66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsروح القرآن

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے، آپ اپنی بیویوں کی رضامندی چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَـآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَـکَ ج تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (التحریم : 1) (اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے، آپ اپنی بیویوں کی رضامندی چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ) شانِ نزول ان آیات کے شان نزول میں دو روایتیں بیان کی جاتی ہیں۔ پہلے ہم اس روایت کا ذکر کرتے ہیں جو صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عائشہ ( رض) سے منقول ہے۔ آنحضرت ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ نماز عصر کے بعد ازواجِ مطہرات کے حجروں میں مختصر وقت کے لیے خبرگیری کی خاطر تشریف لے جاتے تھے۔ ایک روز ام المومنین حضرت زینب ( رض) کے پاس معمول سے زیادہ ٹھہرے۔ کیونکہ ان کی خدمت میں کسی نے شہد تحفۃً بھیجا تھا جسے انھوں نے بڑے اہتمام سے آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آنحضرت ﷺ کو طبعی طور پر شہد بہت پسند تھا اس لیے آپ شوق سے اس سے محظوظ ہوئے۔ اس طرح سے ان کے پاس آپ کا معمول سے زیادہ وقت گزرا اور چند روز تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ دوسری ازواجِ مطہرات کو اس پر رشک آیا۔ انھیں جب معلوم ہوا کہ آپ شہد کی وجہ سے وہاں زیادہ ٹھہرتے ہیں تو انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب حضور ﷺ ہمارے یہاں تشریف لائیں تو آپ انھیں کہیں کہ آپ کے دہن مبارک سے مغافیر کی بو آرہی ہے۔ مغافیر ایک بوٹی ہے جس کا رس چوس کر شہد کی مکھیاں شہد بناتی ہیں۔ اس میں ہلکی سی بساند ہوتی ہے اور وہ شہد میں بھی آنے لگتی ہے۔ آنحضرت ﷺ اپنی نفاستِ طبع کے باعث ہر طرح کی بو کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ آپ نے جب محسوس کیا کہ اس شہد کی وجہ سے مجھ سے بو محسوس ہوتی ہے تو آپ نے قسم کھالی کہ میں آئندہ شہد نہیں پیوں گا۔ اور اس خیال سے کہ حضرت زینب کا جی برا نہ ہو اس کے اخفاء کی تاکید فرما دی۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ دوسری روایت یہ ہے کہ جب سرورعالم ﷺ نے مختلف ممالک کے سربراہوں کو اسلام قبول کرنے کے دعوت نامے بھیجے تو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ( رض) آپ کا گرامی نامہ لے کر سکندریہ کے والی مقوقس کے پاس گئے۔ وہ قاصد کے ساتھ بڑے احترام سے پیش آیا۔ اور جب وہ واپس آنے لگے تو مقوقس نے ایک عریضہ بھی حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ اور دو اعلیٰ خاندان کی لڑکیاں بھی آپ کی خدمت بھیجیں۔ جن میں سے ایک کا نام سیرین اور دوسری کا نام ماریہ تھا۔ راستے میں حضرت حاطب کی تبلیغ و تلقین سے دونوں نے اسلام قبول کرلیا۔ حضور ﷺ نے سیرین نامی لڑکی حضرت حسان بن ثابت ( رض) کی ملک یمین میں دے دی۔ اور ماریہ کو آزاد کرکے اپنی زوجیت کا شرف بخشا۔ ان ہی کے بطن سے ذی الحج 8 ہجری میں حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جو بعد میں 18 ماہ کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ ایک روز ام المومنین حضرت حفصہ ( رض) کی باری تھی۔ وہ حضور ﷺ سے اجازت لے کر اپنے والد حضرت عمر ( رض) سے ملنے چلی گئیں۔ وہیں حضرت ماریہ آگئیں اور تخلیہ میں حضور ﷺ کے ساتھ رہیں۔ ابھی دروازہ بند تھا کہ حضرت حفصہ ( رض) بھی واپس آگئیں اور باہر بیٹھ کر انتظار کرنے لگیں۔ جب حضور ﷺ نے دروازہ کھولا اور حضرت حفصہ نے حضرت ماریہ کو اپنے حجرے میں دیکھا تو انھیں سخت ناگوار گزرا۔ اور شکوہ کرنے لگیں کہ میری باری، میرا حجرہ، میرا بستر اور ماریہ۔ یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے حقیر سمجھتے ہیں، اس لیے آپ نے ایسا کیا۔ حضور کریم ﷺ اپنی جانثار زوجہ کی غمزدگی اور پریشانی برداشت نہ کرسکے اور قسم کھالی کہ آئندہ ماریہ سے ازدواجی تعلق نہ رکھیں گے۔ اور حضرت حفصہ کو تاکید فرمائی کہ وہ اس کا کسی سے ذکر نہ کریں۔ یہ دو واقعات ہیں۔ لیکن روایات میں بڑا اختلاف اور تعارض ہے۔ کہیں کسی کا نام ہے اور کہیں کسی کا۔ اس لیے ان واقعات کی مختلف روایتیں نقل کرنے کے بعد امام ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں اپنی رائے ان الفاظ میں تحریر کرتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ میرے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ نے اپنے اوپر ایک ایسی چیز کو حرام کردیا جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کیا تھا۔ صحیح مسلم کی شرح میں امام نووی کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ یہ آیت شہد کے قصہ میں نازل ہوئی، ماریہ کے واقعہ میں نازل نہیں ہوئی۔ اور ماریہ کا واقعہ کسی صحیح سند سے مروی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لیے جس طرح شہد کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال کیا ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ بات درحقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کو حرام کرنے کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص کسی حلال چیز کو عقیدتاً حرام قرار دے دے۔ ایسا کرنا کفر اور گناہ عظیم ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی چیز کو عقیدتاً تو حرام نہ سمجھے مگر بلا کسی ضرورت و مصلحت کے قسم کھا کر اپنے اوپر حرام کرلے، تو یہ گناہ ہے، اس قسم کو توڑنا اور کفارہ ادا کرنا اس پر واجب ہے۔ اور اگر کوئی ضرورت اور مصلحت ہو تو جائز ہے مگر خلاف اولیٰ ہے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ نہ عقیدتاً حرام سمجھے، نہ قسم کھا کر اپنے اوپر حرام کرے مگر عملاً اس کو ہمیشہ ترک کرنے کا دل میں عزم کرلے۔ یہ عزم اگر اس نیت سے کرے کہ اس کا دائمی ترک باعث ثواب ہے تب تو یہ بدعت اور اور رہبانیت ہے جو شرعاً گناہ اور مذموم ہے۔ اور اگر ترک دائمی کو ثواب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنے کسی جسمانی اور روحانی مرض کے علاج کے طور پر کرتا ہے تو بلاکراہت جائز ہے۔ آپ ﷺ کا شہد کو حرام کرنا شرعی تحریم نہیں تھا آنحضرت ﷺ نے شہد کو عقیدتاً حرام سمجھ کر اپنے اوپر حرام نہیں کیا تھا، یعنی یہ تحریمِ شرعی نہیں تھی بلکہ آپ نے محض اپنی بیویوں کی دیداری اور دلجوئی کی خاطر اسے اپنے اوپر ممنوع قرار دے دیا تھا اور اس پر قسم کھالی تھی۔ اس پر آپ کو دو باتوں کا حکم دیا گیا۔ ایک تو اس بات کا کہ آپ نے چونکہ قسم کھائی ہے اس لیے قسم توڑ دیجیے اور اپنے قسم کا کفارہ دیجیے۔ اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اس قسم کو توڑا اور کفارہ ادا فرمایا۔ درِمنثور کی روایت میں ہے کہ آپ نے ایک غلام کفارہ قسم میں آزاد کیا۔ دوسرا آپ کا سوال کے انداز میں ہلکا سا احتساب فرمایا۔ لیکن یہ چونکہ کسی گناہ کام پر نہیں تھا بلکہ زیادہ سے زیادہ اسے شان نبوت سے فروتر کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے ساتھ ہی اپنے غفورورحیم ہونے کے حوالے سے معاف بھی فرما دیا۔ احتساب اس بات پر نہیں تھا کہ آپ نے ایک غلط کام کیا ہے بلکہ احتساب اس بات پر تھا کہ آپ نے اپنی بیویوں کی دلجوئی کے لیے بظاہر نہایت تلطف کا اظہار کیا ہے۔ لیکن آنے والے لوگ وہ اسے آپ کا عمل دیکھ کر اسے سنت قرار دیں گے۔ اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ چونکہ پیغمبر کی زندگی امت کے لیے ایک نمونہ ہوتی ہے اور اس کا ہر قول و فعل دین میں حجت کی حیثیت رکھتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے ذاتی ذوق و رجحان اور اپنے محبوب سے محبوب لوگوں کی خاطر سے بھی کوئی ایسی بات کہے یا کرے جو بال برابر بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حدود سے متجاوز ہو۔ ورنہ پوری امت کے لیے ایک غلط مثال قائم ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ یہود کے متعلق معلوم ہے کہ انھوں نے اپنے اوپر اونٹ کو صرف اس بنا پر حرام کرلیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کسی سبب سے اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ اسی طرح اگر مسلمانوں کے علم میں یہ بات آتی کہ حضور ﷺ نے شہد نہ کھانے کا عہد کرلیا تھا تو کوئی متقی مسلمان مشکل ہی سے شہد کو ہاتھ لگاتا۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر گرفت فرمائی اور فوراً اس کی اصلاح کے لیے ہدایت فرمائی۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کی گرہ کھولنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ ہی تمہارا کارساز ہے، اور وہی علیم و حکیم ہے

قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَـکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ ج وَاللّٰہُ مَوْلٰـکُمْ ج وَھُوَالْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۔ (التحریم : 2) (بےشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کی گرہ کھولنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ ہی تمہارا کارساز ہے، اور وہی علیم و حکیم ہے۔ ) قسم کا کفارہ اور اس کے احکام تَحِلَّۃ، تَفْعِلَۃ کے وزن پر ہے، یہ باب تفعیل کا دوسرا وزن ہے۔ یعنی تفعیل کے دو وزن آتے ہیں، ایک تفعیل کے وزن پر اور ایک تفعلہ کے وزن پر۔ جیسے کَمَّلَسے تکمیل اور تکملہ دونوں وزن آتے ہیں۔ علامہ راغب نے آیت کے اس جملے کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ چیز بیان کردی ہے جس سے تمہاری قسموں کی گرہ کھل جاتی ہے۔ یعنی قسم کھا کر جو گرہ تم نے ڈال دی تھی، اس گرہ کھولنے کا طریقہ تمہیں بتادیا ہے کہ کفارہ ادا کرو اور پابندی سے آزاد ہوجاؤ۔ اور یہ دراصل اشارہ ہے سورة المائدہ کی آیت 89 کی طرف۔ تو یہاں لوگوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم کسی بات کی قسم کھالو اور پھر اسے توڑنا پڑے تو اس کا کفارہ اس طرح ادا کرو جیسے سورة المائدہ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں فقہاء میں ایک اہم فقہی سوال پیدا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ آیا یہ حکم اس صورت کے لیے ہے جبکہ آدمی نے قسم کھا کر حلال کو حرام کرلیا ہو یا بجائے خود تحریم ہی قسم کی ہم معنی ہے، خواہ قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے ہوں یا نہ کیے گئے ہوں۔ اس میں فقہاء کے متعدد اقوال ہیں۔ لیکن احناف کے مسلک کو بیان کرتے ہوئے علامہ ابوبکر جصاص رقم طراز ہیں کہ ہمارے علماء کے نزدیک اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حرام کہتا ہے تو وہ قسم ہوگی، گویا اس نے یوں کہا وَاللّٰہِ لاَ اُقَرِّبُکِ ” اللہ کی قسم میں تیرے قریب نہیں جاؤں گا۔ “ اس صورت میں وہ ایلا کرنے والا ہوگا۔ یعنی اس تحریم کا حکم ایلا کا ہوگا۔ اور اگر اس نے یہ الفاظ کہتے ہوئے طلاق کی نیت کی، تو دو طلاق ہوں گی۔ اور اگر ایک طلاق کی نیت کی تو طلاق بائن ہوگی۔ اور اگر تین کی نیت کی تو طلاق مغلظہ ہوگی۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے یعنی تمہارا آقا، تمہارا کارساز اور تمہارے معاملات کا متولی ہے۔ اسے حق پہنچتا ہے کہ تمہاری زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں احکام جاری کرے۔ سہولتیں بھی دے اور پابندیاں بھی لگائے۔ کیونکہ وہ تمہارا آقا ہے۔ اور تم خودمختار نہیں ہو کیونکہ تم اس کے بندے ہو۔ اس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں میں کسی طرح کی تبدیلی کا اختیار تم میں سے کسی کو نہیں ہے۔ تمہارا کام بس اس کے احکام کی اطاعت ہے۔ اور اس کے بعد اپنی دو صفات کو بیان فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو طریقے اور قوانین مقرر فرمائے ہیں وہ سب علم و حکمت پر مبنی ہیں۔ جس چیز کو حلال کیا ہے علم و حکمت کی بنا پر کیا ہے۔ اور جسے حرام قرار دیا ہے اسے بھی علم و حکمت کی بنا پر حرام قرار دیا ہے۔ اس کے بندوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ اس پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ علیم و حکیم ہم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اور ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم اس کے دیئے ہوئے احکام کی پیروی کریں۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

(اور یہ واقعہ بھی قابل توجہ ہے) کہ جب نبی کریم ﷺ نے رازداری سے اپنی ایک بیوی کو ایک بات بتائی، پھر جب اس بیوی نے دوسری کو راز کی بات بتادی تو اللہ نے اپنے پیغمبر کو اس پر آگاہ کردیا، پیغمبر نے اس بیوی کو کچھ بتادیا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی، پھر جب پیغمبر نے اس بیوی کو اس پر آگاہ کیا تو بیوی نے پوچھا آپ کو اس کی کس نے خبر دی، فرمایا : مجھے اس نے خبر دی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے

وَاِذْ اَسَرَّالنَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا ج فَلَمَّا نَـبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْھَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْ م بَعْضٍ ج فَلَمَّا نَـبَّاھَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَ کَ ھٰذَا ط قَالَ نَـبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔ (التحریم : 3) (اور یہ واقعہ بھی قابل توجہ ہے) کہ جب نبی کریم ﷺ نے رازداری سے اپنی ایک بیوی کو ایک بات بتائی، پھر جب اس بیوی نے دوسری کو راز کی بات بتادی تو اللہ نے اپنے پیغمبر کو اس پر آگاہ کردیا، پیغمبر نے اس بیوی کو کچھ بتادیا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی، پھر جب پیغمبر نے اس بیوی کو اس پر آگاہ کیا تو بیوی نے پوچھا آپ کو اس کی کس نے خبر دی، فرمایا : مجھے اس نے خبر دی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج کے درمیان واقعہ کی وضاحت اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے جس بات کی طرف توجہ مبذول ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات میں سے اپنی کسی بیوی صاحبہ کو کوئی راز کی بات نہایت رازداری سے بتلائی۔ اور رازداری سے بتانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی کہہ دیا ہوگا کہ کسی اور سے اس بات کا تذکرہ نہیں کرنا۔ لیکن انھیں شاید یہ غلط فہمی ہوئی کہ ایسے کسی شخص سے اس کا تذکرہ نہیں ہونا چاہیے جو آنحضرت ﷺ کے اعتماد کا اہل نہ ہو۔ تو انھوں نے یہ بات ایک دوسری بیوی صاحبہ کو بتادی۔ کیونکہ ان کے خیال میں وہ بیوی صاحبہ بھی آنحضرت ﷺ کی نہایت قابل اعتماد بیوی تھیں۔ یہ یقینا ایک کوتاہی تھی جس کا صدور آنحضرت ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے کسی سے نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ آپ تو امت کی عورتوں کے لیے نمونہ ہیں۔ اور پھر یہ کہ آپ کو جس گھر میں بیوی بن کر رہنے کا شرف حاصل ہوا ہے وہ گھر ایک پیغمبر کا ہے جہاں تمام دنیائے کفر کیخلاف اسلامی انقلاب برپا کرنے کی تدبیریں ہوتی ہیں اور تمام کفار و مخالفین کی پالیسیاں اور سازشیں زیربحث آتی ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اترتی ہے اور جس گھر میں ہر طرح کے نرم و گرم معاملات طے پاتے ہیں، ایسے گھر کی کسی بات کا افشاء ہوجانا اسلام اور مسلمانوں کے لیے بہت خطرناک نتائج کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے ایسی ہی کسی بات کا آپ نے اپنی بیوی صاحبہ سے ذکر فرمایا ہو۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی ازواج کو نہایت قابل اعتماد سمجھتے تھے اس لیے نہایت اہم باتوں میں انھیں شریک بھی فرماتے تھے۔ لیکن ان کی طرف سے ایک راز کا افشاء چاہے وہ دوسری آنحضرت ﷺ کی نہایت قابل اعتماد بیوی ہی کے سامنے کیا گیا تھا، بہرحال ایک خطرناک بات تھی۔ اس لیے پروردگار نے اس افشائے راز سے آنحضرت ﷺ کو آگاہ فرمایا۔ ہمارے بعض مفسرین نے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے کہ وہ بات کیا تھی جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اور وہ دوسری بیوی کون تھی جنھیں یہ بات بتائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس بات کا علم امت کے لیے ضروری تھا تو پروردگار خود اس کا افشاء فرما دیتے۔ اور اگر دوسری بیوی کے بارے میں معلوم ہونا ضروری ہوتا تو پروردگار ان کا بھی نام لے دیتے۔ جب ان تمام باتوں کو پردے ہی میں رکھا گیا ہے تو پھر امت کے کسی فرد کے لیے یہ ہرگز مناسب نہیں کہ وہ اس کے کھوج لگانے کے درپے ہو۔ اور نہ اس آیت کو سمجھنے میں اس بات کا کوئی دخل ہے کہ ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ وہ بات کیا تھی۔ اصل جس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ صرف یہ ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات میں رازداری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بیویوں کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوں۔ کیونکہ اگر بیوی اپنے شوہر کے رازوں کی حفاظت نہ کرے تو اس گھر کے تباہ ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ اور نبی کریم ﷺ کا گھر چونکہ اس لحاظ سے نہایت ممتاز گھر ہے جس کی بڑی نازک ذمہ داریاں ہیں اور آنحضرت ﷺ کی حیثیت حق و باطل کی کشمکش میں مرکز حق کی ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ اور آپ کے گھر کے بارے میں کسی بات کا افشاء ہونا بہت خطرناک بات ہوسکتی ہے۔ اس لیے پروردگار نے اس کوتاہی کی طرف متوجہ فرمایا۔ لیکن اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں فرمائی کہ یہ بھی معلوم ہو کہ وہ بات کیا تھی اور کس کو بتائی گئی تھی۔ اور خود آنحضرت ﷺ نے اپنی طبعی رافت و رحمت کے باعث ساری بات اپنی بیوی صاحبہ کے سامنے نہیں دہرائی بلکہ کسی حد تک اس کا ذکر کیا اور باقی سے چشم پوشی فرمائی۔ اس لیے کہ مقصود ایک ایسی غلطی کی طرف توجہ دلانا تھا جو کسی بدنیتی سے نہیں کی گئی تھی، بلکہ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا ہے انھیں گمان یہ ہوا کہ جس طرح حضور ﷺ مجھے اعتماد کے قابل سمجھتے ہیں حضور ﷺ کی وہ دوسری بیوی صاحبہ بھی شاید مجھ سے بڑھ کر اعتماد کے لائق ہیں تو انھیں اس میں شریک کرلینے میں کیا حرج ہے۔ البتہ جب آپ نے ان سے اس افشائے راز کا تذکرہ کیا تو ان سے شاید یہ مزید غلطی ہوئی کہ بجائے اپنی غلطی پر توجہ دینے کے، انھوں نے پلٹ کر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتائی۔ کیونکہ دوسری بیوی صاحبہ سے میں نے جب یہ بات کی اس وقت کوئی تیسرا موجود نہ تھا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنھیں میں نے قابل اعتماد سمجھ کر یہ راز بتایا، انھوں نے شاید اس کی آپ کو اطلاع دے دی۔ اس لیے انھیں اس پر غصہ بھی آیا اور شاید رنج بھی ہوا ہوگا۔ کیونکہ جب کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اسے ضرور رنج ہوتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے یہ فرما کر ان کی غلط فہمی دور کردی کہ مجھے ان بیوی صاحبہ نے نہیں بتایا بلکہ مجھے اس نے بتایا ہے جو علیم بھی ہے اور خبیر بھی، یعنی پروردگار نے بتایا ہے۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی تمہارے لیے زیبا ہے، تمہارے دل تو خدا کی طرف مائل ہی ہیں اور اگر تم اس کیخلاف ایکا کرو گی تو اس کا حامی اللہ ہے، اور جبریل اور تمام نیکوکار مسلمان اور مزیدبرآں فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں

اِنْ تَتُوْبَـآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبِکُمَا ج وَاِنْ تَظٰھَرَا عَلَیْہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلَـہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ج وَالْمَلٰٓـئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ۔ (التحریم : 4) (اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی تمہارے لیے زیبا ہے، تمہارے دل تو خدا کی طرف مائل ہی ہیں اور اگر تم اس کیخلاف ایکا کرو گی تو اس کا حامی اللہ ہے، اور جبریل اور تمام نیکوکار مسلمان اور مزیدبرآں فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں۔ ) صاحبِ تدبرِقرآن نے عام مفسرین کی روش سے ہٹ کر ان آیات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ازواجِ مطہرات کے احترام کی وجہ سے ان کی یہ وضاحت زیادہ قرین صواب معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے ہم ان کی کتاب سے ایک طویل اقتباس نقل کررہے ہیں۔ تدبرِقرآن کا ایک اقتباس یہ ان دونوں بیویوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تو یہی بات تمہارے شایانِ شان ہے اس لیے کہ تمہارے دل تو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ہی۔ اور اگر تم نے رسول کے خلاف ایکا کیا تو یاد رکھو کہ رسول اپنی دل جمعی کے لیے تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ اس کی طمانیت کے لیے اللہ، جبریل اور مومنین صالحین کی معیت ورفاقت کافی ہے مزیدبراں فرشتے بھی اس کے ساتھی اور مددگار ہیں۔ ایک سوال اور اس کا جواب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فروگزاشت تو ایک بیوی صاحبہ سے ہوئی تھی تو یہاں خطاب دو سے کیوں ہوا اور دوسری بیوی صاحبہ سے کون سی غلطی صادر ہوئی تھی جس پر ان کو بھی توبہ کی ہدایت ہوئی، بظاہر تو وہ بالکل بےقصور نظر آتی ہیں ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بیوی صاحبہ پر ان کے افشائے راز کے سبب سے ناخوشی کا اظہار فرمایا تو دوسری بیوی صاحبہ کو یہ گمان گزرا ہوگا کہ شاید اس ناخوشی کا سبب یہ ہے کہ یہ افشائے راز ان کے سامنے کیوں ہوا ؟ انھوں نے خیال فرمایا ہوگا کہ یہ بات میرے ہی سامنے ظاہر کی گئی تھی، کسی غیر کے سامنے نہیں، تو آخر اس پر عتاب کی کیا وجہ ہوئی، اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ مجھے غیرخیال کیا گیا، اگرچہ ان کا یہ احساس بالکل غلط فہمی پر مبنی تھا لیکن جہاں محبت و اعتماد کے معاملے ہوں تنافس ہو وہاں اس طرح کی غلط فہمی کا پیدا ہوجانا کچھ بعید نہیں۔ بےجا خودداری کے اظہار پر گرفت بہرحال ان دونوں ہی سیدات نے اس گرفت کو اپنی خودداری کے خلاف محسوس کیا اور یہ چیز اس شکل میں ظاہر ہوئی کہ یہ دونوں ہی بیویاں نبی کریم ﷺ سے کچھ روٹھ سی گئیں۔ عام حالات میں یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ میاں بیوی میں اس طرح کی باتیں آئے دن ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن معاملہ نبی کریم ﷺ اور آپ کی ازواجِ مطہرات کا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر سختی سے گرفت فرمائی تاکہ ازواجِ نبی پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ دین کے معاملے میں کسی کو بھی بےجا خودداری کے اظہار کا حق نہیں ہے۔ ان سے فروگزاشت ہوئی ہے تو دوسرے سے زیادہ وہ سزاوار ہیں کہ اپنے رویئے کی اصلاح کریں۔ یہی بات ان کے شایانِ شان اور ان کے ایمان وانابت کا مقتضیٰ ہے۔ اور اگر انھوں نے ضد سے کام لیا اور نبی ﷺ کے خلاف ایکا کیا تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا رسول اپنی دل جمعی و طمانیت کے لیے ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہی اس کی محتاج ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ ان بیویوں کی طرف سے جس رویئے کا مظاہرہ ہوا اس کا محرک کوئی نفرت یا غصہ کا جذبہ نہیں بلکہ جیسا کہ واضح ہوا محض اعتماد و محبت یا بالفاظ دیگر تدلل کا جذبہ تھا لیکن قرآن نے اس پر گرفت سخت الفاظ میں کی۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم تمہیدی مباحث میں اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة میں دراصل تعلیم دی ہی اس بات یک گئی ہے کہ محبت کے جذبات کے اندر بھی اللہ تعالیٰ کے حدود اور اس کے احکام واوامر کی پوری پوری پابندی کی جائے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ازواجِ نبی بھی آنحضرت ﷺ کو صرف اپنا شوہر ہی نہیں بلکہ ہرحال میں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول سمجھیں اور ہر طرح کے حالات کے اندر اس خاص پہلو کو سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ مستحضر رکھیں۔ اس لیے کہ آپ کی یہ حیثیت دوسری تمام حیثیتوں پر بالا ہے۔ اِنْ تَتُوْبَـآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا اس ٹکڑے کی تاویل میں ہمارے مفسرین سے سخت لغزش ہوئی ہے۔ انھوں نیصَغَتْ کے معنی کج ہونے کے کیے اور تاویل یہ کی کہ اگر تم دونوں توبہ کرو تو یہی تمہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ تمہارے دل تو کج ہوچکے ہیں۔ اس تاویل میں کئی غلطیاں ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم توجہ دلائیں گے۔ لفظِ صَغْو کی تحقیق 1 اس میں پہلی غلطی تو یہ ہے کہ یہ تاویل عربییت کے بالکل خلاف ہے۔ لفظ صَغْوعربی میں کسی شے سے انحراف کے معنی میں نہیں بلکہ کسی شے کی طرف جھکنے اور مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ استاذ امام ( رح) نے تفسیر سورة تحریم میں اس لفظ کی لغوی تحقیق بیان فرمائی ہے۔ اس کا ضروری حصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں : ” دنیا کی تمام زبانوں میں عموماً اور عربی زبان میں خصوصاً خاص خاص الفاظ ایک کلی معنی کے تحت ہوتے ہوئے بھی خاص خاص معانی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ جو لوگ زبان کی ان خصوصیات سے ناواقف ہوتے ہیں وہ اس کے فہم سے بالکل محروم رہتے ہیں۔ “ یہ کلیہ بیان کرنے کے بعد مولانا (رح) اس کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ” مثلاً ” میل “ جس کے معنی جھکنے اور ہٹنے کے ہیں، ایک کلی مفہوم ہے جس کے تحت عربی میں بہت سے الفاظ ہیں، مثلاً زیغ، جور، ارعواء، حیادۃ، انحراف وغیرہ۔ لیکن یہ سب میل عن الشی ئیعنی کسی چیز سے ہٹ جانے یا برگشتہ ہوجانے کے لیے آتے ہیں۔ پھر اسی کلی مفہوم کے تحت فَی، توبۃ، التفات اور صغو وغیرہ الفاظ بھی ہیں جو سب کے سب میل الی الشیء یعنی کسی چیز کی طرف مائل ہونے اور جھکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں …“ ” لفظ کی حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد عربی زبان کے ایک عالم سے یہ حقیقت مخفی نہیں رہ سکتی کہ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا کے معنی انابت قلوبکما ومالت الی اللہ و رسولہ (یعنی تم دونوں کے دل اللہ اور رسول کی طرف جھک چکے ہیں) کے ہوں گے کیونکہ لفظ صغو کسی شے کی طرف جھکنے کے لیے آتا ہے، اس سے مڑنے اور ہٹنے کے لیے نہیں آتا۔ “ ” اس لفظ کی یہ حقیقت اس کے تمام مشتقات میں بھی موجود ہے۔ مثلاً صاغیۃ الرجل، کسی شخص کے اتباع کو کہتے ہیں۔ صغوہ معک، کے معنی ہیں اس کا میلان تمہاری طرف ہے۔ صغیت الی فلان کے معنی ہیں اس کی طرف تم نے کان لگایا۔ حدیث شریف میں ہے : ینفخ فی الصور فلایسمعہ احدالا اصغی الیہ (صور پھونکا جائے گا تو ہر شخص اس کی طرف متوجہ ہوجائے گا) اسی طرح محاورہ ہے الصبی اعلم بمصغی خدہ (بچہ اپنی آغوش محبت کو خوب پہچانتا ہے) ھرّۃ (بلّی) والی حدیث میں ہے : کان یصغی لھا الاناء (اس کے لیے برتن جھکا دیتے کہ وہ آسانی سے پانی پی لے) ۔ برتن کے جوف کو صغوکہتے ہیں کیونکہ چیز اس میں جمع ہوجاتی ہے۔ “ ابنِ بری نے اصغاء سمع (کسی کی طرف کان لگانا) کے ثبوت میں کسی شاعر کا مندرجہ ذیل شعر پیش کیا ہے : تری السفیہ بہ عن کل مکرمۃ ذیغ وفیہ للتسفیہ اصغاء (بےوقوف عزت و شرف کی باتوں سے منہ موڑتا ہے اور سفاہت کی باتوں کی طرف کان لگاتا ہے) ۔ شاعر اونٹنی کی تعریف میں کہتا ہے : تصغی اذا شدّھا بالکور جانحۃ حتی اذا ما استوی فی غرزھا تثب (جب وہ اس پر کجاوہ کستا ہے وہ گردن موڑ کر کان لگاتی ہے اور جب وہ رکاب میں پائوں رکھ دیتا ہے وہ جھپٹ پڑتی ہے) ۔ اعشیٰ اپنی کتیا کی آنکھ کا ذکر کرتا ہے : تری عینھا صغواء فی جنب مؤقھا تراقب کفی والقطیع المعد ما (اس کی آنکھ گوشہ چشم کی طرف جھکی ہوئی ہوتی ہے اور وہ میرے ہاتھ اور سخت کوڑے کو دیکھتی ہوتی ہے) ۔ نمر بن تولب نے اصغاء انائکا محاورہ ایک خاص معنی میں استعمال کیا ہے لیکن لفظ کے اصل مفہوم کی روح اس کے اندر بھی موجود ہے۔ وان ابن اخت القوم مصغی اناؤہ اذا لم یزا حم خالہ باب جلد (اور قوم کے بھانجے کی حق تلفی کی جاتی ہے اگر وہ اپنے ماموئوں کی مزاحمت ایک بہادر باپ سے نہ کرے) مولانا ( رح) ، یہ محاورات و اشعار لسان العرب سے نقل کرنے کے بعد، نہایت گہرے تأثر کے ساتھ فرماتے ہیں : ” جن لوگوں کو حق کی تلاش ہے ان کے لیے یہ شواہد بس ہیں۔ وہ ان سے مطمئن ہوجائیں گے اور گھڑنے والوں نے روایات و آثار میں جو زہر ملایا ہے اس سے وہ متأثر نہ ہوں گے۔ انھوں نے جب کتاب الٰہی میں کسی لفظی تحریف کی راہ مسدود دیکھی تو معنوی تحریف ہی کی کچھ راہیں کھول لیں اور صغو کے معنی زیغ کے کردیئے حالانکہ دونوں کے درمیان آسمان و زمین کا فرق ہے۔ بعض روایات میں زاغت کی جو قرأت آئی ہے وہ بالکل ہی ناقابلِ التفات ہے۔ “ عربیت کے ایک اسلوب کی وضاحت 2 دوسری غلطی اس میں یہ ہے کہ اگر بات یہ کہتی ہوتی کہ تم دونوں توبہ کرو اس لیے کہ تمہارے دل کج ہوچکے ہیں، تو، اس کے لیے یہ اسلوب بیان، جو قرآن نے یہاں اختیار کیا ہے، بالکل ہی ناموزوں ہے۔ وان شرطیہ کے بعد قدجو آتا ہے، جس طرح یہاں آیا ہے، اس کی متعدد مثالیں قرآن اور کلام عرب سے مولانا (رح) پیش کرنے کے بعد اس اسلوب کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : ” ان مثالوں پر غور کرو تو معلوم ہوجائے گا کہ اسی اسلوب میں قَدْ کے بعد جو جملہ آتا ہے وہ اس امر کی آسانی و سہولت کو بیان کرتا ہے جو اِنْ کے بعد کہی جاتی ہے۔ یعنی اسلوب کے اجمال کو کھول دیا جائے تو تقدیرِ کلام یوں ہوگی کہ اگر ایسا ایسا ہوا تو کچھ حرج نہیں، یا کوئی تعجب نہیں یا یہ معمولی بات ہے کیونکہ ایسا ایسا ہوچکا ہے۔ اس روشنی میں آیت کی تاویل یہ ہوگی کہ اگر تم پیغمبر کی رضاجوئی کے لیے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو تو یہی تم سے متوقع ہے۔ اس لیے کہ تمہارے دل تو پہلے ہی سے اس کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ “ نفسیاتِ انسانی کی ایک حقیقت 3 اصل میں تیسری غلطی یہ ہے کہ ازواجِ مطہرات کو بالکل بلاسبب دل کے زیغ و انحراف کا گنہگار بنادیا گیا ہے حالانکہ اوپر ہم نے الفاظِ قرآن کی روشنی میں واقعہ کی جو نوعیت بیان کی ہے اس سے صاف واضح ہے کہ اس میں کسی پہلو سے کسی فسادِنیت کا کوئی شائبہ نہیں ہے بلکہ جو کچھ بھی ہوا باہمی اعتماد و محبت اور اخلاص کی بنا پر ہوا۔ حضور ﷺ نے ایک بات راز کے طور پر ایک بیوی سے کہی۔ انھوں نے وہ بات بربنائے محبت دوسری بیوی پر ظاہر کردی۔ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس افشائے راز سے آگاہ فرما دیا تو آپ نے ان بیوی صاحبہ کو ٹوکا جن سے یہ کوتاہی صادر ہوئی لیکن انھوں نے اس ٹوکنے کو قرار واقعی اہمیت نہ دی بلکہ یہ خیال کیا کہ شوہر کی بات انھوں نے شوہر ہی کی دوسری معتمد و محبوب بیوی پر اگر ظاہر کی تو یہ ایسی غلطی نہیں ہے جس پر گرفت کی جائے۔ پھر ان کے اس رویئے پر حضور ﷺ کچھ کھنچے کھنچے ظاہر ہوئے تو اس اعتماد کی بنا پر جو شوہر کی محبت پر تھا وہ بھی ازراہ تدلل روٹھ گئیں اور اس میں ان بیوی صاحبہ نے بھی ان کا ساتھ دیا جن پر راز ظاہر کیا گیا تھا۔ انھوں نے جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس بات میں اپنی کچھ توہین سی محسوس فرمائی ہوگی کہ ایک ایسی بات پر عتاب ہوا جو ان پر ظاہر کی گئی۔ اس طرح کے احساسِ خودداری کا معزز گھرانوں کی سیدات کے اندر ابھرنا ذرا بھی عجیب نہیں ہے۔ یہاں نفسیاتِ انسانی کی یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ جب روٹھنے کا سبب محبت و اعتماد ہو تو خفگی محض ظاہر کا پردہ ہوتی ہے جس کے پیچھے نہایت گہری خواہش ملاپ کی موجود ہوتی ہے۔ یہاں بھی یہی صورت تھی۔ دونوں بیویاں بظاہر روٹھ گئیں لیکن دل کے ہر گوشے میں یہ بےقراری موجود تھی کہ حضور ﷺ کی طرف سے ذرا ملاطفت کا اظہار ہو تو خفگی کا یہ مصنوعی پردہ اٹھا دیں لیکن حضور ﷺ اپنے رویہ میں کوئی نرمی اس وجہ سے پیدا نہیں کرسکتے تھے کہ آپ کو جیسا کہ واضح ہوا گھر والوں کو یہ تعلیم دینی تھی کہ محبت کے اندر بھی وہ اللہ و رسول کے احکام کو مقدم رکھیں۔ ناچار بیویوں ہی کو اپنی بےجا خودداری سے دستبردار ہونا تھا لیکن اعتماد و محبت کی زنجیر سخت ہوتی ہے۔ دل سے یہ چاہنے کے باوجود کہ کوئی ایسی بات ہوجائے کہ یہ بیگانگی دور ہو، وہ پہل کرنے سے ہچکچاتی رہیں۔ قرآن نے وَاِنْ َتتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا کے الفاظ سے ان کی اسی باطنی کشمکش کی طرف نہایت خوبی سے اشارہ کیا ہے لیکن افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین اس کو سمجھ نہ سکے۔ اور دل کے اس پر محبت جھکائو کو العیاذ باللہ وہ دل کی کجی گمان کر بیٹھے۔ سیدہ عائشہ ( رض) اور سیدہ حفصہ ( رض) میں گہری محبت تھی وَاِنْ تَظٰھَرَا عَلَیْہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلٰـہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ تظاہر کے معنی ہیں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار بننا۔ اس کے بعد عَلٰی کے صلہ سے اس کے اندر پیغمبر ﷺ کے خلاف ایکا یا اتحاد کرلینے کا مفہوم پیدا ہوگیا۔ اوپر ہم اس اتحاد کی نوعیت اور اس کے سبب کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ کسی جنگ و پیکار کا مظاہرہ نہیں بلکہ اعتماد و تدلل کا مظاہرہ تھا۔ انھوں نے یہ خیال کیا کہ اس معاملے میں انھیں اپنی خودداری کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ یہ حقیقت ان کی نگاہوں سے اس وقت اوجھل ہوگئی کہ دین کے معاملے میں احتساب سے کوئی بھی بالا نہیں ہے یہاں تک کہ اللہ کا رسول بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس امر پر نگاہ رہے کہ یہاں جن سیدات کے اتحاد کی طرف اشارہ ہے مشہور روایت کے مطابق وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ ہیں جن کی نسبت تفسیری روایات سے یہ تأثر ملتا ہے کہ ان کے درمیان سوکنوں کے قسم کی چشمک و رقابت برابر رہتی تھی لیکن قرآن کے اس مقام میں ان کا جو کردار بیان ہوا ہے وہ اس امر کی ناقابلِ تردید شہادت ہے کہ ان میں ایسی گہری محبت تھی کہ وہ شوہر کے راز میں بھی ایک دوسری کو شریک کرلیتی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ایک دوسری کی ہمدردی میں شوہر سے روٹھ بھی جاتی تھیں۔ آنحضرت ﷺ کی دلچسپی کا اصل مرکز آیت میں خطاب اگرچہ دو ہی بیویوں سے ہے لیکن اس میں جو تنبیہ ہے وہ تمام ازواجِ مطہرات سے متعلق ہے۔ ان کو یہ آگاہی دی گئی ہے کہ اگر وہ روٹھ جائیں گی تو یہ نہ سمجھیں کہ اس سے ہمارے پیغمبر کی بزم سونی ہوجائے گی۔ پیغمبر کو جو دلچسپی ان کے ساتھ ہے اس کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس کی اصل وابستگی اللہ سے ہے جو اس کا مولیٰ و مرجع ہے، پھر جبریل اس کے ساتھی ہیں جو وحی لاتے ہیں، پھر مومنین صالحین ہیں جو اس کی توجہ و تربیت کے اصل حقدار ہیں۔ مزیربرآں اللہ کے فرشتے ہیں جن کی رفاقت و معیت اس کو ہر مشکل میں حاصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ازواجِ نبی (g) کو اپنے شوہر کے ساتھ معاملہ کرنے میں اس فرقِ عظیم کو ملحوظ رکھنا چاہیے جو ایک عام شوہر اور ایک پیغمبر میں ہوتا ہے۔ پیغمبر ﷺ اپنی عظیم مصرفیات میں سے جو لمحے بچا کر انھیں بخش دیں اس کی قدر کریں۔ اس گمان میں نہ رہیں کہ پیغمبر ﷺ ان کی محبت ورفاقت کے محتاج ہیں اس وجہ سے ہر معاملے میں لازماً ان کی دلداری ملحوظ رکھیں گے۔ وہ دلداری وہیں تک کریں گے جہاں تک اللہ تعالیٰ کے حدود کے اندر گنجائش ہوگی۔ اگر کسی معاملے میں ذرا بھی حدود سے تجاوز ہوگا اس پر احتساب بھی ان کے فرائض میں داخل ہے جس میں کوتاہی ان کے لیے روا نہیں ہے۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

کچھ بعید نہیں کہ اگر نبی کریم تم سب کو طلاق دے دیں، تو اللہ ایسی بیویاں تمہارے عوض آپ کو عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں، اطاعت شعار، ایمان والیاں، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، ہجرت کرنے والیاں، شوہر آشنا اور کنواریاں

عَسٰی رَبُّـہٗٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَـہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْـکُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰـنِـتٰـتٍ تٰٓـئِبٰـتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَـیِّـبٰتٍ وَّاَبْـکَارًا۔ (التحریم : 5) (کچھ بعید نہیں کہ اگر نبی کریم تم سب کو طلاق دے دیں، تو اللہ ایسی بیویاں تمہارے عوض آپ کو عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں، اطاعت شعار، ایمان والیاں، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، ہجرت کرنے والیاں، شوہر آشنا اور کنواریاں۔ ) تمام ازواجِ مطہرات کو تنبیہ اور ان کے سامنے اعلیٰ صفات کا ایک آئینہ اوپر والی آیت میں دو ازواجِ مطہرات کی تادیب فرمائی گئی۔ اب تمام ازواجِ مطہرات کو تنبیہ کی جارہی ہے۔ تنبیہ کا انداز اگرچہ بہت ہلکا ہے لیکن جنھیں تنبیہ کی جارہی ہے ان کے احساس کے لیے یہ بھی بہت گراں ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ صرف دو ازواجِ مطہرات تک محدود نہیں تھا بلکہ دوسری ازواجِ مطہرات بھی کچھ نہ کچھ ذمہ دار تھیں۔ قرآن کریم نے اس بات کی صراحت نہیں فرمائی کہ ازواجِ مطہرات کو یہ تنبیہ کس بات پر کی گئی اور ان سے ایسا کیا قصور سرزد ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں سرزنش کی جارہی ہے۔ لیکن احادیثِ مبارکہ سے جو کچھ اندازہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے آپس کی رشک و رقابت میں آنحضرت ﷺ کے لیے ایسی صورتحال پیدا کردی تھی جس کی وجہ سے آپ کی طبیعت میں گرانی بڑھتی جارہی تھی۔ حضرت انس ( رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمرفاروق ( رض) نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی بیویوں نے آپس کے رشک و رقابت میں مل جل کر حضور ﷺ کو تنگ کردیا تھا۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ بعید نہیں کہ اگر حضور ﷺ تم کو طلاق دے دیں اور اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ کو عطا فرما دے۔ ایک دوسری حدیث میں حضرت عمر فاروق ( رض) کا یہ بیان بھی نقل کیا گیا ہے کہ مجھے خبر پہنچی کہ امہات المومنین اور نبی کریم ﷺ کے درمیان کچھ سردمہری ہوگئی ہے۔ اس پر میں ان میں سے ایک ایک کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تنگ کرنے سے باز آجاؤ، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں حضور ﷺ کو عطا فرما دے گا۔ یہاں تک کہ جب میں امہات المومنین میں سے آخری کے پاس گیا اور بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت ام سلمہ تھیں۔ تو انھوں نے مجھے جواب دیا : اے عمر ! کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کی نصیحت کے لیے کافی نہیں ہیں کہ تم انھیں نصیحت کرنے چلو ہو۔ اس پر میں خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ازواجِ مطہرات کے لیے روز روز کے فاقوں اور مستقل تنگدستی کی برداشت مشکل ہوگئی تھی۔ ان سب میں یہ مطالبہ پیدا ہوچکا تھا کہ آپ ﷺ ہمارے لیے اتنا وظیفہ تو مقرر کردیں جس سے ہمیں روزانہ ایک وقت ہی روٹی کھانے کو مل جائے اور مناسب لباس میسر آجائے۔ اسی طرح ان میں سے ہر ایک کو چونکہ آنحضرت ﷺ سے بےپناہ محبت تھی اور محبت میں بدگمانیاں تو فطری بات ہے اس لیے ان میں رشک و رقابت کے جذبات پیدا ہوتے اور آنحضرت ﷺ کو ان سے تکلیف ہوتی۔ ازواجِ مطہرات اگرچہ معاشرے کی بہترین خواتین تھیں مگر بہرحال تھیں انسان ہی، اور بشریت کے تقاضوں سے مبرا نہ تھیں۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ ان کے نہایت ادب سے کیے گئے مطالبات گو اپنی جگہ بالکل صحیح تھے لیکن آنحضرت ﷺ کی زندگی میں نبوت کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کا پورا کرنا مشکل تھا۔ اس سے ہلکی پھلکی رنجش کو راہ ملی۔ اور اس سے پہلے کہ آنحضرت ﷺ زیادہ آزردہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس میں مداخلت فرمائی اور ازواجِ مطہرات کو تنبیہ کرتے ہوئے انھیں ان کا مقام یاد دلایا کہ وہ اپنے گھر کو عام گھروں جیسا نہ سمجھیں بلکہ یہ پیغمبر کا گھر ہے اور انھیں جو رفاقت کی زندگی میسر ہے اس سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں ہوسکتا۔ چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے پہلے ہی جملے نے تمام ازواجِ مطہرات کو ہلا کر رکھ دیا۔ کیونکہ وہ اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں کہ کبھی آنحضرت ﷺ انھیں طلاق دے کر اپنے شرف صحبت سے محروم کردیں گے اور ان سے امہات المومنین کا شرف چھن جائے گا۔ اور مزید یہ بات ان کے لیے نہایت تکلیف دہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کی زوجیت میں ان کے بعد جو عورتیں آئیں گی وہ اپنی صفات میں ان سے بڑھ چڑھ کر ہوں گی۔ چناچہ اس کے بعد پھر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے گھر میں کوئی ایسی بات پیدا ہوئی ہو جو حضور ﷺ کے خاطر عاطر کے لیے بار ثابت ہو۔ اس آیت میں ازواجِ مطہرات کے جو اوصاف گنوائے گئے ہیں واضح رہے کہ ازواجِ مطہرات کو ان اوصاف کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حالانکہ امرواقعہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی وصف ایسا نہیں جو ان میں پہلے سے موجود نہ ہو۔ لیکن ظاہر ہے کہ کسی وصف میں بھی درجات کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے انھیں ترغیب دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر وصف کے کمال کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے سورة الاحزاب آیت 35 میں ان میں سے اکثر اوصاف کا تذکرہ ہوچکا ہے اور وضاحت بھی گزر چکی ہے۔ اس لیے دوبارہ اس آیت کو دیکھ لینا چاہیے۔ البتہ اس میں سٰٓئِحٰتٍکا جو لفظ گزرا ہے اس کا ترجمہ عام طور پر روزے رکھنے والیاں کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ ترجمہ اس لفظ کا غلط تو نہیں لیکن محدود ضرور ہے۔ اس لیے انھوں نے اس کا ترجمہ مہاجرات کیا ہے۔ کیونکہ سائح سیاحت سے ہے اور اسلام میں سیاحت صرف ہجرت ہی ہے۔ ابن زید نے کہا ہے کہ لَیْسَ فِی الْاِسْلاَمِ سِیَاحَۃٌ اِلاَّ اَلْہِجْرَۃِ ۔ ثَـیِّـبٰتٍ ، ثَـیِّـبَۃٌکی جمع ہے۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی پہلے شادی ہوچکی ہو اور بعد میں اس کو طلاق دے دی گئی ہو یا اس کا خاوند فوت ہوچکا ہو۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، جس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بڑے تندخو سخت گیر ہیں، جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلٰٓـئِکَۃٌ غِلاَ ظٌ شِدَادٌ لاَّ یَعْضُوْنَ اللّٰہَ مَـآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْنَ ۔ (التحریم : 6) (اے ایمان والو ! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، جس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بڑے تندخو سخت گیر ہیں، جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ ) عام مسلمانوں میں عام احتساب کی ہدایت ازواجِ مطہرات کے احتساب کے بعد عام مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ تم پر ذمہ داری صرف اپنی نہیں بلکہ اپنی اولاد، اپنی بیوی اور اپنے خدام کو بھی عذاب جہنم سے بچانے کی کوشش کرو۔ تمہیں اللہ تعالیٰ نے خاندان کا سربراہ بنایا ہے تو تم پر خاندان کی ذمہ داریاں بھی ڈالی گئی ہیں۔ اگر خاندان کے سربراہ کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اہل خانہ جہنم کے سزاوار ٹھہرے تو خاندان اور گھر کے سربراہ کو بھی جواب دینا پڑے گا کہ تم نے ان کی تربیت میں کمزوری کیوں دکھائی۔ اور اگر وہ ایسا جواب نہ دے سکا جس سے اس کی ذات کی براءت ہوسکے تو پھر وہ اس ذمہ داری کے حوالے سے ماخوذ ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے معاملے میں جواب دہ ہے۔ حکمران اپنی رعیت کا راعی ہے اور وہ اس کے معاملے میں جواب دہ ہے۔ مرد اپنے گھر والوں کا راعی ہے اور وہ ان کے بارے میں جواب دہ ہے۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی راعی ہے اور وہ ان کے بارے میں جواب دہ ہے۔ ایک اور حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ باپ پر اولاد کا حق یہ ہے کہ جب وہ پیدا ہوں تو ان کے لیے عمدہ نام تجویز کرے۔ جب وہ بڑے ہوں تو انھیں بہتر تعلیم دے اور جب وہ بالغ ہوں تو ان کی شادی کرے۔ ایک اور حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ کسی باپ نے اپنے بچے کو حُسنِ ادب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا۔ جب تک والدین بچوں کے حوالے سے اپنی اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوشاں رہے ہیں تو اسلامی معاشرہ بہت ساری قباحتوں سے محفوظ رہا۔ لیکن جب سے والدین نے اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں کوتاہی کی ہے تو اس کا نتیجہ سامنے ہے کہ اولاد میں نہ ماں باپ کی خصوصیات کا کوئی دخل ہے اور نہ اسلام کے دیئے ہوئے حُسنِ اخلاق کا۔ اور اس پر مزید ظلم ہمارے تعلیمی نظام نے کیا ہے کہ بچپن سے نکل کر بچہ سکول اور پھر کالج اور یونیورسٹی میں تربیت پاتا ہے۔ لیکن جب سے تعلیمی اداروں میں اپنا ہدف صرف نوشت و خواند تک محدود کردیا ہے اور آنکھیں بند کرکے وہ تعلیم دی جارہی ہے جو سرکار کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ اور اسلامی تربیت کی طرف بالکل توجہ نہیں دی جاتی۔ تو نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اکبر نے ٹھیک کہا تھا : بو آئے کیا بچے میں ماں باپ کے اطوار کی دودھ ہے ڈبے کا تعلیم ہے سرکار کی دوسری بات جو اس آیت میں فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آج تمہیں اپنے اہل خانہ کا احتساب کرتے ہوئے ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ میری کوئی بات ان کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم نے ان کے احتساب سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اور وہ بگاڑ کی طرف بگٹٹ بھاگے جارہے ہیں، لیکن کاش تمہیں اندازہ ہوتا کہ تمہاری اس غفلت کے نتیجے میں تم سب جس جہنم میں ڈالے جانے والے ہو اس میں ایسے فرشتوں سے تمہیں واسطہ پڑے گا جو نہایت تندخو اور سخت گیر ہیں۔ وہ کسی کی بات سنتے ہیں اور نہ مانتے ہیں انھیں صرف ایک بات سے غرض ہے کہ انھوں نے ہر وہ کام کرنا ہے جس کا انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی نہیں کرسکتے۔ اور وہ آگ (جس سے اللہ تعالیٰ نہ کرے کہ واسطہ پڑے) ایسی ہے جس کا ایندھن وہ انسان ہوں گے جنھوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور حکمرانی کو ماننے سے انکار کردیا۔ اور وہ پتھر ہوں گے جنھیں دنیا میں اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھ کر پوجا گیا۔ چاہے وہ قدیم دور کے بت ہوں یا وہ آج کے مجسمے۔ یعنی اس آگ کا من بھاتا کھاجا وہ پتھر ہیں جس میں شرک کے جراثیم شامل ہیں۔ ایسے انسانوں کو پتھروں سے جہنم کی آگ میں تیزی پیدا ہوگی۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے وہ لوگو جنھوں نے کفر کیا ہے آج عذر پیش نہ کرو، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کرتے رہے ہو

یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لاَ تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ ط اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (التحریم : 7) (اے وہ لوگو جنھوں نے کفر کیا ہے آج عذر پیش نہ کرو، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔ ) احتساب کے احساس کی تکمیل اوپر کی آیت میں مسلمانوں کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ تم پر ذمہ داری صرف اپنی نہیں بلکہ تمہارے اہل خانہ اور تمام ان لوگوں کی ہے جو تمہارے زیراثر یا تمہاری نگرانی میں ہیں۔ اس لیے تمہیں جواب دہی صرف اپنی طرف سے نہیں بلکہ ان کی طرف سے بھی کرنی ہوگی کہ تم نے ان کی اصلاح کی خاطر اور ان کے اندر دینی شعور پیدا کرنے کے لیے کیا کیا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں اسی تنبیہ کو مکمل کرتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں کو تاہیاں کی ہوں گی اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے گریز کیا ہوگا انھیں جب قیامت کے دن جواب دہی کے عمل سے گزرنا پڑے گا تو وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے حیلے بہانے، مختلف قسم کے عذر اور معذرتیں پیش کرکے اپنے آپ کو بےگناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ تو انھیں صاف یہ فرمایا جائے گا کہ آج معذرتیں یا عذر پیش نہ کرو۔ یہ اعذار پیش کرنے کی جگہ نہیں، بلکہ یہاں تو ایک ہی سکہ چلتا ہے جسے ایمان و عمل کہتے ہیں۔ اس لیے تمہاری ان معذرتوں سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ عدالت سراسر عدل اور انصاف پر قائم ہے۔ یہاں تمہیں ویسا ہی صلہ ملے گا جیسا تم دنیا میں عمل کرچکے ہو۔ یہاں کی سزائیں تمہارے اپنے عمل کا پھل ہے۔ تم نے دنیا میں جو کچھ بویا آج اسی کے کاٹنے کا وقت ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات نکلتی ہے کہ مسلمانوں کو دراصل اس بات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ تمہیں دنیا میں ایسا طرزعمل اختیار نہیں کرنا چاہیے جس کی پاداش میں تم ویسے ہی پکڑے جاؤ جیسے کافر پکڑے جاتے ہیں۔ اور تمہارا انجام کافروں جیسا ہو۔