Ayah 67:1تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ز وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرُ نِ ۔ (الملک : 1)
(نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
تَبٰـرَکَ کا مفہوم
تَبٰـرَکَ … میں دو باتیں قابل لحاظ ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اس کا مادہ برکت ہے اور برکت کے مفہوم میں رفعت و عظمت، افزائش و فراوانی، دوام و ثبات اور کثرت خیرات و حسنات شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رفیع و عظیم ہے۔ وہ عظمتوں کا سرچشمہ ہے اور رفعتیں اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ خیرات و حسنات اسی کے فیض سے وجود میں آتی ہیں۔ ہر چیز میں اضافہ اور کثرت اسی کی توجہ کا ثمر ہے۔ وہ ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اور دوسری یہ بات کہ یہ برکت سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی بزرگی اور عظمت میں سب سے فائق ہے اور اپنی ذات وصفات اور افعال میں اپنے سوا ہر ایک سے بالاتر ہے۔ اس کی ربوبیت اور فیضان بےمثال و بینظیر ہیں۔ اس کے کمالات کو کبھی زوال نہیں۔ ان دونوں باتوں کی دلیل اور نتیجہ یہ ہے کہ اسی کے قبضہ قدرت میں ساری کائنات کی پادشاہی ہے۔ کہنے کو تو زمین پر بیشمار پادشاہ گزر چکے اور موجود ہیں لیکن ان کی پادشاہیاں اور ان کی سلطنتیں بےثبات اور فانی بھی ہیں اور محدود بھی۔ اور پھر ان میں سے کوئی پادشاہ اور حکمران ایسا نہیں گزرا جسے اطمینان میسر ہو کہ میری پادشاہی کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ مزیدبراں یہ بات بھی کہ ان کے اقتدار اور پادشاہی کا فیض ان کی اپنی ذات، اپنے خاندان اور چند موالی کے سوا شاید ہی کسی کو پہنچتا ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی جس طرح کبریائی کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا، اسی طرح اس کی پادشاہی کو بھی کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا۔ یہاں جسے بھی کوئی اختیار یا اقتدار حاصل ہے وہ اسی کی دین یا اس کی طرف سے آزمائش ہے۔ وہ زمین پر اپنی حاکمیت اور قدرت کے اظہار کے لیے وقتاً فوقتاً حوادث کو جنم دیتا رہتا ہے۔ اس کے لشکر بیشمار ہیں، کبھی کسی کو حرکت میں لاتا ہے اور کبھی کسی کو۔ اسی بات کی وضاحت کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت چند اشیاء تک محدود نہیں بلکہ ہمہ گیر ہے۔ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی قدرت سے باہر ہو۔ وہ دینے پر بھی قادر ہے اور چھیننے پر بھی قادر ہے۔ بعض دفعہ اس کی طرف سے دی گئی مہلت سرکشی کا سبب بن جاتی ہے، لیکن ایسے سرکشوں کو سرکشی کی سزا دینے پر بھی وہ ہر طرح قادر ہے۔ چونکہ اس کی قدرتیں بےپناہ ہیں اس لیے وہ پکڑنے میں کبھی جلدی نہیں کرتا، کیونکہ جلدی وہ کیا کرتا ہے جو کمزور حکمران ہو اور جسے یہ اندیشہ ہو کہ آج ان سرکشوں کو چھوڑا گیا تو کل شاید طاقتور ہو کر ہاتھ نہ آئیں۔ لیکن اس کے سامنے جب کوئی فرعون بنتا ہے تو پانی کی ایک لہر اس کا خاتمہ کردیتی ہے۔
Ayah 67:2الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّـکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْغَفُوْرُ ۔ (الملک : 2)
(جس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ )
قدرتِ کاملہ کی دلیل
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اس سے بڑا ثبوت اور ظہور اور کیا ہوگا کہ وہ موت اور زندگی کا خالق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے کام لے کر انسانوں نے کیسی کیسی محیرالعقول ایجادات کی ہیں لیکن ان میں سے ہر ایجاد کسی نئی چیز کی تخلیق نہیں بلکہ چند اشیاء میں مناسب ترتیب اور ترکیب کا راز پالینے سے وجود میں آئی ہے۔ لیکن اولاً تو یہ بات قابل غور ہے کہ جن چیزوں کو ترکیب دیا جاتا ہے وہ چیزیں موجد کی مخلوق نہیں ہوتیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ موجد کا کمال ان میں اس ترتیب اور ترکیب کو پیدا کرنا ہے جو ایجاد کا باعث بنتی ہے۔ تو یہ ترتیب و ترکیب کا راز بھی کسی کی تخلیق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی موجد کے ذہن میں اچانک ایک تصور پیدا کرتا ہے اور وہ اچانک کہنے لگتا ہے کہ میں نے پا لیا، میں نے پا لیا۔ یعنی وہ راز پا لیا جو پہلے سے موجود تھا اور دنیا اس سے بیخبر تھی اور وہ راز بھی تخلیق پر قادر نے موجد کے ذہن میں اتارا ہے اور اگر اس میں موجد کے ذہنی کمال کو خراج تحسین پیش کیا جائے تو تب بھی یہ اس کی ذاتی صفت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہی عطا کردہ نعمت ہے۔ لیکن اس کی قدرت نے دیگر بیشمار چیزوں کی تخلیق کے ساتھ ساتھ موت وحیات کو پیدا کیا ہے جس کے راز کو آج تک کوئی نہ پاسکا اور نہ کوئی پا سکے گا۔ موت کیا چیز ہے اور زندگی کی حقیقت کیا ہے۔ دنیا بھر کے عقلمند آج تک اس سے بیخبر ہیں جبکہ اس کائنات کا اصل جوہر حیات ہے۔ باقی تمام کمالات اسی کے نتیجے اور اس کے بعد وجود میں آتے ہیں۔
انسانوں کا مقصدتخلیق
اس آیت کریمہ میں موت وحیات کو جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے اسی طرح اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو کھلنڈرا ہے کہ وہ محض کھیل کے لیے کائنات کو پیدا کرتا اور نہ وہ لا ابالی اور بےحکمت ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی ہوتا۔ اس نے انسانوں کو جس طرح زندگی عطا فرمائی اور پھر انھیں جو ہر عقل سے نوازا، مزیدبراں ان پر کتابیں اتاریں، پیغمبر مبعوث کیے۔ یہ سارے کام نہ اتفاقی ہوئے ہیں نہ کھیل کود کے طور پر اور نہ صرف قدرت کے اظہار کے لیے بلکہ اس کے پیچھے ایک حکمت کارفرما ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بےمقصد پیدا نہیں فرمایا۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ وہ تمہیں زندگی اور دیگر کمالات دے کر یہ امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم میں سے کون بہتر سے بہتر عمل سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے۔ اور کون ہے جو اپنے مقصد تخلیق سے انحراف کرکے بےمقصد اور سرکش زندگی گزارتا ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں اس نے متعدد حقیقتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ 1 یہ کہ موت وحیات اسی کے قبضے میں ہیں، کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا اور نہ موت دینے والا۔ مشرکین نے جس طرح بعض شخصیتوں کو ان صفات کا مالک سمجھا ہے وہ گمراہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ 2 یہ کہ انسان جیسی مخلوق جسے غیرمعمولی کمالات دیئے گئے اور نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے اس کی نہ زندگی بےمقصد ہے اور نہ موت، اللہ تعالیٰ نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیدا کیا۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے۔ اور موت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا۔ 3 یہ کہ اس امتحان کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے اچھائی یا برائی کا اظہار کرسکے اور یہ ثابت کرسکے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ 4 یہ کہ گزشتہ تینوں باتوں سے خودبخود دو باتیں نتیجے کے طور پر وجود میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس خالق نے انسان کو زندگی امتحان کے لیے دی ہے وہی یہ بتانے کا حق رکھتا ہے کہ امتحان کن باتوں میں ہوگا۔ اچھائی اور برائی کا معیار کیا ہوگا۔ کیسے عمل کو کامیابی سمجھا جائے گا اور کسے ناکامی ٹھہرایا جائے گا اور دوسری بات خودبخود اس سے نکلتی ہے کہ جزاء اور سزا کا دارومدار انسان کے عمل پر ہوگا۔ اور جس ذات نے انسانوں پر یہ امتحان نازل کیا ہے وہی اس جزاء و سزا کا دن مقرر کرے گا اور اسی کے ہاتھ میں جزاء اور سزا کی نوعیت کا فیصلہ ہوگا۔
آخر میں فرمایا کہ وہ عزیز ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سزا کے مستحق ہوں گے ان کو اس کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور وہ غفور بھی ہے یعنی وہ ظالم اور سخت گیر نہیں بلکہ جو مغفرت کے مستحق ہوں گے ان کو وہ اس سے محروم نہیں فرمائے گا۔ جو اپنی غلطیوں پر نادم ہو کر معافی مانگ لیں گے ان سے وہ درگزر فرمائے گا اور ہر حقدار کو سعی و سفارش کے بغیر ان کا حق عطا فرمائے گا۔
Ayahs 67:3–4الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ط مَاتَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ط فَارْجِعِ الَبَصَرَ لا ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ۔ (الملک : 3، 4)
(جس نے بنائے سات آسمان تہ بہ تہ، تم رحمن کی تخلیق میں کوئی خلل نہیں پائو گے، پس نگاہ دوڑائو، کیا تمہیں کہیں کوئی نقص نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ دوڑائو، تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کے مظاہر
پہلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ اس آیت میں اس کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یوں تو کائنات کی ایک ایک چیز حتیٰ کہ خود حضرت انسان، اس کا جسم، اس کی جان، اس کے دل و دماغ کی رعنائیاں، اس کی صلاحیتیں کون سے چیز ہے جو اس کی قدرت و عظمت کا شاہکار نہیں۔ ہاتھ کے انگوٹھے کی پور اس پر کھنچے ہوئے باریک باریک خطوط انسان کے لیے آج تک حیرت کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ اس کی بینائی، اس کی سماعت، اس کے احساسات، اس کے انفعالات ایک ایک چیز ورطہ حیرت میں ڈالنے والی ہے۔ لیکن انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے دائیں بائیں اور گردوپیش نگاہ نہیں دوڑاتا۔ پیش پا افتادہ حقیقتوں کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ اس لیے پروردگار نے آسمانوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ ایک تو وہ اپنے جسم اور حجم میں شاید اس کی کائنات میں سب سے عظیم ہیں، پھر ان کا وجود اس طرح سر پر چھتری بنا ہوا ہے کہ کوئی انسان بھی اس سے آنکھیں بند نہیں کرسکتا۔ بارش کی امید میں اسی طرف دیکھتا ہے، روشنی وہیں سے چھن چھن کر آتی ہے، ٹھنڈی اور تنہا راتوں میں چاند کا حسن اسی طرف سے اپنی حلاوت لٹاتا ہے۔ پھر انسان دیکھتا ہے کہ یہ عجیب چھت ہے جس کا کوئی ستون نہیں، جسے کسی چیز نے تھاما ہوا نہیں، جس کا کوئی اور چھور نہیں، نہ کہیں اس کی ابتداء معلوم ہوتی ہے اور نہ انتہاء، اور پھر ایسے آسمان ایک نہیں تہ بہ تہ سات بنائے گئے ہیں۔ نصوص میں ایک آسمان کا فاصلہ دوسرے آسمان تک پانچ سو سال بتایا گیا ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سے ہم بیخبر ہیں۔ سائنس آج تک اس کا وجود نہ پاس کی، یہ نیلگوں چھت جسے ہماری نگاہیں دیکھتی ہیں اور اسے انسانوں نے ہمیشہ آسمان سمجھا ہے سائنس کی نگاہ میں یہ حدِنگاہ ہے، لیکن کیا اس کے اوپر بھی آسمان ہے یا نہیں، سائنس اس کا جواب نہیں دے سکی۔ سائنسدان زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم آج تک آسمان کو دیکھ نہیں پائے یا ہمیں اس کا علم حاصل نہیں ہوسکا۔ لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ سرے سے اس کا وجود نہیں۔ اس لیے کہ عدم علم، عدمِ وجود کو مستلزم نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان اور اس کی بےمثال صنعت گری اور اس کا کمال فن صرف یہ نہیں کہ اس نے تہ بہ تہ سات آسمان پیدا کردیئے بلکہ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی مخلوق اور اتنی بڑی صنعت میں ڈھونڈے سے بھی کوئی ناہمواری یا کوئی نقص و خلل نظر نہیں آتا۔ ” تفاوت “ عدمِ تناسب کو کہتے ہیں، یعنی ایک چیز کا دوسرے سے میل نہ کھانا، اَنمل بےجوڑ ہونا۔ ان آسمانوں کو بلکہ ساری کائنات کو دیکھو کہیں بدنظمی، بےترتیبی اور بےربطی نظر نہیں آتی۔ اس کے تمام اجزاء باہم مربوط اور ان میں کمال درجے کا تناسب پایا جاتا ہے۔ اس میں ہر طرف نگاہ دوڑا کے دیکھو، کہیں کوئی ایسی جگہ نہیں ملے گی کہ جس میں کوئی ماہر فن انگلی رکھ کر کہہ سکے کہ اس جگہ کسی جو ڑبند کو ہموار کرنے میں کوئی کسر رہ گئی ہے۔
اگلی آیت میں اتمامِ حجت کے لیے بار بار دیکھنے کی دعوت دی گئی ہے اور یہ شاید اس لیے کہا گیا کہ ایک بہت بڑی صنعت اور حیران کن صنعت گری کو ایک نگاہ یا چند دفعہ دیکھنے سے کوئی رائے قائم کرنا آسان نہیں۔ اس لیے بار بار ناقدانہ نگاہ سے دیکھنے کی دعوت دی گئی۔ محققین نے کہا ہے کہ یہ پہلی نظر عوام کی ہے جو صرف وجود اور حُسنِ ظاہر دیکھ کر کمال صانع کے قائل ہوجاتے ہیں۔ دوسری نظر، اہل نظر اور اہل حکمت کی ہے جو ہر مخلوق کے مصالح کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ جو نظم تکوینی موجود ہے اس سے بہتر ہونا محال تھا اور اس پر مجالِ حرف گیری نہیں۔
آیت میں ” کرتین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ تثنیہ کا صیغہ ہے، یہاں محض اظہارِتعدد کے لیے ہے۔ دو کا متعین عدد مراد نہیں۔ والمراد بالتثنیۃ التکریر والتکثیر کما فی لبیک وسعدیک (بیضاوی)
اس آیت میں لفظ فتور استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دراڑ، شگاف یا ٹوٹ پھوٹ، کہ تم اسے بار بار دیکھو، تمہیں کہیں نظم کائنات کا تسلسل ٹوٹتا ہوا دکھائی نہیں دے گا، کسی جگہ کوئی رخنہ نظر نہیں آئے گا۔ تمہاری نگاہ تھک کر واپس آجائے گی لیکن تم کوئی نقص تلاش کرنے میں ناکام رہوگے۔
جس پروردگار کی یہ بےمثال قدرت و حکمت اور اس کا مرقع ہمارے سروں پر پھیلا ہوا ہے کہ ہم اس کی کی وسعت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں اور کہیں اس میں معمولی سا نقص بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ایسی عظیم ذات کے لیے کون سا کام دشوار ہوسکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر حماقت اور کیا ہوگی کہ کوئی شخص ایسی عظیم ذات کے بارے میں یہ تصور کرے کہ جب سب لوگ مر کھپ جائیں گے تو وہ سب کو دوبارہ کیسے زندہ کرسکے گا اور بیشمار لوگوں کے اَن گنت اعمال کی جزاء و سزا کس طرح ممکن ہوسکے گی۔ حتیٰ کہ بعض بیوقوف ایسے ہیں کہ وہ قیامت کے وقوع کو اس لیے ناقابلِ یقین سمجھتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی دفعہ ساری مخلوقات کو تباہ کردیا جائے اور زمین و آسمان کو توڑ پھوڑ دیا جائے، حالانکہ اب سائنس نے اس بات کو یقینی بنادیا ہے کہ زمینی زندگی کا دارومدار کشش ثقل پر ہے اور تمام ستارے اور سیارے اور اجرامِ فلکی اسی قانون کے تحت محوپرواز ہیں۔ اور سائنسدانوں کے کہنے کے مطابق یہ کشش روز بروز کم ہوتی جارہی ہے۔ ایک روز ایسا آئے گا جب یہ بالکل ختم ہوجائے گی، سورج بےنور ہوجائے گا، تو ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔
Ayah 67:5وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنٰـھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 5)
(ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے، اور انھیں شیاطین کو سنگسار کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے اور ان شیاطین کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیا ر کر رکھا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی ذات جلال و جمال کی جامع ہے
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کے اظہار کے لیے سات تہ بہ تہ آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرمایا اور پھر اپنی کمال صنعت گری کی طرف توجہ دلائی۔ اس سے پڑھنے اور سننے والے کے دل پر اللہ تعالیٰ کی ذات کی عظمت کا عکس پڑتا اور ہیبت بیٹھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں ایک مومن اپنے اللہ سے ڈرتا اور اس کی ہیبت سے سہما رہتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آسمانِ دنیا کو بڑے بڑے قمقموں سے آراستہ کرنے کا ذکر کرکے شاید یہ تصور دینا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات قدرت و جلال کی مالک ہے اور ہر عظمت اس کے سامنے سرنگوں ہے اور ہر مومن کو اس کو جلال سے لرزاں اور ترساں رہنا چاہیے۔ اسی طرح وہ ذات اپنے اندر کمال درجہ رحمت بھی رکھتی ہے۔ اس کا جلال جس طرح دلوں میں ہیبت پیدا کرتا ہے اسی طرح اس کی مخلوقات کا جمال دلوں میں اس کے لیے پیار کی جوت بھی جگاتا ہے اور اپنی ہزار کوتاہیوں کے باوجود بھی وہ بجائے مایوس ہونے کے اپنے اللہ سے امیدیں باندھتا ہے۔ ہزار سرکشی کے بعد بھی اسی کے دامن کے نیچے آتا اور اسی کے باب رحمت کو کھٹکھٹاتا ہے۔ اسلام سے پہلے کے مذاہب نے ہمیشہ پروردگار کی طرف سے آنے والے عذابوں کا ذکر کیا اور اس کے جلال کو نمایاں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم کا آغاز الحمدللہ رب العالمین سے کیا گیا۔ حمد ثنائے جمیل کو کہتے ہیں اور ثنائے جمیل محبت کرنے والے دل سے اٹھتی ہے۔ اس طرح قرآن کریم نے ایک اعتدال کی تعلیم دی ہے کہ اپنی سرکشی کے انجام سے ڈرو کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ کی گرفت آسکتی ہے، لیکن اپنے اللہ سے ہمیشہ پیار اور محبت کرو کیونکہ وہ سرتاپا جمال ہے۔ سر اٹھا کر آسمانوں کو دیکھو کس طرح انھیں اس نے قمقموں سے روشن کر رکھا ہے اور ایسی حسن آرائی کی ہے کہ جب آسمان بادلوں سے صاف ہو اور چودھویں کا چاند نور برسا رہا ہو اور ستارے زمین پر روشنی بکھیر رہے ہوں اور کہکشاں حسن کی تصویر بنی جگمگا رہی ہو۔ تو کھلی فضاء اور کھلے آسمان کے نیچے دیکھنے والا اندازہ کرسکتا ہے کہ کس طرح حسن اسے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور جمال اس پر قربان ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ سے پیار ایک مومن کے انگ انگ سے اٹھتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ میں اس ذات کی نافرمانی کروں جس کی رحمت مجھے آغوش میں لینے کے لیے تیار ہے۔
وَجَعَلْنٰـھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ ” ستارے تو اللہ تعالیٰ نے آسمانِ دنیا کی جمال آرائی کے لیے قمقموں کی طرح روشن کر رکھے ہیں، لیکن ان کا ایک ضمنی فائدہ بھی ہے، وہ یہ کہ شیاطین آسمانوں پر جانے سے قاصر ہوگئے ہیں۔ دور جاہلیت میں عرب کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کاہن جو غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ شیاطین ان کے تابع ہیں یا شیاطین سے ان کا رابطہ ہے۔ شیاطین آسمان پر جا کر یا کہیں قریب بیٹھ کر فرشتوں کی باتیں سنتے ہیں اور اس طرح سے مستقبل میں ہونے والے حوادث و واقعات کی انھیں خبر ہوجاتی ہے اور وہ آکر کاہنوں کو بتاتے ہیں اور وہ انھیں باتوں پر غیب دانی کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ستاروں سے شیاطین کو سنگسار کرنے کا کام بھی لیا ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ان ستاروں کے اندر اللہ تعالیٰ نے دید بان (بروج) بنائے ہیں جن میں فرشتے ہر وقت پہرہ دیتے رہتے ہیں۔ اگر شیاطین عالم بالا کی سن گن لینے کے لیے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان پر شہابوں کے راکٹ پھینک کر انھیں تباہ کردیتے ہیں یا آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بےحدو بےحساب شہاب ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں اور جن کی بارش زمین پر ہر وقت ہوتی رہتی ہے وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالم بالا میں جاسکیں۔ بہرحال دونوں باتوں سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ستارے ان شیاطین پردے نہیں مارے جاتے بلکہ ان سے شہاب ثاقب نکلتے ہیں جو شیاطین پر گرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے۔ صاحب تفہیم القرآن کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات جدید ترین دور تک انسان کے علم میں آئے ہیں اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں ان کی بنا پر سائنسدانوں میں سب سے زیادہ معقول نظریہ یہ ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلاء میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے میں آکر ادھر کا رخ کرلیتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، ایڈیشن 1967 ء، جلد 15) لیکن صاحب تفسیر عزیزی نے لکھا ہے، ممکن ہے کہ ملائکہ اجزائے ہوا اور بخارات کو ستاروں سے روشن کرکے شیطانوں پر مارتے ہوں۔ مقصود اس جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس شان و اہتمام کے ساتھ پیدا کرنے کے بعد اس کو چھوڑ نہیں دیا کہ شیاطین اس کو بازی گاہ بنالیں بلکہ اس نے اس کی نگرانی کا بھی سامان کیا ہے اور جب وہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ان کی سرکوبی بھی ہوتی ہے اور قیامت کے دن ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 67:6وَلِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ عَذَابُ جَھَنَّمَ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الملک : 6)
(اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اپنے رب سے کفر کیا، جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ )
کفر کا نتیجہ جہنم ہے
سابقہ آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو شیاطین حدود سے تجاوز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اسی سے گریز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو انسان بھی اپنے رب کا کفر کریں گے یعنی قیامت اور جزاء و سزا کا انکار کریں گے اور اس کے نتیجے میں کفر کی زندگی گزاریں گے تو ان کے لیے بھی جہنم کا عذاب ہے۔ اور یہ جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے۔ جس بدبخت نے اپنی زندگی کے اعمال کے نتیجے میں اسے اختیار کیا اس نے بہت برا فیصلہ کیا۔
Ayah 67:7اِذَ ٓا اُلْقُوْا فِیْھَا سَمِعُوْا لَھَا شَھِیْـقًا وَّھِیَ تَفُوْرْ ۔ (الملک : 7)
(جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دھاڑنے کی آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی۔ )
شَھِیْق کے مفہوم کی وضاحت
یہ کافر لوگ جو قیامت کا انکار کرتے تھے جب اپنے کفر و شرک کے باعث جہنم میں پھینکے جائیں گے تو انھیں دیکھ کر جہنم دھاڑے گی۔ آیت میں شَھِیْـقکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اہل لغت کے نزدیک گدھے کی آواز جیسی آواز کو بھی کہتے ہیں اور شیر کی دھاڑ کو بھی۔ ہماری محاوراتی زبان میں ہیبت کے اظہار کے لیے شیر کی دھاڑ کا ذکر کیا جاتا ہے، گدھے کی آواز کا نہیں۔ گدھے کی آواز کراہت اور شور کا استعارہ ہے۔ لیکن جب کسی آواز سے ڈرانا اور ہیبت دلانا مقصود ہو یا اس کی عظمت اجاگر کرنا پیش نظر ہو تو پھر شیر کی دھاڑ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مولانا ظفرعلی خان کا شعر ہے :
میں شیر ہوں جو دھاڑتا ہوں کچھار میں
بلی نہیں جو گھر ہی میں کرتی ہو میائوں میائوں
اس لیے مفادِکلام کا تقاضا یہ ہے کہ شَھِیْـق سے شیر کی دھاڑ مراد لی جائے۔ یعنی جہنم انھیں دیکھ کر اس طرح جوش و غضب کا اظہار کرے گی جیسے شیر اپنے شکار کو دیکھ کر دھاڑتا ہے۔ اگلا جملہ اسی کا بیان معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کی دھاڑ سن کر محسوس ہوگا کہ جہنم جوش مار رہی ہے اور اس کا جوش و غضب اپنے پورے شباب پر ہے۔
Ayahs 67:8–9تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ط کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَأَلَھُمْ خَزَنَـتُـھَا اَلَمْ یَاتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَ نَا نَذِیْرٌ 5 لا فَکَذَّبْنَا وُقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ صلے ج اِنْ اَنْـتُمْ اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ۔ (الملک : 8، 9)
(قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے، جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا۔ وہ جواب دیں گے، ہاں ! ہمارے پاس ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ )
جہنم کے جوش و غضب کی تعبیر
یہ جہنم کے جوش و غضب کی تعبیر ہے، یعنی اس کے غضب سے معلوم ہوگا کہ وہ غصے سے پھٹی جارہی ہے۔ ہم بھی اپنی زبان میں جب کسی شخص کو بہت غصے کا اظہار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور یا محسوس ہوتا ہے کہ وہ غصے میں کھول رہا ہے تو ہم اسے اسی طرح تعبیر کرتے ہیں کہ وہ غصے میں پھٹا جارہا ہے۔ جہنم کے غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا ہی سزا کے لیے کیا ہے اور سزا بھی ان لوگوں کے لیے جو قیامت کے دن کی پروا نہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں زندگی گزار کے آئے ہوں گے اور کسی پیغمبر کی بات پر انھوں نے کان نہ دھرا ہوگا۔ اسی بنیادی صداقت کے اظہار کے لیے جہنم کے داروغے ان شامت زدوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے اعتراف کے لیے دلائلِ آفاق اور دلائلِ انفس کی کمی نہیں۔ جو شخص بھی کھلی آنکھوں اور کھلے دل سے زندگی گزارے اس کے لیے قیامت کا وقوع انسان کے مقصد زندگی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر غور کرتا ہے اس کے لیے قیامت کا انکار اللہ تعالیٰ کے عادل ہونے کے انکار کے مترادف ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا کرم یہ ہے کہ اس نے ان بنیادی صداقتوں کے اعتراف کے لیے انسانی فطرت اور انسانی عقل کو کافی نہیں ٹھہرایا بلکہ انسانوں کے ہر گروہ کی طرف اس کے رسول آئے اور کتابیں نازل ہوئیں۔ اس لیے جہنم کے داروغے انھیں ملامت کرتے ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ ان سے بنیادی حقائق کا اعتراف کراتے ہوئے یہ پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے تم آج کے ہولناک انجام سے بچ جاتے۔ تو وہ اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے کہ ڈرانے والا تو آیا تھا اور اس نے ہمیں انذار کرنے میں کوئی کمی بھی نہیں کی۔ لیکن یہ ہماری بدنصیبی تھی کہ ہم سے جس کسی نے بھی یہ خیرخواہی کرنے کی کوشش کی، ہم نے ایسے تمام لوگوں کی تکذیب کی اور ہم نے ان سے صاف کہا کہ تم جو بار بار یہ کہتے ہو کہ یہ دین اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے، یہ شریعت اس کی طرف سے آئی ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ ہم ایک دن ایسا لائیں گے جب تم سے اس بات کا حساب لیا جائے گا کہ تم نے ہمارے احکام کے مطابق زندگی گزاری یا اس کی مخالفت میں۔ تم یہ غلط کہتے ہو، اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بات نازل نہیں کی، اس کی طرف سے نہ کوئی رسول آیا اور نہ کوئی کتاب اتری۔ تم خود ایک بڑی گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہو اور ہمیں یہ ڈراوے سنا رہے ہو کہ مر کھپ جانے کے بعد ہم سب ازسرنو زندہ کیے جائیں گے اور ہمارے ایک ایک قول و فعل کا حساب ہوگا۔
آیت کے آخری جملے میں ” اَنْتُمْ “ کا لفظ آیا ہے جو جمع کی ضمیر ہے۔ حالانکہ جہنم کے داروغے ان سے سوال صرف ایک نذیر کے بارے میں کریں گے جو واحد ہے۔ اس میں دراصل یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے صرف ایک نذیر ہی کو نہیں جھٹلایا بلکہ جس نے بھی ہمیں قیامت کے دن سے خبردار کرنے کی کوشش کی، چاہے وہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہو یا اس کا کوئی ساتھی، ہم نے سب کو گمراہ ٹھہرایا اور ان کی تکذیب کی۔
Ayah 67:10وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 10)
(اور وہ کہیں گے، کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں شامل نہ ہوتے۔ )
اہلِ جہنم کے اعتراف کی مزید تفصیل
یہ کافروں کے اعتراف کی مزید تفصیل ہے کہ وہ اپنی تکذیب اور سرکشی کا اعتراف کرتے ہوئے نہایت تأسف سے یہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اپنی طرف آنے والے اللہ تعالیٰ کے نبی کی باتوں اور اس کی تعلیمات پر کان دھرا ہوتا۔ طالبِ حق بن کر ان کی باتوں کو توجہ سے سنا ہوتا یا عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ فی الواقع وہ بات کیا ہے جو ہمارے سامنے کی جارہی ہے تو آج ہم اہل جہنم میں سے نہ ہوتے اور یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہمارا مقدر نہ ہوتی۔
آیتِ کریمہ میں سننے کا ذکر، سمجھنے سے پہلے کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بات کی قبولیت کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ پہلے اسے غور سے سنا جائے اور اگر وہ لکھی ہوئی چیز ہو تو اسے پڑھا جائے۔ اس کے بعد اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ اس پر غور و فکر کی نوبت آئے اور پھر نتیجہ اقرار یا انکار کی صورت میں نکلے۔ لیکن جب کسی بات کو سننے سے ہی انکار کردیا جائے تو اس کے سمجھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اہل مکہ کا حال ایسا ہی تھا اسی لیے قرآن کریم جیسی دلوں میں اتر جانے والی کتاب بھی ان پر جلدی اثرانداز نہ ہوسکی ان کا رویہ یہ تھا کہ جب نبی کریم ﷺ انھیں قرآن کریم پڑھ کر سناتے تو وہ شور مچاتے اور سننے سے انکار کردیتے اور لوگوں کو بھی تلقین کرتے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے مت سنو، بلکہ شور مچائو تاکہ بلاقصد بھی کوئی بات کان میں نہ پڑجائے۔
Ayah 67:11فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ ج فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 11)
( اس طرح) وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے، پس لعنت ہو ان دوزخ والوں پر۔ )
اوپر ان لوگوں کے اعتراف کی تفصیل گزری۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے اور اعتراف کے اہم اجزاء کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اعتراف اس وقت ہوا جب چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔ لیکن اس اعتراف سے انھوں نے اس بات کی تصدیق کردی کہ انھیں جہنم میں بھیج کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ ان کی اپنی بداعمالیوں اور افکار کی خرابیوں کا نتیجہ تھا۔
ان کے زندگی بھر کے فکری اور عملی گناہوں کو صرف ” ذنب “ کے واحد لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اصل گناہ اور قصور جس کی وجہ سے وہ جہنم کے مستحق ہوئے، رسولوں کا جھٹلانا اور ان کی پیروی سے انکار کرنا ہے باقی سارے گناہ اس کی فرع ہیں۔
Ayah 67:12اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَبِیْرٌ۔ (الملک : 12)
(بیشک جو لوگ بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں یقینا ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے۔ )
اصلاحِ اخلاق کی اصل بنیاد
یہ دین میں اخلاق کی اصل جڑ ہے۔ کسی کا برائی سے اس لیے بچنا کہ اس کی ذاتی رائے میں وہ برائی ہے یا دنیا اسے برا سمجھتی ہے یا اس کے ارتکاب سے دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے یا اس پر کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ ہے۔ یہ اخلاق کے لیے ایک بہت ہی ناپائیدار بنیاد ہے۔ آدمی کی ذاتی رائے غلط بھی ہوسکتی ہے۔ وہ اپنے کسی فلسفے کی وجہ سے ایک اچھی چیز کو برا اور ایک بری چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے۔ دنیا کے معیارِ خیر و شر اول تو یکساں نہیں ہیں پھر وہ وقتاً فوقتاً بدلتے بھی رہتے ہیں، کوئی عالمگیر اور ازلی و ابدی معیار دنیا کے اخلاقی فلسفوں میں نہ آج پایا جاتا ہے نہ کبھی پایا گیا ہے۔ دنیوی نقصان کا اندیشہ بھی اخلاق کے لیے کوئی مستقل بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ جو شخص برائی سے اس لیے بچتا ہو کہ وہ دنیا میں اس کی ذات پر مترتب ہونے والے کسی نقصان سے ڈرتا ہے وہ ایسی حالت میں اس کے ارتکاب سے باز نہیں رہ سکتا جبکہ اس سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی طرح کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ بھی وہ چیز نہیں ہے جو انسان کو ایک شریف انسان بنا سکتی ہو۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دنیوی طاقت بھی عالم الغیب والشھادۃ نہیں ہے۔ بہت سے جرائم اس کی نگاہ سے بچ کر کیے جاسکتے ہیں اور ہر دنیوی طاقت کی گرفت سے بچنے کی بیشمار تدبیریں ممکن ہیں۔ پھر کسی دنیوی طاقت کے قوانین بھی تمام برائیوں کا احاطہ نہیں کرتے۔ بیشتر برائیاں ایسی ہیں جن پر دنیوی قوانین کوئی گرفت سرے سے کرتے ہی نہیں حالانکہ وہ ان برائیوں سے قبیح تر ہیں جن پر وہ گرفت کرتے ہیں۔ اس لیے دین حق نے اخلاق کی پوری عمارت اس بنیاد پر کھڑی کی ہے کہ اس اَن دیکھنے خدا سے ڈر کر برائی سے اجتناب کیا جائے جو ہرحال میں انسان کو دیکھ رہا ہے جس کی گرفت سے انسان بچ کر کہیں نہیں جاسکتا جس نے خیر و شر کا ایک ہمہ گیر، عالمگیر اور مستقل معیار انسان کو دیا ہے۔ اسی کے ڈر سے بدی کو چھوڑنا اور نیکی کو اختیار کرنا وہ اصل بھلائی ہے جو دین کی نگاہ میں قابل قدر ہے۔ اس کے سوا کسی دوسری وجہ سے اگر کوئی انسان بدی نہیں کرتا یا اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے جو افعال نیکی میں شمار ہوتے ہیں ان کو اختیار کرتا ہے تو آخرت میں اس کے یہ اخلاق کسی قدر اور وزن کے مستحق نہ ہوں گے کیونکہ ان کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ریت پر تعمیر ہوئی ہو۔ (تفہیم القرآن)
Ayahs 67:13–14وَاَسِرُّوْا قَوْلَـکُمْ اَوِ اجْھَرُوْا بِہٖ ط اِنَّـہٗ عَلَیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۔ (الملک : 13، 14)
(تم اپنی بات چھپا کے کہو یا علانیہ کہو، وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے علم کی ہمہ گیری
خطاب تمام نوع انسانی کو ہے جس میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہوسکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ کافروں کو تہدید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ جس طرح من مرضی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر ہے اور ان کے دلوں کے بھیدوں کو تو بالکل نہیں جانتا۔ تو انھیں تنبیہ کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ تم کسی بات کو چھپا کے کہو یا علانیہ کہو، آہستہ کہو یا زور سے کہو۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے جو دلوں میں چھپے ہوئے خیالات کو بھی جانتا ہے۔ جو انسان کے مخفی ارادوں سے بھی باخبر ہے۔ انسان کے ذہن میں جو لہر اٹھتی ہے اسے ارادہ بنتے کچھ دیر لگتی ہے، اللہ تعالیٰ اس پورے پراسیس سے واقف ہے۔ اس لیے کافروں کو یہ احساس رہنا چاہیے کہ قیامت کے دن انھیں اس ذات سے سابقہ پیش آنے والا ہے جو ان کی ہر طرح کی باتوں، ہر طرح کے ارادوں اور ہر طرح کے اعمال سے باخبر رہا ہے اور آج اسی کے مطابق ان سے معاملہ کرے گا۔
اور مومنوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ تم نے راہ حق میں جو صعوبتیں اٹھائی ہیں اور اس راستے میں تمہیں جو حوادث پیش آئے ہیں اور جس طرح تمہارا احساس زخمی ہوتا رہا ہے اور جس طرح تمہارے دلوں کی کرچیاں ہوئی ہیں ان میں سے کوئی بات بھی اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ تم نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو مال خرچ کیا اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے جس طرح فکرمند رہے، ہر بات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ چناچہ وہ اپنے علم کے مطابق تمہاری ایک ایک قربانی کی قدر کرے گا اور تمہارے ایک ایک عمل کی جزاء دے گا۔
دوسری آیت میں فرمایا کہ کسی کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے تمام افکار و اعمال سے کیسے واقف ہوسکتا ہے اور ان کی دماغی کاوشیں اور دل کی امنگیں کس طرح اس کے علم میں آسکتی ہیں۔ فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کا خالق ہی نہیں بلکہ اسی نے ان کو دل و دماغ دیئے اور ان کی رعنائیوں اور صلاحیتوں کو بھی اسی نے تخلیق فرمایا۔ انسان کی فطرت بھی اسی نے پیدا کی اور ان کا انگ انگ اور دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اور سانس کی آمد و رفت کا ایک ایک شمہ اور انسان کے اعضاء کا ایک ایک بند اسی کی تخلیق اور اسی کی تدبیر سے کام کررہا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی بات اس سے مخفی رہے۔ آخر میں فرمایا کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی۔ وہ باریک بیں بھی ہے اور دقیقہ رس بھی۔ وہ غیرمحسوس طریقے سے کام کرتا ہے اور پوشیدہ حقائق سے بھی واقف ہے۔ اس کے لیے خفی اور جلی کی کوئی تقسیم نہیں۔ اس کا علم اور اس کی اطلاع ہر طرح کی ناتمامی اور نارسائی سے پاک ہے۔ اس کا علم ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم کا یہ جامع تصور اور اس کے ہمہ وقت خبیر ہونے کا یقین وہ قوت ہے جو انسان کو شرک کی ہر آلودگی سے پاک کردیتی ہے اور اسی عقیدے میں کمزوری شرک کے لیے بہت سے راستے کھول دیتی ہے۔
Ayah 67:15ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلاً فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِھَا وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ ط وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ۔ (الملک : 15)
(وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع بنا رکھا ہے تو تم اس کے کندھوں پر چلو پھرو اور کھائو اس کی دی ہوئی روزی، پھر اسی کی طرف اٹھنا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے مزید احسانات کا ذکر
اس سے پہلے سورة کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اپنے عجائباتِ قدرت و حکمت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے آسمان کی حیرت انگیز صنعت اور نگاہوں کو خیرہ کردینے والے حسن و جمال کا ذکر کیا تھا۔ اس سے ایک طرف اللہ تعالیٰ کے جلال و جمال پر استشہاد کیا اور دوسری طرف اپنے احسانات کے حوالے سے اپنی کبریائی اور انسانوں کی بندگی پر استدلال کیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی سلسلہ استشہاد و استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے زمین کے حوالے سے اپنے احسانات کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے انسان کے قیام وقرار کے لیے زمین کو ” ذلول “ بنایا۔ ” ذلول “ کا معنی ہوتا ہے، پست، نرم، سہل الانقیاد، مطیع اور فرمانبردار۔ زمین اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ باقی کُرّوں کی طرح ایک کُرّہ ہے جو ہر وقت محوحرکت ہے اور اس کی اسی حرکت کے باعث انسان کی زندگی اور اس کے معمولات کا سلسلہ قائم ہے۔ جو چیز حرکت میں ہو اور اپنے جسم اور حجم میں نہایت وسعت اور وزن رکھتی ہو اس کا یوں پرسکون رہنا جو انسانوں اور دیگر مخلوقات کے لیے راحت کا باعث ہو، ایک حیران کن بات ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت بالغہ ہے جس نے زمین کو باقی کُرّوں کی طرح تھام کے رکھا ہے اور پھر اسے ایسا پست، نرم اور فرمانبردار بنایا ہے کہ انسان اس پر پیدل چلے، گاڑیاں چلائے، اس پر مکانات کا بوجھ ڈالے، اس کی کھدائی کرے، نہریں کھودے وہ کبھی انکار نہیں کرتی۔ باوجود اس کے کہ اس کا جسم مٹی سے تیار ہوا ہے لیکن اسے اتنا نرم نہیں بنایا گیا کہ چلتے ہوئے انسان کے پائوں اس میں دھنس جائیں یا وہ مکانوں کا بوجھ نہ اٹھا سکے۔ جس طرح اس کے میدانی علاقے انسان کی آمد و رفت اور تگ و تاز کے لیے نہایت آرام دہ اور پرسکون ہیں اسی طرح اس کے پہاڑی علاقے بھی اپنے اندر انسانوں کے لیے آنے جانے کے راستے رکھتے ہیں۔ پہاڑوں کی سنگینی کے باوجود وہاں حسن و جمال کا جابجا ایسا گلشن کھلا دیا ہے، ایسے قدآور درخت اگا دیئے ہیں، ایسی خوبصورت آبشاریں گرا دی ہیں اور ایسے چشمے ابال دیئے ہیں جن میں بہتا ہوا پانی ایسا لگتا ہے جیسے چاندی اور پارہ بہہ رہا ہو، انھیں سنگین پہاڑوں میں ایسے نالے بہتے ہیں جن کا شور آنے جانے والوں کے لیے موسیقی کا کام دیتا ہے اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پیٹ میں قوت روئیدگی رکھی ہے جو انسان کے لیے غلہ اور پھل اگاتی ہے اسی طرح اس کے پیٹ میں عجیب و غریب معدنیات رکھی ہیں جو انسان کی ضرورت بھی ہیں اور قوت کا سامان بھی۔ انسان اس کے پھیلے ہوئے راستوں پر اس طرح سفر کرتا ہے جیسے فرمانبردار اونٹنی کے کندھوں پر سوار سفر کرتا ہے۔ جس طرح فرمانبردار اونٹنی اپنے سوار کو اٹھائے نہایت فرمانبرداری سے چلتی رہتی ہے اسی طرح زمین کے کندھے بھی انسانوں کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں اور ان کے لیے سہولتیں بھی بہم پہنچاتے ہیں۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں ان دونوں غیرمعمولی فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے کندھوں پر چلو پھرو، یعنی اس کے راستوں پر جہاں چاہو آئو جاؤ اور اس کے پہاڑی راستے تو بالکل اونٹنی کے کندھوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں اور پھر اس بات کا کوئی خطرہ نہیں کہ تم زمین پر سفر کرتے ہوئے کہیں اس کی پہنائیوں میں گم ہوجاؤ گے اور ایسی ناہموار اور خشک زمین میں تمہیں کہیں کچھ کھانے کو نہیں ملے گا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ اسی زمین کے اندر سے رزق کے خزانے جاری کر رکھے ہیں۔ ہموار زمین میں غلہ اگتا ہے، پہاڑوں میں ہماری عمارتوں کے لیے لکڑی، جلانے کے لیے ایندھن اور مختلف خوش ذائقہ اور رسیلے پھلوں سے لدے ہوئے درخت جابجا مختلف علاقوں میں مختلف خصوصیات لیے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کتنا بےذوق ہے وہ دل اور کس قدر اندھی ہے وہ آنکھ اور کس قدر بہرہ ہے وہ کان جو اللہ تعالیٰ کے احسانات کو دیکھے، ان سے فائدہ اٹھائے، لذتِ کام و دہن کا سروسامان کرے اور جابجا پھیلے ہوئے حسن اور مہکتے ہوئے پھولوں سے مشام جان کو معطر کرے، لیکن ان سب کے خالق کی طرف اس کا دھیان کبھی نہ جائے اور وہ گمان کرے کہ ہمیں شاید اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ ہم بغیر کسی ذمہ داری کے احساس کیے ان انمول نعمتوں سے فائدہ خوب اٹھائیں لیکن یہ کبھی نہ سوچیں کہ جس ذات نے ہمارے لیے یہ خوان نعمت بچھایا ہے کبھی اس سے آمنا سامنا بھی ہوگا اور وہ اپنی نعمتوں کے بارے میں ہم سے سوال کرے گا۔ یہ وہ پیش پا افتادہ حقیقت ہے جو قدم قدم پر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے لیکن اس کا تغافل اتنا شدید ہے کہ پروردگار خود اس کی طرف متوجہ فرما رہا ہے کہ تمہیں ایک دن اس کی طرف لوٹنا ہے اور زندہ ہو کر جانا ہے۔
Ayah 67:16ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ھِیَ تَمُوْرُ ۔ (الملک : 16)
(کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ زمین یکایک لرزنے لگے۔ )
قہروانتقام سے انسانی ہدایت پر استدلال
اس سے پہلے کی آیات میں پروردگار نے انسانوں کو اپنے احسانات و انعامات کے حوالے سے اپنی ذات اور ان کی بندگی اور احتیاج کی طرف متوجہ فرمایا اور اسی طرح دوبارہ جی اٹھنے پر استدلال کیا۔ اب انسانوں کو راہ راست کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اپنے قہروانتقام کا حوالہ دے رہا ہے کہ جس پروردگار نے تمہیں ایسی زمین عطا فرمائی ہے کہ وہ تمہارے معمولات اور تگ و تاز کے لیے نہایت پست اور فرمانبردار واقع ہوئی ہے اور اس نے اپنا سر تمہارے سامنے ڈالا ہوا ہے اور تم چاہو اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی کرو لیکن وہ تمہارے لیے غلہ اگانے سے کبھی سرکشی نہیں کرتی۔ ایمان اور کفر دونوں حالتوں میں تمہارے معمولات میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑتی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو کھلی چٹھی دے رکھی ہے کہ وہ بجائے اس کے کہ اپنے آپ کو ذمہ دار بندہ ثابت کرنے کی کوشش کرے، شتر بےمہار بن کر زندگی گزارنے پر اصرار کرتا ہے۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اس نے انسانوں پر احسانات کیے ہیں اور ربوبیت کے فیضان سے انھیں نوازا ہے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ انسانوں کے اعمال کی پاداش میں انھیں زمین میں دھنسا دے کہ وہ زمین جو ان کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے اور انھیں ہر سہولت مہیا کرنے کے لیے نہایت فرمانبردار ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک دن وہ بوجھ اٹھانے سے انکار کردے اور انسان اس کے اندر دب کر رہ جائے اور یہ محض مفروضہ نہیں، انسانوں نے بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ زمین لرزنے لگتی ہے یعنی زلزلہ آتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے بیشمار لوگ لقمہ اجل ہوجاتے ہیں، سربفلک عمارتیں زمین بوس ہوجاتی ہیں، زمین میدانِ حشر کا منظر پیش کرنے لگتی ہے اور یہ سب کچھ زمین کی مرضی سے نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین انسانوں کی خدمت میں لگی ہوئی ہے اور اس کی قوت روئیدگی انسانوں کے لیے غذائی ضرورتیں پوری کررہی ہے اور جب اسی مالک کا حکم ہوتا ہے تو یہی فرمانبردار زمین زلزلے کا شکار ہو کر انسانوں کے لیے تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسانوں کے کفر و شرک اور بداعمالیوں کے باعث اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے اور کسی بھی قوم کو تنبیہ کرنے کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے۔ تو بگڑے ہوئے لوگوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جارہے ہو تو کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ جو زمینوں کی پستیوں کا مالک ہے اور آسمانوں کی بلندیوں کا بھی، کسی وقت بھی تم اس کے قہر و انتقام کا شکار ہوجاؤ۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
آیتِ کریمہ میں ” مَنْ فِی السَّمَآئِ “ کے لفظ سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ اور کسی مکان میں رہنے کی احتیاج سے پاک ہے۔ آسمان اس کے رہنے کی جگہ نہیں بلکہ اس کی مخلوق ہے۔ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کو اسی نے پیدا فرمایا ہے اور ایک وقت ایسا بھی تھا جب نہ زمین تھی نہ آسمان تھا، لیکن پروردگار تو ازل سے ہے۔ اس نے خود اپنے تعارف میں فرمایا فَاَیْنَمَا تُوَلُوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ” پس تم جدھر بھی رخ کرو اس طرف اللہ کا رخ ہے “ یہ بات انسانی محاورے اور انسانی عادت کے مطابق ارشاد فرمائی گئی ہے کیونکہ انسان جب بھی اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتا ہے، تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے، دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ جب سب سہارے جواب دے جاتے ہیں تو آسمان کی طرف رخ کرکے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ہے، کوئی ناگہانی مصیبت آتی ہے تو کہتا ہے اوپر سے نازل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتابوں کو کتب آسمانی یا کتب سماوی کہا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ جب وہ خدا کا تصور کرتا ہے تو اس کا ذہن نیچے زمین کی طرف نہیں بلکہ اوپر آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اسی انسانی فطرت اور شیوہ زبان کے مطابق اس آیت کریمہ میں ان الفاظ کو استعمال فرمایا گیا ہے۔
آیتِ کریمہ کے آخری لفظ ” تَمُوْرُ “ کا ترجمہ ہم نے یہ کیا ہے وہ لرزنے لگتی ہے یا جھکوے کھانے لگتی ہے، لیکن بعض اہل علم نے یہ گمان کیا ہے کہ ” تَمُوْرُ “ مَور سے ہے اور مور کا اصلی معنی حرکت سریع، یعنی تیزرفتاری ہے۔ اس لحاظ سے اس لفظ کا ترجمہ یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ اچانک وہ تیز چلنے لگے۔ یہ ترجمہ بھی سیاق کلام کے خلاف نہیں، اور دونوں ترجموں میں کوئی ایسا تضاد بھی نہیں۔ یعنی پروردگار کی جانب سے انسانوں کی گرفت کی شکل میں جس طرح زلزلے آتے ہیں اور زمین لرزتی اور کانپتی ہے۔ اسی طرح انسان کی زمینی زندگی کا دارومدار زمین کی دونوں حرکتوں کا اپنی اصل شکل و صورت میں باقی رہنے میں ہے۔ اگر اس میں ذرا بھی کمی بیشی ہوجائے تو موسموں میں تغیر آجائے۔ دن اور رات بہت چھوٹے ہوجائیں یا بہت بڑھ جائیں۔ نتیجتاً زمین انجماد کا شکار ہوجائے اور چولھے بجھ جائیں اور اس کا پانی ابلنے لگے اور آتش پذیر ہر چیز جل کر تباہ ہوجائے اور اس طرح انسانی زندگی ہلاکت کا شکار ہوجائے۔ قربِ قیامت کی جو علامتیں احادیث میں بیان ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ زمین کی حرکت صرف تیز ہی نہیں ہوگی بلکہ الٹ جائے گی اور یہ بھی ایک علامت بیان کی گئی ہے کہ ایک آگ نکلے گی جو تمام زمین پر تباہی مچا دے گی تو شاید اس کا مطلب یہ ہو کہ گرمیوں کے دن کی طوالت ہر چیز کو بھون ڈالے گی اور آخر آگ کا شکار ہوجائے گی۔ واللہ اعلم و احکم بالصواب
Ayah 67:17اَمْ اَمِنْـتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ط فَسَتَعْلَمُوْنَ کَیْفَ نَذِیْرِ ۔ (الملک : 17)
(کیا تم بےخوف ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے، پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا انذار کیسا ہوتا ہے۔ )
فضائی عذاب کی دھمکی
گزشتہ آیت کریمہ میں زمین میں دھنسانے کا ذکر تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس زمین پر تم رہتے ہو اور وہ تمہارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اللہ تعالیٰ کے عذاب کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ یہی زمین اور تمہارے پائوں کے نیچے کی مٹی تمہارے لیے عذاب کا عنوان بن جائے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح پائوں کے نیچے سے عذاب آسکتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بعید نہیں کہ تمہارے سر کے اوپر سے عذاب آجائے۔ یعنی وہ تم پر ایک ایسی آندھی بھیجے اور ہَوائوں کے ایسے جھکڑ چلائے جو تم پر کنکر اور پتھر برسائیں۔ ” حَاصِبٌ“ کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا کو کہتے ہیں۔ قوم لوط پر عذاب اسی قسم کا بھیجا گیا تھا جس سے ان کی بستیاں تباہ کردی گئیں۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کس قوم پر اس طرح کا عذاب آیا۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ تم جو زمین پر اطمینان سے شب و روز گزار رہے ہو اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے متمع ہورہے ہو تو یہ صرف اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کا موقع دے رکھا ہے۔ لیکن تمہیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ تم ہر وقت اللہ تعالیٰ کی قدرت کی گرفت میں ہو۔ تمہاری بقاء اور تمہاری سلامتی صرف اس کے فضل کا نتیجہ ہے۔ وہ جب چاہے تمہیں عذاب کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے ایک اشارے پر زمین تمہارے لیے قبر کا گڑھا بن سکتی ہے اور ہوا کا طوفان تمہاری بستیوں کو غارت کرسکتا ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ ” تم عنقریب جان لو گے کہ میرا انذار اور میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔ “ نذیر یوں تو اسم صفت ہے لیکن مصدر کے معنی میں بھی اس کا استعمال معروف ہے۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ آج تو تمہیں میرا انذار مذاق معلوم ہوتا ہے لیکن جب وہ سامنے آجائے گا تو تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ جس چیز کا تم مذاق اڑا رہے تھے وہ کتنی ہولناک چیز ہے۔ اور اگر نذیر کو اس کے اصلی معنی میں رکھا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ” اے مکہ کے لوگو ! آنحضرت ﷺ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نذیر بن کے آئے ہیں آج تم ان کا مذاق اڑاتے اور منہ چڑاتے ہو، جب وہ تمہیں انذار کرتے ہیں یعنی آنے والے عذاب سے تمہیں ڈراتے ہیں تو تم اسے ایک افسانہ سمجھتے ہو، لیکن اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا اور تمہارے انکار اور تکذیب کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا تو تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ وہ نذیر کیسا تھا۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے کس طرح دکھ اٹھا کر تمہاری بدزبانیوں کو برداشت کرکے اور خون جگر پی پی کر تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن تم نے ایک بات بھی مان کر نہ دی۔ عذاب آنے پر تمہیں معلوم ہوگا کہ اس نذیر نے تمہارے ساتھ کیسی خیرخواہی اور غمخواری کی تھی اور تم نے کس قدر احسان ناشاسی کا ثبوت دیا تھا۔
Ayah 67:18وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ ۔ (الملک : 18)
(اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے، پھر کیسا ہوا میرا انکار۔ )
تاریخ کے حوالے سے قریش کو تہدید
آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل تو آنحضرت ﷺ کا بلند کردار تھا اور قریش کی بےپناہ تکلیفوں کے مقابلے میں آپ ﷺ کی ناقابلِ شکست استقامت تھی۔ لیکن جب کفار قریش نے اتنے محکم دلائل کی موجودگی میں ان حقائق کو قبول کرنے سے انکار کردیا جو آنحضرت ﷺ ان کے سامنے پیش فرماتے تھے تو اب ان کے سامنے تاریخ کی مسلمہ حقیقت پیش کی جارہی ہے جس سے انکار کرنا شاید قریش کے لیے ممکن نہ ہو کہ تمہیں اس بات کا یقین نہیں آرہا کہ تمہاری تکذیب کے نتیجے میں تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی آسکتا ہے تو پھر تاریخ کے آئینے میں جھانک کر دیکھو، کہ تم سے پہلے جو قومیں عذاب کا شکار ہوئی ہیں اور اپنے تجارتی اسفار میں تم ان کے کھنڈرات کے قریب سے گزرتے بھی ہو، تاریخ سے پوچھو کہ یہ قومیں عذاب کا نشانہ کیوں بنیں۔ ان کے تباہ شدہ کھنڈرات کا ایک ایک ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ تکذیب کرنے والی قومیں عذاب کا شکار ہوتی رہی ہیں اور ان کا ایک ایک پتھر ان کی بدنصیبی کی داستان بیان کرتا ہے۔ تم نے اگر اپنا رویہ نہ بدلا تو کل کو یہ آبادیاں تمہاری تاریخ کا ایک باب بن جائیں گی جو دوسروں کے لیے عبرت کا سامان ہوگا۔ اس لیے تاریخ سے سبق سیکھو، یہ کوئی عقلمندی نہیں کہ جب تک آدمی خود کسی افتاد میں مبتلا نہ ہو، اس وقت تک وہ سبق سیکھنے سے انکار کرتا رہے۔
نکیر کا معنی جس طرح انکار ہے اسی طرح گرفت اور پھٹکار بھی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انکار اس کا لفظی معنی ہے اور گرفت اور پھٹکار اس کا نتیجہ ہے۔ کہنا یہ ہے کہ ان معذب قوموں کی تاریخ دیکھو اور ان کے کھنڈرات کا جائزہ لو تو تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی تکذیب، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انکار کس نتیجے کا حامل ہوتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے تو اس کی گرفت کتنی شدید ہوتی ہے۔