Ayah 66:8یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا ط عَسٰی رَبُّـکُمْ اَنْ یُّـکَفِّرَ عَنْـکُمْ سَیِّاٰ تِکُمْ وَیُدْخِلَـکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ لا یَوْمَ لاَ یُخْزِیْ اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ ج نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَا ج اِنَّـکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (التحریم : 8)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، امید ہے تمہارا رب تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی، اس روز اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا، وہ دعا کررہے ہوں گے اے ہمارے رب ! ہمارے لیے ہمارا نور مکمل فرما دے اور ہمیں بخش دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ )
احتساب کے بعد توبہ کی تلقین
اس آیت میں کفار کو تنبیہ کے بعد مسلمانوں کو نہایت اہتمام سے توبہ کی ترغیب دی گئی ہے کہ اگر تم اس سے پہلے جہالت، کم فہمی یا بشری کمزوری کی وجہ سے غلطیاں کرچکے ہو تو اب وقت ضائع نہ کرو، بلکہ پہلی فرصت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جاؤ اور سچے دل سے نہایت پختہ اور خالص توبہ کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیتِ توبہ کے بعد وہ رحیم و کریم ذات تمہارے گناہوں کو تم سے مٹا دے گی اور یا اپنے دامن کرم میں اسے یوں چھپالے گی کہ کسی کو اس کی خبر تک نہ ہوسکے۔
تَوْبَۃً نَّصُوْح کی وضاحت
تَوْبَۃً نَّصُوْحًا یہ کوئی نئی توبہ نہیں بلکہ ہر توبہ کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اور جو توبہ اس صفت اور استغفراق سے محروم ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے یہاں شرف قبولیت حاصل کرنا بہت مشکوک ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات جتنی رحیم و کریم ہے اتنی ہی وہ عظیم بھی ہے۔ وہ تو خالص اور سچی توبہ کو بھی قبول کرنے کی صرف امید دلاتا ہے کسی کا استحقاق تسلیم نہیں کرتا۔ یہ اس کی کرم نوازی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی توبہ اور رجوع الی اللہ کو قدرومنزلت سے نواز دیتا ہے۔ ورنہ جس طرح بندوں کے اعمال ہزار کوششوں کے باوجود بھی کوتاہیوں اور لغزشوں سے پاک نہیں ہوتے، اسی طرح بندوں کی توبہ بھی غفلت اور تصورغیر سے بالکل پاکیزہ ہوجائے یہ آسان نہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
براہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے
ہوس سینے میں چھپ چھپ کر بنا لیتی ہے تصویریں
نصوح کی تشریح میں علماء کے بیسیوں اقوال ہیں جن میں سے چند یہ ہیں اور ان تمام اقوال میں معنوی یکسانی پائی جاتی ہے۔
1 وہ شہد جس کو موم اور دیگر آلائشوں سے پاک کردیا گیا ہو، اسے عَسَلٌ نَاصِحٌ (خالص شہد) کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے تَوْبَۃً نَّصُوْح سے مراد وہ توبہ ہوگی جو ہر طرح کے نفاق، رِیا اور کاہلی کی آلائشوں سے پاک ہو۔
2 پھٹے ہوئے کپڑے کو سی دینے اور ادھڑے ہوئے کپڑے کی مرمت کردینے کے لیے نصاحۃ الثوبکا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے توبہ کو نصوح کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح گناہوں سے تم نے اپنے ایمان کا لباس تار تار کردیا ہے اور اپنے تقویٰ کے پیرہن میں چاک ڈال دیئے ہیں، ایسی توبہ کرو کہ وہ چاک رفو ہوجائیں اور ان کا کوئی نشان بھی باقی نہ رہے۔
3 نَصُوْحکی اصل نصیحت ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسی توبہ کرو کہ اس کے آثار تم میں نمایاں ہوجائیں۔ تم میں نمودار ہونے والی خوش آئند تبدیلی کو دیکھ کر دوسرے گنہگار بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں اور وہ بھی اپنی غفلت اور عصیان سے آلودہ زندگی کو ترک کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ یہ تو تَوْبَۃً نَّصُوْح کے وہ مفہومات ہیں جو اس کے لغوی معنی سے مترشح ہوتے ہیں۔ رہا اس کا شرعی اور اصطلاحی مفہوم تو اس کی تشریح احادیث میں ہے۔ حضرت معاذ بن جبل ( رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ سے تَوْبَۃً نَّصُوْح کی حقیقت معلوم کی۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندے سے کوئی گناہ سرزد ہو اور وہ اس پر نادم اور شرمسار ہو اور پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔ اور جس طرح دودھ کھیر میں دوبارہ داخل نہیں ہوسکتا، پھر اس سے بھی یہ گناہ دوبارہ صادر نہ ہو۔ حضرت علی ( رض) نے ایک مرتبہ ایک بدوی کو سنا، وہ جلدی جلدی کہہ رہا ہے اللھم انی استغفرک واتوب الیک ” اے اللہ ! میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔ “ حضرت علی ( رض) نے فرمایا : اے اعرابی یہ تو جھوٹوں کی توبہ ہے۔ اس نے عرض کیا فرمایئے سچوں کی توبہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : توبہ میں چھ چیزیں پائی جائیں تو وہ سچوں کی توبہ ہوگی۔ 1 جو گناہ پہلے ہوچکے ہیں ان پر ندامت، 2 جو فرض ادا نہیں ہوئے ان کی قضاء، 3 کسی کا حق غصب کیا ہے تو اس کی واپسی، 4 جس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کیا ہے اس سے معافی کا حصول، 5 آئندہ کے لیے پختہ عزم کہ گناہ نہیں کرے گا، 6 جس طرح پہلے تم نے اپنے نفس کو بدکاریوں سے فربہ کیا ہے اب اطاعتِ الٰہی میں اس کو گھلا دو ۔ یعنی جس طرح تو نے اب تک اپنے نفس کو معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اب اس کو اطاعت کی تلخی کا مزہ چکھا۔
توبہ کے سلسلے میں ایک بات جس کا پیش نظر رہنا ہمیشہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ توبہ کا سبب اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کا مقصد ہمیشہ اس کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہیے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور محرک ہوگا تو وہ توبہ قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ بعض دفعہ انسان گناہوں کو اس لیے بھی چھوڑ دیتا ہے کہ ان سے صحت تباہ ہوگئی، مال برباد ہوگیا اور عزت خاک میں مل گئی ہے۔ اور اس کو بظاہر وہ توبہ کا نام دیتا ہے۔ لیکن یہ توبہ، تَوْبَۃً نَّصُوْحکہلانے کی مستحق نہیں ہے۔
دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی خالص توبہ پر یہ بشارت دی ہے کہ ایسی توبہ کرنے والوں کے گناہ اللہ تعالیٰ جھاڑ دے گا اور انھیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔ لیکن اس کے لیے عَسٰیکا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو امید دلانے کے لیے آتا ہے۔ اس لیے بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خالص توبہ کرنے والوں سے جنت دینے کا وعدہ نہیں فرمایا اور نہ انھیں معاف کردینے کا یقین دلایا ہے، بلکہ یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر تم سچے دل سے توبہ کرو گے تو بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ یہ معاملہ کرے۔ یعنی اس سے تمہاری مغفرت اور جنت کے حصول کا استحقاق پیدا نہیں ہوجاتا کہ اب اللہ تعالیٰ پر واجب ہوگیا ہے وہ ضرور تمہارے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں خالص توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ تمہیں معاف فرما دے گا۔ لیکن اس امید کا ہرگز یہ مفہوم نہیں کہ اس کے بھروسے پر آدمی گناہ کرتا رہے کہ توبہ سے معافی تو مل ہی جائے گی۔
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں سے خطاب کی صورت میں عَسٰیکا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کی نوعیت بندوں کے لیے وعدے اور بشارت کی ہوتی ہے بشرطیکہ بندے اپنے کو اس کا اہل ثابت کریں۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ کرکے گناہ پر دلیر ہوجانا تو نہایت بدنصیبی کی بات ہے۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ بڑا وزن رکھتی ہے کہ شہنشاہ جب اپنی رعایا کو کسی بات کی امید بھی دلادیں تو اس امید پر لوگوں کے گھروں میں شادیانے بج جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بادشاہوں کی امید چھوٹے لوگوں کے وعدوں سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے قوی امید ہے کہ وہ یقینا سچی توبہ کرنے والوں سے رحمت و مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔
تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن اپنے نبی اور اس پر ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے دنیا میں دکھ اٹھا کر اور لوگوں کے ہزار طعنوں کے باوجود شریعت کے مطابق پاکیزہ زندگی گزاری۔ اور اپنی نفسانی خواہشات پر اللہ تعالیٰ کے خوف کا پہرہ بٹھائے رکھا۔ تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اعمالِ حسنہ کی قدر فرمائے گا اور ان کو بیش از بیش اجروثواب سے نوازے گا۔ اور کفار کو یہ کہنے کا موقع نہیں دے گا کہ تم نے جس امید پر دنیا میں احکام کی پابندی برداشت کی اور خواہشات سے منہ موڑے رکھا آج تمہیں اس کا کیا صلہ ملا۔ البتہ رسوائی ان لوگوں کی ہوگی جو اصحابِ ایمان کو خودفریبی اور کو تاہی فکر کا طعنہ دیتے رہے۔ اور آخرت کا انکار کرکے عیش و عشرت میں مگن رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ اصل زندگی تو دنیا ہی کی زندگی ہے، ہم یہاں کی لذتوں سے بیگانہ کیوں رہیں۔ وہ اس روز پچھتائیں گے اور رسوائیوں کی نذر ہو کر رہ جائیں گے۔
چوتھی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ قیامت کے دن آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب کی عزت و سرافرازی کا عالم یہ ہوگا کہ روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہی ہوگی۔ وہ جنت کی طرف جانا چاہیں گے تو روشنی ان کے راستے روشن کرے گی جبکہ ان کے بائیں طرف چلنے والے کفار اور منافقین تاریکی میں ڈوبے ہوئے ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے ہوں گے۔ ایسی حالت میں وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی روشنی کے کامل ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں گے۔ یعنی جس طرح یہ روشنی ہمیں راستہ دکھا رہی ہے اس روشنی کو اتنا طویل فرما کہ ہم خیروعافیت سے جنت تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں۔ اس آیت کو سورة الحدید کی آیات 12 اور 13 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو تب اس کا مفہوم زیادہ واضح ہوتا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ جس دن مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف چل رہی ہوگی، ان کو خوشخبری دی جارہی ہوگی کہ آج تمہارے لیے ایسے باغوں کی بشارت ہے جن میں نہریں جاری ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے، یہ ہی بڑی کامیابی ہے۔ اس دن منافق مرد اور عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمیں بھی موقع دیجیے کہ ہم بھی آپ لوگوں کی روشنی سے فائدہ اٹھا لیں۔ ان کو جواب ملے گا کہ پیچھے پلٹو اور وہاں سے روشنی تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اس کے اندر کی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف سے عذاب۔ یہ منافقین ان کو پکاریں گے کہ کیا ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہ تھے۔ وہ جواب دیں گے، ساتھ تھے تو سہی، لیکن تم نے اپنے کو فتنوں میں ڈالا، انتظار میں رہے، شک کیا اور آرزوئوں نے تمہیں گھیرے رکھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ظاہر ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان نے تمہیں دھوکے ہی میں رکھا۔
Ayah 66:9یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِالْکُفَّارَ وَالْمُنٰـفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ ط وَمَاْوَھُمْ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (التحریم : 9)
(اے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کیجیے اور ان پر سخت ہوجائیے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ )
مسلمانوں کی عملی زندگی کی تطہیر کے بعد جہاد کا حکم
مسلمانوں کی عملی زندگی میں پاکیزگی اور استواری کی ترغیب و تاکید کے بعد اس اہم بات کی تاکید فرمائی جارہی ہے جو اس وقت آنحضرت ﷺ کے سامنے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا کہ آپ کفار سے جہاد جاری رکھیں اور وہ جہاد ظاہر ہے تلوار کے ذریعے سے ہوگا۔ اور اس کے احکام گزشتہ سورتوں میں گزر چکے ہیں۔ اور دوسرا زبانی جہاد کا حکم دیا۔ اس کے ہدف وہ لوگ ہوں گے جو ایمان کے مدعی تو تھے لیکن ایمان کے تقاضوں سے گریزاں تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں منافقین کہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا طرزعمل اپنی کریم النفسی کے باعث ان کے ساتھ ہمیشہ عفو و درگزر اور نرمی کا رہا۔ لیکن اب آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ اب آپ ان کے لیے سخت ہوجائیں۔ کیونکہ وہ آپ کی نرمی کی قدردانی کی بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی بات اس سے پہلے سورة التوبہ کی آیت 73 میں بھی فرمائی گئی ہے۔ ہم اس کی وضاحت کے سلسلے میں جو کچھ عرض کرچکے ہیں یہاں اس کا اعادہ مفید سمجھتے ہوئے اسے نقل کررہے ہیں :
پیشِ نظر آیات کے نزول تک منافقین مسلمانوں میں گھلے ملے رہتے تھے۔ ان کی بعض عادتیں اور بعض اقدامات مسلمانوں کو کھٹکتے بھی تھے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی کریم النفسی اور درگزر کے باعث مسلمان ان سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھتے تھے۔ وہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بھی حاضر ہوتے بعض دفعہ غزوات میں شرکت بھی کرتے، ان سے کسی طرح کا امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ان کے ساتھ جہاد کرنے اور سختی کرنے کا حکم دیا جارہا ہے اور یہ بھی اشارہ فرمایا جارہا ہے کہ اب ان کا شمار مسلمانوں میں نہیں بلکہ کفار میں ہوگا کیونکہ جہاد کے حکم میں کفار اور منافقین کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح جہاد کافروں سے کرنا ضروری ہے اسی طرح ان منافقین کے ساتھ کرنا بھی ضروری ہے۔ کافر کھلم کھلا دشمن ہیں اور وہ کسی قیمت پر اسلامی دعوت کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے بلکہ بالجبر اور بالقوۃ دعوت کا راستہ روکنے اور مسلمانوں کو مٹانے کے درپے ہیں۔ منافقین اعلانیہ دشمنی تو نہیں کرتے لیکن ارادے ان کے بھی کافروں سے مختلف نہیں اور مقصد میں بھی دونوں یکساں ہیں۔ وہ اگر باہر سے حملہ آور ہوتے ہیں تو یہ اندر سے ان کی معاونت کرتے اور مسلمانوں کو ڈسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ آستین کا ایسا سانپ ہیں جو باہر کے دشمن سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جو معاشرہ زندگی کے واضح مقاصد رکھتا ہو جس کے سامنے واضح اہداف ہوں، اور جو صرف دنیوی ضرورتوں کی حد تک اپنے آپ کو مکلف نہ سمجھتاہو بلکہ اس کی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں اس کی ذاتی ضرورتوں پر بھی حاوی ہوں، ایسے معاشرے میں منافقین کا وجود کسی طور پر بھی قابل برداشت نہیں ہوتا۔ اور پھر جس معاشرے کو ہر وقت اپنے دشمنوں کی طرف سے حملے کا اندیشہ رہتا ہو اس کی صفوں میں منافقین کا پایا جانا خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر کو آگ لگانے کے مترادف ہے۔ جو قوم منافقین کو برداشت کرتی ہے۔ وہ اپنے گھر میں غداروں کو پالنے کی غلطی کرتی ہے ایسی قوم کا کوئی قلعہ بھی محفوظ نہیں ہوتا۔ گزشتہ نو سال میں پروردگارِ عالم اور نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے منافقین کو برداشت کیا اس کی دو وجہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ ابھی اسلام اور مسلمانوں کو ایسی قوت میسر نہ آسکی تھی جس کے باعث وہ اندر اور باہر کے دشمنوں سے بیک وقت عہدہ برآ ہوسکتے۔ اگر وہ باہر کے دشمنوں کے ساتھ ساتھ اندر بھی لڑائی شروع کردیتے تو بیشمار مسائل پیدا ہوجاتے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلامی معاشرہ ایک دن میں تو تشکیل نہیں پا گیا اسلامی دعوت دھیرے دھیرے دلوں میں نفوذ پیدا کرتی رہی۔ اسلام کی آغوش میں آنے والے آہستہ آہستہ اسلام میں داخل ہوتے رہے۔ ایمانِ خالص ہر کسی کو ایک دن میں نصیب نہیں ہوتا بعض لوگوں کو شکوک و شبہات سے نکلنے کے لیے ایک مدت درکار ہوتی ہے چناچہ اسلام کے لیے جہاں اپنی صفوں کی استواری اور اسلامی ریاست کے استحکام کے لیے وقت درکار تھا وہیں اسلام کے دامن میں پناہ لینے والے لوگوں کو پختہ ایمان اور ہر آلودگی سے مبرّا اخلاص نصیب ہونے کے لیے ایک مدت تک تربیت کی ضرورت تھی۔ اب جبکہ جزیرہ عرب کی حدتک اسلام ایک فیصلہ کن قوت بن گیا اور نو سال کے عرصے میں جن میں ذرا بھی صلاحیت تھی وہ اسلام کے بارے میں یکسو ہوگئے۔ تو اب منافقین کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اپنا رویہ بدلنے کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ جس طرح کافروں سے جہاد کرتے ہو منافقین سے بھی جہاد کرو۔ لیکن ساتھ ہی دوسرے جملے میں اس کی وضاحت بھی فرمادی اور آنحضرت ﷺ کے عمل نے اس وضاحت کو ایک متعین شکل عطا فرمادی۔ وضاحت یہ ہے کہ آپ کافروں سے جہاد بالسیف کرتے ہیں یعنی ان سے جہاد کا مطلب قتال ہے لیکن منافقین سے قتال نہیں ہوگا بلکہ ان سے صرف اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا۔ پہلے آپ کے طرز عمل میں ان کے لیے عفودرگزر اور چشم پوشی غالب رہتی تھی اب آپ کو ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اب انھیں احساس دلانا ہوگا کہ تمہارا نفاق اب مسلمانوں میں ناقابلِ برداشت ہوگیا ہے۔ اب تمہیں مسلمانوں میں رہ کر نفاق کا زہر پھیلانے کا موقع نہیں ملے گا۔ جماعتی کاموں میں تم سے مشورہ نہیں لیا جائے گا۔ عدالتوں میں تمہاری گواہی ناقابلِ قبول ہوگی۔ اسلامی ریاست میں تمہیں کوئی منصب وعہدہ نہیں مل سکے گا۔ مسلمان اپنی محفلوں میں تمہیں منہ نہیں لگائیں گے اور تمہاری ہر منافقانہ روش کو کھلم کھلا بےنقاب کیا جائے گا اور اگر تمہارا کوئی قابل اعتراض کام جو مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف ہو مسلمانوں کے علم میں آیا تو تم پر علی رؤس الاشہاد مقدمہ چلایا جائے گا اور تمہیں اس پر قرار واقعی سزادی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منافقین کے ساتھ جو جہاد ہے یہ قتال کے ہم معنی نہیں بلکہ شدت احتساب اور داروگیر کے مفہوم میں ہے۔ قتال صرف اعلانیہ کافروں سے ہوتا ہے چناچہ آنحضرت ﷺ کے طرز عمل نے جو اس آیت کے نزول کے بعد آپ نے منافقین کے ساتھ اختیار فرمایا اسی مفہوم کی تائید فرمائی اور اسی کے مطابق آپ نے ان کے ساتھ معاملات کیے۔
Ayah 66:10ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاَّ لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ط کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰـھُمَا فَلَمْ یُغْنِیَاعَنْھُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَّقِیْلَ ادْخُلاَ النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ ۔ (التحریم : 10)
(اللہ تعالیٰ مثال بیان فرماتا ہے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی، وہ ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں انھوں نے ان کے ساتھ خیانت کی، تو وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام نہ آسکے، اور دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ جاؤ تم بھی آگ میں جانے والوں کے ساتھ آگ میں چلی جاؤ۔ )
آدمی کو نجات دینے والا عمل ہے بڑوں سے نسبت نہیں
مشرکین عام طور پر نسبتوں پر اعتماد کرکے اپنا دین بگاڑ لیتے ہیں اور عورتیں اس ضعیف الاعتقادی میں ہمیشہ پیش پیش ہوتی ہیں۔ ان کی اس گمراہی کی تردید میں یہاں ایسی دو خواتین کی مثال دی گئی ہے جو نسبتوں کے اعتبار سے اپنے دور کی سب خوش قسمت خواتین تھیں۔ لیکن چونکہ ایمان و عمل سے محروم تھیں اس لیے یہ نسبتیں ان کے کسی کام نہ آئیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) دونوں جلیل القدر رسول تھے۔ لیکن ان کی بیویاں ان عظیم رسولوں کے ساتھ قرب رکھنے کے باوجود اس لیے جہنم کا ایندھن بنیں کہ وہ ان پر ایمان نہ لائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان اور عمل کی عدم موجودگی میں بڑی سے بڑی نسبت بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ اور اگر ایمان و عمل نصیب ہو تو پھر چاہے ایسی کوئی نسبت بھی میسر نہ ہو، جب بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں نجات کا سامان ہوجاتا ہے اور حُسنِ عمل کے باعث قرب کے بڑے سے بڑے مقام کو پاسکتا ہے۔
اس آیت میں پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دونوں عورتیں ہمارے دو نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں۔ لیکن ان دونوں نے ان دونوں سے خیانت کی۔ خیانت کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں ان پر ایمان نہ لائیں۔ اور درپردہ دشمنانِ دین کے ساتھ ملتی رہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انھوں نے کبھی کوئی اخلاقی خیانت کی تھی۔ کیونکہ پیغمبر کی بیوی کافر ہو کر بھی کسی بےحیائی کا ارتکاب نہیں کرتی۔ حضرت ابن عباس ( رض) فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے جباروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اپنے گھر میں آنے والے مہمانوں کی اطلاع اپنی قوم کے بداعمال لوگوں کو دے دیا کرتی تھی۔
Ayahs 66:11–12وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاَّ لِّـلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ م اِذْقَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْن۔ وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّھَا وَکُتُبِہٖ وَکَانَتْ مِنَ الْقٰـنِتِیْنَ ۔ (التحریم : 11، 12)
(اور اللہ ایمان والوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب ! میرے لیے اپنی جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے دے اور مجھے نجات عطا فرما ظالم قوم سے۔ اور مریم بنت عمران کی مثال بیان کرتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونک دی، اور اس نے اپنے رب کے کلمات کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی۔ )
برے حالات میں بھی ایمان کی حفاظت کی ترغیب
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی سبق آموزی کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے کہ وہ خاتون اپنے وقت کے سب سے بڑے حکمران کی بیوی تھیں اور انھیں دنیا کی ہر نعمت میسر تھی۔ محلات کے عیش و آرام میں ان کی زندگی کے شب و روز گزرتے تھے۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت سے متأثر ہو کر وہ ان پر ایمان لائیں۔ اور خوب جانتی تھیں کہ اس ایمان لانے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اور ان سے یہ بات بھی مخفی نہ تھی کہ ان کا شوہر جو اپنے آپ کو رب قرار دیتا ہے اس کی ربوبیت کا انکار اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کیسے مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا۔ کیونکہ انھوں نے محسوس کیا کہ یہ دنیا کا بظاہر آرام و راحت چند دنوں کا عیش ہے۔ لیکن اس کے بعد ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں جلنا پڑے گا۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے مصائب جھیل کر اپنے ایمان کی قیمت ادا کرے۔ چناچہ جب فرعون نے انھیں ناقابلِ برداشت اذیتوں میں مبتلا کیا تو وہ بجائے ہراساں ہونے کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئیں، کہ پروردگار ! مجھے فرعون کا گھر نہیں، تیرے قرب کا گھر چاہیے۔ میرے لیے اپنے یہاں ایسا گھر بنا دے جس میں، میں تیرے دیدار سے لذت اندوز ہوسکوں۔ عِنْدَکَ سے اشارہ شاید اسی کی طرف ہے کہ میرے دل کا بادشاہ اور میری امید کی منزل تیرے سوا کوئی اور نہیں۔ مجھے اپنا قرب عطا فرما۔ اور مجھے فرعون سے اور اس کے اس عمل سے جو کل کو جہنم کا باعث بننے والا ہے، نجات عطا فرما۔ یہاں کفر کا ماحول میری ایمانی زندگی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے میں اس ظالم قوم سے بھی نجات کی درخواست کرتی ہوں۔
اور دوسری آیت کریمہ میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی مثال بیان فرمائی گئی ہے جنھوں نے یتیمی میں آنکھ کھولی، لیکن اپنے ایمان کے نور اور حُسنِ کردار سے اپنے لیے وہ مقام پیدا کیا کہ پروردگار نے ان کے کردار کی بلندی سے خوش ہو کر ان کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس طرح سے انھیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے عظیم فرزند سے نوازا۔ بغیر شوہر کے ماں بننا ایک بہت بڑی آزمائش تھی لیکن انھوں نے اس میں بھی پوری طرح استقامت دکھائی۔ اور پھر ان کے رب کی طرف سے انھیں جو بھی حکم ملا انھوں نے اس کی بےچون و چرا تصدیق و تعمیل کی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتابوں پر پوری طرح عامل رہیں اور سخت آزمائشوں میں بھی ہمیشہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل کی، کیونکہ وہ اس کے اطاعت گزار لوگوں میں سے تھیں۔