Ayah 65:1یٰٓـاَیُّھَاالنَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ ج وَاتَّـقُواللّٰہَ رَبَّـکُمْ ج لاَ تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ م بُیُوْتِھِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ط وَتِلْکَ حُدُوْدُاللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَعَدَّحُدُوْدَاللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط لاَ تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا۔ (الطلاق : 1)
(اے نبی ! (مسلمانوں سے کہیں) کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو ، تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو ، اور عدت کا شمار رکھو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے، انھیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، بجز اس کے کہ وہ کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں، یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تجھے کیا خبر کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کردے۔ )
خطاب کی وضاحت
اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ سے کیا گیا ہے، لیکن یہ خطاب آپ کی ذاتی حیثیت میں نہیں کیا گیا بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کو خطاب کرنے کے فوراً بعد طلقتم میں ضمیر جمع کی لائی گئی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہاں جو احکام دیئے جارہے ہیں وہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں۔ البتہ آنحضرت ﷺ کو خطاب ان احکام کی عظمت اور اہمیت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ہر پڑھنے والے کو اندازہ ہو کہ جب نبی کریم ﷺ پر ان باتوں کی پابندی ضروری ہے تو دوسروں پر تو بدرجہا زیادہ ہوگی۔ امام قرطبی کا خیال یہ ہے کہ جب کوئی حکم تمام امت کو دیا جاتا ہے تو وہاں یا ایھا النبی کہہ کر خطاب کیا جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی ایسا حکم بیان کیا جاتا ہے جو نبی کریم ﷺ کی ذات سے مخصوص ہے تو پھر یا ایھا الرسول سے خطاب کیا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس جگہ جملہ محذوف قرار دے کر آیت کی تفسیر یہ کی ہے یا ایھا النبی قل للمومنین اذا طلقتم النساء یعنی اے نبی ! آپ مسلمانوں کو بتلا دیں کہ جب وہ طلاق دیا کریں تو آگے بیان کیے ہوئے قانون کی پابندی کریں۔
طلاق کا صحیح محمل
عہدِجاہلیت میں لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جس کسی کو بھی بیوی پر کسی سبب سے غصہ آتا وہ نتائج و عواقب کا لحاظ کیے بغیر ایک ہی سانس میں سینکڑوں طلاقیں دے ڈالتا اور دھکے دے کر اسے گھر سے نکال دیتا۔ تصور یہ تھا کہ جب میں نے بیوی کو طلاق دے دی ہے تو اب میرے گھر میں اس کا کیا کام یا مجھ پر اب اس کی کیا ذمہ داری۔ عورت بیچاری جگہ جگہ دھکے کھاتی پھرتی، اس طرح سے عورت ان کی نگاہ میں کسی عزت کی حامل نہ تھی، اور نہ بچے کسی شفقت کے اہل تھے۔ حتیٰ کہ بیوی حاملہ بھی ہوتی تو تب بھی اسے کسی مروت کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے سب سے پہلے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی کہ رشتہ ٔ ازدواج بڑا مقدس رشتہ ہے، اسی رشتے کی بقاء اور استحکام سے خاندان اور معاشرہ مستحکم ہوتا ہے۔ گھر صحیح معنی میں آباد ہوتے ہیں، بچوں کو محفوظ ماحول ملتا ہے اور میاں بیوی ماں باپ کی عزت و وجاہت کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ اور یہی وہ دفاعی حصار ہے جس میں مسلمان نسل پروان چڑھتی اور غیرمسلم تہذیب سے اس کی حفاظت ہوتی ہے۔ اس لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ حتی الامکان اس رشتے کو ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرما : تزوجوا ولاتطلقوا فان الطلاق یہتز منہ العرش ” شادی کیا کرو اور طلاق نہ دیا کرو، کیونکہ طلاق سے اللہ تعالیٰ کا عرش لرز جاتا ہے۔ “ اس لیے اسلام نے طلاق کا جو قانون پیش کیا ہے اس میں اس امر کا پوری طرح خیال رکھا گیا ہے کہ طلاق دینے والا جلدبازی میں طلاق نہ دے۔ کوئی وقتی رنجش یا عارضی نفرت اس کا باعث نہ ہو۔ طلاق دینے والا سوچ سمجھ کر اس کے نتائج و عواقب کو مدِنظر رکھتے ہوئے طلاق دے۔
اسلام نے دین فطرت کی حیثیت سے طلاق کے احکام دیئے
اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے وہ ان تمام جذبات و عواطف کو پیش نظر رکھتا ہے جس سے انسانی زندگی میں نشیب و فراز پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کبھی نہ کبھی مزاجوں کا اختلاف ایسی صورت اختیار کرجاتا ہے کہ دونوں کا یکجا رہنا ممکن نہیں رہتا۔ بنابریں وہ دین جو دین فطرت ہے وہ ایسے عوامل کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ اس لیے اس نے رشتہ ٔ ازدواج کی تمام تر اہمیت، افادیت اور نزاکت کے باوجود اس بات کی اجازت دی ہے کہ طلاق اگرچہ اللہ تعالیٰ کو نہایت ناپسند ہے لیکن جب اس کے سوا کوئی صورت نہ رہے تو پھر اسے بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے جو اصلاحی تدبیریں ممکن ہوسکتی ہیں ان کا اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے ان تدابیر میں سے سب سے پہلی تدبیر یہ اختیار کی گئی کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت کے حساب سے طلاق دو ، اور عدت کو مدِنظر رکھو۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ طلاق حیض کی حالت میں نہ دی جائے، نیز ایسے طہر میں بھی طلاق نہ دی جائے جس میں مباشرت ہوچکی ہو، کیونکہ ان دونوں طریقوں سے عدت میں طوالت ہوجائے گی اور مطلقہ کو تکلیف برداشت کرنا پڑے گی۔ کیونکہ حیض کی حالت میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ کہ مطلقہ کی عدت تین حیض کی بجائے چار حیض ہوجائے گی۔ کیونکہ جس حیض میں طلاق دی گئی ہے وہ تو شمار میں نہیں آئے گا۔ اس کے بعد طہر کی مدت آئے گی، پھر اس کے بعد حیض کی مدت کو پہلا حیض قرار دیا جائے گا اور یہاں سے عدت کا شمار شروع ہوگا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حیض میں طلاق دینے سے عدت کی مدت میں کس قدر اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں مباشرت ہوچکی ہو۔ کیونکہ اس صورت میں شوہر اور بیوی دونوں میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ آیا مباشرت کے نتیجے میں کوئی حمل پا گیا ہے یا نہیں۔ اس وجہ سے عدت کا آغاز نہ اس مفروضے پر کیا جاسکتا ہے کہ یہ عدت آئندہ حیضوں کے اعتبار سے ہوگی اور نہ اس مفروضے پر کیا جاسکتا ہے کہ یہ حاملہ عورت کی عدت ہوگی۔ اس تمام تفصیل سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ آیت کریمہ میں جو حکم دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ طلاق حیض کی حالت میں نہ دی جائے۔ اور دوسرے یہ کہ طلاق اس طہر میں دی جائے جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو۔ یا پھر اس حالت میں دی جائے جبکہ عورت کا حاملہ ہونا معلوم ہوجائے۔
حالتِ حیض میں طلاق نہ دینا خود رسول اللہ ﷺ کے حکم سے بھی ثابت ہے۔ جب حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ حضرت عمر فاروق ( رض) نے حضور ﷺ کی خدمت عالیہ میں یہ واقعہ عرض کیا، تو آنحضرت ﷺ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اس کو حکم دو کہ بیوی سے رجوع کرلے اور اسے اپنی زوجیت میں روکے رکھے، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے۔ طہر کے بعد پھر حیض آئے اور پھر پاک ہو، اس کے بعد اگر وہ اسے طلاق دینا چاہے تو طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دے۔ یہی وہ عدت ہے جس کی پابندی کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہے کہ یا تو طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دے یا پھر ایسی حالت میں دے جبکہ اس کا حمل ظاہر ہوچکا ہو۔
شریعت کے اس حکم میں بڑی حکمتیں ہیں۔ حیض میں طلاق نہ دینے کے حکم کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ حیض کی حالت میں عورت مرد کے لیے مرعوبِ خاطر نہیں ہوتی۔ وہ اپنی صفائی کی طرف سے بےاعتنائی برتی ہے۔ ان دنوں اس کی طبیعت بھی نڈھال، مضمحل اور غیرمتوازن ہوتی ہے۔ اس لیے اگر اس حالت میں مرد طلاق دے دے تو ہوسکتا ہے کہ وہ عارضی بےرغبتی طلاق دینے میں محرک ہو۔ اور جب یہ ایام گزر جائیں تو پھر اس کو اپنے کیے پر ندامت ہو۔ کیونکہ طہر کی حالت میں عورت کا مزاج بھی معمول پر آجاتا ہے اور دونوں کے درمیان فطرت نے جو طبعی کشش رکھی ہے وہ بھی اپنا کام کرنا شروع کردیتی ہے۔ اب دونوں کے لیے طلاق کے مسئلے پر ازسرنو غور کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جس طہر میں مباشرت کی جاچکی ہو اس میں طلاق کے ممنوع ہونے کی مصلحت یہ ہے کہ اس زمانے میں اگر حمل قرار پا جائے تو مرد اور عورت دونوں میں سے کسی کو اس کا علم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے وہ وقت طلاق دینے کے لیے موزوں نہیں۔ حمل کا علم ہوجانے کی صورت میں مرد بھی دس مرتبہ سوچے گا کہ جس عورت کے پیٹ میں اس کا بچہ پرورش پا رہا ہے اسے طلاق دے یا نہ دے۔ اور عورت بھی اپنے اور اپنے بچے کے مستقبل کا خیال کرکے شوہر کی ناراضی کے اسباب دور کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ لیکن اندھیرے میں بےسوچے سمجھے تیر چلا بیٹھنے کے بعد اگر معلوم ہو کہ حمل قرار پا چکا تھا تو دونوں کو پچھتانا پڑے گا۔
عدت کے لیے طلاق اسی صورت میں مفید ہوسکتی ہے جبکہ ایک طلاق حالت طہر میں دی جائے اور پھر تین مرتبہ کے ایام حیض کو شمار کیا جائے اور اس دوران کوئی اور طلاق نہ دی جائے تو یہ ایک طلاق عدت گزرنے کے بعد بائنہ ہوجائے گی۔ اور یا دوسرے طہر میں دوسری طلاق دے دی جائے تو یہ بھی عدت گزرنے کے بعد بائنہ ہوجائے گی اور میاں بیوی میں علیحدگی ہوجائے گی۔ لیکن اس عدت میں ایک طلاق یا دو طلاقوں کی صورت میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ شوہر اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرسکتا ہے۔ اور اگر بیوی کو فارغ کرنا ہی مقصود ہو تو عدت گزرنے کے بعد وہ ایک یا دو طلاق ہی سے فارغ ہوجائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدت کے حوالے سے تین طلاق دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ تین طلاق دینے کا مطلب ہمیشہ کی علیحدگی ہے جس میں نہ رجوع ہے اور نہ عدت کے بعد نکاح کی کوئی صورت۔ بجز اس کے کہ مطلقہ کا نکاح دوسرے شخص سے ہو اور وہ کسی وجہ سے کسی وقت اسے طلاق دے دے تو پھر وہ پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ البتہ ایسا کرنے والا شخص سخت گنہگار ہوتا ہے۔ نسائی میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ حضور ﷺ یہ سن کر غصے میں کھڑے ہوگئے۔ فرمایا ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظہرکم ” کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ “ اس حرکت پر حضور ﷺ کے غصے کی کیفیت دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں اسے قتل نہ کردوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین طلاقوں کا بیک وقت دینا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے۔ جہاں تک ان کے واقع ہونے کا تعلق ہے مصنف عبدالرزاق نے حضرت عبیدہ بن الصامت ( رض) کے متعلق روایت نقل کی ہے کہ ان کے والد نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے ڈالیں۔ انھوں نے جا کر رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ تین طلاقوں کے ذریعہ سے تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ وہ عورت اس سے جدا ہوگئی۔ اور 997 طلاقیں ظلم اور عدوان کے طور پر باقی رہ گئیں جن پر اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف کردے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کی حدیث پیچھے گزری ہے اس میں ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں جو تفصیل دی ہے اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کو بیوی سے رجوع کرنے کا حکم دیا تو انھوں نے پوچھا اگر میں اس کو تین طلاق دے دیتا تو کیا پھر بھی میں رجوع کرسکتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور تیرا یہ فعل نافرمانی ہوتا۔
عدت کی اہمیت
اس آیت کریمہ میں مزید یہ حکم دیا گیا ہے کہ عدت کو شمار کرو اس کا خطاب مردوں اور عورتوں دونوں سے ہے اور ان کے خاندان والوں سے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق ایک نہایت نازک معاملہ ہے جس سے عورت اور مرد اور ان کی اولاد اور ان کے خاندان کے لیے بہت سے قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے عدت کی تاریخ کو یاد رکھنے کی کوشش کی جائے۔ اس کی تاریخ بھول جانے سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ جب تک مطلقہ عورت عدت میں ہے وہ اس وقت تک اپنے شوہر کے نکاح میں ہے۔ اس کا نفقہ اور سکنیٰ مرد کے ذمہ ہے۔ اگر ایام عدت میں دونوں میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو دوسرا اس کا وارث ہوتا ہے۔ اسی طرح عدت گزرنے سے پہلے عورت کسی کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی۔ اسی طرح کے اور مسائل ہیں جس کی وجہ سے عدت کا یاد رکھنا، اس کے دنوں کا ٹھیک ٹھیک شمار کرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ کوئی بھی پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
طلاق کے بعد عورت کے حقوق
آیتِ کریمہ میں مزید حکم یہ دیا گیا کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے کر غصے سے باہر نہ نکال دے۔ کیونکہ جب تک وہ عدت میں ہے یہ گھر اس کا بھی گھر ہے۔ اسی لیے بیوت کی نسبت آیت میں ان کی طرف کی گئی ہے۔ اسی طرح اس کا نفقہ اور سکنیٰ وہ بھی مرد کے ذمہ ہے۔ عورتوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی طلاق ہوجانے کے بعد گھروں سے نکل جانے کی کوشش نہ کریں۔ اور ایک ہی گھر میں دونوں کے رہنے کی صورت میں اس بات کا امکان ہے کہ کسی وقت بھی شوہر کی طبیعت بیوی کی طرف مائل ہوجائے یا بیوی کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے، بیوی شوہر کو راضی کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ ایامِ عدت میں کئی دفعہ دونوں کو ایک دوسرے کو دیکھنے یا آمنا سامنا ہونے کی نوبت آسکتی ہے۔ اس لیے باردگر مل بیٹھنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اگر مرد جلد بازی کرکے اسے نکال دے یا عورت ناسمجھی سے کام لے کر میکے جا بیٹھے تو اس صورت میں بگاڑ کو اصلاح سے بدلنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ اور پھر عموماً طلاق کا انجام مستقل علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس لیے فقہا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ طلاق رجعی کی صورت میں جو عورت شوہر کے گھر میں عدت گزار رہی ہے اسے بنائو سنگھار کرنا چاہیے تاکہ شوہر اس کی طرف مائل ہو۔
یاد رہے جس طرح شوہر کے لیے مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی اجازت نہیں اسی طرح مطلقہ کو شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں۔ اور اگر عورت بغیر اجازت کے گھر سے نکلے گی تو گنہگار بھی ہوگی اور نفقہ و سکونت کے حق سے محروم بھی ہوجائے گی۔ البتہ شوہر کو ایک صورت میں مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی اجازت ہے۔ وہ صورت یہ ہے کہ عورت حرام کاری کا ارتکاب کرے۔ یعنی زنا کرے یا کوئی بھی بےحیائی کا کام کرے جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ یا چوری چکاری سے باز نہ آئے یا بڑی بدزبان اور اپنے خاوند کے ماں باپ، بھائی بہن سے گالی گلوچ کرتی ہو اور برا بھلا کہتی ہو۔ یعنی وہ یہ سمجھ کر کہ طلاق تو مجھے ہو ہی گئی ہے اب گھر کا سکون برباد کرنے سے شاید اسے کوئی سکون مل سکتا ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ زبان چلانے کی کوشش کرے۔ ایسی صورت میں شوہر اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔
آخر میں فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ موافقت کی کوئی صورت پیدا کردے۔ ان دونوں فقروں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ایک تو یہ بات کہ طلاق کے بارے میں جو بنیادی تصور پیدا کیا گیا ہے اور ناگزیر صورت میں جن احتیاطوں کے ساتھ طلاق دینے کی اجازت دی گئی ہے یہ محض نصیحت نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں۔ کوئی شخص ان کو اگر پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی حدود ہی کی توہین نہیں کرتا بلکہ اس کے نتیجے میں اپنے اوپر بھی ظلم کرتا ہے اور بعد میں اس پر پچھتاتا ہے۔ حالانکہ ان پر عمل کرنے کے نتیجے میں اس بات کا امکان باقی رہتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ تعلقات اس حد تک بگڑنے کے باوجود موافقت کی کوئی صورت پیدا فرما دے جس کا عام طور پر اختلافات کی اڑائی ہوئی گرد میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ اور اسی طرح بیک وقت تین طلاق دینے سے تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں اور اس کے بعد دونوں کی یکجائی کی تحلیل کے علاوہ کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ اگر حیض میں طلاق دینے سے طلاق نہ ہوتی تو پھر یہ بات کہنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ جو شخص ایسا کرے گا وہ درحقیقت اپنے نفس پر ظلم کرے گا۔ نفس پر ظلم تو اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ طلاق واقع ہوجائے اور اس کے بعد آدمی پچھتائے کہ یہ میں کیا کر بیٹھا ہوں۔ اسی طرح اگر تین طلاق بیک وقت دینے سے ایک ہی طلاق رجعی واقع ہوتی ہے تو رجوع کی صورت میں تو لازماً موافقت پیدا ہوجاتی۔ خطرہ تو اس وقت لاحق ہوتا ہے جب سرے سے رجوع کا حق باقی نہ رہے اور دونوں میں مکمل طور پر جدائی ہوجائے۔ تب آدمی پچھتاتا ہے کہ ایک یا دو طلاق دینے سے اللہ تعالیٰ نے مجھے رجوع کا جو حق دے رکھا تھا اور جس سے میں فائدہ اٹھا کر اپنے گھر کو بچا سکتا تھا وہ میں نے تین طلاق بیک وقت دے کر خود کھو دیا اور اس طرح سے اپنے پائوں پر کلہاڑی مار لی۔
Ayahs 65:2–3فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْفَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْـکُمْ وَاَقِیْمُوالشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ ط ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ 5 ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ط وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ط قَدْجَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْ ئٍ قَدْرًا۔ (الطلاق : 2، 3)
(پس جب وہ اپنی میعاد کو پہنچنے لگیں تو یا انھیں بھلے طریقے سے اپنے نکاح میں روک رکھو اور یا بھلے طریقے سے انھیں جدا کردو اور اپنے میں سے دو ثقہ آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ اور گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو، یہ نصیحت ان کو کی جاتی ہے جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو شخص اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دیتا ہے۔ اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا، اور جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہے، بیشک اللہ تعالیٰ اپنے ارادے پورے کرکے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ )
طلاق کے بعد شوہر کے طرزعمل سے متعلق ہدایات
مطلقہ عورت ظاہر ہے کہ طلاق کے بعد عدت گزارے گی، اور اگر اس کے شوہر نے اسے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو ابھی دونوں کا نکاح ختم نہیں ہوا۔ عدت کے دوران شوہر کو رجوع کا حق ہے کہ وہ جب بھی چاہے طلاق سے رجوع کرسکتا ہے۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ زبان سے کہہ دے کہ میں طلاق سے رجوع کرتا ہوں یا میں تجھے بیوی بنا کے رکھنا چاہتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی اب انشاء اللہ دونوں اکٹھے رہیں گے، ایسی کسی بات سے بھی رجوع ہوجائے گا۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس سے اس طرح اختلاط کرے جیسے میاں بیوی عام طور پر آپس میں بےتکلفی کرتے ہیں۔ تو تب بھی احناف کے نزدیک رجوع ہوجائے گا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اس سے مباشرت کرے۔ مباشرت کی چاہے کوئی صورت بھی ہو اور اس کا کوئی درجہ بھی ہو، احناف کے نزدیک اس سے رجوع ہوجائے گا۔ اور اب دونوں میاں بیوی کی طرح رہ سکنے کے مجاز ہوں گے۔ لیکن اگر شوہر عدت کے ختم ہونے سے پہلے یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ میں اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہوں یا چھوڑنا چاہتا ہوں تو عدت گزرنے کے بعد بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔ اس لیے یہ فیصلہ کرنا عدت گزرنے سے پہلے پہلے ضروری ہے کہ اگر وہ اسے رکھنا چاہتا ہے تو اس سے رجوع کرے۔ لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی نیت ایک شریف آدمی کی طرح بیوی بنا کر رکھنے کی ہو محض اسے تنگ کرنا یا ایذا دینا پیش نظر نہ ہو۔ اور محض عدت کو طوالت دینے کا ارادہ نہ ہو۔ اور اگر اس نے فیصلہ کرلیا ہے کہ مجھے بیوی کو علیحدہ کردینا ہے تو تب بھی ضروری ہے کہ وہ شریفانہ طریقہ اختیار کرے۔ یعنی لڑبھڑ کر، الزامات لگا کر اور طعن وتشنیع کرتے ہوئے گھر سے نہ نکالے۔ یہ باتیں مسلمان کو زیب نہیں دیتیں۔ اسے اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ہم نے کچھ دن اکٹھے بھی گزارے ہیں، اب اگر علیحدگی تک نوبت پہنچ گئی ہے تو اسے ایک حادثہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ شریفانہ طریقے کا مطلب یہ ہے کہ اسے گھر سے جاتے ہوئے کپڑوں کا کوئی جوڑا دیا جائے یا اس کی کوئی مالی امداد کی صورت پیدا کی جائے۔ بعض دفعہ ایسے سخت فیصلے کے بعد مطلقہ کو کوئی چیز دینا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں۔ تو کوشش کرنی چاہیے کہ بالواسطہ اسے کوئی مالی مدد دی جاسکے۔ اور جو بھی حُسنِ سلوک ایسے حالات میں ہوسکتا ہے اس سے گریز نہ کیا جائے۔ مزید ہدایت یہ فرمائی گئی ہے کہ بیوی سے رجوع کے وقت یا اس کی علیحدگی کے وقت دونوں صورتوں میں دو ثقہ مسلمانوں کو گواہ بنا لیا جائے تاکہ کسی طرح کے نزاع کا امکان پیدا نہ ہو۔ اس شہادت کے حکم کو فقہاء کرام کے نزدیک استحسان کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی شخص طلاق یا رجوع کے وقت کسی کو گواہ نہیں بناتا تو سرے سے نہ طلاق واقع ہو اور نہ رجوع ثابت ہو۔ لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا کرلینا بہتر ہے۔ اس حکم کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے آپس میں بیع کا کوئی معاملہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے گواہ بنانے کا حکم دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیع پر گواہ بنانا فرض ہے۔ اور اگر گواہ نہ بنایا جائے تو بیع صحیح نہ ہوگی۔ بالکل اسی طرح یہ بھی ایک حکیمانہ ہدایت ہے جو نزاع کا سدباب کرنے کے لیے دی گئی ہے۔ لیکن آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں معاشرے کے فساد کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ جس طرح نکاح کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ اختیار کرلیا گیا ہے اس طرح طلاق کے لیے بھی یہ طریقہ اختیار کرلینا چاہیے۔ اس سے بہت سی نزاعات کا سدباب ہوسکتا ہے۔
مزید فرمایا کہ جن لوگوں کو اس پر گواہ بنایا جائے انھیں گواہی دینے سے تأمل نہیں کرنا چاہیے۔ اور مزید یہ کہ جب گواہی دینے کا وقت آئے تو انھیں بےخوف و خطر صرف اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر گواہی دینی چاہیے۔ اور یہ گواہی کی نوبت یقینا اسی وقت آئے گی جب فریقین میں کوئی نہ کوئی جھگڑا پیدا ہوگا۔ تو دو مسلمانوں میں جھگڑا ختم کرنا چونکہ بہت بڑی نیکی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اس لحاظ سے گواہوں کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ انھیں اس کی ادائیگی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
متذکرہ بالا احکام سے فائدہ صرف مومن اور متقی اٹھا سکتا ہے
مزید فرمایا کہ طلاق، عدت، نفقہ، سکنیٰ وغیرہ جو احکام آیات بالا میں دیئے گئے ہیں اس سے درحقیقت فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں یعنی انھیں اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت دیکھتا ہے۔ ہم ہر وقت اس کی نگاہوں کے سامنے ہیں، ہماری کوئی حرکت اس کے علم سے مخفی نہیں ہے۔ اسی طرح آخرت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اور اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ آج ہم نے اگر ان احکام کی روح کو سامنے نہ رکھا اور غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے فریقِ ثانی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو آخرت میں بہرحال ان کا جواب دینا ہوگا۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ سے ڈر کر ان کی ذات پر اعتماد کرکے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے ہم نے ان احکام کو پوری طرح بروئے کار لانے کی کوشش کی تو ممکن ہے کہ بعض دفعہ مشکلات بھی پیدا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ بشارت دی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا یعنی اسی سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرے گا تو مشکلات میں بھی وہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا۔ اور اگر وہ مالی مجبوریوں کی وجہ سے ان احکام پر عمل کرنے میں دشواری محسوس کرے گا مثلاً جب اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ ایک غریب آدمی ہے تو وہ یہ سوچے گا کہ میں اس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری عدت کے دوران کیوں اٹھائوں۔ جبکہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں رہا تو میں پہلے ہی زیربار ہوں، تو اپنے بار کو مزید کیوں بڑھاتا رہوں۔ اطمینان دلایا گیا ہے کہ رزق کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی جگہ سے رزق مہیا فرمائے گا جہاں سے کبھی اسے گمان بھی نہیں ہوا ہوگا۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھے۔ اور اس کی سنت یہ ہے کہ جو شخص اس پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔ اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہوجائے اسے اور کسی سہارے کی کیا ضرورت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی، وہ اپنے ارادوں کو پورا کرکے رہتا ہے۔ جس نے اس پر بھروسہ کیا تو وہ یقینا اس کے بھروسے کی لاج رکھے گا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اسی طرح اس کی نصرت کے ظہور کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس کے ظہور میں اگر کوئی دیر ہوتی ہے تو اس سے مقصود بندوں کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ لیکن وہ اپنے وعدے میں تخلف کبھی نہیں کرتا۔ اس میں جتنی دیر ہوگی وہ صرف بندوں کے امتحان کی ایک ضرورت ہوگی۔ جیسے ہی وہ امتحان پورا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے خزانوں کے دروازے کھل جائیں گے۔
علامہ قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ عوف بن مالک اشجعی ( رض) بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لڑکے کو دشمنوں نے قید کرلیا ہے اور اس کی ماں اس کی جدائی میں سخت بےچین ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو، صبر کا دامن مضبوطی سے پکڑ لو، میں تجھے اور تیری بیوی کو حکم دیتا ہوں کہ تم کثرت سے لاحول ولاقوۃ الاباللہ کا ورد کیا کرو۔ ارشادِ نبوی سن کر وہ اپنے گھر لوٹ آئے اور اپنی بیوی کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بیوی نے کہا کہ حضور ﷺ نے ہمیں جس چیز کا حکم دیا ہے وہ بہت ہی عمدہ ہے۔ پھر ان دونوں میاں بیوی نے بکثرت یہ ورد شروع کردیا۔ چناچہ اس کی برکت سے دشمن ان کے بیٹے کی طرف سے غافل ہوگئے اور وہ ان کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر وہاں سے بھاگ نکلا۔ اور ان کی بھیڑبکریاں ہانکتا ہوا بخیروعافیت اپنے ماں باپ کے پاس پہنچ گیا۔
Ayah 65:4وَالِّٰـٔیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُھُنَّ ثَلٰـثَۃُ اَشْھُرٍ لا وَّلِّٰـٔیْ لَمْ یَحِضْنَ ط وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا۔ (الطلاق : 4)
(اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور یہی حکم ان کا ہے جن کو ابھی حیض نہ آیا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے بچہ جننے تک ہے۔ تو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے معاملے میں آسانی پیدا کردے گا۔ )
اختلافِ حالات کے باعث عورتوں کی عدت میں فرق
وہ مطلقہ جس کو حیض آتا ہو اس کی عدت تین حیض ہے جیسا کہ سورة البقرۃ میں بیان فرمایا گیا۔ یہاں ان عورتوں کی عدت بیان کی جارہی ہے جنھیں حیض نہ آتا ہو۔ ان کی تین قسمیں ہیں۔
1 وہ عورتیں جو مایوسی کی عمر کو پہنچ گئی ہوں یعنی جنھیں اس بات کی امید ختم ہوگئی ہو کہ اب انھیں حیض آئے گا۔ علماء نے مختلف عمروں کا ذکر کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک عمر کا تعین مشکل ہے اس کا دارومدار تجربے پر ہے۔ جب تجربے سے یہ بات ثابت ہوجائے اور صحت اس کی تائید کرنے لگے کہ اب حیض نہیں آئے گا تو وہی حیض سے مایوسی کی عمر ہے۔ 2 وہ عورتیں جو ابھی نابالغ ہوں یعنی جنھیں ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا یا وہ عورتیں جن کو حیض تو نہیں آیا لیکن وہ عمر کے اعتبار سے بالغ ہوگئی ہوں۔ 3 حاملہ عورتیں۔ پہلی دونوں قسموں کی عدت اس آیت کریمہ میں بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی عدت تین ماہ ہے۔ یعنی جو عورت حیض سے مایوس ہوچکی ہے جسے آیسہ کہتے ہیں وہ طلاق کے بعد تین ماہ عدت گزارے۔ اسی طرح نابالغ لڑکی اور وہ لڑکی بھی جس کو ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ البتہ اختلاف اس میں ہے کہ وہ عورتیں جو حیض کی عمر سے گزر رہی ہیں اور انھیں حیض آتا بھی تھا لیکن کسی عارضہ کی وجہ سے بند ہوگیا، ان کی عدت کیا ہوگی ؟ مفسرین نے صحابہ کرام کے مختلف اقوال نقل کیے ہیں جن میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کی رائے یہ ہے کہ یہ عورت انتظار کرے یہاں تک کہ سنِ ایاس کو پہنچ جائے اور اس کے بعد تین ماہ عدت گزارے۔ اگر اس عورت کو پھر حیض شروع ہوجائے تو پھر تین حیض عدت گزارے۔ احناف نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ امام ثوری، لیث اور امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے۔
جہاں تک حاملہ عورت کا تعلق ہے اس کی عدت وضع حمل ہے خواہ وہ کتنے دنوں میں ہو۔ لیکن اختلاف اس میں ہوا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ حاملہ ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہوگی۔ لیکن اتفاق یہ ہوا کہ وہ شخص مرگیا۔ اب یہ مطلقہ حاملہ بھی ہے اور بیوہ بھی۔ اور بیوہ کی عدت سورة البقرۃ میں چار ماہ دس دن مقرر کی گئی ہے۔ تو کیا اب یہ عورت جو حاملہ بھی ہے اور بیوہ بھی، چار ماہ دس دن عدت گزارے گی یا وضع حمل سے فارغ ہوجائے گی۔ کیونکہ اس بات کا امکان تو ہے کہ وضع حمل چار ماہ دس دن سے پہلے ہوجائے۔ اور اس کا بھی امکان ہے کہ وضع حمل کی مدت چار ماہ دس دن سے بڑھ جائے۔ تو سوال یہ ہے کہ اب اس کی عدت کیا ہوگی ؟ اس میں صحیح بات یہ ہے اور احادیث کی روشنی میں اسے ہی ترجیح حاصل ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہوگی۔ چار ماہ دس دن اس مطلقہ کی عدت ہے جس کا شوہر مرجائے اور وہ حاملہ نہ ہو۔ کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں سبیعہ اسلمیہ کی زبانی یہ روایت بیان کی ہے کہ میں سعد بن خولہ کی بیوی تھی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر انھوں نے وفات پائی۔ میں اس وقت حاملہ تھی۔ ابھی چند ہی روز گزرے تھے کہ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ مجھے ایک آدمی نے بتایا کہ تمہیں چار ماہ دس دن عدت پوری کرنا ہوگی، تب تم نکاح کرسکتی ہو۔ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا ماجرا بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم آزاد ہو۔ یعنی وضع حمل سے تمہاری عدت ختم ہوگئی ہے۔ اگر کسی سے نکاح کرنا چاہو تو کرسکتی ہو۔ حضرت ام سلمہ نے بھی اسی حدیث کے پیش نظر اس رائے سے اتفاق کیا۔ آئمہ اربعہ کا بھی یہی مسلک ہے۔
آیتِ کریمہ میں جو اِنِ ارْتَبْتُمْ کا جملہ آیا ہے یعنی اگر تمہیں شک ہو، تو اس میں مراد شک سے یہ ہے کہ اصل عدت حیض شمار ہوتی ہے تو جن عورتوں کا حیض تو بند ہے ان کی عدت کا شمار کیسے ہوگا ؟ اس جملے سے یہی تردد مراد ہے۔
آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے یعنی اس سے ڈرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے کام میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔ قرآن کریم چونکہ کتاب اصلاح ہے محض خشک قانون کی کتاب نہیں جسے بالجبر نافذ کیا جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ جب قانونی احکام کو بیان فرماتے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ بشارتوں سے بھی نوازتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے تقویٰ کو لازمی شرط کے طور پر بار بار بیان کرتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام پر اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اور اسی سے اجروثواب کی امید پر اور اسی کی خوشنودی کے حصول کے لیے عمل کرتا ہے تو اسے عمل میں دشواری پیش نہیں آتی اور اگر کوئی دشواری ہو بھی تو وہ اخلاص عمل کی وجہ سے سہل ہوجاتی ہے۔ اور اس کے عمل کی برکت سے جب نصرت و تائید نازل ہوتی ہے تو اس سے تمام مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔ ان احکام میں چونکہ پابندیاں بھی ہیں اور مصارف کا بار بھی، جو یقینا طبیعتوں پر گراں ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی بشارتیں بھی دی جارہی ہیں جن سے حوصلے جوان ہوتے ہیں اور عمل کی خواہش امنگ کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔
Ayah 65:5ذٰلِکَ اَمْرُاللّٰہِ اَنْزَلَـہٗٓ اِلَیْکُمْ ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّـاٰ تِہٖ وَیُعْظِمْ لَـہٗٓ اَجْرًا۔ (الطلاق : 5)
(یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے، تو جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا، اور اس کے اجر کو بڑھا دے گا۔ )
اوپر کے مضمون کی مزید تاکید
اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اسی مضمون کی مزید تاکید ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جو اس نے تمہاری طرف نازل کیے ہیں۔ تم اس کے بندے ہو اور وہ تمہارا معبود اور آقا ہے۔ اسے بجا طور پر یہ حق حاصل ہے کہ تمہاری اصلاح کے لیے جن احکام کو مناسب سمجھے وہ تم پر نازل کردے۔ دیکھنا انھیں گراں نہ سمجھنا، نہ ان کو حقیر جاننا، یہ کائنات کے خالق ومالک کے احکام ہیں ان کو حقیر سمجھنے کا مطلب اللہ تعالیٰ کی عظمت کو چیلنج کرنا ہے۔ حاکم حکم دے کر اپنے محکوموں سے بیخبر نہیں ہوجایا کرتا۔ اللہ تعالیٰ بھی برابر اپنے بندوں پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں تو اجروثواب میں مستحق ٹھہرتے ہیں۔ نظرانداز کرتے ہیں تو سزا کے سزاوار بنتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا اس سے کو تاہیاں بھی سرزد ہوں گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی کریم ہے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو وہ بھی اس کے ساتھ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔ اور غلطیوں کو نظرانداز فرماتا ہے۔ اور اس کی نیکیوں کے اجروثواب میں برکت دیتا چلا جاتا ہے۔
Ayahs 65:6–7اَسْکِنُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ وَلاَ تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّـقُوْا عَلَیْھِنَّ ط وَاِنْ کُنَّ اُوْلاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ ج فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰ تُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ج وَاْتَمِرُوْا بَیْنَـکُمْ بِمَعْرُوْفٍ ج وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَـہٗٓ اُخْرٰی۔ لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ ط وَمَنْ قُدِرَعَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّـآ اٰ تٰـہُ اللّٰہُ ط لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ مَـآ اٰ تٰـھَا ط سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۔ (الطلاق : 6، 7)
(اور انھیں سکونت دو جہاں تم رہتے ہو اپنے مقدور کے مطابق اور ان کو ضرر نہ پہنچائو تاکہ تم انھیں تنگ کردو اور گر وہ حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرو حتیٰ کہ وہ اپنے حمل جَن دیں، پس اگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو انھیں ان کا معاوضہ دو ، اور بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) مشورے سے طے کرلو، اور اگر تم آپس میں ضد کرو تو اس کے لیے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی۔ چاہیے کہ کشادگی والا اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہے وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے، اللہ کسی شخص پر بوجھ نہیں ڈالتا، مگر اسی قدر جتنا اسے دیا ہے۔ بعید نہیں کہ اللہ تنگدستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرمائے۔ )
عورت کو طلاق کے بعد اسے گھر میں رکھنے کی وضاحت
اس سے پہلے حکم دیا گیا ہے کہ مطلقہ عورتوں کو عدت کے دوران گھروں سے نہ نکالو۔ اب اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انھیں صرف ساتھ رکھنا کافی نہیں بلکہ اس طرح انھیں رہنے کی سہولت ملنی چاہیے جس سے ان کی خودداری مجروح نہ ہو بلکہ شوہر کی آمدنی اور اس کے رہن سہن کا جو معیار ہے اس کے مطابق گھر میں اس کے لیے رہائش کا انتظام ہونا چاہیے۔ کیونکہ ” وُجْد “ کے معنی یافت کے ہیں۔ اور آدمی کا معیارِزندگی اس کی آمدنی کے مطابق ہوتا ہے۔ اسی کا لحاظ مطلقہ عورتوں میں بھی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ طلاق کے بعد مطلقہ عورت کو بیڈ روم سے نکال کر سرونٹ کو ارٹر میں منتقل کردیا جائے۔ اور جو کھانا گھروں میں نوکروں کو دیا جاتا ہے وہ کھانا انھیں بھی دیا جائے۔
عورت کے احترام کا حکم
مزید فرمایا کہ مطلقہ بیوی کو گھر میں تنگ کرنے کی کوئی صورت پیدا نہ کی جائے۔ مثلاً شوہر اس کو خونخوار نگاہوں سے دیکھے، اہل خانہ جب موقع ملے الفاظ کے تیر چلائیں اور اس حد تک اسے آزردہ کردیں کہ وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عدت شوہر کے گھر گزارنے کا جس مصلحت کے تحت حکم دیا گیا تھا وہ مصلحت ختم ہو کر رہ جائے گی۔ اور اسلام طلاق کے بعد بھی گھر کو باقی رکھنے کے جو امکانات پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ختم ہو کر رہ جائیں گے۔
یہ گھر میں رکھنا اور عزت سے رکھنا اور ان کے نفقہ کا معقول انتظام کرنا اور ان کے جذبات کا لحاظ رکھنا یہ تمام عورتوں کے بارے میں یکساں ہے۔ البتہ فرق صرف یہ ہے کہ جن عورتوں سے ابھی رجوع ہوسکتا ہے یعنی انھیں طلاق رجعی دی گئی ہے وہ شوہر کے سامنے آجاسکتی ہیں بلکہ انھیں گھر میں رکھنے کی حکمت ہی یہ ہے کہ شاید شوہر اپنے ارادے میں تبدیلی پیدا کرلے۔ یا بیوی اپنی رویئے کی اصلاح کرلے۔ لیکن وہ مطلقات جنھیں طلاق بائن یا تین طلاق دی گئی ہوں انھیں اپنے سابقہ شوہر سے پردہ کرنا چاہیے۔ لیکن سکنیٰ اور نفقہ میں دوسری مطلقات اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ اس آیت کا عموم تمام عورتوں کے لیے یکساں ہے جس سے سکنیٰ اور نفقہ سب کے لیے ثابت ہوتا ہے۔ حضرت فاروقِ اعظم ( رض) نے اس آیت کا یہی مفہوم لیا تھا۔ اور حضرت فاطمہ بنت قیس کی روایت کو انھوں نے یہ کہہ کر رد کردیا تھا کہ ہم ایک عورت کی روایت کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم ﷺ کی سنت کیخلاف قبول نہیں کرسکتے۔ اور اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مراد یہی آیت ہے۔ اور جہاں تک سنت کا تعلق ہے اس سے مراد وہ حدیث ہے جو خود حضرت عمر بن خطاب ( رض) سے طحاوی، دارقطنی اور طبرانی نے روایت کی ہے کہ حضرت عمرفاروق ( رض) نے فرمایا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے اس مطلقہ کے لیے جس کو تین طلاقیں دے دی گئی ہیں نفقہ اور سکنیٰ واجب کیا ہے۔
حاملہ مطلقہ کے بارے میں حکم
اس آیت میں مزید یہ حکم دیا گیا کہ اگر کوئی عورت حاملہ ہے اور اس کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہے اور اس کی عدت چونکہ وضع حمل ہے جو بعض دفعہ عام عدت سے بھی طویل ہوتی ہے تو بعض دفعہ طبیعتوں پر یہ بات گراں گزرتی ہے کہ اس خاتون کو طلاق تو ہوچکی اب اتنی لمبی مدت کے لیے اس کے نفقہ اور سکنیٰ کا کون انتظام کرے۔ اس لیے اس کی وضاحت فرما دی کہ جو عورتیں حاملہ ہیں ان کو اگر طلاق دے دی گئی ہے تو جب تک وضع حمل نہیں ہوتا شوہر کے ذمہ اس کا نفقہ بھی ہے اور سکنیٰ بھی۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ وضع حمل سے پہلے صرف نفقہ ہی کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ اس دوران کوئی نہ کوئی پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے تو بچے کو بچانے کے لیے مزید بھی خرچ کرنا پڑتا ہے۔ تو اس کا بار بھی شوہر کے ذمہ ہوگا۔
طلاق کے بعد وضاحت کے بارے میں ہدایات
وضع حمل کے بعد مطلقہ بیوی کو طلاق ہوگئی کیونکہ اس کی عدت ختم ہوگئی اب اس کا شوہر سے کوئی تعلق نہیں اور شوہر پر جو اس کے نفقہ کی ذمہ داری تھی وہ بھی ختم ہوگئی۔ لیکن جو بچہ پیدا ہوا ہے اس کی ذمہ داری تو بہرحال شوہر پر ہے۔ اب اگر اس خاتون کو طلاق نہ ہوئی ہوتی اور یہ اپنے شوہر کے نکاح میں ہوتی تو اس پر بچے کو دودھ پلانا لازم تھا۔ سورة البقرۃ میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اگر وہ اس کا معاوضہ طلب کرے تو اس کا معاوضہ لینا بھی حرام ہے اور دینا بھی حرام ہے۔ کیونکہ یہ رشوت کے حکم میں ہے۔ لیکن وضع حمل کے بعد اب چونکہ بیوی نکاح سے نکل گئی ہے، اب اگر یہ اس کے بچے کو دودھ پلائے گی تو وہ دودھ پلانے کا معاوضہ طلب کرسکتی ہے۔ کیونکہ اس کا دودھ اس کی ملکیت ہے اور یہ اپنی ملکیت میں مکمل اختیار رکھتی ہے چاہے بچے کو پلائے یا نہ پلائے۔ اور اگر اس کا معاوضہ طلب کرے تو وہ اس کا جائز حق ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اس سلسلے میں سابقہ شوہر اور مطلقہ کے درمیان ایک قرارداد ہوجانی چاہیے کہ وہ مشاورت سے طے کرلیں کہ دودھ پلانے کی اجرت کیا ہوگی کیونکہ ائتمار کے لفظی معنی باہم مشورہ اور ایک دوسرے کی بات قبول کرنے کے ہیں۔ اور اس کا دونوں کو حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ محض ضد کرکے اس معاملے میں اڑچن پیدا نہ کریں۔ یعنی بیوی عام اجرت سے زیادہ نہ مانگے اور شوہر عام اجرت کے مطابق دینے سے انکار نہ کرے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا معاملہ کریں۔ یعنی شوہر کو عام دستور کا لحاظ کرنا چاہیے اور بیوی کو مرد کے معیارِزندگی کا خیال کرنا چاہیے۔
مزید فرمایا کہ اگر دونوں کسی وجہ سے اس معاملے کو طے کرنے میں زحمت محسوس کریں یعنی مطلقہ بیوی بچے کو دودھ پلانے سے انکار کردے یا وہ اتنی اجرت مانگے کہ شوہر اس اجرت کا متحمل نہ ہوسکتا ہو یا دینا نہ چاہتا ہو، تو پھر دونوں کو قضائً مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ بچہ اگر کسی دوسری عورت کا دودھ قبول کرنے سے انکار کردے تو پھر اس مطلقہ خاتون کو جو اس بچے کی ماں ہے دستور کے موافق اجرت دے کر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
مطلقہ پر خرچ کرنے کا معیار
دوسری آیت میں بیوی کے نفقہ کے سلسلے میں اس کی عدت کے دوران یا دودھ پلانے کے دوران شوہر کے لیے خرچ کا معیار بتادیا گیا ہے کہ اگر وہ کشادہ حال ہے یعنی دولت مند ہے تو اسے اپنی کشادہ حالی کے معیار کے مطابق خرچ کرنا چاہے اور اگر وہ تنگ حال ہے تو پھر وہ اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کرے۔ کشادہ حال کو اپنے معیارِزندگی سے نیچے نہیں آنا چاہیے اور غریب پر اس کی مالی حالت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ ہر شخص پر اس کی حالت کے مطابق بوجھ ڈالتا ہے۔ اس نے شرعی احکام زندگی کی سہولت کے لیے دیئے ہیں، زندگی کو عذاب بنانے کے لیے نہیں دیئے۔ البتہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک تنگدست آدمی کے لیے معمولی خرچ کرنا بھی بوجھ بن جاتا ہے۔ اور اس کے دل میں یہ خیال آئے بغیر نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ذمہ داریاں تو ڈالی ہیں لیکن میری حالت بدلنے کے لیے مجھ پر کرم نہیں فرمایا۔ اس لیے آخر میں فرمایا کہ غریب اپنی حالت کی وجہ سے دل تنگ نہ کریں، اگر وہ اپنی حالت پر قانع و صابر اور تنگ حالی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی حدود قائم رکھنے کا اہتمام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے تنگی کے بعد آسانی پیدا فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جو شخص بھی غربت اور احتیاج کے باوجود محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایثار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔
Ayahs 65:8–9وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہٖ فَحَاسَبْنٰـھَا حِسَابًا شَدِیْدًا لا وَّعَذَّبْنٰـھَا عَذَابًا نُّـکْرًا۔ فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِھَا وَکَانَ عَاقِبَۃُ اَمْرِھَا خُسْرًا۔ (الطلاق : 8، 9)
(اور کتنی بستیاں ایسی تھیں جنھوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی، تو ہم نے بڑی سختی سے ان کا محاسبہ کیا، اور ہم نے انھیں نہایت ہولناک عذاب دیا۔ پس انھوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام نرا خسارہ تھا۔ )
اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرکشی ہمیشہ سخت عذاب کا باعث ہوتی ہے
اب مسلمانوں سے خاص طور پر یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ دنیا میں کتنی ایسی قومیں گزری ہیں جنھوں نے بظاہر تہذیب و تمدن کے بہت آثار چھوڑے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں مضبوط حکومتیں بھی قائم کی ہیں۔ لیکن وہ ایک تو اس بات کو ذہن میں نہ لاسکے کہ اس کائنات کا ایک حاکم بھی ہے اور اسی کا حکم زمین پر نافذ بھی ہے۔ اس نے اگرچہ انسانوں کو مہلت عمل دے رکھی ہے لیکن وہ اتنی زیادہ مہلت نہیں دیتا کہ اس کی زمین درندوں کا بھٹ بن کر رہ جائے اور انسان ظلم اور فساد سے زمین کو بھر دے۔ وہ اپنے رسولوں کو ان کی اصلاح کے لیے بھیجتا ہے لیکن اگر وہ اپنی سرکشی اور تکبر میں رسول کی کسی بات کو خاطر میں نہیں لاتے، حتیٰ کہ وہ اسے اپنی خواہشات کے راستے میں حائل سمجھ کر اس کی زندگی کے درپے ہوجاتے ہیں۔ تب اس زمین کا حاکم ان سے اپنی زمین خالی کروا لیتا ہے اور انھیں شدید عذاب کا ہدف بناتا ہے۔
اور دوسری شاید اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعے ان کی عائلی زندگی کو بچانے کے لیے مسلسل احکام دیئے لیکن انھوں نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا خاندانی نظام تباہ ہوگیا۔ مسلمانوں سے ان باتوں کے حوالے سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ازدواجی زندگی کے حوالے سے تمہیں بہت سے احکام دیئے ہیں اور ان احکام کی بجاآوری کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ تمہارے لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول کی سنت کو نظرانداز کرنے سے پہلی قوموں تباہ ہوئی ہیں تم اس راستے پر نہ پڑنا، یہ راستہ تباہی کا راستہ ہے۔ اس میں انسان اپنے کرتوتوں کا وبال بھی چکھتا ہے اور آخر اس کا انجام خسارے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔
Ayahs 65:10–11اَعَدَّاللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا لا فَاتَّـقُواللّٰہَ یٰٓـاُوْلِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قف ط قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا۔ رَّسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتِ لِّـیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْـہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَـآ اَبَدًا ط قَدْ اَحْسَنَ اللّٰہُ لَـہٗ رِزْقًا۔ (الطلاق : 10، 11)
(اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب بھی تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل والو، جو ایمان لائے ہو، بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف ایک ذکر نازل فرمایا ہے۔ ایک ایسا رسول جو اللہ کی روشن آیتیں تمہیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ نکال لے جائے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے تاریکیوں سے روشنی کی طرف، جو شخص ایمان لائے گا اللہ پر اور نیک عمل کرے گا اللہ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، بلاشبہ اللہ نے ان کو نہایت اچھا رزق عطا فرمایا ہے۔ )
مسلمانوں کو نہایت موثر تنبیہ
جن قوموں کی تباہی اور بربادی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ عذاب کی صورت میں ہوئی اوپر کی آیت میں ان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جو قومیں اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی کرتی ہیں اور رسول کو ماننے سے انکار کرتی ہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ دنیا میں ان پر نازل ہونے والا عذاب ان کی سزا کے لیے کافی ہوجائے گا، نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت میں ان کے لیے عذاب شدید تیار کر رکھا ہے جس کے مقابلے میں دنیا کے عذاب کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور یہ دنیوی نامرادی اور آخرت کا عذاب شدید صرف اس وجہ سے ان بدبخت قوموں کا مقدر بنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے نافرمانی کی، سرکشی کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے سے انکار کردیا۔ اگر ان کی عقلیں سلامت ہوتیں تو وہ کبھی اس طرح اپنی زندگیاں تباہی کے راستے پر نہ ڈالتے۔ اس لحاظ سے اے مسلمانو ! تم یقینا عقلمندوں اور دانشوروں میں شامل ہو کہ تم نے اپنی عقلوں سے صحیح کام لیا اور تم اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ ایمان ایک بہت بڑی دولت ہے، ایک روشنی ہے جس نے تمہیں صحیح راستہ دکھایا۔ لیکن اب تمہارے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو، ہر وقت اس سے ڈرتے رہو۔ تمہارے دل میں اس کی نافرمانی کا تصور بھی نہیں آنا چاہیے اور یہ بات ذہن سے کبھی محو نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ایک ذکر یعنی ایک نصیحت یا ایک یاددہانی نازل فرمائی ہے۔ اس سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور رسول بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بعد میں آنے والا رسول کا لفظ ذکر کا بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم پر ایک ایسا ذکر نازل کیا ہے یعنی رسول نازل کیا ہے۔ درحقیقت قرآن اور رسول میں کوئی بُعد نہیں۔ قرآن اگر ذکر ہے تو رسول مذکر ہے۔ اور قرآن کریم نے آپ کو مذکر ہی کہہ کر یاد فرمایا ہے۔ یعنی یاددہانی کرانے والا یا نصیحت کرنے والا۔ اس لحاظ سے اگر دونوں لفظوں سے ایک ہی شخصیت مراد لی جائے تو تب بھی صحیح ہے کہ ہم نے تم پر ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو تمہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے۔ یعنی ہمارے ایسے احکام تم پر واضح کرتا ہے جو نہایت روشن، نہایت واضح اور زندگی میں حقیقی خوشیوں اور حقیقی امن کی ضمانت ہیں۔ تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ان احکام سے کبھی انحراف اختیار نہ کرو۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ تم بھی اس انجام کے راستے پر نہ پڑجاؤ جس سے معذب قومیں دوچار ہوچکی ہیں۔ ہم نے اپنا رسول بھیج کر تمہیں تاریکیوں سے نکالنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی پیروی سے انکار، تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی بات ہے۔ اور اس کا اتباع ایک ایسا روشن راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی جنت کی طرف جاتا ہے۔
سباق کا لحاظ رکھا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو عائلی قانون اور ازدواجی زندگی کے بارے میں ضوابط اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت اس امت کو عطا فرمائے ہیں یہ درحقیقت وہ روشنی ہے جس سے مسلمانوں کے گھر روشن ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو گھروں کی صحیح آسودگی نصیب کی ہے۔ اور جو قومیں اس سے محروم ہیں وہ ہمیشہ اندھیروں میں بھٹکتی رہیں گی۔ اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب انسان طلاق، عدت اور نفقات کے متعلق دنیا کے دوسرے قدیم اور جدید عائلی قوانین کا مطالعہ کرتا ہے تو اس تقابلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں اور نت نئی قانون سازیوں کے باوجود آج تک کسی قوم کو ایسا معقول اور فطری اور معاشرے کے لیے مفید قانون میسر نہیں آسکا، جیسا اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول نے ڈیڑھ ہزار برس پہلے ہم کو دیا تھا اور جس پر کسی نظرثانی کی ضرورت نہ کبھی پیش آئی ہے اور نہ پیش آسکتی ہے۔ جن تعلیم یافتہ لوگوں کو اس بات کو ماننے میں تأمل ہو، انہیں چاہیے کہ وہ اسلام کے عائلی قوانین کا دنیا بھر کی اقوام کے جدید و قدیم عائلی قوانین سے موازنہ کرکے دیکھیں انھیں خود اس قول کی صداقت کا یقین ہوجائے گا۔