64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsروح القرآن

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

اللہ ہی کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج لَہُ الْمُلْـکُ وَلَـہُ الْحَمْدُ ز وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَی ئٍ قَدِیْرٌ۔ (التغابن : 1) (اللہ ہی کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے وجود اور بندگی کی شہادت دے رہی ہے جو شخص بھی کھلی نگاہوں سے اس کائنات کو دیکھے گا تو وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکے گا کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی مخلوق ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود کی شہادت نہ دیتی ہو اور اس کی تسبیح نہ کررہی ہو۔ مخلوق کا وجود بجائے خود خالق کے وجود کی گواہی دیتا ہے اور ہر مخلوق کو زندگی کے امکانات کا ملنا، مناسب ماحول کا دیا جانا اور ماحول کے مطابق صلاحیتوں کا عطا ہونا، معیشت کی راہ پر لگانا اور اسبابِ معیشت فراہم کرنا اور ہر مخلوق کو آرام اور سکون کا عطا ہونا اور اپنے دائرے میں آسودگی کا ملنا ایسے حقائق ہیں جن سے بہرہ ور ہر مخلوق اپنے عطا کرنے والے کی تعریف میں رطب اللساں ہے اور برابر اس کا شکر بجالاتی ہے، اس کی حمد کے گن گاتی ہے اور اس کی ذات وصفات کے بےعیب ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ اور اس کے افعال و احکام کے بےخطا ہونے کی شہادت مہیا کرتی ہے۔ یہی وہ تسبیح ہے جو کائنات کی ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کی کررہی ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ جس طرح وہ تمام مخلوقات کا خالق ومالک ہے اسی طرح وہ ان کا بادشاہ بھی ہے۔ پوری کائنات تنہا اسی کی سلطنت ہے۔ اور اس بادشاہت میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ وہ اس کائنات کو بنا کر اور ایک دفعہ اسے حرکت دے کر الگ ہو کر کائنات کے کسی گوشے میں نہیں بیٹھ گیا بلکہ وہ برابر اس کی نگرانی اور نگہبانی کررہا ہے۔ اس کا کوئی ایک ذرہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کرتا۔ اور کسی مخلوق کی کوئی حرکت اس کے علم سے باہر نہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس کے کسی فیصلے میں رکاوٹ بن سکے اور اس کے کسی کام کو چیلنج کرسکے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ نہ کسی چیز کی تخلیق اس کے لیے مشکل ہے اور نہ کسی مخلوق کو زندگی کی ضروریات مہیا کرنا اس کے لیے گراں ہے۔ وہ کسی بڑے سے بڑے کام میں بھی کسی کا محتاج نہیں۔ اس کائنات کے بنانے میں اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں پڑی۔ اسی طرح اس کے انتظام و انصرام میں بھی وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس نے ہر کام تنہا اپنے بل بوتے پر کیا ہے اور آئندہ بھی جو کچھ کرے گا اپنی قدرت کاملہ سے کرے گا۔ اس لیے اس پر ایمان لانے والے صرف اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اس کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتے۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو

ھُوَالَّذِیْ خَلَقَـکُمْ فَمِنْـکُمْ کَافِرٌوَّمِنْـکُمْ مُّؤْمِنٌ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (التغابن : 2) (وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ ) ہر شخص اپنے اختیار کے غلط استعمال کرنے کی سزا پائے گا یعنی جس پروردگار نے ساری کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اور اس کائنات کی ایک ایک چیز جس کی تسبیح کررہی ہے، اسی پروردگار نے تم کو بھی پیدا کیا ہے۔ حق تو یہ تھا کہ تم بھی اسی کی تسبیح کرتے رہتے، بلکہ تمہاری تسبیح باقی کائنات کی مخلوق کے مقابلے میں زیادہ جاندار، زیادہ وسیع اور زیادہ وقیع ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک مکلف مخلوق بنایا ہے۔ تمہیں وہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں جو دوسری مخلوقات کو نہیں دی گئیں۔ لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ دوسری مخلوقات کے برعکس تم میں کوئی کافر ہے اور کوئی مومن۔ تو اس کا بظاہر مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا یہ رویہ کس قدر غلط اور خلاف عقل ہے۔ لیکن اس میں درحقیقت ایک اور بات فرمائی گئی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دوسری مخلوقات کی طرح جبلی اور فطری قوانین تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس نے تمہیں فی الجملہ ایک آزادی بخشی ہے، جس کی بنیاد یہ ہے کہ تمہیں عقل اور شعور سے نوازا گیا ہے۔ تمہیں خیر و شر کی تمیز سے بہرہ ور فرمایا گیا ہے۔ اس لیے تم اس بات کے پابند نہیں ٹھہرائے گئے کہ تمہیں بہرصورت اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہی کرنی ہے، بلکہ تمہیں اپنی قوت تمیز اور اپنے شعور سے کام لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ تم جس چیز کو صحیح سمجھو، اسے اختیار کرو۔ اور جسے غلط سمجھو اسے رد کردو۔ حتیٰ کہ تمہارا یہ اختیار اس قدر وسیع ہے کہ تم چاہو تو اللہ تعالیٰ کو مانو اور مومن بن جاؤ اور چاہے اس کا انکار کرکے کافر ہوجاؤ۔ تمہیں بہرحال اس کی آزادی ہے۔ البتہ یہ اختیار دے کر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک امتحان میں ڈالا ہے کہ تم یہ اختیار صحیح استعمال کرتے ہو یا غلط۔ کیونکہ اس نے تمہیں اختیار کے ساتھ ساتھ خواہشات بھی دی ہیں، جذبات بھی دیئے ہیں، قوت واہمہ بھی دی ہے، ہوس پرستی اور مفادپرستی بھی دی ہے۔ اور تمہیں یہ صلاحیت بھی عطا کی ہے کہ تم اگر چاہو تو ان کی پیروی کرسکتے ہو، اور چاہو تو ہمت کرکے ان سے بچ بھی سکتے ہو۔ اور آزادی کے امتحان میں سرخرو بھی ہوسکتے ہو۔ اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کردی کہ جو کچھ تم زندگی میں کرو گے وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگا، وہ برابر تمہیں دیکھے گا کہ تم زندگی اس کی ہدایت کے مطابق گزار رہے ہو، تمہاری صلاحیتیں اس کے مطابق حرکت میں آرہی ہیں، تم اس کی خوشنودی کو اپنی منزل سمجھتے ہو یا اپنی خواہشات کی تکمیل کو۔ پھر وہ تمہارے اعمال کے مطابق تم سے معاملہ کرے گا۔ اگر تم نے اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاری تو وہ تمہیں بہترین جزاء سے نوازے گا۔ اور اگر تم نے اس کی ہدایت کیخلاف اپنی خواہشات کی تعمیل میں زندگی بسر کی تو وہ تمہیں ہولناک سزا دے گا۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ وہ عادل ہے اور نہ وہ حکیم۔ کیونکہ کسی عادل کی نگاہ میں صحیح اور غلط ظلم اور مظلومیت، خیر اور شر اور کفر اور ایمان برابر نہیں ہوسکتے۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور تمہاری صورتوں کو خوبصورت بنایا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ ج وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (التغابن : 3) (اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور تمہاری صورتوں کو خوبصورت بنایا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ ) جزا و سزا پر ربوبیت سے استدلال اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا فرمایا ہے، یعنی ہر مخلوق کو اس نے اس طرح بنایا جس طرح اسے بنایا جانا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنی تخلیق کے مقاصد کو صحیح طریقے سے انجام دے سکے۔ کائنات کی کسی چھوٹی یا بڑی چیز میں آپ غور کریں تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ چیونٹی کا ننھا سا جسم اور اس کے جسم کی مخصوص ساخت، ہاتھی کا بھاری بھرکم جثہ اور اس کے جسم کی مخصوص ساخت، چاہے آپس میں کتنے بھی اختلاف کی حامل ہو، لیکن حقیقت میں جو مقصد زندگی انھیں دیا گیا ہے اس کے لیے انھیں ویسا ہی ہونا چاہیے تھا جیسا ہمیں نظر آرہا ہے۔ اس نے ہوا میں جو خوبیاں رکھی ہیں اور پانی میں جو خصوصیات رکھی ہیں ان میں ردوبدل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ جو بنایا ہے جیسا بنایا ہے وہی حق اور درست ہے۔ پھر اس کی تائید میں اپنی تخلیق کے شاہکار حضرت انسان کو خصوصی طور پر ذکر فرمایا کہ دیکھو ہم نے اسے بنایا اور بہترین تقویم میں بنایا۔ انسان کے ظاہر و باطن کی تشکیل جس طرح ہوئی ہے اور اس میں جو قوتیں اور قابلیتیں ودیعت کی گئی ہیں وہ صاف اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ اس دنیا میں تمام مخلوقات میں مقصود کی حیثیت اسی کو حاصل ہے۔ وہی سرتاج اور گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کی یہ صورت کشی اور اس کے باطن کی دلکشی اور اس کو بیش بہا دی جانے والی صلاحیتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ اس کو خالق کائنات نے بےمقصد و عبث پیدا نہیں کیا، کہ بس وہ کھائے پیئے اور ایک دن ختم ہوجائے۔ قرآن کریم نے جگہ جگہ انسان کو یہ یاددہانی کرائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ربوبیت کے لیے جو اہتمام فرمایا ہے، تمہارے لیے جو پاکیزہ خوان کرم بچھایا اور نیک و بد کے درمیان تمیز کرنے کی تمہیں جو استعداد بخشی اور جو ہمت بلند عطا کی ہے جس کے زور سے وہ مادی دنیا کی زنجیروں کو توڑ کر سدرۃ المنتہیٰ پر اپنا آشیانہ بناتا ہے، اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک دن تم اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ تاکہ وہ تم سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں سوال کرسکے۔ سورة الانفطار میں ارشاد فرمایا : یٰـٓاَیُّھَاالنَّاسُ مَاغَرَّکَ بِرَبِّکَ الْـکَرِیْمِ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعْدَلَـکَ فِیْ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّاشَآئَ رَکْبَکَ ۔ ” اے انسان تجھ کو تیرے اس رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے، جس نے تیرا نقشہ بنایا، پھر تیرے جوڑ بند ٹھیک کیے، پھر تجھے متوازن کیا اور جس صورت پر چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔ “ اس آیت کریمہ میں نہایت تہدید آمیز انداز میں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری یہ جسمانی ساخت اور تمہارا یہ قدِرعنا، اور تمہاری یہ آراستہ صورت، اور تمہارا جسمانی و ذہنی اور فطری توازن، کیا تمہیں یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ تمہیں قدرت نے اس لیے پیدا نہیں فرمایا کہ تم صحرا میں اگنے والی گھاس کی طرح مل دَل کر ختم ہوجاؤ۔ اور نہ تمہیں اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ تم شتر بےمہار کی طرح غیرذمہ دار زندگی گزارو۔ بلکہ تمہارے وجود کا یہ اہتمام اور تمام مخلوقات سے بڑھ کر تمہاری خوبصورتی اور رعنائی اور تمہاری غیرمعمولی صلاحیتیں اور تمہارا جوہرِعقل یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ تم ایک بااختیار اور ذمہ دار مخلوق کے طور پر پیدا کیے گئے ہو۔ تمہاری زندگی کا ایک مقصد ہے اس کے مطابق زندگی گزارنے کی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کی معرفت تمہیں تعلیم دی ہے۔ تمہارے اختیار اور ذمہ داری کے حوالے سے تمہیں لازماً ایک دن اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونا ہے۔ یہ اسی کی طرف پلٹنے کا یہی مفہوم ہے کہ قیامت کے دن تمہیں جب اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حاضری اس دن ہوگی جب پوری نوع انسانی کو ازسرنو زندہ کرکے بیک وقت محاسبہ کے لیے اکٹھا کیا جائے گا۔ کسی شخص کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ اگر انسانی زندگی اور اس میں کیے ہوئے اعمال کی جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری ضروری بھی سمجھ لی جائے تو کیا یہ کام اس دنیا میں نہیں ہوسکتا۔ یہ کیوں ضروری ہے کہ ہر شخص کا حساب اس کی موت کے بعد ہو اور اس وقت ہو جب پوری نوع انسانی جواب دہی کے لیے میدانِ حشر میں اکٹھی ہو۔ معمولی سے غور و فکر کے بعد یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ انسان سے چند دنوں یا چند سالوں کا حساب نہیں لیا جائے گا، بلکہ اس کی پوری زندگی کے بارے میں اور اس کے مکمل کارنامہ ٔ حیات کے حوالے سے اس سے بازپرس ہوگی۔ اور انسان کی زندگی اور اس کے زندگی بھر کے اعمال کا اختتام چونکہ موت پر ہوتا ہے تو لازماً یہ جواب دہی کا وقت موت کے بعد ہی ہوسکتا ہے، زندگی میں نہیں۔ اور مزید یہ بات کہ انسان صرف اپنے اعمال کا ہی ذمہ دار نہیں بلکہ ان اعمال سے پیدا ہونے والے اثرات و نتائج کا بھی ذمہ دار ہے۔ اور انسان کے بیشتر اعمال متعدی واقع ہوئے ہیں کہ ایک انسان کے عمل سے کبھی دوسرا انسان متأثر ہوتا ہے اور کبھی پورا معاشرہ متأثر ہوتا ہے۔ اور پھر یہ اثرات بعض دفعہ صدیوں تک چلتے ہیں۔ کسی شخص کا کوئی رفاہی مرکز کھول دینا، کوئی تعلیمی ادارہ بنادینا، کوئی ایسا کام کردینا جس کا فائدہ طویل عرصے تک خلق خدا کو پہنچتا رہے۔ مثلاً نہر زبیدہ خلیفہ ہارون الرشید کی بیگم نے بنوائی اور گزشتہ صدی تک حجاز اور مکہ معظمہ میں رہنے والے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ کتنے لوگ ہیں جنھوں نے انسانی بھلائی کے ایسے کام کیے کہ جس سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد بعض دفعہ حدشمار سے نکل جاتی ہے۔ اور بعض لوگوں نے ایسے برے کام کیے ہیں کہ جن کی برائی نے صدیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس نے کیمونزم اور سوشلزم کی بنیاد رکھی اور اس طرح سے ظلم کا ایک دروازہ کھولا اور گزشتہ ایک صدی میں کروڑوں آدمیوں کو اس سے نقصان پہنچا۔ اور جس نے سرمایہ داری کو فروغ دیا اور سود کو نیا لباس پہنا کر جدید سائنٹفک انداز میں اس کی نئی نئی صورتیں پیدا کیں۔ صدیاں گزر گئیں اور آئندہ بھی نہ جانے انسان کب تک اس کے زخم سہتا رہے گا۔ یورپ نے گزشتہ صدی میں پارلیمنٹ کے ذریعے بےحیائی کے جن کاموں کو سندجواز عطا کی جس کی وجہ سے بےحیائی کے فروغ میں غیرمعمولی وسعت پیدا ہوئی اور نہ جانے یہ کب تک وسعت پذیر ہوتی رہے گی، اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جواب دہی کے لیے پوری نوع انسانی کی موت کے بعد ایک ایسا دن لانا کیوں ضروری ہے جبکہ ہر شخص کا کارنامہ ٔ حیات مکمل ہوچکا ہو، اس کے اثرات وجود میں آچکے ہوں، موثر اور متأثر سب آمنے سامنے کھڑے ہوں اور ایک عدالت ان سے جواب طلب کرے جو مکمل حساب کتاب کرنے پر قادر ہو، تو تب وہ حقیقت سامنے آسکتی ہے جسے عدل اور انصاف کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے کا یہی مقصد ہے۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، اور اللہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَاتُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (التغابن : 4) (وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، اور اللہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے۔ ) منکرینِ قیامت کے ایک اشتباہ کا صفت علم سے ازالہ آخرت کے منکرین کا یہ خیال تھا کہ اولًا تو قیامت کا وقوع ہی محال ہے اور اگر بالفرض قیامت آہی گئی تو یہ بات تو کسی طرح معقول نہیں کہ ہر انسان کے زندگی بھر کے اعمال کا حساب کیا جاسکے۔ چونکہ ہر شخص زندگی میں بیشمار اعمال کا ارتکاب کرتا ہے۔ تو پوری نوع انسان کے ایک ایک شخص کے اعمال کا حساب کس طرح ممکن ہے جبکہ اس کے اعمال کو نہ جانا جاسکتا اور نہ گنا جاسکتا ہے۔ اس مغالطے کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے علم کے بارے میں نہایت غلط فہمی لاحق ہے، تم اس کے علم کو اپنے علم پر قیاس کرتے ہو۔ تم نے آج تک نہ آسمان دیکھے، نہ زمین کی تمام تہیں دیکھیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو تمام آسمانوں کو بھی جانتی ہیں اور زمین کی تمام تفصیلات کو بھی۔ اور اس کے اندر جو کچھ موجود ہے چاہے وہ مخلوقات کی صورت میں ہو یا خزانوں کی صورت میں اس کے علم سے کچھ بھی مخفی نہیں۔ اس کے علم کی وسعت کا حال تو یہ ہے کہ وہ نہ صرف اعمال کو جانتا ہے بلکہ اعمال کے پس پردہ جو محرکات کام کرتے ہیں جو کچھ نیتوں میں مستور ہے۔ اور عمل کرنے والے نے جس عمل کو چھپا کر کیا ہے وہ اسے بھی جانتا ہے۔ اور جو اس نے ظاہراً کیا لیکن بااثر ہونے کی وجہ سے کوئی اس کی گرفت نہیں کرسکا، وہ اسے بھی جانتا ہے۔ ایسے وسیع علم کی حامل ذات کے بارے میں کون یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ وہ اعمال کا حساب نہیں کرسکے گا۔ حالانکہ وہی ایک ذات ہے جس کی عدالت عدل اور انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔ دنیا میں اکثر و بیشتر جرائم چھپے رہ جاتے ہیں، پولیس ان کا کھوج نہیں لگا سکتی۔ اور بعض جرائم شہادت بہم نہ پہنچنے کی وجہ سے انصاف سے محروم رہتے ہیں۔ اور بعض مجرم ایسے طاقتور ہوتے ہیں کہ ان کے جرائم معلوم ہونے کے باوجود ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے اور اس کے علم کی وسعت کے سامنے ان میں سے کوئی چیز بھی رکاوٹ نہیں بن سکے گی۔ اسی طرح جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ عدالتیں یہ جاننے سے عاجز رہتی ہیں کہ مجرم کی جرم کرتے ہوئے نیت کیا تھی، اس کے دل کے احساسات کیا تھے، اس کے عزائم کیا تھے، کیا وہ بالفعل اس کا ذمہ دار تھا یا کوئی اس کو استعمال کررہا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی عدالت کے سامنے ہر چیز واضح ہوگی۔ کیونکہ پروردگار جو آج اپنی عدالت کا جج ہوگا وہ دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے اور ہر چیز کی اصل حقیقت کو جانتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو آخرت کے وجود کو یقینی بناتی ہے، اور جسے اخلاق کا تقاضا کہا جاسکتا ہے، اور جو انسان کی فطرت کی آواز ہے۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا، پس انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا (اور ان کے لیے آخرت میں ایک دردناک عذاب ہے

اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ز فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (التغابن : 5) (کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا، پس انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا (اور ان کے لیے آخرت میں ایک دردناک عذاب ہے) ۔ جزائِ اعمال پر تاریخ سے استدلال یہ آخرت کے آنے کی ایک ایسی دلیل ارشاد فرمائی گئی ہے جو واقعاتی بھی ہے اور عقلی بھی۔ مخالفین سے کہا گیا ہے کہ تم سے پہلے جو قومیں گزر چکی ہیں اور جن کا تعلق تمہارے اپنے ملک سے ہے کیا ان کی تاریخ اور ان کے احوال تمہارے علم میں نہیں آئے۔ اس سے اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کی طرف ہے۔ قریش جن کے حالات سے فی الجملہ واقف تھے۔ کیونکہ تجارتی اسفار میں ان کی بستیوں کے کھنڈرات سے ان کا گزر ہوتا تھا۔ اور پورے ملک میں سینہ بہ سینہ ان کے حالات پھیلے ہوئے تھے۔ ان قوموں نے جب اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کی ہدایت کو قبول کرنے کی بجائے اپنے بگاڑ میں بڑھتے ہی چلے گئے تو آخر ایک وقت آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑ لیا اور ان پر عذاب کا ایسا کوڑا برسا کہ انھوں نے اپنے اعمال کا مزہ چکھ لیا۔ یعنی وہ اس انجام کو پہنچ گئیں جس انجام سے انھیں بار بار باخبر کیا جارہا تھا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ان کے اس انجام کو دیکھ کر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک قانونِ مجازات بھی ہے جو ہمیشہ کارفرما رہتا ہے۔ اور یہ اسی کی مثالیں ہیں جو تم ان معذب قوموں کی شکلوں میں دیکھتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پروردگار نے انسانوں کو ڈھیل تو ضرور دے رکھی ہے لیکن جب وہ حدود سے گزر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی زمین کو شر اور فساد سے بھر دیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی زمین کو اس جھاڑ جھنکار سے صاف کرنے کے لیے اپنا عذاب بھیجتا ہے اور زمین کو صاف کردیا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات خودبخود سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا دن ضرور لائے گا جس میں ساری دنیا کا حساب لے گا اور لوگوں کے درمیان مکمل انصاف اور عدل کرے گا۔ کیونکہ کتنی قومیں ہیں جو ڈھیل پانے کی وجہ سے دنیا میں عذاب سے بچی رہیں اور اپنی بداعمالیوں کا بوجھ لیے دنیا سے چلی گئیں۔ اور جن قوموں کو دنیا میں عذاب کا شکار ہونا پڑا یہ بھی ان کے اعمال کی مکمل سزا نہ تھی، بلکہ ان کے اعمال کا اصل حساب کتاب چونکہ قیامت کے دن ہوگا اسی روز اللہ تعالیٰ کے کامل عدل اور اس کی کامل رحمت کا ظہور ہوگا۔ تو جس طرح دنیا میں بھلائی اور نیکی کرنے والے قربانیاں دے کر دنیا سے چلے گئے انھیں آج بیش بہا اجروثواب سے نوازا جائے گا۔ اور جو دنیا میں کافرانہ اور مشرکانہ روش کے ساتھ زندگی گزار کے گئے وہ اگر دنیا میں عذاب کا شکار ہو بھی گئے ہوں جب بھی قیامت کے دن انھیں عذاب الیم سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیوں کے ساتھ آتے رہے تو انھوں نے کہا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کریں گے ؟ پس انھوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا اور اللہ ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے

ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ کَانَتْ تَّاْتِیْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌیَّھْدُوْنَنَا ز فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ ط وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔ (التغابن : 6) (یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیوں کے ساتھ آتے رہے تو انھوں نے کہا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کریں گے ؟ پس انھوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا اور اللہ ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ ) تکذیبِ رسول کے لیے منکرین کا بہانہ اس آیت کریمہ میں معذب قوموں کی تباہی اور بربادی کی بنیادی وجہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے رکھی ہے اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی ” بیشک ہم پر ہے ہدایت دینا۔ “ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے پروردگار نے ہمیشہ انبیاء و رسل مبعوث کیے، کتابیں نازل فرمائیں تاکہ انسان ان کے ذریعے سے صحیح علم حاصل کرسکے اور عمل کا صحیح طریقہ پا سکے۔ چناچہ اس نے انسانوں میں سے بعض افراد کو علم عطا کرکے دوسروں تک پہنچانے کی خدمت سپرد کی اور ان ہی کو رسل کہا گیا۔ اور ان کے ساتھ ایسی بینات کو نازل فرمایا جس سے یہ بات سمجھی جاسکے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ بینات واضح باتوں اور واضح چیزوں کو کہتے ہیں۔ یہاں بینات سے مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں پر وقتاً فوقتاً نازل فرماتا ہے۔ اور پھر ہر رسول کی اپنی ذات بجائے خود ایک بینہ ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کا حُسنِ کردار پوری قوم میں ایسا ممتاز ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس کی وجہ اس کے سوا متعین نہیں کرسکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے اور اللہ تعالیٰ نے رسالت کے اعلان سے پہلے بھی ہر طرح کے عیب سے اس کی حفاظت فرمائی ہے۔ لیکن ان قوموں کا حال یہ رہا کہ جب بھی ان کے پاس ایسے رسول آئے جو واضح نشانیاں لے کر آئے تو لوگوں نے انھیں صرف اس لیے ماننے سے انکار کردیا کہ وہ تو ان کی طرح انسان ہیں ہم اپنے جیسے ایک انسان کو رسول کیسے مان لیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ کسی برتر مخلوق میں سے ہونا چاہیے تھا۔ یہ تو ہمارے لیے بڑی توہین کی بات ہے کہ ہم جیسا ایک شخص اٹھ کر ہم سے اطاعت کا تقاضا کرے۔ اگر انسانوں ہی نے یہ کام کرنا ہے تو پھر ہمارے اندر کیا کمزوری ہے، ہم خود یہ کام کرلیں گے۔ حالانکہ ایک واضح سی بات ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے سب سے برتر مخلوق بنایا ہے۔ البتہ ذاتی پاکیزگی کے لحاظ سے ملائکہ بہت ممتاز ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کسی فرشتے کو رسول بنا کے بھیجا جاتا تو وہ اپنی شکل میں تو نظر نہیں آسکتا تھا اور اگر وہ انسانی شکل میں آتا تو پھر اس کو انسان سمجھ کر ماننے سے انکار کردیا جاتا۔ اور مزید یہ کہ رسول تو اسوہ ٔ حسنہ بن کر آتا ہے۔ اگر کوئی فرشتہ رسول بن کر آتا تو اس کی زندگی انسانوں کے لیے اسوہ ٔ حسنہ یعنی بہترین نمونہ نہیں بن سکتی تھی۔ اسے چونکہ بھوک نہ لگتی تو بھوکے آدمی کے لیے کیا نمونہ ہوتا۔ وہ کسی جنگ میں زخمی نہ ہوتا، اور نہ اسے قتل ہوجانے کا اندیشہ ہوتا، تو لوگ استقامت کا درس کہاں سے لیتے ؟ اسے کبھی اہل کفر کی اذیت رسانیوں اور چیرہ دستیوں سے واسطہ نہ پڑتا، تو لوگ صبر کا پیکر کہاں تلاش کرتے ؟ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی اصلاح و تربیت کے لیے انسان ہی ذریعہ بن سکتا ہے، فرشتہ نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ لیکن مخالفین کو اس بات سے شدید انکار تھا کہ یہ رسالت کا دعویٰ کرنے والے چونکہ ہماری طرح بشر اور انسان ہیں تو ہم انھیں اللہ تعالیٰ کا رسول نہیں مان سکتے اور ان کی رہنمائی قبول نہیں کرسکتے۔ یہ عجیب بات ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ انسانوں کو اپنا لیڈر مانا ہے اور بڑے بڑے معاملات میں ان کی رہنمائی قبول کی۔ حتیٰ کہ وہ بھی انسان ہی تھے جن کی رہنمائی میں لکڑی اور پتھر تک کے بتوں کو معبود بنایا گیا ہے۔ اور یہ بھی حادثہ بیت چکا ہے کہ انسانوں کو خدا کا اوتار اور خدا کا بیٹا تک سمجھا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو گمراہ کن لیڈروں، عیار پیروں اور نہایت بگڑے ہوئے دانشوروں کی رہنمائی قبول کرنے میں تو کبھی کوئی عذر نہیں رہا، حالانکہ وہ بھی انسان ہی ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے رسولوں کہ ہمیشہ بشریت کا طعنہ دے کر ماننے سے انکار کردیا گیا۔ جب ان لوگوں نے اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی رہنمائی ماننے سے انکار کیا اور پوری طرح ان کی رہنمائی سے منہ پھیر گئے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ان سے مستغنی ہوگیا۔ یعنی وہ جو انسانوں کی ہدایت کے لیے ہمیشہ اہتمام کرتا ہے اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہ رہی کہ یہ گمراہی کے کس گڑھے میں جا کر گرتے ہیں اور کس طرح اپنی جلائی ہوئی آگ میں جلتے ہیں۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو ہے ہی بےنیاز اور ستودہ صفات۔ یعنی وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں کہ وہ ان کو ہدایت عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی ہدایت و ضلالت کی کیا پرواہ۔ کوئی اس کی عبادت کرے تو اس کی الوہیت کو طاقت نہیں ملتی۔ اور کوئی عبادت کرنے والا نہ ہو تو اس کی شان اور سربلندی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ وہ ہدایت کا انتظام صرف اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں کی فلاح اسی میں ہے۔ لیکن جب اس کی قدر نہیں کرتے تو وہ زبردستی لوگوں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ ہرگز مرنے کے بعد اٹھائے نہیں جائیں گے، کہہ دیجئے ! کیوں نہیں، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جائو گے، پھر تمہیں ضرور بتایا جائے گا جو کچھ تم نے دنیا میں کیا ہوگا اور یہ کام اللہ پر بہت آسان ہے

زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا ط قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ط وَذٰلِکَ عَلیَ اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ (التغابن : 7) (منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ ہرگز مرنے کے بعد اٹھائے نہیں جائیں گے، کہہ دیجئے ! کیوں نہیں، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں ضرور بتایا جائے گا جو کچھ تم نے دنیا میں کیا ہوگا اور یہ کام اللہ پر بہت آسان ہے۔ ) مشرکین کے انکار کا جواب انھیں کے لہجے میں دوسری بڑی کمزوری ہے جس نے منکرینِ حق کو ہدایت سے دور رکھا ہے۔ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ آخرت کا انکار کرتے آئے ہیں حالانکہ ان کے پاس آخرت کے نہ آنے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ بڑے زور سے اس بات کا دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ اور وہ ہرگز مرنے کے بعد اٹھائے نہیں جائیں گے۔ پروردگار نے آنحضرت کو حکم دیا ہے کہ آپ بھی انھیں اس کا جواب اسی انداز میں دیں جس انداز میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے۔ وہ پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے، آپ بھی اسی زور و تاکید کے ساتھ بقیدقسم ان کو جواب دیجئے کہ میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ قرآن کریم نے اسی انداز میں دو اور جگہ بھی قیامت کے آنے اور لوگوں کے زندہ کیے جانے کا ذکر کیا ہے۔ اور وہاں بھی یہ بات بقیدقسم فرمائی گئی۔ ایک سورة یونس آیت 53 میں اور دوسرا سورة سبا آیت 3 میں۔ سوال یہ ہے کہ جو قیامت کے آنے کے منکر ہیں انھیں اگر قسم کھا کر بھی یہ جواب دیا جائے تو کیا ان پر اثراندازی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ جب انھوں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ آخرت کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے تو انھیں اس بات کی کیا پرواہ ہے کہ آپ قسم کھا کر یہ بات کہتے ہیں یا قسم کے بغیر۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو ایک عام آدمی جس کے بارے میں جھوٹا ہونے کا یقین نہ ہو وہ بھی جب کسی بات کو قسم سے مؤکد کرکے کہتا ہے تو سننے والا ضرور سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے ان کے مخالفین آپ کی نبوت کے انکار کے باوجود دل سے اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ چناچہ ایسا سچا انسان جب کبھی خدا کی قسم کھا کر آخرت کی بات کہے تو یہ ممکن نہیں کہ مخالفین آپ کو جھوٹا قرار دیں۔ اس لیے جب کبھی آنحضرت ﷺ اس انداز میں بات فرماتے تھے تو مخالفین اپنے دلوں میں ہل کے رہ جاتے تھے۔ علاوہ ازیں صرف یہی نہیں تھا کہ آپ آخرت کو ایک مؤکد انداز میں بیان فرماتے تھے بلکہ اس پر ایسے معقول دلائل بھی پیش فرماتے تھے جس کا انکار کرنا قریش کے لیے آسان نہ تھا۔ مزید ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی خصوصیات میں سے اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانوں میں یقین کی دولت تقسیم کرنے آتے ہیں۔ اس لیے ایسے ان دیکھے حقائق پر جب وہ قسم کھا کر بات کہتے ہیں تو اس سے یقین کی وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جو کسی فلسفی کے استدلال سے پیدا نہیں ہوسکتی۔ آخر میں ارشاد فرمایا کہ تمہیں قیامت کے آنے پر اس لیے وثوق پیدا نہیں ہوتا کہ تم اسے ایک ناممکن یا مشکل کام سمجھتے ہو۔ تمہارے اندازے تمہاری اپنی ذات یا اپنے ماحول کی پیداوار ہیں۔ اس لیے تم کسی نہ کسی حد تک اس میں حق بجانب بھی ہو۔ لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کے صحیح علم اور اس کی بےکراں قدرت کا استحضار پیدا کرسکو تو پھر تمہیں اس میں اشکال نظر نہیں آئے گا۔ اس لیے پروردگار نے فرمایا کہ تمہارا دوبارہ زندہ کیا جانا اور میدانِ حشر میں تمہارا جمع کیا جانا اور پھر تمہیں تمہارے اعمال کی تفصیل کے بارے میں بتانا یہ تمہارے لیے مشکل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں، بہت آسان ہے۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

پس ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور اللہ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے باخبر ہے

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِالَّذِیْٓ اَنْزَلْنَا ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (التغابن : 8) (پس ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور اللہ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے باخبر ہے۔ ) تنبیہ کے انداز میں دعوت جب دلائل سے یہ بات ثابت ہوگئی اور انسانی تاریخ سے بھی اس کی صداقت مبرہن ہوگئی تو پھر اگر تمہیں اپنے تباہی منظور نہیں اور اپنی عاقبت کو برباد نہیں کرنا چاہتے تو پھر اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر ایمان لائو جو ہم نے نازل کیا ہے۔ نور سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے کے لیے نازل فرمایا۔ نور کی صفت یہ ہے کہ وہ خود روشن ہوتا ہے اور گردوپیش کی تمام چیزوں کو نمایاں کردیتا ہے جو پہلے تاریکی میں چھپی ہوئی تھیں۔ اسی طرح قرآن کریم ایک ایسا چراغ ہے جس کا روشن ہونا یعنی برحق ہونا بجائے خود روشن ہے۔ اس کے الفاظ، اس کے معنی، اس کے الفاظ کا دروبست، اس میں دیئے ہوئے نظام زندگی کا اختلاف سے پاک ہونا، بجائے خود اپنے روشن ہونے کی دلیل ہے، لیکن جو اس کی روشنی سے دل کو روشن کرنا چاہے، علم و عقل کو منور کرنا چاہے، فکروعمل کی بیشمار پرپیچ راہوں کے درمیان حق کی سیدھی راہ دیکھنا چاہے تو قرآن کریم کی تعلیمات اور اس کی رہنمائی اس کے لیے کافی ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ جو کچھ تم کررہے ہو اور جس طرح سے قرآن کریم کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانے پر تلے ہوئے ہو اور جس طرح تم گردوپیش میں سازشوں کے جال بن رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمہاری ایک ایک حرکت سے واقف ہے۔ یہ سب کچھ ایک دن تمہارے سامنے آکے رہے گا۔
Ayahs 64:9–10

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

اس دن کو یاد رکھو جب اللہ تم کو جمع کرے گا، جمع ہونے کے دن، وہی ہے ہار جیت کا دن، جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور جس نے صالح عمل کیے اللہ تعالیٰ اس سے اس کی برائیاں جھاڑ دے گا اور اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہی لوگ دوزخ والے ہوں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بہت برا ٹھکانہ ہے

یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰ تِہٖ وَیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَـآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَـآ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (التغابن : 9، 10) (اس دن کو یاد رکھو جب اللہ تم کو جمع کرے گا، جمع ہونے کے دن، وہی ہے ہار جیت کا دن، جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور جس نے صالح عمل کیے اللہ تعالیٰ اس سے اس کی برائیاں جھاڑ دے گا اور اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی۔ اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہی لوگ دوزخ والے ہوں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ ) مخالفین کو تنبیہ اور اصحابِ ایمان پر انعامات مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اسی خودفریبی میں نہ رہنا کہ تمہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ اور قیامت کا وقوع خلاف عقل ہے اس لیے اس کے آنے کا کوئی امکان نہیں۔ تمہاری سلامتی اس میں ہے کہ اس دن کو برابر یاد رکھو جس دن تمہیں ازسرنو زندہ کرکے اللہ تعالیٰ اس دن کے لیے اٹھائے گا جو لوگوں کے جمع کیے جانے اور ان کے اجتماع کا دن ہے۔ تمہاری عقلیں اسے چاہے کتنا بھی مستبعداز عقل سمجھیں لیکن یہ ایک ایسی مُسلّم حقیقت ہے کہ جس کی گواہی تمام نبیوں اور رسولوں نے دی۔ تمام آسمانی صحیفے اس پر زور دیتے رہے اور جس پر دلائل انفس و آفاق پوری طرح قائم اور دلالت کررہے ہیں اور جس کا واقع ہونا اس دنیا کے بامقصد اور باغایت ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اور قرآن کریم نے بھی بار بار اس پر زور دیا ہے اور قیامت میں چونکہ تمام نسلیں جواب دہی کے لیے ایک ہی میدان میں جمع کی جائیں گی اور یہی قیامت لانے کا اصل مقصد ہے، اس لیے اس کو یوم الجمع اور یوم التغابن قرار دیا گیا ہے۔ یعنی یہ دونوں قیامت کے نام ہیں۔ قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر بھی اس تصور کو نمایاں کیا ہے۔ ارشاد ہے : ذٰلِکَ یُوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّـہُ النَّاسْ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ۔ (ہود 11: آیت 103) ” وہ دن ہے جس کے لیے لوگ جمع کیے جائیں گے اور وہ حاضری کا دن ہوگا۔ “ دوسری جگہ فرمایا : قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ ، لَمُجْمُوْعُوْنَ 5 اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ (الواقعہ : 56، 49۔ 50) ” کہہ دیجئے ! تمام اگلے اور پچھلے ایک معین دن کے وقت مقرر پر حاضر کیے جائیں گے۔ “ قیامت کا دوسرا نام یوم التغابن ہے۔ یعنی تغابن کا دن۔ مالی نقصان اور خسارے کو بھی غبن کہا جاتا ہے اور رائے اور عقل کے نقصان کو بھی۔ علامہ راغب اصفہانی نے اختصار کے ساتھ بڑی جامع اور واضح تشریح کی ہے۔ الغبن ان یبخس صاحبک فی معاملۃ بینک و بینہ بضرب من الاخفاء (مفردات) ” یعنی پوشیدہ طور پر اپنے ساتھی کو باہمی معاملہ میں نقصان پہنچانے کو غبن کہتے ہیں۔ اگر یہ نقصان مالی ہو تو یہ لفظ بصیغہ مجہول غُبِنَ فُلاَنٌ فَھُوْمَغْبُوْنَ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اگر یہ نقصان اس کی رائے اور فہم میں ہو تو اسے بَابِ سَمِعَسے غَبِنَاستعمال کیا جاتا ہے۔ قیامت کو یوم التغابن کہنے کی وجہ تسمیعہ یہ ہے کہ عمر بھر جس فانی کاروبار میں لوگ ہمہ تن مصروف رہے اس کے نتائج کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے اور انھیں علم ہوجائے گا کہ انھوں نے کتنے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے انھوں نے اپنے آپ کو نعیم جنت سے محروم کیا اور نفس و شیطان کی پیروی کرکے اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن بنایا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ تغابن باب تفاعل سے ہے۔ اس میں دو یا دو سے زائد آدمیوں کی شرکت ضروری ہے۔ اس لیے انھوں نے یوم التغابن کی تشریح یوں کی ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو انھیں اپنے محلات کے علاوہ ان لوگوں کے محلات بھی مرحمت فرما دیئے جائیں گے جنھوں نے غلط روی کے باعث اپنے آپ کو جہنم کا سزاوار بنایا۔ اور جہنمی جب دوزخ میں پھینکے جائیں گے تو انھیں اپنے ٹھکانوں کے علاوہ ان لوگوں کے ٹھکانے بھی دے دیئے جائیں گے جو راہ راست پر گامزن ہونے کی وجہ سے دوزخ کے عذاب سے نجات پاگئے۔ گویا اس روز دوزخی اور جنتی آپس میں لین دین کریں گے، اہل جنت اپنے دوزخ کے ٹھکانے جہنمیوں کو دے دیں گے اور ان کے عوض جنت میں دوزخیوں کے لیے جو ایوان آراستہ کیے گئے تھے وہ انھیں مل جائیں گے۔ اس روز دوزخی باآسانی یہ فیصلہ کرسکیں گے کہ زندگی کے میدان میں کون جیتا اور کون ہارا۔ اس کاروبار میں انھوں نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ اس لیے جن لوگوں نے اس کا ترجمہ ہار جیت کا دن کیا ہے انھوں نے اس کی صحیح روح کے مطابق کیا ہے۔ پھر ان مفسرین نے اس کی تائید میں بخاری شریف کی روایت بھی نقل کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر جنتی جب جنت میں داخل ہوگا، اسے جہنم میں اس کی وہ جگہ دکھائی جائے گی جو اگر وہ بدکار ہوتا تو اس کو ملتی۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مزید شکر ادا کرے۔ اور دوزخی کو جنت میں اس کی وہ جگہ دکھائی جائے گی جو اگر وہ نیک ہوتا تو اس کو ملتی تاکہ اس کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ پھر قرآن کریم نے تغابن یعنی ہار جیت کا اصل میدان آخرت کو قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس میں خوش نصیب لوگ وہ ہوں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کی برائیوں کے اثرات کو مٹا دے گا اور ان کو پاک صاف کرکے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی۔ اور پھر یہ چند روزہ قیام نہیں ہوگا بلکہ یہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ تو انھوں نے اپنی زندگی کے شب و روز اور اپنی صلاحیتوں اور اپنی ذہنی اور قلبی رعنائیوں کو جس تجارت میں لگایا اس کا یہ صلہ ہے اور یہ ان کو جو کچھ ملا ہے یہ درحقیقت وہ بہت بڑی جیت اور بہت بڑی کامیابی ہے، لیکن اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنا سب کچھ دنیا طلبی میں لگا دیا۔ تلاشِ زر میں دیوانے بنے رہے، حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کھو بیٹھے، نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور نہ اس کے رسول پر، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کردیا اور اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی۔ یہ لوگ ہیں جو زندگی کی تجارت میں ہار گئے اور یہ لوگ ہیں آگ والے یعنی دوزخ میں پڑیں گے اور اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ نہایت برا ٹھکانہ ہے۔ درحقیقت جن لوگوں نے دنیا ہی کو ہار جیت کا میدان سمجھ رکھا ہے اگر وہ ان چیزوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو دنیا میں حاصل زندگی اور قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے بازی جیت لی۔ اور جو یہ چیزیں حاصل نہیں کر پائے وہ گویا بازی ہار گئے۔ بس یہی وہ خرابی کی بنیاد ہے جس سے افراد اور قومیں دونوں تباہی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے دارالانعام نہیں۔ دارالانعام آخرت ہے۔ آخرت میں وہ لوگ جیتیں گے جو اس دنیا میں ایمان و اعمالِ صالح کی زندگی گزاریں گے۔ اگرچہ اس دنیا کی متاع میں سے انھیں کوئی چیز بھی حاصل نہ ہوئی۔ اور وہ لوگ وہاں بالکل محروم و نامراد ہوں گے جو ایمان و اعمالِ صالح سے تہی دامن رہے، اگرچہ انھیں دنیا میں قارون کے خزانے بھی حاصل رہے ہیں۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت کبھی نہیں پہنچتی، مگر اللہ کے اذن سے، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کی رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہٗ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (التغابن : 11) (کوئی مصیبت کبھی نہیں پہنچتی، مگر اللہ کے اذن سے، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کی رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ) مصائب میں مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت یوں تو کسی بھی بڑے مقصد اور کسی بھی صداقت کے لیے اقدام کرنے والا مصائب سے ضرور دوچار ہوتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی بڑا کام محنت اور مشقت اٹھائے بغیر اور موانع کا سامنا کیے بغیر تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ بالخصوص جن حالات میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اس وقت مسلمان سخت مصائب سے دوچار تھے۔ بعض مسلمانوں کے سامنے ہجرت کا سفر درپیش تھا۔ اور جو لوگ مدینے پہنچ چکے تھے انصار کے لیے انھیں سہارا دینا ایک مشکل کام ہورہا تھا۔ اور چاروں طرف سے دشمنوں کی مہربانیوں سے حالات مزید بگاڑ کا شکار ہورہے تھے۔ ایسے حالات میں مصائب کو دیکھ کر طبیعتوں کا ہراساں ہونا چنداں قابل تعجب نہیں۔ اور اس پر مزید ستم یہ کہ جو لوگ اسلام کی طرف بڑھ رہے تھے وہ ان مصائب کو دیکھ کر گہری سوچ میں ڈوب جاتے تھے۔ پروردگار نے ان تمام اندیشوں کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اصحابِ ایمان کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کوئی مصیبت ازخود کسی پر نہیں جھپٹتی بلکہ جب بھی کسی شخص کو کسی مصیبت سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا اذن اور اس کی اجازت کارفرما ہوتی ہے۔ راحت ملتی ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت سے، اور مصیبت آتی ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت سے۔ محبوب کی جانب سے پتھر بھی آئے تو اسے عشاق پھول سمجھتے ہیں۔ اس طرح جو مصیبت اللہ تعالیٰ کے اذن سے آئے گی وہ مومن کے لیے مصیبت نہیں بلکہ کامیابیوں کا پیشہ خیمہ ہے۔ اور مزید یہ بات کہ ایک مومن کو اس بات کا اطمینان رکھنا چاہیے کہ اگر آنے والی مصیبت اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی تعمیل میں آرہی ہے تو وہ یقینا ایسی نہیں ہوسکتی جو اس کی قوت برداشت سے زیادہ ہو۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بندوں کی قوت برداشت سے اور کون واقف ہے۔ وہ ایک ایک کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔ جب اس کا کوئی بندہ اس کی خاطر مصائب میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ ان مصائب کو کبھی ناقابلِ برداشت نہیں ہونے دیتا اور وہ برابر اس کے حوصلے کی مدد کرتا ہے۔ مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے اور اس کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشیں ہمیشہ مومن کی بھلائی کے لیے ہوتی ہیں۔ تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اسے کوئی مصیبت پست حوصلہ نہیں کرسکتی۔ بلکہ عین وقت پر اللہ تعالیٰ اس کی کسی نہ کسی ذریعے سے مدد فرمائے گا۔ ہوسکتا ہے روح القدس کے ذریعے اس کے دل کی رہنمائی فرمائے۔ اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ تو جو بندہ اس کی خاطر مصائب میں مبتلا ہوا ہے یقینا اللہ تعالیٰ ان مصائب کو بھی جانتا ہے اور اپنے بندے کی قوت برداشت کو بھی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے بندے کی مدد نہ فرمائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک بندہ ٔ مومن کا یہ یقین کہ اللہ تعالیٰ میرے ہرحال سے باخبر ہے اور میں اس کی بندگی اور اطاعت میں اگر کوئی کمی نہیں کروں گا اور ہر کام اس کی خوشنودی کے حصول کے لیے کروں گا تو وہ مجھے کبھی بےسہارا نہیں چھوڑے گا۔ تو یہ تصور اور یقین ایک ایسی دولت ہے جو اسے بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی بےحوصلہ نہیں ہونے دیتی۔ اس کے برعکس جو لوگ مصائب کو اتفاقات کا نتیجہ سمجھتے ہیں یا انسانوں کو اس کا سبب سمجھتے ہیں یا ان کے کچھ خیالی سہارے ہیں جن کو وہ موثر مانتے ہیں تو ایسے لوگ کبھی مصائب کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ یا تو وہ حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں یا ہر آستانے پر جھک جاتے ہیں۔ اور ان کے زندگی بھر کے اعتقادات بھی ان کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ خودکشی کر جاتے ہیں۔ اس لیے ایمان باللہ اور یہ یقین کہ ہر مصیبت اس ذات کے اذن سے آتی ہے جو اس کائنات کا مالک و فرماں روا ہے۔ وہ ٹل سکتی ہے تو اسی کے حکم سے۔ اس لیے مجھے دست سوال دراز کرنا ہے تو اس کے سامنے، امیدیں باندھنی ہیں تو اسی سے۔ تو ایسا شخص کبھی بےحوصلہ نہیں ہوتا اور کبھی اپنے ایمان سے محروم نہیں ہوتا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اللہ اس کے حق میں جو فیصلہ بھی کرتا ہے، وہ اچھا ہی ہوتا ہے، مصیبت پڑے تو صبر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے، خوشحالی میسر آئے تو شکر کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے، یہ بات مومن کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، پس اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے

وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (التغابن : 12) (اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، پس اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ ) حالات کچھ بھی ہوں محض اندیشوں میں مبتلا ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ نہ پھیرو، اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ جس طرح آدمی جیتے جی کھانا پینا نہیں چھوڑتا، سانس لینا نہیں چھوڑتا اور زندگی کے لوازمات میں سے کسی لازم کو ترک نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت دراصل وہ حقیقی زندگی ہے جس سے کسی صورت میں بھی ترک تعلق نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اگر مصائب کے ہجوم سے گھبرا کر تم نے اطاعت کی روش چھوڑ دی تو اپنا ہی نقصان کرو گے، ہمارے رسول پر تو صرف یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹھیک ٹھیک تم تک پہنچا دے۔ یہ فرض اس نے ادا کردیا۔ اب تمہاری اپنی ذمہ داری تمہارے اپنے سر پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول سے تمہارے ایمان کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ تم اپنی ہر بات کے لیے خود جواب دہی کرو گے۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے

اَللّٰہُ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (التغابن : 13) (اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ) اس کائنات کا معبود بھی وہی ہے اور حاکم حقیقی بھی۔ کائنات کا کوئی گوشہ اس کی حاکمیت سے باہر نہیں۔ مخلوق کو زندگی اسی سے مل رہی ہے اور فیضان بھی اسی کی ربوبیت کا جاری ہے۔ وہی ہر طرح کی قسمتیں بناتا ہے اور وہی راحت و غم سے دوچار کرتا ہے۔ اسی کی قدرت ہے جو اس کی ہر مخلوق پر حاوی ہے۔ یہ وہ اعتقادات ہیں جو ایمان باللہ کے لازمی عناصر ہیں۔ اس لیے جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اس کے دل میں یہ کبھی خیال بھی نہیں آسکتا کہ میں کسی بڑی سے بڑی مصیبت سے دوچار ہو کر بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے سے مدد مانگ سکتا ہوں۔ وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے اور اپنے حالات میں تبدیلی کے لیے اسی پر بھروسہ رکھتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت کریمہ میں فرمائی جارہی ہے کہ مسلمان چونکہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، وہ اپنا سب کچھ اسی کو سمجھتے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ اپنے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ کریں۔ کیونکہ یہی ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، تو ان سے ہوشیار رہو، اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ غفورورحیم ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّـکُمْ فَاحْذَرُوْھُمْ ج وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (التغابن : 14) (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، تو ان سے ہوشیار رہو، اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ غفورورحیم ہے۔ ) ایک بڑی آزمائش سے آگاہی نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بعض صحابہ کو ایسے حالات درپیش تھے کہ انھوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں اور بچوں نے منت سماجت یا رودھو کر انھیں ارادے کی تکمیل سے روک دیا۔ ایک صحابی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جب جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے تو ان کی بیوی اور ان کے بچے رونا شروع کردیتے کہ آپ ہمیں کس کے سہارے پر چھوڑے جارہے ہو۔ ایسے ہی اور بھی واقعات ہوسکتے ہیں کہ حالات کے تقاضے کے پیش نظر کوئی صحابی بڑی مالی قربانی پیش کرنا چاہتے، لیکن اہل خانہ اس کے لیے تیار نہیں۔ اور ہر طریقے سے انھیں روکنے کی کوشش کرتے۔ اس صورتحال کا تعلق تو دورنبوت اور دور صحابہ سے ہے۔ لیکن یہ عارضہ وقتی نہیں بلکہ یہ ایک ایسی قباحت ہے جس کا اظہار ہر دور میں ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ میاں بیوی میں مقصدی اور عملی اعتبار سے کامل موافقت یا والدین اور اولاد میں ذہنی اور عملی ہم آہنگی بہت کم ہوتی ہے۔ اور جب سے نئی تعلیم اور ذرائع ابلاغ نے سیرت و کردار کی تعمیر میں براہ راست اپنا رول ادا کرنا شروع کیا ہے اس کے بعد سے تو گھروں میں بھی یہ آگ پھیل گئی ہے۔ شوہر اگر دینی فرائض کی تعمیل کرنا اور اپنی زندگی کو مکمل طور پر دینی تقاضوں کے مطابق گزارنا چاہتا ہے تو کبھی بیوی پائوں کی زنجیر بن جاتی ہے اور کبھی اولاد مزاحم ہوجاتی ہے اور کبھی معاملہ اس کے برعکس بھی ہوتا ہے کہ گھر کا سربراہ غیراسلامی زندگی کا رسیا ہوچکا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے بیوی کو ہدایت دے دی ہے یا بچے کسی اچھی صحبت سے فیض پا گئے ہیں تو مستقل ناموافقت اس گھر کا مقدر بن جاتی ہے۔ ٹیوی کے پروگراموں پر اختلاف، تقریبات میں شرکت پر اختلاف، بچوں کی تعلیم پر اختلاف، گھر کے ماحول کو بنانے سنوارنے میں اختلاف، عزیزوں سے تعلقات کے حوالے سے اختلاف۔ غرضیکہ بیسیوں قسمیں ہیں اختلافات کی جو گھروں میں جنم لے چکی ہیں۔ اور یہ سب شاخسانہ ہے اس بات کا کہ دینی اعتبار سے میاں بیوی اور بچوں میں ہم آہنگی نہیں، ہم خیالی نہیں اور یکسوئی نہیں۔ ایسی ہی صورتحال کے حوالے سے پروردگار ارشاد فرماتا ہے کہ تمہاری بعض بیویاں اور تمہاری بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں۔ یعنی ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ ان کی سوچ اور عمل میں یکسانی نہ ہو۔ بہت سے گھرانے ایسے ہیں جو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں رنگے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر اختلافات کی نوعیت ایسی ہو جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کررہا ہے تو پھر ارشاد فرمایا گیا کہ تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد جن سے تمہیں فطری طور پر محبت ہونی چاہیے عقیدے اور خیالات میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے تمہاری دشمن ہیں۔ اب ان سے معاملہ محبت کا نہیں بلکہ دشمنی کا ہونا چاہیے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سے ہوشیار رہو اور بچ کر رہو۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی محبت تمہیں بدی کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوجائے یا ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مانع ہو، یا کہیں خدانخواستہ ان کی ہمدردیاں کفار کے ساتھ ہوں، یا بگڑے ہوئے عمال کے ساتھ۔ اور وہ تمہاری دینی مصروفیات جو مختلف قسم کی نزاکتوں کی حامل ہوں، اسلام کے دشمنوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس لیے ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کی دنیا بنانے کے لیے اپنی عاقبت تباہ نہ کرلینا، اور ان کی محبت کو کبھی اپنے دل میں اس حد تک نہ بڑھنے دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے ساتھ تمہارے تعلق اور اسلام کے ساتھ تمہاری وفاداری میں حائل ہوجائیں۔ آیت کے آخر میں ان سے بچ کے رہنے کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ تمہارے لیے یہ تو ضروری ہے کہ تم ان سے ہوشیار رہو اور اپنے دین کو ان سے بچانے کی فکر کرو۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم ان سے قطع تعلق کرلو۔ بلکہ جس حد تک گنجائش ہو، عفو و درگزر اور چشم پوشی سے کام لو۔ اور یہ امید رکھو کہ اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے کہ وہ تمہاری کوتاہیوں سے بھی درگزر فرمائے گا اور ان کی کمزوریوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسا شخص جو اس صورتحال سے دوچار ہے وہ اپنے آپ کو کسی فتنہ میں پڑنے سے تو بچائے اور اپنے قول و عمل سے اپنے اہل و عیال کی کمزوری کی اصلاح کی کوشش بھی کرے۔ لیکن جب تک کفر و ایمان کا کوئی سوال پیدا نہ ہو، اس وقت تک ان سے قطع تعلق نہ کرے بلکہ عفو و درگزر سے کام لے۔ گویا ان کے ساتھ زندگی تو گزارے لیکن گھل مل کر نہیں بلکہ بچ بچا کر، اس طرح سے خود بھی محفوظ رہے گا اور ان کو بھی اپنی حد سے آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملے گا۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اجرِعظیم ہے

اِنَّمَآ اَمْوَالُـکُمْ وَاَوْلاَ دُکُمْ فِتْنَۃٌ ط وَاللّٰہُ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌعَظِیْمٌ۔ (التغابن : 15) (بےشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اجرِعظیم ہے۔ ) گزشتہ مضمون کی وضاحت یہ گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت ہے۔ انسان دنیا میں جن چیزوں سے انتہائی محبت کرتا ہے ان میں خوبصورت بیوی کے علاوہ مال اور اولاد بھی ہے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے آزمائش بنایا ہے۔ وہ یہ امتحان کرنا چاہتا ہے کہ ایک مومن مال اور اولاد کی محبت میں پھنس کر کیا خدا اور رسول کو بھول تو نہیں جاتا اور ان کے احکام کیا ان کی فرمائشوں اور خواہشوں کے نیچے دب تو نہیں جاتے۔ مومنوں کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ ” وَالَِّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّحُبًّا لِلّٰہِ “ اور محبت ہمیشہ آزمائی جاتی ہے اس لیے مال اور اولاد کی محبت کو آزمائش قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ ہمیشہ انسان ان دونوں کی محبت میں صراط مستقیم سے پھسلتا ہے۔ اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، وہ بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات کی خوشنودی، اس کے رسول کی اطاعت اور اس کے دین کے فروغ کو ترجیح بنانے کے مال کو بڑھانے اور اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرنے میں لگ جاتا ہے چاہے اس کے لیے اسے شریعت کے احکام کو نظرانداز کرنا پڑے۔ اولاد کی محبت کی شدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے اولاد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ بخیل بنانے والے ہیں اور یہ بزدل بنانے والے ہیں۔ کیونکہ مال اور اولاد کی محبت کی وجہ سے آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنے سے روکتا ہے۔ اسی طرح جب تک وہ تنہا ہوتا ہے تو موت سے کھیلنا اس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ لیکن جب وہ صاحب اولاد ہوجاتا ہے تو پھر وہ اپنے بچوں کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے اور بزدل ہوجاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کو لایا جائے گا۔ اس کو دیکھ کر لوگ کہیں گے اَکَلَ عَیَالُـہٗ حَسَنَاتِہٖ ” یعنی اس کی نیکیوں کو اس کے عیال نے کھالیا۔ “ بعض سلف صالحین کا قول ہے اَلْعَیَالُ سُوْسُ الطَّاعَاتِ ” عیال انسان کی نیکیوں کے لیے گھن ہے۔ “ اولاد ایک نیک آدمی کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے گھن غلہ کو کھا جاتا ہے۔