوئی اور تباہی ایسی مکمل تھی کہ اس نے چشم زدن میں ہرا بھرا باغ بےنشان کرکے رکھ دیا، لیکن باغ والوں کو کوئی خبر نہیں۔
Ayahs 68:21–22فَـتَـنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ ۔ اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ ۔ (القلم : 21، 22)
( صبح ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔ وہ پھل توڑنے ہیں تو سویرے اپنے کھیت پر پہنچو۔ )
صبح اٹھتے ہی سب جانے والوں نے ہانک پکار مچائی کہ اگر پھل توڑنے کا تمہارا پختہ ارادہ ہے تو پھر تاخیر مت کرو، کیونکہ تاخیر کی صورت میں ہوسکتا ہے مساکین کو خبر ہوجائے اور وہ بھی وہاں پہنچ جائیں۔ یہاں باغ کی بجائے ” حرث “ کا لفظ لایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باغ کے اندر مختلف چیزوں کی کاشت کے لیے قطعات بھی رکھے گئے تھے۔ اس لیے اسے باغ بھی کہا جاسکتا تھا اور حرث اور کھیتی بھی۔
Ayahs 68:23–25فَانْطَلَقُوْا وَھُمْ یَتَخَافَتُوْنَ ۔ اَنْ لاَّ یَدْخُلَنَّھَا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِّسْکِیْنٌ۔ وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ ۔ (القلم : 23 تا 25)
(پس وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے کہ آج باغ میں کوئی مسکین نہ آنے پائے۔ اور سویرے چلے لپکتے ہوئے عزم و حوصلہ کے ساتھ۔ )
یعنی گھر سے نکلے تو چپکے چپکے ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ دیکھنا آج کے دن کوئی فقیر باغ میں گھسنے نہ پائے۔ یعنی یہ ان کے انتہائی بخل کی دلیل تھی جس کا ذکر اشرافِ قریش کی صفاتِ بد میں بھی ہوچکا ہے۔
حرد، کا معنی منع کرنے اور غیظ و غضب دکھانے کے ہیں۔ اس میں تیزگامی اور عزم و حوصلہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے خیال میں یہ سمجھ کر چلے کہ ہمیں اس پر قدرت ہے کہ ہم کسی فقیر مسکین کو کچھ نہ دیں، کوئی آ بھی جائے تو اس کو دفعہ کردیں۔ ان کے دل اعتماد اور حوصلے سے مامور تھے کہ باغ اپنا ہے، پھل تیار ہے اب اس کی فصل حاصل کرنے میں کون سی چیز حائل ہوسکتی ہے۔ ہمارے باپ کے زمانے میں غریبوں اور مسکینوں کو جو کچھ ملا کرتا تھا ہم نے اس کا بھی سدباب کردیا ہے۔
Ayahs 68:26–27فَلَمَّا رَاَوْھَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ۔ (القلم : 26، 27)
(پس جب انھوں نے اس باغ کو دیکھا تو بولے کہ ہم تو راستہ بھول گئے۔ نہیں، بلکہ ہم تو محروم ہو کے رہ گئے۔ )
یعنی جب وہ باغ کی جگہ پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ باغ کی بجائے ایک تباہی کا منظر تھا، ایک ویرانہ دکھائی دے رہا تھا، گردشِ آسمانی نے اس طرح اس کا حلیہ بگاڑا تھا کہ اسے پہچان بھی نہ سکے۔ ایک دوسرے سے کہنے لگے معلوم ہوتا ہے ہم تاریکی میں راستہ بھول گئے ہیں، لیکن پھر گردوپیش میں غور سے دیکھا، کچھ روشنی پھیلی تو انھیں اصل حقیقت کا احساس ہوا کہ ہم راستہ نہیں بھولے بلکہ باغ ہی اجڑ گیا ہے۔ تب نہایت حسرت اور دکھ کے ساتھ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ہم تو بالکل محروم ہو کے رہ گئے۔ کہ ہم نہ جانے کیسے کیسے ارمان لے کے یہاں پہنچے تھے اور ہم نے دلوں میں کیسے کیسے حوصلے باندھ رکھے تھے یہاں تو سب کچھ تباہ ہوچکا ہے۔
Ayahs 68:28–32قَالَ اَوْسَطُھُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّـکُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُوْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَـآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ فَاَقْـبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَلاَ وَمُوْن۔ قَالُوْا یٰـوَیْلَنَـآ اِنَّا کُنَّا طٰغِیْنَ ۔ عَسٰی رَبُّنَـآ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَـآ اِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ ۔ (القلم : 28 تا 23)
(ان میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ وہ پکار اٹھے، پاک ہے ہمارا رب واقعی ہم گنہگار تھے۔ پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا ہائے بدبختی بیشک ہم ہی سرکش ہوگئے تھے۔ توقع ہے کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ )
برے سے برے معاشرے میں بھی کوئی نہ کوئی ہوش مند ضرور ہوتا ہے ان ہی میں سے ایک بہتر آدمی نے ان سے کہا کہ میں ہمیشہ تمہاری غفلت اور غلط روی پر ٹوکتا رہتا تھا اور ہمیشہ تمہیں توجہ دلاتا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ تسبیح ایک جامع کلمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی بندگی کے پورے مفہوم پر حاوی ہے۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ ہی کو یاد کرنے، اس کا شکر بجالانے اور اس کی فرمانبرداری کی تلقین کیا کرتا تھا لیکن تم نے میری ایک بات سن کے نہ دی، آج اس کا انجام دیکھ لیجئے۔ اب انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اپنی گمراہی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، کہ ہمارا رب یقینا ہر طرح کے ظلم سے پاک ہے، اس نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ اپنی خوشحالی کے نشے میں اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا بھول گئے۔ اور عام طور پر مصیبت کے وقت ایسا ہوتا ہے کہ اپنی غلطیوں کے احساس اور اعتراف کے باوجود لوگ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے لگتے ہیں، یہ بھی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ لیکن جلد ہی ہوش میں آئے اور کہنے لگے کہ ہم سب ہی سرکشی کے راستے پر جا پڑے تھے اور ہم نے کسی ناصح کی بات پر کان نہیں دھرا۔ اب کسی کو مطعون کرنے کی بجائے اپنی سرکشی کا انجام دیکھتے ہوئے توبہ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر نظر کرم فرمائے اور جس نعمت سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں محروم کیا ہے ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے۔
Ayah 68:33کَذٰلِکَ الْعَذَابُ ط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ (القلم : 33)
(اسی طرح آتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے، کاش یہ لوگ اس کو جانتے۔ )
حاصلِ نصیحت اور قریش کو تنبیہ
باغ والے اپنے باغ کی سرسبزی، پھلوں کی شادابی اور دوسری فصلوں کی تیاری کی خوشی میں سرشار اور مست تھے۔ اب صرف ان پھلوں کو توڑنے اور فصل کو کاٹنے کا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد ہر طرح کی نعمت کی فراوانی ہوجاتی اور خوشحالی میں مزید اضافہ ہوجاتا انھیں تصورات میں گم غرور وتکبر میں ڈوبے ہوئے اور مستقبل کے خطرات سے بےنیاز صبح صبح اپنے باغ میں پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ باغ تباہ ہوچکا ہے۔ اور جن نعمتوں کے تصور سے وہ اپنے دلوں میں تکبر کی پرورش کررہے تھے وہ سب فنا ہوگئی ہیں۔ اب انھوں نے محسوس کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آچکے ہیں۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد روئے سخن قریش کی طرف پھیرتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں جب ہمارے پیغمبر عذاب کی دھمکی دیتے ہیں اور نہایت ہمدردی سے تمہیں اس کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو تم کبھی حیرانی اور کبھی برہمی سے پوچھتے ہو کہ عذاب کہاں سے اور کدھر سے آجائے گا۔ ہماری خوشحالیوں کے امکانات بالکل واضح ہیں۔ ہمارے حالات میں کوئی الجھن نہیں۔ ہم شب و روز شادمانی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ اس میں عذاب کے آنے کی کیا تُک ہے۔ ایسی ہی بےسروپا باتوں سے گمان ہوتا ہے کہ تم واقعی مجنون ہو۔ قریش کی اس طرح کی باتوں اور اس طرح کے واہموں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس طرح باغ والوں پر اچانک عذاب آیا اور انھیں دور دور تک اس کا کوئی اندیشہ نہ تھا، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تم پر بھی عذاب آئے گا۔ اور جس قوم پر بھی عذاب آیا، اسی طرح آیا۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ عذاب آجانے کے بعد نہ نالہ ٔ و شیون کام آتا ہے اور نہ وہ سہارے کام آتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے۔ اور مزید یہ بات بھی یاد رکھو کہ ایمان و عمل کی خرابی اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی سزا صرف دنیا میں عذاب سے مکمل نہیں ہوجاتی بلکہ اس سے بھی کہیں بڑا عذاب جس کی ہولناکی کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا وہ آخرت کا عذاب ہے۔ جو لوگ دنیا میں عذاب کی گرفت میں آئے، آخرت کے عذاب میں اس کی وجہ سے ان کی سزا میں کمی نہیں ہوگی بلکہ آخرت کا عذاب اپنی جگہ قائم رہے گا۔ آخر میں فرمایا کہ کاش یہ لوگ اس بات کا یقین رکھتے اور آخرت کو بعیدازقیاس نہ سمجھتے تو پھر یہ اندھوں کی طرح زندگی نہ گزارتے اور آخرت کے عذاب سے بچ جاتے۔ لیکن ان کی بدنصیبی اور محرومی نے ان کی دنیا بھی تباہ کی اور آخرت بھی تباہ کر ڈالی۔
Ayah 68:34اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَرَبِّہِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ (القلم : 34)
(بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت بھری جنتیں ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام
گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی تکذیب کرتے، قیامت کا انکار کرتے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت اور پیغمبر کے مقابلے میں تکبر اختیار کرتے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان منکرین اور متکبرین کے برعکس زندگی گزارنے والوں یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام بیان ہورہا ہے۔ جن لوگوں نے ایمان و عمل کا راستہ اختیار کیا اور ہر فیصلہ کرنے اور ہر کام سے پہلے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام کو دیکھا اور اس کے مطابق زندگی گزاری اور ظاہر و باطن کو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ لیا۔ اور زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری اور اس کے دین کی سربلندی کو قرار دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں متقی کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ انھیں قیامت کے دن نعمتوں والے باغوں سے نوازا جائے گا جن میں ان خوش نصیب لوگوں کو ایسی نعمتیں دی جائیں گی جنھیں نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ انھیں وہ سب کچھ دیا جائے گا جس کی وہ خواہش کریں گے۔ دنیا میں خواہشوں اور ارمانوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو ناممکن الوجود ہیں لیکن جنت میں چونکہ زندگی کے ضوابط بدل جائیں گے اور امکان و عدم کے پیمانے تبدیل کردیئے جائیں گے۔ اس لیے وہاں کوئی خواہش بھی ناممکن نہیں ہوگی۔ ادھر کسی جنتی کے دل میں خیال آئے گا، اسے زبان تک آنے میں دیر ہوسکتی ہے لیکن اس کی عطا میں دیر نہیں ہوسکتی۔